Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 07)

Bad Bakhat by Arshi Noor

وہ اس کے منہ سے انکار سننے کا منتظر تھا۔۔

جازب کی بات دوسری بار سن کر اسکے پورے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ بلکل ایسے جیسے کوئ عمر قید کی سزا کاٹنے کے بعد اپنے رہا ھونے کی خبر سنتا ھے۔۔۔۔

جازب اسکے چہرے پر پھیلی خوشی دیکھ کر افسردہ سا ھو گیا لیکن اسکے اداس چہرے پر آتی بہار دیکھ کر وہ بجھی بجھی مسکراہٹ سے اسے دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔

چلو پھر لیکن اپنا حلیہ کچھ بہتر کر لو۔۔۔۔

نمل بجلی کی سی تیزی سے اٹھی منہ دھوکر بال سلیقے سے سمیٹے دو منٹ میں وہ جازب کے سامنے تھی۔۔۔۔

اب جلدی کرو پلیز وہ بہت جلدی میں تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پر لگا کر اڑ جاتی سانس لینا بھی اسے محال لگ رہا تھا۔۔۔۔

جازب نے ایک نظر غور سے دیکھا اسے اسکے چہرے کی چمک مانند پڑ چکی تھی جسے دیکھ کر وہ اندھا ھوا تھا یہ وہ نمل لگ ہی نہيں رہی تھی پانچ دنوں میں وہ مرجھا کر رہ گٸ تھی اسکی تحویل میں ۔۔۔۔

نمل بچوں کیطرح بے چین تھی کیا دیکھ رھے ھو جانا نہيں ھے کیا ؟؟ وہ بے صبری سے ہاتھ مسلتی کہنےلگی۔۔۔۔

جازب نے چابیاں اٹھاٸیں اور اسے آنے کا اشارہ کیا وہ اسکے پیچھے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔۔

باہر لان میں شاہ جی عامر اور اسد تینوں موجود تھے ۔۔۔

اری او باگڑ بلی شاہ جی کی آواز پر وہ پلٹی۔۔۔۔

سنو ۔۔۔۔شاہ جی گھمبیر آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔

وہ کچھ قدم چلتا ھوا اپنا اور اسکا فاصلہ ہے کرتا ھوا اس کے پاس آیا آف فائیٹ کلف زدہ شلوار قمیض میں ملبوس وہ چاند کیطرح چمک رہا تھا اسکی خندہ پیشانی پر اسکے گولڈن بال ھوا سے لہرا رھے تھے۔۔۔۔

یہاں تمھیں اب تک جتنی بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اسکے لیے میں معافی چاھتا ھوں تم سے اسکا

انداز ندامت کے پردوں میں لپٹا ھوا تھا۔۔۔

غلطی سے ھوا جو بھی ھوا لیکن شاید اس غلطی سے ہی کچھ درستگی اللہ تعالیٰ کو منظور ھو یا پھر ھماری ملاقات اسی طرح طے تھی۔۔۔۔

شاہ جی کا جھکا سر جھکاؤ لیے لہجہ اسکی ظاہری رعب دار شخصیت کے بلکل برعکس تھا۔۔۔۔

وہ نمل کی طرف دیکھ نہیں پا رہا تھا جبکہ نمل کی نظریں اسکے جھکے سر پر جمی ھوئ تھیں۔۔۔

وہ ہنوز لہجے میں نرمی سمو اپنی بات جاری رکھے ھوۓ تھا۔۔۔۔

وہاں محلے میں زیاہ پریشانی ھوٸ تو کسی سے الجھنا مت کیونکہ لوگ گرے ھوۓ لوگوں کو اٹھاتے نہيں بلکہ دفنا دیتے ھیں۔۔۔۔

اپنے آخری الفاظ پر شاہ جی نے سر اٹھا کر نمل کو دیکھا نمل اسکی باتوں کا جائزہ لیتی رہی دو جملوں میں وہ بہت گہری بات کرگیا تھا۔۔۔

اگر ممکن ھو تو تم گھر تبدیل کر لینا کیونکہ لوگ تمھیں یہ حادثہ بھولنے نہیں دیں گے لوگوں کی عادت ھے وہ زخموں پر مرہم لگائیں بھی تو چھری کی نوک سے لگاتے ھیں۔۔۔

کیوں گھر بدلنے سے کیا ھوگا؟؟نل نے سوال داغا۔۔۔۔

شاہ جی نے نظریں اپنے دائیں طرف کھڑے جازب پر ڈالی ۔۔۔۔

گھر بدلنے کا مشورہ اسی لیۓ دیا ھے کہ گھر اور محلہ تبدیل کر لینے سے تمھارے ماتھے سے یہ بدنامی کاداغ ہٹے گا تو نہيں لیکن مانند ضرور پڑجاۓ گا۔۔۔

نمل کی آنکھیں اب نم ھونے لگی تھیں وہ پلکیں جھپکا کر آنسو روکنے کی کوشش میں تھی ۔۔

ماحول میں اترتی نمی دیکھ کر شاہ جی نے اسے ھنسانا چاہا اور بڑے گہرے لہجے میں بولا۔۔۔

اور ہاں میری بمپررر آفر پر بھی غور کر لینا قابل قبول سمجھا تو یاد کر لینا بندہ حاضر ملے گا اس نے جازب کے شانوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔

اور اب کی بار مسکرا کے نمل کی آنکھوں میں جھانکا جہاں اب واپسی کی ذلت خاموش طوفان کی صورت تھی۔۔۔۔

میں جانتا ھوں تم بہت کچھ کہنا چاہتی ھو لیکن کہہ نہيں پا رہی کہہ دو جو کہنا ھے نکال لو اپنی بھڑاس۔۔۔

وہ اپنے گالوں سے آنسو صاف کرنے لگی اب کچھ نہيں کہنا مجھے بلکہ سننا ھے بہت کچھ۔۔۔

شاہ جی کا سر جھک گیا اسکی آنکھوں میں اٹھتے بھنور کی تاب نا لا سکا وہ پھر سر جھکاۓ نہایت شائستگی اور شرمندگی کے ملے جلے احساس سے کہنے لگا۔۔۔۔۔

اگر واپسی کے راستے تم پر تنگ یا بند ھو گۓ تو آجانا یہاں واپس۔۔۔۔

شاہ جی کی بات سنکر وہ طنزیہ مسکراٸ۔۔۔۔۔

اس در پر کیسے واپس آٶنگی جسکی وجہ سے مجھ پر ہر دروازہ بند ھو گیا نمل کا دردناک لہجہ وہاں موجود سب کی نظریں جھکا گیا۔۔۔۔۔۔

شاہ جی آنیوالے وقت پر نمل کو پڑنے والے طمانچوں کی گونج سن کر لب بھینچے معافی مانگ سکتے ھیں تم سے کہو تو پاٶں پڑ کر معافی مانگنے کو تیار ھیں۔۔۔۔

نمل کے آنسوؤں کی یلغار آنے والے وقت کے خوف سے تیزی سے بہہ رہی تھی وہ اپنے اندر کے اس درد اور کرب کو لفظوں میں سمو کر بولی۔۔۔

آپکو میرے پیروں میں پڑنے کی ضرورت نہيں جو رسواٸ کی بیڑیاں ڈال دیں میرے پیروں میں انکا بوجھ تاحیات کافی ھے میرے لیۓ ۔۔۔۔

_________________

حافظ صاحب فجر کی نماز کیلیے مسجد دروازہ کھلا چھوڑ کر گۓ اس امید پر کہ شاید وہ گھر واپس جاٸیں تو نمل موجود ھو ۔۔۔

ابھی بھی اپنے رب سے وہ گڑگڑا کر اپنی بیٹی کی سلامتی اور واپسی کی دعائيں مانگ رھے تھے۔۔۔

اے میرے رب اتنا نا آزما کہ میرے دعا کیلیۓ اٹھتے ہاتھ تھک جاٸیں اور میں مایوسی کی چادر میں لپٹا تیرے در سے خالی ہاتھ لوٹوں۔۔۔۔

اے رب تیری شان کے خلاف ھے یہ کہ کوٸ تیرے در سے خالی لوٹے

میں نے ھمیشہ تجھ سے اپنی لو لگاٸ ھے تیری ہی طرف دیکھا ھے مجھے میرے گناہوں کی کوٸ اور سزا دے دے لیکن یہ سزا نا قابل برداشت ھے تیرے اس کمزور سے بندے کیلیۓ ۔۔۔۔

حافظ صاحب کے آنسو انکے سجدے میں گرنے سے پہلے ہی گر پڑے۔۔۔۔۔

جازب کی گاڑی نمل کے دروازے پر آکر رکی نمل نے بے یقینی سے اپنے گھر کو دیکھا پھر جازب کیطرف دیکھا جو بڑی حسرت سے اسے تکے جا رہاتھا۔۔۔۔

اسکا دل چاہا وہ اسکا گریبان پکڑ کر دھاڑیں مار مار کر روۓ کہ کیسے کریگی اب وہ سب کا سامنا کیسے یقین دلاۓ گی اپنی پارساٸ کا کیا حالت ھوگی اسکے بابا کی۔۔۔

اپنے ساتھ ہزاروں سوالوں کا بوجھ لیۓ وہ گاڑی سے تھکے تھکے قدموں سے اتری تو ایک بیگ جازب نے اسے تھمایا یہ لے لو۔۔۔۔

اس نے بیگ کیطرف دیکھ کر پوچھا اسمیں کیا ھے؟؟؟؟

تمھارے زیورات ھیں اسمیں ۔۔۔۔ اسکی ضرورت نہيں مجھے ۔۔۔۔

ضرورت مجھے بھی نہيں تھی لیکن اس لیۓ اٹھاۓ تھے کہ یہ چوری کا معاملہ لگے۔۔۔۔

نمل نے مذید اس سے کوئ بات نا کی اور خاموشی سے بیگ تھام کر دروازے پر دستک دینے لگی تو دروازہ خود ہی کھل گیا۔۔۔

نمل نے اپنے گھر کی دہلیز پر پاٶں رکھا اور پلٹ کر جازب کیطرف دیکھا تو وہ جا چکا تھا۔۔

_______________

بختی کو مسز جمال کے گھر میں کام کرتے ہوئے آج دوسرا دن تھا بختی کے کام سے مسز جمال بہت خوش تھی۔۔۔۔

وہ سارا دن خاموشی سے اپنا کام کرتی اور رات کو سرونٹ کوارٹر میں جا کر سو جاتی اماں ہاجرہ کے ساتھ۔۔۔

اماں ہاجرہ ان کے گھر میں صفائی کا کام کرنے والی ماصی تھی۔۔۔۔۔

مسز جمال کے شوہر اور اس کے بھائی بزنز ٹور سے ملک سے باہر گئے ہوئے تھے آج انہوں نے واپس آنا تھا اور مسز جمال نے بختی سے کھانے کا اچھا خاصا انتظام کروایا۔۔۔۔

بخی اپنے کام میں مصروف جیسے ھی کچن سے باہر آئی تو اندر آتے مسز جمال کے بھاٸ شہیر سے ٹکرا گئی اس کے ٹکرانے پر وہ غصے سے بولا اندھی ہو تم تمہیں نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔

بختی نے شہیر کی طرف پلکیں اٹھا کر دیکھا اور معذرت کی۔۔۔۔۔

شہیر نے جب اسے دیکھا تو وہ اس کی معصومیت میں گم سا ہوگیا بلا کی کشش تھی اس کے عام سے نین نقش میں۔۔۔۔۔

بختی نے اس کے گھورنے پر جلدی سے اپنا دوپٹہ درست کیا اور واپس کچن کی طرف پلٹی۔۔۔۔

وہ پیچھے سے اس کی چٹیا دیکھتا رہا جو اس کے گھٹنوں سے نیچے تک آ رہی تھی۔۔۔۔۔

شہیر اسے ھی دیکھ رہا تھا کہ جمال کی آواز پر چونکا صاحبزادے راستے میں کیوں کھڑے ہو ۔۔۔۔

وہ سر جھٹک کر بولا کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔

وہ دونوں تھکے ہارے صوفے پر بیٹھے۔۔۔۔۔

جمال نے سکینہ کو آواز لگائی جمال کی دوسری آواز لگانے پر بختی پانی ہاتھ میں لیۓ کچن سے باہر آٸ ۔۔۔۔۔

جمال کی نظریں بھی پل بھر اس پر ٹھہر گٸیں صاحب جی سکینہ نہيں ھے۔۔۔

بختی کی نازک سی آواز نے شہیر کی کانوں میں رس گھولا تمھارا نام کیا ھے ؟؟؟

بختی سوچ میں پڑ گئی کہ ہر کوئی اسی کا نام کیوں پوچھتا ھے ؟؟

شہیر کے پھر سے پوچھنے پر وہ بمشکل بولی بختی ۔۔۔۔

بختی کو جمال کی مسلسل گھورتی ھوٸ نظریں چھبتی ھوٸ محسوس ھوٸیں کیونکہ اس کے دیکھنے کا اندز بہت عجیب تھا ۔۔۔۔

مسز جمال کے آتے ہی وہ کچن میں غاٸب ھو گٸ..۔۔

__________________

حافظ صاحب مسجد سے گھر پہنچے تو دروازے پر انہیں ایک عجیب سے احساس نے گھیر لیا۔۔۔

دروازے کو چھوتے ہی انھیں نمل کا لمس اپنے ہاتھوں پر محسوس ھوا۔۔۔

انھیں یوں محسوس ھوا جیسے نمل موجود ھے گھر میں دل ہی دل میں دعا کرتے چہرہ آسمان کیطرف اٹھایا اور پر امید نگاہ سے وہ آگے بڑھے ابھی صحن میں داخل ہی ھوۓ تھے کہ نمل بھاگ کر انکے سینے سے لپٹ گٸ۔۔۔۔

بابا جانی۔۔۔۔۔۔

حافظ صاحب نے بے یقینی سے نمل کو چھوا کہ کہیں یہ انکا خیال تو نہيں لیکن بیٹی کو خود سے لپٹتا پاکر وہ رو دیۓ۔۔۔۔

میری بچی میری جان انہوں نے اسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔۔۔

باپ بیٹی کے ملن کا یہ منظر دیکھ کر آسمان بھی چھم چھم برس پڑا۔۔۔۔۔

وہ سو بار باپ کے سینے سے لگی تھی وہ بار بار اسکا ماتھا چومتے باپ بیٹی ایک دوسرے کو دیکھ کر تھکے نہيں تھے۔۔۔۔

ہلکی ہلکی پھوار سے دونوں کے کندھے بھیگنے لگے جبکہ آنسوؤں سے چہرہ پورا بھیگ چکا تھا۔۔۔۔

وہ بابا کے سینے سے لگی کمرے میں آئ اور انکے ساتھ لپٹ کر صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔

حافظ صاحب کا بس نہيں چل رہاتھا کہ وہ اپنے رب کا کیسے شکر ادا کرتے۔۔۔۔

نمل کا اترا اترا چہرہ آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے پھیکی پڑتی چہرے کی رنگت دیکھ کر انکے آنسو تھم ہی نہيں رھے تھے۔۔۔۔

وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر بولے۔۔۔۔۔

بھوک لگی ھے نا تمھیں۔۔۔۔۔

اس نے ہاں میں سرہلایا ۔۔۔

میں لاتا ھوں ناشتہ تم بدل لو یہ لباس تم پر نہيں اچھا لگ رہا ۔۔۔۔

نمل سمجھ گٸ کہ وہ ایسا کیوں کہہ رھے ھیں کیونکہ اب وہ اس لباس کے قابل نہيں رہی تھی۔۔۔۔۔

حافظ صاحب ناشتہ لینے باہر گۓ تو ھمیشہ کیطرح سب نے ہی نمل کا پوچھا وہ خاموشی سے سب کو نظرانداز کرتے ھوۓ گھر آۓ۔۔۔۔

بابا جانی آپ مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھیں گے کہ میں کہاں تھی اور کیسے واپس آٸ کون مجھے لے گیا تھا؟؟؟

وہ نمل کا ماتھا چوم کر بولے میری بچی میں تمھارا باپ ھوں طلبگارِ زمانہ نہيں کہ تم سے تمھاری بے گناہی کا ثبوت طلب کروں….

تم سہی سلامت میرے سامنے ھو میرے لیۓ اس بڑی کوٸ خوشی نہيں ۔۔۔۔

دونوں نے باپ بیٹی نے وضو بنایا اور شکرانے کا سجدہ ادا کیا۔۔۔۔

جاۓ نماز پر بیٹھے حافظ صاحب کے شدت سے بہتے آنسو دیکھ کر نمل چاۓ کا کپ سائیڈ پر رکھے انکے پاس آئ۔۔۔

بابا جانی آپکے آنسو اس خوف سے نہيں رک رھے نا کہ آپکی بیٹی اپنی عزت اپنا مان آپکا غرور اور آپکا نام سب کچھ لٹا کر واپس آٸ ھے؟؟؟

نمل کی بات سن کر پل بھر انکے چہرے پر ہوائیاں سی اڑیں انکا دل مسخ کر رہ گیا پر لب خاموش رھے۔۔۔

وہ انکے چہرے کا رخ اپنی طرف کر کے بولی بابا جانی یہاں دیکھیں میری طرف۔۔۔۔۔

بابا کچھ تو پوچھیں مجھ سے میں کیسے آٸ واپس کیا ھوا تھا میرے ساتھ؟؟؟

وہ ٹوٹ کر بکھرے ھوۓ لہجے میں کہنے لگے۔۔۔۔

نہیں ھے میری سماعتوں میں اتنی طاقت کہ میں اپنی ہی بیٹی کی رسوا ھونے کی بے آبرو ھونے کی داستان سنوں مر جاٶنگا میں نمل مر جاؤنگا۔۔۔۔

ایسے تو نا کہیں بابا جانی۔۔۔۔

بے بس باپ کو دیکھ کر نمل انکے گلے سے لگ گٸ آپ سے کس نے کہا کہ آپکو میں بے آبرو ھونے کی داستان سناٶنگی بابا آپکی گڑیا محفوظ رہی آپکی دعاٶوں سے۔۔۔۔۔

حافظ صاحب نے حیرت سے بیٹی کی طرف دیکھا جو اب اسکا چہرہ اپنے لرزتے ہاتھوں کے کٹوروں میں لیے انکے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔۔

باپ کی آنکھوں میں امڈتے سوال دیکھ کر وہ آنسوؤں کی رم جھم برسات میں باپ کو یقین دلانے لگی۔۔۔۔۔

بابا جانی میں سچ کہہ رہی ھوں میرے لٹیرے ہی میرے محافظ نکلے۔۔۔

حافظ صاحب نے بے یقینی سے اپنے چہرے سے اسکے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں تھامے پوچھا کیا کہا تم نے ؟؟؟؟؟

وہ انکے ہاتھ دیوانوں کیطرح چوم کر بولی جی بابا جانی آپکی نمل بے آبرو نہيں لوٹی ۔۔۔۔

وہ مجھے جسطرح باآبرو لے کر گۓ تھے اسی طرح میرے مان سمان کے ساتھ با آبرو واپس لاۓ ھیں بابا وہ لوگ برے تھے لیکن اوباش یا بدنیت نہيں تھے۔۔۔۔

حافظ صاحب اسی وقت سجدے میں پھر سے گر گۓ اور رب کے آگے ماتھا ٹیک کر گڑگڑا کر اسکا شکر ادا کیا ۔۔۔۔

اے میرے رب میں نے تجھ سے جو بھی دعا مانگی جیسے مانگی تونے حرف با حرف قبول کی کتنی شان والا ھے تو ظالم درندوں کے بیچ بھی تو میری بیٹی کا محافظ رہا کیسے ادا کروں تیرا شکر کیسے ؟؟؟

حافظ صاحب کئ گھنٹے سجدے سے سر نا اٹھا سکے۔۔۔۔۔

__________________

بختی کی ذمہ داری میں کچن تھا وہ ہر وقت کچن میں مصروف رہتی اسوقت بھی وہ کچن میں تھی۔۔۔۔

بختی۔۔۔۔۔

وہ جمال کی آواز پر پلٹی تو اسکو خود سے اتنا قریب دیکھ کر بری طرح ڈری ۔۔۔۔

میرے لیۓ ایک کپ چائے بنا دو۔۔۔۔

جی آپ جاٸیں میں بنا لاتی ھوں وہ کچھ خوفزدہ سی ھو گئ۔۔۔۔

مجھے اب تم میرے ہی گھر میں حکم دوگی کچن سے باہر جانے کا جمال نے بڑی سرد مہری سے اسے ٹوکا۔۔۔

بختی مذید سہم گٸ میری کیا اوقات کہ میں آپکوحکم دوں اس نے پلکیں جھپکائیں۔۔۔۔

وہ اسکے نہایت قریب ھو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔

یاد رکھنا اس بات کو آٸندہ تمھارے منہ سے یہ نا سنوں۔۔۔۔۔

جججج جی صاحب جی وہ پیچھے ہٹتی سلپ سے جا لگی جمال کے اتنا قریب آنے پر وہ رو دینے کو تھی۔۔۔۔۔

جلدی سے لاٶ چاۓ وہ اسے آنکھوں کے اشارے سے ڈراتا ھوا کچن سے نکل آیا۔۔۔۔۔

وہ روتے روتے چاۓ بنانے لگی ماما جی آپ نے خود سے الگ کر کے مجھے کیسے لوگوں کو سونپ دیا ھے؟؟؟

جہاں کسی کی گندی نظروں سے بھی میں خود کو بچا نہيں سکتی۔۔۔۔۔

وہ گوپال کو روتے ھوۓ مخاطب کیے ھوۓ تھی ۔۔۔۔

ماما جی ایک بابو سے تو آپ نے مجھے بچا لیا لیکن یہاں تو دوسرا بابو بھی ھے اس سے کون بچاۓ گا مجھے ؟؟؟؟

بات دودھ ڈال کر اب دوپٹے کے پلو سے وہ آنسو اور ناک سا بہتا پانی صاف کرنے لگی۔۔۔۔

ماما جی ماما جی لے جائیں مجھے واپس کہاں ھیں آپ کہاں ھے آپکی مضبوط پناہ کہاں ھیں وہ بانہیں جہاں آپ مجھے موسم کی گرمی سردی سے بھی بچا لیتے تھے؟؟؟؟؟؟؟

اسکے آنسو پھر سے ٹپ ٹپ ٹپکنے لگے کیوں الگ کیا آپ نے مجھے خود سے۔۔۔۔

ماما جی میں ظلم برداشت کر لیتی تھی درد زخم بھوک پیاس سب سہہ لیتی تھی لیکن یہ لوگوں کی نظروں کی بھوک نہيں سہہ سکتی وہ دل ہی دل میں گوپال کو مخاطب کر کے پھوٹ پھوٹ کر روٸ آ جائیں نا ماما جی چھپا لیں مجھے اپنی پناھوں میں ماما جی ماما جی وہ بن کے بچے کیطرح گوپال کیلیے بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔۔

___________

فجر کا اندھیرا چھٹ چکا تھا صبح کا سورج اپنی آب و تاب پر تھا صحن میں ہر طرف دھوپ چمک رہی تھی۔۔۔۔

کچن کے دروازے پر کھڑی نمل نے حافظ صاحب سے بختی کا پوچھا۔۔۔۔۔

بابا جانی بختی کہاں ھے کیسی ھے وہ اسے بلا لاٸیں نا نمل بختی کیلئے کافی بے چین تھی۔۔۔۔۔

بیٹا وہ یہاں نہيں ھے چلی گٸ یہاں سے۔۔۔

نمل کی جان نکل گٸ کیا مطلب آپکا کہاں چلی گٸ ۔۔۔۔۔؟؟؟

گوپال کے والد کا انتقال ھو گیا تھا وہ لاڑکانہ گۓ ھیں کب آٸیں گے کچھ پتہ نہيں ۔۔۔۔۔

بختی انکے ساتھ گٸ ھے ؟؟؟

ہاں شاید لیکن انکے جانے سے پہلے بختی مجھے کافی دنوں سے نظر نہيں آٸ نا میرا پوچھا نا تمھارا۔۔۔۔۔

