Rate this Novel
Episode 31
زرتاشہ صوفے پر بیٹھی موبائل فون پر گیم کھیل رہی تھی سلال اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا
زرتاشہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس کے گرد حصار بنایا تھا
زر تمہارے پیپرز ہو گیے ہیں تو کیوں نہ ماما بابا کو بول کر رخصتی کروا لے وہ اس کے کان کے قریب اپنا چہرہ کرتے ہوئے بولا تھا
کیا کیا مطلب ہے اتنی جلدی ابھی تو مجھے اور زویا کو بہت زیادہ پڑھنا ہے نو نیور بالکل بھی نہیں
تو سٹیڈی تو رخصتی کے بعد بھی کی جاسکتی ہے سلال اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
نہیں بعد میں نہیں کی جاسکتی بعد میں تو بچے ہو جاتے ہیں زرتاشہ اسے سمجھانے کے انداز میں بولی تھی
پاگل ہو گئی ہو یہ کس نے کہا تمہیں وہ اس کا رح اپنی طرف کر کے بولا تھا
میری فرئنڈ نے بتایا تھا کہ اس کی بہن کی شادی کے بعد اس کے ہاں بےبی ہوا ہے اسی لئے وہ منہ بنا کر بچوں کی طرح بولی تھی
سلال کو اس کی بات پر ہنسی آئی پر اس نے ظاہر نہیں کی
تم خود ابھی بچی میں ایک اور بچہ لا کر تمہیں پالوں گا کہ اسے سلال قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا
زیادہ مت ہنسے بابا بول رہیے تھے ماما کو جب وہ لوگ آ جائیں گے تو آپ اپنی سٹیڈی کے لیے دو سال کے لئے باہر چلیں جائیں گے
اس کی بات پر سلال کے رنگ اَڑ گیے تھے وہ اس سب چکر میں اپنی سٹیڈی سچ میں بھول چکا تھا
زرتاشہ میں تمہیں چھوڑ کر کیسے رہوں گا تم ہی بابا سے بات کرنا پلیز سلال اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
نو کبھی نہیں آپ جائیں گے تو میں بھی پڑھ لوں گی اور پھر ماما بول رہیں پھر وہ رخصتی کریں گی زویا کی تو مجبوری کی وجہ سے کی تھی پر میری آپ کی سٹیڈی پوری ہونے پر وہ اسے زبان چڑھا کر بولی تھی
وہ اس کی گردن پر دونوں ہاتھوں سے حصار بنا کر بول رہی تھی
سلال صوفے پر لیٹ کر اسے اپنے اوپر کرتے ہوئے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا
زرتاشہ کے ہاتھ جو اس کی گردن کے گرد تھے ان کو وہ اس کے سینے پر رکھ کر اس کے اوپر سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی تھی
جو سلال کی گرفت کی وجہ سے کر نہیں پا رہی تھی
سلال میں آپ سے نہیں بولوں گی آپ بہت گندے ہیں اور ماما کو آ لینے دیے سب بتاوں گی آپ کا وہ سلال کے چھوڑنے پر اس کے سینے پر سر رکھ کر گہرے سانس لیتے ہوئے بول رہی تھی
ایسا سوچنا بھی مت کے تم مجھ سے نہیں بولو گی جان بھی لے لوں گا اگر مجھے سلال کو اگنور کیا تو وہ اس کے بالوں میں اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تھا
ماما کو کیا بتاؤں گی کہ میں نے کس کی تمہیں وہ ہنستے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کر کے بولا تھا جو اس کی خرکت سے سرخ ہو گیا تھا
سلال چھوڑیں مجھے وہ اس کے سینے پر مکا مار کر بولتی اس کے حصار سے نکل کر پھر سے موبائل فون پر گیم کھیلنے لگا گئی تھی جو سلال کی وجہ سے نیچے گر گیا تھا
سلال بھی اس کو دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا ریموٹ پکڑ کر ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا تھا
سلال نہ کریں پلیز مجھے گدگدی ہوتی ہے سلال کے ہاتھ کو اپنی کمر سے پیچھے کرتے ہوئے ہنس کر بولی تھی
سلال بھی مسکراتے ہوئے اسے گدگدی کرنے لگا تھا تھوڑی دیر میں ہی دونوں کے قہقہہ پورے عادل ویلا میں گونجنے لگے تھے
سامنے سے آتے ہوئے نورین اور عادل صاحب نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا تھا
عادل صاحب خوش تھے اپنے بیٹے کو اتنا خوش دیکھ کر
ماما زرتاشہ کی نظر جب سامنے گئی تو وہ چلائی تھی سلال بھی جلدی سے سیدھا ہوا تھا زرتاشہ دوڑتے ہوئے اپنی ماں سے جا کر لگ گئی تھی
سلال بھی مسکراتے ہوئے ان کے پاس گیا تھا عادل اور نورین سے ملا تھا
آپ لوگوں تو کل آنے والے تھے آپ نے بتایا بھی نہیں ہم آپ کو لینے آ جاتے سلال مسکرا کر ان سے بات کرتے ہوئے بولا تھا جو اب صوفے پر بیٹھے تھے
زرتاشہ نورین کے ساتھ لگی ہوئی تھی
تم لینے آتے تو ہم یہ خسین منظر کس طرح دیکھتے وہ ہنستے ہوئے بولے تھے
سلال ہجل سا اپنے بالوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر مسکرایا تھا
حیاء چلی گئی ہے نورین زرتاشہ کو اپنے ساتھ لگائے بولی تھی
نہیں وہ تو اپنے روم میں ہے صبح زوحا کے ساتھ گئی تھی پھر آ کر اپنے روم میں چلی گئی سلال نورین کو حیاء کا بتا رہا تھا
آپ بھی ٹھیک ہو نہ بیٹا حیاء اور زرتاشہ نے تنگ تو نہیں کیا زیادہ وہ مسکراتے ہوئے سلال سے بولی تھی
جی آپ کی اس بیٹی نے مجھے بہت تنگ کیا ہے سلال مزاق کرتے ہوئے بولا تھا
ماما میں آپو کو بولا کر لاتیں ہوں زرتاشہ جلدی سے اُٹھ کر اوپر کی طرف جاتے ہوئے بولی تھی کہی نورین ڈانٹ ہی نہ دے
وہ تینوں اس کے جانے پر مسکرا دیے تھے
زویا بھی آئی ہوئی تھی پرسوں فریحہ اور پری کے ساتھ چلی گئی تھی اور حیاء آپ کی وجہ سے نہیں گئی سلال اسے پرسوں کی رود سنا کر بولا تھا
حیاء زرتاشہ کے ساتھ اوپر سے آتے ہوئے دکھائی دی تھی
مسکراتے ہوئے نورین کو دیکھا رہی تھی زرد رنگ اور کمزور سی لگی تھی نورین کو وہ
ماما آپ آ گئیں وہ ان کے گلے لگ گئی تھی
جی میرا بچہ آپ ٹھیک تو ہو طبیعت ٹھیک ہے وہ اسے پریشانی سے دیکھتے ہوئے بولی تھی
جی ماما ٹھیک ہوں پرسوں پیزا کھا لیا تھا اسی لئے فوڈ پوازنگ ہو گئی تھی وہ منہ بسور کر جھوٹ بولی تھی
سہی انس سے بات ہوئی وہ اس کے چہرے پر سے بال پیچھے کرتے ہوئے بولی تھی جو اب عادل سے مسکرا کر بات کررہی تھی
جی ہوئی تھی کل ویسے بھی میں ہو کر آئی تھی انس ہی چھوڑ کر گیا ہے مجھے یہاں پر آپ پریشان مت ہوں وہ ان کو مسکراتے ہوئے آدھا سچ آدھا جھوٹ بولی تھی
بے شک سلال سے پوچھ لیں وہ سلال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی جو خود حیاء کی پیلی پڑھی رنگت اور انس کے روئیہ سے پریشان سا تھا اس نے سوچا لیا تھا اب عادل سے بات کرئے گا
نورین اس دیکھ کر چپ کر گئیں تھی پر ان کو حیاء کو دیکھ کر کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
حیاء بیٹا شانزے آنٹی آئیں تھی آج بھی اور وہ منگنی کی بجائے نکاح کرنا چاہتی ہیں وہ حیاء سے بولی تھی جو کھانا کھا رہی تھی
نورین کی بات پر حیاء کا ہاتھ جو منہ کی طرف بڑھ رہا تھا ہوا میں ہی رک گیا اور وہ خیران منہ کھولے ان کو دیکھنے لگی جنہوں نے پہلے اس پر منگنی اور اب نکاح کا دھمکا کیا تھا
فریحہ نے بھی ماما اور بہن کو دیکھا تھا جو خود اپنی جگہ پر الجھن کی شکار تھیں
ماما یہ سب کرنا ضروری ہے شادی منگنی یہ سب حیاء رونی شکل بنا کر ان سے بولی تھی
بیٹا میں چاہتی ہوں کہ روحان آپ کی لائف میں آ کر آپ کی حفاظت کرئے گا آپ کا محرم آپ کا محافظ ہو گا وہ عاقب جیسا نہیں ہے پلیز حیاء یہ سب میں آپ کے فیوچر کے لیے کر رہیں ہوں
مجھے معلوم ہے آپ کی ابھی اتنی عمر نہیں ہے پر میں آپ چاروں کو جلدی ہی محفوظ ہاتھوں میں سوپنا چاہتی ہوں تاکہ کوئی بھی آپ پر کوئی بھی آنچ نہ آنے دے وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی تھی
فریحہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا جو حیاء کو دیکھ کر بے بس ہو رہیں تھیں
اوکے ماں جیسی آپ کی مرضی حیاء لب کچلتے ہوئے بولی تھی اس کے کھاتے ہوئے ہاتھ روک چکے تھے بھوک مر گئی تھی وہ اپنی ماں کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر وہاں سے اندر چلی گئی تھی
نورین نے مسکرا کر سکھ کا سانس لیا تھا پر وہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ ان کی سب سے بڑی غلطی ہونے والی
❤️❤️❤️❤️❤️
ماضی
روحان آج ہمیں ٹریٹ دینے والا ہے کیونکہ کے کچھ دن بعد روحان کا اگرمنٹ شروع ہو جائے گا حیاء کے ساتھ کیوں روحان جینا روحان کی گرلفرنڈ اس کی گود میں بیٹھی سب سے محاتب تھی
روحان کلب میں بیٹھا ہوا تھا سب کے ہاتھ میں سربیسے تھے اور ان سب کا یہ روٹین کا کام تھا
ڈارلنگ تمہیں تو پتہ ہے نہ یہ سب میں موم کے کہنے پر کر رہا ہوں انہوں نے ہی تو بولا ہے کہ یہ اگرمنٹ کر کے میں پھر مزے سے ہر جگہ انجوائے کر سکتا ہوں کہی بھی جا سکتا ہوں وہ اس کی گردن میں منہ چھپائے بولا تھا
ہاہاہاہاہا روحان مجھے معلوم ہے تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے وہ سوکلڈ لڑکی تمہاری محبت ہو بھی نہیں سکتی اس کی بات پر سب دوستوں نے قہقہہ لگایا تھا
بچاری حیاء سامنے بیٹھا ڈاینی بولا تھا وہ سب آپس میں انگلش میں باتیں کر رہیے تھے
ویسے وہ چیز بڑی کمال کی ہے ڈاینی سربیسے کا سپ لیتے ہوئے آنکھوں میں خبست سے بولا تھا
تم کیا جانو ماما کو بہت مشکل سے قابو کیا ہے ورنہ وہ تو میری ایکٹیوٹی سے مجھ سے سب چیزیں واپس لے رہیں تھی صرف حیاء کی وجہ سے مجھے سب واپس مل گیا ہے اسی لئے میں نے بول دیا ہے سیدھا نکاح ہو گا ایک ہی دفعہ کام ختم
پھر حیاء بھی اپنی اور پیسے بھی لائف میں مزے ہی مزے روحان بولتے ہوئے ہنسا تھا
جینا نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی گال پر اپنے لب رکھ دیے تھے
وہ جینا کے چہرے کو اپنی طرف کھنچتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھک گئے تھا اور دونوں ایک دوسرے مگن ہوگے تھے
رات کا اندھیرا جیسے بڑھاتا جا رہا تھا کلب میں ہر فرد اپنی دنیا میں گم ہو رہا تھا ہر ایک نشے میں دھت اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے
روحان بھی لندن میں رہنے والا ایک بگڑ ہوا لڑکا تھا جو لڑکیوں کو گرلفرنڈ کے روپ میں روزانہ ٹشو کی طرح بدلتا
❤️❤️❤️❤️
ماضی
سب کے سامنے تو بولتا ہوں حیاء مجھے تم سے محبت نہیں پر کیا کروں یہ دل تمہارے نام سے ڈھرکنے لگا ہے بس تمہارا نام ہی پکارتا ہے
وہ نشے میں تھا اپنے موبائل فون پر حیاء کی تصویر نکال کر اس سے باتیں کر رہا تھا اس وقت اپنے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا
روحان رئیس کو محبت ہے تو صرف حیاء نور سے جب تم بولتی ہو میں حیاء بنت نور ہوں حیاء بنت نور اپنے چشمہ کو ناک پر چڑھا کر تو کوئی کیوٹ سی بچی لگتی ہو جو غصے میں روٹھی ہو
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی تصویر کو چوم کر بولا تھا
بہت جلد ہی میرے نکاح میں ہو گی تم ماما بول رہیں تھی چھوٹی ہے شادی نہیں کر سکتے اسی لئے میں نے سوچا نکاح والا اگرمنٹ کر لیتے ہیں تاکہ تم مجھے خود کو چھونے سے روک نہیں پاؤ گی جانے من وہ مسکراتے ہوئے اس کی تصویر کو بار بار چوم رہا تھا
ایسے ہی باتیں کرتے ہوئے نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا
روحان کو حیاء سے پیار تو تھا پر کیسا پیار تھا یہ جو کسی اور کو باہوں میں لے کر اپنے ہی پیار کی توحین کر رہا تھا اور دوسروں کی خبست تک کو سمجھ نہیں پایا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
حال
علشیہ شاہ کو انس کے آنے کا پتہ چلا تو وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر اوپر اس کے پاس اس کے کمرے میں گئی تھی
انس جو فریش ہو کر عام سے حولیے میں کھڑا الماری سے اپنے لیے کپڑے نکال رہا تھا علشیہ کو اندر آتے ہوئے دیکھ کر مسکرا کر ان کی طرف بڑھا تھا
کیسی ہیں آپ ماما وہ ان کو پیار کرتے ہوئے بولا
میں تو ٹھیک ہوں مجھے یہ بتاؤ حیاء کہاں ہے اور وہ تمہارے ساتھ کیوں نہیں آئی علیشہ شاہ پریشان سا ادھر اُدھر دیکھ کر بولی تھی
کیا مطلب ماما میں نے ڈرائیور کو بجھا تھا حیاء کے گھر صبح کے اسے وہاں سے لے کر خویلی چھوڑ جائے انس علیشہ سے خیران سا بولا تھا
حیاء نہیں آئی انس اور حیاء ڈرائیور کی نہیں تمہاری زمیداری ہے تم اسے ساتھ لے کر گیے تھے تو ساتھ لے کر بھی آنا تھا وہ اس پر غصہ کرتے ہوئے بولی تھی
پر اب کیا کر سکتا ہوں ماما اب تو صبح ہی لے کر آؤں گا آپ سب سے کوئی بھی بہانہ بنا دیں انس بھی ان کی بات سے پریشان ہو گیا تھا اور پریشانی میں طالب کو فون کرنے لگا
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی انس مہینہ ہو گیا ہے کیا تم نے اسے فون بھی کر کے پوچھا ہے یا اتنے دن سے اس کی کوئی بھی خبر لیے بینا ہی اپنی دنیا میں گم ہو علیشہ بیٹے کو دیکھ کر افسوس سے سر ہلا کر باہر نکل گئیں تھی
ماما بات تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علیشہ شاہ کو بولا تھا جو اسے افسوس اور غصے سے دیکھتے ہوئے باہر چلی گئی تھی
ہیلو ڈرائیور کو بجھا تھا میں نے اس سے پوچھا کیوں نہیں آئی حیاء خویلی انس فون اُٹھانے پر دوسری طرف طالب سے محاتب تھا
سوری شاہ جی میں نے آپ کو فون کیا تھا آپ نے نہیں اُٹھایا پھر میں نے آپ کو میسج کر دیا تھا حیاء بی بی کے بارے میں طالب اپنی بات مکمل کر کے چپ کر گیا تھا انس نے غصے سے فون کو بن کر دیا تھا
ڈیم فون بھی بند ہے تمہارا حیاء کیوں نہیں آئی تم ہو گئی غلطی نہیں ملا ٹائم پر تم نے بھی ایک دفعہ پوچھنا گورا نہیں کیا اب صبح جانا پڑھے گا وہ لب بیچے غصے سے بول رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
پری بہت پیاری لگ رہی ہو تم فریحہ پری کے پاس کھڑی بولی تھی جو نارنجی رنگ کا لہنگا کرتی پہنے لائٹ سے میکاپ کے ساتھ ڈوپٹے کو بالوں پر سیٹ کیے پھولوں کا زیور پہنے سچ میں ہی پری لگ رہی تھی
سب دلہنوں نے اپنے سرال سے آئے کپڑے پہنے ہوئے تھے تینوں ہی اپنی جگہ ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہیں تھی
فریحہ نے بھی ریڈ اور اورنج رنگ کا پیارا سا لہنگا کرتی پہنی ہوئی تھی زویا کا اور باقی سب کا ایک جیسا سیم تھا پر رنگ کا فرق تھا سب میں
فریحہ بالوں کو کھلا چھوڑ میکاپ کیے حور ہی لگ رہی تھی
آپو حاضر لالہ آپ کو آپ کے کمرے میں بلا رہیں ہیں زویا باہر سے آتے ہوئے بولی تھی
پری نے مسکرا کر فریحہ کو دیکھا تھا اور جانے کا اشارہ کیا تھا
جو اس کی بات سے اپنا تھوک نگلتے ہوئے اب باہر کی طرف گئی تھی کیونکہ اب حاضر کے انداز ہی بدلے ہوئے تھے
فریحہ اس سے بچنے کی کوشش میں اپنے کمرے میں نہیں جا رہی تھی پر اسے یہ نہیں معلوم تھا کے وہ سب کے سامنے ہی پیغام بھیج دیے گا اسی لئے اسے اب جانا پڑھ رہا تھا ویسے بھی اب وہ ناراض نہیں کر سکتی تھی
کمرے میں آئی تو کمرے میں کوئی نہیں تھا تھوڑی آگے بڑھی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ کر دروازے سے پن کیا
فریحہ خیران ہوئی حاضر کو دیکھنے لگی جو اسے دروازے کے ساتھ لگا کر بہت غور سے دیکھا رہا تھا
پہلے خود مجھے اپنا اسیرِ کر کے اب مجھ سے چھپ رہی ہو وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کے چہرے سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
نہ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔وہ ۔۔۔پری کے پاس تھی ۔۔۔۔. اس نے مجھے بولا تھا کہ میں اس کے پاس ہی رہوں فریحہ بمشکل خود کو سنبھال کر اٹکتے ہوئے بولی تھی
اچھا بہانہ ہے مجھ سے دور بھاگنے کا پر اب کسی بھول میں مت رہین کیوں کہ اب میں تمہارا کوئی بھی انکار ایکسپٹ نہیں کروں گا کیونکہ تم نے خود مجھے اپنی مرضی سے اجازت دی ہے وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی میں بولتے ہوئے اس کے کان کی لو کو کاٹتے ہوئے اسے کانپنے پر مجبور کر گیا تھا
فریحہ نے ڈرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا جو آنکھوں میں بے شمار پیار لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا
اب میں جاؤں پری انتظار کر رہی ہے میرا وہ ڈرتے ہوئے اس سے بولی تھی
میں شاور لے لوں تب تک میری شال ڈھونڈ کر باہر رکھ دو وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولتے ہوئے اپنے کپڑے لے کر واشروم میں چلا گیا تھا
فریحہ اپنی روکی ہوئی سانس کو بحال کرتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گئی تھی
کہاں رکھی ہیں ان کی چیزیں وہ اوپر نیچے بڑبڑاتے ہوئے دیکھ رہی تھی
یہ رہی یہ مل گئی وہ اسے باہر نکلنے لگی تھی اور نکل کر بیڈ پر رکھی تھی
چلوں میں چلتی ہوں اب اس سے پہلے کے وہ باہر آ کر پھر تنگ کریں مجھے فریحہ اس کی سب چیزیں بھی رکھ کر باہر کی طرف نکلنے لگی تھی
حاضر کیا کر رہیں ہیں آپ اتنی جلدی آ بھی گیے وہ دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھ کر باہر نکلنے لگی تھی کہ حاضر نے اس کی کلائی پکڑ لی تھی فریحہ نے ڈرتے ہوئے آنکھوں کو بند کر لیا تھا آنکھوں بند کیے ہی بولی تھی
تمہیں کیا لگا تم مجھ سے بھاگ جاؤ گی وہ اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ کر بولا تھا
حاضر پ۔۔۔پلیز جانے دیں سب ویٹ کر رہیں ہوں گے باہر آپ کا بھی آپ لیٹ ہو رہیے ہیں وہ آنکھوں کو زور سے بندکیے بولی تھی وہ اس کے لمس سے کانپ رہی تھی
حاضر آپ کچھ زیادہ ہی شوہے نہیں ہو رہیے گردن پر جلن محسوس کرتے ہوئے غصے سے بولی تھی
ہاہاہاہاہا نہیں جاناں ابھی تو ٹائم نہیں شوہیے ہونے کا وہ تو میں رات کو ہوں گا وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولتا فریحہ کی سانس بند کر گیا تھا
اس نے حاضر کو کی گردن میں ہاتھ ڈال کر خود کو گرنے سے بچائے تھا
آپ بہت برے ہیں حاضر وہ اس کے چھوڑنے پر اس کے سینے پر مکا مار کر بولی تھی
نہیں ابھی تو برا بنوں گا میرا دل نہیں باہر جانے کو پر کیا کروں دادا جان نکل لیں گے تمہارے ہبی کی اسی لیے آبھی چھوڑ رہا ہوں تمہیں وہ اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کے گرد بنائے حصار سے اس کو آزاد کرتے ہوئے بولا تھا
فریحہ اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے باہر نکل گئی تھی حاضر اسے جاتے دیکھ کر مسکرا دیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
السلام علیکم میری پیاری بہین اور ایک عدد چڑیل کسی ہے احد اندر آتے ہوئے سلام کرتے ہوئے پری کو ہلکے سے سر پر تھپڑ مارا کر بولا تھا
کمرے میں بیٹھی سب لڑکیاں مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا وہ باری باری سب کے سر پر پیار دیا تھا
زویا نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا پر احد نے ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی تھی
بہت مس کروں گا میں آپ دونوں کو احد خبہ اور آنیہ کے درمیان بیٹھ کر ان کو پیار کرتے ہوئے بولا تھا
وہ بھی احد کی بات پر مسکرا دی تھی
ہیلو سوئٹ سسٹر آپ بھی آ جائیں مل گئی آپ کو اپنے عاشق میاں سے چھٹی وہ سامنے سے آتی زینی سے بولا تھا جو مسکرا کر اس کے گلے لگ گئی تھی
بدتمیز ہو تم بہت زیادہ احد اپنی سناؤں اپنی چھوٹی سی بیوی کی وجہ سے آئیے ہو ورنہ تو کہاں ہمیں یاد بھی کرتے ہو تم وہ اس سے پیچھے ہو کر صوفے پر جگہ بناتے ہوئے بولی تھی
زویا آس سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی جو اسے پوری طرح اگنور کر کے اپنی کزنز سے باتیں کرنے میں مصروف تھا
دیکھیں بعد میں آنے کے باوجود میں سب سے پہلے تیار ہوں اور ایک اس گھر کے مرد ہیں جو عورتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں احد سب پر طنز کرتے ہوئے بولا تھا
ہاہاہاہاہا سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا
زویا جاناں ادھر آؤ میرے پاس زینی کب سے زویا کو دیکھ رہی تھی جو احد کی اگنورنس کی وجہ سے رونے والی ہو گئی تھی
آدھر میرے پاس بیٹھ جاؤ وہ اپنے پاس جگہ بنا کر بولی تھی اور اس اپنے ساتھ لگا لیا تھا
رونا نہیں میرا بچہ احد ناراض ہے نہ آپ سے بس آپ اسے منا لینا تو وہ ٹھیک ہو جائے گا زینی اس کے کان کے پاس آہستہ سے بولی تھی جس پر زویا نے سر اُٹھا کر مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا
اچھا چلیں میں اپنا کیمرہ لے کر آتا ہوں پھر سب کی پیچرز بناؤں گا احد بولتے ہوئے اپنے روم میں گیا تھا
میرے ساتھ چلو زویا زینی اس ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر باہر لے گئی تھی
جاؤ اب اپنے کمرے میں احد گیا ہے اسے منا لو اوکے وہ اس کے گال تھپتھپا کر بولی تھی جو اسے کنفیوز سی لگی تھی
جی جاتی ہوں وہ ان کو جواب دے کر چلی گئی تھی
احد الماری میں سے کیمرا ڈھونڈ رہا تھا زویا آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پیچھے کھڑے ہو گئی تھی اور اسے پیچھے سے ہگ کر لیا تھا
احد ایم سوری وہ اس کی کمر پر اپنا سر لگا کر اس کے گرد اپنے ہاتھوں کو باندھ کر بولی تھی
دور رہو مجھ سے مس زویا وہ اس کے حصار کو اپنے گرد سے پیچھے کر کے بولا تھا
اب کیا مسئلہ ہے کیوں آئی ہو اب رہنا تھا وہی مجھ سے پوچھ کر گئی تھی میرا ہاتھ جھٹکتے ہوئے گئی تھی نہ میری آس توڑ کر تم وہاں سے چلی گئی تھی
میرے دل میں اب تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اسی لئے دور رہو مجھ سے جب تک میں یہاں ہوں تم مجھے نظر نہ آنا میرے قریب سنا تم نے وہ اسے انگلی سے ورن کرتے ہوئے بولا تھا جو منہ کھولے آنسو کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی
یہ وہی احد تھا جو اسے دوسرے کمرے سے بھی اُٹھا کر اسے اپنی آغوش میں چھپا لیتا تھا
یہ رونے کا ناٹک میرے سامنے مت کرو اب یہ آنسو میرے مرنے پر نکالنا کیوں کہ اب ان آنسو کو مجھ پر کوئی اثر نہیں ہونے والا
زویا نے روتے ہوئے احد کو دیکھا تھا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روتے ہوئے دیکھ رہی تھی اپنے ہاتھ کو منہ پر رکھ کر اپنی سسکی کو روکا تھا
احد غصے سے اسے دیکھ کر باہر نکل گیا تھا یہ جانے بغیر کے وہ ننھی سی جان اس کی نفرت برداشت نہیں کر پائے گی
زویا روتے ہوئے ڈریسنگ روم کی دیوار کے ساتھ لگی نیچے بیٹھ گئی تھی
ماما مجھے نہیں رہنا یہاں آپ لے جائیں مجھے وہ گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی
یہ تک بھول گئی تھی کہ آج مہندی ہے اور وہ تو انجوائے کرنا چاہتی تھی
❤️❤️❤️❤️❤️
خبر دار آج جو تبریز آپ میری طرف بڑھے
زینی جو میکاپ کیے اب اپنے ہاتھوں میں چوڑیاں پہن رہی تھی تبریز کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا کر بولی تھی
جو آنکھوں میں حمار لیے اس کی طرف بڑھا رہا تھا
جان تمہیں لگتا ہے تمھاری ننھی سی جان مجھے خود سے دور کر سکتی ہے تبریز اسے اپنے حصار میں لے کر بولا تھا
تبریز پلیز میں اتنی مشکل سے تیار ہوئیں ہوں
تو میں نے کیا کیا ہے وہ اس کے کان میں بولتے ہوئے اس کی کان کی لو کو ہونٹوں میں لے کر بولا تھا
آپ پھر سے شروع ہو گے رات کو بھی آپ نے میری مہندی خراب کر دی تھی وہ اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی تھی
زینی کیا کروں تم لگ ہی اتنی پیاری رہی ہو وہ اسے لہنگے میں دیکھ کر پیار سے بولا تھا
ادھر آئیں وہ اس کا سر نیچے کرواتے ہوئے بولی تھی
اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے تبریز جان اب بس اب مجھے جانے دیں زینی اسی کے انداز میں بولی تھی
ہاہاہاہاہا جانِ تبریز بہت تیز ہو تم وہ ڈریسنگ پر پڑھی چوڑیوں کو اس کے ہاتھوں میں پہناتے ہوئے بولا تھا
کیا کرو جانِ تبریز جو ہوں تو ان کے ساتھ رہ کر تیز ہو گئی ہوں زینی اپنا دوسرا ہاتھ اس کے چہرے پر پھیر کر بولی تھی
زینی کی بچی بہت تیز ہو چکی ہو تم وہ اسے زور سے ہگ کرتے ہوئے بولا تھا
ہاہاہاہاہا آپ سے کم ہوں چلیں اب باہر سب ویٹ کر رہیں ہوں گے وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا کر بولی تھی
تبریز اس کی ہر ادا پر قربان جا رہا تھا آج
اور مسکراتے ہوئے دونوں باہر چلیے گیے
