Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ادھر چلو میرے ساتھ عالی پری کو کھنچتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا جو فریحہ کے کمرے کی طرف جا رہی تھی
کدھر جا رہی ہو تم میں نے تمہیں کیا بولا تھا کہ نہیں جانا تم نے ان بہنوں کے پاس تمہیں میری ایک بات سمجھ نہیں آتیں عالی غصے سے اسے اوپر ٹیرس پر لے کر آیا تھا
آپ کو کیا مسئلہ ہے میری دوست ہے وہ اور اب تو بھابھی اور کزنز بھی ہیں میں تو جاؤں گی ان کے پاس پری اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی کو کھنچتے ہوئے بولی تھی
میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے زبان مت چلایا کرو میرے سامنے جو میں کہوں چپ چاپ مان لیا کرو میری اتنی سی بات تمہیں سمجھ نہیں آتیں وہ اس کی کلائی کو جھٹکا دیتے ہوئے خود کے قریب کرتے ہوئے بولا تھا
میں کیوں مانوں آپ کی بات میرے لیے پہلے میرے لالہ ہیں اور فریحہ ان کی بیوی ہے میری دوست کزن سب کچھ میں آپ کی بات نہیں مانوں گی بلکہ میں حاضر لالہ کو بتاؤں گی آپ کا آپ مجھے تنگ کرتے ہیں وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے سے بولتی اس سے دور ہوئی تھی
پری تم مجھے بہت غصہ دالا رہی ہو اور میں کون ہوتا ہوں تمہارا یہ بھی جلدی ہی بتا دوں گا اور تمہاری زبان کو بھی لگام دوں گا جو میرے آگے بہت چلتی ہے
تمہارے لیے حاضر لالہ نہیں صرف اور صرف میں اہم ہونا چاہیے ورنہ انجام کی ذمہ داری تم پر ہو گی
وہ اسے بالوں سے پکڑا کر خود کے قریب کر کے بولا تھا
پری نے دارد اور ڈر سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا
چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے وہ آنسو کے ساتھ بولی تھی
مجھے بھی ہوتا ہے درد اسی لئے جو میں کہوں مان لیا کرو اچھے بچوں کی طرح وہ اس کے بالوں پر گرفت اور بھی مضبوط کرتے ہوئے بے رحم بنا اسے گھور کر بول کر جھٹکے سے چھوڑا تھا پری جا کر دیوار سے لگی تھی
میں جاؤں گی ضرور جاؤں گی سنا آپ نے مجھے نفرت ہے آپ سے وہ روتے ہوئے بولیتی نیچے بھاگ گئی تھی
ڈیم یہ لڑکی نہیں سنتی میری اسے جلدی سیدھا کر دوں گا میں مجھے غصہ دالا کر سب غلط کر دیتی ہے عالی شاہ محبت کرتا ہے تم سے پری میری محبت کو آزمائش مت بناؤ یہ نہ ہو تمہیں نقصان اُٹھانا پڑھے
وہ دیوار کے ساتھ اپنا سر ٹکا کر کھڑا بولا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
اسلام وعلیکم حیاء اور زویا کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی حیاء زویا کو سٹیدی میں مدد کر رہی تھی احد کے سلام کرنے پر دونوں نے سر اوپر کر کے اسے دیکھ تھا
حیاء کے چہرے پر احد کو دیکھ کر ایک دل جلانے والی مسکراہٹ آ گئی تھی
وعلیکم السلام حیاء احد کی طرف مسکراہٹ اچھال کر بولی تھی
ہائے یہ باڈی گارڈ پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی میری معصوم سی بیوی کا احد صوفے پر بیٹھ کر حیاء کی طرف مصنوعی سا مسکرا کر دل میں سوچتے ہوئے زویا کی طرف دیکھ رہا تھا جو اب سر نیچے کیے اپنے کام میں بیزی ہو گئی تھی
میں باڈی گارڈ اس کا پیچھا نہیں چھوڑنے والی حیاء طنزیہ مسکراہٹ سے احد کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو اس کی بات سے خیران ہوااسے دیکھنے لگا تھا
اس کو میرے دل کی بات کیسے پتہ چل گئی
دل کی بات نہیں پتہ چلی مجھے تمہارے دوست کے ساتھ ہوئی پوری گفتگو سن چکی ہوں میں اور اب سوچنا بھی مت یہ باڈی گارڈ تمہیں زویا کے اس پاس بھی بھٹکنے دے گی حیاء اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولتی اس کا دل جلا گئی تھی
بہت ظالم سماج ہو تم حیاء ایک دفعہ بات تک نہیں کرنے دے رہی مجھے میری پیاری بیوی سے معصوم سی ہے تمہاری باتوں میں آ گئی ہے
ہاں معصوم اور پیاری تو ہے جو تم جیسے چھچوندر سے نکاخ کر لیا اور تم نے سوچا ہو گا مجھے جیسے بدصورت انسان کو کون لڑکی دے گا تو کیوں نہ فائدہ اٹھا کر اپنا کام بھی پورا کر لوں
کیا کیا کیا میں چھچوندر بدصورت احد ڈرمہ کرتے ہوئے انڈین ڈراموں کی طرح ایک لفظ کو تین بار دوہرا کر بولا تھا
لڑکیاں مرتیں ہے تمہارے بہنوئی پر ایک جھلک کے لیے ترس جاتیں ہیں اور تم مجھے یعنی احد کو چھچوندر بول رہی ہو
ہاں جی میں تمہیں یعنی احد شاہ کو چھچوندر بول رہیں ہو کیونکہ مجھے تو تمہاری طوطے والی شکل میں کچھ خاص نہیں دکھائی دیا حیاء منہ بنا کر اسے اور بھی جلا کر بولی تھی
حیاء کی باتوں سے پاس بیٹھی زویا نے قہقہہ لگایا تھا احد کی شکل دیکھ کر دونوں بہنیں ہنس رہیں تھی
احد حیاء کی باتوں کو بھول کر زویا کی ہنسی میں خود کو کھوئے ہوئے محسوس کر رہا تھا
ہو گیا ڈرامہ چلو نکلوں یہاں سے اب پڑھنے دو زویا کو اگزیمز آنے والے ہیں اس کے اور تم تو سدا کے ناٹک باز بندے لگے ہو مجھے پتہ نہیں افسر کس نے بنا دیا تم کو تم کو تو انڈین فلموں کی ہیرون ہونا چاہیے تھا
حیاء کے بولنے پر وہ اسے گھور کر دیکھ رہا تھا
اور تم ان فلموں کی ولین ہوتیں چڑیل کہی کی احد بھی بینا لحاظ کیے ہوئے بولا تھا اور اسے گھورتے ہوئے بولتا زویا کی طرف دیکھ رہا تھا جو مسکراہٹ لیے اپنا کام کر رہی تھی
تمیہں تو زویا پوچھا لوں گا ایک دفعہ ہاتھ لگ جاؤ میرے وہ دل میں زویا سے محاتب ہوا. تھا کیونکہ سامنے حیاء کے ہوتے ہوئے وہ اس سے کوئی بات نہیں کر سکتا تھا کیا بعید آئندہ حیاء کچھ نیا ہی کارنامہ نہ کر لے اسی لیے چپ چاپ دونوں کو گھورتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھا لیے تھے
تمہیں اللہ پوچھے گا حیاء غریب کی بددعا لگے گی وہ دل میں سوچتے ہوئے باہر جا رہا تھا
اللہ ہی سب کو پوچھتا ہے اور تم غریب تو کہی سے نہیں ہو افٹرال شاہ خاندان کے چشموں چراغ ہو غریب تو ہونے سے رہیے حیاء جاتے ہوئے احد سے بولی تھی اس کی بات خیرت سے حیاء کی طرف مڑا کر دیکھ رہا تھا
حیاء نے اس کی طرف پھر سے دل جلانے والی مسکراہٹ دی تھی جس سے وہ اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے چلا گیا تھا
پیچھے اسے دونوں بہنوں کے قہقہہ کی آواز آئی تھی
❤️❤️❤️❤️
انس تمہاری بیوی تو سچ میں چڑیل ہے چڑیل دل کی باتیں بھی جان لیتی ہے میں تو ڈر گیا ہوں تیرا بھی اللہ حافظ ہے احد انس کے پاس بیٹھا اپنے دل کا غبار نکل رہا تھا
دفع ہو جاؤ یہاں سے خبر دار جو میری بیوی کو کچھ بولا ہو اپنی تیرے ہاتھ آ نہیں رہی تو میری کے پیچھے پڑھا ہوا ہے انس سگریٹ لبوں سے لگائے اس کے کش لیتے ہوئے بول رہا تھا
تو کیا کرو تیرے والی ہی تو فساد کی جڑ ہے نہ خود تیرے پاس آتیں ہے نہ ہماریوں کو ہمارے پاس آنے دیتی ہے اور تو اور تیرا منحوس سگریٹ زہر لگتے ہیں مجھے وہ اس کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر اپنے ہونٹوں سے لگا گیا تھا
پاگل ہو گیا ہے کیا تو کب سے سگریٹ پینے لگا چھوڑ اسے انس اس کے منہ سے سگریٹ نکل کر بولا تھا
تب سے جب سے عاشق بن گیا ہوں احد اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا تھا
بکواس بند کر سیستے عاشق کہی کے انس احد کے ہاتھ جھٹکنے پر نیا سگریٹ نکالتے ہوئے بولا تھا
سیستا نہیں بہت مہنگا ہوں میری اماں سے پوچھا ہاں جا کر ہائے میرے دکھ کوئی نہیں سمجھتا تو اور حاضر لالہ تو اپنی اپنی بیویوں پر روب جما لیتے ہو میرا بھی دل کر رہا ہے اپنی والی پر روب جمانے کا پر اس کی چڑیل باڈی گارڈ جان ہی نہیں چھوڑ رہی احد سر جھٹکتے ہوئے انس سے بولا تھا
ٹھیک ہے کل میں حیاء کو الجھاؤ گا تو اپنی والی پر روب جمالی آ پر ایک شرط پر انس مسکرا کر احد سے بولا تھا
تیری ہر شرط منظور ہے مجھے یار تو گریٹ ہے لو یو یار وہ اس کے گال کو چومتے ہوئے بولا تھا
جا پیچھے ہو خبر دار جو اب پھر یہ خرکت کی ہو انس اپنے گال صاف کرتے ہوئے اسے پیچھے کر کے بولا تھا
کیا کروں تجھے کون چومنا چاہتا ہے خوشی میں ہو گیا ورنہ میں اور تو نہ بھئی نہ احد منہ بنا کر بولا تھا
مجھے لگتا ہے تو نہیں چاہتا کہ وہ تم سے ملے انس اسے آنکھیں دکھا کر بولا تھا
نہیں یار میرا مطلب تھا کہاں میں چھچوندر اور کہاں تو پرنس چرمنگ احد اسے مسکا لگا کر بولا تھا
ہان یہ ہوئی نہ بات لالے کی جان اب جا جا کر سو جا صبح تیرے لیے عید ہے انس مسکراتے ہوئے احد سے بولا جو شاید اپنے ہی خیالوں میں گم مسکرا رہا تھا
انس بھی اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا
❤️❤️❤️❤️
فریحہ باہر گارڈن میں چکر لگا رہی تھی پری بھی اس کے ساتھ تھی پری اندر کسی کام سے گئی تھی پر ابھی تک واپس نہیں آئی اسی لیے اب صرف فریحہ اکیلی رہ گئی تھی
وہ اپنی سوچوں میں گم ادھر سے اٌدھر واک کر رہی تھی حاضر شاہ جو پیچھے گیراج میں اپنی گاڑی کھڑی کر کے اندر جا رہا تھا فریحہ کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی آج اتنے دن بعد وہ اسے اکیلی مل رہی تھی
اسی لیے وہ موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا
وہ شکر ہے آج تم میرے ہاتھ تو لگ گئی ورنہ آج مجھے لگا تھا میری اور حیاء کی خوب لڑائی ہو گی تمہاری وجہ سے وہ اس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولتا اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنے گلے لگاتے ہوئے بولا تھا
فریحہ کو حاضر سے اس بات کی توقع نہیں تھی وہ تو اس وجہ سے آرام سے یہاں گھوم رہی تھی کہ پری کا کہنا تھا کے آج خاضر لالہ گھر نہیں ہیں اسی لیے وہ پرسکون تھی
نو بےبی دور نہیں جا سکتی تم مجھ سے اسی لیے یہ کوشش چھوڑ دو وہ اس کے چہرے کو اوپر کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو اس کی گال پر رکھ کر بولا تھا
فریحہ اسے خیریت سے دیکھتے ہوئے اس کی گرفت سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کر رہیں تھی
میں نے کہا نہ نہیں کر سکتی تم خود کو مجھ سے آزاد وہ اب غصے سے بولتے ہوئے اس کی سانسوں پر قابض ہوا تھا
فریحہ اس کے جنونی پن سے گھبرا کر اسے پیچھے کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی پر وہ اسے چھورنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا
فریحہ کی مزاحمت ڈیلی پڑھتی دیکھا کر وہ آرام سے اس سے پیچھے ہوا تھا پر ہاتھ ابھی بھی اس کے گرد بندھے ہوئے تھے
فریحہ نے روتے ہوئے اسے دیکھا تھا جو مسکرا رہا تھا
اتنے غصے سے مت دیکھو پہلی دفعہ اپنا حق وصول کیا ہے اور یہ تو صرف ٹریلر تھا وہ اس کے گال سے اپنے گال مس کرتے ہوئے اس کے کان کے قریب جا کر بولتا اس کے کان پر لب رکھتا اسے ڈرا رہا تھا
تم تو بالکل ڈرپوک سی چوزی ہو فریحہ میری اتنی سی
قربت سے ڈر گئی
وہ روتی ہوئی فریحہ کے آنسو کو صاف کر کے بول رہا تھا جو اس کے ہاتھوں کو جھٹکنا چاہتی تھی پر حاضر کی گرفت میں ہونے کی وجہ سے نہیں کر پا رہی تھی
چھوڑیں مجھے وہ بمشکل روتے ہوئے بول پائیں تھی
چھوڑنے کے لیے نہیں اپنایا تمہیں میں نے آج کی رات ہے کل سے تم مجھے میرے کمرے میں ملوں سمجھی
نہیں جاؤں گی کبھی بھی نہیں دور رہا کریں مجھ سے نفرت ہے مجھے آپ سے آپ سب کا یہی مشغلہ ہے پہلے پیار کا ناٹک اور پھر اپنا مطلب پورا کر کے چھوڑ دیتے ہیں فریحہ زہریلے لہجے میں دانت پیستے ہوئے بولی تھی
اگر مطلب ہی پورا کرنا ہوتا نہ فریحہ خاضر شاہ مجھے تم سے تو مجھے کوئی بھی مجبور نہیں کر سکتا تھا کہ میں تم سے شادی کروں مطلب شادیوں کے بغیر بھی لوگ پورا کر لیتے ہیں وہ غصے سے اس کے منہ کو دبوچے اس پر غریا تھا
فریحہ کو اس کی باتوں اور خرکتوں سے سانس لینا بھی مشکل لگا رہا تھا
آخری دفعہ بول رہا ہوں کل مجھے تم میرے کمرے میں چاہیے اگر تم نہ آئی تو پھر سزا کے لیے تیار رہنا اور یہ ہرگز مت سوچنا کے حیاء تم کو میرے کہر سے بچا پائے گی میں حاضر شاہ تمہیں اُٹھ کر بھی لے جاؤں گا اور کوئی مجھے روک نہیں پائے گا بیوی ہو تم میری
اگر میں آیا تم کو لینے تو پھر جاناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے تم خود بہت سمجھدار ہو وہ اسے خود کی طرف خیرانگی اور ڈر سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر ایک آنکھ کو دبا کر بولا تھا
فریحہ نے نفرت سے اپنا منہ موڑ لیا تھا
اس کے منہ موڑنے پر حاضر کے سامنے اس کے گال آ گیے تھے جس پر حاضر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے پیچھے ہوتا اسے خود کی گرفت سے آزادی دے گیا تھا
فریحہ اس کی گرفت سے آزادی ملنے پر سوکھ کا سانس لیتی اپنے آنسو کو صاف کرتے ہوئے اندر کی طرف بھاگ گئی تھی
یہ لڑکی مجھے پاگل کر کے چھوڑے گی پہلے اتنا جنونی تھا اس کی محبت نے اور بھی جنونی بنا دیا ہے کیا بنے گا حاضر شاہ تیرا وہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولتا اندر کی طرف بڑھا گیا تھا
کیسا ہے میرا بیٹا خنا شاہ نے حاضر کو دیکھ کر اس کے پاس آئیں تھیں
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں وہ ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا
میں بھی ٹھیک ہوں چلوں میرے ساتھ کھانا لگاؤں آ کر کھانا کھا لو
جی میں بس دس منٹ میں فریش ہو کر آیا تب تک آپ کھانا لگا دیں وہ اپنی ماں کو بولتے ہوئے اوپر چلا گیا تھا
واپس آیا تو کھانا لگا گیا تھا
ماما آئیند سے فریحہ میرے سارے کام کرئے گی وہ خنا شاہ کو کھانا ڈالتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
آپ اسے خود سمجھا دیجئے گا ورنہ میں نے سمجھایا تو سب کو برا لگے گا اور کل سے وہ میرے کمرے میں ملے مجھے
میرا ہر کام اس کی زمیداری ہو گا ناشتہ سے لے کر کھانے تک ہر کام حاضر کھانا کھاتے ہوئے خنا شاہ سے بولا تھا
پر بیٹا ابھی تو اسے وقت دو تھوڑا ٹھیک ہو جائے گی اور ویسے بھی ابھی اس کی پڑھائی بھی چل رہی ہے
تو کیا ہو گیا ماما کھانا ڈال کر دینے سے یا ناشتہ بنا کر دینے سے اس کی پڑھائی پر کوئی خراج نہیں آیئے گا اور کتنا وقت دوں اسے بہت وقت دے لیا جتانا وقت دے رہا ہوں اتنی ہی بدتمیز ہوتیں جا رہی ہے
ابھی تو وقت ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے ورنہ پھر بعد میں کچھ نہیں بچے گا حاضر بولتے ہوئے فریحہ کو سوچ رہا تھا آج کا خود کے ساتھ اس کا رویہ اور نفرت حاضر کو پریشان کر رہی تھی پر وہ پھر سے ایک غلط فیصلہ کر کے اسے خود سے دور کر رہا تھا
یہ جانے بغیر کے اتنی سختیاں وہ جھیل بھی پائے گی کہ نہیں
خنا شاہ اس کی بات پر چپ کر کے کچن میں چلیی گئیں تھیں وہ جانتی تھیں کہ اب کوئی فائدہ نہیں ہے حاضر سے بات کرنے کا
❤️❤️❤️❤️
زرتاشہ سلال کے پاس بیٹھی اس کے روم میں بکس کھولے پڑھ رہی تھی زرتاشہ کے مطابق وہ پڑھ رہی تھی
سلال اسے پڑھا تھوڑا اور دیکھ زیادہ رہا تھا
پلیز مجھے یہ سمجھا دیے اور مجھے مت دیکھیں کتابوں کو دیکھیں زرتاشہ جھنجھلا کر بولی تھی
کب سے تو پڑھ رہی ہو مجھے بھی تھوڑا وقت دے دو وہ اپنے کمرے میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور زرتاشہ اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی زمین پر قالین تھا
اگر آپ نے اس طرح مجھے پڑھانا ہے تو پہلے بتا دیں میں فیل نہیں ہونا چاہتی میں جا رہیں ہوں نہیں کرنی مجھے آپ سے کوئی بات وہ اَٹھ کر جانے لگی تھی
میں نے بولا تمہیں جانے کو جو جا رہی ہو بیٹھی رہو آرام سے وہ اس کی کلائی پکڑ کر اسے پھر سے بیٹھاتے ہوئے بولا تھا
جب تک میں نہ کہوں تم کہی نہیں جا سکتی سنا تم نے وہ جنون سے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا
وہ سلال پر جھکی ہوئی تھی
رونا مت سنا تم نے ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا وہ اس کے چہرے پر آئے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا جو سلال کے کھنچے جانے سے آگے آ گیے تھے
تم اتنی معصوم اور پیاری ہو کے میرا دل نہیں کرتا تم مجھ سے دور جاؤ میرا دل نہیں کرتا تمہیں خود سے دور کرنے کا وہ اسے خود پر گرا کر اپنے گلے لگا کر بولا تھا
سلال ۔۔۔۔۔۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔۔۔پلیز مجھے سانس نہیں آ رہی وہ سلال کے جنونی انداز سے اسے خود سے پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی
نہیں چھوڑنے والا اور دور جانے کی کوشش بھی مت کرنا تم نہیں جانتی میں جس سے بھی پیار کرتا ہوں وہ مجھ سے دور ہو جاتا ہے ماما بھی چھوڑ کر چلی گئی تھی پر تمہیں کہی نہیں جانے دوں گا ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا بالکل اپنے قریب وہ اس جنونی انداز میں چومتے ہوئے بولا تھا
زرتاشہ گھبرا گئی تھی
میں آپ کو چھوڑ کر کہی نہیں جا رہی سلال میں تو صرف کمرے میں جانے کا بول رہی تھی
میں آپ کو کیوں چھوڑوں گی وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولی تھی
تو ٹھیک ہے تم آئندہ میرے ساتھ میرے پاس ہی رہو گی یہی وہ سیدھے ہوتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگائے ہوئے ہی بول رہا تھا
پر سلال وہ ماما مجھے جانے دیے اپنے روم میں پلیز میں یہی ہوں اسی گھر میں میں وہ سلال پلیز وہ اسے گھبراہٹ لیے بول رہی تھی
چپ کر کے لیٹ جاؤ یہی کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا نورین آنٹی بھی کچھ نہیں بولیے گی چلو آؤ ادھر وہ اسے کھنچ کر بیڈ کی طرف لے گئے تھا چلو جا کر سو جاو میں آنے لگا ہوں اگر تم یہاں سے گئی تو پھر دیکھنا وہ اس کے گال تھپتھپا کر باہر نکل گیا تھا
زرتاشہ اٹھی تھی اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی تھی پر سامنے سے آتے ہوئے سلال کو دیکھ کر الٹے قدم پیچھے لینے لگی تھی جو غصے سے ہاتھ میں پکڑے کپ کو پاس پڑھے ٹیبل پر رکھ کر اس کی طرف بڑھا تھا
ائبرو اَٹھ کر دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا جو اسے پریشان ہوئی اسے دیکھ رہی تھی
بہت شوق ہے مجھ سے دور جانے کا وہ دیوار سے لگی زرتاشہ کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کر کھڑا اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کر کے بولا تھا
میں دور چلا گیا تو بہت رو گی تم زر میں واپس نہیں آؤں گا وہ اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ کر بولتے ہوئے اسے کانپنے پر مجبور کر گیا تھا
ڈر لگ رہا ہے مجھ سے وہ اپنا چہرہ اوپر اَٹھ کر بولا تھا جو آنکھوں کو بند کیے کانپ رہی تھی
ڈرو مت یار بس چپ کر کے میری بات مان لیا کرو ورنہ اس سے بھی زیادہ ڈرائوں گا میں تم کو وہ اس کے گال پر ہونٹ رکھتے ہوئے بولا تھا
میں آپ کی ساری باتیں مان جاؤں گی پلیز ایسا مت کریں
اوکے ٹھیک ہے چلو پھر لیٹوں جا کر وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولا تھا اور اسے اپنے ساتھ لے کر بیڈ پر لیٹا دیا تھا
خود سگریٹ اَٹھا کر صوفے پر بیٹھ گیا تھا زرتاشہ کو سامنے دیکھ رہا تھا جو سلال کو دیکھ کر گھبرائی ہوئی آنکھوں کو بند کر گئی تھی
سلال کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی وہ مسکراتے ہوئے سگریٹ کو ہونٹوں سے لگا گیا تھا
پاگل لڑکی وہ سوچتے ہوئے مسکرا دیا تھا
❤️❤️❤️❤️
انس حاضر اور احد کھڑے تھے حیاء زویا اور فریحہ ہاتھ میں ڈنڈا لے کر آئیں تھیں
پھر انہوں تینوں نے مل کر تینوں لڑکوں کی خوب جم کر کوٹ لگائی اتنا مارا کے تینوں کے سر سے خون نکل آیا
انس بچارے سے تواَٹھا بھی نہیں جا رہا تھا
پھر حیاء کو خیال آیا کہ یہ تو ان کے مجازی خدا ہیں پھر حیاء نے انس کو گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں پھینکا تھا
احد اور حاضر انس کا حال دیکھ کر خود ہی گاڑی میں دوڑ کے بیٹھ گئے تھے کے کہی ان کی بیویوں بھی ان کو گھسیٹتے ہوئے نہ لے جائیں
پھر وہ تینوں ان تینوں کو ہسپتال لے کر گئیں اور ان کو پٹی کروائی
جانے من مزا آیا حیاء انس کا کالر پکڑ کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولی تھی
انس تو شرم سے پانی پانی ہو گیا تھا کیونکہ وہاں نرسیں بھی موجود تھیں
حاضر اور احد اپنی بیویوں کے پیچھے بھاگ گئے تھے کیونکہ کے وہ بھی اپنا انجام اس طرح نہیں چاہتے تھے
انس کو حیاء نے باہوں میں اُٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور گھر لے گئی
انس آج تمہیں میں چلتی گاڑی سے گرا کر ٹیسٹ کرنا چاہتی ہوں کہ انسان اگر چلتی گاڑی سے گر جائے تو کتنی لگتی ہے حیاء نے اتنا بولا کر انس کو کوئی بھی موقع دیے بینا چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دیا تھا
آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ آ ا
لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔استغفراللہ استغفراللہ یہ کیسا خواب تھا
انس ایک دم نیند سے اُٹھا تھا اور دل پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا
یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے پہلے گھر میں آ کر جینا حرام کیا ہوا ہے اب تو خوابوں میں بھی آ گئی ہے
وہ اپنے ماتھے پر آئیے پیسنے کو صاف کرتے ہوئے سائیڈ پر پڑھے جگ میں سے پانی ڈال کر پینے لگا تھا
کچھ کرنا پڑھے گا حیاء تمہارا ورنہ یہ وقع کہی سچ میں ہی نہ ہو جائے انس خود ہی اپنے خواب پر مسکرا دیا تھا
سر جھٹکتے ہوئے پھر سے سونے لگا تھا
❤️❤️❤️❤️
ہیلو تم نے کیوں بھجیا ہے میرے لیے رشتہ جب تمہیں پتہ ہے میں کسی اور سے پیار کرتیں ہوں خبہ دوسری طرف کے فون اُٹھانے پر بولی تھی
مجھے بھی تم جیسی لڑکیوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے نہ تم جیس بددماغ کو اپنی بیوی بنانے کا شوق ہے جس میں سلیکے نام کی کوئی چیز نہیں ہے
نہیں ہے تم کو شوق یا انٹرسٹ تو پھر کیوں کر رہے ہو منگنی مجھ سے انکار کر دو خبہ کو اس کی بات سن کر غصہ آیا تھا پر پھر بھی وہ خود کو قابو کرتے ہوئے بولی تھی
ہاہاہاہاہا تم میرے سر پر بندوق رکھ کر گولی چلانا چاہ رہی ہو وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
میری جان پہلی چیز تم میرے پاپا کی پسند ہو اور دوسری انکار اب تم بھی کرو گی تو زبردستی اُٹھ کر بھی لے جاؤں گا کیونکہ تم واجب رانا کی ضد بن گئی ہو اب اور محبت نام کا بھوت تو میں اتارو گا تمہارے سر سے اس طرح کے تمہیں محبت نام سے ڈر لگے گا وہ غصے سے بولتے ہوئے خبہ کو ڈرا گیا تھا
بکواس بند کرو اپنی اور جا کر اپنی جیسی ڈھونڈوں کوئی وہ اندر سے ڈر رہی تھی پر پھر بھی ہمت کر کے بولی تھی
زبان سنبھال کر بات کرو اور تمیز کے ساتھ کیونکہ بعد میں تمہیں تمہارے کہے ہر لفظ کی سزا دوں گا میں اسی لیے اتنا ہی بولنا جتنا سزا کے طور پر برداشت کر سکو گی وہ طنز کرتے ہوئے بولا تھا
جبہ نے بمشکل خود کو سنبھالا تھا اور ڈرتے ڈرتے فون بند کر دیا تھا
اب پتہ نہیں کیا کرئے گا انکار بھی نہیں کر رہا وہ اپنا سر ہاتھوں میں گر کر روتے ہوئے بولی تھی
ایک دفعہ آ تو جاو تمہارے سارے پرزے سیدھے کر دوں گا بہت اکڑ ہے نہ تم میں مس خبہ شاہ ساری نکل کر پھینک دوں گا
تم صرف اور صرف واجب رانا کی ہی محبت ہو صرف اور صرف میری کسی دوسرے کا نام بھی زبان سے نکالوں گی تو تمہارے ساتھ اسے بھی زندہ زمین میں گاڑ دوں گا واجب ایک جنون سے بولا تھا
نہ چاہتے ہوئے بھی خبہ کو پسند کرنے لگا تھا اور یہ رشتہ بھی اس کی خود کی پسند کی وجہ سے ہوا تھا
بہت جلدی آ رہا ہے واجب رانا اپنی پسند کو لینے کے لیے پھر تمہیں میرا ہی بن کر رہنا ہو گا جبہ رانا بن کر وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا