Rate this Novel
Episode 26
ماضی
مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور تم اس کے پاس جاؤں
گی تمہیں جانا ہو گا صرف ایک رات کی بات ہے وہ ضرور دے گا پیسے وہ اپنی بیوی کو کندھوں سے تھام کر جنونی انداز میں بول رہا تھا
نہیں میں نہیں جاؤں گی کبھی بھی نہیں میں خود کام کر لوں گی پر کسی کے سامنے خود کو پیش نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں وہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے بولی تھی
پاگل عورت تمہارا کیا جاتا ہے اس ایک دفع ہی تو جانا ہے وہ اسے پیچھے دھکیل کر بولا تھا جو اپنا منہ ہاتھوں میں چھپا کر رو رہی تھی
آج تک میں نے کسی کے ساتھ برا نہیں کیا تو اللہ جی میرے ساتھ ہی کیوں سب برداشت کر سکتی ہوں پر یہ نہیں بچا لیں مجھے اس خود پرست انسان سے جو مجھے ایک رات کے لیے بیچنا چاہتا ہے نورین روتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں منہ دیے اپنے اللہ سے محاطب تھی
تیار رہنا تھوڑی دیر میں گاڑی آ جائے گی اگر نہ گئی تو وہ حشر کروں گا کہ ساری زندگی یاد رکھوں گی بھول جاؤں گا کے مجھے تم سے محبت تھی وہ اسے انگلی سے ورن کرتے ہوئے بولتا باہر نکل گیا تھا
نورین دیوار کے سہارے نیچے بیٹھ گئی تھی اپنا منہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی تھی
یہ محبت ہے کسی محبت ہے یہ جو اپنی ہی محبت کو کسی اور کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی نہ اپنی نانی کے پاس عزت تو محفوظ تھی
آج اس کی عزت کا محافظ ہی اس کی عزت کا سودا کر رہا تھا
❤️❤️❤️❤️
انس غصے سے کلب میں گیا تھا وہاں ایک ہاتھ میں سگریٹ اور دوسرے میں حرام مشروب پکڑے پی رہا تھا پر دل کو ایک پل بھی سکون نہیں مل رہا تھا
حیاء کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت اور اس کی بے وفائی کو سوچتے ہوئے پاگل ہو رہا تھا
ہیلو ہنڈسم ایک ماڈرن لڑکی اس کے پاس آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
جیسے انس نے ہاتھ بڑھا کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا
کیوں کرتی ہو تم میرے ساتھ ایسا میرے بلانے پر بھی تم میرے ساتھ نہیں آئی وہ اسے اپنے نزدیک کیے اس کے بالوں کو اس کے چہرے پر پیچھے کرتے ہوئے اس میں حیاء کو دیکھ رہا تھا
تم جب بھی بلاؤں گے میں تمہاری پاس آؤں گی میری جان وہ لڑکی بے. باقی سے اس کے اور بھی نزدیک ہوئی تھی
اتنی نزدیک کے بس ان دونوں کے درمیان انچ کا فاصلہ رہا گیا تھا
دور کھڑے کسی نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی کہی تصویریں لی تھی
انس اس کے ہلتے ہو ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا جو کچھ بولتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگی تھی
انس نے اسے زور سے پیچھے دھکیل دیا تھا
وہ دور جا کر گر گئی تھی
میں صرف حیاء کا ہوں ہمت بھی کسے کی تم نے ایسا کرنے کی وہ اس کے پاس اپنا گلاس پھینکتے ہوئے غصے سے بولا تھا
آج تک یہ حق میں نے کسی کو نہیں دیا وہ غرایا تھا طالب کو خبر ملی تھی اور وہ انس کے پاس آیا تھا اور اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا تھا
طالب اس لڑکی کا وہ ہشر کروں کے ساری زندگی یاد رکھے اس نے ہمت بھی کیسے کی انس شاہ کے قریب آنے کی وہ بند ہوتی آنکھوں سے بول رہا تھا
طالب اسے گاڑی میں ڈال کر فلیٹ کی طرف نکل گیا تھا
امن نے مسکراتے ہوئے وہ تصویریں حیاء کے نمبر پر سینڈ کر دی تھیں
اب دیکھتا ہوں حیاء کب تک تمہیں برداشت کرتی ہے وہ شطر سا مسکرا کر بولا تھا
❤️❤️❤️❤️
حیاء نے بہت سونے کی کوشش کی تھی پر نیند آنکھوں سے بہت دور تھی انس کے بولے ہوئے الفاظ اس کے ذہین میں بار بار آ رہیے تھے
تب ہی اس کے موبائل کی بپ ہوئی تھی اس نے بے دلی سے موبائل دیکھا تھا اس کو دیکھنے کے بعد حیاء کی غصے سے رنگے تن گئی تھی
ساتھ ہی موبائل پر کال آنے لگی اس نے بے آنکھوں میں آنسو لیے کال کو اُٹھایا تھا
ہیلو حیاء بی بی انس صاحب کی طبیعت نہیں ٹھیک پلیز ان کے پاس آ جائیں میں گاڑی باہر لے کر کھڑا ہوں وہ آپ کو یاد کر رہیے ہیں اور آپ ہی ان کو سنبھال سکتی ہے
میری درخواست ہے پلیز آ جائیں میں طالب ہوں انس شاہ کا خاص آدمی وہ حیاء کو کوئی جواب نہ دیتا دیکھ کر بولا تھا
حیاء نے کچھ بھی بولے بینا فون بند کر دیا تھا
اپنا ڈوپٹہ لے کر پاؤں میں جوتا پھین کر باہر کی طرف بھاگی تھی
طالب جو مایوس ہو کر جانے لگا تھا حیاء کو گیٹ سے نکلتے دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا جہاں وہ غنودگی کی حالت میں تھا
حیاء آ جاؤ اس کے منہ سے لفظ سن کر حیاء گاڑی میں سوار ہوئی تھی اور طالب نے گاڑی فلیٹ کی طرف بڑھا دی تھی
میں تو فلیٹ کی طرف جا رہا تھا پر شاہ جی صرف آپ کو یاد کر رہیے تھے اسی لیے مجھے مجبورن اپکو بلانا پڑھا ورنہ میں کبھی آپ کو نہ کہتا
حیاء اس کے قریب گئی تو اس کے ناک سے بہت بری سیمل ٹکرائی تھی وہ اس سے پیچھے کسکی کی تھی انس لال آنکھوں سے دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا اور اسے اپنے قریب کھنچا تھا
تم آ گئی وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر بولا تھا حیاء کو اس سے شدید قسم کی کرہیت ہورہی تھی پر پھر بھی چپ کر کے اس کے ساتھ لگی بیٹھی ہوئی تھی
ی۔۔۔۔۔۔۔ ی ۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا اسی طرح پیتے ہیں حیاء نے اپنے ناک پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
نہیں تو پہلے تو پیتے ہیں پر ہوش میں رہتے ہیں پر آج تو کلب میں بھی کافی ہنگامہ کر کے آیے ہیں ایک لڑکی کو پھینک کر آئیے ہیں وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
بڑا کارنامہ کر آیا ہے مارنے کے علاوہ کرتا ہی کیا ہے یہ
پیار کرتا ہوں تم سے وہ اس کے قریب ہو کر بولا تھا حیاء نے خیریت سے اس کی طرف دیکھا تھا جو مسکرا رہا تھا
انس انس تم ہوش میں ہو وہ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر بولی تھی
جی جانِ انس تمہیں کیا لگا اتنی پی لی ہے کہ ٹون ہو گیا ہوں وہ حیاء پر گرفت کو مضبوط کرتے ہوئے بولا تھا
حیاء کی سانس اس کے سینے میں ہی اٹک گئی تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کرنا چاہیا تھا
اب نہیں میری جان ابھی تو تمہیں سارے حساب دینے ہیں وہ اس کے گال سے اپنی داڑھی رگڑتے ہوئے بولا تھا
حیاء کو اپنے پیروں میں سے جان جاتی ہو محسوس ہو رہی تھی سلال نے اسے مصبیت سے بچایا تھا اور اب وہ خود اس مصیبت کے پاس چل کر آئی تھی
طالب گاڑی واپس موڑو جھوٹے انسان مجھے گھر جانا ہے وہ چیخ کر بولی تھی انس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی اور وہ سگریٹ جلا کر پیتے ہوئے بس اس کا چیخنا چلانا سن رہا تھا
گاڑی اسی دن والے فلیٹ پر روکی تھی طالب خود گاڑی روک کر باہر نکل گیا تھا
چلیں اپنی منزل پر آج تو سزا کا دن ہے وہ آگے جھکی حیاء کے کان میں سرغوشی کرتے ہوئے اس کی کان کی لو کو چھوتے ہوئے بولا تھا
نہیں جانا مجھے نہیں جانا ہر دفع تمہاری زبردستی نہیں چلے گی وہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے بولی تھی
انس اسے خود کی طرف کھینچتے ہوئے اپنی باہوں میں بھر کر اوپر اپنے فلیٹ کی طرف لے گیا تھا
حیاء تم جانتی ہو تم مجھے نہیں روک پاؤ گی اسی لیے چپ چاپ رہو یہ نہ ہو میں تمہیں زیادہ ٹرچر کروں اور وہ تم سہا نہ پاؤ وہ اپنی گود میں اُٹھائی ہوئی حیاء کو چلاتے دیکھا کر بولا تھا
اس کی بات کا اتنا اثر ہو تھا کہ حیاء چپ کر کے لب بیچ گئی تھی
انس کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آ گئی تھی
انس نے فلیٹ میں آ کر نیچے کھڑا کیا تھا اور خود دروازہ بند کرنے لگا تھا
حیاء دورتے ہوئے اندر کی طرف گئی تھی اور جا کر روم کا دروازہ بند کر لیا تھا
انس نے گہرا سانس لیا تھا اور کچن میں گیا اور اپنے لیے لیمن پانی بنا کر پیا لیا پھر کافی بنا کر باہر صوفے پر بیٹھا گیا تھا
ٹی وی اون کر کے بیٹھ گیا تھا اور خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا
رات کے تین ہوئے تو چہرے پر مسکراہٹ لیے سامنے دارز سے کمرے کی کیز لے کر کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا
کمر میں لیمپ جل رہا تھا حیاء لائٹ کے بغیر نہیں سوتی تھی اسی لئے کوئی نہ کوئی لائٹ کمرے میں ضرور جلا کر رکھتی تھی
انس خاموشی سے روم میں داخل ہوا وہ سامنے ہی کمبل میں سوئی ہوئی نظر آئی تھی مسکرا کر اس کی طرف بڑھ گیا تھا
اس کے ساتھ لیٹ کر اپنا رح اس کی طرف کیا انس کی طرف اس کی پشت تھی
حیاء میری جان سو گئی ہو وہ اس نے اس کی طرف جھک کر اس کے کان میں سرغوشی کی تھی
حیاء جو ابھی کچی نیند میں تھی ڈر کی وجہ سے ابھی اس کی آنکھیں لگی تھی اپنی گردن پر انس کا لمس محسوس کر کے سہی معنی میں حیاء کانپتے ہوئے اُٹھ گئی تھی
تمہیں کیا لگا تم مجھ سے فرار پا لو گی آج تو سزا کا دن ہے میری جان وہ اس کا رح اپنی طرف کرتے ہوئے بولا تھا
سزا تو تمہیں ملنی چاہئے تم نے مجھ پر تہمت لگائی تھی میں اتنی ہی بری ہوں تو کیوں آتے ہو میرے پاس میں تو کرکٹرلیس ہوں نہ
وہ ابھی کچھ بول رہی تھی کے انس اس پر جھک گیا تھا اس کے باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گیے تھے
اب بھی کچھ ہے باقی وہ اوپر ہوتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا جو غصے سے اسے دیکھ رہی تھی
ہاں تم مردوں کا یہی ہے جب اپنے مطلب کی بات ہو پھر سب کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر سے حیاء کے اوپر جھکا تھا اس دفع اس کے لمس میں جنونی پن تھا جس سے حیاء گھبراتے ہوئے اپنی پوری طاقت سے اسے پیچھے دھکیل رہی تھی
اب پھر بولوں کیا بولنا چاہتی ہو انس اس کے ہونٹوں سے خون کو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا
حیاء بے بسی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا رح دوسری طرف موڑ گئی تھی
کمنے اور گھٹیا انسان ہو تم وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
ہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا میری جنگلی سی حیاء تم بہت سمارٹ ہو پر طاقت تم سے زیادہ ہے مجھ میں وہ اس کے ہونٹوں سے ہاتھ کو ہٹاتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں پھنس کر بولا تھا
اب بولوں تو میں مان جاؤں تمہیں وہ آیبرو کو اُٹھا کر اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا تھا
پھر اس کی گردن پر اپنے لب رکھے تھے
انس کمینے پیچھے ہو جاؤ میں جان لے لوں گی تمہاری حیاء اپنے ہاتھوں کو چھوڑواتے ہوئے چیخی تھی
جان تو آج تمہاری جائے گی میری جان آج تم مجھے روک نہیں پاؤ گی میں اپنے اردوں میں پکا ہوں آج وہ اس کی گردن میں ہی منہ دیے بولا تھا
میں تو گری ہوئی ہوں نہ اپنے عاشق کے ساتھ رنگرلیا منا رہی تھی نہ تو اب کیوں آ رہیے ہو مجھ جیسی بد کردار کے پاس حیاء چیخی تھی
حیاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انس دھاڑا تھا اس پر
بکواس بند کرو اپنی وہ اس کا چہرہ ہاتھ میں دبوچے ہوئے آنکھوں میں جنون لیے بولا تھا
تم نے اچھا نہیں کیا مجھے غصہ دالا کر اب میرا غصہ اور جنون کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ وہ جنون سے بولتے ہوئے پاس پڑھے لیمپ کو بند کرتے حیاء کو اپنے قبضے میں کر گیا تھا
حیاء اسے خود سے دور کر رہی تھی پر اس کی ہر کوشش کو ناکام بنا دی تھا انس نے
حیاء کا رونا سسکنا بھی انس پر اثر نہیں کر رہا تھا حیاء کے لفظوں نے اس کے جنون کو ہوا دی تھی
انس اپنے جنون میں یہ بھول گیا تھا کہ الفاظ اس کے خود کے دیے ہوئے تھے اور اپنی جنونیت حیاء پر اترنے لگا تھا وہ پوری رات حیاء کو خود توڑ بھی رہا تھا اور سمیٹ بھی رہا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
فریحہ جب اَٹھی تو صبح کے دس بج رہیے تھے
اف اللہ جی آج پھر کالج مس ہو گیا اس نے سامنے گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا تھا
پھر جب اُٹھنے لگی تو اپنے ساتھ دیکھا حاضر جو فریحہ کے اوپر اپنا بازوں پھیلا کر سو رہا تھا
یہ کب آئیے رات کو حاضر اسے بستر پر لیٹا کر خود وہاں سے چلا گیا تھا
اس نے حاضر کا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی جو پیچھے ہونے کی بجائے اس کے اوپر اپنی گرفت اور بھی مضبوط کرتے ہوئے اپنے سامنے کر گیا تھا
کیسی ہے طبیعت وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر آنکھوں کو بند کیے بولا تھا
ٹھیک۔۔۔۔۔۔ ہوں۔۔۔۔۔۔ میں تو آپ کب آیے وہ اپنے دل کا سوال زبان پر لے آئی تھی
میں تب آیا جب میری بیوی ہراٹے لے رہی تھی بہت ہراٹے لیتی ہو تم یار وہ اس کی ناک دبا کر بولا تھا
میں ۔۔۔۔۔میں نہیں تو میں نہیں لیتی وہ نہ میں سر ہلا کر بولی تھی
حاضر کو اس کی معصومیت پر بہت پیار آیا تھا اسے پریشان دیکھ کر اپنے ساتھ لگا لیا تھا
اتنی سی بات پر اتنی پریشانی مت لو سوئٹی مجھے جب کوئی پریشانی نہیں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے وہ اس کو اپنے ساتھ لگائے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے
بول رہا تھا
ناشتہ بناؤں آپ کے لیے وہ اپنا چہرہ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولی تھی
کیوں نہیں آج میں اپنی بیوی کے ہاتھوں کا ناشتہ کرنا چاہوں گا وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا کر بولا تھا
ٹھیک ہے میں فریش ہو کر جاتی ہوں تب تک آپ بھی آ جائیے گا اس نے رات کو پھر نہ چاہتے ہوئے بھی حاضر کی ٹروز شارٹ پہن لی تھی کیونکہ اسے ان کپڑوں سے چبن محسوس ہو رہی تھی
اوکے میری جان وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا تھا جو اس کے کپڑوں میں بہت کیوٹ لگ رہی تھی
وہ اُٹھ کر چلی گئی تھی حاضر اسے جاتے ہوئے دیکھتے پھر سے آنکھوں کو بند کر گیا تھا
فریش ہو کر نیچے آیا تو فریحہ نے زیبا کے ساتھ مل کر ناشتہ لگا دیا تھا اور اب ٹیبل پر بیٹھ کر حاضر کا انتظار کر رہی تھی جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا جو چیر پر بیٹھی اپنے ہونٹ چبا رہی تھی
واہ آج تو ناشتہ بہت مزے کا لگ رہا ہے وہ ناشتہ کو دیکھ کر بولا تھا فریحہ اس کی بات سے مسکرا دی تھی رات کو حاضر کے رویے سے وہ کافی مطمئن ہوئی تھی
حاضر نے خود بھی ناشتہ لیا تھا اور فریحہ کی پلیٹ میں بھی ڈالا تھا
بہت مزے کا تھا وہ اَٹھ کر اس کے پاس آ کر بولا تھا
اور جھک کر اسے کے ماتھے پر پیار کیا تھا فریحہ اس کے اس طرح کرنے سے سر اُٹھ کر اسے دیکھنے لگی تھی
تھوڑی دیر میں آ رہا ہوں پھر شاپنگ پر چلیے گئے
❤️❤️❤️❤️
سلال مجھے بھوک لگی ہے اور حیاء آپو بھی نہیں اَٹھی اماں بی بھی گھر نہیں ہیں میں کیا کروں آپ بھی نہیں اُٹھ رہیے وہ سلال کو اٹھاتے ہوئے بولی تھی
میں آپو کو ہی اٹھاتی ہوں وہ اُٹھ کر جانے لگی تھی
اچھا نہ اٌٹھ رہا ہوں موبائل دو مجھے آڈر کر دیتا ہوں سلال نیند میں ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا تھا
پر مجھے باہر کا نہیں کھانا مجھے ابھی بنا دیں پلیز کل اماں بی آ جائیں گی تو وہ بنا دیا کریں گی پر آج بنا دیں پلیز انکل نے بولا تھا آپ کو سب آتا ہے
تمہاری آپو کے آنے کا کیا فائدہ جب مجھے ہی بنانا ہے سلال اٹھتے ہوئے منہ بنا کر بولا تھا
پر میں آپو کی نہیں آپ کی زمینداری ہوں یہ بات بھی آپ ہی نے بولی تھی وہ اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر بولی تھی
اوکے سوئٹ ہارٹ میں پانچ منٹ میں آیا تم کچن میں میرا انتظار کرو
پانچ منٹ مطلب پانچ منٹ اوکے ورنہ میں خود بنانے لگ جاؤ گی اور مجھے کچھ ہو گیا تو وہ باہر جاتے ہوئے بول رہی تھی
کیا بکواس کی ہے ابھی خبر دار جو آئندہ اس طرح کے الفاظ بھی منہ سے نکالے جان لے لوں گا تمہاری وہ اسے کلائی سے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کے بالوں پر گرفت بنا کر بولا تھا
آ۔۔۔۔۔۔آ چھوڑیں مجھے مجھے درد ہو رہا ہے سلال آئندہ نہیں بولوں گی پلیز وہ اس سے اپنے بال چھڑواتے ہوئے بولی تھی
سلال نے اس چھوڑا تھا
وہ اسے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے باہر بھاگ گئی تھی
شٹ شٹ کیا ہو جاتا ہے مجھے خود کو اتنا کنٹرول کرنے کے باوجود بھی غصے ہو جاتا ہوں میں وہ دروازے کو مکا مار کر بولا تھا
سلال فریش ہو کر نیچے آیا تو زرتاشہ ٹیبل پر سر رکھ رو رہی تھی
سلال اسے دیکھتا رہا پھر گہرا سانس لے کر اس کے پاس آیا تھا اور اس کے بالوں کو سہلانے لگا تھا
مجھے ہاتھ مت لگائیں وہ اُٹھ کر پیچھے ہو گئی تھی
سلال اس کی طرف بڑھا تھا
اچھا تو پھر تو تم ناشتہ بھی نہیں کرو گی میرے ہاتھ کا وہ اس کے نزدیک آتے ہوئے پنٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے بولا تھا
اس کے جواب نہ دینے پر اسے دیکھ کر رہا گیا تھا
Okay as you wish
کندھے اچکا کر بولتے ہوئے کچن میں داخل ہو گیا تھا اور فریج میں سے انڈے نکل کر ناشتہ بنانے لگا
زرتاشہ اسے خاموشی سے سب کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی
ناشتہ بنانے کے بعد ٹیبل پر رکھا تھا اور خود بیٹھ گیا تھا زرتاشہ پاس ہی کھڑی تھی پر سلال نے اسے دیکھا بھی نہیں اور آرام سے کھانے لگا
زرتاشہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر غصے سے جانے لگی تھی سلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اپنی گود میں بیٹھا لیا تھا
اتنی نفرت ہو گئی ہے مجھ سے کے اتنی بھوک ہونے کے باوجود بھی غصے سے جا رہی تھی سلال اس کی گال سے اپنی ڈاری رگڑتے ہوئے بولا تھا
نف۔۔۔۔۔۔نفرت کیوں ہو گی مجھے آپ سے میں تو ناراض ہوں آپ نے میرے ساتھ مس بیہو کیا اور اوپر سے مجھے منا بھی نہیں رہیے وہ منہ پھلا کر بولی تھی
تم نے بات ہی ایسی کی تھی مجھے غصہ آیا گیا وہ اس کے منہ میں نوالے ڈالتے ہوئے بول رہا تھا جو وہ بہت مزے اور آرام سے کھا رہی تھی
آئندہ نہیں کروں گی نہ آپ بھی پرومس کرو کہ نہیں کریں گے ایسا وہ اس کے آگے ہاتھ کر کے بولی تھی
جی میری جاناں کبھی نہیں کرو گا ایسا وہ اس کے گال پر پیار دیتے ہوئے بولا تھا
زرتاشہ کھلکھلا دی تھی
سلال اس کی مسکراہٹ میں کھو گیا تھا اس کے مسکرانے سے خود بھی مسکرا دیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
پری دادا جی کے پاس آئی تھی اکرم شاہ نے آج عالی اور پریوش کو بلایا تھا پاس ہی خنا شاہ اکبر شاہ بیٹھے ہوئے تھے
پریوش بچے ادھر آؤ دادا کے بلانے پر وہ ان کے پاس بیٹھ گئی تھی پری کے ایک سائیڈ پر دادا اور دوسری پر بڑی بی تھیں
سامنے عالی کو دیکھ کر اس نے اپنا رح پھیر لیا تھا
اس کے رح پھیرنے پر عالی نے ضبطِ سے اپنی مٹھیوں کو بیچا تھا غصے سے رنگے تن گئیں تھی
پری ہم چاہتے ہیں کہ خبہ اور آنیہ کے ساتھ تمہاری شادی بھی کر دیں پری جو رح موڑے بیٹھی ہوئی تھی دادا کی بات پر خیران ہوتے ہوئے ان کو دیکھنے لگی تھی
پر دادا میری سٹیڈی ہے ابھی شادی کے نام پر اسے کچھ ہوا تھا جو بھی تھا عالی سے سو اختلافات سہی پر اس کے لیے اس کے بھی دل میں فیلنگز تھی
جس کو ہم نے آپ کے لیے پسند کیا ہے وہ آپ کو سٹیڈی کے لیے نہیں روکے گا
دادا کی بات سن کر پری نے آنکھوں میں نمی لیے ایک شکوہ کرتیں نظروں سے عالی کو دیکھا تھا
اس کی نظروں کا مفہوم پڑھا کر عالی کے دل کو سکون ملا تھا
پر دادا کس کے ساتھ وہ بمشکل اپنا ہلک تر کرتے ہوئے بولی تھی
جو بھی ہے میرے بچے آپ کو ہم پر بھروسہ ہے نہ دادا اس کے کندھے کے گرد ہاتھ پھیلا کر بولے تھے جس کی نظریں ابھی بھی عالی پر تھی ایک امید کے ساتھ کے وہ کچھ بولے گا عالی کو چپ دیکھ کر اس نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا
تو ٹھیک ہے خنا شاہ تیاریاں کرو میری پری کی شادی کی بھی وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولے تھے
پری اپنے آنسو کو ضبط کرتے ہوئے مسکر دی تھی یہ جانے بغیر کے اس کی چاہتا اس کی جھولی میں ڈال دی گئی ہے جس سے وہ انجان ہے
وہ ضبط کیے اپنے ہاتھوں کو مسلاتے ہوئے صوفے پر بیٹھی تھی باقی سب ایک ایک کر کے وہاں سے چلے گئے تھے
بہت بہت مبارک ہو پریوش شاہ شادی کی عالی اس کے پاس آ کر اس کے قریب جھکتے ہوئے بولا تھا جو اپنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی پر پھر بھی ایک بھاگی آنسو کا قطر بہ نکالا تھا
اب تو خوش ہونے کا وقت ہے عالی شاہ سے جان چھوٹ جائے گی تمہاری وہ اس کے آنسو کو صاف کرتے ہوئے طنزیہ بولا تھا
تمہیں تمہارا بھائی اور بھابھی مبارک ہوں تم نے کھو دیا عالی شاہ کو اس کی محبت کو پریوش شاہ وہ اس کے قریب جھکے بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے اپنے لیے بہتے آنسو دیکھ کر خوش ہوا تھا
اس سے وہ یہ جان گیا تھا کہ پری کو بھی اس سے محبت ہے اس نے خود ہی سب سے کہا تھا کہ اسے کوئی نہ بتائے کہ اس کی شادی عالی سے ہو رہی ہے
پری غصے سے وہاں سے جانے لگی تھی
رو مت مجھے تکلیف ہوتی ہے وہ اس کی کلائی تھام کر اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے بولتا اس کے آنسو کو صاف کرنے لگا تھا
پری نے نظریں اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا اس کی نظروں میں کیا نہیں تھا ہزاروں شیکویے تھے جن کو دیکھ کر عالی مسکرا دیا تھا اور اس کی کلائی چھوڑ دی تھی
پری کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر روتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی تھی
اوہ جانم تم نے اتنا تنگ کیا ہے مجھے تھوڑا تو حق میرا بھی بنتا ہے وہ صوفے پر گرتے ہوئے بولا تھا اس کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ تھی
اس سے یہ تو پتہ چلا میری جانم کو مجھ سے محبت ہے اور وہ بھی شدید والی اپنی بات پر ہی مسکرا دیا تھا
❤️❤️❤️❤️
