Rate this Novel
Episode 23
کہاں جا رہی ہو تم حیاء عاقب شاہ جاتی ہوئی حیاء سے بولے تھے جو بیگ میں سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی
ویسے میں آپ کو بتانا پسند تو نہیں کرتی پر پھر بھی بتا دیتی ہوں وہ اپنا سر اوپر اُٹھ کر ان کی طرف مڑتے ہوئے بولی تھی
میں جا رہیں ہوں اپنی موم سے ملنے کے لیے میں کیا بلکہ انس حاضر احد زویا فریحہ ہم سب پتہ ہے کیوں وہ ان کی طرف مسکراہٹ اچھال کر سوالیہ انداز میں بولی تھی
آپ مت پوچھیں میں ہی بتا دیتی ہوں اس لیے کیوں کہ میری ماما اور عادل انکل ہنی مون کے لیے جا رہیں ہیں ترکی اور پھر وہاں سے جائیں گے آگے دوسرے ملکوں میں تقریباًن یہی سمجھ لیں ولڈ ٹور پر جارہیں ہیں حیاء دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولتی ہوئی ان کو جلا گئی تھی
عاقب کی آنکھوں میں شرارے بھر گیے تھے غصے سے خود پر ضبط کر کے بیٹھی تھے بہت مشکل سے حیاء ان کو مسکراتے ہوئے دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی
نورین تمہیں تو میں دیکھ لوں گا بہت کر لیے مزے اب جلد ہی سب ختم کر دوں گا وہ دل میں بولتے ہوئے خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے
❤️❤️❤️❤️
ہم ایک ہی گاڑی میں نہیں جا رہیے کیا سب حیاء منہ بنا کر بولی تھی
جب سب کے پاس اپنی اپنی گاڑی ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے تمہیں انس ائبرو اَٹھا کر بولا تھا
تم چاروں نکلو میں بس فریحہ کو لے کر آیا حاضر فریحہ کا ویٹ کر رہا تھا جو ابھی نہیں آئی تھی
انس ہم چاروں ایک ہی گاڑی میں چلیے جاتے ہیں کیا مسئلہ ہے وہ انس سے منہ بنا کر بولی تھی
احد نے حیاء کے بولنے پر انس کو آنکھیں دکھائی تھی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا تھا
مسئلہ یہ ہے کے مجھے اپنے بھی کوئی کام ہیں جو میں نے اپنی گاڑی لے جا کر کرنے ہیں انس کے جواب دینے پر منہ بناتیں انس کے کھولے ہوئے گاڑی کے دروازے سے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی
پھر انس اور احد نے بھی اپنی اپنی گاڑی آگے بڑھا دی تھی
فریحہ جلدی سے دورتے ہوئے باہر آئی تھی جس نے بلک کلر کا فراک پہنے ہم رنگ ڈوپٹہ لیے بالوں کو ہاتھوں سے باندھتے ہوئے جھوڑا بنا رہی تھی
حاضر نے اسے دیکھ تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو اس لباس میں اسے خوبصورت سی پری کی طرح لگ رہی تھی
ہوگے ہیں کام سب تو چلیں وہ فریحہ کو دیکھ کر بولا تھا جو خیران سی اسے دیکھ رہی تھی
باقی سب کہاں ہیں انہوں نے بھی تو جانا تھا فریحہ اسے تجسس سے پوچھ رہی تھی
باقی سب نکل گیے ہیں اپنی اپنی گاڑی میں ہم ہی پیچھے رہ گیے ہیں بس وہ اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا تھا
کیا کیا مطلب ہم تو سب ساتھ جا رہیے تھے نہ وہ خیریت لیے بولی تھی
ہاں سب ساتھ ہی جا رہیے ہیں پر اپنی اپنی گاڑی میں حاضر نے بولتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا جس پر وہ چپ چاپ لب چبھتے ہوئے بیٹھ گئی تھی
ان کو کھولا ہی رہنے دو حاضر نے اس کے بیٹھتے ہوئے اس کے سر سے جھوڑے پر لگے کیچر کو اتار دیا تھا
فریحہ نے نظریں اٌٹھ کر اس کی طرف دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں دیکھنا فریحہ کو دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا تھا اسی لیے جلدی جلدی اپنی آنکھوں کا زوایہ بدلتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
حاضر بھی دوسری طرف بیٹھ کر جلدی سے گاڑی کو آگے بڑھا گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
خبہ تیار ہو جاؤ تمہیں واجب لینے آیا ہے نیچے شادی کی شاپنگ کروانی ہیں اس کی موم نے بھیجا ہے اسے جلدی سے تیار ہو وہ آرام سے بیڈ پر بیٹھی ٹی وی پر مووی دیکھ رہی جبہ سے بولی تھیں
ماما میں کہی نہیں جا رہی اس کے ساتھ آپ صاف نہ کر دیں جبہ بینا اُٹھے بولی تھی
جبہ تم کیا چاہتی ہو ہمارے سر پر حاک ڈالنا چاہتی ہو ایک تمہارے بھائی نے حیاء کے ساتھ زبردستی کر کے ہمیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا اور اب تم وہ تو رانیہ بھابھی سمجھ دار تھیں اور دوسرا آنیہ کا اتنی اچھی جگہ رشتہ ہو گیا ورنہ کوئی ہمیں منہ نہ لگتا اسی لیے کوئی بھی چو چا کے بغیر تیار ہو کر دس منٹ میں نیچے پہچانا
ورنہ میں خود واجب کو اوپر بھجوا دوں گی وہ غصے سے بولتی ہوئی نیچے چلی گئی تھی
کیا نئی مصیبت گلے پڑھ گئی ہے میرے اب وہ غصے سے پیر پیٹکتے ہوئے اُٹھ کر تیار ہونے چلی گئی تھی
تیار ہو کر نیچے آئی تو واجب سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا
اسے آتے دیکھ کر مسکرایا تھا جو وئٹ لانگ قمیض پر کھولا ٹروزر پہنے ریڈ ڈوپٹہ لیے بالوں کا میسی سا جھوڑا کیے خود سے ہی کچھ بڑبڑاتے ہوئے نیچے آ رہی تھی
آنٹی خبہ آ گئی ہے تو اب ہمیں چلانا چاہتے پھر میں جلدی اسے گھر چھوڑنے کی کوشش کروں گا واجب اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا اور علیشہ شاہ اور بڑی بی سے پیار لیتے ہوئے سب کے آگے جکتے ہوئے خبہ کو باہر آنے کا بول کر باہر نکل گیا تھا
خبہ دھیان سے رہنا کوئی بھی الٹی سیدھی خرکت مت کرنا سنا تم نے ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گی علیشہ شاہ کے کہنے پر وہ منہ بنا کر واجب کے پیچھے چلی گئی تھی
اس کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو کر نکل گئی تھی
خبہ کا رخ باہر کی ہی طرف تھا اس نے ایک غلط نگا بھی واجب پر نہیں ڈالی تھی
واجب اس کے رویے سے خود کو بہت مشکل سے کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا
کس کے خیالوں میں گم ہو اس کے خیالوں میں جس نے تمہیں منہ تک نہیں لگایا اور کسی دوسری سے شادی کر لی وہ جان بوجھ کر جبہ کو تنگ کرنے کے لیے بولا تھا
بکواس بند رکھو اپنی تو تمہارے لیے بہتر ہو گا وہ اسے انگلی سے رون کرتے ہوئے بولی تھی
کیا بولا تم نے کے بکواس بند رکھوں واجب نے جھٹکے سے گاڑی کو روکا تھا اور اس کی طرف اپنا رح کر کے غرایا تھا
مس خبہ شاہ اس بھول میں مت رہنا کے میں واجب رانا تمہاری زرا سی بھی بدتمیزی برداشت کروں گا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کے بالوں پر اپنی گرفت مضبوط بناتے ہوئے ایک ایک لفظ کو چبا کر بولا تھا
خبہ اس کی گرفت میں ہونے کی وجہ سے دارد اور ڈر سے گھبرا گئی تھی ایک ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا اور دوسرے سے اس نے اس کے بال پکڑے ہوئے تھے خبہ کی آنکھوں میں آنسو آ گیے تھے
چھوڑیں مجھے نہ۔۔۔۔۔۔نہیں کروں گی پلیز پیچھے ہوں وہ خوف لیے اس سے بولی تھی جو اس وقت بالکل اس کے نزدیک تھا اتنا کے خبہ کو بند ہوئی اپنی آنکھوں کے باوجود اس کی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہو رہیں تھی
گوڈ گرل آئند غلطی سے بھی بدتمیزی کرنے کی کوشش مت کرنا وہ اس سے پیچھے ہوا تھا
خبہ کے بال کھل گیے تھے
خود کو کنٹرول کرنے کے باوجود خبہ کی سسکی نکلی تھی اس نے روتے ہوئے اپنا چہرا دوسری طرف کر لیا تھا اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر خود کی سسکیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی
میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا پر کیا کروں تمہاری خرکتے ہی ایسی ہیں کے مجھے غصہ آ جاتا ہے وہ دل میں خبہ سے محاتب تھا اس کو روتا ہوا دیکھ کر واجب کے دل کو کچھ ہوا تھا پر خود کا مضبوط بنا کر گاڑی سٹارٹر کر دی تھی
یہ میرے ہی کیے کی سزا ہے جو مجھے مل رہی ہے ابھی تو شروعات ہے جبہ آگے پتہ نہیں کیا کیا کرئے گا وہ سوچتے ہوئے اور بھی خوف زدہ ہو گئی تھی
پھر پورے راستے نہ واجب نے اسے محاتب کیا تھا نہ اس نے ایک بھی لفظ بولا تھا
پر واجب تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے دیکھ رہا تھا جو اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے بیٹھی تھی
وجب نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا
خبہ نے سانس روکے اسے دیکھ تھا پر اس دفع کچھ بھی کہنے کی غلطی نہیں کی تھی پر اپنا ہاتھ اسے کے ہاتھ سے کھنچنے کی کوشش کر رہی تھی
وجب نے آنکھیں نکل کر اسے دیکھ تھا جس سے خبہ نے وہ کوشش بھی روک دی تھی اور چپ چاپ دوسری طرف چہرا کر گئی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
آپ مجھے اپنا گاوں کب دکھائے گئے زویا باہر دیکھتے ہوئے بولی تھی
جب میری جان بولے گی لے جاؤں گا احد اس کی بات پر سامنے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا
سچ میں چلائیں ٹھیک ہے کل آپ مجھے دکھا دینا ہم گھر سے ہو کر آ کر دیکھنے جائیں گے وہ خوش ہوتے ہوئے بولا تھی
جی میری جان وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا
زویا نے گھبراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھنچنا چاہا تھا جو احد کی مضبوط گرفت نے ناکام بنا دیا تھا
احد میرا ہاتھ چھوڑ دیں وہ اپنے ہاتھ پر اس کی مضبوط ہوتی گرفت کو دیکھ کر بولی تھی
نہ چھوڑوں تو احد نے اس کی طرف سولیا نگاہ سے دیکھا تھا
میں ماما کو بتاؤں گی آپ کا وہ منہ بنا کر بولی تھی
زویا ہر چیز ماما کو اور حیاء کو نہیں بتاتے ہم میاں بیوی ہیں اور تم کوئی اتنی بھی چھوٹی بچی نہیں ہو جو ہر بات اپنی ماما اور حیاء کو بتانے چلی جاتیں ہو
خبر دار جو ہمارے بیچ کی کوئی بھی بات تم نے حیاء یا اپنی ماما کو بتائی ہو ورنہ میں تمہارے ساتھ بہت برا پیش آؤں گا وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
آپ مجھ پر غصہ کر رہیں ہیں وہ منہ بنا کر بولی تھی
نہیں میری جان بس تمہیں سمجھا رہا ہوں اوکے بی آ گوڈ گرل وہ پھر سے اس کے ہاتھ کو ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا
زویا بھی اس کی طرف دیکھا کر مسکرا دی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
پری کچن میں تھی کچن میں پڑھے سٹول پر بیٹھی پانی پی رہی تھی ساتھ بھی خنا شاہ تھی جو کچھ پکا رہیں تھیں اور ساتھ ساتھ پری سے باتیں بھی کر رہیں تھی جن کا وہ ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی
بڑی ماما مجھے ایک کپ چائے بنا دیں میرا سر درد کر رہا ہے عالی کچن میں آ کر بولا تھا نظریں پری پر تھیں جس نے اس کی آواز پر سر اُٹھا کر اسے دیکھ تھا اور پھر غصے سے اپنا رح بدل لیا تھا
ابھی بنا دیتی ہوں اور بھی کچھ ساتھ لو گے۔۔۔۔۔۔خنا شاہ عالی سے بولی تھی
نہیں بس ایک کپ چائے بھجوا دیےکمرے میں میں وہی ہوں وہ ان کو بولتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا گیا تھا
ہوں اکڑو کہی کے ایک سوری بولنے سے ہی اس بندے کی جان جاتی ہے کہی سوری سے ان کی ناک ہی نہ زمین پر گر جائے پری بولتے ہوئے اَٹھ کر باہر نکلنے لگی تھی
پری روکو دومنٹ اور یہ بھی لے کر جاؤں وہ چائے کا بناتے ہوئے بولی تھی
ماما آپ کسی اور کو بول دیں نہ میں نہیں جا رہی اس سڑو اکڑو کے کمرے میں وہ منہ بنا کر بولی تھی
پاگل لڑکی زبان سنبھال کر بات کیا کرو کیا بتاؤں اب تمہیں اسی سڑوں کے کمرے میں رہنا ہے کچھ دن تک وہ اسے بولتے ہوئے باقی بات دل میں سوچتے ہوئے بولی تھی
یہ پکڑو اور جلدی سے لے کر جاؤ وہ اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ رکھتے ہوئے بولی تھیں
اب کیا کرتی کپ اُٹھ کر آرام سے چلتے ہوئے اس کے کمرے میں آئی تھی کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ سامنے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا
گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوئے اندر داخل ہوئی تھی اور بینا کچھ بولے چائے اس کے پاس رکھ کر جانے کے لیے مڑ گئی تھی
پری ۔۔۔۔۔۔۔۔. کہاں جا رہی تھی اتنی جلدی میں وہ جلدی سے اُٹھ کر اس کا رح اپنی طرف کرتے ہوئے ائبرو اُٹھ کر بولا تھا
پیچھے ہٹے جانا ہے مجھے اپنے روم میں پڑھنے لگی ہوں میں وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی جو اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا
تم مجھے غصہ دلا رہی ہو پریوش اور میں تم پر غصہ نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔وہ اسے آنکھیں نکالتے ہوئے بولا تھا
پری نے بمشکل اپنا ہلک تر کیا تھا وہ جان گئی تھی کے عالی غصے میں ہے اسی لئے اس نے اس کا پورا نام لیا تھا جب بھی عالی یا حاضر غصے میں ہوتے تھے وہ اس کا پورا نام لیتے تھے
آپ کو مجھ پر غصہ کرنے کے علاوہ کیا آتا ہے ہر وقت یا تو غصہ کرتے ہیں یا پھر مجھے ٹرچر کرتے ہیں دور رہا کریں مجھ سے وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
پری واپس آؤ اس نے پیچھے سے آواز دی تھی پر تب تک پری سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
دروازہ کھولو پری وہ غصے سے اس کے کمرے کی طرف گیا تھا دروازہ کو بند دیکھ کر اس کو بجاتے ہوئے چلایا تھا
نہیں کھولوں گی کبھی بھی نہیں کھولنے والی چلیں جائیں یہاں سے مجھے نہیں کرنی آپ سے کوئی بھی بات اتنی دھنس جماتے ہیں آپ مجھ پر کبھی پیار سے بات تک نہیں کرتے
Open the door pari other wise you pay for it
وہ چلا کر بولا تھا
پری ڈر گی تھی پر دروازہ نہیں کھولا تھا آنکھوں میں آنسو لیے پیچھے ہوتے ہوئے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی تھی
نہیں کھولو گی دروازہ تو ٹھیک ہے اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں وہ غصے سے بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
پری اپنا سانس بحال کرتے ہوئے بیڈ پر گری تھی عالی کا ڈر اس کے اندر اور بھی بڑھ گیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
میں رات کو آؤں گا تمہیں لینے تیار رہنا انس حیاء کے گھر کے آگے گاڑی روکتے ہوئے حیاء سے بولا تھا
تم نہیں آؤ گے اندر ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں میں نہیں آ رہا جاؤ تم وہ سامنے دیکھے ہوئے ہی بولا تھا
تو ٹھیک ہے کوئی ضرورت نہیں مجھے بھی لینے آنے کی میں خود سلال کے ساتھ آ جاؤں گی مجھے پہلے پتہ ہوتا تو یہاں بھی اسی کے ساتھ آ جاتی حیاء غصے سے بولتے ہوئے باہر نکلی تھی
نہ نہ سوئٹ ہارٹ سوچنا بھی مت اس سلال کے ساتھ آنے کا ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی وہ اس کی کلائی پکڑ کر گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا تھا
مجھے یہی رہین ہے آج اور میں کل سلال کے ساتھ ہی آؤں گی کان کھول کر سن لو اگر تم میرے گھر آ کر میری مام کو نہیں اچھے جمائیوں کی طرح مل سکتے تو مجھ سے بھی کوئی اکسپکٹیشن مت رکھنا مائے سوئٹ ہارٹ ہبی وہ بھی اس کو اسی کے انداز میں جواب دے کر بولتی اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑواتے ہوئے اندر چلی گئی تھی
انس نے دیکھ تھا کہ حاضر کی گاڑی اور احد کی گاڑی میں سے وہ دونوں خود بھی ساتھ اندر گیے تھے انس حیاء کی وجہ سے اب غصے سے اپنی گاڑی کو لے کر نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
وہ سب اندر گیے تھے وہ تینوں اپنی ماما کے گلے لگ گئی تھیں زرتاشہ سلال اور عادل صاحب بھی ادھر ہی تھے
فریحہ اور زویا رونے لگیں تھی حیاء نے ہمیشہ کی طرح اپنے آنسو کو اپنے اندر ہی رکھا تھا وہ ان سے مل کر پیار کرتے ہوئے مسکرا کر زرتاشہ عادل اور سلال سے ملی تھی
اسلام وعلیکم احد اور حاضر نے بھی ان کو سلام کیا تھا نورین نے مسکرا کر جواب دیا اور ان سب کو بیٹھنے کے لیے کہا تھا
اچھا انٹی میں چلاتا ہوں رات کو فریحہ کو لینے آؤں گا حاضر کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کرنے کے بعد اُٹھا تھا
بیٹا بس کھانا لگ گیے ہے وہ کھا کر چلیں جانا آپ نورین بولتے ہوئے وہاں سے اَٹھ کر کچن کی طرف گئیں تھیں حیاء بھی ان کے ساتھ چلی گئی تھی
میرا بچہ خوش تو ہے نہ حیاء نے کھڑی ہوئی نورین کو پیچھے سے ہگ کیا تھااور اپنا سر ان کی کمر پر ٹکا دیا تھا
جی جی میں بہت خوش ہوں وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو اپنے اندر اتار کر بولی تھی
سچ میں خوش ہو نہ میری جان وہ اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے بولی تھی
کیوں آپ کو نہیں لگا رہا اچھا ہے ماما انس بس تھوڑا زیادہ ضدی ہے اسی لئے وہ مسکراتے ہوئے ان سے بولی تھی جو اب اس پر سے نظریں ہٹا کر کھانا ٹیبل پر لگا رہی تھی حیاء بھی ان کی مدد کر رہی تھی فریحہ بھی وہی آ گئی تھی پھر تینوں نے مل کر کھانا لگایا تھا
نورین نے جان بوجھ کر ہی انس کا نہیں پوچھا تھا وہ ماں تھیں اپنی بیٹی کی آنکھوں کو پڑھ سکتی تھیں
زر اور زویا دونوں اپنے گندے ہاتھ دھو کر آؤ اور اس بلی کو باہر رکھ کر آؤ ماما بلا رہیں ہیں سب کو کھانے کے لیے وہ بولتے ہوئے ٹیبل کی طرف بڑھی تھی باقی سب بھی وہی پہچ گیے تھے
سب نے مل کر کھانا کھائے تھا حاضر فریحہ کو خوش دیکھ کر بہت خوش تھا وہ اس پر جتنا بھی غصہ کر لے پر اسے پیار تھا اس سے اور اسی لئے وہ فریحہ کو خوش دیکھ کر خوش تھا
نورین نے حاضر کو مسکراتے ہوئے فریحہ کی طرف دیکھ تو ان کے لیے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا کی تھی دوسری طرف احد زویا کو بچوں کی طرح ٹریٹ کررہا تھا اور سلال تو ہمیشہ ہی زر کو اپنی نظروں کے حصارِ میں رکھتا تھا
حیاء مسکراہٹ لیے عادل سے باتیں کر رہی تھی پر اس کی نظروں کی ویرانی وہ دیکھ سکتیں تھیں ۔۔۔۔۔۔کیا انس نہیں ٹھیک میری حیاء کے ساتھ وہ سوچتے ہوئے حیاء کی طرف دیکھ رہیں تھی
ہنڈسم یہ بھی لو نہ حیاء مشکوک سی مسکراہٹ لیے حاضر سے بولی تھی
آنٹی آپ کی دونوں بیٹیاں مجھے بہت تنگ کرتیں ہیں فریحہ تو میری بالکل بات نہیں مانتی وہ حیاء کو صاف نہ کرتے ہوئے مسکرا کر فریحہ اور حیاء کو دیکھتا ہوا نورین سے بولا تھا
فریحہ نے کھا جانے والی نظروں سے حاضر کو دیکھا تھا جو مسکراتے ہوئے اسی کو دیکھ رہا تھا
اسی بولیے گا میں جب تک اسے خود نہ لینے آ جاؤں یہ نہ جائے میں خود رات کو آؤں گا اسے لینے کے لیے وہ بولتے ہوئے فریحہ سے نورین کی طرف دیکھا کر مسکرا دیا تھا
جی بیٹا میں سمجھاؤں گی اسے اور یہ ضرور آپ کے ساتھ ہی جائے گی آفٹرال آئی آپ کے ساتھ ہے تو جائے گی بھی آپ کے ساتھ نورین مسکراتے ہوئے فریحہ کو دیکھا تھا
زویا یہ کیا کر رہی ہو یہ نہیں کھاتا میں احد منہ بسورتے ہوئے کسٹد کو دیکھ کر بولا تھا جو زویا اس کی پلیٹ میں ڈال کر اب اس کے منہ کی طرف کر رہی تھی
میرے لیے بھی نہیں کھائیں گے وہ منہ بنا کر بولی تھی
ٹھیک ہے کھا لیتا ہوں اس نے آنکھیں بند کر کے منہ میں لیا تھا اور بہت مشکل سے اپنے ہلک تک اتارا تھا
زرتاشہ کچھ اپنی جوڑ والی بہن سے ہی سیکھ لو کیسے بے باقی سے اپنے میاں کو کھلا رہی ہے کچھ ہم غریبوں پر بھی کرم کر دو سلال بچارا سا منہ بنا کر بولا تھا
آپ بتائیں آپ کو کون سی چیز ناپسند ہے میں وہ کھلا دوں آپ کو زرتاشہ بھی اپنی طرف سے بہت عقلمندی سے بولی تھی
سلال کا دل کیا وہ اپنا سر ٹیبل سے مار لے بمشکل اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا
یار ہمیں پہلے ان کو کسی رومانی سکول میں ایڈمیشن لے کر دینا پڑھے گا تب یہ دونوں کچھ سمجھ پائیے گی احد سلال کے کان میں راز داری سے بولا تھا کسٹد سے اس کا منہ کڑوا ہو چکا تھا
حیاء ان دونوں کو دیکھ کر بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی
حاضر آس بھری نظروں سے فریحہ کی طرف دیکھا رہا تھا جو اسے پوری طرح اگنور کر رہی تھی
ماما ہندسم بولا رہا ہے فریحہ کو مجھے بھی اپنے ہاتھوں سے کھلا دو حیاء نے فریحہ کے سر پر دھماکا کیا تھا خیران تو حاضر بھی ہو چکا تھا
نورین اور عادل بھی مسکرا دیے تھے
سب کھلا رہیں ہیں تو بیٹا جی آپ بھی کھلا دو بیچارے حاضر کو عادل کے بولنے پر فریحہ نے سٹپ کر حاضر کی طرف دیکھا تھا جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
چلو چلو فریحہ کم ان حیاء جلد سے بولی تھی فریحہ نے غصے سے حیاء کو دیکھا تھا جو گھر میں تو اسے حاضر کے پاس بھی بھٹکنے نہیں دیتی تھی اور یہاں
چاروناچار فریحہ نے کھیر کی چمچ کے کر حاضر کی طرف کی تھی جس کو اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کھا لی تھی
حاضر نے بھی کسی کی پرواہ کیے بغیر فریحہ کے منہ کی طرف چمچ بڑھائی تھی جسے فریحہ نے غصے سے دیکھتے ہوئے کھا لیا تھا
انکل انکل یہ لے آپ بھی موم کو کھلا دیں اب عادل کے آگے کی تھی
جو انہوں نے بغیر کسی ہچکچائے انکی طرف کی تھی جو انہوں نے آنکھوں میں نمی لیے کھائی تھی
ہاہاہاہاہا ماما سو رومینٹک یار حیاء مسکرا کر اپنی چیر سے اُٹھ گئی تھی اس کی آنکھوں میں شرارت تھی
سلال جو اپنی چمچ زرتاشہ کی طرف بڑھا رہا تھا حیاء نے آگے بڑھ کر زر کے منہ کے پاس جا کر اپنے منہ میں کر لی تھی
سلال اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو اب اپنی خرکت سی کھلکھلا رہی تھی
سلال غصے سے حیاء کے پیچھے بھاگا تھا جو راہداری سے بھاگنے لگی تھی کے سامنے کھڑے انس سے ٹکرا گئی تھی
حیاء نے جب انس کو وہاں دیکھ تو وہ مسکرائی تھی پر انس کی اگلی بات پر اس کے مسکراتے لب سکڑ گیے تھے
یہ لو اپنا بیگ گاڑی میں بھول آئی تھی مزے کرو اپنے عاشق کے ساتھ وہ اسے پیچھے دھکا دیتے ہوئے اپنے لفظوں کا زہر اس میں گھول کر وہاں سے جا چکا تھا
عاشق نہیں نہیں وہ بہت مشکل سے خود کو سنبھال کر وہاں سے بھاگتے ہوئے اپنے روم میں گئی تھی دروازہ بند کرتے ہوئے اپنے کان پر ہاتھ رکھ کر نہ میں سر ہلاتے ہوئے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ لیا تھا
وہ انس کی باتوں سے پیچھے کہی اپنے ماضی کی آس سرد راتوں میں جا چکی تھی جس نے ان سب سے ان کا سب کچھ چھین لیا تھا
آج جتنا وہ انس کے قریب آئی تھی اس سے دوگنا اس کے کہے لفظوں نے اسے دور کر دیا تھا
حیاء دروازہ کھولو آج میں تمہیں نہیں چھوڑنے والا بہت بدتمیز ہو تم تم بہن نہیں چڑیل ہو باہر سلال دروازہ بجا رہا تھا
نہیں کھولنا میں سونے لگی ہوں ماما کو بھی بتا دینا وہ بمشکل اپنے لہجے کو نارمل کرتے ہوئے بولی تھی وہ ابھی بھی دروازہ کے ساتھ لگی بیٹھی ہوئی تھی باہر اب خاموشی ہو گئی تھی سلال شاید اب جا چکا تھا
پہلے اس خاندان کے اس انسان نے میری ماں پر تہمت لگائی تھی اور آج انس شاہ نے مجھ پر تہمت لگا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی دوسرا عاقب شاہ ہے
آج سچ میں مجھے تم سے نفرت محسوس ہو رہی ہے انس شاہ اگر تمہیں میرے ماضی کا پتہ چل گیے تو تم تو مجھے جیتے جی مار دو گے مجھے اب فیصلہ لینا ہی ہو گا اب نہ میں کوئی صفائیاں دوں گی اور نہ انس شاہ کو برداشت کروں گی اور نہ ہی اس گھر میں واپس جاؤں گی
اب مجھے ماما بھی وہاں نہیں بھیج سکتی وہ روتے ہوئے اپنی ہتھیلی سے آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولی تھی
وہ نیچے زمیں سے اُٹھی تھی اور اپنی الماری کی طرف بڑھ گئی تھی ہاتھوں سے کنگن اتار کر ان کو الماری میں پھینکا تھا
وہاں پڑھی ہوئی میڈیسن میں سے دو گولیاں نکالی تھیں اور ان کو منہ میں رکھ کر نگل گئی تھی
پانی نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل سے کھائی تھی اس نے پھر بیڈ پر گر گئی تھی
ماضی کی یادیں پھر سے اس کی بند آنکھوں پر دستک دینے لگیں تھیں
وہ بے چینی سے آنکھوں کو کھولنے لگی تھی پر دوائی کی وجہ سے کھول نہیں پا رہی تھی
اسی لیے ان تلخ یادوں کی وجہ سے سر کو تکیہ پر دائیں بائیں مرنے لگی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
