Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 29)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 29)
Bad Bakhat by Arshi Noor
دولتِ دل ھے متاعِ محرومی۔۔۔
میں جامِ جم کے عوض کاسہ ٕ گداٸ نا دوں۔۔۔
رتابہ کی قربت شدت سے اپنے رشتے کا احساس دلا رہی تھی اسے۔۔
بیوی تھی وہ اسکی لیکن اپنی خواہش کی تکمیل میں اسکا ضمیر گوارا ہی نہيں کیا کہ وہ اپنے اس بے نام سے رشتے کا ایسے موقعے سے فاٸدہ اٹھاتا کہ جب وہ ہر بات سے بے خبر تھی اسوقت۔۔۔
عضد کیلیۓ اسے چھونا یا اسکی حیا کی پاسداری سے گزرنا نا ممکن تھا۔۔۔۔
رتابہ سے نفرت کی آڑ میں چھپی محبت کو وہ خود قبول نہيں کر پا رہا تھا نکاح ھو جانے پر بھی اس نے تین سالوں میں اسے بیوی کی حیثیت سے تسلیم نہيں کیا تھا تو آج محض اپنی کیفیت اور خواہش پر وہ اسکا اعتبار اسکی حیا قربان نہيں کر سکتا تھا مانا وہ اس سے سے نفرت کرتا تھا لیکن رتابہ اسکے لیۓ اس قدر کوٸ قیمتی چیز تھی جس کو حاصل کرنے کیلیۓ وہ محبت کے اسکی رضا کے تمام درجات طے کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
صرف نکاح کی حیثیت سے وہ اسے اپنے دل میں نا اتار سکا لیکن رتابہ کے دل تک پہنچنے کیلیۓ اسے محبت ھونی ضروری تھی جو آہستہ آہستہ اسے اپنی لپٹ میں لے رہی تھی…
جس سے وہ وقتی طور پر انجان تھا اسکی نفرت کے خول میں دراڑیں پڑنے لگیں تھیں جن سے محبت کی ننھی ننھی نئ کونپلیں پھوٹ کر نکل رہی تھیں اور نفرت کی پرانی جڑیں اسکے دل میں کمزور ھوتی جا رہی تھیں۔۔۔
اسوقت وہ اسکے بے حد قریب تھی اسکے صبر اور جذبات کا کڑا امتحان لے رہی تھی لیکن وہ عضد شاہ تھا اس کمزور لمحے کی نذر خود کو نا کر سکا اسکے لیۓ رتابہ کی رضا سب سے اھم تھی۔۔۔
یہاں عضد کی جگہ کوٸ اور مرد ھوتا تو اس موقعے کا پورا فاٸدہ اٹھاتا چاھے اسوقت کوئ نامحرم عورت ہی کیوں نا ھوتی لیکن عضد محرم ھو کر بھی اس پر اپنا کوٸ حق زبردستی نا جتا سکا نا اپنا حق زبردستی وصول کرنے کا خواہش مند تھا۔۔۔۔
رتابہ میں جتنا صبر تھا تکلیفیں سہنے کا عضد میں اس سے دگنا صبر تھا اپنی خواہشات پر قابو پانے کا۔۔۔
حالانکہ خواہشات انسان کی بڑی بے لگام ھوتی ھیں انسان اپنے نفس کی پیروی کرتے ھوۓ ہر جاٸز نا جاٸز مقام سے بھی گزر جاتا ھے وہ نہيں دیکھتا کہ اسکی راہیں تباہی کیطرف ھیں یا کامیابی کیطرف بس اپنی وقتی تسکین کیلیۓ وہ اندھا اور بہرہ ھو کر اس راہ پر چلتا رہتا ھے جو آخر کار اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ھیں جہاں نا وہ لوٹ سکتا ھے واپس اور نا اپنے پیروں تلے اپنی جھوٹی انا کے ہاتھوں روندے ھوۓ وقت اور لوگوں کو پھر سے حاصل کرسکتا ھے۔۔۔
پھر اسکے نصیب میں صرف لاحاصل خواہشات کا اندھا کنواں ھوتا ھے جس میں ڈوب کر اس نے بس خود کشی کرنی ھوتی ھے۔۔۔
کتنا خود غرض ھے نا انسان بھی جسکی زندگی تو محدود ھے لیکن اسکی لامحدود خواہشات اسے زندگی بھر اندھا کیۓ رکھتی ھیں
لیکن عضد نا جانے کس مٹی کا بنا ھواتھا جسکے خمیر میں بوند بوند صبر بھی تھا اور چھلاوے کیطرح ابلتا غصہ بھی لیکن وہ غصے میں بھی رتابہ کی عزت کو پامال نہيں کرتا تھا ذہنی اور جسمانی اذیت سے وہ اکثر اسے دوچار کرتا تھا
لیکن اسکی حیا اسکی آبرو کو کبھی اس نے شوہر ھونے کی حیثیت سے بھی مجروح نہيں کیاتھا۔۔
جس کیفیت میں اسوقت عضد تھا اور جسطرح رتابہ اسکے پہلو میں تھی یہاں اسکے صبر کی انتہا تھی اس انتہا پر بھی اسکے لیۓ رتابہ کا مان اسکا بھروسہ زیادہ اھم تھا۔۔
اتنا عضد ضرور جانتا تھا کہ وہ ہر ایک چیز سے اور ہر مرد سے ڈرتی تھی لیکن عضد وہ واحد شخص تھا جس پر اسے اندھا اعتماد تھا اب یہ عضد کے ہاتھ میں تھا کہ وہ اسکے اندھے پن کا فاٸدہ اٹھا کر خود اندھا نا ھوتا۔۔۔
ہر انسان میں اتنا صبر کہاں ھوتا ھے؟؟؟
جو رتابہ اور عضد میں تھا شاید انکے صبر کی بدولت ہی اللہ کی ذات نے انکو نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں باندھا تھا اور اس بندھن کی ڈور عضد نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی ![]()
صبح ھو چکی تھی وہ ابھی بھی غنودگی میں تھی عضد نے کھڑکی سے باہر کا موسم دیکھا کچھ نارمل تھا بارش تھم گٸ تھی پر بادل ابھی بھی موجود تھے۔۔۔
سنڈے تھا آج چھٹی تھی عضد کو اب نیند آنے لگی تھی پوری رات کا جاگا ھوا تھا وہ رتابہ کے پاس ہی سو گیا مایا جاگ چکی تھی وہ پاس والے پارک میں واک کیلیۓ چلی گٸ۔۔۔
علی سویا ھوا تھا۔۔۔
رتابہ کی آنکھ کھلی پہلے تو رات کا خوفناک منظر اسکی آنکھوں میں لہرایا تو خوف کے مارے اسکا وجود کانپ گیا اور اپنا چہرہ بے یقینی کے عالم میں چھو کر دیکھنے لگی کہ وہ زندہ ھے پھر اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں تو خود کو عضد کی بانہوں میں پایا۔۔۔
اسے کچھ سمجھ نا آیا کہ وہ رات کو کہا تھی اور گھر کیسے آٸ اور عضد اسکے قریب اتنا کب اور کیسے آیا۔۔۔
وہ عضد سے کچھ دور ھوٸ تو نا ھو سکی عضد کے کندھے کے نیچے اسکے بال تھے وہ آرام سے جھک کر اپنے بال نکالنے کی کوشش کرنے لگی توعضد جاگ گیا۔۔
اسے خود پر جھکا دیکھ کر وہ تکیے کے سہارے اٹھ کر تھوڑا اونچا ھوا تو رتابہ اسکے اتنے قریب تھی کہ اسکی سانسوں کی مہک اسکو اپنے اندر اترتی محسوس ھوٸ۔۔۔
لیکن رتابہ کے ذہن کو ھزار وسوسوں نے آ گھیرا رات کی اذیت وہ بھول ہی گٸ۔۔۔
عضد نے اسکے چہرے پر ھواٸیاں اڑتی دیکھیں تو بولا کیا ھوا ایسے کیوں دیکھ رہی ھو؟؟؟
میں یہاں کیسے آئ اور آپ میرے ساتھ سوۓ ھوۓ تھے ؟؟؟ اس نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔۔۔
اسمیں حیرانی والی کیا بات ھے پہلی بار تو نہيں سویا میں تمھارے ساتھ عضد نے اٹھ کر اپنی شرٹ درست کی۔۔۔
رتابہ کی نظر صوفے پر پڑی جہاں اسکا رات والا لباس پڑا ھوا تھا پھر اس نے اپنی طرف نظر کی تو وہ عضد کے شاٹ ٹراٶزر اور چیک کی شرٹ میں ملبوس تھی ایک عجیب سے خوف سے رتابہ نے جھرجھری لی۔۔۔
آج سے تین سال پہلے بھی ایسی ہی رات تھی جب اسکا استحصال ھوا تھا اور اسکی معصومیت اور پاکیزگی پاش پاش ھوٸ تھی اور اسکی آبرو نشے کی زد میں روندی گئ تھی جسکی سزا وہ اب تک بھگت رہی تھی وہ اٹھی بیڈ سے تو اسکا جسم ٹوٹ رہا تھا درد سے سردی کیوجہ سے اسکے پٹھے اکڑ گئے تھے۔۔۔
میرے کپڑے کس نے چینج کیۓ؟؟ اسکا لہجہ سخت تھا۔۔
عضد لاپرواہی سے بولا تمھاری دوست آٸ تھی لاھور سے اس نے کیۓ۔۔
آپکا اور میرا مذاق نہيں پلیز سچ بتائيں اب سختی کیساتھ ساتھ لہجے میں خوف بھی موجود تھا۔۔
عضد مسکرا کر بولا میں نے کیۓ ھیں۔۔۔
لیکن کیوں کیۓ وہ اسکے سامنے آن کھڑی ھوئ؟جو شیشے کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
مر جاتی تم گیلے کپڑوں میں اسلیۓ کیۓ ھیں عضد نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ اسکی گھبراہٹ چہرے سے عیاں تھی اور آنکھوں میں غصہ بھی تھا۔۔۔
عضد کو شرارت سوجھی اس نے تھوڑی گردن کر جھکائی تمھاری اطلاع کے لیے عرض ھے ماٸ ڈیٸر پہلی بار نہيں کیۓ وہ آہستہ سے اسکی ناک چھو کر بولا تھا۔۔۔
رتابہ کی آنکھیں مذید حیرت سے پھیل گٸیں کیا مطلب پہلی بار نہيں کیۓ ؟؟
اس سے پہلے بھی کافی بار کر چکا ھوں عضد کو اسکا ڈرا سہما سا سراپا اسوقت اچھا لگ رہا تھا اور عضد کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جسے دیکھ کر رتابہ برداشت نہيں کر پا رہی تھی۔۔
میری اجازت کے بغیر کیوں کیا یہ سب آپ نے؟؟ اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔۔۔
عضد کو اسے چھیڑنا اچھا لگا تمھیں اتنا غصہ کیوں آرہا ھے یہ سب ھمارے درمیان پہلی بار تو نہيں ھوا وہ اسے حیران چھوڑ کر مسکرا کر بڑے رومانوی انداز میں اسکے قریب آیا۔۔۔
ویسےاک مزے کی بات بتاٶں یہ رات مجھے کبھی نہيں بھولے گی شرارت عضد کے لبوں اور آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔۔۔
رتابہ کے رھے سہے ھوش بھی اڑنے لگے کیا ھمارے بیچ پہلی بار نہيں ھوا کیا کیا ھے آپ نے میرے ساتھ اور یہ سب کب سے چل رہا ھے؟؟ اسکے ہاتھ کانپنے لگے تھے وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔۔۔
عضد اسکا رسپانس دیکھ کر کچھ سیرٸس ھو گیا ماتھے پر بل ابھرے اچھا تم یہ سننا چاھتی ھو کہ تمھارے ھوش میں نا ھونے کا میں نے کتنا فاٸدہ اٹھایا ھے؟؟
رتابہ اسکی آنکھوں میں کوندتی شرارت دیکھ چکی تھی اس پل عضد کے چہرے میں اسے وہ چہرہ دکھاٸ دیا جو اسکی زندگی بھر کی بربادی کا سامان بنا تھا اسکا انداز بھی ایسا ہی تھا جو اسوقت عضد کا تھا۔۔۔۔
عضد اسے بہلانے کی کوشش میں تھا کہ رات کو اسکی وجہ سے اس نے موت جیسی اذیت کاٹی تھی عضد اپنی دانست میں شوہر ھونے کی حیثیت سے ہی اسے تنگ رہا تھا کہ اسکا موڈ اچھا رھے وہ ٹینس نا ھو لیکن رتابہ کے دل و دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا جس سے عضد بے خبر تھا۔۔۔
کککک کیا مطلب صاف صاف بتائیں پلیز گھبرائٹ اسکے چہرے سے صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
عضد نے اسکے رسپانس سے محفوظ ھوتے ھوۓ مسکرا کر اسکے ماتھے پر انگلی رکھی اور بڑے پیار سے بولا ھممممم بہت کچھ کیا ھے میں نے وہ اپنی انگلی اسکے ماتھے سے ناک اور ھونٹوں سے گزارتا ھوا جب گردن سے اپنا ہاتھ نیچے لایا تو رتابہ سے برداشت نا ھوا اور اچانک رتابہ کا ہاتھ اٹھا اور اس نے عضد کے منہ پر چماٹ دے ماری۔۔۔
یہ سب اتنا اچانک ھوا کہ نا تو عضد کو سمجھ آٸ کہ کیا ھوا نا رتابہ کو کہ اس نے کیا کیا۔۔
عضد تو جیسے کچھ لمحہ سکتے میں آگیا پھر کچھ دیر بعد اسے بازوٶں سے جکڑ کر بولا۔۔۔
تھپڑ کیوں مارا تم نے مجھے؟؟
رتابہ کو خود سمجھ نا آٸ کہ اس نے کیسے مار لیا۔۔۔
وہ پھر سے شیر کیطرح دھاڑ کر بولا تھپڑ کیوں مارا ھے تم نےمجھے بولو وہ اسے بازوؤں سے دبوچے کھڑا تھا آنکھیں آج پھر لاوا اگل رہی تھیں۔۔
رتابہ کیا بولتی خوف کے مارے اسکی آواز ہی بند ھو گٸ۔۔۔
اسلیۓ مارا ھے نا کہ میں نے تمھیں چھووا ھے عضد نے اسے غصے سے پوری قوت کیساتھ بیڈ پر پٹخا۔۔۔
رتابہ کراہ کر رہ گئی اس نے گلے سے تھوک نگلا اور پھر غصے سے بولی ککککیوں چھوا تممممم نے مجھے میری مدھوشی میں کب کب اور کیسے کیسے قربان کیا ھے مجھے آپ نے اپنی بے جا خواہشات پر کیوں میرے عورت ھونے کا فائدہ اٹھا یا ھے تم نے؟؟
تھوکتے بھی مجھی پر ھو اور چاٹتے بھی ھو وہ نا چاھتے ھوۓ غصے کے عالم میں وہ سب کہہ گئ جو اسوقت اسکے من میں تھا۔۔۔
وہ اسے اپنے شکنجے میں لیکر ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر بولا۔۔۔
تھوکا تو میں نے آج تک نہيں تم پر نا چاٹا تھا لیکن اب اس تھپڑ کا جواب تو دونگا میں تمھیں۔۔
رتابہ خود کو چھڑانے لگی چھوڑو مجھے۔۔۔
اب تو نہيں چھوڑونگا میں تمھیں پہلے تو ایسا کچھ نہيں کیا تھا میں نے لیکن ابھی جو الزام لگایا ھے نا وہ پورا کر کے دکھاٶنگا تمھیں۔۔۔
رتابہ اسے پیچھے ہٹانے لگی لیکن اسکی ننھی سی جان تھی جو اسوقت مکمل عضد کی گرفت میں تھی چھوڑو مجھے وہ زور سے چلاٸ۔۔۔
علی جو ابھی ابھی اٹھ کر اپنے کمرے سے باہر آیا تھا رتابہ کی چیخ سن کر جاگتا ھوا اوپر آیا۔۔
اتنا برا کیوں لگ رہا ھے آج میرا چھونا تمھیں دل تو چاھ رہا ھے ہر اس شرم کی حد سے گزر جاٶں جس سے تم پہلے گزر کر آٸ ھو عضد ایک ایک لفظ اسطرح چبا چبا کر بول رہا تھا جیسے اسکے دانتوں تلے رتابہ ھو ۔۔۔
لیکن میں ان بے غیرت مردوں میں سے نہيں جو خود کو حد میں نا رکھ سکیں میں نفرت اور بدلے کی آگ میں جل کر بھی میں تمھیں اس قابل نہيں سمجھتا کہ تمھیں اپنا ھم جسم کروں۔۔۔
عضد کی گرفت اس پر اتنی ٹاٸیٹ تھی کہ اسکا سانس رکنے لگا وہ کیسے چھڑاتی خود کو اس ظالم شخص کی گرفت سے جسے غصے میں بھی وہ خود لاٸ تھی اب اسکا غصہ رتابہ کو خود پر ہی سہنا تھا۔۔۔
وہ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ کر اٹھا۔۔۔
رتابہ نے خود کو جلدی سے کمبل میں لپیٹا کیونکہ عضد سے خود کو چھڑاتے ہوئے اسکی شرٹ کے بٹن کھل چکے تھے۔۔۔
وہ اسکا منہ سختی سے جبڑوں سے پکڑ کر بولا جو کام تمھارے ساتھ میں نے کبھی خوابوں میں بھی نہيں کیا اگر اب کرنا بھی پڑا تو تمھارے پورے ھوش و حواس میں کرونگا اور مجھے یہ سب کرنے کیلیۓ تمھاری اجازت کی ہرگز ضرورت نہيں آئ سمجھ۔۔۔
اور یاد رکھنا اپنے اس تھپڑ کو بھی جس وجہ سے مارا ھے نا وہ وجہ اب تمکو بگھتنی ھوگی۔۔
وہ اسے چھوڑ کر غصے سے کمرے سے باہر نکلا تو دروازے پر کھڑے علی سے ٹکرا گیا۔۔
وہ اتنے غصے میں تھا کہ علی کی موجودگی اپنے کمرے سے باہر نوٹ ہی نہیں کی اور علی کو دھکا دے کر دھپ دھپ سیڑھیاں اترنے لگا۔۔
علی کی نظر اندر بیڈ پر کمبل میں لپٹی با آواز روتی ھوٸ رتابہ پر پڑی تو وہ تیزی سے عضد کے پیچھے آیا رکو کہاں جا رھے ھو عضد۔۔
علی کی آواز پر وہ پلٹا۔۔۔
علی بلکل اسکے سامنے آکر کھڑا ھوا کیا کیا ھے تم نے اس لڑکی کیساتھ؟؟؟
تم کون ھوتے ھو پوچھنے والے میں جو بھی کروں عضد کا چہرہ غصے سے لال ھو رہا تھا۔۔
علی کو اسکے جواب پر تپ چڑھ گٸ شرم نہيں آتی تمھیں اتنے گھٹیا انسان ھوگے تم میں سوچ بھی نہيں سکتا تھا بابا تو بڑے تمھارے گن گاتے ھیں اب دیکھیں ذرا آکر تمھاری اصلیت کیا ھے؟؟
عضد مذید غصے میں آگیا کس لہجے میں بات کر رھے ھو تم مجھ سے؟؟
علی بھی غصے میں تھا اسے بہت دھچکا لگا تھا عضد کی اصلیت جان کر۔۔۔
لعنت ھے تمھاری مردانگی پر جو اک بے سہارا لڑکی کو گھر میں بھی رکھتے ھو اور اسکی مجبوری سے فاٸدہ اٹھاتے ھوۓ اسکی عزت سے بھی کھیلتے ھو۔۔۔
عضد کو اسکی بات سمجھ نا آٸ کہ وہ کیوں اور کیا کہہ رہا ھے ایسا۔۔
وہ اس پر چلایا بند کرو اپنی بکواس اس سے پہلے کہ میں بھول جاٶں کہ تم کون ھو۔۔
میں بھی تمھارا لحاظ کر رہا تھا اب تک لیکن اس گھر میں یہ سب نہيں چلے گا کہ تم ایک یتیم لڑکی کو اسطرح استعمال کرو کس حیثیت سے اسے تم نے اپنے ساتھ رکھا ھوا ھے ۔۔
دو وقت کی روٹی اور چھت دیکر تم جیسے ذلیل مرد ایسی معصوم اور مجبور لڑکیوں کو رکھیل بننے پر مجبور کر دیتے ھیں۔۔۔
عضد کے تو پیروں تلے سے زمین نکل گٸ رکھیل کا لفظ عضد کو یوں لگا جیسے کسی نے اسکے کان میں پگھلتا ھوا سیسہ انڈیل دیا ھو اس کے کانوں کی لوٸیں جلنے لگیں اس نے ایک زوردار تھپڑ مار کر علی کو پیچھے کیطرف دھکا دیا۔۔
علی تھپڑ کھاتے ہی اس پر جھپٹا تم ھوتے کون ھو مجھ پر ہاتھ اٹھانے والے عضد نے اسے قابو میں کیا اور اپنا گریبان چھڑاتے ھوۓ بولا۔۔
میں اس بے چاری اور یتیم لڑکی کا شوہر ھوں جسے تم نے میری رکھیل کہا ھے بیوی ھے وہ میری اسکی آواز پورے گھر میں گونجی۔۔۔
بیوی ھے وہ میری۔۔۔۔
بیوی ھے وہ میری۔۔۔۔
علی پر تو اسوقت حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا یہ سن کر کہ رتابہ اسکی بیوی ھے۔۔۔
رتابہ انکا شور سن کر کمرے سے باہر آئ تو عضد نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا یہ سب تمھیں اس بے سہارا لڑکی نے کہا ھے نا عضد تیزی سے اسکی طرف لپکا۔۔۔
رتابہ نے عضد کو اپنی طرف آتا دیکھ کر دروازہ لاک کر دیا۔۔
علی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر روکا اس نے کچھ نہيں کہا میں قسم کھاتا ھوں اللہ کی کہ مجھے نہيں معلوم تھا وہ تمھاری بیوی ھے مجھے misguide مایا نے کیا تھا۔۔۔۔۔
عضد کے قدم وہیں رک گۓ۔۔۔
کیااااا کیا کہا تم سے مایا نے کہ یہ لڑکی میں نے اپنے لطف کا سامان بنا کر رکھی ھوٸ ھے اور اسکے بے سہارا ھونے کا پورا پورا فاٸدہ اٹھا رہا ھوں میں؟؟؟
علی نے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا یار بہت شرمندہ ھوں میں اپنے الفاظ واپس لیتا ھوں معاف کر دو غلطی ھو گٸ مجھ سے انجانے میں۔۔۔
علی ھمدانی صاحب کمان سے نکلا ھوا تیر اور منہ سے نکلی ھوٸ بات کبھی پلٹ کر واپس نہيں آتی اور معاف تو کسی صورت نہيں کرونگا میں تمھیں بھی اور مایا کو بھی۔۔۔۔
علی مایا کے جھوٹ بولنے پر بہت شرمندہ تھا۔۔۔
انکی اسی لڑاٸ میں مارننگ واک کرتی مایا اندر آٸ۔۔۔
ھیلو guys …
عضد اسکے پاس تنتناتا ھوا آیا کیا کہا ھے تم نے علی سے رتابہ کے اور میرے بارے میں؟؟؟
مایا علی کو دیکھنے لگی ایسے جیسے پوچھ رہی ھو کیا ھوا ھے؟؟؟
پھر کندھے اچکاۓ انجان بن کر بولی میں نے تو کچھ نہيں کہا کیوں کیا ھوا؟؟؟
عضد نے اسے بازو سے پکڑا تم نے رتابہ کے متعلق کیا کہا ھے کیا لگتی ھے وہ میری؟؟؟؟ عضد کی آواز کافی بلند تھی۔۔۔
یہی کہا ھے کہ دور پرے کی جاننے والی ھے تمھاری وہ صاف مکر گئ عضد کا غصہ دیکھ کر۔۔۔
عضد نے اسکے ہاتھ سے بوتل چھینی اور غصے سے زمین پر پٹخی کیوں علی سے جھوٹ بولا تم نے؟؟ غصے سے بلکل پاگل ھو رہا تھا وہ اور اس قدر اونچا دھاڑا کہ اسکی آواز سے دیواریں بھی لرز اٹھیں۔۔۔
لیکن وہ یہ بھول گیا کہ اسکے سامنے مایا تھی وہ اس سے بھی اونچی آواز میں چلاٸ۔۔۔
تمیز کے داٸرے میں رہ کر مجھ سے بات کرو نا میں رتابہ ھوں اور نا ہی رتابہ کیطرح لاوارث۔۔۔
انکی آواز اتنی بلند تھی کہ رتابہ سب کچھ با آسانی سن رہی تھی۔۔۔
عضد کو بے انتہا غصہ تھا اس پر وہ اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگا جھوٹ کیوں بولا تم نے کیا ثابت کرنا چاھتی تھی تم؟؟؟؟ وہ عضد کے جھنجھوڑنے پر آگے پیچھے جھولی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں جھوٹ بولا میں نے اس نے عضد سے بازو چھڑاۓ۔۔۔
تو صرف تمھاری خاطر وہ اسکی سرخ انگارہ آنکھوں میں بے خوفی سے جھانک کر کہنے لگی سچ بولتی میں اس سے تمھاری حقیقت سے آگاہ کرتی کہ کسطرح بھیڑ بکری بنا کر تم نے اپنی بیوی کو رکھا ھوا ھے وہ کھاتی تم سے الگ ھے سوتی تم سے الگ ھے رہتی تم سے الگ ھے جوتے کی نوک پر رکھتے ھو تم اسے یہ سب بتاتی میں۔۔
مایا بھی جیسے پھٹ پڑی تھی۔۔۔
ایک تو تمھاری عزت رکھی ھے اوپر سے تم مجھ پر ہی الٹ رھے ھو عزت دینے یا لینے کے قابل ہی نہيں ھو تم۔۔۔
بند کرو اپنی بکواس عضد کو یقین نہیں آرہا تھا کہ مایا اتنی غلط بیانی سے کام لے گی۔۔۔
کیوں بند کروں اپنی بکواس اب سچ برداشت نہيں ھو رہا دن بھر اسکے ساتھ نوکروں اور جانوروں والا سلوک کرتے ھو اور رات کو اسکے تلوے چاٹنے چلے جاتے ھو۔۔۔
اسکی بات عضد کو جیسے آگ لگ گئی شیٹ اپ عضد نے جیسے ہی اس پر ہاتھ اٹھایا تو علی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا کیا کر رھے ھو یار بس کرو تم دونوں۔۔۔
مایا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا عضد کا رد عمل دیکھ کر۔۔۔
تمھاری اتنی ھمت کہ تم نے اس گھٹیا عورت کے پیچھے مجھ پر مایا ھمدانی پر ہاتھ اٹھایا وہ ناگن کیطرح غصے سے پھن مارتی چلا رہی تھی۔۔۔
علی نے مایا کو پکڑا جو اپنے قابو سے باہر ھوتی جارہی تھی۔۔۔
مرد کہتے ھو خود کو تھو ھے تمھارے مرد ھونے پر اس نے زمین پر تھوکا۔۔
اپنی بیوی کو تو کوٸ عزت کوٸ مقام دے نہيں سکتے دوسروں کی بہن بیٹیوں کی بھی عزت نہيں تمھاری نظر میں اتنا ہی غصہ آیا ھے نا میرے جھوٹ بولنے پر تو مرد بنو پھر نامرد نہيں۔۔۔
عضد اسے غصے سے دیکھتا رہا کہ کسطرح اس نے دوستی کا لبادہ پل بھر میں اتار پھینکا تھا اور ایک ایک کر کے اسکی ساری خطائیں اسے دوہرا کر زہر کند لہجے میں سنا رہی تھی۔۔۔
راتوں کو چھپ چھپ کر چوروں کیطرح شوہر بیوی کے کمرے میں نہيں جاتے تمھاری طرح علی نے چلاتی ھوئ مایا کہ منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے ساتھ لگاۓ کمرے میں لے گیا۔۔
اسکی آوازیں اندر سے بھی آرہی تھیں سمجھتا کیا ھے خود کو یہ مجھے جھوٹا کہہ رہا ھے اپنے گریبان میں تو جھانکے۔۔۔
ہونہہ بیوی مانتا ہی نہيں اسے اور کیسی بیوی ھے وہ اسکی میں اچھے سے جانتی ھوں پہلے مرد تو بن کر دکھاۓ اسکے معاملے میں مجھے جھوٹا کہتا ھے اس نا چیز جیسی لاوارث لڑکی کی خاطر یہ میرے منہ لگے گا اسکا سانس بھی غصے اب پھولنے لگا تھا وہ عضد کے ہاتھ اٹھانے پر بہت شاکڈ ھوئ تھی۔۔۔
عضد نے اسے بند دروازے سے جواب دیا۔۔۔
لاوارث نہيں ھے وہ وارث ھوں میں اسکا خبردار جو تم نے اسکے بارے میں ایک لفظ بھی اور کہا تو۔۔۔
وہ باہر آٸ کیا کر لو گے تم غصے سے اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا اور ھونٹ خشک ھو گۓ تھے۔۔۔
تمھارا منہ توڑ دونگا میں عضد نے بھی سارے لحاظ بالاۓ طاق رکھے۔۔۔۔
تمھارا اپنا منہ تو کسی کو دینے کے قابل ھے نہيں دوسروں کا کیسے توڑو گے تم اپنے گریبان میں جھانکو ھو کیا تم؟؟
بس بہت سن لی تمھاری بکواس میں نے اب کچھ کہا تو اپنی حالت کی ذمہ دار تم خود ھوگی۔۔۔
علی نے بڑی مشکل سے مایا کو چپ کروایا کیونکہ اسوقت عضد کی آنکھوں سے ایسے لگ رہا تھا کہ ان میں خون اترا ھوا ھے اور وہ سچ میں مایا کا حشر بگاڑ سکتا تھا۔۔۔
جاٶ جاٶ بڑے آۓ دھمکانے والے وہ ہاتھ کے اشارے سے لڑاکا عورت کی طرح لڑ رہی تھی اسوقت اسے دیکھ کر کوئ بھی یقین نا کرتا کہ وہ ایک بزنز وومین تھی۔۔۔۔
علی نے دونوں کے آگے ہاتھ جوڑے اور مایا کو پھر اندر کیا کہ انکی آپس میں لڑاٸ مذید نا بڑھ جاۓ۔۔۔
مایا شدید غصے میں تھی اسطرح آج تک اسکے ساتھ کوٸ پیش نہيں آیا تھا علی اسکے پاس آیا وہ اب بھی غصے سے بڑبڑا رہی تھی۔۔۔
بس کردو یار اب ساری غلطی تمھاری ھے اسکا چلانا اور یہ سب کرنا حق پر تھا۔۔۔
وہ غصے سے گہرے سانس لیکر بولی غلطی میری نہيں اسکی اپنی ھے جیسا رویہ ھے نا اسکا رتابہ کیساتھ میں کیا ہر کوٸ مشکوک ھو سکتا ھے کہ وہ اسکی بیوی ھے ہی نہيں۔۔۔۔
میں نے اسلیۓ تم سے جھوٹ بولا تھا کہ یہ تمھاری نظروں میں نا گرے اپنے behavior کیوجہ سے جو روپ میں نے دیکھا ھے نا اسکا وہ تم دیکھتے تو ہزار سوال اٹھتے تمھارے ذہن میں۔۔۔
پلیز کلو ڈاؤن یار علی نے اسکا ہاتھ تھپتھپایا۔۔۔
کوٸ مرد میں نے آج تک اس جیسا نہيں دیکھا جو سب کے سامنے سال بھر اپنی نفرت کا ڈھنڈورا پیٹے اور پھر جب دل چاھا اسے اپنے بستر کی زینت بنالے یہ سب دیکھ کر کیا سمجھتے تم کیا image بنتا تمھارے ذہن میں اسکا جیسا سلوک یہ کرتا ھے نا اسکے ساتھ ایسا تو کوٸ کوٹھے والی جسم فروشوں کیساتھ نا کرے۔۔۔
عضد غصے سے دھڑام سے دروازہ کھول کر اندرآیا۔۔۔
تم اپنی بکواس بند کروگی یا نہيں عضد کا انداز ایسا تھا کہ وہ اسکا منہ توڑ دیگا۔۔۔
علی پریشان ھو گیا کس کو سنبھالتا دونوں ہی ہار ماننے کو تیار نا تھے۔۔۔
نہيں کرونگی بند کیونکہ مجھ سے تمھارا دوغلا پن برداشت نہيں ھوتا اندر سے کچھ ھو تم اور باہر سے کچھ مایا تو آج پھٹ پڑی تھی اس پر اسکے سارے رویوں کا خوب احساس دلایا تھا اس نے عضد کو۔۔۔
علی نے مایا کو خاموش کروایا بس کر دو یار حد ھوتی ھے تمھارے اس جھوٹ کیوجہ سے یہ سارا فساد کھڑا ھوا ھے۔۔۔
ہاں جھوٹ بولا ھے میں نے تو قبول بھی کیا ھے یہ کیوں نہيں اپنے من کی کھوٹ قبول کرتا اگر جھوٹ ہی بولتا ھے تو قاٸم رھے اس پر آدمی کو صاحب کردار ھونا چاھیۓ۔۔۔
عضد کرخت لہجے میں اسے گھور کر بولا۔۔۔
میرا کردار تو کھوٹا سہی اور میں صاحب کردار بھی نا سہی لیکن شکر ھے کہ تمھاری اصلیت تو کھل کر میرے سامنے آٸ کہ کسی بھی لحاظ سے قابل اعتبار نہيں ھو تم۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ رکا نہيں اور زور سے کمرے کا دروازہ بند کر کے گھر سے ہی چلا گیا۔۔۔
رتابہ خود کو کمبل میں لپیٹے روتی رہی کہ کیا سے کیا ھو گیا تھا آج کیوں اس نے تھپڑ مارا عضد کو اتنی ھمت کہاں سے آگئی تھی اس میں اور مایا اور علی نے کتنی گھٹیا باتیں کیں کس قدر برا نام دیا ان کے اس پاکیزہ رشتے کو اسے اپنے آپ سے بھی گھن آنے لگی انکی سوچ جان کروہ شدتِ احساس سے پھوٹ پھوٹ کر روئ۔۔۔
آج تک عضد کی تمام سختیاں اس نے جھیلی تھیں لیکن علی اور مایا کی باتیں اسکی برداشت سے باہر تھیں اسکا بس نہيں چل رہا تھا کہ وہ خود کو مار دیتی یا ان دونوں کا منہ نوچ لیتی۔۔۔
کاااااااش میں لاواث نا ھوتی کاااااش کوٸ تو ھوتا میرا کاااااش۔۔۔۔
روتے ھوۓ اسے کئ گھنٹے بیت گۓ انکی باتیں ایک ایک کرکے اسکے دل و دماغ میں گونج رہی تھیں پھر اسے عضد کا جملہ یاد آیا۔۔۔
لاوارث نہیں ھے وہ میں وارث ھوں اسکا۔۔
اس نے اپنے آنسو پونچھے عضد نے یہ کیسے کہہ دیا کہ میں لاوارث نہيں ھوں میرا وارث ھے وہ۔۔۔
اور میری خاطر وہ مایا کا منہ توڑنے کو بھی تیار تھا اور یہ مایا کیا کہہ رہی تھی کہ چوروں کیطرح رات کو میرے کمرے میں آنا عضد کا اور کل گزری ھوٸ رات کو کیا ھوا تھا ھم دونوں کے بیچ کیا کیا تھا عضد نے میرے ساتھ ؟؟؟
کیا وہ سچ کہہ رہا تھا کہ اس نے میری حیا کی لاج رکھی ھے جھوٹ تو اس نے آج تک کبھی نہيں بولا جھوٹ سے اسے بلا کی نفرت تھی اور مجھ سے بھی وہ پریشانی میں خود سے سوال و جواب کرنے لگی۔۔۔۔۔
کیا اتنی طاقت ھے اسکی نفرت میں کہ میرا ھوکر بھی مجھے حاصل نہيں کرنا چاھتا لیکن آج جو کچھ ھوا اب وہ مجھ سے اپنی اسقدر ھونے والی ذلت کا بدلہ بھی لے گا؟؟؟
سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹ رہا تھا بہت بے چین اور بے بس ھو رہی تھی وہ۔۔۔
گزری ھوٸ رات کی تکلیف اور درد وہ بھول ہی گٸ تھی جسے اس نے موت سے بھی بدتر کاٹا تھا فکر اور پریشانی تھی اب اسے آنیوالے وقت کی کہ اب عضد کیا کرے گا اسکے ساتھ؟؟؟
اب وہ مجھے اذیت دینے کا کونسا روپ دھارے گا اور میری اس تھپڑ والی غلطی کا ازالہ کسطرح چکانا پڑے گا مجھے؟؟؟
پھر وہ خود کو خود ہی جواب دینے لگی شاید اپنی جان دیکر بھی نا چکا پاٶنگی میں پھر اس نے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ شرٹ کی آستین سے اپنے آنسو پونچھے۔۔۔
اور گھٹنے میں سر دیۓ اپنے ہی بانہوں کے حصار میں لیا خود کو۔۔۔
اپنا درد وہ ھیشہ اللہ سے یا اپنے آپ سے بانٹتی تھی کوٸ نا تھا اسکے درد کا ساتھی جو آ کر اسکے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتا یا یہ کہتا کہ فکر نا کرو میں ھوں تمھارے ساتھ۔۔۔۔
آج پھر شدت سے اسے اپنے لاوارث ھونے کا احساس ھوا کہ کاش اسکا بھی کوٸ تو اپنا خونی رشتہ ھوتا تو مایا اسے آج بار بار لاوارث ھونے کا طعنہ نا دیتی۔۔
_______________
ساحل کی آتی جاتی لہروں پر عضد قدم جماۓ کافی دیر کھڑا رہا ریت اسکے پیروں سے سرکتے سرکتے اسکے پاٶں اپنے اندر دھنساتی رہی تھی۔۔۔
مایا کے الفاظ تھپڑ کیطرح اسے محسوس ھو رھے تھے۔۔۔
پہلے یہ اسکے معاملے میں مرد تو بن کر دکھاۓ۔۔۔
رات کو چوروں کیطرح شوہر بیویوں کے کمرے میں نہيں جاتے۔۔۔ اسکی یہ حرکات دیکھ کر کون یقین کریگا کہ وہ اسکی بیوی ھے۔۔۔
پاٶں کی جوتی سمجھتا ھے یہ اسے۔۔۔۔
پھر اسے رتابہ کا تھپڑ یاد آیا۔۔۔
اس نے کیوں مارا مجھے تھپڑ اسکا تو میں شوہر تھا جو چاھے میں کرسکتا تھا پھر اسے میرا چھونا یا میرا اسطرح کا انداز کیوں اتنا برا لگا؟؟؟
کیا وہ بھی مجھ سے میری طرح نفرت کرنے لگی ھے؟؟؟؟
آج اسکے چہرے پر میرے ساتھ ھونے کا سکون دکھاٸ نہيں دیا مجھے کیوں؟؟
کیا وہ ڈر گٸ ھے مجھ سے یا اسکا اعتبار اٹھ گیا مجھ سے؟؟
اعتبار کا سوچ کر عضد کے کانوں میں چھناکے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز گونجی۔۔۔
اعتبارررررر۔۔۔۔ کیا میں کرتا ھوں اس پر؟؟؟؟؟
نہيں…
لیکن کیوں؟؟؟
وہ خود ہی سوال بھی کر رہا تھا اور جواب بھی خود ہی دے کر خود کو مطمٸن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
لیکن اسکا غصہ کسی صورت کم نہيں ھو رہا تھا وہ کھڑے کھڑے تھکا تو بیٹھ گیا وہیں پر۔۔۔
اپنے پیروں سے نیچے سرکتی ھوٸ ریت پر اسے جازب کی بات یاد آٸ۔۔۔۔۔
یار خوش رہنا سیکھو اور پیچھے مڑ کر نا دیکھو ماضی راکھ کا ڈھیر ھے اپنے پاٶں مضبوط رکھو کیونکہ حال لمحہ بہ لمحہ ریت کی طرح سرک رہا ھے اور روشن خیالات کیساتھ اپنے قدم تیزی سے بڑھاٶ آگے کیطرف اور آنکھیں کھول کر رکھو کیونکہ مستقبل تاریک خلا ھے۔۔۔۔
پانی میں مسلسل بیٹھنے سے بھی اسے سردی کا احساس نا ھوا ہلکی ہلکی بارش شروع ھو گٸ تھی۔۔۔
ٹپ ٹپ گرتی بوندوں سے وہ بھیگنے لگا تو اسے سردی کا احساس ھوا اور وہ جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور سگریٹ پینے لگا پہلے سگریٹ پر وہ خوب کھانسا۔۔۔
لیکن پھر ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا پھر وہ سگریٹ پر سگریٹ پینے لگا سگریٹ کے دھوٸیں کیطرح اسکا دل و دماغ بھی دھواں دھواں ھو رہا تھا۔۔۔
کس کو سناتا وہ اپنے دل کی کہانی بس اندر ہی اندر وہ تن تنہا جلتا اور کڑھتا رہا اپنے دل کی دوہائیاں خود ہی سنتا رہا۔۔۔
پھر ھوٹل میں چاۓ پی کر عشاہ کی اذان کے بعد گھر کیطرف آیا تو ساری سوچیں سارے خیالات دوبارہ اس سے کسی جن کیطرح آچمٹے۔۔۔
مایا میڈم اب میں تمھیں بھی مرد بن کر دکھاٶنگا اور رتابہ تمھیں بھی۔۔۔
دوغلا کہا ھے نا تم نے مجھے اب میں تمھیں اپنا ایک ہی روپ دکھاٶنگا۔۔۔۔
علی پریشانی سے اسے ڈھونڈنے نکلا پر اسے زیادہ راستوں کا نہيں معلوم تھا آس پاس دیکھ کر واپس پلٹ آیا۔۔۔۔
مایا sleeping پلز لے کر سو گٸ تھی دوبارہ رتابہ اپنے کمرے میں چلی گٸ تھی۔۔۔
علی پریشانی میں عضد کا انتظار کرتا رہا کہ صبح سے رات ھو گٸ تھی وہ گھر نہيں لوٹا تھا اسکا موبائل بھی آف جا رہا تھا رات کو جب وہ گھر لوٹا تو علی ہال میں شدت سے اسکا منتظر تھا۔۔۔
کہاں تھے تم کتنا پریشان تھا میں وہ جلدی سے اسکے قریب آکر فکر سے بولا۔۔۔
عضد پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اسے نظرانداز کرتا اوپر جانے لگا۔۔۔
عضد کچھ پوچھ رہا ھوں میں یار کہاں تھے تم کیوں اتنی دیر سے گھر آۓ ھو کہاں تھے سارا دن؟؟؟
وہ رکا لیکن اسکی طرف پشت کیے سختی سے کہا میں کہاں تھا کیوں تھا میں گھر دیر سے کیوں آیا یہ سب سوال تم نہيں کر سکتے مجھ سے۔۔۔
کیوں نہيں کر سکتا دوست ھوں تمھارا یار۔۔۔
عضد نے گردن کو خم دے کر اسکی طرف دیکھا پھر دو تین سیڑھیاں اتر کر اسکے قریب آکر کھڑا ھوا۔۔۔
دوست اور میں وہ بھی تمھارا عضد نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر ایسے ری ایکٹ کیا جیسے علی نے کوئ انہونی بات کی ھو۔۔۔
تم دونوں بھاٸ بہن کا کتنا گھٹیا معیار ھے یار مجھ جیسے کم ظرف دوست رکھتے ھو عضد نے بھنویں سکیڑ کر کہا۔۔۔
یار کیوں شرمندہ کرتے ھو کہہ جو دیا غلط فہمی کی وجہ سے میں کہہ گیا سب معاف کر دو یار۔۔۔۔
عضد ایک ایک لفظ پر زور دیکر بولا شرمندہ تم کیوں ھو رھے ھو شرمندہ تو میں ھوں تم دونوں سے۔۔۔۔۔
علی نے اسکا ہاتھ پکڑا یار معاف کر دو اب رہنے بھی دو بھاٸ جیسی حیثیت دیتا ھوں میں تمھیں تمھاری ناراضگی برداشت نہيں کر سکتا۔۔۔۔
اوووووہ رٸیلی عضد نے حیران ھونے کی ایکٹنگ کی۔۔۔
اگر واقعی بھاٸ سمجھتے تو مایا کی غلط بیانی پر یقین کر کے نا بیٹھتے ایک بار مجھ سے پوچھ لیتے۔۔۔۔
علی بہت پچھتا رہا تھا اسے اتنا کچھ کہا تھا اس نے اوپر سے رہتی قصر مایا نے پوری کر دی تھی۔۔۔
شرمندگی سے اس نے سر جھکا کر ایک بار پھر سوری کہا تو عضد دل برداشتہ لہجے میں بولا۔۔۔
تم سر نا جھکاٶ میرے بھاٸ سر تو شرم سے میرا جھکنا چاھیۓ مجبور لڑکیوں کا دھرم شالا جو کھول رکھا ھے میں نے عضد کا انداز کاٹ دینے والا تھا۔۔۔
علی آنکھیں جھکاۓ بولا یار اتنا شرمندہ تو نا کرو کہ میں اپنی ہی نظروں میں گر جاٶں۔۔۔
عضد نے گردن جھکا کر علی کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا۔۔۔ کتنی فکر ھے خود کی نظروں میں گرنے کی اور تم دونوں بہن بھائی نے میری نظروں میں مجھے کہاں جا کر گرایا ھے اندازہ بھی ھے کچھ ؟؟؟
علی رو دینے کو تھا اندازہ ھے یار اسلیۓ تم سے باربار ایکسکیوز کر رہا ھوں۔۔۔
عضد نے پھر مذید کچھ نا کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
_____________
صبح ناشتے کی میز پر وہ آیا تو مایا اور علی پہلے سے موجود تھے۔۔۔
انکو سرے سے اگنور کرتا وہ کچن میں آیا رتابہ کو دیکھ کر اسے تھپڑ یاد آیا تو اسکا خون غصے سے کھولنے لگا لیکن اس نے کنٹرول کیا۔۔۔
میرا ناشتہ ڈراٸنگ روم میں لے آٶ رتابہ اسکا ناشتہ تیار کرنے لگی لیکن اسکے سامنے جانے سے وہ گھبرا رہی تھی کہ ناجانے اب کیا کریگا عضد رابی بھی نہيں تھی وہ ڈرتے ڈرتے ٹرالی لیکر ڈراٸنگ روم میں داخل ھوٸ۔۔۔۔
عضد ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے چاۓ ڈالی عضد کی نظریں مسلسل اسکا احاطہ کیۓ ھوۓ تھیں۔۔۔
اسکا رنگ بلکل پیلا ہلدی کی طرح ھو رہا تھا جیسے کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ھو آنکھیں بھی روٸ روٸ سوجھی ھوٸ تھیں گلابی ھونٹ بھی اب تک نیلے ھو رھے تھے۔۔۔
طبیعت ٹھیک ھے تمھاری؟؟؟
وہ جاتے جاتے عضد کی آواز سن کر رکی اور اسکی جانب پیٹھ کیۓ جواب دیا۔۔۔
جی۔۔۔
ادھر آٶ میرے پاس۔۔۔
رتابہ کے قدم خوف سے وہیں جم گۓ۔۔۔
ادھر آٶ دوسری بار وہ ذرا سختی سے بولا تو وہ بے چینی سے ہاتھ رگڑتی اسکے سامنے سر جھکا کر مجرموں کیطرح کھڑی ھو گٸ۔۔۔
عضد نے اسکا کپکپاتا ہاتھ پکڑا جو اب بھی برف کیطرح ٹھنڈا ھو رہا تھا۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھامے اسی طرح اٹھا اور اوپر اپنے کمرے میں آیا رتابہ اسکے پیچھے پیچھے تھی اور دل ہی دل میں اپنی خیر کی دعائیں کرنے لگی کہ نا جانے عضد اب کمرے میں لے جا کر کیا کریگا اسکے ساتھ؟؟؟
علی اور مایا اسے دیکھتے رہ گۓ۔۔۔
کمرے میں لے جاکر عضد نے کچھ tablets اسکے ہاتھ میں دیں اور سمجھایا کہ یہ کس طریقے سے کھانی ھیں۔۔۔
اس نے سہمے ہوئے بچوں کیطرح ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
عضد نے اسوقت خود کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا ھوا تھا کیونکہ اپنی ذلت اور اسکی چماٹ اسے بار بار کل کا گزرا وقت یاد دلا رہی تھی۔۔۔
وہ پھر رکا نہيں ناشتہ کر کے گاڑی نکال کر آفس چلا گیا مایا اور علی کو ڈرائيور کے حوالے کر دیا۔۔
____________
آفس جا کر بھی اس نے صرف کام کی بات کی وہ بھی علی سے۔۔۔
مایا کیساتھ تو وہ ایسے پیش آرہا تھا جیسے وہ موجود ہی نا تھی۔۔۔
اگلی صبح عضد نے رابی کی جگہ ایک اور میڈ ہاٸیر کی جو گھر کے کام کاج کیلیۓ آٸ تھی۔۔۔
صبح ناشتے کی میز پر وہ آکر بیٹھا اور نٸ میڈ گلناز کو آواز لگاٸ۔۔۔
کام سمجھا رہا ھوں گھر کے سارے ایک بار گھر کی صفائی اور برتن کے علاوہ تم نے دو بندوں کا ناشتہ اور رات کا کھانا بھی بنانا ھے۔۔۔
کن دو بندوں کا صاحب جی…
ان کا عضد نے علی اور مایا کیطرف اشارہ کیا۔۔۔
جی ٹھیک ھے۔۔۔
لیکن صاحب جی آپکا؟؟؟گلناز نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔
میری ذمہ داری میری بیوی کی ھے وہ کڑے تیورں سے مایا کو گھور کر بولا تھا۔۔۔
مایا کو یہ بات سنکر جیسے آگ سی لگ گٸ تھی وہ ناشتہ چھوڑ کر اٹھ گٸ۔۔۔
علی عضد کو دیکھتا رہا کہ وہ کس قدر انکو اگنور کر رہا تھا عضد گلناز کو ساری ہدایت دیکر بڑے آرام سے ناشتہ کرنے لگا۔۔۔
_____________
دوپہر کا وقت تھا گلناز نے عضد کو لینڈ لائن نمبر سے کال کی جو عضد نے اسے دیا تھا کہ گھر میں کچھ پرابلم ھو تو وہ کال کر لے۔۔۔
صاحب جی باجی کی طبیعت بہت خراب ھے وہ کچھ کھا پی بھی نہيں رہی آپ آکر انکو ھسپتال لے جاٸیں۔۔۔۔
اس نے آنے کا کہہ کر فون کاٹا اور آفس سے جانے لگا۔۔۔
علی نے اس سے پوچھا کہاں جارھے ھو؟؟
وہ مایا کیطرف غصے سے دیکھ کر بولا گھر جارہا ھوں رتابہ کی طبیعت ٹھیک نہيں۔۔۔
مایا نے عضد کے بجاۓ علی سے کہا اس سے کہو Meeting ھے ابھی۔۔۔
وہ اسکی بات ان سنی کر کے چلا گیا۔۔۔
مایا نے غصے سے پانی کا گلاس کمپيوٹر اسکرین پر دے مارا گلاس سمیت کمپیوٹر کی اسکرین بھی ٹوٹ گئ۔۔۔
علی دانت پیس کر بولا Behave ur self آفس ھے یہ تمھارا گھر نہیں۔۔۔
وہ اپنے غصے کو قابو نہیں کر پا رہی تھی اسے احساس نا ھوا کہ اس نے کیا کیا ھے بس عضد کے اگنور کرنے کا غم و غصہ تھا اسے۔۔۔
دیکھا تم نے اسکو کسطرح behave کر رہاھے یہ۔۔۔
اس سب کی ذمہ دار تم ھو علی نے اسے اسکا جھوٹ یاد دلایا۔۔۔
عضد موبائل اپنا بھول گیا تھا واپس لینے آفس آیا تو مایا چلا رہی تھی ہاں ہاں سارے فساد کی جڑ میں ھوں نا سچ جو بولا ھے میں نے اب برداشت کہاں ھوگا سب سے۔۔۔
عضد اسکے پاس سے گزرتا ھوا رک گیا سچ نہيں بولا تم نے بلکہ اپنے اندر پلنے والی غلاظت اگلی ھے۔۔۔
اس سے پہلے کہ مایا اس سے کچھ کہتی اکاؤنٹ مینیجر دستک دیکر اندر آیا۔۔۔
وہ سب خاموش ھو گۓ اور عضد وہاں سے چل دیا۔۔۔
گھر پہنچ کر سیدھا رتابہ کے کمرے میں گیا۔۔۔
اب وہ اسے اکیلی مل گٸ تھی اپنے اندر کی بھڑاس اس نے کچھ تو نکالنی تھی۔۔۔۔
عضد نے اسکے پاس پڑے ساٸیڈ ٹیبل پر وہ گولیاں دیکھیں جو اس نے دی تھیں ان میں سے ایک گولی بھی رتابہ نے نہيں کھاٸ تھی اسے موقعہ مل گیا اسے جھاڑنے کا وہ اونچی آواز میں بولا۔۔۔
یہ کیا تماشا لگایا ھوا ھے تم نے؟؟؟
وہ کمبل میں منہ دیۓ لیٹی ھوٸ تھی اچانک عضد کے سر پر کھڑے ھوکر دھاڑنے سے ڈر گٸ۔۔۔۔
تم کیا سمجھتی ھو کہ اسطرح بیمار رہ کر تم مجھ سے خود کو بچاۓ رکھو گی اور میں تم سے ھمدردیاں جتاتا رھونگا تو کان کھول کر سن لو یہ بھول ہے تمھاری۔۔۔
رتابہ نے سراسیمگی کی حالت میں ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
اسکے دیکھنے پر وہ آگ بگولہ ھو کر بولا ابھی تک تمھارے اس تھپڑ کی گونج مجھے سناٸ دیتی ھے جو تم نے میرے منہ پر مارا تھا بھولا نہیں ھوں میں اور نا تمھیں بھولنے دونگا۔۔۔
رتابہ اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر خاموش ہی رہی کہ اسکا انداز بہت عجیب تھا۔۔۔
وہ اسکی سہمی ھوٸ آنکھوں میں جھانک کر مذید بولا ڈرو مت مارونگا نہيں میں تمھیں اب۔۔۔
عضد کے خود پر جھکنے سے وہ پیچھے ھوئ تو سر بیڈ کے کراؤن سے جا لگا۔۔۔
لیکن۔۔۔ ایک لمحہ وہ رکا اور پھر آنکھوں میں بدلے کی مسکراہٹ لیے جملہ پورا کیا۔۔۔
لیکن سزا تو ضرور دونگا میں تمھیں تمھاری اس ھمت اور گستاخی کی جسکی وجہ سے تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا۔۔۔
جاری ھے۔۔۔