نمل سن کر بہت بے چین اور پریشان ھو گٸ ۔۔۔۔۔

نمل کی واپسی کی خبر پورے محلے میں پھیل گٸ لوگوں نے انکے گھر باری باری آنا شروع کر دیا۔۔۔۔

حافظ صاحب سب کے سوالات سن سن کر عاجز آچکے تھے۔۔۔۔

کیا ھوا آپکی بیٹی کیسے واپس آگٸ ؟؟

بھاگ کر آٸ ھے ان سے؟؟

کیا ھوا آپکی بیٹی کے ساتھ ؟؟

اسکا تو برا حال ھوگا بیچاری اپنی عزت لٹا کر آٸ ھے خیر جان بچ گٸ شکر ھے۔۔۔۔

لیکن عزت سے بڑھ کر تو کچھ نہیں۔۔۔۔

اجتماعی زیادتی کا نشانا تو نہيں بنی ۔۔۔۔

پولیس میں رپورٹ کریں ۔۔۔۔

پکڑواٸیں ان ظالموں کو ۔۔۔۔

جنہوں نے نمل کا استحصال کیا ۔۔۔۔

آپ اسکا میڈیکل چیک اپ کر وائیں۔۔۔۔۔

بہت سی نگاھیں کمرے کے دروازے پر چپکی ھوئیں تھیں کہ اسکی اک جھلک تو ملے کہ اپنا سب کچھ لٹانے والی بیٹی اب لٹ جانے کے بعد دیکھنے میں کیسی لگتی ھوگی؟؟؟؟؟؟

ایسے کتنے سوالات کتنی نظریں تھیں جنکا کوٸ جواب نا تھا انکے پاس۔۔۔۔

نمل کو اب یہ سب سہنا تھا سننا تھا وہ جانتی تھی منہ چھپا کر نہيں بیٹھ سکتی ان سب کو جواب دینا ھوگا اسے لیکن کیا جواب دیتی وہ؟؟؟؟

اب تو آسکی گود بھرائی کی رسم بھی زمانے والوں نے ادا کرنی تھی ان سب کی جھوٹی تسلیوں کے سکوں سے اپنی گود بھی بھرنی باقی تھی۔۔۔۔۔

السلام و علیکم حافظ صاحب ۔۔۔۔

مبارک ھو آپکی بچی آگٸ محلے سے شمع اور رقیہ خالا آٸیں ۔۔۔

کہاں ھے وہ بلاٸیں تو ھم بھی دیکھیں کیسی ھے اب وہ ۔۔۔۔

حافظ صاحب اسکے طنزیہ انداز پر چڑ کر بولے کیوں بہن دیکھنے سے کیا مطلب ھے آپکا میری بچی کوٸ نماٸش کی چیز تو نہيں کہ سب کو دکھاتا پھروں ۔۔۔۔

رقیہ کھسیانی ھنسی کو چھپا کر بولی۔۔۔۔۔

ارے آپ تو خوامخواہ غصے میں آگۓ ھم تو بچی کے سر پر ہاتھ رکھنے آۓ تھے کہ کیسے وہ بے چاری زیاتی کا شکار ھوٸ ھے؟؟ کیا حال کیا ھوگا ان ظالموں نے اسکا۔۔۔۔۔

حافظ صاحب کی طبیعت خراب ھو رہی تھی وہ انکے آگے ہاتھ جوڑ کر بولے۔۔۔۔

خدا کا واسطہ ھے بہن ھمارے زخموں پر نمک نا چھڑکیں جاٸیں یہاں سے ۔۔۔۔

شمع بڑے نخرے سے اٹھلا کر اٹھی واہ حافظ صاحب واہ آپ تو ایسے پیش آرھے ھیں جیسے آپکی بیٹی کوٸ بڑا کارنامہ انجام دیکر آٸ ھے ھم توآپکی ھمدردی کیلیۓ ۔۔۔۔۔

وہ شمع کی بات کاٹ کر بلند آواز میں بولے چلیں جاٸیں یہاں سے نہيں چاھیۓ ھمیں آپکی ھمدردی ۔۔۔۔۔۔

رقیہ کیوں پیچھے رہتی لپک کر بولی اپنی عزت تو مٹی میں مل کر پلید ھو گٸ ھے ھماری تو نا کریں۔۔۔

انکی باتیں سن کر نمل نماز ادھوری چھوڑ کر باہر آٸ نمل کو دیکھ کر وہ مسکراتے ھوۓ اسکی طرف ایک ساتھ بڑھیں۔۔۔۔

کیسی ھو نمل بیٹا ھاۓ رنگ دیکھو بچی کا مرجھا کر رہ گٸ ھے

دوسری بولی ظاہر ھے عورت کے پاس عزت کے سوا ہوتا ہی کیا ہے جب عزت ہی نہ رہی تو پھر جینے کے قابل ہی نہیں رہتی عورت۔۔۔۔۔

چچچچچچ۔۔۔۔۔ شمع ترس کھا کر بولی کیا کیا ہوا تھا بیٹی تیرے ساتھ کیا کیا انہوں نے کتنے لوگ تھے کہاں لے گۓ اور پھر واپس کیسے چھوڑ گئے تجھے؟؟؟

سب نے ملکر اجتماعی زیادتی تو نہیں کی؟؟؟؟؟ کتنے دن رکھا ساتھ تجھے؟؟؟؟

سب کے اجتماعی زیادتی کا لفظ ادا کرتے ذرا انکی زبان نا کپکپائ۔۔۔

بار بار اس لفظ کا استعمال وہ سب ایسے کر رھے تھے جیسے وہ قربانی کا جانور دیکھنے آۓ تھے اور اجتماعی قربانی میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی غرض سے جانور کی کھال رنگ وزن قیمت سب اپنی نیت کے ترازو میں تول رھے تھے۔۔۔

اففف خدایا۔۔۔ بچی کی حالت دیکھو ایسے لگ رہا سارا خون بھی چوس لیا ھے ان ظالموں نے اسکا؟؟؟؟؟

انکی باتیں سن کر نمل نے کرسی پر گرتے باپ کیطرف خاموشی سے دیکھا۔۔۔۔

نسیمہ خالا بھی آگٸ انہوں نے بھی لقمہ جوڑا ہاۓ کیا بتائے اپنی بربادی کا قصہ وہ بیچاری اپنے منہ سے کیسے کیسے انہوں نے استعمال کیا اور پھر چھوڑ دیا ناجانے کتنے مردوں کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔۔

نمل کی برداشت اب بلکل جواب دے گٸ وہ چلا کر بولی۔۔۔

بسسسسسس۔۔۔ بس کر دیں خدا کا واسطہ ہے نمل کی بلند آواز پر وہ تینوں سہم گئیں۔۔۔۔۔

اپنے لفظوں کے تیر چلانا بند کردیں شرم نہیں آتی آپ لوگوں کو کوئی برباد ہو یا آباد آپ کو اس سے فرق نہيں پڑتا بس آپکو چسکے لگانے کیلیۓ لوگوں کی رام کہانیاں سننی ھوتی ھیں۔۔۔۔۔۔

آپ کی اپنی بھی بیٹیاں ہیں کل کو آگے پیچھے ہوئیں تو ان سے پوچھنا کہ کیا کیا ہوا ان کے ساتھ کس نے ان کا آنچل چھینا کتنے ہاتھوں نے ان کے بدن کو چھوا اور کس کس نے انکو نوچا۔۔۔۔

مجھے تو اللہ نے اپنی امان میں رکھا اللہ نا کرے کل کو آپ کی بہن بیٹیوں پر یہ وقت آیا تو ان سے ضرور پوچھنا یہ سب۔۔۔۔

شاید وہ اپنی عزت کے چیتھڑے اڑانے والوں کے ہاتھ گنتی کر سکیں خود کو چھونے والوں کا حساب رکھ سکیں۔۔۔۔

شمع نمل کی باتوں پر تنک کر بلند آواز میں محلے کو سنا کر بولی۔۔۔

خبردار جو ھماری بہن بیٹیوں کو اپنی بدختی میں شامل کیا یا انکا نام بھی لیا ھم تو آئے تھے تم پر ترس کھاکر۔۔۔۔۔

نمل غصے سے پاگل ھو رہی تھی کیوں آۓ ھو آپ لوگ میرے ساتھ ہمدردی جتانے مجھ پر ترس کھانے میں نے آپ کو دعوت نامے بھیجے تھے اپنے گھر آنے کے لئے لیے ۔۔۔۔۔

اپنے ھمدردیاں اور چاپلوسیاں اپنے آنیوالے وقت کیلیۓ سنبھال کر رکھیں ۔۔۔۔

شمع خالہ آگ بگولہ ھو کر کہنے لگی۔۔۔

تم تواپنی عزت لٹا کر بھی آسمان سے باتیں کر رہی ھو لگتا ھے کسی عاشق کے ہاتھوں اپنی من مرضی پوری کر کے آٸ ھو۔۔۔۔۔

نمل زخمی شیرنی کیطرح دھاڑی بکواس بند کریں اپنی اور نکلیں میرے گھر سے اس سے پہلے کہ میں سارے لحاظ بھول جاؤں اور خبردار جو دوبارہ میرے گھر کیطرف دیکھا بھی۔۔۔۔۔

وہ تینوں کانوں کو ہاتھ لگا کر جانے لگیں۔۔۔۔

اتنی بد لحاظ ھے یہ لڑکی اسی لیۓ اسکے ساتھ ایسا ھوا سنا تھا اس دن بھی اس نے کسی ایک کو تھپڑ مارا تھا جبھی تو انہوں نے اسے بخشا نہیں۔۔۔

توبہ توبہ گز بھر لمبی زبان ھے اسکی۔۔۔جاتے جاتے بھی وہ اس پر جملے کس کر گٸیں۔۔۔۔۔

نمل دروازہ بند کر تے ھوۓ بولی شکر ھے گز بھر لمبی زبان ھے لیکن آپکی طرح زہریلی زبان نہيں جو دوسروں کی زندگی میں زہر گھولے۔۔۔۔

اتنا کہہ کر اس نے پوری قوت سے دروازہ بند کیا۔۔۔۔۔

حافظ صاحب نمل کا یہ روپ اور پاگل پن دیکھ کر مذید پریشان ھوگۓ تھے۔۔۔

_________________

جازب صوفے پر سر ٹکاۓ سگریٹ پر سگریٹ پیتا رہا۔۔۔۔

اسد نے اندر آیا تو سگریٹ کے دھوئیں کی بد بو سے کھانسنے لگا۔۔۔۔۔

پھر اسکے پاس آ کر ہاتھ سے سگریٹ کا پاکٹ چھینا بس کر یار دیوداس نا بن تیری پارو نہيں تھی وہ۔۔۔۔۔

جازب افسردگی سے بولا یار میں نے اسکے ساتھ اچھا نہيں کیا ناجانے وہ کن حالات سے گزر رہی ھوگی کیسے کیسے لوگ اس پر انگلیاں اٹھا رہے ھونگے؟؟؟ جاز بہت رنجیدہ تھا اسوقت۔۔۔۔

یہ سب پہلےسوچتا اب کوٸ فاٸدہ نہيں جو ھونا تھا سو ھو گیا اور ویسے بھی یار وہ کوٸ ڈرپوک سی لڑکی نہيں اپنی دفاع کرنا اچھے سے جانتی ھے۔۔۔۔۔

مضبوط ارادوں کی بہادر لڑکی ھے ڈٹ کر مقابلہ کر لے گی لوگوں کا اسد نے اسے پچکارا۔۔۔۔

جازب نے پھر سگریٹ جلا لیا تھا ناک سے سگریٹ کا دھواں نکال کر بولا۔۔۔۔

یار جتنی بھی بہادر ھو لیکن ھے تو عورت ذات جس کی عزت کانچ کی طرح نازک ھوتی ھے جو ہلکی سی ٹھیس سے ٹوٹ کر بکھر جاتی ھے۔۔۔

وقت ہر زخم کو بھر دیتا ھے لوگوں کو جیسے ہی کوئ نیا قصہ ملا اس کا کیس بند کر کے الماری میں رکھ دیں گے اور نئ کہانی انکی میز پر ھوگی تو زیادہ غمگین نا ھو چل اب اٹھ شاہ جی کیطرف چلتے ھیں

اسد نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔۔۔۔

جازب بہت پچھتا رہا تھا یار مجھے اسکا آخری بار کا دیکھنا نہيں بھولتا اسکی آنکھوں میں جو درد تھا وہ مجھے میرے دل میں محسوس ھوتا ھے اب کہیں مجھے اس بے گناہ کی بددعا نا لگ جاۓ۔۔۔۔۔

اسد نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔

چھوڑ نا یار تجھے اپنی غلطی کا احساس ھو گیا اس سے بڑی کیا بات ھوگی چل اٹھ وہ اسے زبردستی لے گیا۔۔۔۔۔

حویلی پہنچ کر وہ سیدھا اسکا ہاتھ تھامے شاہ جی کے کمرے میں پہنچا جہاں شاہ جی کچھ فائلز کھولے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔۔

اندر داخل ھوتے جازب کو دیکھ کر اس نے سر اٹھایا پیچھے اسکے اسد تھا۔۔۔۔

وہ مسکرا اٹھا اور جازب کے بغل گیر ھوا۔۔۔۔

شکر ھے تو بھی اپنے کھڈلے سے باہر آیا ورنہ مجھے لگا کہ تو بیوہ ھونے کی عدت پوری کر کے ہی نکلے گا۔۔۔

اسد بہت زور سے ھنسا۔۔۔

اسد کی گاڑی دیکھ عامر اور سلمان بھی اندر آ گئے۔۔۔

سب ایک ساتھ صوفوں کر بیٹھے شاہ جی نے اک گہری نظر جازب ہر ڈالی سیاہ لباس میں اسکا خوبصورت چہرہ سوگ منا رہا تھا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور سوجھے ھوۓ پپوٹے۔۔۔۔

کمرے میں بلکل خاموشی تھی شاہ جی اسے اداس دیکھ کر گنگنایا۔۔۔

یارو سب دعا کرو۔۔۔۔

مل کے فریاد کرو ۔۔۔۔اسکی آواز نے کمرے پر چھایا اداسی کا سوکت توڑا۔۔۔ اسکے گانے پر سب کے ہاتھ جازب کو ھنسانے کیلیے دعا کے لیے اٹھے۔۔۔۔

یارو سب دعا کرو۔۔۔

مل کے فریاد کرو۔۔۔

دل جو چرا گیا ھے ۔۔۔

اسے آباد کرو۔۔۔

تجھے دیکھا سانسیں مجھے آتی اب کم۔۔۔

درپنِ روپ سے نکلے نا دم ۔۔۔

دل گیا میں بھی گیا ۔۔۔

لے گیا صنممممم۔۔۔۔

ہر اک لمحہ خیال اسکا ۔۔۔۔

دل نے اٹھایا ھے سوال اسکا۔۔۔۔۔

آگے شاہ جی نے بول بدلے

دل گیا یہ۔۔۔۔۔ بھی گیا۔۔۔۔۔

شاہ جی کا نداز ایسا تھا کہ

جازب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸ۔۔۔۔۔

سبھی اسکی مسکراہٹ پر کھل کر مسکراۓ۔۔۔۔

__________

ھفتہ پورا گزر گیا تھا ابھی تک گھر گھر میں نمل کی باتیں ھو رہی تھیں لیکن کوٸ نمل کے گھر نا گیا۔۔۔۔

کسی کو کچھ نا پتہ چل سکا کہ اسکے ساتھ کیا ھوا تھا اسکی رام کہانی سننے کا تجسس سب کا دھرا کا دھرا رہ گیا تھا۔۔۔

اب سب ملکر انھیں یہاں سے نکالنے کے پلان بنا رھے تھے کہ اسکی وجہ سے پورا محلہ بدنام ھو رھا ھے محلے میں سب کے گھر بچیاں ھیں نمل کا برا اثر انکی بچیوں پر بھی پڑ سکتا تھا۔۔۔

گھر گھر باتیں کرنے والے کوئ اور نہیں وہ خود ہی تھے جو اپنے ہی گھروں میں اپنی بہن بیٹیوں کے سامنے یہ رونا الاپ رھے تھے۔۔۔

نمل صحن میں کھلے آسمان تلے لیٹی جازب کو یاد کرنے لگی دیکھو آکر تمھارے ہاتھوں کیا حال ھو رہا ھے میرا تم نے واقعی مجھے جینے کے قابل نہیں چھوڑا ابھی تو یہ محلے والے تھے۔۔۔

ولی آیا تو ناجانے مجھے کیا کچھ مذید برداشت کرنا ھوگا کیونکہ میں اسکی ھونے والی منکوحہ تھی تم نے تو مجھے کسی قابل نہيں چھوڑا۔۔۔

اسکے آنسو کن پٹیوں سے بہتے ھوۓ تکیے میں جذب ھونے لگے۔۔۔۔

ولی ماں کے ساتھ اسلام آباد گیا ھوا تھا اسے خبر مل چکی تھی کہ نمل آچکی ھے اس نے کراچی آکر ملاقات کا کہہ دیا تھا اور کل اس نے کراچی آنا تھا ۔۔۔

نمل سوچ سوچ کر ہلکان ھو رہی تھی کہ اب وہ کن الفاظ میں اپنی بھڑاس نکالے گا وہ جانتی تھی کہ وہ اسے اب قبول نہيں کریگا لیکن دو سال وہ اسکے نام پر بیٹھی تھی۔۔۔

نمل ولی کو بہت پسند تھی وہ دونوں آپس میں اتنے کلوز نہيں تھے نا روز مرہ کے رابطے تھے بس کبھی کبھار وہ گھر آتا تو ملاقات اور بات چیت ھو جاتی تھی۔۔۔۔

_________________

بختی جمال کی حرکتوں سے بہت پریشان تھی اسے جب موقعہ ملتا وہ اسکے قریب آنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔

دوسری طرف شہیر تھا جسے وہ پسند آگٸ تھی وہ بھی بہانے بہانے سے اسکے آس پاس منڈلاتا رہتا۔۔۔۔

مسز جمال نے نوٹ کر لی یہ بات اور بنا اسے کچھ کہے اپنی دوست زارا کے پاس ہاجرہ اماں کیساتھ لاھور بھجوا دیا۔۔۔۔

بختی نے جانے سے پہلے ایک بار گوپال سے ملنے کا کہا مسز جمال نے اسے بتایا کہ سکینہ آئ تھی بتا کر گئ ھے کہ وہ یہاں سے جا چکے ھیں۔۔۔۔۔

بختی لاھور میں اب زارا کے گھر موجود تھی بختی سہمی سہمی ڈری ڈری ایک ہی کمرے میں بیٹھی رہی۔۔۔۔

ماما جی کیا کیا آپ نے میرے ساتھ اگر خود سے جدا کر کے اسطرح راستے میں پھینک دینا تھا تو مجھے پالا کیوں تھا راستے سے اٹھایا ہی کیوں تھا مر جانے دیتے۔۔۔۔

میں آپکے ہاتھوں میں محفوظ تھی نا آپ نے تو مجھے راستے کا پتھر بنا دیا۔۔۔۔

ماما جی آپ نے ایک بابو کے ڈر سے مجھے سینکڑوں بابوؤں کے بیچ لا پھینکا ھے وہ بہت روٸ رو رو کر ہلکان ھوگٸ ۔۔۔۔۔

وہ اپنی قسمت سے گلہ کرنے کے بھی لاٸق نا رہی اب کسی بے زبان جانور کیطرح اِدھر سے اُدھر اسکے کھونٹے اسکے نام کیطرح بدلنے لگے تھے اب گوپال سے جدا ھو کر۔۔۔

_________________

دوپہر کا وقت تھا نمل سو رہی تھی کسی عورت کی آواز سے اسکی آنکھ کھلی ۔۔۔۔

باہر آکر دیکھا تو ولی کی ماں تھی انکو سلام کر کے وہ بیٹھی۔۔۔

کیسی ھو اب ؟؟؟

ٹھیک ھوں آپ کیسی ھیں نمل کا لہجہ بلکل سنجیدہ تھا جانتی تھی اب اس امتحان میں بھی فیل کا رزلٹ کارڈ تھامنا ھے اس نے۔۔۔

ولی کی ماں پریشانی سے نظریں چرا کر بولی ٹھیک نہيں ھوں بس پریشان ھوں بہت۔۔۔۔

خیریت کیا ھوا؟؟ نمل نے انکے چہرے ہر نظریں جماۓ سادگی سے پوچھا۔۔۔

ھونا کیا ھے بیٹا جوتمھارے ساتھ ھوا بہت افسوس ھوا ھمیں لیکن ھمارے ساتھ بھی بہت برا ھوا ھم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہيں رھے لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رھے ھیں ۔۔۔

ھوسپٹل سے ولی کو جاب بھی چھوڑنی پڑ گٸ وہاں تک بات پھیل گٸ ساری تمھارے گڈنیپ ھونے کی۔۔۔

پھر وہ آسمان کی طرف چہرہ اٹھا کر بولی اللہ گواہ ھے ھم نے کسی سے ذکر تک نہيں کیا ۔۔۔۔۔

نمل خاموشی سے سنتی رہی۔۔۔

میں یہاں یہ نہيں پوچھنے آٸ کہ تمھارے ساتھ کیا ھوا اور کیوں ھوا؟؟؟ اس نے ابھی تک سر نہیں اٹھایا تھا نمل کے آگے۔۔۔۔

پھر کس کام سےآٸ ھیں آپ نمل نے انکے شرمندہ ھوتے چہرے کیطرف دیکھا۔۔۔۔

میرا بیٹا تمھارے پیچھے پاگل ھے لیکن میں پاگل نہيں پہلے تو میں اسکی ضد مان کر یہاں آگٸ تھی تم سے رشتہ جوڑنے لیکن اب۔۔۔۔۔۔

اسکے رکنے پر اسکا ادھورا جملہ آگے نمل نے پورا کیا۔۔۔

لیکن اب آپ رشتہ توڑنے آٸ ھیں۔۔۔

اس نے اک نظر نمل کیطرف دیکھا اسکی ویران آنکھوں کو دیکھ کر سر پھر سے جھکا لیا۔۔۔۔

تم سمجھ دار ھو نمل میں بہو کے نام پر اتنی بڑی بدنامی اپنے اکلوتے بیٹے کے سر نہيں لے سکتی ھمارا اک نام اک مقام ھے سرکل میں سوسائٹی میں۔۔۔۔۔

نمل ان سے کچھ نا بولی چپ چاپ اٹھی اور سارا زیور اور نکاح کا جوڑا لا کر انکی گود میں رکھ دیا۔۔۔۔۔

میں سمجھ گٸ آپکی بات آپ بے فکر رھیں آپکا نام نہيں ھوگا بدنام ۔۔۔۔

وہ زیور اٹھا کر ساٸیڈ پر رکھ کر اٹھیں یہ رکھ لو تم ھمیں انکی ضرورت نہيں۔۔۔

میں نہيں رکھ سکتی انٹی یہ بہت بوجھ ھے انکا میں نہیں اٹھا سکتی اور نا میں انکے قابل ھوں ۔۔۔

بہت قیمتی ھیں یہ زیورات آپکی عزت کیطرح مجھ جیسی بے عزت اور بدنام لڑکی کے کسی کام کے نہيں یہ۔۔۔

نمل نے آنسو زہر کیطرح حلق میں اتارے وہ انکے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ کر بولی مجبور ھوں میں بہت معاف کر دینا مجھے۔۔۔

آپ معافی کیوں مانگ رہی ھیں آپ گنہگار تو نہيں میری طرح نمل کا لہجہ دل چیرنے والا تھا۔۔۔۔

وہ بمشکل بولیں اللہ تمھارے نصیب اچھے کرے بیٹا دعا میں یاد رکھنا ۔۔۔۔

جی ضرور میری یہی دعا ھے کہ آپ کو دوبارہ کبھی مجبور نا ھونا پڑے۔۔۔۔

حافظ صاحب خاموشی سے بیٹی کا صبر اور حوصلہ دیکھتے رھے ۔۔۔۔

__________

ولی کی ماں کو گۓ ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ ولی آگیا۔۔۔۔

ولی کو دیکھ کر حافظ صاحب خوشی سے نمل کے پاس آۓ بیٹا ولی آیا ھے تم سے ملنے ۔۔۔۔

آپ جاٸیں بابا میں آتی ھوں۔۔۔۔

وہ دوپٹہ سر پر اوڑھے اٹھی چل نمل ایک اور عدالت لگنے والی ھے ۔۔۔۔

ڈراٸنگ روم میں آکر اس نے ولی کو سلام کیا۔۔۔

حافظ صاحب ولی کے کہنے پر ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر باہر چلے گۓ ۔۔۔

ولی نے سلام کا جواب دیا۔۔۔۔

سرمٸ کلر کے لباس میں وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

کیسی ھو ؟؟؟

وہ اسے دیکھ کر بولی کیسی ھو سکتی ھوں ۔۔۔۔

ولی اسکی طرف بغور دیکھتے ھوۓ بولا امی آٸ تھیں یہاں مجھے انکل نے بتایا۔۔۔۔

نمل خاموش رہی ۔۔۔

ولی بھی اسکی خاموشی پر چپ ھو گیا۔۔۔

کچھ دیر بعد نمل نے لب کھولے۔۔۔۔

آپکا آنا کیسے ھوا؟؟؟؟

اس نے ولی اور اپنے بیچ کی خاموشی توڑی۔۔۔۔۔

امی نے یقیناً رشتہ ختم کرنے کی بات کی ھوگی ولی نے اس سے تائیدی انداز میں پوچھا پھر بنا رکے کہنے لگا۔۔۔

لیکن میں نہيں توڑنا چاھتا تم سے رشتہ میں تم سے نکاح کرنے کو تیار ھوں۔۔۔۔

نمل نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔

لیکن تمھیں مجھے سچ سچ بتانا ھوگا سب ولی کی نظریں اب ٹیبل پر تھیں۔۔۔۔

کونسا سچ ؟؟؟ نمل نے ماتھے پر بل دیکر پوچھا۔۔۔۔۔

یہی کہ تم ۔۔۔۔ آگے وہ خاموش ھو گیا ۔۔۔

بات پوری کریں اپنی کونسی سچاٸ جاننا چاھتے ھیں آپ ؟؟؟

دیکھو میری بات کا برا مت منانا بس اتنا سچ بتا دو کہ تمھارے ساتھ وہ کس حد تک بڑھے اورکتنے دن تمھیں اپنے ساتھ رکھا؟؟؟؟

نمل اسکی بات سن کر سپاٹ لہجے میں بولی یہ سوال نہيں پوچھیں گے کہ کتنے مردوں نے چھوا اور کہاں کہاں اور کیسے کیسے چھوا۔۔۔

ولی نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا اور جواب میں خاموش رہا۔۔۔۔

سچ سننے کا حوصلہ ھے آپ میں نمل نے اسکی براؤن آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔۔۔

ہاں ھے اسلیۓ جاننا چاھتا ھوں سب وہ بے چین ھو گیا بہت نمل کا کرخت لہجہ دیکھ کر۔۔۔۔

تو سنو ولی صاحب پھر اپنے پہلے سوال کا جواب نمل کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔

مجھے جو اٹھا کر لے گیا تھا اس نے میرا انگ انگ چھوا ھے سر سے پاٶں تک لیکن کسی اور کو دیکھنے تک نہيں دیا بلکہ میری طرف ہاتھ بڑھانے والوں کو سیدھا جہنم رسید کیا میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔

اور آپکے دوسرے سوال کا جواب اس نے اپنے ساتھ مجھے پانچ دن رکھا ایک پل بھی مجھے نظروں سے اوجھل نہيں ھونے دیا۔۔۔

ولی اسکے بنا کسی جھجھک کے بولنے پر اسے گھورتا رہا گیا۔۔۔۔

اسے خاموش دیکھ کر نمل نے دوبارہ لب کھولے۔۔۔۔

ولی محمد صاحب اس نے مجھے آپ جیسے عزت دار شخص کے قابل نہيں چھوڑا۔۔۔

ولی ھونٹوں کو دائرے کی شکل دیتا ابرو اچکاۓ سانس خارج کرتے ھوۓ سر کو جھکا کر خاموش ہی رہا نمل کے منہ سے یہ سچائ سن کر پل بھر اسکے رونگٹے کھڑے ھو گئے۔۔۔

نمل تاسف سے اب اسکے جھکے سر کو دیکھے اسکے جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔

دونوں کے بیچ پھر خاموشی حائل تھی۔۔۔۔

نمل کو ہی اب کی بار بھی خاموشی توڑنی پڑی۔۔۔۔

ولی صاحب سن لیا آپ نے میرا سچ بس آپ سن سکتے ھیں لیکن قبول نہيں کر سکتے اس سچ کو۔۔۔

ولی سر جھکاۓ گہری سانس لیکر اٹکتے ھوۓ کہنے لگا اسکا مطلب ھے اس نے تمھاری عزت کو پامال کیا ھے تمھارا استحصال ھو اھے۔۔۔۔

نمل اپنی جگہ سے کھڑی ھوٸ ہاں شایدددددد اب بولیں قبول ھوں میں آپکو اس نے سینے پر ہاتھ باندھے ولی بکا امتحان لینا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔

ولی لب بھینچے تکنے لگا اسے۔۔۔

بولیں اب سچ سن کر چپ کیوں ھو گۓ؟؟؟؟؟

نمل اتنا سچ تو نا بتاتی کہ میں۔۔۔۔۔

وہ اسکی بات کاٹ کر بولی۔۔۔

ابھی بھی پورا سچ نہيں بتایا میں نے آپکو لہجہ بہت کرخت تھا یہ تو بس ٹریلر تھا جس سے آپ گھبرا گۓ پکچر ابھی باقی ھے۔۔۔

نمل کی بات سن کر اسکے ماتھے پر پسینہ آگیا۔۔۔۔

اتنا شرمندہ نا کرو بس میری تسلی کی خاطر ایک بار میڈیکل چیک اپ کروا لو۔۔۔۔

نمل کو حیرت کا جھٹکا کیا کہا آپ نے میڈیکل چیک اپ؟؟؟؟ وہ اسکے قریب آکر کھڑی ھوٸ کس بات کی تسلی کس بات کا چیک اپ ؟؟؟

تم سمجھدار ھو سمجھ سکتی ھو کیا کہنا چاہ رہا ھوں میں ولی اسکی صاف گوئی پر پسینے پسینے ھو گیا تھا۔۔۔

نمل کا چہرہ اب اپنی اتنی تذلیل پر لال ھوگیا ۔۔۔۔

یعنی آپ اس بات کی تسلی کرنا چاھتے ھیں کہ کہیں میری کوکھ میں کسی کا گناہ تو نہيں پل رھا ؟؟؟

ولی صوفے کے کور کو اپنی مٹھی میں بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔

رپورٹ نگیٹیو ھوٸ تو نکاح کرنے کا سوچیں گے اور اگر پوزیٹیو ھوٸ تو معذرت کر لیں گے نمل بلکل اسکے سر پر کھڑی تھی۔۔۔۔

نمل کی اتنی سٹریٹ فارورڈ بات کرنے سے وہ سٹپٹا سا گیا۔۔۔۔۔

ولی صاحب معذرت تو میں چاہتی ھوں آپ سے کہ آپ میرے قابل نہيں ھیں۔۔۔۔

نکاح اس لڑکی سے کرنا جو آپکے ہاتھ میں اپنے با حیا ھونے کا سرٹیفیکیٹ دے سکے میں تو آپکی تسلی کیلیۓ آپکو اپنی بے گناہ ھونے کا بھی ثبوت نہيں دے سکتی۔۔۔۔۔

تم مجھے غلط سمجھ رہی ھو ولی شرمندگی سے زمین میں گڑنے لگا۔۔۔۔

مسٹر ولی غلط انسان دوسروں کو بھی غلط ہی سمجھ سکتا ھے نا۔۔۔۔

وہ مذید اسکی باتیں نا سن سکا دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال کر دروازے کی جانب دیکھ کر نمل سے اسکا فیصلہ پوچھنے لگا۔۔۔۔

ٹھیک ھے پھر ھم اس رشتے کو ختم ہی سمجھیں۔۔۔

وہ بنا کسی توقف کے بولی جی بلکل ویسے بھی میں ھمارے درمیان اس رشتے کو اب رشتہ سمجھتی ہی نہيں حتیٰ کے انسانيت کا بھی نہيں۔۔۔۔۔۔

ولی نے اسکی باتیں سن کر وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔۔۔

صحن سے گزرتے ھوۓ حافظ صاحب نے اسے روکا کہاں جا رھے ھو بیٹا۔۔۔

جانے دیں انکو بابا جانی کچھ لوگ زندگی میں آتے ہی جانے کیلیۓ ھیں۔۔۔

اسکی بات پر ولی کے تیزی سے اٹھتے قدم رکے۔۔۔۔

حافظ صاحب فکر مندی سے بولے کیا ھوا کیا کہا ھے تم نے ولی سے ؟؟؟

کچھ نہيں کہا بابا میں نے بس انکو کچھ سرٹیفیکیٹس درکار تھے مجھ سے جو میرے پاس نہيں ملے اس لیۓ جا رھے ھیں۔۔۔۔۔

ایسے کیسے جا سکتے ھو تم ولی رکو تو حافظ صاحب اسکی طرف بڑھے۔۔۔۔۔

بابا جانی مت روکیں انکو ھم انکے قابل نہيں ھیں۔۔۔

یہ اس دیس کے مکیں ھیں جہاں لوگ صداقت کے امین ھوکر بھی صداقت کے اظہار سے ڈرتے ھیں

انکے یہاں رسم و رواج کے مطابق شادی سے پہلے بے گناہ کو اپنے گناہ کا اور گنہگار کو اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا پڑتا ھے۔۔۔۔

ولی نے پلٹ کر شاکی نگاھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں آنسوٶں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر روکے کھڑی تھی جو ہلکی سی ٹھیس پر بکھرنے کو تھا۔۔۔۔۔

ولی سے دیکھا ناگیا اسکی آنکھیں بھی نم ھوئیں اس سے پہلے کہ آنسو آنکھوں سے بہتے وہ تیزی صحن کو عبور کرتا چلا گیا۔۔۔۔۔

نمل عام لڑکیوں کی طرح ہرگز نہیں تھی جو چیخ چیخ کر اپنی صفائی میں بولے جاتی ھیں جن کو سن سب لیتے ھیں لیکن یقین کوئ نہیں کرتا۔۔۔۔

جسکو دوسرے انسان پر اعتماد ھوتا ھے اسے اپنا آپ ثابت کرنے کی یا صفائ دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور جس کے دل میں بال برابر بھی شک ھو وہاں آپ قرآن ہاتھ میں اٹھا کر بھی اپنا یقین دلائیں وہ آپکا یقین نہیں کرتے۔۔۔۔

نمل نے یہاں ولی کے شک کے مطابق اسی کا روپ دھار کر اسکے سوالوں کا جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

وہ اس کے پیروں میں پڑ کر رحم کی بھیک مانگنے کو ہرگز تیار نا تھی کہ یہاں معاملہ اسکی ازدواجی زندگی کا تھا جو ابتدا سے پہلے ہی شک و شبہ کی نذر ھو چکا تھا۔۔۔۔

وہ اس شخص کے ساتھ اپنی پوری زندگی کیسے بسر کر سکتی تھی جس نے اپنے رشتے کی اولین شرط میں اسکی حیا کو تولہ تھا۔۔۔۔

جو اس سے اسکی پاکیزگی کا ثبوت طلب کرنے کے بعد اسے اپنانے کی بات کر رہا تھا اور جسکی ماں کسی صورت اسے قبول کرنے کو تیار نا تھی۔۔۔۔

جہاں اسکا ماضی ہمہ وقت اسکے سامنے موجود رہتا بہت سوچ سمجھ کر اس نے ولی کو انکار کیا تھا۔۔۔۔۔

___________________

زارا کا اپنا پارلر تھا وہ اپنی چھ سالہ بیٹی کے ساتھ اکیلی رہتی تھی اب بختی بھی انکے ساتھ رہنے لگی کچھ دن میں وہ ان سے گھل مل گئ تھی اسکے اندر کا خوف اور جھجھک اب بھی موجود تھی۔۔۔

لیکن یہاں کسی مرد کو نا پاکر بختی کچھ حد تک پرسکون تھی زارا اسے پارلر بھی ساتھ لے جانے لگی ۔۔۔

زارا کا پارلر بہت بڑی سوسائٹی میں تھا زارا کے پارلر آ کر اسے دنیا ہی اور لگی۔۔۔۔

زارا کا گھر مسز جمال کیطرح بہت بڑا نہيں تھا لیکن خوبصورت بہت تھا۔۔۔۔

بختی اسکا گھر بھی سنبھالتی اور زارا کی بیٹی بھی۔۔۔۔

آج زارا کو شادی پر جانا تھا وہ گھر میں ہی تھی اس نے اپنے کمرے سے بختی کو آواز دی۔۔۔۔

بختی ۔۔۔۔۔

جی آپی۔۔۔۔

میرے ساتھ شادی پر جانا ھے تم نے جلدی سے یہ ڈریس پہنو اور تیار ھو جاٶ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں سرخ ہلکے سے کام والی فراق میں وہ زارا کے سامنے تھی ۔۔۔۔

پل بھر زارا اسکے کندنی حسن کو دیکھتی رہ گٸ پھر ہلکا پھلکا اسے میک اپ کرکے ساتھ لے گٸ۔۔۔۔۔

شادی سے جلدی واپس لوٹی وہ کیونکہ اسے پارلر میں کچھ کام تھا اور موسم بھی کافی خراب تھا وہ بختی کو گھر کے پاس اتار کر خود چلی گٸ اسکی بیٹی بھی ضد کرتے ھوۓ زارا کیساتھ ہی تھی۔۔۔

_____________________

موسم ابر آلود تھا کچھ علاقوں میں شام سے مسلسل بارش ھو رہی تھی اور کچھ میں ہلکی بوندا باندی تھی۔۔۔۔

نرگس بہت فکر مند تھی عضد کیلیۓ جو اب تک گھر نہيں پہنچا تھا فون بھی اسکا بند جا رہا تھا۔۔۔۔

بارش کچھ تھمی تو نرگس لان میں آکر عضد کے انتظار میں ٹہلنے لگی رات کے بارہ بج رھے تھے۔۔۔۔

باہر جیسے ہی ہارن بجا نرگس نے بھاگتے ھوۓ دروازہ کھولا

عضد گاڑی اندر لاکر باہر نکلا تو نرگس اسکی حالت دیکھ کر مذید پریشان ھو گٸ۔۔۔۔۔

شرٹ پھٹی ھوٸ بال بکھرے ھوۓ اور پینٹ اور شرٹ پر خون دیکھ کر وہ حیرانی سے بولی۔۔۔۔

عضد میرے بچے کیا ھوا یہ کیا حالت بنا رکھی ھے اور یہ خون کیسا تمھارے کپڑوں پر۔۔۔۔۔

امی سانس تو لے لیں ایک ہی سانس میں اتنے سوال پوچھ لیۓ۔۔۔۔

وہ فکر مند ھوتے بولی مجھے بتاٶ تو سہی ھوا کیا ھے۔۔۔۔

وہ اندر جاتے ھوۓ بولا کچھ نہيں لڑاٸ ھو گٸ کسی سے۔۔۔۔

کس سے لڑے ھو تم اور کہاں کہاں لگی چوٹ وہ اسے پریشانی سے دیکھنے لگیں۔۔۔

ہاتھ پر ناخن اور چاک کے نشان بھی تھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتیں۔۔۔۔

باہر کتے کی آواز کے ساتھ ساتھ کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز بھی آٸ ۔۔۔۔

وہ دونوں جلدی سے باہر گۓ تو کتا گاڑی پر لپکا مسلسل بھونک رہا تھا۔۔۔۔۔

عضد نے اسے پیچھے ہٹایا اور جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا تو چادر میں لپٹی ایک لڑکی اسکے قدموں میں آگری۔۔۔۔۔۔

جاری ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *