Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 26)

Bad Bakhat by Arshi Noor

عضد بازو سے پکڑے اسےکمرے میں لے گیا۔۔۔۔

مایا عضد کے پیچھے لپکی۔۔۔

تم جاٶ باہر یہ ھمارا آپس کا معاملہ ھے عضد کی بات اسے کافی بری لگی۔۔۔

کیوں جاٶں باہر میں ایسی بھی کیا رازداری جو حرکت اس نے کی ھے وہ میں دیکھ چکی ھوں۔۔۔

عضد اس پر بھی چلایا جاٶ باہر۔۔۔۔۔

مایا غصے سے ناک پھلاتی چلی گٸ۔۔۔

وہ رتابہ کے پاس آیا اسکی ناک سے بہتا خون دیکھ کر وہ نرم پڑ گیا

وہ قمیض کے دامن سے اپنا خون صاف کر رہی تھی۔۔۔۔

عضد نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کیا ایک آنسو نہيں تھا اسوقت رتابہ کی آنکھوں میں۔۔۔

کون تھے یہ اندر کیسے آۓ سچ بتا دو کچھ نہيں کہونگا۔۔۔۔

رتابہ نے عضد کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔

میرا سچ بھی آپکا شک نگل لے گا اس لیۓ جو سزا دینی ھے دے لیں میں آپکو اپنی صفائی نہيں دینا چاہتی۔۔۔۔

وہ اسکے سامنے پھر سے پنجوں کے بل بیٹھا جو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی۔۔۔

جو میں نے دیکھا ھے شک کرنا بنتا ھے میرا تم اکیلی تھی گھر میں گیٹ پر بھی لڑکے تھے اور ایک لڑکا دیوار پھلانگ کر باہر نکلا کیا سوچ سکتا ھوں میں یا میری جگہ کوٸ بھی ھوتا کیا سوچتا؟؟؟

رتابہ کے ہاتھ خون سے بھرے ھوۓ تھے۔۔۔۔

اس نے جھکی پلکیں اٹھو کر عضد کی آنکھوں میں جھانکا آپ یہی سننا چاھتے ھیں نا کہ یہ لڑکے بھی میرے پرانے یا نۓ عاشق ھیں اور

میں نے اکیلے پن کا فاٸدہ اٹھا کر انھیں بلوایا پھر دروازہ نہيں کھولا آپکے بتانے کے مطابق ایک اندر آیا اور میں نے اسے خوش دلی سے ویلکم کیا۔۔۔۔

کیونکہ آپ نے تو مجھے بیوی کبھی سمجھا ہی نہیں اپنی خواہشات کو پورا کرنے کیلیۓ میں یہ سب کر سکتی ھوں نا اسکے آنسو حلق میں جا اٹکے۔۔۔

عضد ایک ٹک اسے دیکھتا رہا۔۔

کیونکہ نا میں کسی کی بیوی بن سکتی ھوں نا بہن نا کچھ اور میں بلکل لاوارث ھوں اپنی عزت لٹوا چکی ھوں ناجاٸز بچے کی ماں بن چکی ھوں آپکا شک بنتا ھے مجھ جیسی لڑکی پر۔۔۔

عضد کی بولتی بند ھو گئ تھی۔۔۔

جب یقین ھے آپکو کہ میں غلط ھوں اور غلاظت کا ڈھیر بھی پھر اس غلاظت سے سچاٸ جیسی پاکیزگی کی امید کیوں رکھتے ھیں آپ؟؟؟

مجھ سے آپکو جھوٹ کی ہی بو آۓ گی مجھے کرید کر اپنے ہاتھ گندے مت کریں کیونکہ ایک بار جب اتنے بڑے گناہ کی مرتکب ھو سکتی ھوں تو بنا خوف یہ گناہ دوہرا بھی سکتی ھوں یہی ڈر یہی خوف ھے ناں آپکو مجھ سے؟؟؟ اب اسکی سوالیہ نظریں جمی ھوئ تھیں عضد کے حیران چہرے پر۔۔۔

عضد بس اسے حیرانی سے دیکھتا گیا کہ آج وہ کیسے اسکے سامنے بول رہی ھے اتنی ھمت اِسے میرے شک نے دی یا میرے ظلم نے؟؟

کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا پھر جبڑے بھینچے پوچھا تم نہيں بتاٶ گی۔۔۔

اس نے ناں میں سے ہلایا نہیں بتا سکتی میں۔۔۔سختی سے کہا۔۔۔

کیوں نہیں بتا سکتی اور یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہوں میں۔۔۔۔

وہ ہونٹوں سے خون صاف کر کے بولی ۔۔۔

حق کون سا حق؟؟؟ کس حق کی بات کر رہے ہیں آپ؟؟؟

مجھے مارنے کا حق یا میری آپ کی ملکیت میں آنے کا حق؟؟

یا وہ تمام مظالم ڈھانے کا حق؟؟؟

عضد اپنا غصہ دباتے تنے ھوۓ اعصاب سے بولا۔۔۔۔

میرے ساتھ اس گھر میں میرے نام کی نسبت سے رہتی ہو تم ذمہ داری ہو میری۔۔۔

ذمہ داری نہیں ہوں میں آپکی ترکی بہ ترکی آج وہ اسے جواب دے رہی تھی۔۔۔

بلکہ وہ بوجھ ہوں جو زبردستی آپکے کندھوں پر ڈالا گیا جس کو اٹھانے کی سکت نہیں آپ میں اور جب بھی یہ بوجھ آپکو زیادہ بھاری لگتا ہے تو آپ آ جاتے ہیں مجھ پر اپنی تھکان اتارنے۔۔۔۔

پھر اپنے بوجھ کے ساتھ ساتھ مجھے آپ کے دیے ہوئے الزامات کا الفاظ کا زخموں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔۔

رتابہ تم میری باتوں کو غلط رخ دے رہی ہو وہ اسکی زبان سے آج اتنا کچھ سن کر کافی نرم پڑ گیا تھا۔۔۔

عضد شاہ مجھے ہمیشہ سب نے غلط رخ سے دیکھا غلط زاویۓ سے پرکھا حتیٰ کہ مجھے قبول بھی غلطی سے کیا تو پھر آج میں نے بھی خود کو غلط قبول کر ہی لیا ہے۔۔۔لب و لہجہ بلکل سپاٹ تھا اسکا۔۔۔

آج اتنی جرات کہاں سے آٸ تمھارے اندر جو میرے ہی سامنے بیٹھ کر اسطرح مجھ سے بات کر رہی ھو وہ یہ بات بولے بنا نا رہ سکا۔۔۔

جب مجرم جرم کرنے کا عادی ھو جاۓ تو وہ سزا کے خوف سے بے خوف ھوجاتا ھے وہ پھر یہ نہيں دیکھتا کہ کون ھے اسکے سامنے۔۔۔۔۔

عضد نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جہاں اسکے رکے ھوۓ آنسو اسکی معصومیت کا رونا رو رھے تھے لیکن اپنی صفائ میں بہنے سے اور کچھ کہنے سے قاصر تھے۔۔۔

عضد نے اس سے کوٸ سوال نہيں کیا وہ ایک بار پھر ڈر گیا تھا کہ اس بار پھر وہ خود کو کوٸ نقصان نا پہنچا لے۔۔۔۔

اپنے سوال اپنے من میں لیۓ وہ گہری سانس لیکر اٹھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی واش روم میں لایا۔۔۔۔

اسکے سر پر پانی ڈال کر اسکا خون بند کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

رھنے دیں میں خود کر لونگی رتابہ نے اسے پیچھے ہٹایا اسکا ناک سوجھ گیا تھا۔۔۔

باہر ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی

مایا صحن میں غصے سے بھری بیٹھی تھی۔۔۔

عضد اس پر اک نظر ڈال کر باہر گیا۔۔۔۔

گیٹ پر دو آدمی تین چار لڑکوں کیساتھ تھے ان میں سے ایک لڑکا وہی تھا جو دیوار پھلانگ کر بھاگا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ عضد کچھ بولتا اسکے ساتھ کھڑے آدمی نے پہل کی۔۔۔

ھم آپ سے معذرت کرنے آۓ ھیں

ھمارے بچے ھیں یہ اور یہیں رھتے ھیں ھم یہ کرکٹ کھیل رھے تھے بال آپکے گھر گری بیل بجاٸ پر کوٸ نہيں تھا گھر میں یہ بے وقوف خالی گھر دیکھ کر آپکے گھر کود پڑا۔۔۔

اور پھر آپکی گاڑی دیکھ کر آپ سے کچھ کہے بنا بھاگ گۓ آپکے ڈر سے۔۔۔

لیکن میں انھیں یہاں لایا ھوں کہ کل کو آپ انھیں دوبارہ یہاں دیکھ کر چور نا سمجھ لیں۔۔

ان سب لڑکوں نے ایک ساتھ عضد سے معافی مانگی اور ان بچوں کے والد نے بھی۔۔۔

ٹھیک ھے بیٹا لیکن اگلی بار گھر بند ھو یا کھلا کسی کے گھر اسطرح چوری چھپے مت کودنا یہ تو اچھا ھوا تم بھاگ گۓ ورنہ چور سمجھ کر میں نے بہت برا مارنا تھا تمھیں۔۔۔

ان سب نے ایک بار پھر معافی مانگی۔۔۔

عضد نے انکی معافی قبول کر لی اور اندر آیا۔۔۔

مایا اب تک اسی طرح بیٹھی تھی وہ کمرے میں جانے لگا تو وہ پیچھے سے بولی چلی گٸ ھے وہ اپنے کمرے میں۔۔۔۔

عضد نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔

اس نے بتایا کون تھے وہ؟؟ انداز کافی جلا کٹا تھا۔۔۔

عضد ابرو اٹھاۓ بولا وہ بتاۓ نا بتاۓ تمھارا اس سے کوٸ مطلب نہيں۔۔۔

کیوں نہيں ھے مطلب یہ اوچھی اور بے حیا حرکتیں مجھ سے تو اس گھر میں برداشت نہيں ھونگی۔۔۔

عضد اسکے رویۓ پر اسے دیکھ کر بولا اس نے کوٸ غلط حرکت نہيں کی کچھ لڑکے کرکٹ کھیل رھے تھے انکی بال اندر آئ وہ خالی گھر سمجھ کر کودا اندر اور میری گاڑی کی آواز سن کر بھاگا۔۔۔

مایا مسکراٸ اوہ اچھا اس نے کہا اور تم نے مان لیا۔۔۔

اس نے کچھ نہيں کہا وہ اپنے دفاع کیلیۓ بھی کبھی نہيں منہ کھولتی۔۔

تو پھر کیا تمھیں الہام ھوا تھا اس بات کا؟؟؟انداز استہزایہ اور طنز بھرا تھا۔۔۔

نہيں الہام تو نہيں ھوا البتہ اپنے غصے پر پشیمانی ھو رہی ھے باہر ابھی گیٹ پر وہی بچے اپنے فادر کیساتھ ایکسکیوز کرنے آۓ تھے۔۔۔۔

مایا مذید کچھ بولی تو نہيں پر اسکی آنکھوں میں بہت کچھ تھا جسے عضد نظرانداز کر گیا کیونکہ وہ اسکے ساتھ رتابہ کو لیکر کوٸ بحث نہيں کرنا چاھتا تھا۔۔۔

اسکے قدم رتابہ کے کمرے کیطرف بڑھے تو اسکا دروازہ لاک دیکھ کر وہ باہر لان میں آگیا۔۔۔

مایا اپنے کمرے میں چلی گٸ تھی۔۔

__________________

عضد لان میں ٹہلتا ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی چاند کی روشنی میں اپنے آپ سے محو گفتگو تھا کیوں آج مجھے اتنا دھڑکا لگا اس کے ساتھ کچھ ہونے کا کیوں میں آج اسے لے کر اتنا possessive ہوا؟؟؟

دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ آہستہ آہستہ ٹہل رہا تھا۔۔۔

کیوں میں نے اس پر شک کرتے ہوئے غلط انداز سے سوال پوچھا؟؟

کس بات کا ڈر تھا میرے اندر سادیہ کے ساتھ ہونے والے حادثے کا؟؟؟

تو پھر میں نے اس خوف کو کیوں رتابہ کے سامنے شک کے لبادے میں پیش کیا؟؟؟

جب میں اسے قبول نہیں کرتا تو پھر کیوں انکار بھی نہیں کر پاتا اس کے وجود سے۔۔۔

کیوں میں اسے کھونے سے ڈرتا ہوں؟؟؟

میں کیوں چاہتا ہوں کہ وہ جس طرح بھی رہے لیکن میرے نام سے منسوب رھے؟؟؟

یہ میری نفرت کا کونسا انوکھا روپ ھے؟؟؟ کہ میں اسے اپنے نفرت سے آزاد بھی نہیں کر پاتا اور دوہری اذیت سے اسے دوچار بھی کرتا ھوں؟؟

کیوں اسے دیکھ کر اکثر مجھ میں انسانیت دم توڑ نے لگتی ہے کیوں اتنی شدت اختیار کر لیتا ہوں میں؟؟؟

کیا اس کی نفرت اب میرے اندر کا ڈر اور میری کمزوری بنتی جا رہی ہے؟؟؟

عضد گھبرا گیا اپنے ہی سوالوں سے۔۔۔

کیا امی واقعی ٹھیک کہتی تھیں کہ ہر جذبہ شدت پا کر الٹ جاتا ہے

تو کیا میری شدید نفرت بھی الٹتی جا رہی ھے؟؟؟

نہیں نہیں مجھے محبت نہیں ہو سکتی کبھی بھی نہیں وہ بھی رتابہ سے جسکی زندگی میں مجھ سے پہلے بھی کوئ تھا۔۔۔

یہ سوال یہ خیال کیوں میرا پیچھا نہيں چھوڑتا وہ بھی کچھ نہيں بولتی مجھ میں بھی ھمت نہيں ھوتی کہ میں اس متعلق اس سے کچھ پوچھ سکوں۔۔۔

کیوں یہ احساس میرے لیۓ جان لیوا ثابت ھونے لگا ھے کہ وہ کسی اور کیساتھ کیسے منسوب تھی۔۔۔

میں اسکی حقیقت کو وہ سچ ھے یا جھوٹ کیوں قبول نہيں کر پا رہا خود کو بھی اذیت میں رکھا ھوا ھے میں نے اور اسے بھی۔۔۔

وہ ابھی ان سوچوں میں گم تھا کہ مایا کے سوال اسکے آگے منہ کھولے کھڑے تھے۔۔۔

مایا تو میری دوست ھے پھر میں نے اسکو بھی کمرے سے باہر نکالا اور کیوں اس کے سوالوں پر اسے رتابہ کی صفائیاں پیش کرنے لگا تھا۔۔۔

حالانکہ رتابہ نے تو دو بول بھی نہ بولے تھے اپنی صفائ میں۔۔۔

رات کے پچھلے پہر تک وہ ٹہلتا رہا اسے پھر اس خوف نے آگھیرا کہ رتابہ اسکے شک کیوجہ سے کچھ کر نا لے اپنے ساتھ اس کے قدم اپنے آپ رتابہ کے کمرے کی طرف بڑھے دروازہ لاک تھا۔۔۔

وہ الماری سے دوسری چابیاں اٹھا کر لایا اور لاک آرام سے کھولا۔۔۔

وہ سامنے موجود نہیں تھی اس نے آہستہ سے آواز لگاٸ۔۔۔

رتابہ۔۔۔

عضد کی آواز سن کر اس نے کھڑکی کا پردہ ہٹایا وہ پردے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔۔۔

کیا کر رہی ہو وہاں یہاں آٶ اس نے بیڈ کیطرف اشارہ کیا۔۔۔

اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ناں میں سر ہلایا۔۔۔

وہ خود ہی اس کے پاس آکر بیٹھا ہاتھ اب دونوں گھٹنوں کر گھیرے ھوۓ تھے اور چہرے کا رخ رتابہ کیطرف تھا۔۔۔

کیا ہوا ہے اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو میں تمہیں مارنے نہیں آیا طبیعت پوچھنے آیا ہوں۔۔۔

میں آپ سے یا آپکی مار سے نہیں ڈرتی۔۔۔ وہ اسکے جواب پر ایک جملہ نا بول سکا کہ ڈر تو میں گیا تھا لیکن دل کی بات دل میں ہی رہ گئ۔۔۔

ڈرتی نہيں ھو تو اسطرح پورا کمرہ چھوڑ کر یہاں پردے کے پیچھے کیوں چھپی بیٹھی ھو؟؟

اکیلی ہوں اتنے بڑے کمرے میں رات کے تین بجے لاک کھول کر اندر آٸیں گے تو ڈرنا تو ہے نہ مجھے۔۔۔انداز معصومیت بھرا تھا۔۔۔

عضد اس کی آنکھوں میں تنہاٸ کا خوف دیکھنے لگا اتنا کیوں ڈرتی ہو؟؟؟

آپ نہيں سمجھ سکتے۔۔۔اسکا سر جھکا ھوا تھا۔۔۔

عضد نے مذید سر جھکا کر اسے دیکھنے لگا سمجھاٶ گی تو سمجھوں گا۔۔۔لہجہ ھمدردی سے لبریز تھا۔۔۔

اگر آپ جان سکتے یا سمجھ سکتے میرے ڈر کی میرے درد کی گہراٸ کو تو خود کبھی نا سوتے مجھے سلانے سے پہلے۔۔۔

عضد ایک بار پھر اسکی طرف ماٸل ھونے لگا تھا۔۔۔

پہلے کیوں نہيں بتایا کہ اکیلے سونے سے ڈرتی ھو۔۔۔۔

کہی بار بتا چکی ھوں یاد آپکو صرف میرے ماضی کا ڈر رہتا ھے میرے حال کا ڈر آپ بھول جاتے ھیں۔۔۔۔۔

اب نہيں بھولونگا اٹھو آٶ میرے کمرے میں عضد نے کھڑے ھوکر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔

نہيں جانا آپکے کمرے میں مجھے جواب برجستہ دیا۔۔۔

کیوں ؟؟؟

کیونکہ آپ مجھ پر دو دن سے زیادہ ترس نہيں کھا سکتے۔۔۔

عضد اسکے جواب پر اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔

جانتا تھا وہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ھے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ جلد ہی اسکی رتابہ سے یہ انسیت اذیت میں بدل جاٸیگی۔۔۔

_________________

جازب اور نمل دیان کو ساتھ لیۓ باہر آٶٹنگ پر آۓ ھوۓ تھے۔۔۔

جازب دیان تمھیں بھی اتنا ہی پیارا ھے جتنا کہ مجھے نمل کے سوال پر اس نے کہا۔۔۔نہيں ۔۔۔۔

نمل نے رک کر اسے دیکھا کیوں؟؟

مجھے یہ تم سے بھی زیادہ پیارا ھے۔۔۔

جازب یہ نا ھوتا تو کیسی خالی خالی پھیکی پھیکی زندگی ھوتی ھماری ھیں نا۔۔۔

ھممممم اور اسے گود میں ھماری دیکھ کر کوٸ یہ بھی نہيں کہہ سکتا کہ میں بے اولاد ھوں اس معصوم سی جان نے میری زندگی کا سب سے بڑا عیب چھپا لیا ھے جازب نے اسے چومتے ہوئے کہا۔۔۔

نمل نے اسکی بات کی تردید کی۔۔ اسے جسمانی نقص یا کمی کا نام دیا جا سکتا ھے لیکن عیب نہيں عیب تو گناہ ھوتا ھے اور بے اولاد ھونا کوٸ گناہ تو نہيں۔۔۔

دیان اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ان سے آگے بھاگنے لگا۔۔۔

جازب اگر رتابہ نے اسے ھم سے واپس مانگ لیا یا اسکا باپ کسی دن اچانک سامنے آگیا ھمارے تو کیا ھوگا ؟؟؟

رتابہ اسے ھم سے جدا نہيں کر سکتی کیونکہ وہ خود ھم سے جدا نہيں ایک گھر ھے ایک فیملی ھے بچہ اسکے پاس ھو یا ھمارے پاس بات تو ایک ہی ھے۔۔۔

رہی بات اسکے باپ کی تو اسے کیا معلوم کہ یہ اسی کا بچہ ھے امی نے بتایا تھا کہ رتابہ کو خود بھی نہيں معلوم تھا کہ وہ ماں بننے والی ھے بچہ ھمارے گھر ھوا ھے تو ھمی اسکے سرپرست ھیں۔۔۔

نمل نے جازب کی بات سن کر شکر کا سانس لیا کہ اسکے دل میں دیان کو لیکر جو خدشات تھے وہ جازب کی تسلی سے چَھٹ گۓ تھے سارے۔۔۔

اور اسے اپنا کل دیان کیساتھ بہت خوبصورت نظر آنے لگا ایک عجیب سی کشش جازب کو دیان میں محسوس ھوتی وہ اسے دیکھ کر بے چین بے قرار سا ھو جاتا تھا اور جب پیار کرنے کیلیے اٹھاتا تو کتنی دیر اسے چومتا رہتا اپنی بے اولادی کا دکھ اسے اس بچے میں نظر آتا تھا۔۔۔

اسکا اور جازب کا درد مشترک تھا وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔۔۔۔

_________________

جمنا بائی کے یہاں کومل نامی لڑکی کی طبیعت کچھ بوجھل بوجھل سی ھو رہی تھی۔۔۔

جمنا اسے صبح سے نوٹ کر رہی تھی لیکن بولی کچھ نہيں۔۔۔

بندیا آفرین کیساتھ لیٹی ھوٸ تھی۔۔۔۔

بندیا تمھارا تو اپنا گھر ھے ماں باپ ھیں پھر تم اس دلدل میں کیوں دھنسا رہی ھو خود کو۔۔۔

میری تو سمجھ آتی ھے میں تو اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگی تھی اپنا ہر رشتہ بیگانہ کیا تھا میں نے کسی کی باتوں میں آکر اور آج کوٸ بھی اپنا نہيں رہا۔۔۔

لیکن تم تو اپنے ماں باپ کی دعا میں رخصت ھوٸ تھی نا پھر واپس کیوں نہيں لوٹ کر جاتی ۔۔۔

میں واپسی کے قابل نہيں رہی تیرا قصور وار تیرا lover اور تیری محبت ھے اور میرا قصور وار میرا باپ اور اسکی محبت ھے۔۔۔۔

آفرین نے حیرت سے دیکھا کیا مطلب ھے تمھارا؟؟؟

میں کسی لاوارث بد بخت کی وجہ سے آج یہاں ھوں جو میرے باپ کی بیٹی بھی تھی اور معشوقہ بھی اور ساتھ میں میرے شوہر کی بھی۔۔۔۔

چھوڑونگی نہيں میں اسے بس ایک بار مل جاۓ کہیں وہ مجھے اسی دلدل میں اسے بھی گھسیٹ کر لاٶنگی۔۔۔۔

ابھی وہ یہ بات کر رہی تھیں کہ انکے پاس صوفے پر بیٹھی کومل واش روم میں بھاگی اور الٹیاں کرنے لگ گٸ۔۔۔۔

جمنا اسکی آواز سن کر اندر آٸ

اب کس کا تحفہ پال لیا ھے تم نے ہزار بار کہا ھے احتیاط کیا کرو اب چلو ھسپتال اور کرو اپنا وقت اور پیسہ ضائع۔۔۔۔۔

جمنا بائی نے شال اوڑھی اور اپنا پرس اٹھایا کومل کو ھسپتال کے جانے کیلئے۔۔۔

سنو لڑکیوں اسکی حالت دیکھ لو اب تم بھی ذرا احتیاط سے کام لیا کرو بندے کی جان بھی جا سکتی ھے اور جان اتنی سستی نہیں کہ ان حرام کے مردوں پر حرام کر دی جاۓ۔۔.. _____________

عضد کی آج چھٹی تھی نرگس کے ساتھ وہ فون پر مصروف تھا وہ فون پر بھی اسے سمجھا رہی تھیں۔۔۔

بیٹا پراٸ بیٹی ھے تمھارے گھر ذرا احتياط سے رہنا اور رتابہ کے متعلق کوٸ کمزور سرا اسکے ہاتھ مت لگنے دینا۔۔۔

میرے بچے کون کہاں کس وقت ان کمزور لمحوں کی آڑ میں کیا فاٸدہ اٹھا لے تم سوچ بھی نہيں سکتے۔۔۔

امی سب جانتا ھوں میں بچہ نہيں ھوں۔۔۔

تم بچے ہی ھو اور بے انتہا ضدی اور جذباتی بھی اور ایسا انسان کبھی بھی عقلمندانہ فیصلہ نہيں کر پاتا عقل اور دل کے بیچ اسکی ذات کا جھولا جھولتا ہی رہتا ھے جسمیں وہ اپنی جھوٹی انا پر لطف اندوز ھوتا رہتا ھے۔۔۔۔

امی اتنی گہری باتیں نا کیا کریں مجھے اکثر سمجھ نہيں آتیں۔۔۔

بیٹا گہری باتیں سمجھنے کیلیۓ بھی گہرا ھونا پڑتا ھے اور گہرا ھونے کیلیۓ گہری چوٹیں کھانی پڑتی ھیں۔۔۔۔

اور تم گہری چوٹیں کھانے والے نہيں دینے والوں میں سے ھو۔۔۔

اسلیۓ ہر وقت مجھے تمھاری فکر رہتی ھے کہ ایسا نا ھو کہیں اس معصوم کی بددعا یا آہ نا لگ جاۓ تمھیں۔۔۔۔

کیوں لگے گی بددعا امی میں نے کونسا ایسا گناہ کر دیا ھے۔۔۔۔

بیٹا کسی کا دل دکھانا کسی کو رلانا کسی کو اپنی ذات سے اپنی زبان سے اذیت پہنچانا بھی بہت بڑا گناہ ھے اور یہ گناہِ کبیرہ تم رتابہ کے حوالے سے بار بار کرتے ھو۔۔۔

عضد خاموشی سے نرگس کو سننے لگا۔۔۔

ابھی تو میری جان وہ چپ چاپ سہہ لیتی ھے کیونکہ وہ ڈرتی ھے تم سے تمھاری سپردگی میں ھے اسلیۓ لیکن ڈرو اس دن سے جب اس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا پھر تمھاری چھوٹ نہيں۔۔۔۔

عضد کا دل ایک دم بجھ سا گیا نرگس کی بات سن کر۔۔۔

اللہ تمھیں اپنی امان میں رکھے اور غور کرنا میری بات پر۔۔۔

خود بھی سنبھل کے رھو اور رتابہ کو بھی ھو سکے تو سنبھال لو اس سے پہلے کہ موت اسے اپنی آغوش میں سنبھال لے اور تمھیں اپنی غلطیوں کی تلافی کا موقع بھی نا مل سکے۔۔۔۔

امی میں نے کیا غلطی کی ھے وہ چڑ گیا تھا۔۔۔

آپکے کہنے پر کر لیا تھا اسے قبول کیا یہی غلطی ھے میری۔۔۔

بیٹا اسے اسکی بیوی ھونے کا مان دو پیار دو مانا تمھارا دل نہیں مانتا پر اپنے دل سے تھوڑی سی تم زبردستی بھی کر سکتے ھو وہ تمھارے ہی سینے میں دھڑکتا ھے۔۔۔۔

امی آپ سب کیوں نہیں سمجھتے میرا دل نہيں مانتا کہ میں اپنے ساتھ یا اسکے ساتھ ھمارے رشتے کے متعلق کوٸ زبردستی کروں۔۔۔

نفرت ھے مجھے ان مردوں سے جو دن بھر عورتوں کو پیر کی جوتی سمجھتے ھیں اور رات کو بستر کی زینت بنا لیتے ھیں میں کم از کم ایسا نہيں کر سکتا۔۔۔

آواز اب بھیگ رہی تھی اسکی۔۔۔

اپنی زندگی کے تین سال میں نے تیاگ دیۓ ھیں آپکی پسند پر

آپ سب ملکر مجھے ہی سمجھاتے ھیں کہ میں ہی غلطی پر ھوں۔۔۔

میں مانتا ھو میں جبر کرتا ھوں اس پر۔۔۔

لیکن اسے اپنے ساتھ دیکھ کر میں اپنے آپ پر کتنا جبر کرتا ھوں یہ کوٸ نہيں جانتا۔۔۔

اسکے شکوے ایک ایک کر کے آج نرگس اسکی زبانی سن رہی تھی۔۔۔

امی میں نے تو کبھی کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہيں دیکھا تھا بہت صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی گزاری ھے میں نے کبھی کسی کا خواب تک نہيں دیکھا تھا۔۔۔

کبھی کسی کو دل میں جگہ نہيں دی تھی لیکن میرے ساتھ یہی ھونا تھا کیا اس لیۓ میں نے خود کو سنبھال کر رکھا تھا کہ میری شریک حیات مجھے پہلے سے ہی کسی کی شراکت داری میں ملے گی مجھے۔۔۔

میری ذات کو دو ٹکڑوں میں تقسيم کر کے رکھ دیا آپ نے نا میں اسے چھوڑ سکتا ھوں اب اور نا اپنا سکتا ھوں۔۔۔۔

نرگس بڑے تحمل سے بولی۔۔۔

میری جان خود کو تقسیم نا کرو تم اپنی ذات کو ضرب دینا سیکھو ضرب دوگے تو بڑھتے جاٶ گے تقسیم کروگے تو مختصر ھوتے جاٶ گے۔۔۔

اور رہی بات شریک حیات کی شراکت داری کی تو میرے بچے تمھاری قسمت تھی یہ اور اس بچی کی بد قسمتی جو وہ ظالموں کے ہتھے چڑھی اگر یہی معاملہ تمھاری شادی کے بعد ھوتا تو کیا کرتے تم ؟؟؟

امی وہ بات الگ ھے۔۔۔۔

نہيں بات الگ نہيں تمھاری سوچ کا محور الگ ھے۔۔۔

عضد خاموش ھو گیا۔۔۔۔

مایا ابھی ابھی اٹھی تھی اٹھتے ساتھ عضد کو ڈھونڈتی ھوٸ اسکے پیچھے آٸ۔۔۔۔

ھیلوووو ڈیٸر گڈ مارننگ۔۔۔

مایا کی آواز نرگس کو صاف سناٸ دی۔۔۔

وہ مذید بات کرتی عضد سے مگر نا کر سکی اور اسے پکارا عضد ۔۔۔۔

جی امی۔۔۔۔

امید ھے مجھے تم سمجھداری سے کام لو گے۔۔۔۔

جی امی کوشش کرونگا اللہ حافظ کہہ کر وہ اسکی طرف پلٹا۔۔۔

یار جب ایک بندہ فون پر بات کر رہا ھو تو دوسرے کو فون بند ھونے تک چپ رہنا چاھیۓ۔۔۔

مایا نے اسکے سامنے جماٸ لیتے ھوۓ انگڑاٸ لی تم کونسا اپنی گرل فرینڈ سے مخاطب تھے پھپھو ہی تھیں تمھاری۔۔۔۔

عضد پودوں سے گلے سڑے پتے توڑنے لگا پھپھو نہيں ماں ھے وہ میری۔۔۔۔

اچھا بابا اچھا ماں ھے تمھاری بس۔۔۔۔

پھر اس نے رتابہ کو لان سے آواز لگاٸ جہاں سے کچن کی کھڑکی قریب تھی اسے رتابہ نظر آئ۔۔۔۔

میرے لیۓ ایک کپ چاۓ بنا لاٶ رتابہ پانچ منٹ میں چاۓ لیۓ حاضر تھی

رتابہ چاۓ رکھ کر واپس ھوٸ تو عضد نے روکا سنو۔۔۔۔

جی۔۔۔

امی کا فون آیا تھا کل نمل اور جازب آرھے ھیں کراچی صبح انکی فلاٸیٹ ھے جو کچھ چاھیۓ سامان گھر کیلیۓ لسٹ بنا لو بازار چلتے ھیں کچھ دیر میں پھر۔۔۔۔

وہ سر ہلاتی چلی گٸ۔۔۔

عضد خود ہی گھنٹے بعد اسکے پیچھے آیا وہ برتن دھو رہی تھی۔۔۔۔

بنا لی تم نے لسٹ۔۔۔۔

جی وہ سامنے دراز میں پڑی ھے آپ لے آٸیں۔۔۔

کیوں تم نہيں چلو گی ساتھ؟؟؟ اس نے پلیٹ میں پڑا سیب اٹھا کر کہا۔۔۔

نہيں آپ مایا کو لے جاٸیں مجھے ابھی کافی کام کرنے ھیں۔۔۔

مجھے تم سے کوٸ بات کرنی ھے اب وہ دانت سیب میں گاڑ چکا تھا۔۔۔

جی بولیں۔۔۔

واپس آکر کرتا ھوں۔۔۔

رتابہ نے اسے دیکھا اسکا لہجہ نارمل نہيں تھا۔۔۔۔

یااللہ خیر کرنا اب کونسی بات ھو گٸ عضد کے انداز پر وہ بے چین اور پریشان ھو گٸ۔۔۔۔

عضد گاڑی کی چابی گھماتا لان سے گزرا تو چابی پودوں میں جا گری

وہ چابی اٹھانے کیلیۓ جھکا تو پودوں میں سامنے ہی گیند پڑی ھوٸ تھی۔۔۔

عضد نے بال اٹھاٸ اور باہر پھینکی رتابہ کا دروازہ لگنے سے بہتا خون اسے یاد آیا تو اسکا موڈ اور بھی خراب ھو گیا۔۔۔

لیکن دل ہی دل میں اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے رتابہ پر کوئ الزام نہيں لگایا تھا نا اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔

______________

رات کے آٹھ بج رھے تھے عضد رتابہ کے کمرے میں آیا وہ نماز پڑھ رہی تھی عضد ایک طرف صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

سلام پھیر کر اس نے عضد کو دیکھا کچھ کام ھے آپکو؟؟ وہ اسے اپنے کمرے میں دیکھ کچھ حیران ھوئ تھی۔۔۔

جی بات کرنی ھے تم سے کچھ تم نماز پوری کر لو۔۔۔

پڑھ لی ھے میں نے۔۔۔۔

کچھ دعائيں اپنے لیۓ مانگ لو اور کچھ بد دعائيں مجھے دے دو۔۔۔وہ گھور رہا تھا اسے ۔۔۔

میں کیوں دینے لگی آپکو بد دعا۔۔۔۔

وہ اسکے پاس آ کر بیٹھا کیونکہ میں ظالم ھوں بہت ظلم کرتا ھوں تمھارے ساتھ بہت برا انسان ھوں میں ظلم کے پہاڑ گراتا ھوں میں تم پر اور دوسری عورتوں پر نچھاور بھی ھوتا ھوں میں۔۔۔

اسکا انداز بہت کڑوا تھا جسے رتابہ اپنے اندر اتار کر بولی میں نے تو ایسا کچھ نہيں کہا آپ سے۔۔۔۔

مجھ سے نہيں کہہ سکتی اسلیۓ اپنی ظلمت کی داستانیں دوسروں کو سناتی رہتی ھو۔۔۔

میں نے کسی سے کچھ نہيں کہا یہ آپکی اپنی سوچ ھے وہ اٹھنے لگی جاۓ نماز سے تو عضد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھایا۔۔۔۔

تمھاری یہ بات تو میں میں ماننے کو ہرگز تیار نہيں کہ تم میرے بارے میں خاموش رہتی ھو جہاں کوٸ تسلی کے دوبول تمھاری ھمدردی میں بول دے تم اپنے دکھڑے لے کے بیٹھ جاتی ھو۔۔۔

میں آپکے بارے میں کسی سے کوٸ بات نہيں کرتی اس نے ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔

اچھی طرح سے جانتا ھوں میں

تمھیں ھمدردیاں سمیٹنے کی عادت ھے تم یہی چاہتی ھو کہ ہر کوٸ تم پر ترس کھاۓ اور تمھیں معصوم سمجھے۔۔۔

اور پھر نصیحتوں کے قاعدے لیکر مجھے سب درس دینے بیٹھ جاتے ھیں کہ میں تم سے اور تمھاری بد دعاٶں سے ڈروں۔۔۔

رتابہ خاموشی سے اسکے چہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔

یہ نمازیں پڑھ کر نیک پروین ھونے کا ڈھونگ رچا کر تم کس کو دھوکہ دے رہی ھو مجھے خود کو یا لوگوں کو کیا اپنی حقیقت نہيں جانتی تم ھو کیا؟؟

افففففف اتنا ذلالت والا انداز اسکی آنکھوں میں آنسو تیر آۓ۔۔۔

میں نماز ڈھونگ رچانے کیلئے یا لوگوں کیلئے نہیں پڑھتی اپنے اللہ کیلئے پڑھتی ھوں کیونکہ اس نے نماز ھم پر فرض کی ھے اور فرض میں قرض میں ادا نہیں کر سکتی۔۔۔۔

رہی بات اپنی حقیقت جاننے کی تو میں جانتی ھوں اپنی حقیقت لیکن آپکو بتانے سے قاصر ھوں کیونکہ جس دن آپ جان گۓ حقیقت میری تو اپنے آپ سے بھی منہ چھپاتے پھرو گے۔۔۔

عضد کو اسکے جواب پر کافی غصہ آیا۔۔۔۔

ویسے تو بڑی گونگی بنی پھرتی ھو جیسے تمھارے منہ میں زبان ہی نہيں اور مجھے جواب دینا ھو تو گز بھر لمبی زبان ھو جاتی ھے تمھاری۔۔

اور میں کیوں منہ چھپاتا پھرونگا اب اسکی کن پٹی کی رگیں تنی تھیں میں نے آج تک کبھی ایسا گناہ یا کوٸ ایسا کام نہيں کیا کہ مجھے منہ چھپانا پڑے تمھاری طرح۔۔۔

مان لیا عضد شاہ میری طرح خطاکار نہيں آپ صرف اسلیۓ کہ آپکا گھر بار ھے اپنے ھیں نرگس جیسی ماں ھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ ایک مرد ھیں۔۔۔

نظریں اب عضد کی آنکھوں میں گڑی ھوئیں تھیں۔۔۔

میں گنہگار بھی ھوں بری بھی ھوں غلط بھی ھوں صرف اسلیۓ کہ میرا کوٸ اپنا نہيں کوٸ گھر نہيں کوٸ ٹھکانا نہيں کوٸ سہارا نہيں زمانے کی زد میں در بہ در ھونے والا پتھر ھوں میں بس۔۔۔

اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا عضد کی برداشت سے باہر تھا اسکو کوئ جواب نا سوجھا تو کہنے لگا۔۔۔

اپنا یہ فلسفہ کسی اور پر جھاڑنا ابھی میں صرف اتنا سمجھانے آیا ھوں کہ نمل اور جازب کے سامنے دکھی آتما بن کر مت گھومنا اور اگر تم نے میری کوٸ بھی شکایت کی اب کسی سے تو یاد رکھنا تمھارا منہ کسی شکایت کے قابل نہيں چھوڑونگا میں۔۔۔۔۔

وہ تو چلا گیا کمرے سے لیکن رتابہ جاۓ نماز پر بیٹھی اپنے رب سے مخاطب ھوٸ۔۔۔

آج شدت سے اسے اپنے بلکل تنہا ھونے کا احساس پھر ھوا تھا۔۔۔

ایک بار پھر آج ان اپنوں کیلیۓ بہت روٸ جو ناجانے زندہ تھے بھی یا نہيں اگر تھے تو کہاں تھے۔۔۔

________________

مایا کو آفس ڈراپ کر کے عضد جازب اور نمل کو لینے گیا کچھ ہی دیر میں وہ اسکے سامنے تھے۔۔۔

رتابہ تڑپ کر نمل کے گلے سے لگی اسکا رونا دیکھ کر نمل نے عضد کو گھورا۔۔۔

پھر اسکے آنسو صاف کر کے اسکا چہرہ چوما کیا ھوا میری جان۔۔۔۔

کچھ نہيں تمھیں کافی دنوں بعد دیکھا اسلیے دل بھر آیا۔۔۔

جازب کو اس نے دور سے ہی سلام کیا پھر وہ سب ایک ساتھ بیٹھے۔۔۔

رتابہ اور نمل مل کر دوپہر کا کھانا بنانے لگیں۔۔۔

رتابہ کا پھیکا پھیکا چہرہ روٸ روٸ آنکھیں سب کچھ بیان کر رہی تھیں کہ وہ خوش نہيں عضد کیساتھ۔۔

ایسے کیا دیکھ رہی ھو مجھے وہ اسکے گھورنے پر مسکرائ۔۔۔

کوٸ خوشی کوٸ زندگی کی رمق تمھارے چہرے پر تلاش کر رہی ھوں۔۔۔

جو چیز میرے مقدر میں نہيں اسے کیوں تلاشتی ھو میرے چہرے پر صبر اور سمجھوتہ دکھاٸ دے رہا ھے نا کیا یہ کافی نہيں۔۔۔

نمل نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیۓ۔۔۔۔

عضد نے اب تک تمھیں بیوی کی حیثیت سے تسلیم نہيں کیا نا۔۔۔

کر لے گا وقت آنے پر اس نے اپنا سر جھٹکا تم کیوں اتنی پریشان ھوتی ھو۔۔۔

تمھارا وقت آنے تک اس نے کسی اور کو تسلیم کر لیا پھر کیا کروگی؟؟

میں کر ہی کیا سکتی ھوں سوا سب کچھ سہنے کے۔۔۔

وہ چولہا لائٹر سے جلا کر اسکی طرف مڑی اور کرتے وہ ھیں کچھ جن کے پیچھے انکے سر پر ہاتھ رکھنے والے ماں باپ ھوں یا کوئ دوسرا آسرا ھو اور میرا تو اس چھت کے سوا کوٸ آسرا نہيں۔۔۔

کیسے کرتی ھو برداشت تم یہ سب نا اپنا دفاع کرتی ھو نا احتجاج کس مٹی کی بنی ھو تم تین سال تم نے اس شخص کی بے رخی کیساتھ گزار دیۓ۔۔۔ نملنکا لہجہ خفگی لیے ھوۓ تھا۔۔۔۔

وہی دفاع کر سکتے ھیں اپنا جنکے اپنے ھوتے ھیں اور میں بس ایک چلتی پھرتی زندہ لاش ھوں جسکے نا خواب ھیں نا جذبات جسکے سینے میں نا دل ھے اور نا کسی درد کا احساس۔۔۔

اسکے آخری الفاظ اندر آتے عضد نے سنے پر نمل کو دیکھ کر ان سنی کر گیا کچھ کھانے کو بھی ملے گا یا نہيں۔۔۔

عضد کو دیکھ کر وہ فوراً ہانڈی میں لگ گٸ بس کچھ ہی دیر میں لاتی ھوں۔۔۔

نمل عضد کیساتھ باہر گٸ تو رتابہ ڈر گٸ کہ وہ کوٸ بات نا کردے عضد سے۔۔۔۔

نمل کہاں جا رہی ھو میری ھیلپ کون کریگا اس نے نمل کو روکا۔۔۔

وہ واپس پلٹ آٸ عضد باہر چلا گیا اس نے گردن موڑ کر دروازے کیطرف دیکھا۔۔۔

پھر جھٹ سے ہاتھ جوڑے نمل یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ۔۔۔

میرے اور عضد کے رشتے کو لیکر پلیز کوٸ بات نا کرنا عضد سے۔۔۔

کیوں نا کروں کوٸ تو ھو نا اسکی بھی خبر لینے والا کہ کب تک کریگا وہ اسطرح اپنی من مانی۔۔۔۔

رتابہ جانتی تھی نمل ناانصافی دیکھ کر کسی کا لحاظ نہيں کرتی اور اچھا خاصا بندے کو لتاڑتی ھے۔۔۔

خدا کیلیۓ نمل اس سے کچھ مت کہنا اسوقت نمل اسکی لاچارگی دیکھ کر چپ ھو گٸ۔۔۔

__________________

مایا کو عضد کے ساتھ اتنا کلوز دیکھ کر نمل سے بالکل برداشت نہ ہوا تھا۔۔۔

اوپر سے مایا کا attitude تھا کہ وہ کسی کو کھاتے میں ہی نہیں لاتی تھی اس کے نزدیک دوسرا کوئی انسان ہی نہ تھا۔۔۔

رتابہ کو بھاگ بھاگ کر اس کی آؤ بھگت کرتے دیکھ کر وہ مزید چڑ گئی تھی۔۔۔

ابھی ابھی اس کے کافی کے آرڈر کو رتابہ پورا کرنے کچن میں آئی تھی۔۔۔۔

نمل نے وہی اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے سیدھا کھینچ کر اس کے کمرے میں لے گٸ کیا دیکھ رہی ہوں میں یہ سب کیا ھو رہا ھے؟؟؟

رتابہ نے معصومیت سے کہا کیا مطلب کیا دیکھا ہے تم نے ؟؟؟

نمل جل کر بولی دل چاہ رہا ہے تمہارا سر پھاڑ دوں میں نوکرانی ھو اس گھر کی تم؟؟؟

رتابہ نے نام میں سر ہلایا۔۔۔

مجھے تو یہی لگ رہا ہے کہ تم نوکرانی ہو اس گھر کی اور وہ مایا نا صرف اس گھر کی مالکن ھے بلکہ عضد کی بیوی بھی۔۔۔

خیر عضد کو تو میں بعد میں پوچھو گی پہلے تمہاری طبیعت ذرا صاف کر لوں۔۔۔

یہ بتاؤ مجھے ذرا مایا تمہارے باس کی بیٹی ھے؟؟؟

نہیں عضد کے باس کی رتابہ نے معصوم صورت بناۓ کہا۔۔۔

عضد کیا ہے تمہارا؟؟؟

شوہر۔۔.

شوہر تمہارا ہے اور غلام اس کا اور ساتھ ساتھ تم بھی اس کی غلام بنی ہوئی ھو۔۔۔

ایسی کوئ بات نہیں نمل وہ۔۔۔

بس چپ عجیب لڑکی ہو تم ذرا بھی تمہارے اندر کسی چیز کا کوئی احساس نہیں ذرا بھی تمہارے اندر self respect نہیں ہے۔۔۔

شوہر کو بھی کھلے منہ اسکے آگے چھوڑا ھوا ھے خود بھی بچھی جاتی ھو اسکی اک آواز پر جیسے زرخرید لونڈی ھو اسکی۔۔۔

رتابہ منہ لٹکا کر بولی تو کیا کروں میں گھر کے کام کاج ہیں میری ذمہ داری ھے۔۔۔۔

اور تم کس کی ذمہ داری ہو؟؟؟ نمل نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا وہ خاموش ہو گٸ۔۔۔

نمل اسے سختی سے وارن کرتے ھوۓ بولی۔۔

اگر اب تم نے اس کے لاڈ اٹھاۓ تو یاد رکھنا تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گی میں اور نہ اس نخریلی مایا کو۔۔۔۔

اور عضد کو بھی آنے دو ذرا آج اسکی بھی خبر لیتی ھوں میں اس نے تمہیں بیوی کی حیثیت سے نہیں رکھنا تو وہ الگ بات ہے لیکن اس طرح نوکروں کی حیثیت سے بھی رکھنے کا اسے کوٸ اختیار نہيں۔۔

رتابہ فوراً ڈر کر بولی ننننن نہيں عضد سے کچھ مت کہنا۔۔۔۔

کیوں نا کہوں اسے کچھ تم ڈرتی ھو اس سے میں نہيں۔۔۔اب کوٸ تو اس سے بات کریگا نا کہ وہ چاھتا کیا ھے آخر؟؟

اسطرح نہيں ھوتا رتابہ کہ وہ زیادتی یا ضد میں تمھیں بھی اور تمھاری عزت کو بھی روندتا رھے اور تم ھو کہ کسی بھی بات پر کوٸ اعتراض ہی نہیں ہوتا یار تمھیں۔۔۔

کیوں ڈرتی ھو عضد سے اتنا یقین کرو وہ دو چماٹوں کا بھی نہيں میرے سامنے مرد ھونے کا غرور اسکا دو منٹ میں ملیا میٹ کر دوں گی میں۔۔۔

رتابہ بری طرح ڈری اسکے ارادوں سے۔۔۔۔تم نے جو بھی کہنا ھے مجھے کہہ لو یار عضد سے کچھ مت کہنا ورنہ وہ مجھے مارررررر۔۔۔۔

آگے وہ ایک دم چپ ھو گٸ کہ جلدی میں اسکے منہ سے کیا نکل گیا تھا وہ بھی نمل جیسی آندھی طوفان کے سامنے۔۔۔۔

کککک کیا۔۔۔ کیا کہا تم نے عضد مارتا ھے تمھیں ؟؟؟؟

وہ سٹپٹا کر بولی نہيں نہيں ایسا نہيں وہ تو میرے منہ سے نکل گیا غلطی سے۔۔۔

اچھا ھوا جو سچ نکل گیا تمھارے منہ سے آج۔۔

اس قدر گھٹیا حرکت کرتا ھے وہ تمھارے ساتھ اور تم سب سہہ رہی ھو خاموشی سے۔۔۔۔

نمل نے اسے کندھوں سے پکڑا یار کب تک ان ذلالت کے اندھیروں میں پڑی رھو گی تم کیوں نہيں بولتی اپنے حق میں جانتی ھو ظلم سہنے والا ظلم کرنے والے سے زیادہ گنہگار ھوتا ھے۔۔۔

مایا کی آواز دوبارہ آئی۔۔۔رتابہ۔۔۔ رتابہ۔۔۔۔

دونوں اسکی آواز سن کر باہر آٸیں۔۔۔۔

مایا نخرے سے غصے بھرے انداز سے بولی میں نے تم سے coffie مانگی تھی۔۔۔

نمل نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اسے دیکھا۔۔۔۔

کافی کی need تمہیں ھے تو بنا لو خود انسان کو اپنے کام خود کرنے چاھیۓ۔۔۔

مایا غصے سے بولی کیوں یہ کس لیۓ ھیں یہاں۔۔۔۔

شاید تم بھول رہی ھو تمھاری کمپنی کے چیٸر مین کی بیوی ھے یہ تمھاری یا اس گھر کی نوکرانی نہيں۔۔۔

نمل کی بات پر مایا کو جیسے آگ لگ گٸ تمھیں تمیز نہيں کسی سے بات کرنے کی۔۔۔

نمل بڑے اطمينان سے بولی۔۔۔

میں سامنے والے کو دیکھ کر بات کرتی ھوں کہ وہ کس قابل ھے۔۔۔

مایا چیختے ھوۓ بولی کیا بکواس کی تم نے۔۔۔۔

عضد اور جازب اسی وقت ایک ساتھ اندر آۓ تھے۔۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *