Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 34)

Bad Bakhat by Arshi Noor

از قلم عرشی نور

کیا ایک ہی دن کے لیے آپکی بیوی بنی تھی یہ؟؟؟ کس قدر حیوانیت کا مظاہرہ کیا ھے آپ نے کیا آپ کو یہ انسان نہیں نظر آئ یا خود کو انسان سمجھنا بھول گۓ تھے آپ؟؟؟

عضد مذید نا سن سکا ڈاکٹر کی باتیں وہ چلا گیا وہاں سے بھی۔۔۔

__________________

عضد گھر میں ہی تھا مایا اسکے پاس آٸ۔۔۔

یہ کیا سن رہی ھوں میں کیا کیا ھے تم نے رتابہ کیساتھ ؟؟

پلیز یار مجھے کسی سے کوٸ بات نہيں کرنی جاٶ یہاں سے۔۔۔۔۔۔

یہ کیا طریقہ ھے تمھارا بات کرنے کا۔۔۔۔

عضد اس پر چلایا ایک بار کہہ دیا سمجھ نہيں آرہی جاٶ یہاں سے۔۔۔۔

اتنا غصہ اتنی اکڑ تمھیں ھے کس بات کی مایا کمر پر ہاتھ رکھ بولی۔۔۔

عضد نے اسے بازو سے پکڑ کر کمرے سے نکالا

یہ کیا بد تمیزی ھے مایا غصے سے چلائ۔۔۔

نرگس ابھی ابھی گھر آٸ تھی۔۔۔۔

مایا کو دھکے سے کمرے سے نکالتا دیکھ کر نرگس نے بھی اسے جھاڑا کیا بدتمیزی ھے یہ نرگس کی آواز کافی بلند تھی۔۔۔۔

مایا اسے دیکھ کر بولی۔۔۔۔

انٹی رھنے دیں ہر لحاظ بھول گیا ھے یہ پہلی بار اسے اپنے مرد ھونے کا احساس ھوا ھے۔۔۔۔

شیٹ اپ یو منہ سنبھال کر بات کرنا اب ورنہ وہ انگلی سے وارن کرنے لگا اسے۔۔۔

نرگس جانتی تھی غصے کا بہت تیز ھے وہ اسے اسکے حال پر چھوڑ دو بیٹا واقعی یہ ہر لحاظ بھول گیا ھے۔۔۔۔۔

عضد نے دونوں کو اک نظر دیکھا پھر دروازہ بند کر لیا۔۔۔۔

نرگس رتابہ کا سامان پیک کرنے لگی کچھ دیر بعد عضد اسکے پیچھے آیا۔۔۔۔

امی۔۔۔۔

خبردارجو مجھے امی کہا تو نہيں ھو سکتے تم میرے بیٹے۔۔۔۔

امی معاف کر دیں مجھے۔۔۔۔

میں کیوں کروں معاف زیادتی تم نے اس معصوم کیساتھ کی ھے۔۔۔۔

میں نہيں کرنا چاھتا تھا یہ سب امی وہ باقاعدہ رو پڑا۔۔۔

میں نے آج تک اسکے ساتھ اسطرح نہيں کیا تھا میں اسے یہ تکلیف کبھی بھی نہيں دینا چاھتا تھا لیکن مجھ سے غلطی ھو گٸ امی مجھ سے غصے میں ھو گیا یہ سب وہ سر جھکاۓ کھڑا ٹپ ٹپ آنسو بہانے لگا۔۔۔۔

جو تم نے کرنا تھا وہ کر چکےھو اب مذید تمھارے کسی ظلم کیلیۓ میں اسے تمھارے ساتھ نہيں رہنے دے سکتی تم خوش رھو اپنی زندگی میں ، میں لے جارہی ھوں اسے ساتھ اب اس گھر میں وہ قدم بھی نہيں رکھے گی۔۔۔۔۔۔

نرگس کی بات سن کر عضد کے پیروں سے زمین ہی نکل گٸ وہ گھبرا کر ماں کو دیکھنے لگا آپ اسے نہيں لے کر جاٸیں گی یہی رھے گی وہ میرے ساتھ۔۔۔

نرگس نے رتابہ کا دوپٹہ طے کرتے ھوۓ بنا اسے دیکھے جواب دیا تم میں تو انسانيت باقی نہيں رہی نا لیکن مجھ میں ھے ایک دن بھی نہيں رھنے دونگی میں اسے تمھارے ساتھ۔۔۔

عضد کو رتابہ کی عادت ھو گٸ تھی اسکی انا اسکی نفرت سب اپنی جگہ تھا لیکن رتابہ کے بغیر اسکا کوٸ دن نہيں گزرا تھا ان تین سالوں میں لمحہ لمحہ وہ اسکے ساتھ رہی تھی اسکے بغیر رھنے کا تو اس نے تصور بھی نہيں کیا تھا کبھی۔۔۔۔

نہيں امی میں نہيں رہ سکتا اسکے بغیر اس نے ماں کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔

نرگس نے اسکا ہاتھ جھٹکا لیکن اسکے ساتھ بھی رھنے کے قابل نہيں ھو تم۔۔۔۔۔

وہ با آواز رونے لگا اسے کھونے کے ڈر سے اسکے دور ھونے کے ڈر سے وہ نرگس کیساتھ زبردستی لپٹ گیا امی میں معافی مانگ لونگا اس سے۔۔۔۔

میں اپنی ہر غلطی کا ہر ظلم کا ازالہ کرونگا اب ایک آنسو بھی نہيں آنے دونگا اسکی آنکھ میں لیکن پلیز مجھے معاف کر دیں میں نہيں رہ سکتا اسکے بنا مجھے عادت سی ھو گٸ ھے اسکی۔۔۔۔

وہ بچوں کیطرح رو رہا تھا۔۔۔۔

نرگس نے اسے ہٹانا چاہا لیکن وہ اور بھی زور سے لپٹ گیا امی میں نہيں رہ سکتا اسکے بغیر۔۔۔۔۔۔

میں نہيں رہ سکتا۔۔۔۔

میں نہيں رہ سکتا۔۔۔۔۔

وہ بار بار نرگس سے لپٹ کر اس بات کا اقرار کر رہا تھا کہ وہ رتابہ کے بنا ادھورا تھا اب۔۔۔

نرگس بھی رو پڑی بیٹا اسے اتنی تکلیف پہنچا کر ہی تمھیں اس بات کا احساس ھوا ھے کہ تم نہيں رہ سکتے اسکے بغیر اپنی نفرت کا شکار کرنے کے بعد ہی تمھارے اندر اسکے لیۓ رحم جاگا ھے۔۔۔۔۔

میں کچھ نہيں جانتا امی بس آپ اسے نہيں لے کر جاٸیں گی وہ ماں سے بچوں کیطرح لپٹا ھوا تھا۔۔۔

عضد کو بکھرتا اور ٹوٹتا دیکھ کر اسے سنبھالنا پڑا ماں تھی اسکی۔۔۔۔۔

___________________

وہ ھوسپٹل گیا۔۔۔۔۔۔

رتابہ میڈیسن کیوجہ سے گہری نیند میں تھی وہ جاکر اسکے قدموں میں بیٹھا اور کافی دیر تک روتا رہا۔۔۔۔۔

آج کے بعد کبھی بھی تمھاری اجازت کے بغیر تمھیں Touch نہيں کرونگا تمھارے قریب بھی نہيں آٶنگا۔۔۔۔۔

جب تک تم خود میرے قریب نہيں آٶگی کوٸ زیادتی کوٸ سوال کوٸ تکلیف نہيں دونگا اب تمھیں۔۔۔۔

اپنے اس رشتے کا کوٸ حق نہيں مانگوں کا تم سے تمھارے ماضی بھی نہیں جھانکوں گا بس ایک بار معاف کردو مجھے وہ اسکے قدموں میں تھا۔۔۔۔۔

اور رتابہ ھوش سے بیگانی پڑی ھوٸ تھی اس نے اپنے ھونٹ رتابہ کی ٹھندی پیشانی پر رکھے میں وعدہ کرتا ھوں تم سے رتابہ کوئ دکھ نہیں پہنچاؤنگا اب تمھیں اپنی ذات سے۔۔۔۔

عضد کے آنسو رتابہ کے بالوں میں گم ھونے لگے۔۔۔۔۔

علی وہیں موجود تھا عضد کے آنے کے بعد گھر گیا۔۔۔۔۔

رتابہ کے پاس ہی بیٹھا وہ اپنی کی ھوٸ ہر زیادتی کو یاد کرکے دل ہی دل میں اس سے معافی مانگتا رہا اسکے آنسو لگاتار بہتے رھے۔۔۔۔۔۔

بہت نادم تھا وہ اپنی ہر غلطی پر اب وہ اسکا ازالہ چاھتا تھا۔۔۔۔

لیکن رتابہ عضد کو تلافی کا موقع دیگی یا نہيں وہ اسکے ساتھ رہنا بھی چاھتی ھے یا نہيں اب یہ سب رتابہ کی چاھت پر منحصر تھا۔۔۔۔۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کی امان میں رھیں۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *