Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 32)

Bad Bakhat by Arshi Noor

مایا کے بے جان جسم کو دیکھ کر رتابہ کی بھی جان نا رہی…

رتابہ جلدی سے عضد کے پاس آٸ وہ سورہا تھا اور عضد کو نیند سے اٹھانا سوۓ ھوۓ شیر کواٹھانے کے مترادف تھا لیکن سچویشن ہی ایسی تھی کہ اسے عضد کو جگانا پڑا

عضد۔۔ عضد ۔۔۔اٹھیں پلیز رتابہ نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا

تو وہ جھنجھلا کر اٹھا کیا مصیبت ھے یار تم نے کیوں جگایا ھے مجھے اسکی آواز کافی اونچی تھی۔

عضد ووووہ مایا رتابہ نے تھوک حلق سےنگلا

اب بولو بھی ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی ھے کہ مجھے نیند سے جگایا تم نے۔۔

مایا۔۔۔ مایا۔۔۔ رتابہ سے آگے بولا ہی نہیں جا رہا تھا

کیا مایا مایا لگا رکھی ھے تم نے کیا ھوا ھے اب؟؟ وہ غصے سے پوچھنے لگا

وہ مایا نٕے سو سو سو ساٸیٹ کر لی ھے

کیاااااا؟ عضد شاکڈ ھوا کافی کیا کہا تم نے ھوش میں تو ھو؟؟

اس نے عضد کا ہاتھ پکڑا اٹھیں آپ خود چل کر دیکھ لیں

عضد نے کمبل اتار کر پرے پھینکا اور بھاگتے ھوۓ رتابہ سے پہلے اسکے کمرے میں گیا مایا کی دونوں کلاٸیاں کٹی ھوٸ تھیں

اور خون دیکھ کر تو عضد چکرا کر رہ گیا اس نے جلدی سے اسکی دھڑکن چیک کی جو نا ھونے کے برابر تھی اس نے مایا کو اٹھایا اور اسے جلدی ھوسپٹل پہنچایا

خون اسکا بہت زیادہ بہہ چکا تھا بلکل 2 پوائنٹ پر آچکا تھا

عضد کی کال پر علی بھی بھاگتا ھوا ھوسپٹل پہنچا دونوں ہی بہت پریشان تھے

حالت اسکی سیریٸس تھی علی رو کر عضد سے بولا یار میں نے تمھیں کتنا سمجھایا تھا کہ مت کرو اسکے ساتھ اتنا روڈ behave جذباتی ھے وہ نہيں کریگی برداشت لیکن تم نے میری ایک نا مانی اب اگر میری بہن کو کچھ ھوا تو یاد رکھنا عضد میں تمھیں بھی نہيں چھوڑونگا اسکا قتل تمھارے سر ھوگا

رتابہ نے پہلی بار علی سے بات کی اللہ نا کرے مایا کو کچھ ھو ایک دوسرے کو کوسنے کا یا باتیں سنانے کا وقت نہيں ھے یہ دعا کیجیۓ اسکے لیۓ اللہ پاک آسانی کرے

علی بہت رو رہا تھا

رتابہ تو تھی ہی نرم ونازک اپنے نام کیطرح آنسوٶں کی جھڑی اسکی آنکھوں سے بھی جاری تھی

عضد کو کچھ سمجھ نہيں آرہا تھا کہ اس بے وقوف نے انتہاٸ قدم اٹھایا کیوں

مایا کو بلڈ کی ضرورت تھی عضد کا بلڈ گروپ میچ کر گیا اسکی حالت خطرے میں تھی عضد نے نڈھال ھوتے علی کو تسلی دی کہ وہ اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دے کر بھی اسکی بہن کی جان بچاۓ گا۔۔

علی باہر بیٹھا مایا کی حالت پر آنسو بہاتا رہا کچھ دیر بعد وہ بے چینی سے اٹھ کر ٹہلنے لگا تو اسے برابر والے روم سے رونے کی آواز آنے لگی اس نے آھستہ سے روم کا دروازہ کھولا۔۔۔

تو اندر رتابہ سجدے میں جھکی رب کے حضور مایا کی زندگی کیلیۓ گڑگڑا کر دعائيں مانگ رہی تھی

علی کافی دیر رب کیساتھ اسکی التجاٸیں سنتا رہا پھر ڈاکٹر کی آواز پر پلٹا عضد دو بوتلیں خون کی دے چکا تھا مذید بلڈ کی ضرورت تھی رتابہ باہر آٸ کیسی ھے مایا اب؟؟

علی نے سر اٹھا کر دیکھا اسے اسکے پرنور چہرے پر آنسو چمک رھے تھے اور علی کے چہرے پر مایوسی تھی مجھے بلڈ ارینج کرنا ھے مذید تم دعا کرتی رہنا اسے کچھ نا ھو علی چلاگیا وہاں سے

رتابہ نے اپنا بلڈ ٹیسٹ کروایا تو اسکا بھی بلڈ گروپ same تھا اس نے بھی بھر پور کردار ادا کیا مایا کی جان بچانے کیلیۓ لیکن اس نے ریکوٸسٹ کی ڈاکٹر سے کہ کسی کو علم نا ھو کہ اس نے بلڈ ڈونیٹ کیا ھے _____

مایا کی حالت اب بھی خطرے میں تھی عضد نے رتابہ سے کہا کہ وہ گھر چلی جاۓ

پاس کھڑی نرس بھی رتابہ سے بولی میم آپ گھر چلی جاٸیں اور کچھ کھا پی لیں ورنہ آپکی Weaknesses بڑھ جاۓ گی بہت اور چکر آنے سے خالی پیٹ آپ بیہوش بھی ھو سکتی ھیں

میں ٹھیک ھوں یہیں کچھ کھا لونگی۔۔

میم آپکو ریسٹ کی ضرورت ھے۔۔

رتابہ عضد کو گھورتا دیکھ کر بولی جی ٹھیک ھے میں چلی جاتی ھوں۔۔۔

نرس ایسا کیوں کہہ رہی ھے کیا ھوا ھے تمھیں؟؟

وہ نظریں جکھاۓ بولی کچھ نہيں بس کھانا نہيں کھایا تھا تو چکر آگۓ تھے بلڈ پریشر لو ھے تھوڑا۔۔

تو گھر چلی جاٶ تم پہلے ہی ھم مایا کی وجہ سے پریشان ھیں تمھیں کون سنبھالے گا پھر جاٶ گھر اور ریسٹ کرو میں ڈرائيور کو بلوا لیتا ھوں۔۔۔

رتابہ اٹھی تو عضد نے دیکھا اسکے دھیرے دھیرے اٹھتے قدم کچھ لڑکھڑا رھے تھے وہ لفٹ سے نیچے آٸ تو کاٶنٹر پر ایک ادھیڑ عمر عورت بہت زیادہ رو رہی تھی

اور ہاتھ جوڑے کاٶنٹر پر کہہ رہی تھی۔۔۔

رحم کریں مجھ غریب پر میرے پاس جو کچھ تھا میں دے چکی ھوں۔۔

دیکھیں اماں جی ھم بھی آپکی ویلفيئر سے بہت مدد کر چکے ھیں اس سے زیادہ نہيں کر سکتے آپ اپنا مریض سول یا جناح ھوسپٹل لے جاٸیں وہاں کوٸ چارچز نہيں دینے پڑیں گے آپکو اور دوا بھی مفت مل جاٸیگی ھم اب اس سے زیادہ آپکی مدد نہيں کر سکتے۔۔۔

وہ بوڑھی عورت مایوسی سے کاٶنٹر سے ہٹی اور چہرہ دوپٹے میں چھپاۓ رونے لگی۔۔

رتابہ اس اماں کے پاس آٸ کیا ھوا ھے اماں جی؟؟

وہ رو رو کر اپنی غربت اور مجبوری کی دھاٸیاں دینے لگی۔۔

اماں سے اسکے بیٹے کا نام پوچھ کر وہ ڈرائيور کیساتھ گھر گئ اور اپنے کچھ زیورات اور نقد رقم اٹھاٸ جو عضد اسے اکثر خرچے کے طور پر زبردستی دیتا تھا وہ جیولر شاپ پر زیور بیچ کر سیدھا ھوسپٹل واپس آٸ۔۔

طبیعت اسکی کافی خراب ھو رہی تھی لیکن اس نے ھمت نا ہاری اور ساڑھے تین لاکھ روپے کاٶنٹر پر جمع کروا دیۓ اس اماں کے اکلوتے بیٹے کامران کیلیۓ جو ایکسیڈینٹ کی وجہ سے دماغی چوٹ کھا کر i.c.u میں تھا۔۔

رتابہ چکراتے سر کیساتھ سامنے صوفے پر بیٹھ گٸ نیچے آتے علی نے اسے دیکھ لیا وہ یہاں اسوقت کیا کر رہی تھی عضد تو کہہ رہا تھا وہ گھر چلی گٸ ھے۔۔

وہ اماں پھر سے آٸ روتی روتی کاٶنٹر پر تو کاٶنٹر والے نے مسکرا کر کہا اماں جی آپکی دعا اللہ نے سن لی مدد ھو گٸ آپکی۔۔۔

آپکا بیٹے کا علاج یہیں ھوگا اب اور آپریشن کی ضرورت ھوٸ وہ بھی ھو جاۓ گا۔۔

اس اماں نے خوشی کے مارے جلدی سے آنسو پونچھیں کون ھے وہ کس نے مجھ پر رحم کیا ھے؟؟

کاٶنٹر والے نے صوفے سے ٹیک لگاۓ بیٹھی رتابہ کیطرف اشارہ کیا۔۔

وہ اماں خوشی سے تیز تیز قدم اٹھاتی رتابہ کے قدموں میں آ بیٹھی رتابہ نے آنکھیں کھولیں۔۔۔

اماں اٹھیں یہ کیا کر رہی ھیں آپ

علی کچھ ہی فاصلے پر کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔

رتابہ نے اماں کو زبردستی اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھایا وہ رتابہ کے ہاتھ دیوانوں کیطرح چومنے لگی اللہ نے تمھیں میرے لیۓ فرشتہ بنا کر بھیجا ھے۔۔

تم نہيں جانتی بیٹا تم نے میری زندگی کا کل سرمایہ بچانے میں میری مددکی ھے جیسے تم میرے لیۓ رحمت کا فرشتہ بن کر آٸ ھو میری دعا ھے جہاں تمھیں ضرورت پڑے تو میرا رب خود کسی بھید میں زمین پر اتر آۓ تمھارے لیۓ۔۔

رتابہ نے بوڑھی آنکھوں کے روانی سے بہتے آنسو صاف کیۓ اور اس تڑپتی بلکتی ماں کو گلے سے لگایا۔۔

اس اماں کے پسینے سے بھرے میلے کچیلے کپڑوں سے بھی اسے ممتا کی خوشبو آنے لگی رتابہ کے آنسو بھی اماں کیساتھ ساتھ بہہ رھے تھے۔۔

اماں جی بس میرے لیۓ ایک اور دعا کیجیۓ گا کہ میری بہن بھی بہت بیمار ھے اسی ھوسپٹل میں ھے۔۔

کیا ھوا اسے اماں فکر سے پوچھنے لگی۔۔۔

بس اماں اسکے ساتھ بھی حادثہ ھوا ھے وہ بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ھے۔۔

اماں نے اسکا چہرہ پیار سے دیکھا جسکی تیرے جیسے بہن ھو اسکے ساتھ رب کیسے برا کر سکتا ھے

تیرے اس خوبصورت چہرے اور دل کے صدقے رب تعالی اسے کچھ نہيں ھونے دیگا تو رب کی ساتھی ھے اسکی قریب ترین ھستی۔۔

کہتے ھیں رب کے اور ماں کے بیچ کوٸ پردہ نہيں تم ماں کی ھستی سے بھی قریب ھو اللہ کے میں نے آج تمھاری صورت میں اس رب کے چپھے بھید اور رحمت کو دیکھا ھے۔۔

رتابہ ٹکر ٹکر اس بوڑھی اماں کا سلوٹوں بھرا چہرہ دیکھنے لگی جسکے چہرے کی ایک ایک سلوٹ سے رتابہ کیلیۓ پیار چھلک رہا تھا

کیسا روپ تھا یہ کیا سچ میں میری ماں بھی ایسی ھوگی؟؟

اسکے بھی ایک ایک نقش سے ایک ایک سلوٹ سے میرے لیۓ پیار چھلک رہا ھوگا کتنا حسین ھے میرے رب ماں کا یہ روپ۔۔

رتابہ نے بے اختیار اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تو ماں کو دیکھنے کی ماں کو چھونے کی سدا کی تشنگی اسے بجھتی ھوٸ محسوس ھوٸ۔۔

اس اماں نے رتابہ کا ماتھا چوما۔۔

میرے رب کی رحمت ھو تم جہاں بھی جاٶ گی اس اللہ کی رحمت اسکی رضا اسکے فرشتے تمھارے قدموں کیساتھ ساتھ جاٸیں تمھاری ہر تمنا پوری کرے وہ رب جو خود کسی کی تمناٶں کا حاصل ھے۔۔

علی مبہوت ھوتا یہ سارا منظر دیکھے گیا۔۔۔

رتابہ نے اماں سے اجازت چاہی تو وہ پھر سے اسکو چومنے لگی۔۔

اللہ کی رحمت کہتی کہتی رتابہ کیساتھ اپنے چھوٹے چھوٹے کمزور قدم مضبوطی سے زمین پر جما کر گاڑی تک پاس آٸ اور پھر دور تک رتابہ کی گاڑی کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی رہی __________

وہ اماں واپس اندر آٸ تو علی انکے پاس آیا اماں جی یہ لڑکی کون تھی آپکے ساتھ؟

وہ اماں بڑی خوشی سے بولی تمھیں بھی نظر آٸ ھے وہ میرے ساتھ ؟

اماں کے عجیب سے سوال پر علی نے ابرو اچکاۓ ظاہر ھے اماں انسان ھے وہ نظر آٸ آپکے ساتھ اسلیۓ پوچھ رہا ھوں۔۔

اماں بڑے ہی پیار اور اطمینان بھرے لہجے میں بولی بیٹا وہ اللہ کی رحمت تھی۔۔

علی پھر بولا آپکا اس سے کیا رشتہ ھے؟؟

اماں سکون کا گہرا سانس لیکر بولی میرا آج سے پہلے تو اس سے کوٸ رشتہ نہيں تھا لیکن آج وہ رشتہ قاٸم کر گٸ جو اللہ کا اپنے بندے سے ھوتا ھے پیار کا محبت کا رحم کا۔۔۔

علی ایک ٹک اماں کو دیکھنے لگا

اماں اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے جا رہی تھی علی نے حیرت سے پھر پوچھا آپ اس سے اتنا پیار کیوں کر رہی تھیں؟؟

بیٹا اللہ کی رحمت ھے وہ سر آنکھوں پر ہی بیٹھانا تھا مجھے

علی نے اس اماں کی حالت دیکھی پرانے کپڑوں میں تھی وہ پرانے سے جوتے اور چہرہ عمر سے کٸ زیادہ عمر رسیدہ تھا۔۔

اس کے جسم کا ایک ایک عضو اسکی بے زبان غربت کو بیان کر رہا تھا اماں یہاں کون ھے آپکا؟؟

میرا بیٹا ھے ایکسیڈینٹ سے دماغ کی چوٹ آٸ ھے آج پانچ دن سے بیہوش پڑا ھے۔۔

اماں اتنے مہنگے ھسپتال میں آپ علاج کیسے کروا رہی ھیں اپنے بیٹے کا؟؟

اماں اب علی کا ہاتھ تھامے اندر کیطرف آ رہی تھی بیٹا کچھ لوگوں نے مدد کی اور کچھ ھسپتال والوں نے لیکن آج سب تھک گۓ ھسپتال والوں نے بھی جواب دے دیا تھا کہ میں کسی گورنمنٹ ھسپتال چلی جاٶں جہاں میرے جیسے ھزاروں لوگ لاٸن میں لگے ھوۓ ھیں۔۔

اور میرا بیٹا ایک گھنٹہ بھی وینٹیلیشن کے بغیر نہيں رہ سکتا میں کہاں گورنمنٹ ھسپتال میں جاکر اپنے بیٹے کی موت کی لاٸن میں کھڑی ھوتی کہ کب میرے بچے کی موت کا نمبر آۓ گا اب وہ رونے لگی تھی۔۔

بیٹا صبح سے ماری ماری اپنی التجاٸیں لیکر بہت بھاگی ادھر ادھر پر کوٸ سہارا نا ملا بس رب کو یاد کر کے یہاں انکے پاس آٸ انہوں نے بھی جواب دے دیا۔۔

لیکن کچھ پل ہی میری ممتا کے مایوسی میں گزرے تھے کہ اس بچی نے میری ساری التجاٸیں اپنی گود میں بھر کر اپنی اللہ کی رحمت سے میری خالی جھولی بھر دی۔۔

کون سی لڑکی اماں جی ؟؟

وہی جسے ابھی تم نے میرے ساتھ دیکھا تھا اسلیۓ تو تم سے کہہ رہی تھی کہ رحمت ھے اللہ کی وہ۔۔

علی کو کافی حیرت ھوٸ کہ بنا جانے پہچانے رتابہ نے کسطرح اس طلبگار کی طلب پوری کی تھی اماں کو سائیڈ پر بٹھا کر وہ پھر کاٶنٹر پر گیا۔۔

اور اماں کے بیٹے کامران کی ساری انفارميشن لی پھر اسے علم ھوا کہ رتابہ نے ساڑھے تین لاکھ کی رقم بھری ھے۔۔

علی نے باقی کی ساری ذمہ داری کامران کی اپنے سر لی۔۔

اماں نے اسے بھی جھولیاں بھر بھر دعاٸیں دیں۔۔

وہ بولا اماں میری بہن بھی موت کے منہ میں ھے اسکے لیۓ دعا کیجیۓ گا۔۔۔

اماں بڑی رازداری سے سرگوشی کے انداز میں بولی اب وہ ملی مجھے تو اس سے کہوں گی تمھاری بہن کیلیۓ بھی دعا کرے آسمان والے سے بڑا گہرا تعلق ھے اسکا آج اسکے روپ میں جو مجھے ملا اب کچھ بھی مانگنے کی طلب نہيں رہی بیٹا۔۔

_________________

رتابہ اگلی صبح ھوسپٹل پہنچ گٸ ڈرائيور کیساتھ ابھی وہ عضد تک نہيں پہنچی تھی کہ اسے اماں مل گٸ اماں نے اسکے ہاتھ چومے۔۔

اس نے بھی ان بوڑھے جھریوں سے بھرے ہاتھوں کو چوما اماں اسکی طرف دیکھ کر بولی میری ایک بات مانو گی۔۔۔

جی اماں بولیں۔۔۔

میرے بیٹے کے سر پر ایک بار اپنا دستِ شفقت رکھ دو۔۔۔

کیا مطلب اماں میں سمجھی نہيں ؟؟

اماں اسکا ہاتھ پکڑے i.c.u کیطرف آٸ جہاں اسکا بیٹا تھا۔۔

عضد کی نظر وہاں سے گزرتے ھوئے رتابہ پر پڑی تو وہ اسکے پیچھے آنے لگا کہ وہ کس کیساتھ تھی؟؟

وہ اماں اپنے بیٹے کیطرف اشارہ کر کے بولی میرے بیٹے کے سر پر ایک بار ہاتھ رکھ دوگی۔۔۔

لیکن کیوں اماں اس سے کیا ھوگا ؟؟

عضد اسکے پیچھے ہی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔۔

تم اللہ کی رحمت ھو نا تو ھو سکتا ھے تمھارے ہاتھ میں مدد کیساتھ میرے بیٹے کی شفا بھی اللہ نے بھیجی ھو۔۔

اماں جی میں کہاں سے آپکو اللہ کی رحمت اور اللہ کا فرشتہ لگ رہی ھوں میں تو اک گنہگار سی بندی ھوں اللہ کی میں نے صرف آپکی مدد کی ھے وہ بھی چند روپوں کی صورت میں۔۔

نہيں نہيں میری بچی تم گنہگار نہيں ھو سکتی کبھی بھی نہيں اماں نے کانوں کو ہاتھ لگاۓ۔۔

دوسروں کی مایوسیاں اپنے دامن میں سمیٹ کر انکو کی مرادیں بر لانے والی گنہگار نہيں ھو سکتی۔۔

رتابہ کا حلق بھر آیا اماں جی کیا کہہ رہی ھیں آپ میں کیا میری اوقات کیا؟؟ ایسا بول کر مجھے گنہگار نا کریں۔۔

اماں ایک ہی رٹ لگاۓ بیٹھی تھی کہ وہ اللہ کی رحمت ھے اماں کی ضد پر وہ اندر اسکے ساتھ کامران کے پاس گٸ۔۔

جو مصنوعی مشینوں سے سانس لے رہا تھا رتابہ نے اماں کے کہنے پر بیس سالہ کامران کے سر پر آھستہ سے ہاتھ رکھا اور دل سے اسکی زندگی کی دعا کی۔۔

جیسے ہی باہر آٸ تو عضد سامنے ہی کھڑا تھا وہ اچانک عضد کو سامنے دیکھ کر ڈر گٸ۔۔

وہ بوڑھی عورت بھی باہر آٸ۔۔

یہاں کیا کر رہی ھو تم؟؟

رتابہ کیا کہتی عضد کے خوف سے جھٹ سے بولی یہ اماں جی ھیں۔۔

وہ تو مجھے بھی نظر آرہا ھے انکے ساتھ یہاں کیا کر رہی ھو؟؟

اب کی بار اماں نے جواب دیا بیٹا اسے اللہ نے بھیجا ھے میرے پاس تمھیں نہیں پتہ اللہ کی رحمت ھے یہ۔۔

عضد بات نا سمجھتے ھوۓ رتابہ اور اماں کو ایک ساتھ دیکھنے لگا پھر رتابہ سے پوچھا کون ھیں یہ کیسے جانتی ھو انکو؟؟

اب کی بار بھی جواب اماں نے دیا جیسے تمھارا رب تمھیں جانتا ھے نا ایسے ہی یہ مجھے بھی جانتی ھے بس سمجھ لو وہی رشتہ ھے اسکے ساتھ میرا جو خالی جھولی کا جھولی بھر دینے والے سے ھوتا ھے۔۔۔۔

عضد خاموش ھوگیا وہ سمجھ گیا تھا کہ رتابہ نے اسکی financial support کی ھے۔۔

اماں نے رتابہ کو دیکھا تمھارا کیا لگتا ھے یہ؟؟

رتابہ عضد کو دیکھ کر بولی اماں میرا شوہر ھے یہ۔۔

اماں نے خوشی سے عضد کا ہاتھ پکڑا بیٹا تمھاری بیوی اللہ کی رحمت ھے اسکا خیال رکھنا بہت خوبصورت دل کی مالک ھے یہ اللہ تمھاری جوڑی تا حیات سلامت رکھے۔۔۔

تاحیات لفظ اماں کے منہ سے سنکر رتابہ نے دل ہی دل میں آمین کہا۔۔

عضد مسکرا کر اماں کا شکریہ ادا کرنے لگا پھر رتابہ کو لیۓ مایا کے روم کے باہر آیا۔۔

رتابہ ڈر رہی تھی کہ عضد اسے اب کھری کھری سناۓ گا یا بری طرح اس پر بگڑے گا لیکن ایسا کچھ نہيں ھوا۔۔

مایا کا پوچھ کر رتابہ قرآن پڑھنے نماز والی ساٸیڈ پر چلی گٸ جہاں الگ سے عورتوں کے لئے نماز کی جگہ بنی ھوٸ تھی علی اور عضد ایک ساتھ ہی ICU کے باہر بیٹھے ھوۓ تھے۔۔

عضد اگر دوپہر تک یہ ھوش میں نہيں آٸ تو مجھے امی ابو کو اطلاع کرنی ھوگی اللہ نا کرے اگر اسے کچھ ھو گیا تو مذید یہ سب نہيں سہہ پاٶنگا وہ رو رہا تھا۔۔۔

عضد نے اسے گلے سے لگایا اور تسلی دینے لگا اتنے میں وہی اماں دوڑتی ھوٸ انکے پاس آٸ۔۔

اور عضد سے کہا میرا بیٹا ھوش میں آگیا آج چھ دن بعد میرے بیٹے کو نٸ زندگی ملی ھے تمھاری بیوی کی بدولت۔۔

اسکے ہاتھ اللہ نے میرے بچے کی شفا بھیجی میرے بچے کے قریب آتے اسکے قدم زندگی کی نوید لاۓ اور واپس جاتے ھوۓ میرے بچے کی موت پلٹ کر لے گۓ کہاں ھے وہ؟؟ اماں خوشی سے پاگل ھو رہی تھی

علی اور عضد اماں کا منہ دیکھنے لگے پھر عضد بولا۔۔۔

مبارک ھو آپکو اللہ نے آپکی دعا قبول کی ھمارے لیۓ بھی دعا کریں۔۔

وہ علی کو دیکھ کر بولی اللہ کی رحمت جو تم نے دیکھی تھی نا میرے ساتھ اسے لے جاٶ اپنی بہن کے پاس اسکے ہاتھ میں اللہ کی عطا کردہ شفا بھی ھے اس نے میرے بیٹے کے سر پر بھی دست شفقت رکھا تو وہ شفا پا گیا تم بھی ایسا ہی کرو۔۔

اماں تو چلی گٸ۔۔

لیکن علی بھاگتا ھوا رتابہ کے پاس گیا جو قرآن کی آیات تلاوت کر رہی تھی۔۔

عضد کو وہ اماں دیوانی سی لگی

وہ وہیں رتابہ کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا ھو گیا معاف کر دو مایا کو۔۔

رتابہ نے رکوع کر کے علی کو دیکھا ساتھ ہی عضد کھڑا تھا۔۔

کس بات کی معافی؟؟

اس نے تمھارے ساتھ بہت غلط رویہ رکھا بہت سخت الفاظ تمھارے لیۓ استعمال کیۓ معاف کر دو اسے تاکہ اس سے موت کی سختی ٹل سکے۔۔

علی گھٹنوں کے بل جا بیٹھا رتابہ کے آگے وہ جلدی سے کھڑی ھوٸ۔۔

میرے دل میں مایا کیلیۓ دعا کے علاوہ اس وقت کچھ نہيں۔۔

علی رو رو کر مایا کیلیۓ معافی مانگنے لگا عضد اسے کہو اٹھے نیچے سے میرے دل میں ایسا کچھ نہيں میں نے معاف کیا اسے۔۔۔

علی اٹھا میرے ساتھ چلو اسکے پاس۔۔

وہ اجازت طلب نظروں سے عضد کیطرف دیکھنے لگی عضد نے ہاں میں سر ہلایا۔۔

علی کیساتھ رتابہ مایا کے سامنے تھی جہاں سفید بستر پر وہ بے یار و مدد گار پڑی ھوٸ تھی سارا گھمنڈ اسکی اکڑ اسکے ادھ مرے جسم سے کوسوں دور تھی۔۔

رتابہ کے آنسو بہنے لگے کیا چیز ھے انسان بھی کیا کچھ سمجھتا ھے خود کو اور تقدیر اک جھٹکے میں اسے آسمان سے زمین پر لا پٹختی ھے۔۔

کیا سے کیا حالت ھو گٸ تھی اسکی رتابہ نے علی کیطرف دیکھا جو مایا کے غم میں آدھا گھل چکا تھا۔۔

پھر عضد کیطرف دیکھا جو مایوسی سے آنکھوں میں آنسو لیۓ مایا کیطرف دیکھ رہا تھا کیونکہ مایا کی یہ حالت اسکی بدولت ھوٸ تھی۔۔

رتابہ نے آھستہ سے اسکا ماتھا چوما اسکے آنسو مایا کے بالوں میں گم ھونے لگے میں نے تمھیں معاف کیا اللہ پاک تمھیں اس حرام موت کے شکنجے سے آزادی نصیب کرے اور اس تکلیف سے جلد تمھیں رہاٸ ملے۔۔

عضد نے بھی مایا کا ہاتھ تھاما میں نے بھی معاف کیا تمھیں۔۔

مایا کی حالت اس وقت بہت قابل رحم تھی وہ i.c.u سے باہر آگۓ۔۔

اگلے کچھ گھنٹے اسکی زندگی اور موت کا پیغام لانے کیلیۓ بہت اذیت ناک تھے ظہر کی اذان ھونے کو تھی رتابہ کا رواں رواں اسکے لیۓ دعا گو تھا۔۔

اذان ھوتے ہی ڈاکٹرز باہر آۓ اور مایا کی خوشخبری سناٸ کہ اب اسکی حالت خطرے سے باہر ھے

علی عضد کے گلے سے لگا۔۔

رتابہ نے جلدی سے جا کر سجدہ شکر ادا کیا عضد اور علی کی حالت بھی نا قابل دید تھی بکھرے ھوۓ بال نا کھانا نا پینا اترے ھوۓ چہرے رات بھر کی جاگی ھوٸ آنکھیں۔۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے کوٸ دیہاڑی دار مزدور مسلسل محنت کر کے تھکے ہارے آۓ ھوں۔۔

_________________

دو دن وہ مذید Observation میں تھی اسکے ھوش میں آنے کے بعد رتابہ نا گٸ ھسپتال واپس۔۔

عضد جب گھر آیا تو رتابہ اسے بہت ویک لگی وہ وجہ پوچھ نا سکا آتے ساتھ سو گیا صبح اٹھا تو ناشتہ تیار تھا۔۔۔

نہا کر وہ نیچے آیا ناشتہ کر کے اس نے ھوسپٹل جانا تھا۔۔

رتابہ نے جاتے ھوۓ اسے روکا رکیں عضد یہ کچھ کھانا پینے کی چیزیں ھیں علی اور مایا کیلیۓ لے جاٸیں۔۔

اس نے باسکٹ عضد کو پکڑاٸ عضد نے اسکا چہرہ دیکھا۔۔

تم کیوں اتنی ویک لگ رہی ھو چہرہ اور رنگ بلکل پیلا ھو رہا تمھارا کیوں ؟؟

کچھ نہيں بس ایسے ہی مایا کی وجہ سے بہت ٹینشن میں تھی آپ بھی گھر میں نہيں تھے کھانا پینا ٹھیک سے نہيں کیا شاید اسلیۓ۔۔

اوکے کہہ کر عضد ایک نظر اسے دیکھ کر چلا گیا ھوسپٹل جاتے ہی وہ اماں پھر عضد سے جا ٹکراٸ کیسا ھے تمھارا مریض اب۔۔۔

ٹھیک ھے اماں جی آپکا بیٹا کیسا ھے؟؟

وہ بھی اللہ کا شکر ھے ٹھیک ھے۔۔

اماں کسی بھی چیز کی ضرورت ھے تو مجھے بتاٸیں۔۔

بیٹا اللہ تمھیں بہت دے پہلے ہی تمھاری بیوی نے مجھے فرش سے عرش پر لا بٹھایا بہت مدد کی اس نے میری۔۔

عضد مسکرایا اماں جی پھر بھی کچھ اور ضرورت پڑی تو بتا دیجیۓ گا اور کچھ کھانے کو چاھیۓ آپکو میں ناشتہ لا دوں؟؟

جزاک اللہ بیٹا تمھارے گھر سے فجر کے وقت بہت ساری نعمتیں مجھ تک پہنچ گٸیں ھیں۔۔

میرے گھر سے کونسی نعمتیں اماں جی؟؟

وہ جو تمھارے ساتھ اللہ کی رحمت ھے نا تمھاری بیوی اسی نے ڈرائيور کے ہاتھ اتنا کچھ بھیجا ھے کہ مجھ سے دو دن ختم نا ھو۔۔

عضد کو اسکا یہ روپ آج ملا تھا دیکھنے کو دل ہی دل میں وہ اسکا مشکور ھونے لگا اماں نے ڈھیر ساری دعاٸیں دیں پھر ایک دم سے رونے لگیں۔۔

کیا ھوا اماں جی عضد نے پریشانی سے پوچھا۔۔

بیٹا ہر دروازہ بند ھو گیا تھا مجھ پر میں رب سے بھی مایوس ھو کر تھک ہار کے بیٹھی ہی تھی کہ اس نے تمھاری بیوی کی صورت ایسی رحمت بھیجی کہ جس رحمت کے ملتے ہی آسمان والے کی رحمت کے سارے در کھل گۓ مجھ پر۔۔

اس نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے آنسو دوپٹے کے کونے سے پونچھے میری یہی دعا ھے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیۓ اپنی رضا اور خوشنودی کے تمام در کھول دے اور روز محشر جنت کے ہر دروازے سے تمھارا گزر ھو تمھاری بیوی کے سنگ۔۔

عضد ان سے دعائيں لیتا اوپر مایا کے پاس جانے لگا تو ایک ہی جملہ اسکے کانوں میں گونجتا رہا۔۔۔

اللہ کی رحمت ھے تمھاری بیوی عضد کا دل فخر سے سرشار ھونے لگا ایک انوکھا ہی روپ رتابہ کا اسکے سامنے آیا تھا

_____________

مایا گھر شفٹ ھو چکی تھی عضد اور علی کی توجہ کا مرکز فی الحال وہی تھی۔۔

آفس کا برڈن بھی کافی تھا رات عضد جب سونے کیلیۓ اپنے کمرے میں گیا تو رابی اسکے پیچھے آٸ

صاحب جی مجھے کچھ کہنا تھا آپ سے۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔

صاحب جی مجھے لگتا ھے رتابہ بی بی ٹھیک نہيں۔۔۔

کیا مطلب کیسے ٹھیک نہيں۔۔۔

صاحب جی کچن میں دو سے تین بار یہ ان دنوں چکرا کر گری ھیں اور بہت تھکی تھکی اور سست طبیعت ھو رہی ھے انکی وہ پہلے ایسی نہيں تھیں ایک بار آپ انکا روٹین چیک اپ کروا لیتے۔۔

اچھا ٹھیک ھے کل لے جاٶنگا ھوسپٹل۔۔

رابی شکریہ ادا کرتی باہر آگٸ۔۔

رات کو وہ کمرے میں آٸ تو عضد جاگ رہا تھا وہ اپنا کمبل لیۓ صوفے پر لیٹنے لگی۔۔

عضد نے اسے پکارا سنو۔۔

جی۔۔

تمھاری طبیعت کچھ ٹھیک نہيں رابی بتا رہی تھی۔۔۔

کچھ خاص نہيں بس ویسے ہی تھوڑی کمزوری ھو گٸ ھے شاید ٹھیک ھو جاٶنگی ایک دو دن میں۔۔

اوکے صبح ریڈی رہنا پہلے تمھیں ھوسپٹل لے جاٶنگا پھر آفس۔۔

آپ ویسے ہی پریشان ھو رھے ھیں ٹھیک ھوں میں۔۔

تم نے بحث لازمی کرنی ھے سیدھے طریقے سے جی نہيں کہہ سکتی عضد کا لہجہ سخت ھونے لگا۔۔

اچھا ٹھیک ھے جیسے آپکی مرضی۔۔۔

______________

صبح عضد اسے ھوسپٹل لیکر گیا کچھ ٹیسٹ کروا کر اسے گھر ڈراپ کرنے لگا۔۔

راستے میں رتابہ نے اس سے بات کرنے میں پہل کی آپ سے کچھ کہنا تھا مجھے۔۔

ہاں کہو۔۔

آپکی اجازت کے بغیر میں نے اس اماں کی مدد کی اسکے لیۓ آپ سے معذرت کرنی تھی۔۔

نیکی کی ھے تم نے اور نیکی کرنے کیلیۓ کسی کی اجازت یا معذرت کی ضرورت نہيں ھوتی۔۔

میں نے کچھ زیورات بیچے تھے۔۔

نو پرابلم تمھارے زیورات تھے تم جو بھی کرو بیچو رکھو پہنو یا پھر پھینکو مجھے فرق نہيں پڑتا۔۔

آپکو واقعی برا نہيں لگا۔۔

عضد بے فکری سے گاڑی کا موڑ کاٹتے ھوۓ بولا نہيں یار مجھے کیوں برا لگے گا اچھا کیا تم نے بلکہ بہت ہی اچھا کیا مجبور عورت تھی اور ضرورت مند بھی۔۔

رتابہ خوش ھو گٸ۔۔

عضد اسکے چہرے پر خوشی دیکھ کر بولا تم نے زیور اور بنوانے ھیں تو بتا دو ابھی لے چلتا ھوں۔۔

نہيں نہيں مجھے ضرورت نہيں۔۔

اگلی بار کوٸ اماں مل گٸ تو کیا بیچ کر مدد کروگی ؟؟

آپ سے کہہ دونگی۔۔

ھممممم اوکے۔۔

عضد اسے گھر ڈراپ کر کے آفس چلا گیا شام کو اسکی رپورٹس گھر لایا تو بلڈ اسکا 7 پوائنٹ پر تھا جو کہ 12 پوائنٹ پر ھونا چاھیۓ تھا۔۔

اتنی خون کی کمی اور کمزوری اس میں کیسے آٸ عضد نے پھر کسی شک کی بنا پر علی سے پوچھا۔۔

یار یہ جب مایا کا تم بلڈ ارینج کرنے گۓ تھے تو کتنی بوتلیں ارینج ھوٸ تھیں؟؟

یار دو تم نے دی تھیں تین میں ارینج کر کے لایا تھا لیکن ڈاکٹرز نے میرے آنے سے پہلے دو ارینج کر لی تھیں۔۔

اوہ اچھا ھوسپٹل کے بلڈ بنک سے ارینج ھوٸ تھیں یا کسی نے ڈونیٹ کیا تھا بلڈ ؟؟

کنفرم نہیں مجھے یار لیکن آئ تھنک ڈونیٹ کیا تھا کسی نے شاید۔۔

اوکے۔۔۔

عضد رپروٹس لیکر اپنے کمرے میں چلا گیا رتابہ رات کو اندر آٸ تو عضد نے رپورٹس اسکے سامنے رکھیں۔۔۔

کیا ھوا ھے کیا ھے ان رپورٹس میں؟؟

تمھارا بلڈ گروپ کیا ھے؟؟ عضد نے آرام سے پوچھا۔۔۔

میرا گروپ A ھے کیوں؟؟ اس نے سر اٹھا کر عضد کو دیکھا۔۔

ھمممم تم نے بلڈ ڈونیٹ کیا تھا مایا کو؟؟؟

رتابہ خاموش ھو گٸ۔۔

جواب دو۔۔

جی دیا تھا۔۔

تمھیں کس نے کہا تھا دو بوتلیں خون کی دو؟؟

اسکی حالت بہت سیریٸس تھی اسلیۓ۔۔

اب تمھاری حالت سیریٸس ھو گٸ تو میں کیا کرونگا؟؟ وہ اسکے جھکے سر کو دیکھنے لگا۔۔

نہيں ھوتی ٹھیک ھوں میں۔۔

اچھااا چہرہ دیکھا ھے اپنا عضد نے اسکی پیلی پڑتی رنگت کیطرف اشارہ کیا۔۔

جی۔۔

پہلے جیسا ھے؟؟

جی۔۔

نہيں ھے پہلے جیسا یار اگر بلڈ دینے کا اتنا شوق تھا تو پھر اپنی خوراک کا خیال بھی تو رکھتی۔۔

میرا کتنا خیال رکھ رہی ھو صبح شام جوس پلا پلا کر نہيں تھکتی اور مایا کے لیۓ بھی دنیا جہان کی چیزیں بنواتی ھو خود کا خیال بھی تو رکھ سکتی ھو نا۔۔

کس لیۓ رکھوں اپنا خیال اس نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔

عضد اسے دیکھنے لگا چہرے پر لاپرواٸ اور بیزاری نمایاں ھو رہی تھی اپنے لیۓ رکھو خیال۔۔

مجھے ضرورت نہيں میری اتنا کہہ کر وہ اٹھی۔۔

عضد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا لیکن ھو سکتا ھے کسی اور کو اشد ضرورت ھو تمھاری۔۔

اتنی خوش فہمی میں نہيں پال سکتی اور میرا وجود کس کیلیۓ ضروری ھو سکتا ھے؟؟؟ وہ عضد کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔۔

عضد نے اپنی طرف اشارہ کیا ھو سکتا ھے ضروری بھی اھم بھی میرے لیۓ۔۔۔

رتابہ نےحیرت نے اسے دیکھا۔۔

خیال رکھو اپنا اپنے لیۓ نا سہی میری خاطر ہی رکھ لو۔۔

اس نے ہاں میں سر ہلایا اور صوفے پر جا کر لیٹ گٸ عضد کی بات اسکے کانوں میں گونجتی رہی ھو سکتا ھے ضروری بھی اھم بھی میرے لیۓ اپنا خیال رکھا کرو میری خاطر ہی سہی۔۔

کیا عضد سچ میں مجھے پسند کرنے لگا ھے کیا واقعی میں اھم ھونے لگی ھوں اسکے لیۓ لیکن مایا نے تو کچھ اور کہا تھا کہ عضد اسے جیلس کرنے کی خاطر میرے قریب آرہا ھے اور دکھلاوے کیلیۓ مجھے استعمال کر رہا ھے۔۔

ان دونوں میں کونسی بات سچی تھی کس بات پر رتابہ یقین کرتی۔۔

کیا اسکی دعا اسکے حق میں اللہ نے سن کر قبول کی تھی؟؟یا پھر وہ سب دکھلاوا تھا یا چند دن کا دھوکہ وہ انہی سوچوں کی کشمکش میں سو گٸ۔۔

__________________

مایا خود کشی کے بعد پہلے سے زیادہ ہی لاڈ اور نخرے دکھانے لگی تھی۔۔

اپنی موجودگی کا احساس وہ بار بار دلاتی اور سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی جس میں عضد سرفہرست تھا۔۔

رتابہ یہ سب نوٹ کر رہی تھی عضد جتنی جلدی رتابہ کے قریب آیا تھا اتنی ہی جلدی اس سے دور ھونے لگا تھا۔۔

اب اسکا زیادہ تر وقت آفس اور باقی کا وقت مایا کیساتھ گزرتا تھا کیونکہ علی پھر لندن چلا گیا تھا ان دنوں۔۔

رتابہ مایا کے سامنے بہت کم آتی تھی کیونکہ مایا رتابہ کو دیکھ کر اچھی خاصی چڑ جاتی تھی وہ اسکی مہربانیوں سے انجان تھی۔۔۔

رتابہ گارڈن میں پھولوں کی صفاٸ کتراٸ میں مصروف تھی عضد آرام سے اسکے پیچھے آیا۔۔

وہ گلاب کا پھول ہاتھ میں لیۓ اسکی خوشبو لے رہی تھی تواچانک عضد کو پیچھے پا کر چونکی۔۔

پہلی بار دیکھا ھے گلاب کو گلاب کی خوشبو لیتے ھوۓ۔۔۔

میں اور گلاب رتابہ مسکراٸ۔۔۔

سورج کی روشنی اسکے چہرے کا احاطہ کیے ھوۓ تھی اسکا پر نور دمکتا ھوا چہرہ اس پر اسکی طنزیہ مسکراہٹ بھی جچ رہی تھی۔۔۔

مایا عضد کو ڈھونڈتی ھوٸ وہاں آن پہنچی۔۔

عضد نے رتابہ کا ہاتھ تھاما کیوں نہيں ھو سکتی تم گلاب جیسی۔۔

اس نے اپنا ہاتھ کھینچا کیونکہ وہ مایا کو دیکھ چکی تھی۔۔۔

عضد نے اتنی ہی مضبوطی سے تھام لیا پھر اسکے چہرے پر ھوا سے بکھری لٹوں کو ہٹا کر بڑے خوبصورت اور شاعرانہ انداز میں گویا ھوا۔۔

غصے میں جو نکھرا ہے، اس حسن کا کیا کہنا

کچھ دیر ابھی ہم سے تم یوں ہی خفا رہنا

یہ دہکا ہوا چہرہ، یہ بکھری ہوئی زلفیں

یہ بڑھتی ہوئی دھڑکن، یہ چڑھتی ہوئی سانسیں

سامانِ قضا ہو تم، سامانِ قضا رہنا

کچھ دیر ابھی ہم سے تم یوں ہی خفا رہنا

پہلے بھی حسیں تھیں تم، لیکن یہ حقیقت ہے

وہ حسن مصیبت تھا، یہ حسن قیامت ہے

اوروں سے تو بڑھ کر ہو، خود سے بھی سوا رہنا

کچھ دیر ابھی ہم سے تم یوں ہی خفا رہنا۔۔۔

مایا سے اسکا یہ انداز برداشت نا ھوا کیا ھو رہا ھے یہاں کونسی مووی کا سین چل رہا ھے؟؟

عضد نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ پاس ہی کھڑی تھی۔۔

تم کب آٸ۔۔

تمھیں اس سے فرصت ملے تو کسی کے آنے جانے کا علم ھو۔۔

عضد نے اسکا ہاتھ اب بھی تھام رکھا تھا جو رتابہ مسلسل چھڑانے کوشش میں تھی۔۔۔

مایا جلے کٹے انداز میں بولی نہيں دینا چاہتی اپنا ہاتھ وہ تمھارے ہاتھ میں تو زبردستی کیوں کرتے ھو مجھے دیکھ کر اسکے ساتھ تم۔۔۔

عضد نے رتابہ کو گھور کر دیکھا پھر اسکا ہاتھ چھوڑا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ان دونوں کے بیچ سے چلی گٸ۔۔۔

عضد رات کو اپنے کمرے میں آیا تو اسکے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ھے لیکن شاید ڈر رہی تھی بات کرتے ھوۓ۔۔

عضد بیڈ پر لیٹا کچھ کہنا ھے تم نے۔۔

جی۔۔۔

بولو۔۔۔

آپ غصہ تو نہيں کریں گے۔۔

لو جی بات ابھی کی نہيں اور اندازے پہلے سے لگانے لگ گٸ ھو بولو کیا کہنا ھے۔۔

عضد آپ مجھے اسطرح نا چھوا کریں وہ اسکی بات سن کر اٹھ بیٹھا۔۔۔

کیا مطلب ھے تمھارا کسطرح نا چھوا کروں؟؟

یہ جو آپ مایا کے سامنے میرے قریب آنے کی کوشش کرتے ھیں نا یہ نا کیا کریں۔۔

اچھاااااا کیوں تمھیں برا لگتا ھے میرا قریب آنا؟؟

جی کیونکہ آپ کسی کو دکھلاوے کی خاطر اور اپنا آپ جتانے کی خاطر میرا استعمال کریں یہ مجھے گوارا نہيں وہ بڑی صاف گوٸ سے روانی میں بول گٸ۔۔

عضد اٹھ کر اسکے پاس آیا میں نے ابھی تمھارا استعمال کیا ہی کب ھے میڈم جو تمھیں نا گوار گزر رہا ھے۔۔۔

بس جو بھی ھے مجھے اسطرح آٸندہ اسکے سامنے چھونے کی کوشش مت کیجیۓ گا۔۔۔

چھوا تو کیا کر لو گی تم اور یہ کس لہجے میں بات کر رہی ھو مجھ سے عضد غصے میں آگیا اسکی بات سن کر۔۔

میں نے غلط بات نہيں کی آپ سے اسکی نظریں جھکی ھوئ تھیں۔۔

تم یہ بات کرنے کے قابل ھو مجھ سے عضد نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا۔۔

جی نا صرف قابل ھوں بلکہ میرا حق بنتا ھے یہ بات کرنے کا آپ کا جب جی چاھتا ھے ویسے مجھے چھوتے ھیں مجھے یہ سب پسند نہيں اب کی بار اسکا لہجہ سخت تھا۔۔۔

اوہ رٸیلی تمھیں یہ سب پسند نہيں نا میرا چھونا نا میرا قریب آنا پسند ھے صاف صاف کیوں نہيں کہتی کہ تمھیں میں نا پسند ھوں۔۔۔

اس نے پلکیں اٹھاٸیں میں نے یہ تو نہيں کہا۔۔۔

لیکن کہنے کا مقصد تو یہی تھا تمھارا ظاہر ھے پسند تو کوٸ اور تھا تمھیں جسکی نشانی سینے سے لگاۓ پھرتی ھو عضد کا اشارہ دیان کیطرف تھا۔۔

اگر سچ کو قبول نہيں کر پا رھے تو الزام بھی مت لگاٸیں مجھ پر رتابہ دکھی لہجے میں کہنے لگی۔۔۔

یار تم چیز کیا ھو؟؟ عضد اسکے بے حد قریب ھوا…

سمجھتی کیا ھو خود کو میں نے ذرا سی ڈھیل دے دی تو اپنی پسند نا پسند کے پرچے لے کر میرے سامنے بیٹھ جاٶگی جانتی ھو نا مجھے کسی بھی معاملے میں روک ٹوک پسند نہيں۔۔

میری ضد سے بھی واقف ھو کہ مجھے جس کام سے منع کرو میں وہ کر کے دکھاتا ھوں پھر بھی اتنی آسانی سے یہ بات کر گٸ تم۔۔

عضد میں نے آپکی ہر زیادتی برداشت کی ھے کبھی آپکو اف تک نہيں کہا خود پر اٹھتا ھوا ہاتھ بھی کبھی نہيں روکا میں نے آپکا کبھی کوٸ سوال کوٸ گلہ شکوہ نہيں کیا آپ سے۔۔۔

میں اب بھی سب کچھ سہنے کو تیار ھوں لیکن اس بات کو ہرگز نہيں سہہ سکتی کہ آپ کسی کی انا کو کسی کے تکبر کو توڑنے کیلیۓ اپنی ضد کی بھینٹ مجھے چڑھاٸیں اور کسی ٹشو پیپر کیطرح میرا استعمال کریں اور بعد میں ہاتھ صاف کر کے پھینک دیں مجھے۔۔

عضد جبڑے بھینچے اسے سن رہا تھا پھر یک دم بولا ہاتھ تو میں نے آج تک تم پر صاف نہيں کیۓ اور رہی بات ٹشو پیپر کیطرح استعمال کر کے پھینکنے کی تو وہ تم ایک بار استعمال ھو کر پھینکی جا چکی ھو۔۔

رتابہ نے بے بسی سے ھونٹ کاٹتے ھوۓ عضد کیطرف دیکھا۔۔۔

میرے سامنے پاک بی بی بننے کی کوشش مت کیا کرو۔۔۔

رتابہ پر آج اس نے ہاتھ تو نہيں اٹھایا تھا لیکن لفظوں کی مار اسے خوب ماری تھی۔۔۔

آٸندہ مجھے کسی بھی بات سے روکا یا ٹوکا تو جانتی ھو پھر کیا کیا کر سکتا ھوں میں؟؟؟

اس نے معصومیت سے نا میں سر ہلایا۔۔۔

عضد کو یک لخت اسکے نا میں سر ہلانے پر ھنسی آگٸ لیکن اس نے چھپا لی۔۔۔

آٸندہ یہ پٹر پٹر جواب مت دینا مجھے جیسے پہلے بولتی بند تھی نا تمھاری اب بھی اسے بند ہی رکھو آٸ سمجھ میں جو چاھونگا وہی کرونگا۔۔۔

رتابہ نے اب کی بار ہاں میں سر ہلا کر اپنا تکیہ اٹھایا اور اسکے پہلو سے نکل کر صوفے پر منہ تک کمبل اوڑھے لیٹی۔۔

عضد نے کچھ دیر گزرنے کے بعد اسے آواز لگاٸ رتابہ۔۔۔

اس نے زور سے آنکھیں میچ لیں عضد اسکے پاس آیا اور ڈائریکٹ کمبل اسکے منہ سے اتارا بلا رہا ھوں نا میں تمھیں۔۔۔

نیند آرہی ھے مجھے وہ بند آنکھوں سے بولی۔۔۔

بیڈ پہ آکر لیٹو۔۔۔

عضد کی بات سنکر اس نے جھٹ سے پوری آنکهيں کھولیں کیوں؟؟

تمھیں کتنی بار منع کیا ھے نا مجھے کیوں ۔۔ کیا ۔۔۔ کیسے میں جواب مت دیا کرو اٹھو عضد نے اسکے اوپر سے پورا کمبل اتارا۔۔۔

مجھے بیڈ پر نیند نہيں آتی میں یہیں ٹھیک ھوں۔۔۔

اچھا جب ڈر کے مارے میرے ساتھ لپٹ کہ سوتی تھی تو نیند آ جاتی تھی تمھیں۔۔

وہ تو جب ڈرتی تھی تب کی بات ھے نا۔۔

عضد اسکا چہرہ دیکھ کر بولا ڈر تو تم اب بھی رہی ھو۔۔۔

ابھی آپ سے ڈر لگ رہا ھے بڑی معصومیت سے کہا۔۔۔

کیوں میں کوٸ جن یا بھوت ھوں؟؟

نہيں لیکن ایک منٹ میں جیسے آپ اپنا روپ بدل لیتے ھیں نا وہ جن اور بھوت ہی کرتے…

عضد کو اسکا معصوم سا انداز اور باتیں آج پھر مزہ دے رہی تھیں۔۔

کیسے بدلتا ھوں میں اپنا روپ عضد نے دونوں ابرو اٹھاۓ۔۔۔

ابھی جیسے بدل رھے ھیں کبھی غصے والا منہ کبھی سیریٸس اور کبھی ھنسنی روکنے والا۔۔

عضد نے نچلا ھونٹ دانتوں تلے دبایا اسے ٹوٹ کر اسوقت رتابہ پر پیار آنے لگا اسکا انداز ہی ایسا تھا بھولے بھالے بچے والا جو ھمیشہ عضد کے صبر کا امتحان لیتا تھا۔۔۔

وہ شرارت سے بولا اچھا اورکیسے کیسے منہ بنا لیتا ھوں میں؟؟

رتابہ نے منہ بسور کر عضد کو دیکھا اور یہ ابھی والا۔۔۔

عضد نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے ابھی کونسے والا لگ رہا ھے تمھیں۔۔

وہ اپنا نچلا ھونٹ دانتوں تلے دبا کر بولی مجھے ڈرانے والا۔۔۔

عضد کو بہت ھنسی آٸ اسکے انداز پر۔۔۔

وہ عضد کے ھنسنے پر جلدی سے کمبل دوباہ سر تک اوڑھنے لگی تو عضد نے ھنستے ھوۓ کمبل اسکے ہاتھ سے چھینا پھر اسے گود میں اٹھا لیا۔۔۔

اب تو یہاں کوٸ نہيں ھے اب تو چھو سکتا ھوں نا تمھیں۔۔۔

وہ سر زور زور سے نا میں ہلا کر بولی جی نہيں اللہ تعالی موجود ھے وہ دیکھ رہا ھے ھمیں اور آپ اکیلے نہيں ھیں میں بھی ھوں نا میں بھی تو دیکھ رہی ھوں اتاریں مجھے نیچے پلیز۔۔۔

عضد اسے گود میں لیۓ بیڈ پر بیٹھا۔۔۔۔

یار کبھی کبھی اتنی بڑی بڑی باتیں کر جاتی ھو جو اردو کے پروفيسر بھی نا کر سکیں اور کبھی اتنی بچوں والی باتیں کرتی ھو جیسے تمھیں کسی بات کا علم ہی نا ھو۔۔۔

آپ پلیز مجھے چھوڑیں وہ عضد کی گود سے اترنے لگی۔۔

نا نا نا چھوڑ تو نہيں سکتا میں تمھیں۔۔۔

آپ کرنا کیا چاھتے ھیں وہ بلکل سیریٸس ھو گٸ۔۔۔

میاں بیوی کیا کرتے ھیں عضد نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔

مجھے نہيں معلوم وہ عضد کی والہانہ نظروں کی تاب نا لا سکی رو دینے کو تھی۔۔۔

پلیز عضد چھوڑیں مجھے۔۔۔

تم جب خود قریب آتی ھو میرے اسوقت کہتی ھو چھوڑنا مت مجھے اور جب میں پاس آتا ھوں تو الٹا ھوتا ھے تمھارا جواب کہ چھوڑیں مجھے۔۔

اسکی آنکھوں میں آنسو آگۓ چھوڑیں مجھے عضد پلیز۔۔

عضد نے اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ فوراً عضد سے الگ ھوٸ اور جا کر واپس صوفے پر لیٹی اگر آپ نے اسطرح پھر کیا تو میں نے نہيں سونا پھر آپکے کمرے میں اپنے کمرے میں چلی جاٶں گی میں۔۔

عضد اسکے انداز پر اسے دیکھتا ہی رہ گیا اور وہ کمبل پھر سے منہ تک اوڑھے لیٹ گٸ۔۔۔

عضد سوچ میں پڑ گیا کہ وہ اسکے چھونے سے پاس آنے سے گھبراتی کیوں ھے؟؟ کیا میں اسے پسند نہيں یا یہ ڈرتی ھے مجھ سے اسقدر کہ میں اسکے ساتھ زبردستی میں اسے تکلیف یا اذیت سے دوچار کرونگا۔۔

کیوں ڈرتی ھے یہ مجھ سے اور حیرت ھے کہ کسی اور سے بھی ڈر کر آتی میرے ہی پہلو میں ھے۔۔

عضد اس بات سے انجان تھا کہ میاں بیوی کے ریلیشن میں اسکا ذہن بہت بچکانہ تھا اور یہاں رتابہ کو سمجھانے والا بھی کوٸ نا تھا نا وہ کسی سے کچھ شیٸر کرتی تھی کہ کوٸ اسے گاٸیڈ کرتا یا سمجھاتا۔۔۔

بس ایک بار نرگس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اسے سمجھایا تھا کہ عورت ماں کیسے بنتی ھے اور ماں وہ زیادتی کا نشانا بن کر بنی تھی۔۔۔

وہ کیسے اس زیادتی کو اب محبت کے روپ میں دیکھتی جس نے اسکی زندگی ھمیشہ کیلیۓ داغدار بنا دی تھی۔۔

______________

گوپال نے بابو کے ڈر سے پاٸل کی شادی طے کر دی۔۔۔

لیکن پاٸل شادی نہيں کرنا چاہتی تھی اس نے ماں کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ اگر اسکے ساتھ انہوں نے کوٸ زبردستی کی تو وہ گھر چھوڑ کر چلی جاۓ گی۔۔

گوپال اور دیوی دونوں بہت پریشان ھو گۓ کہ اب کیا کریں وہ بابو سے کیسے محفوظ رکھ پاٸیں گے پاٸل کو۔۔

گوپال نے وہاں سے گھر بدل لیا اور کسی کو خبر تک نا ھونے دی۔۔

گھر بدل کر وہ کچھ پر سکون ھوا لیکن گھر کیساتھ ساتھ اسے وہاں سے نوکری بھی چھوڑنی پڑی کہ بابو وہاں آکر اسکا پیچھا کر سکتا تھا۔۔

گوپال اب سارا دن کام کاج کیلیۓ مارا مارا پھرنے لگا لیکن روز مایوس گھر لوٹ آتا اور گھر آتے ہی دیوی کے طنز اور طعنے اسکا خالی پیٹ بھر دیتے۔۔

لیکن یہ فاقے گھر والے نہيں کاٹ سکتے تھے گوپال باہر کھلے صحن میں لیٹا ھوا تھا جب اسے بختی کی یاد شدت سے ستانے لگی۔۔

کہاں ھے میری بختی جب سے گٸ ھے ھم سب کے بخت بھی ساتھ لے گٸ ھے۔۔۔

میری بچی تیرے بختوں سے ہی تو ھم کھاتے تھے لیکن اب تیری بددعا لگ گٸ ھے ھمیں دیکھ بختی اب تیری طرح بھوکا رہنا پڑتا ھے ھمیں بھی۔۔

میں تو تیرے بغیر چین سے مر بھی نہيں سکتا بس ایک بار تجھے دیکھ لوں ان آنکھوں سے پھر مرنا بھی قبول ھے۔۔۔

_________________

رتابہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی اسکا موڈ آف دیکھ کر رابی نے پوچھا۔۔۔

کیا ھوا آپکو؟؟

وہ پتیلی کے کھولتے ھوۓ پانی میں چاۓ کی پتی ڈال کر بولی کوٸ یاد آرہا ھے بہت۔۔۔

کچن میں آتے عضد نے اسکی بات سن لی اور رابی سے کہہ گیا کہ رتابہ سے کہو چاۓ میرے روم میں لے آۓ۔۔

عضد کی آواز وہ سن چکی تھی…

کچھ دیر میں ناشتے کے ٹرے لیے وہ کمرے میں آئی ڈش لیکر ٹیبل پر رکھی اور واپس جانے لگی عضد نے اسے روکا پھر غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا کس کی یاد میں اتنی اداس ھو۔۔

کسی کی نہيں۔۔

کچن میں رابی سے تو تم یہی کہہ رہی تھی۔۔

نمل یاد آرہی تھی۔۔

جھوٹ مت بولو۔۔

آپ کیا سننا چاھتے ھیں؟؟ لہجہ بیزار تھا۔۔۔

وہی سچ جو تم سب سے چھپاۓ بیٹھی ھو اور بتانا نہيں چاھتی۔۔

جو سچ آپ سننا چاھتے ھیں نا وہ آپکی نظر کا دھوکہ ھے اور کچھ نہيں۔۔

عضد کے ہاتھ میں ٹاٸ تھی اس نے وہ ٹاٸ رتابہ کے گلے میں ڈالی اور کھینچ کر اسے خود سے قریب کیا

تم ھمیشہ اس بات پر اپنا منہ کیوں سی لیتی ھو کیوں نہیں بولتی کچھ؟؟

کیونکہ بخیہ بخیہ ادھیڑی گٸ تھی میں اب سی لیا خود کو تو بار بار ادھیڑ نہيں سکتی اور پھر سے خود کو سینے کی تاب مجھ میں نہيں اب اسکا درد اسکی آنکھوں میں عیاں ھو رہا تھا۔۔۔

عضد نے اپنی ٹاٸ اسکے گلے میں ٹاٸیٹ کرتے ھوۓ کہا تو پھر یاد کیوں کرتی ھو اسے اور میرے پوچھنے پر چپ کیوں ھو جاتی ھو؟؟؟

ٹاٸ کافی ٹاٸیٹ تھی وہ کھانسنے لگی اسکا چہرہ سرخ ھو گیا۔۔

عضد نے ٹاٸ ڈھیلی کر کے واپس اتاری اسکے گلے سے وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی پھر کچھ سنبھل کر بولی۔۔۔

مجھے اس سوال پر چپ ہی رہنے دیں تو بہتر ھوگا آپکے لیۓ۔۔۔

تم تو کھل کر اپنی صفائی میں بھی کچھ نہيں کہتی۔۔

اگر میں اپنی صفائی میں کچھ بولی بھی تو آپکے لیۓ قابل یقین نہيں ھو سکتا نا میں نا میرا سچ اور نا میرا جھوٹ۔۔۔

وہ ٹاٸ اپنے گلے میں باندھنے لگا تم میں سچ بولنے کا حوصلہ بھی نہيں اسلیۓ جھوٹ سے کام لیتی ھو۔۔

بلکل ٹھیک کہا آپ نے واقعی مجھ میں سچ بولنے کا حوصلہ نہيں۔۔

عضد جلدی سے ناشتہ کرتے ھوۓ بولا اس ٹاپک پر پھر بات کریں گے ابھی میری دیر ھو رہی ھے۔۔

رتابہ سپاٹ لہجے میں بولی میں اس ٹاپک پر آپ سے کوٸ بات نہيں کرنا چاہتی۔۔

_______________

علی واپس آچکا تھا عضد مایا اور رتابہ کو لیکر بازار گیا ھوا تھا۔۔۔

جانا تو صرف مایا نے تھا لیکن عضد نے غور کیا کہ کافی عرصہ ھو گیا رتابہ کو اس نے نۓ لباس میں نہيں دیکھا تھا۔۔۔

عضد بڑی شاپ میں داخل ھوا رتابہ سے کہا پسند کرو یہاں سے ڈریسز وہ خود بھی اسکے ساتھ دیکھنے لگا۔۔

مایا اسکو رتابہ کیساتھ دیکھ کر ناراض ھوتی باہر نکل آٸ۔۔

عضد اسکے پیچھے آیا یار ناراض کیوں ھوتی ھو؟؟

تم یا اسے ساتھ لاتے یا مجھے۔۔

وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لایا رتابہ سامنے ہی کھڑی تھی۔۔

تم نے کچھ لیا۔۔

اس نے نا میں سر ہلایا۔۔

کیا ھے یار تمھیں شاپنگ کرنا بھی نہيں آتی اب۔۔

عضد اس سے بات ہی کر رہا تھا کہ ایک خوبصورت نو جوان رتابہ کو دیکھ کر رکا۔۔

ارے بختی تم۔۔۔

عضد اور مایا دونوں ایک ساتھ گردن گھماۓ اسے دیکھنے لگے۔۔۔

تم یہاں اتنے بڑے مال میں کس کے ساتھ ھو؟؟

عضد رتابہ کیساتھ کھڑا ھوا میرے ساتھ ھے یہ اور آپ کون ؟؟

ھم بھی انکے چاھنے والوں کی فہرست میں سے ایک ھیں اس نے ٹھندی آہ بھری لیکن خوش نصیب ھیں آپ کہ یہ آپکے ساتھ یہاں تک آٸ ورنہ ھمارا تو یہ دیکھنا بھی گوارا نہيں کرتی۔۔۔

یو شیٹ اپ شرم نہيں آتی تمھیں کسی لیڈیز کو دیکھ کر اسطرح بات کی جاتی ھے عضد دانت پیس کر بولا۔۔

رتابہ عضد کے تیور دیکھ کر خوفزدہ ھو گٸ۔۔

واہ بھٸ اتنا غصہ وہ بھی اسکے پیچھے اس لڑکے کا انداز ایسا تھا کہ عضد سے برداشت نا ھوا۔۔

عضد اسے تھپڑ دے مارتا لیکن جگہ کی مناسبت سے رک گیا تمیز سے بات کرو میری بیوی ھے یہ۔۔

اوہ اچھااا اس سے شادی کر لی آپ نے مبارک ھو بھٸ۔۔

عضد اسے نظرانداز کرتا رتابہ کا ہاتھ تھامے تیز تیز قدم اٹھاتے مال سے باہر آیا مایا اسکے پیچھے پیچھے آٸ وہ گاڑی کے پاس آکر رکا کون تھا یہ؟؟

رتابہ مایا کو دیکھ کر خاموش تھی۔۔۔

بتاٶ کون تھا۔۔۔

تم نے سنا نہيں وہ کیا کہہ رہا تھا کہ اسکے چاھنے والوں کی فہرست میں سے ایک ھے مایا نے عضد کو طیش دلاتے ھوۓ کہا۔۔۔

عضد کی آنکھوں میں خون اترا ھوا تھا عضد نے اسے گاڑی میں بازو سے پکڑ کر بٹھایا اور ریش ڈرائيونگ کرتا ھوا رتابہ سے پھر پوچھنے لگا میں تم سے پوچھ رہا ھوں کون تھا یہ؟؟

وہ گاڑی سے باہر جھانک کر بولی گھر جا کر بتا دونگی۔۔

مایا بولی کیوں یہاں بتانے میں کیا حرج یا پھر میرے سامنے شرم آرہی ھے۔۔۔

میں عضد کی جوابدہ ھوں آپکی نہيں۔۔۔

اسکے جواب پر مایا عضد کو دیکھ کر بولی دیکھ لیۓ تم نے اسکے تیور۔۔۔

یار تم خاموش رھو پلیز تمھارا مسٸلہ نہيں یہ تم دور رھو اس معاملے سے۔۔

گھر پہنچ کر وہ اسے بازو سے پکڑ کر کمرے میں لے گیا۔۔

علی بھی گھر میں موجود تھا اس نے مایا سے پوچھا اسے کیا ھوا؟؟

رتابہ میڈم کا کوٸ عاشق ٹکرا گیا ھم سے مال میں۔۔

کون تھا وہ عضد کی بلند آواز نیچے تک آٸ۔۔۔

رتابہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی مسز جمال کا بھاٸ تھا۔۔

اب یہ مسز جمال کہاں سے آگٸ؟؟

میں خانسامہ تھی انکے گھر میں۔۔

رتابہ کی بات سن کر عضد کی آواز ہلکی ھوگٸ۔۔۔

وہ دبی دبی آواز اور کھا جانے والے لہجے میں بولا تو تم لوگوں کے گھروں میں کام بھی کرتی تھی؟؟

جاری ھے….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *