Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 22)

Bad Bakhat by Arshi Noor

اچانک ان دونوں کو سامنے ایک ساتھ دیکھ کر رتابہ شاکڈ ھو گئ اسکی دماغ کی شریانیں اسے پھٹتی ھوئ محسوس ھوئیں ناک سے خون کا اک قطرہ ٹپکا تو وہ اپنے قدموں پر کھڑی نا رہ سکی۔۔۔۔

نمل بھی اپنی جگہ بلکل ساکت ھو گٸ تھی سبھی ان دونوں کو اسطرح دیکھ کر ساکن تھے بلکل۔۔۔

لیکن رتابہ کے گرنے سے سب کے وجود میں حرکت آئ۔۔۔

اور نمل کے حلق سے بختی نام کی چیخ برآمد ھوئ۔۔۔

سبھی پریشانی سے رتابہ کے گرد جمع ھوۓ نرگس نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا رتابہ میری بچی کیا ھوا؟؟

نمل جہاں بھر کی حیرانی اپنے لہجے میں سموۓ بولی امی یہ رتابہ نہيں ھے یہ تو بختی ھے۔۔۔

عضد نے حیرانی سے نمل کو دیکھا آپ جانتی ھیں اسے؟؟؟

نرگس روتے ھوۓ بولی تم یہ سب باتیں بعد میں کرنا پہلے اسے ھوسپٹل لے کر تو جاٶ عضد نے اسے اٹھایا اور ھوسپٹل لے گۓ۔۔۔۔

نمل کے منہ سے بختی کا نام سن کر جازب بھی پریشان ھو گیا کہ وہ جانتی ھے کہ نمل کو اغوا کرنے والا وہی تھا۔۔۔

بختی کے بارے میں نمل جازب کو بتا چکی تھی اور جازب نے وعدہ کیا تھا اس سے کہ وہ اسے تلاش کرنے میں اسکی مدد کریگا لیکن یہ کیا ھوگیا کہ جسے وہ ڈھونڈنا چاہ رھے تھے وہ انہی کے گھر کی فرد تھی۔۔۔

جازب اس سچویشن سے بہت پزل ھو رہا تھا کہ اگر اس نے ھوش میں آتے ہی سب کے سامنے سچ بول دیا تو کیا ھوگا؟؟؟

نمل بہت رو رہی تھی رتابہ اتنی شاکڈ ھوئ تھی کہ اسکا نروس بریک ڈاٶن ھوا تھا۔۔

نمل روتے روتے اسکی حقیقت بیان کرنے لگی امی یہ بختی ھے میری دوست میری ساتھی میری بہن۔۔۔

وہ فرش پر نظریں گاڑے بختی کے بارے میں سارا سچ بول رہی تھی

اسے سب بد بخت کہتے تھے بلکل لاوارث بے آسرا بے گھر لاچار ھے یہ امی بہت تکلیف دہ تھی اسکی زندگی گوپال چاچا کے یہاں وہ اسکی کہانی سناتے سناتے ماں کیطرف پلٹی امی لیکن آپکو کیسے کہاں ملی یہ؟؟؟

عضد سب سن رہا تھا نرگس تھوڑی گھبرا گئ پھر عضد کیطرف دیکھ کر جھوٹ بولا تو اسکی زبان لڑکھڑانے لگی کیونکہ عضد دیوار سے ٹیک لگاۓ اپنے ھونٹ بھینچتا ماں کو دیکھ رہا تھا۔۔

بیٹا مجھے یہ پالر میں ملی تھی پسند آ گٸ تھی میں نے عضد کیساتھ اسکا نکاح کر دیا۔۔۔

پالر کونسا پارلر؟ امی یہ تو کراچی میں تھی میرے گھر کے ساتھ ہی گوپال چاچا کا گھر تھا۔۔۔

نرگس آنکھیں چرانے لگی عضد ماں کے جھوٹ پر انکو دیکھتا رہ گیا۔۔۔

گوپال چاچا نے اسکی پرورش کی وہیں انکے ساتھ رہی یہ ساری زندگی گوپال چاچا کی بیوی بہت ظالم تھی دیوی نام تھا انکا بہت ظالم تھی وہ میرا تو دماغ ہی کام نہيں کر رہا مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہيں آرہا کہ بختی میرے سامنے ھے امی مممم میں کیسے یقین کر لوں بختی میرے سامنے ھے آج میرے ہی بھائ کی بیوی۔۔۔

نمل کا زاروقطار رونا نرگس سے برداشت نہيں ھو رہا تھا امی اسے کچھ نہيں ھوگا نا وہ ٹھیک ھو جاۓ گی نا وہ بے چینی سے ماں کے ہاتھ دبوچ دبوچ کر پوچھ رہی تھی۔۔۔

عضد وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

امی آپ نہيں جانتی کچھ بھی اسکے بارے میں میری جان سے پیاری دوست ھے وہ میرے ساتھ ھنستی تھی جب تو اسکی ھنسی میں بھی در کھنکتا تھا اسکے درد اسکی اذیتیں میں نہيں بھول سکتی۔۔۔

میں سوچ بھی نہيں سکتی کہ میری دعا اسطرح قبول ھوگی کہ میں یقین نہيں کر پا رہی۔۔۔

میری یہی خواہش تھی کہ جہاں میری شادی ھو میں اسے بھی بیاہ کر ساتھ لے جاٶنگی لیکن میری دعا میری خواہش اللہ تعالی نے میری کوشش سے پہلے ہی قبول کر لی۔۔۔۔

نرگس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا میری جان اللہ کی ذات بڑی بے نیاز ھے کب کونسا سا حادثہ یا کونسی نیکی کہاں جا کر ھماری کس خواہش کو پورا کریگی رب ہی جانتا ھے۔۔۔

ھم تو بس مانگتے ھیں اس سے نوازنا اسکا کام ھے جیسے اور جہاں وہ بہتر سمجھے وہی ملاتا بھی ھے انسان کو اور جدا بھی کرتا ھے۔۔۔

امی مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا مجھے سب کچھ خواب سا لگ رہا ھے میں نے بہت تلاش کیا اسے تڑپتی رہی اس سے ایک بار ملنے کیلئے۔۔۔

میری بچی یہ سب کھیل قسمت کے ھیں کوٸ مر کر جدا ھوتے ھیں اور کوٸ جیتے جی مل نہيں پاتے انسان اپنی طرف سے پوری تدبیریں کرتا ھے بہت پلان بناتا ھے بہت کچھ سوچتا ھے لیکن اکثر قسمت اسکے آڑے آجاتی ھے کبھی موت کا پیغام لیۓ کبھی ناکامی کا تو کبھی کامیابی کا لیکن ساتھ وہ بس اسی کا دیتی ھے جو صبر سے اسکے فیصلے کو قبول کر لے۔۔۔

رتابہ کو ھوش آچکا تھا۔۔۔

لیکن ڈاکٹر نے ایک بندے کو جانے کی اجازت دی نمل ماں سے ہاتھ چھڑا کر تڑپ کر بھاگتی ھوٸ اندر گٸ۔۔۔

رتابہ حیرت سے بس اسے تکنے لگی نمل نے بھاگ کر اسے سینے سے لگایا رتابہ اب بھی پتھر کا بت بنی ھوئ تھی۔۔۔

نمل نے دیوانوں کیطرح اسے چوما بختی نے کچھ لمحے گزرنے کے بعد اسکے چہرے کو اسطرح چھوا جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ھو۔۔۔

نمل نے خود کو چھوتے اسکے ہاتھ چومے۔۔

نننن نمل۔۔۔۔۔ اسکے منہ سے بس ایک لفظ نکلا۔۔۔

ہاں میری جان میں نمل تمھاری نمل تمھاری دوست۔۔۔۔

رتابہ نے پوری قوت سے اسکے گلے لگی اور اتنا روٸ کہ پاس کھڑی نرس بھی اپنے آنسو نا روک سکی اور رتابہ کو انجیکشن لگا کر اب جا چکی تھی۔۔۔

نمل نے اسے چپ کروایا وہ بار بار نمل کو چھوتی کہ یہ حقیقت ھے یا خواب پھر اسے چھو کر رو دیتی

کچھ سنبھل جانے کے بعد وہ بولی تمھارے ساتھ وہ۔۔۔

نمل نے اسکے چہرے سے آنسو پونچھے ہاں وہ وہی ھے لیکن اب میرا شوہر ھے وہ اور تمھارا جیٹھ عضد کا بڑا بھاٸ ھے وہ۔۔۔۔

رتابہ کو یقین نہيں آرہا تھا کہ ایسے بھی ھو سکتا ھے اور نمل کی خواہش اسطرح پوری ھوگی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی دونوں اپنی جگہ حیران تھیں۔۔۔

نمل کی ھنسی میں کی جانے والی بات اور مذاق آج اک حیرت ناک حقیقت کا روپ دھارے اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔

نمل نے اسے سمجھایا کہ وہ اسکے ماضی کا ذکر کسی نا کرے مسلسل رونے سے اسکی طبیعت پھر بگڑی وہ رک رک کر سانس لینے لگی۔۔۔

نمل نے ڈاکٹرز کو بلوایا انہوں نے نمل کو باہر جانے کو کہا پر رتابہ نے اسے جانے نا دیا کہ اسی کو دیکھ کر تو اسکی سانسیں بحال ھوٸ تھیں۔۔۔

___________

نرگس ھوسپٹل سے جازب کیساتھ گھر آئ عضد کے جانے پر کافی غصہ تھا اسے۔۔۔

وہ اسکے کمرے میں آٸ جہاں وہ بیڈ سے سر ٹکاۓ زمین پر ٹانگیں پھیلاۓ بیٹھا ھوا تھا۔۔۔۔

یہ کیا طریقہ ھے تمھارا؟؟ اسطرح سب کو بنا بتاۓ گھر کیوں آۓ تم؟؟؟

وہ بنا کوٸ جواب دیۓ اٹھ کر کمرے سے جانے لگا نرگس اسکے پیچھے آٸ رکو عضد کہاں جا رھے ھو؟؟؟

وہ تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا اور ایک دم ایاز کو سامنے دیکھ کر رک گیا نرگس جلدی سے اسکے سامنے آٸ۔۔۔

یہ یہاں کیا کر رھے ھیں؟؟؟ اس نے قہر آلود نگاہ ایاز پر ڈالی۔۔۔

نرگس نے اسے اندر ڈرائنگ روم میں گھسیٹا۔۔۔

وہ خود کو چھڑا کر چلایا پہلے مجھے یہ بتاٸیں یہ یہاں میرے گھر میں کیا کر رھےھیں؟؟

ایاز کو نہيں معلوم تھا اسے دیکھ کر عضد کا اتنا شدید رد عمل ھوگا۔۔۔

جازب بھی اسکی آواز پر باہر آیا۔۔۔

امی میں لندن کیا گیا آپ نے میرے گھر کے دروازے ان لوگوں پر بھی کھول دیۓ جو کسی صورت معافی کے قابل نہيں تھے اسکے چلانے پر نرگس نے اسے بلند آواز میں ٹوکا۔۔

بس کر دو عضد بسسس۔۔۔۔

میرا شوہر ھے وہ میری بیٹی کا باپ تمھارے لیۓ بھی وہ اتنا ہی قابل احترم ھے جتنا کہ میں۔۔۔۔

وہ ماں کی بات کاٹ کر بولا میں کیسے کروں انکا احترام جس کو رشتوں کی اھمیت کا کوٸ احساس ہی نہيں جس نے اپنی بیوی کا اسکی ممتا کا احترام نہيں کیا تو میں کیوں کروں انکا احترام؟؟؟؟

ایسے بے حس لوگوں کو میں برداشت نہيں کرسکتا اپنے گھر میں جنہوں نے کل اپنی شفقت سے نا صرف ھمیں بلکہ آپکو بھی محروم رکھا اور آپکی بیٹی سے ممتا کا سایہ بھی چھین لیا انکے ھوتے ھوۓ آپ نے ساری زندگی بیوہ کی طرح گزاری ھے ایاز کو اپنے سامنے دیکھ کر پھٹ پڑا تھا وہ۔۔۔۔۔

نرگس نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا میری جان بات سنو میری اپنی بیٹی کے صدقے میں نے اسے معاف کیا میرا مجرم ھے یہ تمھارا نہيں۔۔۔۔

عضد نے ماں کو دیکھا۔۔۔

لوٹ آۓ یہ آپکی بیٹی لے کر اور آپ نے اپنی 24 سالا اذیت 24 سیکنڈز میں معاف کر دی امی آپکے جیسا ظرف مجھ میں نہيں۔۔۔۔۔

نرگس نے بھرائی ھوئ آنکھوں سے ہاتھ جوڑے عضد بہت مشکلوں سے بہت انتظار کے بعد بہت دعاؤں کے بعد مجھے میری بیٹی ملی ھے میں اسے کھونا نہيں چاہتی دوبارہ وہ انکے بغیر نہيں رہ سکتی جان ھے اپنے باپ میں اسکی۔۔۔

اور تمھارے بھاٸ کی جان میری بیٹی میں ھے بیوی ھے اب وہ اسکی۔۔۔۔

نرگس کی آخری بات سن کر عضد پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔۔۔

اس نے آنسوؤں سے بھری نگاھوں سے ماں کو گھورا پھر بے یقینی سے سر کو نفی میں ہلایا۔۔۔

وہ پاگل سا ھو گیا یہ بات سن کر۔۔۔

واہ امی واہ اپنے چہیتے کیلیۓ آپ نے اپنی پاکدامن بیٹی کا انتخاب کیا اور میرے لیۓ وہ لاوارث ھندو لڑکی ملی تھی آپکو جسکو نا اپنے باپ کا پتہ ھے نا اپنے۔۔۔۔ اسکی آواز درو بام سے ٹکرا کر چاروں طرف گونجی۔۔

نرگس نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا چپ کر جاٶ عضد چپ کرجاٶ خدا کا واسطہ ھے۔۔۔۔

عضد ساری بات جان کر بری طرح رویا جازب نے اسے سنبھالا پر وہ اپنے آپ میں نہيں تھا۔۔۔

میں آپکی یہ زیادتی کبھی نہيں بھولونگا آپ نے میرے ساتھ بلکل ایسا کیا جیسے میں بھی کسی کچرے کے ڈھیر سے اٹھایا ھوا لاوارث اور unwanted child تھا۔۔۔

نرگس اپنی صفاٸ دینے لگی نہيں عضد ایسا نہيں ھے بلکل بھی میری بات تو سنو۔۔۔

اب کیا رہ گیا ھے امی سننے کو وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا آپ نے مجھ سے میری ماں ھونے کا مان بھی چھین لیا۔۔۔

نرگس کی جان تھی اسمیں وہ یونہی روتا ھوا گھر سے جانے لگا رھیں آپ اپنے ان سارے پیارے رشتوں کیساتھ میری یہاں اب کوٸ جگہ نہيں وہ نرگس کے ہاتھ جھٹک کر طوفان کی تیزی سے گھر سے نکلا۔۔۔

اسکی بات سن کر نرگس با آواز روٸ رکو عضدددددد جازب نے نرگس کو اپنے ساتھ لگایا۔۔۔

وہ بھی اسکی طرح پاگل ھو رہی تھی روکو اسے جازب روک لو ورنہ میں مر جاٶنگی۔۔۔۔

ایاز نے نرگس کو سنبھالا جاٶ جازب بیٹا اسے روکو۔۔۔

جازب بھاگا اسکے پیچھے لیکن وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا گلی تک جازب ننگے پاٶں بھاگا اسکے پیچھے۔۔۔

لیکن اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تک نہيں وہ واپس آیا گھر تو نرگس کی حالت کافی خراب تھی۔۔۔

جازب لاٶ اسے میں اسکے پیر پڑ جاٶنگی پر میرے سامنے تو لاٶ اسے ماں کو اسطرح روتا دیکھ کر جازب سے برداشت نہيں ھو رہا تھا امی آجاۓ گا وہ کہاں جا سکتاھے نہيں رہ سکتا وہ آپکے بغیر۔۔۔

روتی سسکتی ھوٸ نرگس کو جازب نے گلے سے لگاۓ رکھا اور تسلی دیتا رہا۔۔۔

پورا دن پوری رات بیت گٸ تھی پر عضد کا کچھ علم نہيں تھا وہ کہاں ھے؟؟

نرگس کو غش پر غش آرھے تھے کہ وہ گیا کہاں ھے؟؟

وہ اسے ڈھونڈنے بھی نکلا پر واپس لوٹ آیا کیا ھو گیا تھا پل بھر میں ھنستا مسکراتا گھر درد اور تکلیف کی آنہوں میں ڈوب رہا تھا۔۔۔

_____________

رتابہ گھر آچکی تھی اسکی نظریں مسلسل عضد کو تلاش رہی تھیں

عضد کی گھر سے جانے والی بات اس سے چھپاٸ ھوٸ تھی سب نے کیونکہ ذہنی طور پر وہ اس صد مے کو سہنے کے قابل نا تھی۔۔۔

نرگس کی حالت دیکھی نہيں جا رہی تھی نا وہ کھانا کھا رہی تھی نا کچھ بول رہی تھی۔۔۔

عضد۔۔۔عضد۔۔۔عضد بس ایک ہی نام تھا اسکے لبوں پر۔۔۔

تیسری رات بھی آگٸ تھی عضد نہيں آیا تھا لوٹ کر کھانا نا کھانے کیوجہ سے انکے جسم میں چلنے کی بھی سکت نہيں تھی نرگس کو hospitalised کرنا پڑا۔۔۔

رتابہ بھی جان چکی تھی یہ ایک اور اذیت تھی نمل کے ملنے کی خوشی سب غارت ھو گٸ تھی عضد کے لا پتہ ھونے پر۔۔۔

رات بارہ بجے کے قریب جازب کے کچھ بندوں نے اسے عضد کا بتایا کہ وہ فلاں ھوٹل میں ھے۔۔۔

جازب آدھے گھنٹے میں پہنچا اور اب اسکے روم نمبر باون کے سامنے کھڑا تھا ایک دو سیکنڈ کے وقفے کے بعد اس نے دروازے پر دستک دی عضد نے دروازہ کھولا تو خلاف توقع جازب کو سامنے پایا۔۔۔

اسے دیکھ کر عضد نے دروازہ بند کرنا چاہا پر جازب نے دروازے کے بیچ شوز رکھ کر دروازہ لاک ھونے سے روکا۔۔۔

عضد نے جبڑے بھینچ کر اپنا رخ پھیر لیا۔۔۔

جازب اب اندر آ چکا تھا یار تم سمجھتے کیا ھو خود کو؟؟

ایاز انکل کو تم رشتوں کی پاسداری کا طعنہ دے رھے تھے لیکن خود پر غور کرو خود کیا کر رھے ھو تم ساری زندگی تم نے ھم سب سے نفرت کی ھے تمھاری اس جھوٹی انا اور نفرت کے خوف سے سالوں سال ھم ایک دوسرے سے جدا رھے ھیں۔۔۔

یار اب اپنے علاوہ کسی اور کو بھی انسان سمجھو غلطیاں سب سے ھوتی ھیں تم کوٸ فرشتہ نہيں ھو انسان ھو ھماری طرح۔۔

وہ اب بھی رخ پھیرے کھڑا تھا۔۔۔

ھماری خطاٶں پر خدا بن کر اتنی بڑی سزاٸیں نا دو ھمیں کہ کل کو اپنی کسی خطا پر معافی کا ہر حق کھو بیٹھو۔۔۔۔

جازب نے اسے کندھے سے پکڑ کر سیدھا کیا۔۔۔

جا کر دیکھو اس ماں کیطرف جس نے ھمیں پالنے کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا سہاگن ھو کر بھی وہ ھماری خاطر بیوہ بنی رہی۔۔۔

ماں ھو کر بھی اپنی بیٹی کی ممتا ھم دونوں بھاٸیوں پر لٹاتی رہی آج اگر اسکا سہاگ لوٹ آیا ھے اسکی جینے کی آرزو ساتھ لایا ھے تو تم کون ھوتے ھو ان سے یہ سارے حق چھیننے والے؟؟؟

جازب کی آنکھیں غصے سے اسوقت لال ھو رہی تھیں یہ پہلی بار تھا کہ جازب اسطرح اسکے سامنے کھڑا اسے کھری کھری سنا رہا تھا۔۔۔

گنہگار تو ھم بھی ھیں اس معصوم نمل کے جو ھماری وجہ سے اپنی ماں سے ھمیشہ کیلیۓ دور ھو گٸ تھی اور اس ماں کے بھی جو اسوقت تمھارے غم میں نڈھال ھسپتال کے بستر پر پڑی ھے۔۔۔۔

عضد ہاتھ جوڑتا ھوں تمھارے آگے نفرت کی آگ میں نا خود جلو نا ھمیں مذید جلاؤ جازب کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر عضد کے اعصاب کا تناؤ کم ھوا تھا۔۔۔

جازب نے اسکا ہاتھ پکڑا چلو میرے ساتھ۔۔۔۔

عضد وہیں جما رہا آنسو اسکے گالوں پر لڑھک آۓ جازب نے مڑ کر اسے دیکھا پھر پوری جذباتیت سے گلے لگایا۔۔۔

چل میرے یار چل اب بانہیں کھول اور قبول کر سب کو خوشیوں کیساتھ جو اسوقت صرف تیری کمی سے ماتمی لباس اوڑھے ھوۓ ھیں۔۔۔

جازب کے مضبوط ہاتھوں میں اب کمزور پڑتے عضد کے ہاتھ تھے عضد کو آج اسکے بڑے بھائی ھونے کا شدت سے احساس ھوا تھا۔۔۔

گاڑی کے پاس کھڑے تھے دونوں جازب نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا یہاں دیکھ میری طرف۔۔۔

عضد کی آنکھیں رونے سے لال سرخ ھو رہی تھیں جازب نے انگھوٹے سے اسکے آنسو پونچھے باقی کی چار انگلیاں عضد کے گالوں کا احاطہ کیے ھوۓ تھیں۔۔۔

عضد ماں باپ دین دنیا ھے وہ ھماری اسکی خاطر برداشت کر لے جس نے ھم دونوں کی خاطر چوبیس سال سب برداشت کیا ھے

عضد کے نظریں جھکی ھوئ تھیں اس نے آہستہ سے سر اثبات میں ہلایا جازب نے اسکا ماتھا چوما تو جازب کا لمس اسکے جلتے کڑھتے اعصاب پر پھوار کیطرح محسوس ھوا جازب کے لمس میں اسے ان دیکھے باپ کا سایہ اور شفقت کا شدت سے احساس ھوا۔۔۔

جازب اسکی کیفیت جانچتا ھوا ایک بار پھر پوری قوت سے اسکے بغل گیر ھوا۔۔۔

وہ اب ھوسپٹل میں تھے عضد اب نرگس کے سر پر کھڑا تھا۔۔۔

دونوں ہاتھوں پر کینولے لگے ھوۓ تھے پرنور چہرہ سیاہ پڑ گیا تھا سوکھے ھوۓ لب عضد کے نام کا ورد کر رھے تھے۔۔۔

وہ نرگس کے قدموں میں آ گرا۔۔۔

نرگس نے آنکھیں کھولیں آگیا میرا بچہ میری جان۔۔۔

اسے یوں روتا دیکھ کر نرگس نے اپنے ہاتھ جوڑے اسکے آگے معاف کر دو مجھے عضد نے انکے ہاتھ چومے پھر کافی دیر تلک انکے سینے سے لگا روتا رہا لیکن زبان سے کوئ شکوہ نا کیا کہ اسے کتنا دکھ پہنچا تھا رتابہ کی یہ حقیقت جان کر کہ وہ کسی کے شرمناک گناہ کی پیداوار تھی جو اب اسکے نکاح میں تھی۔۔۔

ایاز بھی وہیں موجود تھے انہوں نے بھی عضد سے معافی مانگی۔۔۔

اسے معاف کرنا پڑا ماں کی خاطر سب کو معافی مل گٸ تھی سوا بختی کہ۔۔۔۔

بختی کے بختوں میں اب بھی کافی بد بختیاں باقی تھیں جن سے وہ بلکل انجان تھی۔۔۔

____________

نرگس عضد کا رویہ رتابہ کیساتھ دیکھ کر کافی پریشان تھی۔۔۔

شام کو اس نے عضد کو اپنے پاس کمرے میں بلایا وہ نرگس کے پاس آ کر بیڈ پر بیٹھا سر جھکا ھوا نگاھیں نم سی بکھرا بکھرا سا لگ رہا تھا وہ۔۔۔۔

نرگس نے پیار سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔

عضد بیٹا یہ لازم تو نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی ہی کوشش کریں بلکہ یہ کافی ہے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔۔۔۔

اس نے نا سمجھتے ھوۓ نظریں اٹھا کر ماں کو دیکھا۔۔۔

میں رتابہ کی بات کر رہی ھوں نرگس اسکا سوال سمجھ گئ تھی رتابہ کا نام سن کر اسکی کن پٹی کی رگیں کھنچیں۔۔امی ساتھ رکھا ھوا ھے نا یہ کافی ھے اب ضروری نہیں کہ میں اسے زبردستی خوش بھی رکھوں۔۔۔

میرے بچے بات اگر ضروری ھونے کی ھے نا تو یہ بھی ضروری نہیں کہ دوسروں کی خطاؤں پر ہم انہیں کو سزا دیں لیکن یہ ضروری ہے کہ اپنے عیوب پر نظر رکھتے ہوئے ہم اپنی اصلاح کریں۔۔۔

عضد نے گہری سانس لی مجھے اپنی اصلاح کی ضرورت نہیں لیکن خوش ھونے، خوش رہنے یا خوش رکھنے کیلیے محبت ضروری ھوتی ھے۔۔۔

نرگس نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے سر نفی میں ہلایا یہ بھی میری جان ضروری نہیں کہ

ہم کسی سے محبت کریں اتنا بھی کافی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن نہ بنیں یا کسی کو اپنی نفرت کی آگ میں اتنا نا جلاٸیں کہ ھمارے اپنے اندر انسانیت جل کر راکھ ھو جاۓ۔۔۔

وہ بڑے والہانہ انداز میں اندر ہی اندر کڑھتے اور سلگتے عضد کو سمجھا رہی تھی۔۔۔

بیٹا غلطی انسان کی فطرت ھے آدم کی غفلت اصل میں اللہ عزو جل کی مصلحت تھی تاکہ انسان کو یہ سکھایا جاۓ کہ غلطی فطرت ھے توبہ قدرت ھے اور معافی رحمت ھے۔۔۔۔

جب اللہ معاف کر سکتا ھے تو ھم انسان کیا چیز ھیں؟؟؟

وہ ماں کیطرف دیکھ کر نہایت سنجیدہ نگاھوں سے دیکھنے لگا

اللہ معاف کردیتا ھے لیکن ھم انسانوں کیلیۓ معاف کرنا مشکل ھے بہت۔۔۔

اور جن گڑھوں میں لوگ گرتے ھیں نا وہ انکے اپنے کھودے ھوۓ ھوتے ھیں اللہ انسان کیلیۓ گڑھے نہيں کھودتا ہر انسان کے آگے اسکا اپنا کیا آتا ھے۔۔۔

نرگس اسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگی اچھا تو پھر تم نے ایسا کیا غلط کیا جو رتابہ تمھیں اس برائی کے بدلے ملی؟؟؟ کیا وہ بھی تمھارے ہی کسی گناہ کی سزا ھے؟؟؟

نرگس کا انداز بڑا جارحانہ تھا۔۔۔

امی اگر وہ میرے کسی گناہ کی سزا ھوتی تو میں بھگت لیتا لیکن ناکردہ گناھوں کی سزا کٹتی نہيں کاٹ کر رکھ دیتی ھے۔۔۔ اسکا لہجہ بھی اسوقت کاٹ دینے والا تھا۔۔۔

عضد کے لہجے سے اٹھتیں درد کی ٹیسوں کی چبھن نرگس کو اپنے دل میں چبھنے لگیں۔۔۔

امی نمل میری دودھ شریک بہن ھے چلو مان لیا کہ نمل کی شادی مجھ سے نہيں ھو سکتی تھی لیکن جازب سے بھی تو آپ رتابہ کی شای کر سکتی تھیں لیکن نہيں کی آپ نے کیونکہ آپکو جازب مجھ سے زیادہ عزیز ھے۔۔۔

نرگس اسکی شکایت کرتی آنکھوں میں جھانکی۔۔۔

بیٹا میں کون ھوتی ھوں کسی کے جوڑے بنانے والی یہ کام تو میرے رب کے ھیں جو آسمانوں پر فیصلہ کیۓ بیٹھا ھے کہ کس نے کس کے نکاح میں رہنا ھے رہی بات عزیز ھونے کی تو ہاں جازب میری جان ھے لیکن تمممم۔۔۔۔

نرگس کچھ پل رکی پھر اپنی سانس کھینچ کر بولی۔۔

لیکن تم میرا مان میرا ایمان ھو اس لیۓ تمھیں چنا میں نے رتابہ کیلیۓ وہ کہتے ھیں نا کہ انسان جان سے جاۓ پر ایمان سے نا جاۓ تم تو میری روز محشر تک کی کنجی ھو۔۔۔

عضد کو نرگس کی آخری بات نے لاجواب کر دیا تھا اسکے بعد اس نے کبھی شکایت نہيں کی نرگس سے انکے فیصلے کی لیکن رتابہ کو اس نے کسی طور قبول نا کیا۔۔۔

رتابہ نمل کے ملنے پر بہت خوش تھی لیکن عضد کی نفرت کی آگ اکثر اسکی آنکھوں میں سلگتی ھوٸ محسوس ھوتی۔۔۔

___________

نمل اور رتابہ ایک ساتھ لان میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں تم نے نام کیوں بدلہ اپنا۔۔۔

اس نام کے ساتھ ھمیشہ میری بد بختی ساتھ ساتھ رہتی ھے اسلیۓ بدل دیا لیکن نام بدل کر بھی اپنی بد بختی نہيں بدل سکی بختی مایوسی سے بولی۔۔۔

لیکن تم لاھور اور یہ پارلر تک کیسے پہنچی اور دیان عضد کا بیٹا نہيں تو پھر کس کا ھے؟؟

بختی نرگس کے روکنے پر اسے سچاٸ نا بتا سکی اور جھوٹ بولنا پڑا آج پہلی بار اسے نمل کیساتھ اس لیے نظریں گھاس پر جھکی ھوئ تھیں۔۔۔

گوپال چاچا نے میری شادی کی تھی اپنے کسی دوست کے بیٹے نعمان کیساتھ اسکے گھر والوں نے بھی قبول نا کیا مجھے دیوی انٹی کیطرح اور طلاق دے کر وہ مجھے یہاں لاھور اک دوست کی فیملی کے پاس چھوڑ گیا تھا۔۔۔

یہاں میں نے پارلر میں جاب شروع کی جہاں مجھے زارا آپی جیسی مہربان عورت ملی اور طلاق کے بعد انہوں نے ساتھ رکھ لیا بس پھر وہاں سے قسمت مجھے یہاں لے آٸ۔۔۔۔

نمل اسکا چہرہ بغور دیکھنے لگی لیکن میں نے تو کچھ اور سنا ھے۔۔۔

رتابہ کا دل زور زور سے دھڑکا نمل کی بات سن کر کیا سنا ھے تم نے؟؟خوف سے اسکی آواز ہلکی سی لرزی تھی۔۔۔

نمل متلاشی نگاھوں سے اسے دیکھ کر کہنے لگی مجھے جنت اماں نے بتایا تھا کہ تم گوپال چاچا کے گھر سے بھاگی ھو کسی کے ساتھ؟؟؟

جھوٹ ھے یہ رتابہ نے نظریں جھکائیں۔۔۔

دیکھو مجھ سے جھوٹ مت بولو سچ بتاؤ نمل کی بات ابھی پوری نہيں ھوٸ تھی کہ رتابہ اپنے قدموں میں کسی کا سایہ دیکھ کر فوراً اٹھی سامنے عضد تھا جو حقارت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

رتابہ نے بمشکل حلق سے تھوک نگلا۔۔۔

وہ ان دونوں پر ایک نگاہ ڈال کر خاموشی سے اندر چل دیا اور ان دونوں کی بات ادھوری رہ گٸ۔۔۔

_____________

نمل کچن میں برتن دھو رہی تھی جب جازب نے اسے اکیلے دیکھ کر اپنی بانہوں میں گھیرا۔۔۔

جازب کی ٹھوڑی نمل کے کندھے پر تھی وہ دونوں آپس میں کسی بات پر مسکرا رھے تھے نمل نے صابن والے ہاتھوں سے جازب کا نام دبایا۔۔۔۔

سیڑھیوں سے اترتے عضد انکا پیار دیکھ رہا تھا ایک عجب سی ٹیس اسکے دل میں اٹھی۔۔۔

جازب نے اپنا سر نمل کے سر سے ٹکرایا گنددددی صابن والے ہاتھ لگانا ضروری تھے۔۔۔

نمل نے ھنستے ھوۓ ہاں میں سر ہلایا تو جازب اپنا ناک اسکے کندھے سے رگڑ کر صاف کرنے لگا۔۔۔

عضد الٹے قدموں اپنے کمرے میں واپس چلا گیا اور آئینے کے سامنے کھڑے خود کو دیکھنے لگا۔۔۔

امی آپکا مان آپکا ایمان تھا میں اپنی جان بچا لی آپ نے اور اپنے ایمان کو بے ایمانوں کے حوالے کر دیا۔۔۔

بہت ڈسٹرب تھا وہ اسوقت اسکا دل بھی بہت بوجھل سا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ خود کو مارتا یا رتابہ کو؟؟ لیکن دونوں کام اسکے لیے دشوار تھے بہت ۔۔۔۔

بے چینی سے وہ رتابہ کا انتظار کر رہا تھا کہ کب رتابہ کمرے میں آۓ گی۔۔۔

رتابہ کی اس خوف سے ھمت ہی نہيں ھو رہی تھی کہ وہ کیسے جاتی عضد کے سامنے کیونکہ وہ نمل کی بات سن چکا تھا۔۔۔

نرگس نے دیان کو سلا لیا تھا اپنے پاس اسکے پاس اب کوٸ بہانا بھی نہيں تھا اپنے کمرے میں نا جانے کا مجبوراََ اسے جانا پڑا کمرے میں۔۔۔

عضد جاگا ھوا تھا اسے جاگتا دیکھ کر رتابہ سہمی سہمی نیچے بستر بچھانے لگی اپنا تو عضد اسکے سامنے کھڑا ھوا۔۔۔اور کتنا جھوٹ بولو گی سب کیساتھ؟؟

ککک کونسا جھوٹ؟؟ رتابہ ہکلاتے ھوۓ الٹا اس سے پوچھنے لگی۔۔۔۔

وہ خونخوار نظروں سے اسے گھورے گیا مجھے پہلے دن سے شک تھا تم پر کہ تم گھر سے بھاگی ھوٸ لڑکی ھو۔۔۔۔

رتابہ نے نظریں جھکا لیں جھوٹ ھے یہ سب غلط سنا ھے آپ نے۔۔۔

ہاں جھوٹ ہی تو سن رھے ھیں ھم سب اب تک تمھارے منہ سے کیونکہ سچ بولنے کی ھمت تم میں ھے ہی نہيں۔۔۔

پھر وہ اسے جبڑوں سے پکڑ کر بولا کتنا مکروہ چہرہ چھپا ھے تمھارے اس خوبصورت اور معصوم چہرے کے پیچھے۔۔۔

چھوڑیں درد ھو رہا ھے مجھے۔۔۔

عضد نے مذید زور سے اسے جکڑا دل چاہتا ھے جان سے مار دوں میں تمھیں۔۔۔۔

ہاں تو مار دیں ایک ہی بار اس بار بار کے مرنے سے تو بہتر ھے نا وہ آنسوؤں سے رندھی ھوئ آواز میں کہنے لگی۔۔

عضد نے جھٹکا دے کر اسے چھوڑا تو وہ صوفے پر جا گری تمھارے جیسے گند میں ہاتھ ڈالکر میں اپنے ہاتھ گندے نہيں کرسکتا۔۔۔۔

عضد کا ایک ایک لفظ تیر کیطرح اسکے دل میں پیوسط ھو کر رہ گیا اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ اس پر جھکے اسے وارن کرنے لگا۔۔۔

اگر ایک آنسو بھی یہاں بہایا تم نے تو اپنی حالت کی ذمہ دار تم خود ھوگی۔۔۔

اسکے دھمکی آمیز لہجے پر رتابہ نے اسکے خوف سے سارے آنسو حلق میں اتارے جو اسکا حلق چیر کر اترے اور اسکے دل میں گھٹی گھٹی سانسوں کیطرح گھٹ گھٹ کر بین کرنے لگے۔۔۔

پھر وہ خاموشی سے تکیہ لیے زمین پر لیٹی عضد کیطرف اسکی پیٹھ تھی۔۔۔ آنسو اب حلق سے اتارے نہیں اتر رھے تھے۔۔۔

ریزہ ریزہ دن گزرتاھے دھجی دھجی رات ملتی ھے جسکا جتنا ظرف ھے اتنی ہی اوقات ملتی ھے مجھے وہ اپنی بین کرتی دل کی آوازوں پر خود کو خود ہی بہلانے اور تھپتھپانے لگی۔۔۔

____________

عضد آفس میں کچھ فائلز پر سر جھکاۓ بیٹھا تھا لیکن سوچیں ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں۔۔۔

فون کی بیل نے اسے سوچوں سے باہر لایا ھمدانی صاحب نے آفس میں بلوایا اسے۔۔۔

عضد بیٹا تمھاری پرفارمنس پر تمھاری ایمانداری پر تو میں پہلے دن سے ایمان لے آیا تھا اب ایک اور بہت بڑی ذمہ داری سونپ رہا ھوں۔۔۔

جی سر عضد نے ٹائ کی ناٹ درست کی۔۔۔

کراچی والی فیکٹری میں عبد الستار گروپ آف کمپنیز ھمارے ساتھ اپنا بزنز مرج کرنا چاہ رہی ھے وہ چاھتے ھیں کہ ھم انکے شیئر ہولڈرز کو اپنی کمپنی میں انویسٹ کرنے کا چانس دیں۔۔۔

اوہ یہ تو بڑی اچھی بات ھے ستار گروپ کی گڈول بہت اچھی ھے بزنز میں عضد نے اپنی رائے دی۔۔۔

ھمدانی صاحب اسکی طرف دیکھ کر مسکراۓ ھممم جانتا ھوں اسلیے میں نے انکو اوکے کر دیا ھے لیکن میں اتنا بڑا رسک کسی اور کے ہاتھ میں نہیں تھما سکتا۔۔۔

سر آپ جا سکتے ھیں کراچی میں یہاں کا آفس ورک سنبھال لونگا یو ڈونٹ وری۔۔۔

انہوں نے چاۓ آرڈر کی۔۔۔

تم جانتے ھو لکی مین ھو تم میرے لیے میں نہیں جا رہا کراچی۔۔۔

تو پھر سر عضد نے سوال کیا۔۔۔ تمھارے حوالے کرتا ھوں کراچی کی فیکٹری اب وہاں کا سارا بزنس تم نے دیکھنا اور سنبھالنا ھے۔۔۔

ججججی۔۔۔ عضد نے کچھ حیرانی سے جی کہا۔۔۔

یس ینگ مین۔۔۔

لیکن سر مممم میں۔۔ عضد اتنی بڑی ذمیداری اٹھانے سے کچھ ہچکچایا تھا۔۔۔

Oh young man u can do everything…

I trust you….

میں کل ہی بورڈ میٹنگ کرتا ھوں تم چیٸرمین کی سیٹ سنبھالو پھر اور اسی مہینے میں میرے دونوں بچے علی اور مایا بھی تمیں جواٸن کر لیں گے۔۔۔

_______________

عضد نے کراچی جانا تھا ایک بار پھر نرگس کیساتھ اسکی بحث چھڑ گٸ۔۔۔

وہ کسی صورت رتابہ کو ساتھ لے جانے پر راضی نہيں تھا رتابہ نمل کی کھوجتی آنکھوں کا سامنا نہيں کر سکتی تھی۔۔۔

اور جازب سے بھی کتراتی تھی کیونکہ جازب کا پہلا روپ وہ بھلاۓ نہيں بھولتی تھی۔۔۔۔

نرگس سے اچھی خاصی بحث کر کے وہ تنتناتا ھوا اپنے کمرے میں آیا رتابہ اسکی پیکنگ کر چکی تھی۔۔۔۔

دوسرا ٹیچی دیکھ کر وہ اس پر اپنا غصہ اتارنے لگا۔۔۔

یہ کس لیۓ؟؟

یہ میرا ھے رتابہ آرام سے بولی۔۔۔

کس خوشی میں تم نے اپنا سامان پیک کیاھے؟؟؟ وہ اب بھنویں سکیڑتے ھوۓ کھڑا تھا۔۔۔

جواب میں وہ خاموش رہی۔۔

کیا دیدے پھاڑ کر دیکھ رہی ھو مجھے تم وہ اسکے قریب آیا تو

وہ عضد کے قدموں میں جا بیٹھی اور رونے لگی۔۔۔۔

کیا کر رہی ھو اٹھو اور میری بات کا جواب دو اس نے عضد کے پاؤں پکڑ لیے چھوڑو میرے پاٶں عضد کو اسکے پیر چھونے پر الجھن ھونے لگی۔۔۔۔

عضد مجھے یہاں چھوڑ کر مت جاٸیں اپنے ساتھ لے جاٸیں میں پڑی رھونگی کسی کونے میں نوکرانی کی حیثیت سے رہ لونگی آپکے سامنے تک نہيں آٶنگی پلیز مجھے لے جاٸیں یہاں سے پلیز خدا کا واسطہ ھے عضد مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے لے جائیں پلیز عضد پلیز۔۔۔

عضد اس سے اپنے پیر پیچھے ہٹا کر بیڈ پر بیٹھا کیوں یہاں کیا تکلیف ھے تمھیں؟؟

میں نہيں بتا سکتی بس آپ ساتھ لے جاٸیں مجھے اب وہ ہاتھ جوڑے اسکے سامنے تھی۔۔۔

عضد وہاں مجھے کسی کال کوٹھڑی میں ڈال دینا بیشک لیکن یہاں سے لے جائیں آپکو خدا کا واسطہ دیتی ھوں پلیز عضد پلیززززز وہ ہاتھ جوڑے گڑگڑا کر التجا کر رہی تھی عضد سے۔۔۔۔

پہلی بار اس نے عضد سے کوٸ ڈیمانڈ کی تھی وہ بھی قدموں میں پڑ کر۔۔۔۔

عضد اسے پہلے تو دیکھتا رہا پھر کچھ توقف کے بعد حقارت سے بولا۔۔۔۔

سامنا نہيں کرسکتی نمل کا کہ وہ تمھاری سچاٸ جانتی ھے یا اس جھوٹ سے چھٹکارا چاہتی ھو جو تم نے امی سے بولا تھا؟؟؟

وہ پھر سے اسکے پیروں میں سر رکھ کر بولی دونوں سے چھٹکارا چاھتی ھوں اپنے جھوٹ سے بھی اور سچ سے بھی اسکے آنسو عضد کے پیروں پر گرے۔۔۔

اس نے پاٶں پیچھے کھینچے وہ جانتا تھا نرگس ویسے بھی جانے نا دیتی اسکو اگر وہ اکیلا ضد کر کے چلا بھی جاتا تو نرگس رتابہ کو ساتھ لیۓ کراچی پہنچ جاتی۔۔۔۔

اور اب اسکی منت سماجت دیکھ کر عضد راضی ھو گیا اسے ساتھ لے جانے پر مجبور وہ ماں کے ہاتھوں بھی تھا اور آج رتابہ کی مجبوری پر بھی اسے کچھ رحم آ گیا تھا۔۔۔۔

______________

رتابہ لان میں بکھرے دیان کے کھلونے سمیٹ رہی تھی۔۔۔

نمل لاؤنج سے باہر آئ رتابہ بات سنو۔۔۔

ہاں بولو نمل کی آواز پر وہ اسکی طرف متوجہ ھوئ۔۔۔

نمل اسکا ہاتھ پکڑے درخت کے ساۓ میں گھاس پر بیٹھی۔۔۔

عضد نے تمھیں بیوی کی حیثیت سے تسلیم نہيں کیا نا نمل کی نظریں رتابہ کے چہرے پر تھیں۔۔۔

رتابہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔

نمل میرے جیسے لوگوں کو معاشرہ انسان ہی نہيں مانتا اور تم قبول کرنے کی بات کرتی ھو اس نے لاپرواہی سے دیان کے کھلونوں کا بیگ سائیڈ پر رکھتے ھوۓ کہا۔۔

کیا مطلب تم اسی طرح عضد کیساتھ کانٹوں کی سیج پر ہی اپنی ازدواجی زندگی گزار دوگی ساری؟؟؟

اب وہ گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکاۓ گھاس پر بیٹھی آڑھی ترچھی لیکیریں زمین پر لگانے لگی نمل میرے جیسی لڑکی کیلیۓ سیج سج گٸ یہی کافی ھے ضروری تو نہيں تھا کہ سیج پھولوں کی ہی ھوتی۔۔۔

نمل کی نگاھیں اسکے چہرے پر درد کے بدلتے رنگوں میں کچھ ٹٹولنے لگیں۔۔۔۔

وہ نمل کے اسطرح دیکھنے پر مسکرائی یار پھولوں کی مہک تو چند لمحات کی ھوتی ھے نا وفا تو کانٹوں میں ھوتی ھے جو داغدار دامن کو بھی پاس سے گزرنے پر تھام لیتے ھیں اور اکثر چھبنے کے بعد ھمارے نکال پھینکنے پر بھی اپنے زہر کا اپنے درد کا اثر تا دیر ھمارے جسم میں اتار کر اپنا احساس دلاتے رھتے ھیں۔۔۔

نمل رتابہ کو حسرت سے دیکھنے لگی کہاں سے لاٸ ھو اتنی برداشت اتنی ھمت اتنا حوصلہ۔۔۔

رتابہ آنکھوں کے کناروں پر آنے والے آنسو اپنی انگلی کی پوروں میں پرو کر بولی یار میرے جیسے لاوارث لوگ ناسور کیطرح ھوتے ھیں معاشرے میں بسنے والے لوگوں کیلیے ناقابل برداشت لیکن ھمیں جینے کیلۓ سب برداشت کرنا پڑتا ھے ڈھیٹ بن کر جینا پڑتا ھے دوسروں کے طعنے نفرت زیادتیاں ترس بھیک رحم ان سب کا بوجھ اٹھا کر چلنا پڑتا ھے کہ جب تک سانس چلتی ھے کوئ کندھا نہیں دیتا اور خود کو ختم کرنا بھی مشکل امر ھے کہ خود کشی حرام ھے۔۔۔

نمل اسکے چہرے کو دیکھتی رہ گئ جو اب کرب سہتا ھوا رنگ بدل رہا تھا۔۔۔۔

رتابہ نے یک ٹک دیکھتی نمل کو دیکھا اور لب بے جان سی مسکراہٹ سے پھیلے اگر پیداٸش میں حرام کے جنے ھوں زندگی بھی حرام گزرے تو کیا موت کو بھی خود پر حرام کر لیا جاۓ؟؟

ایسی باتیں نا کرو میرا دل ڈوب سا جاتا ھے نمل اسکی باتوں پر روہانسی ھو گئ۔۔۔۔

رتابہ نے اسکا ہاتھ زور سے پکڑا تو مت کیا کرو نا ایسے سوال مجھ سے جانتی ھو میرے پاس تلخیوں کے سوا کچھ بھی نہيں۔۔۔

نرگس بھی شامل ھوٸ انکے ساتھ نا رتابہ بیٹا اداس مت ھوا کرو اللہ پر توکل کرنا سیکھو دعا کرتی ھو تو اس یقین کیساتھ کرو وہ قبول کریگا دیر سے ہی سہی لیکن دعا رد نہيں ھوتی۔۔۔

وہ سر جھکاۓ بولی۔۔۔

امی میں تو خود دنیا کیلیۓ ردی ھوں دعا بھی رد ھوٸ تو کیا فرق پڑتا ھے؟؟

نا میری بچی نا ایسا نہيں کہتے وہ اپنے پیاروں کو اپنی آزمائش کے سبق سکھاتا ھے اسے معلوم ھوتا ھے کہ یہ ہاتھ مضبوطی سے صبر سے اسکی دی ھوئ مشکلات کا قاعدہ تھامے رھیں گے مایوس نہیں ھوتے بیٹا۔۔۔

نرگس نے اسکے بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔۔۔

جانتی ھو کبھی کبھی انسان کی زندگی بھر کی ریاضیت رائیگاں جاتی ہے اور کبھی لمحے صدیوں کو جنم دے دیا کرتے ہیں کبھی سمندر کی موجیں ساحل سے زندگی کو چھین کر لے جاتی ہیں اور کبھی مچھلی پیغمبر کو ساحل پر زندہ اگل دیتی ہے بعض اوقات اہلِ علم کی ہزاروں دلیلیں پتھر دور کے انسان کو غاروں سے نہیں نکال سکتیں اور کبھی کسی فقیرکی ایک صدا افکار کی بنیاد ہلا دیتی ہے جانتی ھو میری جان مالک کائنات کے بھی اپنے ہی رنگ اور اپنے ہی معاملات ہیں وہ پہلے ظرف عطا فرماتا ہے پھر سوچ عطا کرتا ہے شاید اسی لیے جو بولتے ہیں وہ جانتے نہیں اور جوجانتے ہیں وہ بولتے نہیں اور نا مایوس ھوتے ھیں۔۔۔

میں سمجھی نہیں آپکی آخری بات رتابہ نے ماتھے پر بل ڈالے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔۔

رتابہ بچے شاید سوال شور اور ہنگامہ ہے اور خاموشی اس کا جواب۔۔۔

سوال ھم اسوقت اٹھاتے ھیں جب ھم خود سے الجھنے لگتے ھیں جب ھمیں خود سے آگے وقت سے آگے بھاگنا ھوتا ھے اور اپنے آپ سے گھبرا جاتے ھیں جبکہ خاموشی اس وقت اختیار کرتے ھیں جب ھمیں معلوم ھوتا ھے کہ رب کائنات وقت آنے پر ھمیں خود بہتر طریقے سے جواب دیگا۔۔۔

رتابہ نے گہری سانس اندر لی پتہ نہیں امی میری عرضی پر کب جواب ملے گا مجھے؟؟؟

رتابہ اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں میری جان کائنات کا ہرذرہ کن کی غلام گردشوں میں محو رقص ھے ھم اپنی پیدائش سے مرنے تک اپنے ماضی سے مستقبل تک کے کسی بھی مراحل پر اسکی حکمت کو نہیں پرکھ سکتے۔۔۔ لیکن وہ ھمیں پرکھتا ھے دکھ سے گزار کر اسمیں بھی ھمارے لیے سکھ ہی سکھ ھوتا ھے بس صبر کرنے کی دیر ھے۔۔۔۔

رتابہ اور نمل ایک ٹک نرگس کو دیکھنے لگیں جسکا انداز سوئ ھوئ روحوں کو بھی بیدار کرنے والا تھا۔۔۔۔

ان دونوں نے ایک ساتھ سوال کیا وہ کیسے امی؟؟؟

نرگس نے رتابہ کو پیار سے دیکھا میری جان تمھارا گھر سے نکلنا پھر یہاں تک پہنچنا پھر عضد سے نکاح ھونا یہ سب معاملات طے تھے پہلے سے ہی میں تو بس اک مہرہ ھوں تمھیں تمھاری منزل تک پہنچانے والا۔۔۔۔

کیا پتہ تمھارا ملن بھی کسی اپنے سے اسی طرح لکھا ھو؟؟ ان پستیوں سے گزر کر اعلی مقام حاصل کر سکو یہ بھی ھو سکتا ھے یہ دکھ تمھاری کسی شدید خواہش کو پورا کرنے کا راستہ بن رھے ھوں؟؟؟

نمل اور رتابہ سانس روکے ماں کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔

نماز پڑھو اللہ کی عطا پر راضی رھو تاکہ کل وہ تمھاری رضا پر بھی راضی ھو جاۓ نرگس نے رتابہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

اپنی کل کی زندگی کو سوچو کہاں تھی کل تم اور آج کہاں ھو؟؟کبھی سوچا تھا کہ ایسا بھی ھوگا تمھارے ساتھ ؟؟ رتابہ نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔۔

تو میری جان اب فیصلہ کرو زندگی تمھاری کل کیطرح حرام ھے؟؟

اس نے پھر نا میں سر ہلایا۔۔۔

اللہ نے اگر میرا گھر چنا تم جیسی معصوم سی بچی کیلیۓ تو اسمیں اسکی کیا مصلحت ھے یہ ھم نہيں جانتے لیکن امید اچھی رکھ سکتے ھیں بد گمانی کے وسوسے پالوگی تو کبھی خوش نہيں رہ پاٶگی۔۔۔

_____________

شام ھو رہی تھی انکے جانے کا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔

رتابہ سب سے ملی پھر دیان کو گود میں لے کر خوب پیار کرنے لگی۔۔۔

عضد کمرے سے باہر آیا نرگس اس سے پیار سے ملی۔۔۔

میرے بچے تیرا بخت تیرے ساتھ بھیج رہی ھوں بد بخت نا سمجھ اسے اسی کے بخت کی بدولت آج جازب ۔۔۔میری بیٹی۔۔۔۔ میرا شوہر سب میرے ساتھ ھیں۔۔۔۔ اس بخت کو تو بھی اپنی خوش بختی بنا لے سہل کر لے اپنی زندگی۔۔۔

وہ چپ چاپ سنتا رہا پھر سب سے ملکر گاڑی میں بیٹھا اور انکو اللہ حافظ کرتا کراچی کیلیۓ ائیر پورٹ روانہ ھو گیا۔۔۔

_____________

وہاں جاتے ساتھ رتابہ نے اکیلے ہی پورا گھر سنبھال لیا لیکن اتنے بڑے گھر میں رتابہ اکیلی نہيں رہ سکتی تھی وہ ڈرتی بہت تھی کہ گھر کافی بڑا تھا۔۔عضد بھی اسکی وجہ سے فکر مند تھا۔۔۔

رتابہ کی طبیعت کچھ دن سے کافی خراب تھی اسے پیٹ میں در تھا اور اب اچانک الٹیاں لگ گٸیں عضد گھر میں ہی تھا۔۔۔

اسکی اُکائيوں کی آواز سن کر اسکے کمرے میں آیا کیا ھوا ھے تمھیں؟؟

وہ واش روم سے الٹی کرتی نڈھال سی باہر آئ کچھ نہيں بس ویسے ہی دل پر بوجھ سا تھا صبح سے تو اب Vomiting start ھو گٸیں۔۔۔

کیا کھایا تھا دن میں؟؟ وہ اس سے پوچھنے لگا۔۔۔

کچھ نہيں۔۔۔

کیوں ؟؟

دل نہيں چاہ رہا تھا نہيں کھایا۔۔۔

ھممممم ظاہر ھے اپنے شہر میں آٸ ھو جہاں دل لگایا تھا اب پرانی یادیں ستا رہی ھونگی۔۔۔

ایسی کوٸ بات نہيں۔۔۔

عضد ھنسا ہاہاہا تم سارے جہاں سے جھوٹ بول سکتی ھو مجھ سے نہيں۔۔۔

میں نے آپ سے کونسا جھوٹ بولاھے؟؟؟

جھوٹ نہيں بلکہ یوں کہو کہ میں نے آپ سے سچ کب بولا ھے؟؟انکھیں اب اسے کرید رہی تھیں۔۔۔

اگر اتنی نا اعتباری ھے تو نا لاتے یہاں رتابہ نے ذرا سختی سے کہا۔۔۔

میں نہيں لایا تمھیں یہاں زبردستی آٸ ھو میرے ساتھ میرے پاٶں پڑ کے عضد نے اسے یاد دلایا۔۔۔ اور اعتبار میں تم پر تو ہرگز نہيں کرسکتا۔۔۔

میں نے آپکو اعتماد میں لینا ضروری بھی نہيں سمجھا کبھی اتنا کہہ کر وہ پھر سے واش روم بھاگی خاکی پیٹ vomit اور بھی زیادہ آ رہی تھی۔۔۔

چلو ھوسپٹل وہ واش روم کے گیٹ پر کھڑا تھا۔۔۔

نہيں جانا مجھے آپ ٹیبلیٹس لادیں میں کھا لونگی۔۔۔

ایسے کیسے لادوں؟؟ بغیر چیک اپ کے۔۔۔

کیوں اب vomit کیلیۓ بھی میرا چیک اپ ھوگا؟؟ اسکا لہجہ سپاٹ تھا نہيں جانا مجھے میں ایسے ہی ٹھیک ھوں۔۔۔

وہ اسکے قریب آیا تم ھوسپٹل جانے سے اتنا ڈرتی کیوں ھو؟؟

مجھے انجیکشن لگوانے سے ڈر لگتا ھے اسلیۓ نہيں جاتی اور چھوٹی چھوٹی تکلیف پر کیا جانا چیک اپ کیلیۓ۔۔۔

کہیں کوٸ نیا گل تو نہيں کھلانے کا ارادہ عضد نے اسے گھورا۔۔۔

کیا مطلب وہ عضد کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

مطلب وہی ھے جو تم سمجھنا نہيں چاہتی ھو لیکن میری بات اپنے دماغ میں بٹھا لو۔۔۔۔

اگر اس گھر سے ایک قدم بھی تم نے باہر نکالا یا پھر ذرا سی بھی کوٸ غلط حرکت کی تو زندہ گاڑ دونگا تمھیں اور اتنا بچہ نہيں ھوں میں سب سمجھتا ھوں کہ تم یہاں اس شہر میں آٸ کیوں ھو اور اس گماں میں مت رہنا کہ اب کی بار تمھارے کسی گناہ پر خاموش رھوں گا میں۔۔۔

وہ عضد کی باتیں سن کر اپنی تکلیف بھول گٸ اتنا گھٹیا سمجھتے ھیں آپ مجھے؟؟ لہجے میں اسکے کرب کیساتھ سختی بھی عود آئ تھی۔۔۔

گھٹیا ھونے کے ساتھ ساتھ بدکردار بھی ھو تم۔۔

بسسسس عضد اتنی تذلیل مت کریں میری اس نے سختی سے ہاتھ اوپر اٹھایا۔۔۔

ابھی تو میں نے کی کہاں ھے تمھاری تذلیل وہ دو قدم اسکے قریب آیا۔۔۔

نہیں برداشت ھوتی تو نکلا دیں اپنی زندگی سے۔۔۔

کااااااش میرے بس میں ھوتا تو میں تم جیسی غلاظت کے ڈھیر کو نکال پھینکتا اپنی زندگی سے۔۔۔۔

رتابہ نے برداشت کی ساری حدوں کو پار کرتے ھوۓ سانس روکے اسے دیکھا۔۔۔۔

میں غلاظت کا ڈھیر ھوں آپکے لیۓ؟؟؟

ہاں وہ ڈھیر ھو غلاظت کا جسکی بدبو سے میں چھٹکارا بھی نہيں پا سکتا۔۔۔۔

عضد کو بے حد غصہ تھا اسکی حقیقت نمل کی زبان سے سن کر دوسرا اسکے جھوٹ پر تیسرا نرگس کے اسکے ساتھ نکاح پر اور نمل کی جازب کیساتھ پیار بھری خوشحال زندگی دیکھ کر اسکے من میں ضد اور نفرت مذید بڑھ گٸ تھی رتابہ کیلیۓ۔۔۔

لندن جا کر وہ اس سے اتنا بدظن نہيں تھا جتنا وہ یہاں آکر ھوا تھا بہت زہر تھا اسکے اندر رتابہ کیلیۓ جو وہ آج اگل رہا تھا۔۔۔

آج رتابہ کی برداشت بھی جواب دے گٸ تھی وہ عضد کے طعنے نا سہہ سکی تو غم و غصے سے پھٹ پڑی۔۔۔۔

میں تھک گٸ ھوں بہت آپکے طعنے آپکے الزامات سن سن کر کبھی آپ مجھ پر عاشقی کا طعنہ کستے ھیں کبھی میری طبیعت کی خرابی سے لگتا ھے کہ آپکو کہ میں یہاں کراچی کسی کیساتھ اپنے پرانے قصے دہرانے اور نۓ گل کھلانے آٸ ھوں۔۔۔

رتابہ کی آواز بلند ھوتی گٸ۔۔۔

اور بد بو دار کردار کی مالک ھوں میں آپکے لیۓ گندگی کا ڈھیر ھوں

چھٹکارا آپ کر نہيں سکتے میں ہی جان چھوڑ دیتی ھوں آپکی ویسے بھی میرے جینے کا مقصد سوا ذلالت کے اور کچھ ھے ہی نہيں۔۔۔

وہ غم و غصے سے پاگل ھوتی کمرے سے باہر بھاگتے ھوۓ نکلی۔۔۔

گیلری میں پڑے جنریٹر کیساتھ سے پیٹرول اٹھایا اور کچن میں جاکر خود کو بند کیا۔۔۔۔

عضد بھاگتا ھوا آیا اسکے پیچھے آیا کھولو دروازہ کیا کر رہی ھو؟؟

اس نے پیٹرول اپنے اوپر چھڑکا اور پاگلوں کیطرح ہچکیوں سے روتے ھوۓ ماچس ڈھونڈنے لگی۔۔۔

عضد کو پیٹرول کی بدبو باہر تک آٸ وہ باہر لان کیطرف بھاگا۔۔۔

ماچس کی تیلی اب رتابہ کے ہاتھ میں تھی۔۔۔

جاری ھے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *