Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

فریحہ پری اور حاضر کے ساتھ اندر آ رہی تھی سامنے ہی صوفے پر عاقب شاہ دادا سب بڑے بیٹھے ہوئے تھے
فریحہ ان پر ایک غلط نظر بھی ڈالے بغیر آگے بڑھنے لگی تھی
بیٹا ایک دفع میری بات سن لو ایک دفعہ مجھے موقع تو بات کرنے کا عاقب شاہ نے التجائیں لہجے میں فریحہ سے کہا تھا
پیچھے کھڑا انس اور عالی نے بھی ان کو دیکھ تھا جن کی اکڑ آج کہیں نہیں تھی جو ہمیشہ سب کے پسندیدہ رہیے تھے کوئی بھی ان کو ایسی خالت میں نہیں دیکھ پا رہا تھا
عاقب شاہ آپ کی وجہ سے جو میری بہن کے ساتھ ہوا اس کے تو میں آپ کو اپنی نفرت کے لائق بھی نہیں سمجھتی اسی لیے دور رہیے مجھ سے سنا آپ نے فریحہ ان کو سختی سے بولتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی
ہاں ہم سب کو آپ سے اتنی نفرت ہے کے پوری زندگی آپ ہمارے سامنے ایڑیاں بھی ڑیگریں گیے نہ تو بھی ہم میں سے کوئی آپ کو معاف نہیں کرنے والا کیوں کہ آپ باپ نہیں درندے ہو درندے جس نے حیاء کا بچپن اس سے چھین لیا آپ کو تو یاد بھی نہیں ہو گا
ہاہاہاہاہا میں ہمیشہ سے ٹھیک تھی آپ کو تو سچ میں یاد نہیں رہا کہ آپ اس کے ساتھ کیا کر چکے ہیں آپ کی وجہ سے جو اس کے ساتھ ہوا میں یہاں بتادوں سب کو تو کوئی تھوکے گا بھی نہیں آپ پر وہ غصے سے بولتی ت
سب کو خیران چھوڑتے ہوئے وہاں سے اوپر نکل گئی تھی
سب اسے جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے انس ایک دفعہ حیاء کے نام سے حیران ہوا تھا پر پھر سے سر جھٹک دیا تھا
ہو سکے تو پلیز فلحال اسے اس کے حال پر چھوڑیں دیں میں نے پتہ کروایا ہے سب صبح ہم اس کے گھر جا رہیں ہیں سب اب مطلب سب جائیں گے حاضر بولتے ہوئے اوپر کمرے کی طرف چلا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
بیٹا آج ان کو ہم یاد آ رہیں ہیں نہیں ہوں کوئی بھی میں ان کا بیٹا فریحہ غصے سے اپنی جیولری اترتے ہوئے اونچی اونچی آواز میں خود سے ہی باتیں کر رہی تھی اور ساتھ میں رو بھی رہی تھی
پتہ نہیں کیوں آ گئی میں یہاں لے جائیں مجھے ماما یہاں سے ایک دفعہ یہاں سے چلی جاؤں کبھی مڑ کر واپس نہیں آؤں گی اب وہ اپنے سر پر لگی پینو کو اترتے ہوئے خود کو ڈوپٹے سے آزاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی
ہم حاضر اس کی باتیں سنتا گہرا سانس لیتا اندر روم میں آیا تھا کیونکہ اسے پری کے روم میں نہیں جانے دیا گیا تھا اسی لیے اب وہ حاضر کے کمرے میں کھڑی روتے ہوئے خود سے باتیں کرتی اپنے سجے ہوئے روپ کو شیشے میں دیکھا کر ہر چیز کو نوچتے ہوئے خود سے دور کر رہی تھی
ک۔۔۔۔کیا ہے دور رہیے مجھ سے حاضر کو بالکل اپنے پیچھے کھڑے دیکھ کر اٹکتے ہوئے بول رہی تھی حاضر کی نظروں کا معفوم سمجھ کر فریحہ نے گھبراتے ہوئے اس سے دور ہونے کی کوشش کی تھی
جو حاضر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ناکام بنا چکا تھا
کیا بول رہی تھی تم کے یہاں سے جاؤ گی اور کبھی مڑ کر واپس نہیں آؤ گی ہے نہ وہ آئبرو اُٹھ کر بولا تھا
ہان کبھی بھی نہیں رہوں گی آپ کے ساتھ اور نہ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں مجھے میری فیملی کے پاس جانا ہے میری مام کے پاس وہ غصے سے خود کو بہادر بنا کر بولی تھی
اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں جانے دوں گا وہ ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالے دوسرا اس کے بالوں میں دیے اس کا چہرا اوپر اُٹھ کر بولا تھا
نہیں آپ نہیں جانے دیں گے پر میں پھر بھی چلی جاؤں گی وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرتے ہوئے بول رہی تھی
میں کچھ ایسا کروں گا جس سے تم خود مجھ سے دور کبھی نہیں جا پاؤ گی وہ اس کے کان کے قریب جھک کر سرغوشی کرتے ہوئے بولتا اس کے کان پر اپنے لب رکھ کر بولا تھا
فریحہ کو اس کے چھونے پر اس سے بدک کر پیچھے ہونے کی کوشش کی تھی پر حاضر کی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کی کوشش ناکام ہو گئی تھی
اتنے سے ڈر گئی ہو سوئٹ ہارٹ وہ اس کے چہرے پر آئے بالوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے اس تنگ کر رہا تھا
بہت خوبصورت لگ رہی تھی آج میرا دل نکال لیتی ہو تم اپنی ہر ادا سے تمہارا غصہ تو مجھے سب سے زیادہ اٹریکٹ کرتا ہے وہ اس کی ناک کو دباتے ہوئے بولا تھا
عاقب چاچو کی سزا مجھے تو مت دو فریحہ میں عشق کرنے لگا ہوں تم سے اللہ اگر ہمیں پوری زندگی کوئی ایک بھی بیٹا نہیں دے گا تب بھی یہ محبت کم نہیں ہو گی اور مجھے ویسے بھی اللہ سے صرف دو بیٹیاں ہی چاہیے تمہاری طرح کی بس وہ اسے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولتا اس کے اند کا خوف ختم کر رہا تھا
فریحہ نے اس کی بات سے آنکھوں میں نمی لیے اس کی طرف دیکھ تھا حاضر نے اسے خود کے بالکل قریب کر کے باری باری اس کی دونوں آنکھوں پر اپنے لب رکھ دیے تھے
فریحہ نے نظریں اَٹھ کر اسے دیکھا تھا جہان اسے اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح اپنے لیے محبت کو سمندر دکھائی دیا تھا
حاضر نہ چاہتے ہوئے بھی آپ میں مجھے عاقب شاہ دکھائی دینے لگتا ہے وہ اپنا سر اس کے سینے پر رکھ کر بولی تھی آنسو اس کی آنکھوں سے نکل رہیے تھے
میں بہت جلدی ہی سب ڈر ختم کر دوں گا تمہارے بہت سی خوشیاں منتظر ہیں فریحہ ہماری بس مجھے تمہارا ساتھ چاہئے تمہارا اعتماد اعتبار چاہیے مجھے ایک دفعہ بس اعتبار کر کے دیکھ لو اپنے چاہے جانے اور اللہ کے بعد مجھے اپنا مددگار اور طلب گار پاؤ گی وہ اپنے لب اس کے بالوں پر رکھ کر بولا تھا
فریحہ اس کے سینے میں منہ دیے کھڑی تھی حاضر کی باتوں نے اس کو اندر تک سکون دیا تھا وہ سکون سے آنکھوں کو موندے کھڑی تھی
جاؤ شاباش چینج کر لو تمہارا یہ روپ مجھے دیکھ کر میرا ایمان ڈگمگا رہا ہے وہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے ڈریسنگ روم میں چھوڑ کر آیا تھا
خود کو ریلکس کرتا جیب سے سگریٹ لے کر بالکنی میں چلا گیا تھا
بہت کچھ برداشت کیا ہے تم سب نے فریحہ میں سب ٹھیک کر دوں گا خوشیاں اب منتظر ہوں گی وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اتنے دن ہوئے حیاء میڈم آپ کو آزادی دیے کیوں نہ آپ کو دیدار کا شرف دیا جائے انس مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھا اپنی گاڑی کو حیاء کے گھر کی طرف موڑ چکا تھا
ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج اتنا اندھیرا کیوں ہے حیاء تمہارے گھر میں وہ گاڑی اس کے گھر کے سامنے روکتے ہوئے سامنے اس کے گھر کو دیکھ کر بولا تھا
چلو یار انس شاہ مسیز انس شاہ ہماری نیند خراب کر کے خود نیند کے مزے لے رہی ہے کیوں نہ ان کی نیند بھی خراب کی جائے انس مسکراتے ہوئے ہر بار کی طرح دیوار سے اوپر جا کر اس کے کمرے تک گیا تھا
بالکنی میں جا کر ونڈو سے اند دیکھا تو ہر طرف حیاء کا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
یہاں تو کوئی نہیں ہے کہاں جا سکتی ہے حیاء دوسری طرف دیکھتا ہوں
انس اب دوسری سائیڈ سے ہوتے ہوئے رہ داری کی طرف گیا تھا
یہاں تو کوئی نہیں ہے سب کہاں چلے گئے ہیں انس سوچتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
ہیلو طالب تمہیں میں نے کوئی کام بولا تھا انس اپنی گاڑی کے پاس کھڑا اب فون پر اپنے حاض ساتھی سے باتیں کر رہا تھا
کیا کیا کہا تم نے کہاں چلی گئی ہے وہ اتنا سب ہو گیا وہ یہاں سے شیفٹ کر گئے اور تم مجھے ابھی بتا رہیے ہو شکر ادا کرو تم میرے سامنے نہیں موجود ورنہ میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دیتا وہ غصے سے فون کو بند کر گیا تھا
فون اُٹھاو میرا حیاء وہ اب حیاء کو فون کر رہا تھا جو بیل تو ہو رہی تھی پر وہ اُٹھ نہیں رہی تھی
ہیلو ہیلو حیاء کہاں ہو تم دوسری طرف فون اُٹھانے پر انس جلدی سے بولا تھا
جی حیاء باجی کا نمبر نہیں ہے وہ جاتے ہوئے اپنا موبائل مجھے دے گئیں تھیں آپ اپنا بنا دیے جب ان کا فون آیا تو میں آپ کا بتا دوں گی
تم جانتی ہو حیاء کہاں ہے انس اس کی بات سن کر غصے سے بولا تھا
نہیں جی مجھے نہیں پتہ حیاء باجی کدھر گئیں ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ابھی وہ کچھ اور بولتی انس فون کو بند کر گیا تھا
چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں یونیورسٹی تو آؤ گی نہ وہ غصے سے بولتے ہوئے گاڑی میں سوار ہو گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
اب آئے گا تمہیں مزا انس شاہ مجھ سے پنگا لیا ہے کرو جاو شادی میں تو اب ایک مہینے یونیورسٹی بھی نہیں جاوں گی راہو تم ایسے ہی تڑپتے ہوئے
حیاء مسکرا کر بولتے ہوئے ٹی وی دیکھ رہی تھی
جان بوجھ کر ہی اپنا سیل دے کر آئی ہوں چوکیدار کی بیٹی کو وہ مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی
پھر اُٹھ کر باہر بالکنی میں چلی گئی تھی
محبت زبردستی حاصل نہیں کی جاتی انس نہ تمہیں مجھ سے محبت ہے اور نہ کبھی ہو سکتی ہے جلد ہی مجھے معلوم ہو جائے گا کے تمیں مجھ سے محبت ہے یا نہیں
آزمائش بہت قریب ہے انس میرے وجود کو میں دیکھو گی تم اس طرح قبول کر پاو گئے کے نہیں
تم سچ میں وہ شہزادے ہو جس کا ماما نے بولا تھا وہ آیا گا اور حیاء کو سب کی نظروں سے دور لے جائے گا مجھے میری دنیا دے گا مجھے میری کمی کے ساتھ اپنا بنا لے گا میرے وجود پر لگے داغ کو اپنی محبت سے مٹا دے گا
انس شاہ وہ ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم باہر بالکنی میں کھڑی تھی دسمبر کی سرد ہوائیں اس کے وجود کو چھو کر گزر رہیں تھی
آنکھوں کو بند کیے ان ہوائوں کو خود کے آرپار جاتا ہوا محسوس کرتی اپنے ماضی کی اس خوفناک رات کو سوچتے ہوئے رو رہی تھی
کیا انس شاہ وہی شہزاد ہے جو اس اندھیری رات سے باہر نکل دے گا مجھے یہاں تنہائی میں دھکیل دے گا وہ مجھے سوچتے ہوئے وہی ٹھنڈی زمین پر بیٹھ گئی تھی
خوف آتا ہے مجھے اس اندھیری رات سے جو میری زندگی کی بنیاد کو ہلا چکی ہے
ہماری زندگی میں یہ اندھیر لانے والے اپنی زندگیوں میں مگن سکون سے جی رہیں ہیں وہ خود سے باتیں کرتے ہوئے رو رہی تھی
اسے اس وقت کوئی فرق نہیں پڑھ رہا تھا کہ وہ ٹھنڈی زمین پر بیٹھی ہے وہ اس ٹھنڈی زمین پر بیٹھی خود کے اندر جلتی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
سلال رات کے پہر زرتاشہ کے کمرے میں آیا تھا جو لائٹ کو جلا کر سوئی ہوئی تھی
وہ سب بہنیں ہی رات کو لائٹ جلا کر سوتیں تھی ان کی زندگی کا ایک ہلا رہ گیا تھا
سلال کے ہاتھ میں کیٹی تھی وہ مسکراتے ہوئے اندر آیا تھا ہاتھ میں پکڑی ہوئی اس دن والی کیٹی کو زرتاشہ کے اوپر رکھ دیا جو اب چلتے ہوئے اس کے چہرے کی طرف جا رہی تھی
زرتاشہ اس کی خرکتوں سے ہڑبڑا کر اُٹھ گئی تھی جب اپنے پاس کیٹی کو دیکھ تو خوشی سے اس کو پکڑ لیا تھا
سلال اس کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر مسکرا رہا تھا آج سلال کے ساتھ آنے سے بہت حد تک زرتاشہ کا ڈڑ اتر چکا تھا
یہ آپ کے پاس ہے مجھے تو یاد ہی نہیں رہا اس کا ورنہ تو میں پہلے ہی اس کو آپ سے لے لیتی ہو مسکراتے ہوئے اس کو ہاتھوں سے سہلاتی بول رہی تھی
کتنی پیاری ہے نہ یہ کیوٹ سی وہ اس کے ساتھ کھلتے ہوئے بولی تھی
ہاں پر میری کیٹی سے پیاری اور کیوٹ نہیں ہے میری کیٹی تو معصوم بھی ہے وہ مسکراتے ہوئے اس کی ناک دابا کر بولا تھا
زرتاشہ بھی اسے دیکھ کر مسکرا دی تھی سلال آئی لو یو الاٹ وہ اس کے گال پر پیار دیتے ہوئے بولتی سلال کو خیران کر گئی تھی
اف پاگل لڑکی وہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا
تم کھیلوں اس کے ساتھ میں چلتا ہوں مسکرا کر باہر نکل گیا تھا
زرتاشہ مسکراتے ہوئے کیٹی کو اپنے ساتھ لگ کر لیٹ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
چلو جلدی تیار ہو کر نیچے آؤ ہم آج تمہارے گھر جائیں گے اور اپنا کوئی بھی سامان پیک مت کرنا صرف تم چل رہی ہو ہمارے ساتھ اور واپس بھی آنا ہے وہاں نہیں روکنا حاضر فریحہ کو واشروم سے نکلتے ہوئے دیکھ کر بولتا کوئی بھی اس کی بات سنے بینا باہر نکل گیا تھا
فریحہ لب بیچے بس اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی تھی جو اس کی بات سننے بینا چلا گیا تھا
تیار ہوتی جلدی سے نیچے چلی گئی تھی جہاں سب ڈائنگ ہال میں بیٹھے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے
فریحہ ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو پری اُٹھ کر فریحہ کو اپنے پاس لا کر بیٹھاتے ہوئے بولی تھی
عالی نے ایک نا گوارہ نظر پری پر ڈالی تھی اور غصے سے اپنی چیر سے اُٹھ کر باہر نکل گیا تھا
پری عالی کو ایسے جاتے ہوئے دیکھ کر اپنی نظروں کو پھیر گئی تھی جو غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
کیا لو گی تم فریحہ یہ لو چائے مجھے پتہ ہے چائے تو تم ضرور پیتی ہو اور بتادو کیا لو گی ساتھ پری فریحہ کو چائے دیتے ہوئے بولی تھی
مجھے اور کچھ نہیں چاہتے پری بس وہ چائے کے کپ کا لبوں سے لگاتے ہوئے بولی تھی
حاضر اس کی ہر خرکت کو نظروں میں رکھے ہوئے تھا
چائے پی کر وہ وہاں سے پری کے ساتھ اُٹھ گئی تھی
حاضر باہر گئے تو وہ پری کے ساتھ کھڑی تھی حاضر چلتے ہوئے اس کے پاس آیا تھا
چلیے آپ کے گھر حاضر مسکرا کر بولا تھا
جی یہ لے ایڈریس ماما لوگوں نے گھر چینچ کر لیا ہے وہ اسے پری کا موبائل دیتے ہوئے بولی تھی
ہم اوکے چلو نکلے پھر حاضر موبائل لیتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا تھا
ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب لوگوں جائیں گے کیا فریحہ سب لوگوں کو اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوتے دیکھا کر بولی تھی
جی سب ہی جائیں گے دادا کا حکم ہے
آپ کیا کسی کی بارات لے کر جا رہیں ہیں کیا جو سب جائیں گے فریحہ طنز کرتے ہوئے بولی تھی
بارات تو اب لے جانے سے رہیے ولیمہ ہی ہو چکا ہے بارات نہیں جاسکتی اب چلیں جلدی وہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے بولا تھا
فریحہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا اور چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
❤️❤️❤️❤️
چوکیدار کو فریحہ نے اپنے اور نورین کے رشتے کے بارے میں بتایا تو اس نے ان کو اندر جانے کی اجازت دے دی تھی دادا شاہ اور عاقب شاہ گھر میں داخل ہوئے تھے سب سے پہلے
باہر ہال میں صوفے پر نورین اور عادل صاحب بیٹھے ہوئے مسکرا کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہیے تھی ابھی تک کوئی بھی نہیں اُٹھ تھا نورین اور عادل کے علاوہ
عاقب شاہ کو ایک بزرگ کے ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھ کر عادل صاحب اور نورین کھڑے ہو گئے تھے
عادل صاحب نے نورین کو سہارا دیا تھا جو عاقب شاہ کو دیکھ کر لڑکھڑائی تھیں
عاقب شاہ نے نورین اور عادل کو ایک ساتھ دیکھ کر ناگوار سی نظر سے ان کو دیکھا تھا نورین اور عادل کو ایک ساتھ دیکھا کر عاقب شاہ کو جلان محسوس ہوئی تھی
پیچھے سے فریحہ دوڑتے ہوئے آئی تھی اور اپنی ماں کے گلے لگ کر رونے لگی تھی
نورین فریحہ کے رونے اور ان کے ساتھ باقی سب کے باری باری اندر داخل ہونے سے خیران ہوئیں سب کچھ دیکھ رہیں تھیں
تو تم یہاں اس انسان کے ساتھ رہ رہی ہو خود اس عشق کے چکروں میں پڑھی ہوئی ہو تو میری بیٹیوں کو کیا سیک دو گی عاقب شاہ نورین کو عادل صاحب کے ساتھ لگے دیکھ کر جل کر جو بھی منہ میں آیا بول رہیے تھے
تمیز سے بات کریں مسٹر عاقب شاہ بیوی ہیں میری میں ایک بھی لفظ برداشت نہیں کروں گا اپنی بیوی کے بارے میں اسی لی کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لیجیے گا کے آپ کا سامنا کسی بے غریت مرد سے نہیں ایک غریت دار سے ہے جیسے اپنی بیوی کی عزت کرنی بھی آتیں ہے اور کروانی بھی عادل صاحب عاقب شاہ کے بولنے پر اس کی بات کاٹ کر غصے سے ان پر پھنکارے تھے جس سے عاقب شاہ غصے سے کچھ بولتے
دادا کے بولنے پر چپ ہو کر عادل کو اور نورین کو دیکھنے لگے جو نورین کے گرد ہاتھ کو باندھے ان کو مکمل اپنے ہونے کا یقین دلایا رہیے تھے
بس عاقب شاہ نورین سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں اسی لئے جس مقصد سے آئیے ہیں بس وہ پورا کرنے دو اپنا زہر مت گول کر سب برباد کرو
ہمیں تم سے بات کرنی ہے بیٹا وہ نورین سے بولے تھے جو عادل کے ساتھ لگی ہوئی تھیں اور فریحہ ان کے ساتھ لگ کر رونے کا کام کر رہی تھی
دور ہی کھڑا حاضر فریحہ کو روتے ہوئے دیکھ کر اپنے لب سیے ہوئے مشکل سے خود پر کنٹرول کر کے کھڑا تھا
انس بھی پاس ہی کھڑا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہی سے دشمن جان بھی آ ہی جائے گی
اچھا تو یہاں شیفٹ کر گئیں ہیں میڈم اب تم اگلی شیفٹنگ کی تیاری پکڑوں مس حیاء آج تو تمہیں بھی سب کے سامنے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا بہت شوق ہے نہ انس شاہ سے پنگا لینے کا وہ کچھ سوچنے ہوئے خود سے بولا تھا اور مسکرا دیا تھا
کی۔۔۔۔۔۔۔ کیا بات کرنی ہے آپ کو وہ لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی ان کے بولنے پر فریحہ نے بھی لب بیچے اپنی ماں کی طرف دیکھ تھا جن کے چہرے پر خوف تھا کچھ چھین جانے کو خوف
بیٹھنے کے لئے نہیں بولیے گے آپ ہمیں دادا شاہ اور بڑی بی کے بولنے پر عادل نے ان سب کو بیٹھایا تھا
پھر دادا شاہ کی باتیں سن کر نورین کے ہوش سہی معنی میں کھل گیے تھے انہوں نے بے چینی سے فریحہ کو اور بھی اپنے ساتھ لگا لیا تھا
اور عادل صاحب کی طرف دیکھنے لگیں تھیں جو خود پریشان ہوئے ان کی طرف دیکھ رہیے تھے
میں آپ سے سیدھی سی بات کروں گا میں صرف آپ کو بتانے کے لیے آیا تھا اور دادا کی ضد تھی پر اب فریحہ میری بیوی ہے اور اب سے یہ میرے ساتھ ہی رہیے گی اس کی پڑھائی سے لے کر ہر کام کی زمینداری مجھ پر ہے
مجھے آپ کی بیٹی سے محبت ہے دل اور جان سے اس بات کے لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اسی لیے میں آپ کی رزمندی چاہتا ہوں فریحہ کو لے کر جانے کی دادا کے بولنے کے بعد حآضر دو ٹوک لہجے میں نورین اور عادل سے بولا تھا
عاقب شاہ تو جل جل کر راکھ ہو رہیے تھے عادل اور نورین کو ساتھ دیکھ کر نورین کو وقت نے اور بھی خوبصورت اور پرکشش بنا دیا تھا عاقب شاہ کو اپنے کیے پر آج بہت پشتاوا ہو رہا تھا پر وقت گزر چکا تھا
وہ اپنی لالچ ضد اور انا میں اپنی بیٹیوں کی محبت بھی کھو چکے تھے جو ان سے اب نفرت کرتیں تھیں
نورین ابھی کچھ بولیتی اوپر سے چیخنے کی آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
زرتاشہ اس اس کو پیچھے لے کر جاؤں مجھ سے اپنی اس منحوس کیٹی کو دور رکھو مجھ سے تمہیں پتہ ہے نہ مجھے الرجی ہو جاتیں ہیں ان سب سے
حیاء زرتاشہ کے ہاتھ میں کیٹی دیکھ کر بولی تھی جس کو اُٹھ کر وہ اس کے کمرے میں آ رہی تھی
آپو دیکھے تو سہی کتنی پیاری ہے میں تو بس آپ کو اُٹھانے آئی تھی سوچا آپ ہمیں ناشتہ بنا دیں گی دیکھ تو دن کے دو بج رہیں ہیں ماما دانٹ دیں گی اسی لئے آپ کو جگانے آئی تھی زرتاشہ اس کے اور بھی قریب جاتے ہوئے بولی تھی
زر کی بچی اس منحوس کو تو پیچھے کرو مجھ سے حیاء چیختے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا حیاء دی گریٹ جنگلی ایک کیٹی سے ڈرتی ہے باہر کھڑا سلال اسے دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
سلال کے بچے دفع ہو جاؤ اور اس منحوس کو بھی ساتھ لے جاؤ اپنے وہ غصے سے بولی تھی
حیاء تمہیں تو میں بتاتا ہوں وہ اب آگے بڑھ کر زرتاشہ سے کیٹی لیتے ہوئے حیاء کی طرف بڑھا تھا حیاء چیختے ہو بیڈ کے دوسری طرف دوڑتے ہوئے باہر بھاگی تھی پیچھے پیچھے سلال زرتاشہ اور زویا ہنستے ہوئے بھاگے تھے
ماما ماما بچا لیں مجھے نورین اور عادل جو شاہ فیملی کے آنے سے ان کے درمیان پریشان سے بیٹھ تھے حیاء کے چلانے پر جلدی سے کھڑے ہوئے تھے باقی سب نے بھی خیرانگی سے سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا جہان سے وہ سب بھاگتے ہوئے آ رہیے تھے
ماما اسے بولیے اس کو پیچھے کریں مجھے الرجی شروع ہو جائے گی حیاء چلاتے ہوئے بھاگی آئی تھی آتے ہی اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی بھاگنے سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھی وہ کسی کو ابھی نہ دیکھ پائی تھی اپنی گلاسز کو ٹھیک کرتے سیدھی ہوئی تھی جہاں اسے سامنے حاضر کھڑا نظر آیا تھا
ہیلو ہنڈسم تم یہاں تمہیں یاد ہوں میں وہ سیدھی ہوتے ہوئے مسکر کر بولی تھی
مجھے تو تم یاد ہو آج بھی کہی تم سچ میں ہمارے گھر رشتہ وشتہ تو نہیں لینے آ گیے وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
حاضر اس کی بات سے کھل کر مسکرائے تھا
تمہاری ہنسی سچ میں بہت پیاری ہے وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی پیچھے دیکھے بغیر جہاں سب اس کی باتوں کو سن رہیے تھے حیاء کی نظر کسی پر نہیں گئی تھی ابھی تک
انس شاہ حیاء کو دیکھ کر خیران رہ گیا تھا اس کی باتوں کو سن کر انس کا منہ غصے سے لال ہو چکا تھا
سلال پیچھے سے دورتے ہوئے آیا تھا اور آتے ہی حیاء سے ٹکرا گیا تھا جس سے وہ حیاء اور زرتاشہ تینوں نیچے گر گے تھے
منحوس انسان اس کو پیچھے کرو زر تم اُٹھاو اسے اور لے کر جاؤں اسے حیاء ایڑی کے بل پیچھے ہوئی تھی
ہاہاہاہاہا نہ بےبی ایسے کیسے چھوڑ دوں آج تو سارے بدلے لو گا کل میری گاڑی کو بھی خراب کر کے آئی تھی نہ تم سلال نے ہنستے ہوئے اس پر کیٹی کو چھوڑا تھا
سلال پیچھے ہٹاؤں حیاء سےاس سے اسے الرجی ہے عادل کی آواز سے چاروں نے ان کی طرف دیکھا تھا
حیاء سلال زرتاشہ تینوں نیچے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ زویا ان کے پاس کھڑی مسکرا رہی تھی
جہاں سب بیٹھے ہوئے تھے وہ جگہ تھوڑی سائیڈ پر تھی اسی لئے بآسانی اوپر سے آنے والے کی نظر ان پر نہیں پڑھتی تھی پر نیچے بیٹھے انسان کی صاف نظر ان پر پڑھ جاتیں تھی
اسلام وعلیکم سب کو حیاء نے نیچے بیٹھ بیٹھ ہی سب لوگوں کو سلام کیا تھا
اسلام وعلیکم
اسلام وعلیکم
اسلام وعلیکم
باری باری چاروں نے بھی حیاء کی دیکھا دیکھی سلام کیا تھا
یہ سب تمہارے رشتہ دار ہیں کیا حیاء اُٹھتے ہوئے سلال سے بولی تھی جو زرتاشہ اور حیاء کو ہاتھ بڑھا کر نیچے سے اُٹھنے میں مدد دے رہا تھا
یہ بات تو میں تم سے بولنے والا تھا سلال زرتاشہ کے ہاتھ میں کیٹی دیتے ہوئے بولا تھا
حیاء کسی ہو تم فریحہ جو سب کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی اُٹھ کر حیاء کے پاس آئی تھی
فری تم کب آئی حیاء اس سے ملتے ہوئے بولی تھی فریحہ حیاء سے ملنے کے بعد اب زرتاشہ اور زویا سے مل رہی تھی
ادھر آؤ بیٹا بڑی بی مسکراتے ہوئے حیاء کو اپنے پاس بلا کر بولیں تھیں
حیاء بھی مسکراتے ہوئے ان کے پاس گئی تھی
تم بڑی ہو فریحہ سے ادھر بیٹھوں میرے پاس وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولی تھیں جو ان کو دیکھ کر مسکرا کر بولتی اپنے پاس جگہ بناتے ہوئے اس کو ادھر بیٹھا کر بولیں تھیں
جی جی میں بڑی ہوں اس کی بات کرتے کرتے نظر سامنے بیٹھے انس پر پڑھی تھی جو غصے سے اسی کو دیکھ رہا تھا
حیاء کی نظریں جب سب پر پڑھی تو اس کی نظر عاقب شاہ پر جا کر روک گئیں تھی جو آنکھوں میں پیار لیے اسے دیکھ رہیے تھے
ماما یہ کون ہیں سب اور یہ یہ کیا کر رہے ہیں ہمارے گھر حیاء غصے سے اَٹھ کر پیچھے ہوتے ہوئے نورین سے بولی تھی جو خود اپنی آنکھوں میں بے بسی لیے اس کو دیکھ رہیں تھیں
پریوش انس آنیہ امن وہ ان سب کو دیکھ کر نہ میں سر ہلاتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی
ماما بتائیں کون ہیں یہ سب وہ غصے سے عاقب شاہ کی طرف دیکھا کر بولی تھی
حیاء یہ یہ سب تمہارے اپنے ہیں بیٹا میرے گھر والے ہیں ہم تم لوگوں کو لینے آئیے ہیں عاقب شاہ کے بولنے پر اس نے ان کو زہریلی نظروں سے دیکھا تھا
انس کیا تم بھی اس خاندان کا حصہ ہو وہ انس کے پاس جا کر بولی تھی جو کھڑا ہوتے ہوئے اسی کو دیکھ رہا تھا
حیاء کے بولنے پر سب نے خیران ہو کر حیاء کو دیکھا تھا سوائے آنیہ اور امن کے
انس نے گہرا سانس ہوا میں خارج کر کے ہاں میں سر کو ہلائے تھا
نورین اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا کر صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں آج اتنے سالوں بعد عاقب شاہ نے واپس آ کر پھر سے ان کی فیملی کو توڑ کر رکھ دیا تھا
اب پھر سے اپنی بیٹیوں کو سنبھال پانا نورین کو مشکل ترین کام لگا رہا تھا
احد نے اُٹھ کر زویا کو دیکھا تھا جو حیاء کے رونے سے اس کے پاس کھڑی خود بھی رو رہی تھی
احد نے آگے بڑھ کر زویا کا بازوں پکڑا تھا اور اسے اپنے سامنے کیا تھا پھر اس کا چہرا دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
کیا بدتمیزی ہے یہ چھوڑو زویا کو عادل صاحب آگے بڑھ کر زویا کو احد سے پیچھے کرنے لگے تھے جو زویا کی کسی بھی مزمت کو خاطر میں لائے بغیر اسے اپنے ساتھ لگا کر کھڑا تھا
بیوی ہے یہ میری کوئی بھی اس کو مجھ سے دور نہیں کر سکتا نہ آپ نہ کوئی اور ختہ کے یہ خود بھی مجھے خود سے دور نہیں کر سکتی
ہم آئے تو حاضر لالہ کی بات کرنے تھے پر اب میں اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے کر جاؤں گا اور کوئی مجھے نہیں روک سکتا کوئی مطلب کوئی نہیں احد کے بولنے پر سب نے خیران ہوتے ہوئے اسے دیکھ تھا
تو کیا تم ہو وہ افسر جس سے زویا کا نکاح ہوا تھا عادل کے بولنے پر سب نے ان کی طرف دیکھا تھا
جی ہاں میں ہوں
نکاح کی بات پر سب نے احد کی طرف دیکھا تھا
کرنا کچھ تھا ہو کچھ رہا تھا سب الج گیا تھا
ہر رشتہ آج سب کے سامنے کھل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️