Bad Bakhat by Arshi Noor

حافظ صاحب فجر کی نماز کیلیے مسجد دروازہ کھلا چھوڑ کر گۓ اس امید پر کہ شاید وہ گھر واپس جاٸیں تو نمل موجود ھو ۔۔۔
ابھی بھی اپنے رب سے وہ گڑگڑا کر اپنی بیٹی کی سلامتی اور واپسی کی دعائيں مانگ رھے تھے۔۔۔
اے میرے رب اتنا نا آزما کہ میرے دعا کیلیۓ اٹھتے ہاتھ تھک جاٸیں اور میں مایوسی کی چادر میں لپٹا تیرے در سے خالی ہاتھ لوٹوں۔۔۔۔
اے رب تیری شان کے خلاف ھے یہ کہ کوٸ تیرے در سے خالی لوٹے
میں نے ھمیشہ تجھ سے اپنی لو لگاٸ ھے تیری ہی طرف دیکھا ھے مجھے میرے گناہوں کی کوٸ اور سزا دے دے لیکن یہ سزا نا قابل برداشت ھے تیرے اس کمزور سے بندے کیلیۓ ۔۔۔۔
حافظ صاحب کے آنسو انکے سجدے میں گرنے سے پہلے ہی گر پڑے۔۔۔۔۔
جازب کی گاڑی نمل کے دروازے پر آکر رکی نمل نے بے یقینی سے اپنے گھر کو دیکھا پھر جازب کیطرف دیکھا جو بڑی حسرت سے اسے تکے جا رہاتھا۔۔۔۔
اسکا دل چاہا وہ اسکا گریبان پکڑ کر دھاڑیں مار مار کر روۓ کہ کیسے کریگی اب وہ سب کا سامنا کیسے یقین دلاۓ گی اپنی پارساٸ کا کیا حالت ھوگی اسکے بابا کی۔۔۔
اپنے ساتھ ہزاروں سوالوں کا بوجھ لیۓ وہ گاڑی سے تھکے تھکے قدموں سے اتری تو ایک بیگ جازب نے اسے تھمایا یہ لے لو۔۔۔۔
اس نے بیگ کیطرف دیکھ کر پوچھا اسمیں کیا ھے؟؟؟؟
تمھارے زیورات ھیں اسمیں ۔۔۔۔ اسکی ضرورت نہيں مجھے ۔۔۔۔
ضرورت مجھے بھی نہيں تھی لیکن اس لیۓ اٹھاۓ تھے کہ یہ چوری کا معاملہ لگے۔۔۔۔
نمل نے مذید اس سے کوئ بات نا کی اور خاموشی سے بیگ تھام کر دروازے پر دستک دینے لگی تو دروازہ خود ہی کھل گیا۔۔۔
نمل نے اپنے گھر کی دہلیز پر پاٶں رکھا اور پلٹ کر جازب کیطرف دیکھا تو وہ جا چکا تھا۔۔

Download Link

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *