Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

احد کے کہنے پر نورین نے بھی سر اُٹھ کر اسے دیکھا تھا جو زویا کو خود میں بیچے کھڑا تھا
ٹھیک ہے سب اپنی اپنی رخصتی کر رہے ہیں تو مجھے بھی میری بیوی چاہیے پھر انس اپنی جیب سے ہاتھ نکال کر حیاء کو اپنی طرف کھینچ کر بولا تھا
دفع ہو جاؤ انس چھوڑو مجھے شرم کرو تھوڑی سی حیاء غصے سے اس کا ہاتھ اپنی کمر سے پیچھے کرتے ہوئے بول رہی تھی
ویسے بھی مجھے نفرت ہے تمھارے خاندان سے تم سے سب سے سنا کبھی نہ جاوں تمہارے ساتھ وہ غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھا کر بولی تھی
ہاہاہاہاہا ماما ادھر آئیے ملے اپنی بہوں سے آپ کا بہت دل تھا نہ کہ میں شادی نہیں کر رہا تو یہ دیکھیں آپ کی چشمے والی بہوں کیوٹ ہے نہ پر ہے تھوڑی جنگلی ٹائپ کی انس علیشہ کی طرف حیاء کا رخ کر کے بولا تھا
حیاء بے بسی سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی جن کی آنکھوں میں اسے اپنے لیے خیریت اور غم دیکھا تھا جیسے وہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی
ماما پلیز انس انس نے زبردستی کیا تھا سب اس نے زبردستی کیا تھا نکاح مجھ سے اگر نکاح نہ کرتیں تو وہ زر اور زویا کو نقصان پہنچا دیتا میں مجبور تھی ماما وہ انس سے اپنا آپ چھوڑا کر ان کے پاؤں میں بیٹھی گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
دوسری طرف امن اور آنیہ کی آنکھیں حیاء اور انس کی باتوں سے پوری طرح کھل گئیں تھیں سب بڑے ہر نیا انکشاف سے خیریت سے بیٹھے ہوئے تھے
عادل انکل ماما کو بولیے نہ یہ کچھ کیوں نہیں بول رہیں حیاء عادل سے بولی تھی جو خود خیران تھے اس سب سچویشن سے
آپ اپنی بہوں کو لے کر جا سکتے ہیں یہاں سے پر دوبارہ اس گھر میں قدم مت رکھیں گا نورین جب بولی تھیں تو بہت حوصلہ سے سب بولیں تھیں
پر پہلے مجھے اپنی بیٹیوں سے بات کرنیں ہے
نورین بولتیں ہوئی وہاں سے اَٹھ کر چلی گئی تھیں
پر بیٹا ہم تم سے بھی معافی مانگنا چاہتے ہیں دادا شاہ نورین کو جاتے دیکھ کر بولے تھے
میں نے سب کو معاف کیا جو بھی میرے ساتھ ہوا ۔۔۔۔۔ پر میں کسی کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ کی ہوئی زیادتی کے لئے کبھی بھی معاف نہیں کر سکتی
جو کچھ میری بچیوں نے برداشت کیا ہے اس کے لیے کبھی بھی معافی نہیں ملے گی کسی کو
بس اتنا کہنا چاہتی ہوں اگر ان کو اپنے ساتھ لے کر جا رہیں ہیں تو اب ان کے ساتھ میرے والا سلوک مت کیجئے گا وہ بولتے ہوئے کس کی طرف بھی دیکھے بینا وہاں سے چلیں گئیں تھیں
عادل صاحب بھی ان کے پیچھے چلیے گے تھے
اب فریحہ حیاء زرتاشہ زویا سب وہاں سے آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے
بہت جلدی نہیں یاد آ گئیں آپ کو اپنی بیٹیوں کی اور آپ کو اپنی پوتیوں کی سلال کھڑا غصے سے سب کو دیکھ کر بولا تھا
تب کہاں تھے آپ سب لوگ جب اتنا سب ہوا ان کے ساتھ آپ کی سوچوں سے بھی برا ہو چکا ہے ان کے ساتھ اور دوبارہ ان کی زندگیوں میں آ کر جو زہر آپ لوگ گھول چکے ہیں نہ اس کے لیے بہت پشتاوا ہو گا آپ سب کو سلال غصے سے بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
انس احد کیا تھا یہ سب آمنہ شاہ بولی تھی احد کی ماں
ماما میں بتاتا ہوں سب آپ کو اور پھر سب بات اس نے اپنے گھر والوں کو بتا دی تھی
تو کیا اب تم کیا چاہتے ہو دادا شاہ کے بولنے پر احد نے سر اُٹھا کر ان کی طرف دیکھا تھا
دادا افکوس مجھے زویا چاہیے بیوی ہے وہ میری اور اگر نورین آنٹی اسے میرے ساتھ بھیج دیں گی تو میں اسے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا
اگر نہ بھیجا تو پھر میں زبردستی لے کر جاؤں گا پر لے کر ضرور جاؤں گا
سب نے خیریت سے احد کی طرف دیکھا تھا جو کبھی اس طرح غصہ نہیں کرتا تھا
حاضر چپ کر کے سب کو دیکھ رہا تھا خیران تو حاضر بھی ہوا تھا احد کے رویہ سے پر اپنی بات سوچ کر بس مسکرا کر رہا گیاتھا
احد تو مجبوراً تھا انس تم نے یہ کیا تماشا لگایا ہے اپنی منگ کے ہوتے ہوئے بھی زبردستی نکاح عاقب شاہ بولے تھے
کیا ہو گیا ہے چاچو آپ کو خوش ہونا چاہیے
آپ کی تو دونوں بلکہ تینوں بیٹیاں آپ کے گھر جا رہیں ہیں
اور رہی بات آنیہ کی تو میں پہلے بھی اس میں انٹرسٹ نہیں رکھتا تھا وہ صاف گوئی سے بولا تھا
دادا اب انس کی طرف ہی دیکھ رہیے تھے
انس تم کیا چاہتے ہو دادا نے انس کی طرف دیکھ کر بولا تھا
دادا یہ پوچھنے کی باتیں ہے کیا میں تو احد سے بھی جنونی ہو اپنی چیزوں کے معاملے میں اور حیاء تو پھر میری بیوی ہے وہ انیہ اور امن کی طرف دل جلانے والی مسکراہٹ اچلا کر بولا تھا
جو غصے سے اسے دیکھ رہیے تھے پر انس دل جلانے والی مسکراہٹ لیے سب کی طرف دیکھ رہا تھا
ہم ٹھیک ہے تم سب جاؤ یہاں سے ہم آ جائیں گے لے کر اپنی بہوں کو دادا شاہ کے بولنے پر سب نے خیران ہو کر ان کی طرف دیکھا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ دونوں نورین کے ساتھ لگی ہوئی رو رہیں تھیں
ماما مجھے نہیں جانا آپ کو چھوڑ کر پلیز اپنا فیصلہ بدل لیں فریحہ روتے ہوئے بولی تھی
حیاء ابھی بھی دور کھڑی ہو کر سب دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں بس ویرانی دکھائی دی تھی نورین کو انہوں نے مسکرا کر اسے اشارے سے اپنے پاس بلائے تھا
ماما میرے کو قصور نہیں ہے سچ میں اس نے زبردستی کیا تھا سب حیاء نورین کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چومتے ہوئے بول رہی تھی
نہیں میرا بچہ مجھے پورا بھروسہ ہے آپ پر میں نے یہ فیصلہ آپ لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا ہے
میں چاہتی ہوں کہ تم سب اس رشتے کو قبول کرو اور ہنسی خوشی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھو
زویا بہت چھوٹی ہے حیاء فریحہ تم دونوں نے اس کا بہت خیال رکھنا ہے
نورین روتی ہوئی زویا کو اپنے ساتھ لگا کر بولیں تھی
جو اتنی مشکل میں میری بیٹی کا دھیان رکھ سکتا ہے وہ ہر قدم پر میری بیٹی کی حفاظت کر سکتا ہے مجھے احد جیسے افسر پر بھروسہ ہے میری جان وہ بہت خیال رکھے گا تمہارا نورین زویا کو بولی تھی جو نورین سے کبھی بھی دور نہیں رہی تھی
شش اب کسی نے نہیں رونا وہ تینوں کو چپ کرواتے ہوئے مسکرا کر بولی تھی
ویسے بھی میرے پاس زر تو ہمیشہ ہی رہے گی نہ وہ زرتاشہ کی طرف دیکھا کر بولی تھی جو ان کے پاس ہی کھڑی رو رہی تھی
عادل صاحب نے بھی ان کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
پلیز عادل انکل میری ماما کا بہت خیال رکھے گا فریحہ عادل کی طرف دیکھا کر بولی تھی
ماما مجھے نہیں جانا اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے نہ میرا اس گھر سے کوئی تعلق ہے اور نہ میں انس سے کو تعلقات رکھنا چاہتی ہوں پلیز مجھے فورس مت کریے گا حیاء مضبوط لہجے میں بولتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تھی
حیاء اپنی ماں کی لاج رکھ لینا باقی اب جو تمہاری مرضی نورین کے بولنے پر حیاء نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اور کمرے سے باہر نکل گئی تھی
چلو جاؤں تم تینوں اپنی پیکنگ کر لو نورین بہت حوصلہ سے دونوں سے بولیں تھیں
چلو شاباش گھبرانا نہیں ۔۔۔۔۔جب بھی ماما کی یاد آئی میرے پاس آ جانا ٹھیک ہے وہ ان دونوں کو سر پر پیار کر کے بولی تھیں
جاؤ اب زر آپ بھی جا کر مدد کرو ان کی وہ زرتاشہ کو بھی بولی تھی
ان کے جاتے ہی نورین اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا گئیں تھیں
عادل صاحب نے آگے بڑھ کر ان کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا
عادل میں نہیں چاہتی کے میری بیٹیوں کے اوپر بھی طلاق کا داغ لگے اسی لئے میں نے یہ فیصلہ دل پر پھتر رکھا کر کیا تھا
جو بھی ہے وہ ان کا خون ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ان کے ساتھ برا نہیں کریں گے
میرا دل نہیں مانتا ان کو بھیجنے کا پر ان کے فیوچر کے لیے یہ کرنا ضروری ہے وہ عادل کے ساتھ لگی اپنی دل کی ہر بات ان سے کر رہیں تھیں
آپ جانتے تو ہیں نہ آگے بھی میری حیاء اپنے باپ کی وجہ سے کیا کچھ بگت چکی ہے
اس کا گناہ نہیں تھا پھر بھی اس نامردود نے میری پھولوں جیسی بیٹی کو رول کر رکھا دیا تھا
میں نہیں چاہتی اب بھی میری بیٹی کے ساتھ کچھ غلط ہو کیونکہ اب ایک نہیں تین بیٹیوں کی زندگیاں جوڑئیں ہوئیں ہیں
اب کی بار کوئی ان کو رول نہیں پائے گا کیونکہ کے سب جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور کیوں ہیں اسی لئے میں یہ اتنا بڑا فیصلہ کر رہی ہوں
وہ روتے ہوئے بولی تھی عادل کے سہارے نے ان کو بہت حد تک سنبھالا ہوا تھا
نورین سنبھالے خود کو ابھی بہت حوصلہ کی ضرورت ہے آپ ہی اس طرح ٹوٹ جائیں گی تو پھر ان کو کیسے حوصلہ دے پایا گئیں عادل صاحب ان کو چپ کرواتے ہوئے بولے تھے
ماما سنبھالے خود کو سلال بھی نورین کے پاس آ کر بولا تھا
میں ہوں نہ آپ کا بیٹا اگر کوئی بھی ان تینوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرئے گا جان سے جائے گا سلال کے ہاتھوں وہ سخت لہجے میں بولا تھا
نورین اور عادل اسے ایسے دیکھ کر مسکرا دیے تھے سلال نورین کے گلے لگ گیا تھا
آپ میری ماما ہے اور اب آپ نے کبھی بھی پریشان نہیں ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو آپ دونوں کو ہنی مون ٹرپ پر بھیج رہا ہوں سلال ہنستے ہوئے بولا تھا
جس سے نورین اور عادل بھی مسکرا دیے
ماما یہ سڑیل انسان بالکل ٹھیک بول رہا ہے آپ کو جانا چاہیے ہنی مون ٹرپ پر پیچھے کھڑی حیاء بولی تھی اس کے ہاتھ میں بیگ تھا
جا رہی ہے میری بیٹی نورین اسے اپنے ساتھ لگا کر بولیں تھیں
صرف آپ کی وجہ سے جا رہیں ہوں ورنہ میرا دل نہیں تھا جانے کو اس گھر میں تو میں مر کر بھی نہ جاؤں وہ آنکھوں میں نمی لیے سر جھکا کر بولی تھی
تمہیں ان دونوں کا دھیان رکھنا ہے حیاء وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر بولی تھیں
ماما میرا دھیان کون رکھے گا مجھے اس رشتے سے بہت خوف آ رہا ہے میرے اندر ہمت ختم ہو رہی ہے میں سب کیسے کروں گی
سب ٹھیک ہو جائے گا سب اللہ پر چھوڑ دو وہ تمہارے حق میں بہتر کرنے والا ہے وہ اسے ساتھ لگ کر باہر جاتے ہوئے بولی تھیں
تم سڑیل انسان ہم سب کے بیگ اُٹھ کر گاڑی میں رکھ کر آؤ حیاء دل جلانے والی مسکراہٹ سے سلال کی طرف دیکھ کر بولی تھی
اچھا جنگلی چڑیل جو تمہارا حکم وہ بھی اس کو اسی انداز میں جواب دے کر بولتا حیاء کو جلا گیا تھا
عادل اور نورین دونوں کی لڑائی سے مسکرا دیے تھے
❤️❤️❤️❤️❤️
عاقب شاہ آج کے بعد ہمارے گھر میں قدم مت رکھے گا اور میری بیٹیوں کو نقصان پہنچانے سے پہلے ہزار دفعہ سوچیے گا کیونکہ اب میں پہلے والی نورین نہیں رہی جو ہر کسی سے ڈر جاتیں تھی
میں اپنی بیٹیوں کے لیے پوری دنیا سے لڑ سکتی ہوں اور اب تو میرے ساتھ میرا بیٹا اور میرا بیٹرہاف بھی ہے نورین عاقب شاہ کی طرف دیکھا کر بولی تھیں
عادل صاحب نے نورین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کو اپنے ہونے کا احساس دیا تھا
حیاء اور فریحہ اپنی ماں کو اتنا مضبوط دیکھ کر مسکرائیں تھیں عادل صاحب کے ساتھ نے ان کو اور بھی مضبوط کر دیا تھا
لویو ماما حیاء ان کے گال پر پیار دے کر زرتاشہ سے مل کر باہر نکل گئی تھی
وہ رونا نہیں چاہتی تھی اسی لئے مسکراہٹ لیے اپنے آنسو کو اپنے اندر اتارتے ہوئے وہاں سے نکلی تھی
فریحہ اور زویا اپنی ماں کے کتنی دیر گلے لگی رہی تھیں نورین نے ہی اسے خود سے الگ کر کے ان دونوں کے ماتھے پر پیار کیا تھا
پھر فریحہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر اپنے ساتھ لے گئی تھی
سلال بیگ رکھ کر حیاء کی طرف مڑا تھا جو اسی کو دیکھ رہی تھی
ماما کو بہت خیال رکھنا اور زری کا بھی پلیز اپنا بے تکا غصہ اس پر مت نکلنا وہ مسکراتے ہوئے اسے بولی تھی
تم بھی اپنا خیال رکھنا چڑیل وہ اس کے گال کھنچ کر بولا تھا
پاس کھڑے انس نے آگے بڑھ کر ہستی ہوئی حیاء کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا آنکھوں میں غصے دیکھ کر حیاء مسکرا دی تھی
انس ڈارلنگ ابھی تو شروعات ہے ابھی دیکھنا میں تمہیں بتاؤں گی کے حیاء سے پنگا تم کو کتنا مہنگا پڑھتا ہے وہ اس کے کان میں جھک کر بولتی اسے خود سے دور دھکا دے گئی تھی
مسکراتے ہوئے سلال کو بائے بولتی گاڑی میں بیٹھ گئی زویا بھی حیاء کے ساتھ تھی آگے انس اور احد تھے
انس نے خود کو کنٹرول کیا ہوا تھا سب بڑوں کے سامنے ورنہ اس کا دل کر رہا تھا حیاء کو دو تھپڑ لگا دے
فریحہ حاضر کے ساتھ تھی جب کے باقی جا چکے تھے دادا شاہ اور بڑی بی عاقب شاہ اور اکبر شاہ کے ساتھ تھے
❤️❤️❤️❤️
ماما انس کیسے کر سکتا ہے میرے ساتھ آنیہ گھر آ کر چلا رہی تھی
اور دادا نے بھی کچھ نہیں کہا بلکہ اسے اُٹھا کر گھر لے آئے اور بابا کو تو ان کی کھوئی ہوئی بیٹی جو مل گئی ہے اب میں کہاں ان کو نظر آؤں گی آنیہ روتے ہوئے بول رہی تھی
آنیہ بیٹا بس کر دو جس کا نصیب تھا انس اسے مل گیا ہے نہیں تھا وہ تمہارے نصیب میں اسی لئے خود کو سنبھال لو اور اپنا رویہ ان کے ساتھ ٹھیک رکھنا جو بھی ہیں تمہارے باپ کی بیٹیاں ہیں وہ
ماما بابا نے آپ کو بھی دھوکہ دیا تھا نہ آپ کے میرے اور عالی لالہ ک کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کر لی اللہ نے ان کو سزا دی ہے آنیہ روتے ہوئے بولی تھی
بس بہت ہو گیا جاؤ اپنے روم میں اور کوئی بھی غلط خرکت مت کرنا نکالوں خود کو انس کے چکر سے دیکھتی ہوں اب تمہارے لیے بھی کوئی رشتہ تاکہ تم بھی شادی کر کے اگلے گھر جاؤ
عالی اور پری کے ساتھ تمہاری بھی شادی کرنے کا فیصلہ ہے میرا آنیہ کی ماں نے آنیہ کو دیکھ کر بولا تھا جو سکتے میں کھڑی اپنی ماں کی باتیں سن رہیں تھی
ماما پلیز رحم کریں مجھ پر انس کو بھول جانا کیا دومنٹ کا کھیل ہے وقت لگے گا مجھے وہ ان کو خیریت سے دیکھتی وہاں سے چلی گئی تھی
کرنی تو پڑھے گی آنیہ شادی تم کچھ الٹا سیدھا نہ کر دو اسی لئے وقت پر ہی سب کر دوں وہ سوچتے ہوئے بولی تھیں
❤️❤️❤️❤️
زینی سب کے ساتھ نہیں گئی تھی اسی لئے وہ اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی
تبریز کمرے میں آئے تو اس کو سوتے ہوئے دیکھ کر مسکرا کر اس کی طرف بڑھا تھا
زینی اُٹھو چائے بنا کر لے کر آؤ میرے لیے وہ زینی کو ہلا کر بولا تھا جو ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھی
پلیز سونے دیے مجھے اور آپ بھی سو جائیں وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی تھی
اوکے مت اُٹھو وہ اس کے چہرے پر جھکا اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا
بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم زینی وہ اس کے گال کو اپنے انگوٹھے سے سہلا کر بولتا وہاں اپنے لب رکھ گیا تھا
زینی نے جلدی سے آنکھوں کو کھولا تھا
تب۔۔۔۔۔۔۔تبریز پلیز میں اُٹھ رہیں ہوں وہ اس کے لمس کو اپنی پیشانی پر محسوس کرتے ہوئے بولی تھی
زینی کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتی کیا اتنی بڑی سزا دو گی میری غلطی کی وہ اس کے بالوں پر اپنے ہونٹوں کو محسوس کر رہی تھی
کیا معاف کر دینا اتنا آسان ہوتا ہے تبریز جب کوئی کچھ بھی جانے بغیر آپ کے وجود کی نفی کرتا ہے آپ کے کردار پر انگلی اٹھتا ہے آپ کو پل پل اعزیت کے پلصراط سے گزرنے پر مجبور کر دیتا ہے
زینی اپنی آنکھوں کو بند کیے آنسو کے ساتھ بول رہی تھی اس کی بند آنکھوں میں سے بھی آنسو نکل رہیے تھے
تبریز اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر اس کے چہرے پر جھکا اسے غور سے دیکھا رہا تھا اس کے آنسو تبریز کو خود کے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہو رہیے تھے
زینی پلیز ایک موقع تو دو مجھے میں سب ٹھیک کر دوں گا وہ اس کی آنکھوں پر باری باری اپنے ہونٹ رکھ کر بولا تھا
موقع ہی تو دیا ہے آپ کو پر میں ابھی سب نہیں بھول پا رہی آپ کی قربت سے سب یاد آنے لگتا ہے مجھے مجھے وحشت ہونے لگتی ہے اس رشتے سے اسی لیے میں خود کو ابھی وقت دینا چاہتی ہوں وہ اپنا رح دوسری طرف موڑ کر بولی تھی
ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی جتنا وقت چاہیے لے پر مجھ سے دور جانے کی بات مت کرنا وہ اس کا رخ اپنی طرف موڑ کر اس کے ماتھے سے اپنا ماتھے ٹکا کر بولا تھا
مجھے تم سے بہت محبت ہے زینی آج سے نہیں تب سے جب سے تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جڑنے لگا تھا تب سے مجھے محبت ہونے لگی تھی تم سے تم ہی بتا دو میں کیسے برداشت کر لیتا کے میری محبت میری منگ کسی اور کو سوچے بھی
اسی لیے میرے جنون نے یہ سب کر دیا زینی میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا
پاگل ہو رہا تھا میں مجھے معاف کر دو زینی میں نے بہت غلط کیا مجھے تمہارا اعتبار کرنا چاہتے تھا وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا تھا
معاف کر چکی ہوں آپ کو تبریز بس خود کو ان یادوں سے نکلانا چاہتی ہوں تاکہ ہم دونوں پھر ایک پرسکون زندگی گزار سکھے مجھے وقت دیں تھوڑا سا آپ کی ہی ہوں وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے پیار دیکھ کر بولی تھی
میں انتظار کروں گا تمہارے لوٹ آنے کا جب بھی خود کو اکیلا محسوس کرو بس ایک دفعہ آ جانا میرے پاس مجھے خود کا منتظر پاؤ گی وہ اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے پیچھے ہو گیا تھا
میں آپ کے لیے چائے لے کر آتیں ہوں زینی جلدی سے اس کے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ نکل کر باہر کی طرف نکل گئیں تھی
بہت جلدی ہی تم سب کچھ بھول جاؤ گی زینی میری محبت میں بہت طاقت ہے مضبوط لہجے میں ایک اعظم سے بولتا مسکرا دیا تھا
❤️❤️❤️❤️❤️
سب کی گاڑیاں آگے پیچھے خویلی میں داخل ہوئیں تھیں حیاء زویا کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکلی تھی اس نے زویا کو خود کے ساتھ لگایا ہوا تھا
فریحہ بھی گاڑی سے نکل کر حیاء کے پاس آ گئی تھی
آپو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ماما کے بغیر میں کیسے رہوں گی زویا رونی شکل بنا کر بولی تھی
یہ تو پہلے سوچنا چاہیے تھا اس سے نکاح کرنے سے پہلے حیاء منہ بنا کر بولی تھی
آپو آپ سے نہیں بول رہی میں زویا منہ بن کر دوسری طرف دیکھنے لگا گئی تھی
مزاق کر رہی تھی یار تم تو میری فیری ہو چھوٹی سی تم میرے ساتھ میرے روم میں رہو گی اوکے میرا بچہ وہ اس کے گال کو تھپتھپا کر بولی تھی
انس حیاء کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جو زویا سے باتیں کر رہی تھی
اپنے اوپر نظریں محسوس کر کے حیاء نے دوسری طرف دیکھا جہاں انس اسے دیکھا رہا تھا
حیاء منہ بسورتے ہوئے اپنا چہرا دوسری طرف کر گئی
چلو سب اندر دادا شاہ اندر کی طرف بڑھتے ہوئے بولے تھے باقی سب بھی ان کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گیے تھے
انس نے جاتی ہوئی حیاء کو پیچھے سے اپنی طرف کھینچا تھا جو جا کر اس کے سینے سے لگی تھی
کیا تکلیف ہے انس تمہیں چھوڑو مجھے وہ غصے سے اس پر غرائی تھی جو اس کے چہرے کو بہت دلچسپی سے دیکھا رہا تھا
بہت شوق ہے نہ لڑکوں سے خود کو ہاتھ لگوانے کا آج تمہارے شوق میں پورے کروں گا اور اس طرح پورے کروں گا کے بس تم دیکھتی جاؤ اب تم سانس بھی مجھ سے پوچھ کر لو گی سمجھی تم وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے خود کے بہت قریب کر کے بول رہا تھا
ڈرتی نہیں ہوں میں تم سے اور یہ دھمکیاں نہ جا کر کسی اور کو دینا میں حیاء ہوں سمجھے
چھوڑو مجھے جنگلی انسان مارنے کا ارادہ ہے کیا حیاء دارد سے چیخ کر بولی تھی کیونکہ انس اس کے گال کو زور زور سے رگڑ رہا تھا جہاں سے سلال نے اس کا گال کھنچا تھا
میں تمہارے وجود پر کسی کے ہاتھ کا لمس بھی برداشت نہیں کر سکتا حیاء چاہیے وہ تمہارا بھائی ہو یا بہن اسی لئے اب یاد رکھنا وہ اپنے اندر ایک جنونیت لیے بولتے ہوئے حیاء کو چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تھا
تب کیا کرو گیا تم انس جب تم کو معلوم ہو گا کہ میرے زندگی پر کسی دوسرے کے نشان ہیں حیاء نے سختی سے اپنے لب بیچے لیے تھے آنکھوں میں نمی آنے لگی تھی
نہیں حیاء تم اتنی کمزور نہیں ہو سکتی انس کا کیا ہے وہ آج نہیں تو کل چھوڑ دے گا تم کو خود کو مضبوط بناؤں تم صرف اور صرف فریحہ اور زویا کی وجہ سے آئی ہو یہاں انس نہ کل تمہارا تھا نہ آج ہو سکتا ہے تمہارا وہ اپنی چیزوں کے معاملے میں جنونی ہے
پر میں تو نہیں نہیں میں اس کے لیے نہیں ہوں وہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے اپنی نمی کو اپنے اندر اتار کر مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں اب بہت سے امتحان اس کے انتظار میں تھے