Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Last Episode)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Last Episode)
Bad Bakhat by Arshi Noor
سبحانہ کی نظر رتابہ کی تصویر پر پڑی تو اس نے علی سے تصویر لیتے ھوۓ کہا یہ کہاں سے لی تم نے؟؟؟؟
سبحانہ نے تصویر کو غور سے دیکھا اور اس تصویر پر ہاتھ پھیر کر زیر لب بڑبڑای۔۔۔
ملائکہ۔۔۔۔۔۔
علی نے حیرت سے ماں کو دیکھا کون ملائکہ ماں جی؟؟؟؟
وہ تصویر کو چومتے ہوئے بولی میری بچی ملائکہ سکندر سے لی ھے تم نے یہ تصویر؟؟؟؟؟؟
عضد کے ھوش اڑنے لگے امی غور سے دیکھیں یہ آپکی بیٹی ملائکہ نہیں ھے ۔۔۔
علی بیٹا آنکھیں اندھی بھی ھو جائیں نا تو ماں اپنی اولاد کو پہچانتی ھے۔۔۔
علی ماں کی بات سن کر حواس باختہ ہوکر انکے قدموں میں آ بیٹھا امی یہ کیا کہہ رہی ھیں آپ؟؟
وہ اسکی بے یقینی پر آہستہ سے بولی کیوں تمھیں یقین کیوں نہیں آرہا؟؟؟؟
علی کی آنکھیں حیرت سے پورے چہرے پر پھیلیں آپ نے تو کہا تھا کہ ھماری بہن مر چکی ھے لیکن امی جسکی تصویر آپ کے ہاتھ میں ھے یہ تو زندہ ھے۔۔۔
علی کی بات سن کر سبحانہ کو غش آ گیا وہ اپنے ھوش برقرار نا رکھ سکی اور اگلے ہی لمحے اسکا سر علی کے کندھوں پر جھولنے لگا۔۔۔۔
ماں جی۔۔ ماں جی۔۔۔۔
اس نے ماں کو گود میں لیکر انکا چہرہ تھپتھپایا اور پریشانی سے بانو کو بلانے لگا بانو۔۔۔بانو۔۔۔۔وہ بلند آواز میں چلایا۔۔۔
جی صاحب جی وہ دوڑی یلی آئ علی کی آواز پر۔۔
پانی لاؤ جلدی سے۔۔۔۔
وہ سبحانہ کو بیہوش دیکھ کر بھاگ کر پانی لائ۔۔۔
علی نے پانی کی چھینٹے ماں کے منہ ماریں۔۔۔
تو آنکھیں کھولتے ہی وہ بھاگتے ھوۓ سکندر کے کمرے میں آئ اور دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ھوئ۔۔۔۔
وہ فون پر کسی سے مخاطب تھا اچانک دروازہ کھول کر سبحانہ کے اندر آنے پر چونکا۔۔۔۔
علی بھی ماں کے پیچھے پیچھے ہی تھا۔۔۔۔
وہ سکندر کا گریبان پکڑ کر بولی کہاں ھے میری بچی میری ملائکہ۔۔۔
سکندر نے آرام سے بہن کو کندھوں سے تھاما تمھارے ایکسیڈینٹ میں چل بسی تھی وہ اس دنیا سے۔۔۔۔
سبحانہ بلند آواز میں چلائ جھوٹ بول رھے ھو تم میری بچی مری نہیں تھی وہ اسکا گریبان سختی سے اپنی مٹھی میں دبوچے ھوۓ تھی۔۔۔
سکندر اپنی بہن کا جنون دیکھ کر پریشانی سے بولا مجھے کیا ضرورت ھے جھوٹ بولنے کی۔۔۔
سبحانہ زاروقطار رو پڑی سکندر تم نے جھوٹ بولا مجھ سے میری بچی زندہ ھے سکندر میری ملائکہ زندہ ھے وہ اسکا گریبان پکڑ کر زور زور سے جھنجوڑنے لگی۔۔۔۔
سکندر نے علی کی طرف دیکھا جو پتھر کا بت بنا ماں اور ماموں کو دیکھ رہا تھا۔۔
سکندر نے سبحانہ کو آرام سے بیڈ پر بٹھایا کس نے کہا ھے تم سے یہ سب؟؟؟
سبحانہ نے علی کے ہاتھ میں پکڑی تصویر سکندر کو دکھائ یہ تصویر دیکھ رھے ھو اس نے سکندر کے سامنے تصویر پر ہاتھ مار کر کہا ۔۔۔
دیکھ رھے ھو یہ تصویر یہ میری بچی ملائکہ کی ھے آواز قدرے بلند اور درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔
سکندر نے علی کی طرف دیکھا۔۔۔
حیرت کے مارے علی کی آنکھوں میں آنسو جم گۓ تھے۔۔۔۔
وہ اسکی طرف لپکے تم نے کہاں سے لی یہ تصویر؟؟؟
سکندر کے پاس آنے پر علی پر چھایا سکتہ ٹوٹا اور وہ بلکل شل ھوتے اعصاب کے ساتھ بولنے لگا ۔۔
ماموں جان ماں جی کے ہاتھ میں جو تصویر ھے وہ بچی زندہ ھے اب علی کی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ کر کے گرنے لگے۔۔۔۔۔
سکندر کے پیروں تلے زمین ہل کر رہ گئ۔۔۔
سبحانہ سر پر ہاتھ رکھے روتے ھوۓ بولی سکندر تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تھا کیوں مجھے تم نے 22 سال اندھیرے میں رکھا کیوں سکندر کیوں کیا بگاڑا تھا میں نے تمھارا کس بات کا بدلہ لیا ھے تم نے مجھ سے بولو سکندر بولو۔۔۔۔ وہ اتنی شدت سے چلا رہی تھی کہ اسکی گردن کی رگیں کھنچھتے ھوئے صاف دکھائی دے رہی تیہ۔۔۔۔
سکندر نے سبحانہ کے سر پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھا میری مجبوری تھی۔۔۔۔
علی انکے سامنے چٹان کی مانند آ کر کھڑا ھوا کیسی مجبوری؟؟؟؟
سکندر کی آنکھیں بھی آنسوؤں میں ڈبڈبائیں وہ بے چینی سے ہاتھ مسلتا ھوا سر جھکاۓ علی کو جواب دینے لگا۔۔۔
آج اس سکندر کی عدالت لگی تھی بہن اور بھانجے کے سامنے جو دوسروں کے فیصلوں کا جج تھا جو جرگے میں بیٹھ کر سب کے فیصلے منٹوں میں نمٹایا کرتا تھا آج اسکے بولے گۓ جھوٹ کی سچائ 22 سال بعد اسکے سامنے آن کھڑی ھوئ تھی۔۔۔۔
سکندر ٹوٹے پھوٹے لہجے میں گویا ھوا۔۔۔
علی بیٹا تمھارے باپ کے مرنے کے بعد تمھاری ماں یہاں سے چلی گئ تھی خاندان سے تو یہ پہلے ہی باہر تھی لیکن پھر اپنی حویلی بھی چھوڑ گئ۔۔۔۔
لیکن میں اپنے بندوں کے ذریعے اسکی خبر گیری میں رہا ھمیشہ میں کبھی اسکی حفاظت سے اسکے حال احوال سے غافل نہیں رہا۔۔۔
مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ تمھارے والد کے مرنے کے کچھ عرصے بعد اس نے اک بچی کو جنم دیا ھے لیکن میں اس بچی کو دیکھ نہیں پایا تھا کیونکہ سارے رشتے توڑ چکی تھی یہ مجھ سے لیکن میں اس سے غافل نہیں رہ سکا ایک پل بھی۔۔۔۔۔
لیکن تمھاری ماں کا جب ایکسیڈینٹ ھوا اسوقت میں بھی یہاں نہیں تھا ایکسیڈینٹ کی خبر مجھے کچھ دن بعد ملی تو میں دبئ سے فوراً پاکستان آیا اور اس سے ملنے ھوسپٹل گیا۔۔۔
سر پر گہری چوٹ لگنے سے اسے کچھ بھی یاد نا تھا صدماتی کیفیت میں تھی یہ اور دماغی دورے پڑنے لگے تھے اسے میرے آدمی شاہ جی کو حویلی لے آئے تھے۔۔۔
میں نے بہت تلاش کیا ملائکہ کو لیکن اسوقت میرے پاس نا کوئ تصویر تھی نا میں نے بچی دیکھی تھی۔۔۔
پانچ سال تمھاری ماں کو دماغی دورے پڑتے رھے کافی علاج اور دعاؤں کی بعد یہ پانچ سال بعد ٹھیک ھوئ۔۔۔۔۔
پھر میں اسے اسکی بچی کے گم ھونے کی خبر کیسے سناتا؟؟؟؟
یہ تو ممتا کی تڑپ میں پھر سے پاگل ھو جاتی اور شاید دوبارہ کبھی ٹھیک نا ھو پاتی اسلیے میں نے اس سے جھوٹ بولا تھا جس پر میں معافی چاھتا ھوں تم سب سے لیکن یہ جھوٹ بھی وقت کے تقاضوں کے عین مطابق سچ سے کئ گنا بڑھ کر بہتر تھا کہ اس سے تمھاری ماں کی زندگی اور موت کا معاملہ تھا میں نے برسوں کوشش کی کسی گمشدہ بچی کی تلاش میں مسلسل رہا لیکن سالوں کی تلاش نے مجھے بھی تھکا دیا اور میں بھی مایوس ھو گیا تھا کہ شاید واقعی حادثے میں چل بسی ملائکہ بھی۔۔۔۔
علی سکندر سے حقیقت سن کر سبحانہ سے لپٹ کر اس قدر رویا کہ اس نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا دونوں کی آوازیں رونے کی کمرے سے باہر تک جا رہی تھیں علی کو رتابہ کے ساتھ ھونے والا ایک ایک ظلم ایک ایک زیادتی یاد آنے لگی رتابہ کے جملے اسکے آنسو علی کو اپنے جسم پر اسوقت تیزاب کیطرح گرتے ھوۓ محسوس ھو رھے تھے۔۔۔
رتابہ اسکی بہن تھی اور کیا کیا درد جھیل کر وہ بڑی ھوئ تھی علی کے آنسو تھم ہی نہیں رھے تھے اسکا ایک ایک درد علی کے سامنے چیخ پکار کر رو رہا تھا اور وہ ماں سے لپٹ کر اسکے رھے سہے آنسو اپنی آنکھوں سے بہا رہا تھا۔۔۔
زمین پر شدت احساس سے گھونسے مار مار کر وہ رویا اور اب تو سر پٹختے لگا کہ رتابہ کیسے لاوارثوں کیطرح لوگوں کے در پر پلی اور پھر ایک ناجائز بچے کی ماں اففففففف علی اپنی جان لے لیتا اسوقت لیکن علی کی غیر ھوتی حالت دیکھ کر سکندر نے اپنے ساتھ لگایا اسے اور پوچھا کہاں ھے یہ بچی؟؟؟؟
علی آنسوؤں سے مغموم آواز میں بولا ماما جی رتابہ جو اس گھر میں آئ تھی کچھ دن پہلے وہی ملائکہ ھے۔۔۔۔۔۔۔
سبحانہ نے جب رتابہ کا سنا تو اس نے سانس لیۓ بنا علی سے کہا مجھے میری بچی کے پاس لے چلو علی جلدی کرو کہیں میرا دم ہی نا نکل جاۓ۔۔۔۔
علی نے ماں کے ہاتھ چومے ماں جی پہلے میں آپکو اس شخص کے پاس لے کر جاؤنگا جس نے سیپ میں چھپے موتی کیطرح ھماری بہن کو اپنے پاس رکھا تھا جس نے جگ جگ رسوائی اپنے گلے کا ہار بنائ لیکن ھماری ملائکہ کو خود سے جدا نا کیا۔۔۔۔۔۔
سکندر اور سبحانہ کو لیۓ وہ سیدھا بندیا کے گھر آیا اور گوپال سے ملوایا۔۔۔۔۔
سبحانہ اور سکندر دونوں ہاتھ جوڑے اسکا شکر ادا کرنے لگے کہ انکی بچی کو گوپال نے اپنی عزت بنا کر اپنے گھر رکھا تھا۔۔۔۔
بندیا اور دیوی پر جب بختی کی حقیقت آشکار ھوئ تو وہ حیرت زدہ رہ گئیں اور دیوی خود کو کوستی رہ گئ کہ اس نے کتنا ظلم کیا تھا بختی کیساتھ۔۔۔۔۔۔۔
گوپال نے علی کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹا ایک بار مجھے میری بختی سے ملوا دو ان سے زیادہ گوپال بے چین تھا بختی سے ملنے کو۔۔۔۔۔۔
علی نے گوپال کو زور سے گلے سے لگایا انکل آج بھی وہ آپکی بیٹی آپکی بختی ھے ھم سب کی بختی ھے وہ۔۔۔۔
علی کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
بندیا نے فوراً شاہ جی کو فون کر کے اطلاع دی۔۔۔۔
علی سبحانہ گوپال اور سکندر کو لیکر عضد کے گھر پہنچا۔۔۔۔۔
ان سب کو ایک ساتھ اسطرح روتا تڑپتا دیکھ کر نرگس اور مسز ھمدانی جو لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں پریشان ہوگئیں۔۔۔۔۔
علی بنا دیر کیے بھاگتا ھوا اوپر آیا اور زور زور سے دروازہ بجایا۔۔۔
عضد نے دروازہ کھولا وہ روتے ھوئے اسے پیچھے ہٹا کر رتابہ کا ہاتھ تھامے نیچے آیا اور سب کے سامنے اسے کھڑا کیا۔۔۔۔۔
ھمدانی صاحب اور عضد بھی باہر آۓ۔۔۔
شاہ جی بھی آگیا۔۔۔۔۔
سب کو شدت جذبات سے روتا دیکھ وہ حیران پریشان کھڑے تھے۔۔۔۔
علی کی آواز نے سب پر چھایا سکوت توڑا۔۔۔۔
عضدددد علی کا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا رتابہ کو دیکھ کر اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر جاتا اسوقت بھی اسکے الفاظ اسکے وجود سے زیادہ تھرتھرا رھے تھے۔۔۔۔
ررررررتاااااا بہ۔۔۔۔۔ اسکی سانسیں تھمنے لگیں عضد سمیت سبھی شش و پنج میں مبتلا ھو گۓ کی کیا ھوا تھا رتابہ کو؟؟؟؟
رتابہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کہ کہیں دیان کی حقیقت علی کو تو معلوم نہیں ھوئ۔۔۔۔
پھر وہ ایک دم آنسوؤں کے درمیان عضد سے لپٹ کر بولا۔۔۔
رتابہ ھماری سگی بہن ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی کی بات تھی یا دھماکہ نرگس عضد اور رتابہ تینوں بے یقینی سے ایک دوسرے کو تکنے لگے عضد نے بے یقینی سے علی کو خود سے الگ کیا کیا کہہ رھے ھو تم یار؟؟؟؟
علی نے مختصر الفاظ میں ساری بات بتائ۔۔۔۔
شاہ جی سبحانہ اور علی تینوں ہی اسکی طرف حسرت سے بانہیں پھیلائے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
رتابہ نے ایک نظر تینوں کو دیکھا پھر ان سب کے پیچھے ایک طرف کونے میں کھڑے گوپال کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی برداشت کے سارے بند توڑ کر سب سے پہلے دیوانہ وار بھاگ کر گوپال کے گلے سے جا لگی ماما جی۔۔۔۔۔
گوپال اپنی بختی کو سینے سے لگاۓ پھوٹ پھوٹ کر رویا پھر اسے خود سے الگ کر کے اسکا ماتھا چوما۔۔۔۔
جا میری بچی اپنے وارثوں سے مل جن کیلیۓ تو سسک سسک کر بچپن سے دعائیں مانگتی تھی۔۔۔۔۔
وہ گوپال کے سینے سے الگ ھو کر سبحانہ سے جا لپٹی
سبحانہ نے اسے اتنے زور سے اپنے سینے سے لگایا کہ رتابہ کو لگا اسکی پسلیاں سبحانہ کی پسلیوں میں دھنس جائیں گی۔۔۔
سبحانہ نے اسے سو بار چوما اسکا سر اسکی آنکھیں اسکے گال اسکی ناک وہ اسے بار بار چومنے لگی۔۔۔
پھر اس نے پاس کھڑے علی کو دیکھا جسکی بدولت وہ ماں تک پہنچی تھی۔۔۔۔
علی نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا بہت زیادہ رویا تھا وہ۔۔۔۔
پھر شاہ جی نے بھی پوری قوت سے بہن کو اپنے سینے سے لگایا آج وہ دوسری بار اتنا رویا تھا ایک بار جازب کیلیے اور آج رتابہ کو گلے لگا کر کتنا درد کتنی اذیتیں کیا کچھ نہیں سہا تھا اس نے۔۔۔۔
سکندر نے بھی اسکا سر سینے سے لگا کر چوما عضد شاہ جی کے گلے سے لگا۔۔۔۔
ھمدانی نے بھی اسکا ماتھا چومتے ھوۓ کہا جب میں نے پہلی بار دیکھا تھا اسی وقت میرے دل نے تمھاری کشش بہت محسوس کی تھی میں اسوقت اپنے اس احساس کو کوئ نام نہیں دے سکا تھا دیکھتے ساتھ ہی میرے دل میں اتر گئ تھی تم۔۔۔۔۔
کیسی سچائ سامنے آئ تھی یہ کہ ہر آنکھ ہر منظر اشکبار تھا کسی کے آنسو تھم ہی نہیں رھے تھے اور سب اسقدر خوش تھے جیسے کوئ مر کر دوبارہ زندہ ھوا ھو۔۔۔۔۔
بار بار علی شاہ جی سبحانہ اسے گلے سے لگاتے اور اسکا ماتھا چومتے۔۔۔۔
عضد نے گوپال کو سینے سے بھینچا ماما جی آپ نا ھوتے تو شاید آج بختی ھمارے بختوں میں نا ھوتی۔۔۔۔
آج وہ کتنے رشتوں کے بیچ تھی اس نے تو ایک وارث مانگا تھا رب سے لیکن اسکے وارث تو اتنے تھے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ بھی شاہ جی اور علی جیسے وارث۔۔۔
رتابہ کو اب تک یقین نہیں آرہا کہ وہ آج اپنے وارثوں کے بیچ موجود ھے اسے یہ سب اک خواب سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے برملا اظہار کیا اس بات کا کہ وہ کیسے یقین کر لے اس حقیقت پر کہ علی اور شاہ جی اسکے بھائ ھیں کیسے قبول کر لی اللہ نے اسکی دعا وہ اب تک شاکڈ تھی۔۔۔
نرگس نے روتی ھوئ رتابہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنے رب کی تعریف میں بولنے لگی۔۔۔۔
میری بچی میری جان۔۔۔۔
وہ جسکا نام ھے الخبیر۔۔۔۔یعنی خبر رکھنے والا۔۔۔۔۔
وہ کیسے تمھاری سسکیوں سے بے خبر رہ سکتا تھا؟؟؟
وہ جسکا نام ھے الودود۔۔۔یعنی محبت کرنیوالا۔۔۔۔
وہ کیسے اس محبت کی لاج نا رکھتا جو تمھیں اس سے ھے۔۔۔
وہ جسکا نام ھے المتین۔۔۔ یعنی طاقت والا۔۔۔۔۔
وہ کیسے تمھیں کمزور رہنے دے سکتا تھا؟؟؟
وہ پاک ذات جسکا نام ھے الوکیل۔۔۔۔۔ یعنی کام بنانے والا۔۔۔۔
پھر وہ کیسے تمھاری کہانی کو ادھورا رہنے دے سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
تم نے بڑی ھمت سے صبر کیا اور بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنیوالوں کیساتھ ھے۔۔۔۔
_________________
شاہ جی گوپال کو گھر چھوڑنے گیا تو سارے راستے میں گوپال نے بختی کے بختوں کا ذکر کیا۔۔۔۔
شاہ صاحب اس بچی کا نام میں نے بختی اسلیے رکھا تھا کہ جس دن سے اس نے میرے گھر قدم رکھا تھا اسکے قدموں سے میرے بھاگ کھل گۓ میں ایک غربت کا مارا مزدور تھا میرا اپنا گھر بھی نا تھا اس بختی کے ساتھ میرے بخت دنوں میں بدلے میں مزدور سے ٹھیکدار بنا پھر کراۓ کے گھر سے اپنے ذاتی گھر بنایا پھر سالوں بعد مجھے بھگوان نے اولاد سے نوازا۔۔۔۔۔
میں نے اس بچی کو اپنے دین پر گامزن بھی نہیں کیا تھا کیونکہ اس بچی کو گود میں لیتا تھا تو ایک عجیب ہی مہک آتی تھی اس سے مجھے اور اگر اسے مندر لے کر جاتا گود میں اٹھا کر تو یہ چیخنا چلانا شروع کر دیتی تھی اور اذان کی آواز پر اسکا مرجھایا ھوا چہرہ کھل کھلا جاتا تھا بڑی خاموشی سے یہ اذان سنتی تھی میں نے اسے اپنی پرورش دیکر مجبور نہیں کیا کہ یہ میرے دین پر چلے نا اسکی عادت دیکھ کر اسے خود سے جدا کیا کہ یہ کسی نیک مسلمان کا خون ھے۔۔۔۔۔
بس وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ بچی میرا لخت جگر بن گئ اسے دیکھ دیکھ جینے لگا تھا میں۔۔۔ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر چاہا اسے لیکن اس بات پر میں آپ سب سے معافی کا طلبگار ھوں کہ بختی کو مجھے خود سے جدا کرنا پڑا۔۔۔۔
شاہ جی کو گوپال سارا قصہ رو رو کر سنایا۔۔۔۔۔۔
وہ خود بھی رو رہا تھا اور شاہ جی کو بھی رلاۓ جا رہا تھا لیکن میرے بھاگ میں میری اپنی بچی کا نصیب اچھا نا ھو سکا یہ بھی میری گھر والی کو بختی پر ظلم کی سزا ملی ھے۔۔۔۔۔
شاہ جی سنتا رہا گوپال کو بندیا کو لیکر وہ زار زار رویا
میں نے بہت منع کیا تھا اسے شادی نا کر وہ جلاد ھے لیکن یہ اسکی باتوں کے جال میں پوری طرح پھنس چکی تھی مجھے مجبور ھو کر اسکی شادی بابو سے کرنی پڑی جس نے بوٹی بوٹی نوچ لی میری پھول سی بچی کی۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکو حوصلہ دیا گوپال کا گھر آ چکا تھا۔۔۔
گوپال اسے اپنے ساتھ لایا دیوی نے ماتھا چوم کر اسکا استقبال کیا بندیا کا چہرہ بھی چمکنے لگا تھا شاہ جی کو دیکھ کر ان کے بیچ کافی باتیں اور معافی تلافی ھوتی رھی پھر شاہ جی نے گوپال سے پوچھا کہ بندیا کے بارے میں آگے کیا سوچا ھے آپ نے؟؟؟
گوپال کے سر کیساتھ اسکے کندھے بھی جھک گۓ وہ مایوسی کی اتھا گہرائیوں میں ڈوبتی ہوئی آواز میں بولا جو اوپر والے نے لکھا وہی ھوگا۔۔۔۔۔
شاہ جی گہری سوچ میں پڑ گیا پھر کچھ دیر بعد بولا۔۔۔۔
ماما جی اگر آپ نے بختی میری بہن بابو کے حوالے کی ھوتی تو آج بندیا کیساتھ یہ سب نا ھوتا۔۔۔۔۔
گوپال نے شاہ جی کی بات پر جھرجھری لی نا شاہ جی نا میری بوٹی بوٹی نوچ کھاتا وہ تب بھی میں اپنی بختی اسکے حوالے نا کرتا وہ بچی میرے پاس امانت تھی بندہ اپنی جان سے جاۓ پر ایمان سے نا جاۓ۔۔۔۔۔
شاہ جی نے سگریٹ سلگایا۔۔۔۔
بندیا ندامت سے سر جھکاۓ اسکے سامنے ہی بیٹھی تھی۔۔۔
ماما جی آپ نے ھماری عزت(رتابہ) کو اپنی عزت بنا کر بڑی عزت سے اپنے گھر میں رکھا آج میں آپکے گھر کی ذلت کو اپنے گھر کی عزت بنانا چاھتا ھوں۔۔۔۔
کیا مطلب؟؟؟ دیوی اور گوپال حیرت انگیز طور پر بلند آواز میں بولے۔۔۔۔۔
شاہ جی بڑے سادہ لیکن دل آویز لہجے میں بولا میں بندیا سے شادی کرنا چاھتا ھوں اگر وہ اسلام قبول کر سکتی ھے تو؟؟؟؟؟
شاہ جی کے یہ بولنے کی ہی دیر تھی کہ گوپال اور دیوی اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑے ھوۓ۔۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رھے ھیں آپ؟؟؟؟
شاہ جی نے اپنی بات دوبارہ دوہرائ تو وہ دونوں اسکے قدموں میں آ بیٹھے۔۔۔۔
شاہ جی نے انھیں اوپر اپنے ساتھ بٹھایا یہ کیا کر رھے ھیں آپ؟؟؟ مجھے گنہگار تو نا کریں۔۔۔۔
گوپال شاہ جی کا ہاتھ اپنے ھونٹوں سے لگا کر رویا شاہ جی بہت بدنام ھے میری بچی اور آپ بڑے نام والے زمانہ آپکو جینے نہیں دیگا۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے گوپال کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما آپ زمانے کی فکر نا کریں زمانہ مجھے نہیں بدل سکتا البتہ زمانے کو بدلنے کا ہنر اللہ تعالیٰ نے میری ذات میں رکھا ھے۔۔۔۔۔
آپ نے غیر مسلم ھو کر اتنی فراخدلی سے کام لیا 18 سال گھر والوں سے لڑتے جھگڑتے میری بہن کو اپنی جان سے عزیز تر رکھا پھر چار سال اسکو بچاتے ھوۓ خود ذلت کی ٹھوکریں در بہ در کھاتے رھے اپنی بچی کو بھی قربان کیا بابو جیسے کمینے انسان کے حوالے آپ نے اپنا لخت جگر کر دیا صرف میری بہن بختی کی خاطر کیا غرض تھا آپکو میری بہن سے؟؟؟؟؟ کیا دے سکتی تھی وہ آپکو؟؟؟؟
لیکن آپ نے اسوقت اسکا ساتھ دیا جہاں زمانے بھر نے اسکا ساتھ چھوڑا تو کیا میرا حق نہیں بنتا کہ اب اس مشکل وقت میں آپکا سہارا میں بنوں اس بدنامی کی دلدل سے میں آپکو نکالوں۔۔۔۔۔۔
گوپال نے اپنا فیصلہ اسکے حق میں دے دیا دیوی نے بھی اقرار کیا کہ انسانیت سے بڑا کوئ مذہب نہیں اولاد تو ھم سب آدم کی ھیں۔۔۔۔
اور آدم کا جو رب ھے وہ ھم سب کا رب ھے۔۔۔
دیوی نے بندیا کا ہاتھ شاہ جی کے ہاتھ میں دیتے ھوئے کہا
صرف بندیا ہی نہیں ھم بھی تمھارے اس رب پر ایمان لاتے ھیں جس نے تمھیں ھمارے گھر ہدایت کا پیامبر بنا کر بھیجا۔۔۔۔
شاہ جی کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔
تم اتنے رحم دل انصاف پسند اور ایماندار ھو پھر جس رب پر تم ایمان لاۓ وہ کتنا عدل و انصاف والا ھے اس بات کا یقین تمھیں دیکھ کر آیا۔۔۔۔۔
گوپال بندیا اور دیوی نے ایک ساتھ مسلمان ھونے کا اقرار کیا
پائل دروازے پر کھڑی یہ سب دیکھ اور سن رہی تھی۔۔۔۔۔
شاہ جی نے روتے روتے اسطرح کلمہ پڑھا کہ پائل کا دل بھی پسیج گیا۔۔۔۔۔۔۔
ایسا کلمہ شاہ جی نے آج تک نا پڑھا تھا جسکا لفظ لفظ اسکی روح کو نچوڑتا ھوا آنسوؤں کی جھڑی میں ادا ھو رہا تھا۔۔۔۔
لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ
نہیں کوئ معبود سوا اللہ تعالیٰ کے محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰہ کے رسول ھیں۔۔۔۔
اسکی تقلید میں ان چاروں نے با آواز کلمہ پڑھا۔۔۔۔۔۔
_________________
شاہ جی نے گھر آنے سے پہلے مسجد کا رخ کیا اور اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا پھر جب گھر لوٹا تو اسکے چہرے کی چمک دیکھ کر ہر آنکھ اس پر ٹھہر سی گئ۔۔۔
سبحانہ پوچھے بنا نا رہ سکی اتنا پر نور چہرہ لیکر کہاں سے لوٹے ھو؟؟
وہ سبحانہ کو گلے سے لگا کر بولا ماں جی کسی بھٹکے ھوۓ کو الھادی(ہدایت دینے والا) کا راستہ دکھا کر آیا ھوں۔۔۔
کس کو؟؟؟؟ سبحانہ نے پیار سے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔
ماں جی آپکی ھونے والی بہو اور اسکے گھر والوں کو…۔
سب عضد کے گھر ہی موجود تھے سب کے کان ایک ساتھ کھٹکے۔۔۔۔
شاہ جی ماں کو چھوڑ کر پنجوں کے بل رتابہ کے پاس آ کر بیٹھا پھر اسکے دونوں ہاتھ چوم کر بولا جو میری بہن کا لجپال ھے
رتابہ سمجھ گئ تھی اسکی بات میرے ماما جی کا کہہ رھے ھیں آپ؟؟؟
شاہ جی نے ہاں میں سر ہلایا تو رتابہ نے خوشی سے چھم چھم برستے نینوں سے شاہ جی کی چاند کی طرح روشن پیشانی چومی۔۔۔۔
بندیا کو اپنانا چاھتے ھو؟ شاہ جی کی ہاں پر علی چونک کر کھڑا ھوا کہ کیا کہہ رھے ھو تم یار۔۔۔۔۔
شاہ جی سب کو اپنی طرف متوجہ کرتے ھوۓ اپنی بھاری آواز میں بولا۔۔۔۔
میں آپ سب کو بتانا چاھتا ھوں ماما جی کا پورا گھرانہ ھم سے متاثر ھو کر اللہ پر ایمان لانا چاھتا ھے اور کلمہ پڑھ کر وہ مسلمان ھونے کا اقرار بھی کر چکے ہیں اور میں بندیا سے شادی کرنا چاھتا ھوں مجھے امید ھے کہ میرے اس فیصلے سے کسی کو اعتراض نہیں ھوگا۔۔۔۔۔
سکندر کو غصہ آنے لگا یہ تم کیا کہہ رھے ھو برخودار اسکی حقیقت جانتے ھو؟؟؟
جی ماموں جان سب جانتا ھوں اور یہ بھی جانتا ھوں میری بہن کی عزت بچانے کیلئے اس شخص نے اپنی بیٹی اندھے کنوئیں میں پھینکی اگر وہ اسے بابو کے حوالے کرتا تو آج بندیا کی جگہ ھمیں رتابہ ملتی اور ملتی بھی یا نہیں یہ بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔۔
سبحانہ جیسی نیک عورت کا بیٹا تھا وہ اسکی پاکیزگی شاہ جی کے کردار میں چھلک رہی تھی۔۔۔۔
علی بھی حیرانی سے بولا یار کمیونٹی میں ھمارا اک مقام اک مرتبہ ھے کیا جواب دوگے سب کو؟؟
شاہ جی سکون بھرے لہجے میں کہنے لگا جواب تو تب ھوگا جب سوال اٹھے گا یہ ھماری کمیونٹی میں میرے نام سے جانی جائیگی اور کس کی مجال کہ شاہ جی کا نام سن کر سوال کی گستاخی کرے۔۔۔۔
علی اور سکندر ایک ساتھ بولے ھم تمھارے اس فیصلے کے حق میں نہیں ایک بار پھر سوچ لو۔۔۔۔۔
شاہ جی نے رتابہ کے ساتھ بیٹھ کر اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیکر کہا علی اسے دیکھ رھو ھے یہ ھمارا خون ھے ھماری بہن ھے جسے گوپال نے گلی گلی در در کی رسوائ سے بچا کر اپنے گھر میں رکھا خود بھوکا رہا لیکن اپنے گھر والوں سے لڑ کر اسے اپنے حصے کا کھانا کھلایا بلکل ایسے جیسے ماں اپنی کوکھ میں اپنے بچے کو اپنی خوراک سے اپنے خون سے سینچ کر پالتی ھے۔۔۔۔
یہ آج یہاں ھمارے بیچ باعزت عورت کی حیثیت سے موجود ھے تو صرف گوپال ماما کیوجہ سے۔۔۔ گوپال چاہتا تو وہ ھمیں غلط گائیڈ کر سکتا تھا اپنی بدنام بیٹی کو ھماری بختی بناکر ھمارے سامنے پیش کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ سچ تو یہ ھیکہ بختی کیوجہ سے بندیا آج اس مقام پر ھے وہ بلا جھجھک کہہ رہا تھا۔۔۔۔
اگر آج بندیا کیطرح یہ ھمارے بیچ موجود ھوتی تو کیا تب ھم لوگوں کا منہ نہیں توڑ سکتے تھے اپنی بہن کی خاطر؟؟؟
پھر وہ سکندر کی طرف مڑا کیا ماموں جان تب ھم سوسائٹی کا سامنا نا کرتے؟؟؟ ماموں جان مجھے تو حیرت ھو رہی ھے کہ ھماری عزت عزت دینے کے قابل ھے لیکن کسی اور کی بہن بیٹی قابل عزت نہیں ھمارے لیے؟؟؟
علی سوچو ذرا تم گوپال ماما کی جگہ پر ھوتے تو کیا تم اپنی بچی کو بختی جیسی لاوارث لڑکی کی خاطر بابو جیسے خبیث انسان کے حوالے کرتے؟؟؟؟؟ شاہ جی کے سوال پر سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔
عضد کیطرف دیکھ لیں اس نے نہیں کیا قبول ھماری بہن کو؟؟؟ بلکہ اس نے جسطرح قبول کیا کہ ھم ھوتے تو شاید کبھی نا قبول کرتے کسی کو بھی حتیٰ کہ اپنے ہی گھر کی عزت کو بھی…..
سکندر بلکل شاہ جی کی بات ماننے کو تیار نا تھا اسکے چہرے کے ناگوار تاثرات دیکھ کر نرگس یہاں سمجھداری سے کام لیتے ھوئے بولی۔۔۔۔
بھائ صاحب کسی کی بہن بیٹی اس تن فروشی کے کاروبار میں جان بوجھ کر نہیں آتی حالات اور واقعات کی گردشیں اسے یہاں تک کھینچ لاتی ھیں اس رب کی نا شکری نا کریں
آپ سے عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا اک قصہ عرض کرنا چاھونگی۔۔۔۔
وہ اپنے مريدوں کے ساتھ ایک گلی سے گزرے سامنے ایک شرابی پڑا ہوا تھا وہ کہنے لگا اے عبدالقادر
اللّٰہ قادر ہے کے نہیں؟؟
حضرت عبدالقار جیلانی نے کہا
بیشک اللّٰہ قادر ہے
شرابی نے دوسری بار پوچھا
اے عبدلقادر
اللّٰہ قادر ہے کے نہیں؟؟
حضرت عبدالقادر جیلانی نے کہا
بے شک اللّٰہ قادر ہے
شرابی نے تیسری مرتبہ پوچها
اے عبدالقادر
اللّٰہ قادر ہےکے نہیں
حضرت عبدلقادر جیلانی سجدے میں گر گئے اور رونے لگے استغفار کیا اور کہنے لگے
بے شک اللّٰہ قادر ہے بے شک اللّٰہ قادرھے مریدوں سے فرمایا اس شرابی کو نہلاٶ تیار کرو کھانا کھلاٶ
مریدوں نے آپ سے پوچھا اے اللّٰہ کے پیارے کیا ہمیں بتا سکتے ہیں کے ہوا کیا؟
تو آپ نے فرمایا کے جب اس نے پہلی بار پوچھا تو اس کا کہنا تھا کے اللّٰہ معاف کر سکتا ہے کے نہيں
اور دوسری مرتبہ پوچھا تو اس کا کہنا تھا کے اللّٰہ آپ جیسا مجھے بنا سکتا ہے کے نہیں
اور تیسری مرتبہ اس نے پوچھا کے اللّٰہ آپ کو میرے جیسا کر سکتا ہے کے نہیں
تو میرے اندر خوف جگا اور معافی مانگنے لگا میں اپنے آپ پر قابو نا رکھ سکا بے شک اللّٰہ قادر ہے بے شک اللّٰہ ہر چیز پے قادر ہے۔۔۔۔۔۔
نرگس کی بات سن کر سبھی کے سر خاموشی سےجھک گۓ کہ کہہ تو وہ بلکل ٹھیک رہی تھی۔۔۔۔
سبحانہ نے بھی شاہ جی کا ساتھ دیتے ھوۓ کہا بھائ یاد ھوگا آپ کو امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کی بیٹی کا قصہ آپ ہی سنایا کرتے تھے ھمیں جو ملکہ خزران کے دربار میں حاضر ھوئ تھی ۔۔۔
دوسروں کو نصیحت کرنا سیدھی راہ دکھانا مشکل نہیں بس منہ کھول کر لب ہی ہلانے پڑتے ھیں لیکن اصل سبق تو وہ ھے جس میں لب نا کھلیں آپکا کا عمل آپکے کردار کا منہ بولتا ثبوت ھو۔۔۔۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ھے۔۔۔۔
“اگر کوئ شخص زمانے کی گردش سے عزت کا درجہ کھو بیٹھے تو اسکی عزت میں فرق نا آنے دو”
سکندر کی آنکھیں بھر آئیں سبحانہ فخریہ انداز میں مذید کہنے لگی اگر میرے بیٹے کو اللہ نے انکی ہدایت کے لیۓ چن لیا ھے تو رب کے اس چناؤ پر میری جان بھی قربان ھے وہاں بیٹھی نرگس اور سبحانہ نے ملکر سکندر اور باقی سب کو بھی راضی کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔
ماموں جان ھم مسلمان ھو کر بھی اس غیر مسلم گوپال جیسا انصاف نہیں کر سکتے اس جیسی قربانی نہیں دے سکتے اس نے ھمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم پر عمل کیا وہ ھماری امانت میں ھندو ھو کر بھی امین رہا تو کیا اسکے امین ھونے پر ھم اسے یہ عزت یہ مرتبہ نہیں دے سکتے کہ حالات کی گردشوں سے اسکی برھنہ ھوتی عزت کو اپنی عزت کی چادر میں لپیٹ لیں؟؟؟
عضد کی بات بھی کافی جاندار تھی پھر اس پر اسکا دل آویز لب و لہجہ تھا کہ سکندر نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنی رضا شاہ جی کی رضا سے جوڑ لی۔۔۔۔
نمل بھی ان سب کی خوشی میں شامل ھوئ شاہ جی نے دیر نا لگائ کچھ ہی دن میں اس سے نکاح کر کے اپنے گھر لے آیا
بندیا دلہن بنی شاہ جی کے کمرے میں موجود تھی کافی دیر تلک وہ شاہ جی کا انتظار کرتی رہی وہ نا آیا بندیا گھبرا کر جیسے ہی اٹھنے لگی تو وہ ناک دیکر اندر آیا تو بندیا کے اٹھتے قدم وہیں رک گۓ۔۔۔۔
بلا جیسی خوبصورت لگ رہی تھی وہ اسلام قبول کرنے کے بعد اسکے چہرے کی رونق ہی الگ تھی اسکے چہرے کو دیکھ کر خود بخود انسان کا دل خدا کی محبت سے سرشار ھونے لگتا شاہ جی اسکے پاس آیا۔۔۔۔۔
اور آہستہ سے اسکے کان میں سرگوشی کی بہت خوبصورت لگ رہی ھو بندیا کے سرخ ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکان تھی۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکا ہاتھ انگوٹھی پہنانے کیلئے اپنے ہاتھوں میں تھاما تو اسکا ہاتھ برف کیطرح ٹھنڈا ھو رھا تھ پھر شاہ جی کے تھامتے ہی کپکپانے لگے اسکے ہاتھ۔۔۔
بیشک کچھ عرصہ پہلے وہ جسم فروش رہی تھی لیکن شرم و حیا عورت کا گہنا ھے اور اپنے تمام گناھوں سے توبہ کر کے اسلام کے دائرے میں شاہ جی کیساتھ داخل ھوکر وہ حیا کا پیکر بن گئ تھی۔۔۔
شاہ جی نے آہستہ سے اسکے سرخ سفید گالوں کو چھوا تو وہ اپنے آپ میں سمٹ گئ۔۔۔۔
بہت آہستہ سے شاہ جی نے اسکے گالوں پر اپنی انگلی پھیری تو وہ سانس اندر کھینچتے ھوۓ واپس لینا بھول ہی گئ شاہ جی نے مسکرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کیا تو اسکی سانس بحال ھوئ۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا۔۔۔۔
ایک سکون کی لہر بندیا کے پورے وجود میں لپکی کتنا خوبصورت احساس تھا ایک محرم کے چھونے کا یہ احساس تو اسے پہلے کبھی محسوس نہیں ھوا تھا۔۔۔۔
شاہ جی نے پھر اسکی پیشانی پر آہستہ سے بوسہ لیا تو اس نے اپنی آنکھیں کھول کر بے یقینی سے شاہ جی کو دیکھاجو اس پر اپنی چاہت کے تمام ارمان لٹاتا جھکا ھوا تھا۔۔۔۔
بندیا اپنی بانہیں شاہ جی کے گلے میں ڈال کر رو پڑی شاہ جی نے اسے پوری قوت سے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا۔۔۔۔۔
کیا ھوا ایمان (بندیا)؟؟؟؟
شاہ جی نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسکا نام اپنی پسند سے ایمان رکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ بس روتی چلی گئ۔۔۔۔۔۔
میری جان یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔
اسکے سینے سے لپٹی ایمان (بندیا) نے سر اٹھا کر اسے دیکھا شاہ جی نے اسکے آنسو اپنے ھونٹوں میں جذب کیے۔۔۔۔
سبحان۔۔۔۔اس نے شاہ جی کو اسکے اصلی نام سے پکارا جانتے ھو میں نے اپنے ان ھونٹوں کو آج تلک کسی غیر کو چھونے نہیں دیا حتی کے بابو کی اصلیت جان کر اسکو بھی نہیں چھونے دیتی تھی وہ اکثر مجھ سے لڑ پڑتا تھا اور مجھے مارتا بھی تھا بہت نفرت کرتا تھا مجھ سے وہ لیکن اسکی خباثت جاننے کے بعد میں نے اسے کبھی قریب نہیں آنے دیا تھا دوبارہ ویسے بھی وہ کئ کئ مہینے غائببببب۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکے ھونٹوں پر اپنی انگلی کی مہر ثبت کرتے ھوۓ اسے خاموش کروایا۔۔۔۔۔۔
شششششش یہ رات ان باتوں کی نہیں۔۔۔۔۔
بھول جاؤ اپنی بیتی زندگی کو میری خاطر شاہ جی نے بڑے پیار سے کہا تو اس نے اپنے آنسو پونچھے۔۔۔۔۔
تم بھلانے میں میری مدد کروگے؟؟؟
میرا بس نہیں چلتا ورنہ ان سب بھیانک یادوں کو بھیانک قصوں کو تمھارے دل و دماغ سے اکھاڑ پھینکتا وہ اسکے گولڈن ریشمی بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔۔۔
ایمان نے اپنا سر شاہ جی کے سینے پر رکھ کر سکون کا سانس لیا اسکا دل چاہا اب اسکا دم بھی شاہ جی کی بانہوں میں ہی نکلے۔
____________________
بابو ان مردوں میں سے تھا جو دوسروں کی بہن بیٹیوں کو دیکھ کر اپنا ازاربند ڈھیلا کر لیتے ھیں اور آج اسی ازاربند کو نکال کر اپنا گلہ گھونٹ کر مار دیا خود کو بابو نے ۔۔۔
شاہ جی کے قید خانے میں اسکی لاش برھنہ پڑی تھی جیسے وہ سب کی عزتوں کو برھنہ کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مایا اپنے والدین کیساتھ لندن جا چکی تھی۔۔۔۔۔
جازب کو جب تنہائی میسر آتی وہ اللہ کے حضور گڑگڑا کر روتا اور اپنے کیے کی معافی مانگتا رہتا آج اس نے کراچی آنا تھا نمل کو لینے اسکی ھمت ہی نا ھو رہی تھی عضد کے گھر جانے کی
لیکن مجبوری تھی جانا پڑا۔۔۔۔
رتابہ سب سے پہلے اسکے سامنے آئ اس نے نظریں جھکا کر سلام کیا۔۔۔۔
جازب کی نظریں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔۔۔۔
عضد بھی اسی وقت آفس سے واپس آیا تھا جو جازب کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔۔۔
رتابہ نے آہستہ سے عضد کے آگے ہاتھ جوڑے کہ وہ کچھ نا بولے جازب سے رتابہ کے جڑے ہاتھ اور اسکی نظروں میں التجا دیکھ کر اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔
اور جازب کو پیچھے سے آواز دی ارے یار تممممم۔۔۔۔۔
جازب کا سانس وہی رک گیا عضد کی آواز سن کر۔۔
رتابہ کی حقیقت بتانے کے بعد یہ پہلی ملاقات تھی عضد سے اسکی۔۔۔
عضد نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا تو درد کی ٹیس دونوں کے دل سے اٹھیں اور آنکھیں بھی نمناک ھوئیں جازب تو باقاعدہ رو پڑا دونوں ہی اپنے احساسات پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔
پر عضد نے خود کو مضبوط رکھا اور اپنے اعصاب پر بہت دلبرداشتہ ھو کر کنٹرول کیا جازب کافی دیر اسکے گلے سے لگا رہا پھر اسے مبارک بات دی کہ رتابہ کے گھر والے اس سے مل گۓ تھے لیکن شرمندگی کے بوجھ سے اسکی پلکیں نا اٹھیں اور وہ جھکی جھکی نگاھوں سے مجرم کیطرح عضد سے کچھ فاصلے پر بیٹھا رہا۔۔۔
اسکا پل پل اسوقت انگاروں پر لوٹ رہا تھا جبکہ عضد کی پیٹھ پیچھے رتابہ کی ھمت اور حوصلہ تھا جس نے عضد کو بکھرنے نا دیا تھا۔۔۔۔
کہتے ھیں وقت ہر مرہم کی دوا ھے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ انکے زخم بھی کچھ کچھ بھرنے تھے لیکن انکے نشان چاہ کر بھی نہیں مٹاۓ جا سکتے تھے نا جسموں سے نا ذہنوں سے۔۔۔۔
شاہ جی نے کوشش کی کہ رتابہ دیان کے بارے میں کچھ بتائے لیکن اس نے حتمی لہجے میں کہا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتی اس بارے میں اور شاہ جی سے اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھوائ کہ وہ اس متعلق کوئ سوال نہیں پوچھیں گے اب اس سے۔۔۔۔۔
________________
شاہ جی ہر دو دن بعد رتابہ کو دیکھنے آتا تھا۔۔۔۔۔۔
سبحانہ کو نرگس نے اپنے ساتھ ہی روک لیا تھا کہ بیٹی سے جدائ کی تڑپ سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔۔۔۔۔۔
آج بھی شاہ جی آیا تو کچھ دیر سے گھر گیا۔۔۔۔
رتابہ اپنے کمرے میں آئ تو عضد کو سویا ھوا پایا۔۔۔۔۔
عضد کیساتھ لیٹی وہ کہنی تکیے سے ٹکاۓ ہتھیلی پر اپنا سر رکھے بہت پیار سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو گھورتی رہی کہ کس قدر خوبصورت اور وجیہہ نقوش تھے عضد کے ۔۔۔۔
پھر وہ نرم و گداز انگلی سے چھونے لگی عضد کے اک اک نقش کو وہ اپنی انگلی کو ماتھے سے ناک اور ناک سے جب عضد کے گلابی ھونٹوں تک لائ تو عضد نے ایک دم سے اسکی انگلی پر چاک کاٹا عضد کی اس اچانک شرارت پر بوکھلاہٹ کے مارے اسکی چیخ ہی نکل گئ۔۔۔۔۔
عضد اسکا سہما ھوا سراپا دیکھ کر بہت زور سے ھنسا رتابہ نے اسکے منہ کھول کر ھنسنے پر سائیڈ ٹیبل پر پڑی الارم کلاک اسکے منہ میں ٹھونسی۔۔
عضد کافی دیر تک ھنستا رہا تو رتابہ نے تکیے سے خوب پٹائ کی اسکی۔۔۔۔
اچانک سے ھنستے ھنستے اسے لیبر پین شروع ھو گۓ۔۔۔۔۔
عضد نے نرگس کو بلایا اور اسکے کہنے پر جلدی سے رتابہ کو لیے وہ ھوسپٹل پہنچے رتابہ نے ایک بہت پیاری سی بچی کو جنم دیا۔۔۔۔
شاہ جی علی بندیا گوپال سبھی وہاں موجود تھے نمل یہ خوشخبری سن کرایک منٹ نا رہ سکی۔۔۔۔
اس نے جازب کی ناک میں دم کر دیا کہ اسے فوراً کراچی جانا ھے۔۔۔۔۔
جازب نے دیان کیساتھ اسے روانہ کر دیا ائیر پورٹ پر اسے شاہ جی اور عضد ریسیو کرنے آئے۔۔۔
پورے راستے وہ انکا سر کھاتی رہی کہ جلدی کرو جلدی کرو ایک تو اسے رتابہ سے ملنے کی جلدی تھی دوسرا اسے زوروں کی بھوک لگی ھوئی تھی۔۔۔
موسم ابر آلود تھا ہلکی ہلکی بوندا باندی اب تیز بارش میں بدل گئ۔۔۔۔۔
عضد کی بیٹی بہت نصیبوں والی تھی جو شدید گرمی میں اپنے ساتھ باران رحمت لائ تھی۔
جلدی کرو جلدی کرو کے نمل کے شور سے دونوں کے کان پک گئے تھے۔
وہ اسے سو بار چپ کروا کر تھک گۓ تھے اوپر سے بارش کی وجہ سے ٹریفک بہت جام ھو گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی اسٹیرنگ پر ہاتھ مار کر بولا شٹ یار ابھی تو اچھا خاصا راستہ باقی ھے شاہ جی کی بات سن کر رتابہ پیٹ پر ہاتھ رکھے بیہوشی کا ناٹک کرنے لگی۔۔۔۔
جلدی عضد کو بھی تھی یار تو آج اس لینڈ کروزر کو جہاز بنا دے ورنہ میں سیٹ کورز چبانا شروع کر دونگا۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے حتی الامکان لہجے میں نقاہت سموتے ھوۓ کہا اچھااااا پہلے یہ پانی اسکے حلق میں ٹپکا گزر گئ تو ماں جی اور جازب مجھے ہی الزام دیں گے۔۔۔۔
لیکن اس میں تو پٹرول ھے عضد نے منرل واٹر کی بوتل شاہ جی سے لیتے ھوۓ بلاارادہ ہی ڈھکن کھول کر اسے سونگھتے ھوۓ اعتراف کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے عضد کو آنکھ ماری اچھا میں سمجھا پانی ھے چل خیر ھے اسے تو نہیں پتہ ناں تھوڑی دیر مذید چپ رھے گی۔۔۔۔۔۔
پھر شاہ جی اپنی مسکراہٹ دباتے ھوۓ بولا تو سوچ کتنا سکون ھوگا عضد نے اسکی بات کی پر زور تائید کی۔۔۔۔۔
واقعی یار تیرا دماغ بہت دوووور تک سوچتا ھے عضد فراخ دلی سے اسکی ذہانت کی تعریف کی اور پچھلی سیٹ کی طرف مڑتے ھوۓ بوتل لیٹی ھوئ نمل کے منہ سے لگادی تو وہ چیخ مار کر اٹھی۔۔۔
“قتل” تم لوگ مجھے قتل کرنا چاھتے ھو نمل نے عضد کے ہاتھ سے بوتل چھینتے ھوۓ خوفزدہ ھو کر کہا تو دونوں اتنے زور سے ھنسے کہ نمل نے بوتل گود میں رکھ کر دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔۔۔۔۔
عضد نے اسکی گود سے بوتل اٹھا کر اپنے ھونٹوں سے لگا لی وہ چلائ بہت بے ایمان خبیث اور دھوکے باز ھو تم دونوں۔۔۔۔۔
مجھے اپنی قوم تک پہنچنے دو پھر بتاؤنگی۔۔۔۔
نمل نے اپنی کھساہٹ مٹانے کے لیئے انہیں پر زور انداز میں دھمکی دی۔۔۔۔۔
وہ دونوں گہری سانس لیکر ایک ساتھ بولے اففففف انکی قوم ان جیسی بدھو اور احمق ہاہاہاہاہا دونوں پھر مضحکہ انداز میں ھنس پڑے۔۔۔
نمل کا اور بس نا چلا تو پیچھے سے دونوں کے بال دونوں ہاتھوں میں جکڑ کر زور سے کھینچے اور آگے کو جھٹکا دے کر پچھلی سیٹ میں دھنس گئی اس بار عضد اور شاہ جی با آواز چیخے تھے۔۔۔۔
گھر چل کر نبٹیں گے تم سے شاہ جی نے گاڑی ھوسپٹل کے گیٹ سے باہر روکتے ھوۓ دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور عضد اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ھوۓ جلدی سے نیچے کودا۔۔۔
وہ بارش میں بھیگتی ھوئ انکی تقلید میں آگے کو بڑھی دیکھ لونگی میں بھی تم دونوں کو اس نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔۔
شاہ جی اپنی امڈنے والی ھنسی کو بریک لگاتے ھوۓ آسمان کیطرف دیکھ کر بولا۔۔۔
جلا جلالہ ھو آئ بلا کو ٹال تو۔۔۔۔
عضد شاہ جی کے انداز پر اپنی ھنسی نا روک سکا اور بلند آواز میں اسکا قہقہہ نکلا۔۔۔
پبلک پلیس پر سب کے سامنے عضد کو نمل سے پرس کھانے پڑے وہ اپنے بچاؤ کیلئے پیچھے ہٹا تو نمل سلپ ھوتی ھوئ عضد کی بانہوں میں لہرا گئ۔۔۔۔
اس نے بڑی پھرتی سے نمل کو گرنے سے بچایا اور پھر اپنے مضبوط ہاتھوں میں اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر آیا۔۔۔
شاہ جی دو فٹ نمل سے پیچھے ہی رہا۔۔۔۔
عضد نے گردن پیچھے موڑ کر اسے دیکھا اتنا دور کیوں بھاگ رھے ھو۔۔۔۔۔
یار تم نہیں جانتے میڈم صاحبہ ھانڈی کے چمچمے سے آوبھگت کرتی ھیں۔۔۔
عضد شرارت سے مسکرایا لیکن یہاں تو کوئ چمچہ نہیں چل آگے آ عضد نے اسے کھینچا۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکی کمر پر مکا مارتے ھوۓ کہا تو ھے نا چممممچہ۔۔۔۔
اب کی بار ھنسی میں نمل بھی انکے ساتھ تھی۔۔۔۔۔۔
عضد کی بیٹی رتابہ نے اپنی گود میں لی تو آنسو اسکے گالوں پر لڑھکنے لگے اپنے ماں نا بننے کی احساس محرومی سے اسکا دل بوجھل سا ھو گیا اور اپنے جذبات کو وہ چاہ کر بھی نا چھپا سکی۔۔۔۔
عضد اسکی کیفیت سمجھ سکتا تھا ایک تو وہ ماں نہیں بن سکتی تھی دوسرا جازب کے بیٹے کی حقیقت سے ناواقف تھی۔۔۔۔۔
نمل نے روتے ھوۓ اس بچی کا ماتھا چوما تو عضد نے بے اختیار نمل کو اپنے سینے سے لگا کر اسکا ماتھا چوما یہ بھی تمھاری بچی ھے نمل دل چھوٹا مت کرو ابھی تمھارا بھائ زندہ ھے میری جان اور تمھارے اس بھائی کا وعدہ ھے میرا دوسرا بچہ تمھاری گود میں ھوگا تم پالو گی اسے روز اول سے روز آخر تک۔۔۔۔
________________
رتابہ گھر آئ تو اپنی بچی کو گود میں دیکھ کر وہ قدرت کے انصاف پر غور و فکر کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
کسطرح اس پاک ذات نے اسکی دعائیں قبول کی تھیں اپنی ماں سے جدا ھوکر اسکا گوپال تک آنا گوپال کا بابو کے ڈر سے اسے خود سے جدا کرنا پھر مسز جمال کے یہاں سے اسکا لاھور میں آنا اور جازب کا اسکی زندگی میں داخل ھونا پھر وہاں سے عضد کا زندگی میں آنا عضد کے ساتھ رہ کر اسکا علی اور مایا سے ملنا مایا اور علی کے ذریعے اسکا بندیا سے ملنا۔۔۔
اور پھر بندیا کی غلطی سے اسکا شاہ جی اور پھر اپنے وارثوں سے ملنا۔۔۔۔۔۔۔
کتنے مراحل سے گزر کر اسکی برسوں سے مانگی دعائیں قبول ھوئ تھیں وہ خدا کے بندوں میں اسکی مصلحت میں چھپے بھید دیکھنے لگی اور یہ سوچنے پر مجبور ھو گئ کہ ضروری نہیں کہ اچھے لوگوں سے ہی انسان کی زندگی خوش و خرم ھو۔۔۔۔۔
بعض اوقات برے انسانوں کی برائ میں بھی ھمارے لیے اچھائ ھوتی ھے بابو سے جازب۔۔۔جازب سے مایا۔۔۔مایا سے بندیا ان سب کی برائ میں رتابہ کی زندگی کی خوشیوں کا راز پنہاں تھا وہ اپنے رب سے اس حال میں بھی راضی رہی تھی۔۔۔
کسی نے خوب کہا ھے۔۔۔۔۔
ﺍﮮ ﺍﺑﻦ ﺁﺩﻡ ﺍﮎ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﮔﺮ ﺗﻮ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﻧﮕﺎ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
کبھی کبھی انسان بے حد ٹوٹ جاتا ھے جب اسے لگتا ھے کہ اللہ نے اسے وہ چیز نہیں دی جو اس نے اللہ سے مانگی تھی مگر یہ وقتی ٹوٹنا کبھی اسے اللہ سے قریب کر دیتا ھے اور کبھی دور لیکن وہ رب انسان کو یہ احساس دلاتا ھے کہ اے میرے بندے تیرے حق میں میرا فیصلہ تیری چاھت سے بہتر ھے۔۔۔
اور رتابہ نے اللہ کی ذات پر اعتبار کرتے ھوۓ پہلے صبر سے کام لیا پھر معافی سے اور شکر سے کام لیکر اللہ کی چاھت کیساتھ اپنی بھی تمام چاھتیں اس نے حاصل کر لی تھیں۔۔۔
یہاں رتابہ اگر معافی سے کام نا لیتی یا صبر اور خاموشی کا مظاہرہ نا کرتی تو آج وہ کہاں ھوتی اسکا علم اسے خود بھی نا تھا؟؟
جازب کو دیکھ کر اگر وہ جازب کا راز نا رکھتی تو عضد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی بہن جیسی نمل نرگس جیسی ماں اور یہ سب کچھ گنوا دیتی محض اپنی صفائی میں بولے جانے والے دو بول نا جانے کتنی زندگیاں نگل لیتے۔۔۔۔
رتابہ کے صبر اور خاموشی کا آج اسے اتنا بڑا صلہ ملا تھا جیسے کسی گنہگار کو جنت ملتی ھے۔۔۔۔۔
رتابہ اگر بولڈ لڑکی کا کردار اپناتی عاجزی سے کام نا لیتی اور اپنے حق کیلئے لڑتی اپنی زبان کھولتی واویلا مچاتی تو کیا حاصل کرتی؟؟؟؟
وہ یہ سب کر کے جو حاصل تھا اسے بھی گنوا دیتی ایسا سچ جو فساد پھیلائے یا جس سچ سے کسی کی جان جانے کا خدشہ ھو یا کسی کی رسوائی کا سبب بنے جو سچ اس پر خاموش رہنا بہتر ھے۔۔۔
رتابہ کی عاجزی سے آج سب خوشحال تھے اپنی اپنی زندگی میں۔۔۔
آپ خود سوچیں رتابہ سچ بول دیتی تو آج کیا ھوتا؟؟؟
کچھ زیر زمین ھوتے اور کچھ ھمیشہ کیلئے نفرت کی آگ میں جل کر بھسم ھو چکے ھوتے کچھ ایک دوسرے کا قتل کر کے جیلنکی سلاخوں کے پیچھے ھوتے اور رتابہ شاید خود کشی کر چکی ھوتی لیکن اس نے سب کو بچا لیا تھا اپنا آپ دان کر کے سرخرو ھو گئ تھی وہ رب کے آگے سب کے آگے۔۔۔۔
اور جو انسان حق پر ھوتے ھوۓ بھی اپنے حق سے دستبردار ھو جاتا ھے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے مکمل طور اپنی دسترس میں لے لیتا ھے۔۔۔۔۔۔
اور بیشک اللہ سے بڑا کوئ علیم (بہت جاننے والا) اور مھیمن (نگہبان) نہیں۔۔۔۔
انسان کیا ھے؟؟؟ کیا ھے اسکی اوقات اور حیثیت؟؟؟
اشرف المخلوقات؟؟؟؟
کیا ھمارے اندر مرتے ھوۓ ضمیر اور دم توڑتی انسانیت کو دیکھ کر کہا جا سکتا ھے کہ ھم اشرف المخلوقات میں سے ھیں؟؟؟؟
خود کو صحیح ثابت کرنے کیلئے ھم کتنا کچھ غلط کرتے ھیں اور بعض اوقات کسی لاحاصل کو حاصل کرنے کیلئے حیوانیت کی تمام حدیں پار کر جاتے ھیں کیوں؟؟؟؟
کیا ھم یہ بھول چکے ھیں کہ ھمارا رب ھمیں ہر حال میں دیکھ رہا ھے؟؟ وہ ھمارے من میں چھپی چالوں سے بھی واقف ھے۔۔۔۔
انسانی فطرت بھی کتنی عجیب ھے ناں جب اس سے کوئ گناہ سرزد ھوتا ھے تو وہ ھمیشہ اپنے گناھوں کی دوسروں سے پردہ پوشی کرتا ھے صرف اس لیۓ کہ اسے دوسروں سے شرم آتی ھے کہ کسی اور کو میرے ارادوں کا یا گناھوں کا علم ھوا تو وہ کیا سوچے گا؟ اسے کیا جواب دونگا یا دونگی؟؟
بڑے افسوس کی بلکہ بڑے ہی افسوس کی بات ھے کہ اپنے گناھوں کو لیکر ایک انسان دوسرے انسان سے تو خوف کھاتا ھے یا شرم محسوس کرتا ھے لیکن اپنے رب سے خوف نہیں کھاتا ایک بشر جتنی شرم بھی اس رب سے محسوس نہیں کرتا کہ وہ رب سب دیکھ رہا ھے اسے سب علم ھے۔۔۔
جس دن اس ذات نے سوال پوچھا تو میں کیا جواب دونگا یا دونگی؟؟؟
اپنے گناھوں کو لیکر ھمارا ڈر ھماری شرم مخلوق تک محدود ھے اس خلقت کے خالق سے ھمیں اسکے پیدا کیے ھوۓ ایک بشر جتنی بھی شرم محسوس نہیں ھوتی۔۔۔۔۔
ھم سب اپنی عاقبت اور آخرت کو بھول کر لوگوں کی زندگی کے احتسابی خدا بنے بیٹھے ھیں کہ کس کو کہاں مرنا چاھیے یا تباہ ھونا چاھیے۔۔۔۔۔
اپنی پھیلائے ھوئ تباہ کاریوں سے ھم جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے ھیں اور اسی خیال میں مذید تباہ کرتے چلے جارھے ھیں کہ میں تو گنہگار ہی نہیں۔۔۔۔۔
دوسروں کے مکافات پر خوش ھونے والے یہ کیوں بھول جاتے ھیں کہ کل کلاں وہ بھی کسی کے مکافات کا حصہ بنیں گے۔۔۔
