Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 09)

Bad Bakhat by Arshi Noor

اب تو مجھے جب جب موقع ملا میں یہی سب کرونگا تمھارے ساتھ ۔۔۔۔

عضد کے آخری جملے سیڑھیاں چڑھتے ھوۓ نرگس سن کر چکرا کر رہ گئی۔۔۔

جلدی سے وہ کمرے میں داخل ہوٸ اور رتابہ پر جھکے عضد کو کالر سے پکڑ کر پیچھے کھینچا۔۔۔۔۔۔

ماں کو دیکھ کر عضد بری طرح سٹپٹا گیا۔۔۔۔

پہلے تو مجھے صرف شک تھا لیکن اب تم نے میرا شک یقین میں بدل دیا ھے کہ اسکے مجرم تم ہی ھو۔۔۔۔

ایسا نہيں ھے امی میں تو صرف اسے ڈرا رہا تھا کہ یہاں سے چلی جاۓ۔۔۔۔۔

اگر میں نا آتی تو ڈرانے میں تم اسکا کام تمام کر دیتے۔۔۔۔۔

نر گس نے بدحواس ھوتی رتابہ کو دیکھ کر عضد کے منہ پر چماٹ دے ماری۔۔۔۔

عضد سکتے میں آگیا ماں کی چماٹ پر۔۔۔۔۔

آپ نے اس۔۔۔ وہ ایک ہاتھ اپنے گال پر رکھ کر دوسرے سے اسکی طرف حقارت سے اشارے کرتے ھوۓ بولا۔۔۔۔۔۔

اس دو ٹکے کی لڑکی کی وجہ سے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔

اسکی بات سن کر نرگس نے دوسری چماٹ اسے دے ماری۔۔۔۔

اسکا غصہ دیکھ کر رتابہ نے نرگس کے پیچھے پناہ لی۔۔۔۔

نکلو اس کمرے سے باہر اس سے پہلے کہ میں تمھارا حشر بگاڑ دوں۔۔۔۔

نرگس غصے میں اتنی بلند آواز میں چلائ آج سے پہلے نرگس کا یہ روپ عضد نے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔

عضد کی اس حرکت پر وہ دہکتے انگاروں کیطرح دہک رہی تھی۔۔۔۔۔

عضد نرگس کی آنکھوں میں ایک بار پھر شک اور غصہ دیکھ کر غم و غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رتابہ کیطرف بڑھا اور نرگس کے پیچھے سے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔۔۔۔۔

نکلو میرے گھر سے باہر وہ اسے گھسیٹنے لگا۔۔۔

نرگس نے بڑی مشکل سے اس سے رتابہ کو چھڑایا۔۔۔۔

چھوڑو اسے عضد میں اس سے بھی زیادہ سختی سے پیش آؤنگی تمھارے ساتھ چھوڑو اسے۔۔۔

ایک طرف سے رتابہ کو عضد جکڑے ہوئے تھا دوسری طرف نرگس اسے چھڑاتے ہوئے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔

ماں کے اس پر ہاتھ اٹھانے سے عضد پاگل سا ھو گیا تھا۔۔۔۔۔

رتابہ کو چھڑا کر نرگس نے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔

عضد چلانے لگا آپ نے اچھا نہیں کیا اسکی وجہ سے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر وہ بھی اس کے سامنے۔۔۔۔۔

نرگس کی آواز بھی قدرے بلند تھی تم سے اتنی گھٹیا حرکت کی امید نہیں تھی مجھے تم نے چھوا بھی کیسے اسکو؟؟؟؟؟

ابھی تو کچھ نہیں کیا میں نے اسکے ساتھ لیکن اس کی وجہ سے جو تھپڑ مارا ھے نا آپ نے مجھے اسکا حساب تو میں برابر کر کے رہونگا اسکی آنکھوں میں خون اترا ھوا تھا۔۔۔

نکلو یہاں سے باہر اور خبر دار جو دوبارہ اسکی طرف نگاہ بھی کی تو نرگس نے اسکے غصے کی پرواہ کیے بغیر کہا۔۔۔۔

اس نے غصے سے ہانپتی سانسوں کے ساتھ پاس بڑا گلدان ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر دے مارا۔۔۔۔۔

شیشہ ٹوٹنے کی آواز سے دونوں ڈر گٸیں۔۔۔۔

عضد انگلی اٹھا کر اسے دھمکا کر بولا تمھیں تو میں دیکھوں لوں گا پھر تیز تیز قدموں سے کمرے سے ہی نہیں گھر سے ہی چلا گیا

__________________

آج بھی وہ پورا دن گھر نہيں آیا

نرگس کو پریشان دیکھ کر رتابہ بولی آنٹی آپ میری وجہ سے پریشان نہ ہوں اپنے بیٹے پر غصہ بھی نا کریں وہ مجھے نہيں کریگا برداشت کبھی بھی اس گھر میں آپ نے نا صرف شک کیا بلکہ اس پر ہاتھ بھی اٹھایا رتابہ آنسو بہاتی سر جھکائے نرگس سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔

نرگس اب تک شاکڈ تھی عضد کو اپنی آنکھوں سے رتابہ کیساتھ زیادتی کرتا دیکھ کر۔۔۔۔

آنٹی کل تک وہ میرا مجرم نہيں تھا لیکن آج اس نے مجرم بننے کی پوری کوشش کی جوان بیٹا ھے آپکا کہیں جذبات میں آکر کچھ اور نا کر بیٹھے۔۔۔۔

اسکی نفرت مجھے بھی لے ڈوبے گی کل کے پچھتاوے سے بہتر ھے آپ مجھے یہاں سے کسی یتیم خانے میں یا کسی ٹرسٹ میں بھجوا دیں۔۔۔۔

نرگس اسکی لاچارگی اور لاوارثی پر خدا کے خوف سے ڈر کر بولی ایسا نہيں کر سکتی میں یتیم خانوں کے حال سے ابھی تم واقف نہيں ھو وہاں تمھاری عزت روز داٶ پر لگے گی۔۔۔۔

پھر نرگس اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر مذید بولی۔۔۔۔۔

مجھے معلوم ھے میرے یہاں سے جا کر تم زندہ نہيں رہ سکو گی اور تمھاری خود کشی کی وجہ میں نہيں بن سکتی نرگس اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما تم یہیں رھو گی میرے پاس میرے ساتھ۔۔۔۔

وہ رو پڑی آپ کب تک رکھوالی کریں گی میری ۔۔۔۔۔

عضد کسی صورت نہيں چھوڑے گا مجھے کیوں آپ میری وجہ سے اپنے گھر کا اور اپنے بیٹے کا سکون برباد کرتی ہیں۔۔۔۔۔

یہ تمہاری سوچ ہے کہ تمہاری وجہ سے میرا یا میرے بیٹے کا سکون برباد ہوا ہے بلکہ میں کتنی پرسکون ہوئی ہوں تمہارے آنے سے کہ میں بتا نہیں سکتی۔۔۔

میری بیٹی نہيں ھے تمہاری شکل میں اللہ نے مجھے بیٹی دی ہے اور بیٹیوں کو اس طرح رسوا کر کے بے آسرا گھر سے نہیں نکالا جاتا۔۔۔۔۔۔

رتابہ نے نرگس کے پر نور اور مہربان چہرے کیطرف بے یقینی سے دیکھا۔۔۔۔

میرا بیٹا ہے وہ اسے اچھے سے جانتی ہوں اتنا سخت دل نہیں ھے وہ ضد میں آیا ھوا ھے میری وجہ سے اسے منا لونگی میں اسے۔۔۔۔۔

___________

رات کو وہ لوٹ کر آیا نرگس نے اس کے آگے کھانا رکھا اس نے کھانے سے انکار کر دیا اور چپ چاپ اپنے آپ کو کمرے میں لاک کر لیا ماں کی ضد کے آگے اس نے فی الحال رتابہ کے معاملے میں خاموشی اختیار کر لی لیکن اپنی بات چیت بلکل ختم کر دی۔۔۔

روز صبح ناشتے کے بغیر وہ گھر سے آفس چلا جاتا اور رات گئے گھر واپس آتا نرگس نے بھی کچھ وقت کیلیے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔۔

آنٹی آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔

اریج کی آواز سن کر نرگس خوشی سے باہر آٸ۔۔۔۔

اسلام علیکم کیسی ہیں آپ خیریت سے ہیں ۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔

کیسی ہو میری بیٹی میری جان نرگس نے اسے پیار سے گلے سے لگایا تم کب آئی لندن سے واپس اور بتایا بھی نہيں مجھے۔۔۔۔۔۔

ارے انٹی جی سب سے پہلے آپ کے پاس آٸ ھوں۔۔۔۔

نرگس کے بلانے پررتابہ کمرے سے باہر آئی اریج اسے دیکھ کر کافی حیران ہوئی یہ کون ہے آنٹی۔۔۔۔۔۔

نرگس اسے پیار سے اپنے ساتھ بٹھا کر بولی میری ہونے والی بہو۔۔۔۔۔۔

نرگس کی یہ بات سن کر اریج خوشی سے اچھل پڑی جب کہ رتابہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔

نرگس نے ان دونوں کو متعارف کروایا۔۔۔

رتابہ یہ بھی میری بیٹی سمجھو ھمارے سامنے والے گھر میں رہتے ھیں۔۔۔۔۔

اریج بے چینی سے بولی۔۔۔

کب کر رہی ھیں آپ اس سڑیل کی شادی جلدی سے کر دینا پلیز میں صرف تین دن کیلیۓ آٸ ھوں پاکستان میں اس نخرو کے سر پر سہرا خود باندھونگی۔۔۔۔۔۔

نرگس کو ہنسی آ گئی اس کی بے چینی دیکھ کر۔۔۔۔

نرگس نے ھنستے ھوۓ کہا چلو کل شاپنگ کر لیتے ہیں اس کی تھوڑی بہت پرسوں نکاح کیا خیال ہے تمہارا ۔۔۔۔۔

رتابہ انکی بات سن کر وہاں سے اٹھ گٸ۔۔۔۔۔۔

اریج نے نرگس کو گلے لگا کر چوم لیا میرے دل کی بات کہہ دی آپ نے چلیں آج ہی چلتے ھیں نا شاپنگ پر۔۔۔۔۔

نرگس کی نا کہ باوجود وہ زبرستی لے گٸ انکو ساتھ اسکی ضد اور خوشی کے آگے نرگس کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔۔۔۔۔

رتابہ پورے راستے بلکل خاموش رہی۔۔۔۔

شام کو گھر آتے ہی رتابہ نرگس کے پاس آئ یہ کیا کر رہی ھیں آپ ؟؟؟؟؟

کیوں بیٹا میں کوٸ گناہ کا کام تو نہيں کر رہی۔۔۔۔۔

کیسے ھو سکتی ھے میری شادی عضد سے وہ حیرت سے پھٹی آنکھوں سے نرگس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

نرگس نے اسے دیکھ کر آرام سے کہا بلکل ایسے جیسے سب کی ھوتی ھے۔۔۔۔

نہيں انٹی نہیں ایسے نہیں ھو سکتا نا ممکن ھے یہ عضد نہيں مانے گا وہ بہت نفرت کرتا ھے مجھ سے۔۔۔۔

تم مان جاٶ عضد کو چھوڑو اور رہی بات اسکی نفرت کی تو نکاح کے بندھن میں بڑی طاقت ھوتی ھے اللہ تعالیٰ کے کرم سے اسکی نفرت جلد ہی محبت میں بدل جاۓ گی۔۔۔۔۔

انٹی آپ زبردستی نہيں کر سکتیں عضد کے ساتھ وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا تو رتابہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔۔

وہ دنیا چھوڑ سکتا ھے مجھے نہيں۔۔۔۔۔

اک یقین سا تھا نرگس کو اپنے بیٹے پر جو اسکی آنکھوں سےچھلکتا ھوا رتابہ کو بھی محسوس ھوا۔۔۔۔۔

وہ خاموش ھو گئ یہ سوچ کر کہ عضد نہیں مانے گا تو نرگس آنٹی بھی خود ہی اس معاملے پر خاموش ھو جائیگی۔۔۔۔

_________

صبح ہوتے ہی اریج عضد کے سر پر سوار تھی۔۔۔

وہ گاڑی دھونے میں مصروف تھا۔۔۔۔

ھیلو عضد۔۔۔۔۔

عضد نے اسکی طرف دیکھا۔۔۔

ارے بجو آپ ؟؟؟ آپ کب آٸیں وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔۔

اریج ٹراؤزر اوپر چڑھاۓ سرف والے پانی سے پھلانگنے ھوۓاسکے قریب آئ اس نے بڑے پیار سے اسکا سر اپنے سینے سے لگایا اریج نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر چوما۔۔۔۔

بجو کے بچے تم تو چھپے رستم نکلے اب وہ اسکے گال پکڑے کھڑی تھی۔۔۔۔

سب کچھ طے کر لیا اور مجھے خبر تک نہیں کی۔۔۔۔۔

عضد نے مسکرا کر ہاتھ پر لگا سرف اریج کے گالوں سے صاف کیا جس پر اریج اس سے بچنے کیلیے پیچھے ہٹی تو سرف سے سلپ ھوئ عضد نے بڑی پھرتی سے اسے سنبھالا اور اسکے سر پر ہلکی سے ٹکر مار کر کہا بجو جانی پنگا از ناٹ چنگا۔۔۔۔

اریج ھنسی تو دونوں ایک ساتھ ھنس پڑے۔۔۔

میں ناراض ھوں تم سے وہ گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑی تھی اب۔۔۔

کیوں بھئ کیوں ناراض ھیں آپ۔۔۔۔

یار تم نے مجھے بتایا تک نہیں ایسا کرتے ھیں بڑی بہنوں کیساتھ۔۔۔۔

کیا نہیں بتایا میں نے کیا کہہ رہی ہیں آپ؟؟؟؟

اریج بولی بس بس رہنے دو زیادہ بنو مت آنٹی نے مجھے سب بتا دیا ہے۔۔۔

وہ پانی کی بالٹی ساٸیڈ پر رکھ کر بولا کیا بتا دیا ہے آنٹی نے آپ کو۔۔۔

ارے تم تو ایسے اوور ایکٹنگ کر ہو جیسے تمہیں کچھ معلوم ہی نہیں اریج نے اسکی ناک پکڑ کر دبائ۔۔۔۔۔۔

وہ بھی بدلے میں اریج کی ناک دبا کر بولا۔۔۔

نہیں معلوم اسی لئے تو پوچھ رہا ہوں مجھے بھی تو پتہ چلے۔۔۔۔۔۔

تمھاری شادی کی بات کر رہی ھوں آج شام نکاح ھے نا تمھارا۔۔۔۔۔

کیاااااااا میری شاااااااادی عضد نے حیرانی سے دیکھا۔۔۔

حیران تومجھے ھونا چاھیۓ اتنے اچانک دلہے میاں جو بن رھے ھو تم۔۔۔۔۔۔

نرگس سے اسکی بات چیت بند تھی اریج کے منہ سے یہ نیا انکشاف سن کر اسکے تو ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے۔۔۔۔

اریج کا فون آیا اسکے پاپا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔

ابھی تو جا رہی ھوں پھر آ کر تم سے نمٹتی ھوں وہ فوراً گھر چلی گٸ۔۔۔۔۔

اور عضد غصے سے ہانپتا ہوا نرگس کے سر پر آن کھڑا ہوا جو رتابہ کے نۓ جوڑے شاپر سے نکال رہی تھیں۔۔۔۔

یہ کیا سن رہا ہوں میں کیا کہا ہے آپ نے بجو سے۔۔۔۔

نرگس نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا یہ کیا طریقہ ہے ماں سے بات کرنے کا تم تو تمیز بھی بھول گئے ہو بات کرنے کی۔۔۔۔۔

وہ دانت پیس کر بولا وہ دلہا بنا رہی ھے مجھے اور آپ بے وقوف۔۔۔۔

نرگس اسکے سامنے کھڑی ہوئی ہاں بنا رہی ہو میں تمہیں دلہا نکاح ھے آج تمہارا۔۔۔۔

عضد آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے بولا میرا نکاح کس کے ساتھ ؟؟؟

رتابہ کے ساتھ ۔۔۔۔۔

رتابہ کا نام سن کر وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔۔۔۔۔

کیا کہا آپ نے رتابہ سے؟؟؟ اسکی آواز بہت بلند تھی جسے میں دیکھنا بھی پسند نہيں کرتا اسکے ساتھ نکاح وہ بھی عضد شاہ کا آپ ھوش میں تو ھیں۔۔۔۔

ہاں میں ہوش میں ہوں اب تم بھی ہوش کے ناخن لے لو۔۔۔۔

میرے لیۓ وہ لاوارث گھر سے بھاگی ھوٸ لڑکی ہی رہ گٸ تھی میں ہرگز نہیں کر سکتا اس سے شادی۔۔۔۔۔

بکواس مت کرو۔۔۔۔

میں مرجاٶنگا لیکن اس کم ذات سے شادی نہيں کرونگا وہ ہنوز غصیلے تیوروں سے ماں کو گھور کر بولا پتہ نہيں کس کے ھاتھوں خود کو لٹوا کر آٸ ھے۔۔۔۔

نرگس اونچی آوازمیں بولی معصوم اور بے گناہ ھے وہ۔۔۔۔

ہاں بدمعاش اور گنہگار میں ہی ھوں اسکی آواز اب پہلے سے بھی بلند تھی کسی اور کا تھوکا میں نہيں چاٹ سکتا۔۔۔۔

نرگس نے اسے چماٹ مارنے کو ہاتھ اٹھایا لیکن رک گٸ۔۔۔۔

کیوں رک گٸ ھیں آپ ماریں مجھے بلکہ ایسا کریں جان ہی سے مار دیں تو بہتر ہے وہ نرگس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے منہ پر زور زور سے مار کر چلایا۔۔۔۔

نرگس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا کیا پاگل پن ھے یہ؟؟؟؟

وہ بہت بری طرح بکھر کر رہ گیا تھا ماں کی یہ بات سن کر اس نے پھر اپنی بات دوہرائی۔۔۔

امی میں نہیں کرونگا اس سے شادی آپ نے سوچ بھی کیسے لیا یہ سب؟؟؟؟ محض اک شک کی بنا پر آپ میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہیں کر سکتیں۔۔۔

میں نے شک کی بناہ پر یہ فیصلہ نہیں کیا اور شادی تمھیں کرنی ھوگی یہ میرا حکم ھے ۔۔

نرگس کا لہجہ حتمی اور فیصلہ کن تھا تمھارا نکاح آج ہی ھوگا اور رتابہ کیساتھ ہی ھوگا سن لیا تم نے۔۔۔۔

آپ کا حکم سر آنکھوں پر امی میں سولی پر لٹکنے کو تیارھوں لیکن رتابہ کے ساتھ نکاح کو ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

تمھیں میرا یہ فیصلہ ماننا ھوگا کوٸ تماشا مت لگانا اب میں نے سب کو دعوت دے دی ہے ابھی کچھ ہی دیر میں گھر میں مہمان آ جائیں گے۔۔۔۔

عضد کچھ دیر نرگس کو بے ںقینی کے عالم میں دیکھتا رہا پھر کاٹ دینے والے لہجے میں بولا۔۔۔۔

اگررررر میں آپکا اپنا بیٹا ھوتا آپ تب بھی ایسا کرتیں؟؟؟؟؟

عضد کی بات نرگس کے دل پر جا لگی وہ اپنے آنسو روک کر روانی سے بولی اگر میرا کوئ بیٹا ھوتا تو میں اسکے حق میں یہ فیصلہ ہرگز نا کرتی۔۔۔۔۔۔۔

جاری ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *