Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 42)

Bad Bakhat by Arshi Noor

نمل نے یہ سارا معاملہ شاہ جی کے سپرد کر دیا۔۔۔۔۔۔

کہ وہ ہر بات کی تحقیق تک پہنچے۔۔۔۔۔۔

اس نے شاہ جی کو یہ بھی بتا دیا کہ بندیا بابو کی بیوی تھی۔۔۔۔۔

شاہ جی کی ساری گرہیں اب جا کر کھلی تھیں کہ بندیا جس لڑکی کا ذکر کر رہی تھی وہ کوئ اور نہیں رتابہ ہی تھی۔۔۔۔۔

شاہ جی نے نمل سے وعدہ کیا کہ وہ بہت جلد ساری سچائ سامنے لے آۓ گا۔۔۔۔۔۔۔

____________________

عضد آفس میں اپنی چیئر سے سر ٹکاۓ گہری سوچوں میں گم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

آج دوسری فیکٹری سے مایا اسکے پاس آئ۔۔۔

اسے دیکھ کر اسے رونا آگیا۔۔۔۔۔

بڑھی ھوئ شیو بڑھے ھوۓ بال آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے سرخ ھوتی آنکھوں کی پتلیاں بلکل زرد پڑ گیا تھا اسکا چہرہ۔۔۔۔

اسے روتا دیکھ کر عضد سیدھا ھو کر بیٹھا۔۔۔۔۔

تم کیوں پریشان ھوتی ھو یار معاملات میرے ھیں ٹھیک ھو ہی جائیں گے۔۔۔۔۔۔

عضد تمھاری یہ حالت مجھ سے نہیں دیکھی جاتی پلیز خود کا خیال تو رکھو۔۔۔۔

سب تم پر ہی اپنا غصہ اتار رھے ھیں کوئ بھی یہ نہیں دیکھ پا رہا کہ تم کس عذاب سے گزر رھے ھ اور نا ہی کوئی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ھے کہ رتابہ تم سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لے رہی ھے۔۔۔۔۔۔

اور اسمیں بھی سراسر تمھاری ہی غلطی ھے۔۔۔۔

عضد اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا میری غلطی ؟؟؟؟

عضد برا مت ماننا میری بات کا وہ اجازت طلب لہجے میں بولی۔۔۔۔۔

نہیں مانوں گا بولو تم۔۔۔۔

عضد تم کردار میں رتبے میں اس سے برتر ھو طاقتور اور گناھوں سے آزاد ھو۔۔۔۔

رتابہ تمھارے مقابلے میں خود کو کمتر محکوم اور حقوق و فرائض کی رسی سے بندھا جانور سمجھتی ھے۔۔۔۔۔

تمھاری عادات اور تمھارا برتاؤ اس کے دل میں غلامی اور قید کی کیفیت کو جنم دے رھے تھے اور تم یہ جانتے ھو غلامی اور قید دونوں ہی انسان کو بغاوت پر اکساتی ھیں۔۔۔۔

عضد بہت توجہ سے اسکی بات سن رہا تھا۔۔۔۔۔

یہ حالات تو بجا مگر تم جانتے ھو تمھاری اس بے اعتنائی اور لاپرواہی کو لیکر اسکا کیا حال ھوتا ھوگا؟؟؟

چار سال سے وہ یہ سب کیوں برداشت کر رہی ھے؟؟ کبھی سوچا ھے تم نے؟؟؟اس نے عضد کیطرف دیکھا۔۔۔۔

نہیں سوچا عضد نے سادگی سے جواب دیا۔۔۔

یار وہ کمزور ضمیر کی مالک ھے اور کمزور ضمیر کے لوگ ھمت کر کے ان حالات سے بھاگ نکلنے جیسی عادات سے واقف نہیں ھوتے ۔۔۔۔

وہ جب کسی کے ماتحت ھوتے ھیں نا تو انکے ساتھ جیسا بھی برا سلوک رواں رکھو تو وہ بغاوت پر نہیں بلکہ غداری اور دھوکا دہی پر اپنے دل کو آمادہ کر لیتے ھیں وہ پھر تم جیسوں لوگوں سے بھاگتے نہیں بلکہ جھوٹی مسکراہٹ اور فریبی جی حضوری کا ساتھ لیتے ہوئے تمھارے ساتھ وابسطہ ھو کر اندر ہی اندر تمھیں ذلیل و خوار کرنے میں مگن ھو جاتے ھیں۔۔۔۔

تمھاری عزت سے سانجھ ختم کر کے دوسرے آقاؤں کے ما تحت ھوتے چلے جاتے ھیں اور اپنی انا کو تسکین پہنچاتے رھتے ھیں۔۔۔۔۔

عضد اسکی پوری بات سن اور سمجھ کر بولا۔۔۔۔

تمھارا کہنے کا مقصد ھے کہ رتابہ مجھ سے اپنی زیادتیوں کا بدلہ لے رہی ھے۔۔۔۔۔

تمھیں محسوس نہیں ھو رہا یہ سب؟؟؟؟ کہاں سے آیا بابو؟؟؟

کیسے پہنچا تم تک؟؟؟؟

اور وہ کیوں چلی گئ شاہ جی کے گھر تمھیں چھوڑ کر؟؟؟

تمھاری عزت کا تماشا گھر گھر لگا ھوا ھے۔۔۔۔

پہلے میں پھر علی پھر بابو پھر شاہ جی تمھارے گھر والے اور اب شاہ جی کے بھی گھر والے سب کی زبان پر تمھاری کہانی ھے اور سب کی نظر میں گنہگار اور ظالم بھی تمہی ھو۔۔۔۔

ابھی وہ مذید عضد سے کچھ کہتی لیکن عین اسی وقت شاہ جی کی آمد ھو گئ۔۔۔۔۔

مایا کو اب وہاں رکنا مناسب نا لگا۔۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ شاہ جی کی روح تک کو کھنگالتی ھوئ آنکھوں کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔

____________________

عضد آفس سے تھکا ہارا آکر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

نمل اسکے پیچھے آئ اور دروازے پر دستک دیکر اندر داخل ھوئ۔۔۔۔۔۔

وہ واش روم میں تھا۔۔۔

باہر آیا تو نمل سامنے ہی تھی۔۔۔۔

نمل کو سامنے دیکھ کر اسے اسکی کڈنیپنگ والی بات یاد آئ۔۔۔۔

عضد کا دل چاہا وہ اس سے پوچھے اس متعلق کہ کیا ھوا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ نا پوچھ سکا کہ ابھی اسکی اپنی کشتی منجھدار میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

نمل نے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔

وہ اسکے سامنے سر جھکاۓ بیٹھا۔۔۔

عضد میں نے کبھی تم سے رتابہ کے ماضی کے متعلق کوئ بات نہیں کی نا کبھی تم نے پوچھا۔۔۔۔۔

لیکن مجھے یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا کہ تم نے غیروں کی سن لی لیکن مجھ سے کسی بات کی تصدیق نہیں کی۔۔۔۔

عضد خاموشی سے اسے سننے لگا۔۔۔۔۔

عضد میں نے رتابہ کے ساتھ کافی وقت گزارا ھے اسکی دوست ھونے کے ناطے میں سب کچھ جانتی ھوں اسکے بارے میں۔۔۔۔

عضد نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

اگر سب کچھ جانتی ھو تو پھر بابو کو بھی جانتی ھوگی۔۔۔۔

نمل نے جھوٹ سے کام نا لیا صاف صاف الفاظ میں بات کی

نہیں اتنا نہیں جانتی لیکن یہ ضرور جانتی ھوں کہ اس گھٹیا انسان کے ساتھ رتابہ کا کوئ تعلق نہیں۔۔۔

اور جہاں تک بات ھے گوپال کی تو سوچنا بھی مت کہ انہوں نے کبھی رتابہ کو میلی نظر سے دیکھا بھی ھو گا رتابہ انکو اپنی بچیوں سے بھی زیادہ عزیز تھی۔۔۔

تم اور میں یا کوئی بھی دوسرا گوپال اور رتابہ کا رشتہ نہیں سمجھ سکتا کیونکہ گوپال کا رتابہ سے کوئ ایک رشتہ نہیں

وہ رتابہ کی ماں بھی ھے اور باپ بھی محافظ بھی ھے اور سائبان بھی۔۔۔۔

بہن بھی ھے بھائ بھی۔۔۔۔

دھوپ بھی ھے چھاؤں بھی۔۔۔۔۔

آنکھ بھی ھے آنسو بھی۔۔۔

درد بھی ھے درماں بھی۔۔۔۔

تم نے سوچ بھی کیسے لیا گوپال انکل کے متعلق جانتے ھو تمھاری رتابہ بھگوان ھے گوپال کا وہ اسکی تعظیم میں اپنا ماتھا ٹیک کر پوجتے ھیں اسے۔۔۔۔۔۔

عضد اپنے لب بھینچ کر بولا۔۔۔۔

میں نے کبھی کچھ نہیں سوچا تھا ایسا نا کبھی اس سے ماضی کا سوال کیا تھا کہ وہ کون ھے کہاں سے آئی ھے؟؟؟

بس میرا سوال اس سے دیان کا تھا اور ھے کہ وہ کس کا بچہ ھے؟؟؟ اس نے تم سے بھی جھوٹ بولا۔۔۔

نمل تاسف سے بولی۔۔۔۔

ہاں میں مانتی ھوں اس نے مجھ سے بھی دیان کے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ھے یہاں وہ قصور وار ھے لیکن اس نے امی سے یا تم سے جھوٹ نہیں کہا۔۔۔۔

تمھیں وہ جس حال میں ملی اور جسطرح تم سے شادی ھوئ اسکی ظاہر ھے کسی بھی مرد کیلئے یہ سب سہنا آسان نہیں تھا آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا۔۔۔۔

اور تم نے تو ایک ایسی لڑکی کو قبول کیا جسکے ماضی کے بارے میں تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔۔۔۔۔۔۔

عضد ھمارا معاشرہ کسی طور پر قبول نہیں کر سکتا رتابہ جیسی عورت کو اور تم جیسے سلجھے ھوۓ اپنی ذات میں مکمل مرد سے تو یہ توقع ہی نہیں لگائی جا سکتی کہ بختی کا ہاتھ تھام کر تم اپنی زندگی گزار سکتے ھو۔۔۔

عضد نے صبر سے دانت پیس کر سر جھکایا ھوا تھا۔۔۔۔

یہ سچ ھے کہ رتابہ کو تم deserve نہیں کرتے امی نے بھی یہاں جلد بازی میں کام لیا خیر جو ھونا تھا سو ھوگیا۔۔۔۔

لیکن یہ تم نے کیا کیا ھے عضد؟؟؟؟

اعتبار کے کِس مقام پر لا کر تم نے دھتکارا ھے رتابہ کو؟؟؟؟؟

اب وہ شکوہ کناں لہجے میں مخاطب تھی عضد سے۔۔۔۔۔۔

جو بلکل خاموشی سے اسے بس سنے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

بندیا پائل دیوی آنٹی یہ سب تو ازل سے ہی رتابہ کی دشمن ھیں وہ تو اسکے منہ میں ڈالا نوالہ بھی چھین لیتی تھیں۔۔۔۔

تمھارے ساتھ دیکھ کر ان سے یہ کیسے ہضم ھوتا کہ انکے ٹکڑوں پر لاوارث پلنے والی بد بخت آج شاہ بخت کیسے بن گئ؟؟؟؟؟

عضد نے کافی دیر بعد اسکی تقریر کے آخری سوال پر لب کھولے۔۔۔۔۔۔

لیکن نمل یہ بھی تو سوچو کہ ایک بیٹی اپنے باپ پر اتنا بڑا الزام کیسے لگا سکتی ھے؟؟؟

نمل کندھے اچکا کر بولی۔۔۔

الزام ہی تو ھے لگانے میں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا نا تکلیف ھوتی ھے نا زبان گونگی ھوتی ھے نا نیت سامنے آتی ھے نا زمین پھٹتی ھے نا آسمان نگلتا ھے۔۔۔۔۔

نمل کا لہجہ سخت ھو گیا تھا۔۔۔۔۔

عضد اپنی بات پر زور دیکر بولا۔۔۔۔

لیکن اپنے ہی باپ اور شوہر پر کیوں لگا رہی ھے وہ الزام کچھ تو ایسا معاملہ ھے نا۔۔۔۔۔

دیکھو عضد باپ کا الزام اس لیے لگایا کہ بختی انکے زیر سایہ پلی اور شوہر کا اسلیۓ کہ وہ اسکے اشاروں پر چل سکتا تھا۔۔۔۔

انکے علاوہ بندیا نے کسی اور کا ذکر کیوں نہیں کیا؟؟؟

عضد گہری سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔

نمل نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا کیونکہ کسی اور کے خلاف وہ اپنا جھوٹ سچ ثابت نہیں کر سکتی۔۔۔۔

لیکن تمھیں تمھارے سارے سوالوں کا جواب اب میں ثبوت سمیت جلد ہی دونگی تمھیں۔۔۔۔۔۔

عضد نے کن اکھیوں سے رتابہ کی طرف دیکھا پھر اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔

اک بات تو بتاؤ۔۔۔۔

یہ سب سن کر تم نے خود کیوں نہیں پوچھا رتابہ سے؟؟؟؟

عضد کی آنکھیں سرخ ھو رہی تھیں۔۔۔۔

ھم دونوں میں اتنی قربت نہیں ھوئ تھی کہ ایک دوسرے کو شیئر کرتے لیکن اسکے باوجود میں نے کئ بار اس سے پوچھا کہ دیان کس کا بچہ ھے وہ ھمیشہ یہی کہتی رہی اسے نہیں معلوم۔۔۔۔

اور بابو ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات ثابت کرنے کو تیار تھا کہ وہ اسی کا بچہ ھے۔۔۔۔

عضد یہ بات اس سے نا کرسکا کہ تم جب اغواء ھوئ تھی تو ھو سکتا ھے یہ سب معاملات تب ھوۓ ھوں۔۔۔۔۔

اور وہ یہ بھی نا کہہ سکا کہ تمھارے اغواء کا ذمہ دار بھی سب لوگ رتابہ کو ہی ٹھہرا رھے ھیں کیونکہ نمل کی اغواء کے چند دن بعد ہی لوگوں کے مطابق وہ گھر سے فرار ھوئ تھی۔۔۔۔

لیکن نمل اسکے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گئ تھی وہ اسے کھوجتی ھوئ نظروں سے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔

کہیں تمھارے ذہن میں یہ سوال تو نہیں کہ میرے کڈنیپ ھونے کے بعد یہ سب ھوا ھو؟؟؟؟؟

عضد نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔

بولو نا یہی سوال کرنا چاھتے ھو لیکن کر نہیں پا رھے۔۔۔۔۔

عضد گہری سانس لیکر اپنا پہلو بدل کر رہ گیا نمل کے اسطرح دیکھنے پر۔۔۔۔

میرے کڈنیپ کے بعد جو بھی ھوا رتابہ کیساتھ وہ ساری سچائ میں تمھیں بتا دونگی لیکن مجھے یقین ھے رتابہ نے امی سے جھوٹ نہیں بولا ھوگا۔۔۔۔۔

عضد کچھ نا بولا خاموش ہی رہا۔۔۔۔

ویسے تمھیں یہ بات بھی میرے پڑوس سے ہی معلوم ھوئ ھوگی۔۔۔۔۔۔۔

عضد ہاں میں سر ہلاتے ھوۓ بولا جی اور اسکا الزام بھی رتابہ کے سر پر ھے کہ اس نے تمھیں کڈنیپ کروایا تھا۔۔۔۔

نمل عضد کی یہ بات سنکر تلملا اٹھی لیکن بڑی مشکل سے اس نے اپنے اعصاب کو کنٹرول کیا۔۔۔

یہ بکواس تم سے کس نے کی؟؟؟؟

تمھارے محلے والوں نے کی۔۔۔۔

اچھا تو جنکے پاس تمھیں بندیا لے گئ یقیناً انہی نے کی ھوگی

عضد سنجیدگی سے بولا۔۔۔

نہیں بندیا نے مجھے کچھ بھی ایسا نہیں کہا۔۔۔

نمل کو غصہ آنے لگا تھا تو پھر کس کی باتوں پر اندھا یقین کر بیٹھے ھو تم؟؟؟؟

صرف دیوی پر؟؟؟؟؟

عضد نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔۔

عضد تم مجھ پوری تفصیل سے بتا سکتے ھو ھوا کیا تھا کب کون کہاں کیسے تم سے ملا نمل عضد کے منہ سے سب سننا چاھتی تھی تاکہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکے۔۔۔۔

بندیا اور بابو تم تک کیسے پہنچے؟؟؟؟؟؟

عضد نے A to Z بندیا کے ملنے سے بابو کے گھر آنے تک ساری بات بتائی۔۔۔۔۔۔

اسکی بات تحمل سے سن کر نمل نے اس سے ایک سوال پوچھا۔۔۔۔

تم کیا چاھتے ھو اب؟؟؟؟

عضد اپنی جگہ سے کھڑا ھوگیا۔۔۔۔

میں رتابہ کو چھوڑ نہیں سکتا۔۔

وہ اسکے مقابل آکر کھڑی ھوئ اور رکھ بھی نہیں سکتے ساتھ ۔۔۔۔

عضد نے غصیلی نگاھوں سے اسے گھورا۔۔۔۔

میں سچ کہہ رہی ھوں عضد یہ سب سن کر تو اچھا خاصا انسان بھی پاگل ھو سکتا ھے اور غصے اور غیرت کے نام پر جان تک لے سکتا ھے۔۔۔۔

یہ تو تم ھو جو رتابہ کیساتھ اتنا کچھ سہتے آۓ اور یہ کہنا بھی غلط ھیکہ تم دونوں کے رشتے میں ظلم صرف رتابہ نے سہا

تم نے بھی اسکے ناکردہ گناھوں کی سزا برابر کاٹی ھے۔۔۔۔۔

تمھاری جگہ کوئ اور ھوتا تو لمحہ بھی نا لگاتا اور طلاق کے تین الفاظ رتابہ کے منہ پر مار کر اسے گھر سے نکال دیتا تم دونوں صابرین میں سے ھو۔۔۔۔

اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کیساتھ ھے نمل کے لہجے میں اب نمی گھلنے لگی تھی تم نے رتابہ کے ماضی کو اسے اپنے ساتھ جوڑ کر برداشت کیا اور رتابہ نے اپنا حال تم سے جڑ کر سہا۔۔۔

نمل عضد کی اندرونی تکلیف کا اندازہ اسکے ظاہری حلیۓ سے باآسانی کر سکتی تھی۔۔۔

وہ مذید بولی۔۔۔۔

پہلے میں تمھیں غلط سمجھتی تھی لیکن اب اندازہ ھوا ھے کہ غلط تم بھی نہیں ھو شوہر ھونے کی حیثیت سے تمھارا حق بنتا ھے کہ تم اسکے بارے میں پوری جانکاری رکھو۔۔۔۔

چاھے وہ اسکا ماضی ھو حال ھو یا مستقبل ۔۔۔۔۔۔۔

غلط رتابہ بھی ھے کہ اس نے تمھیں اعتماد میں نہیں لیا لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس نے تمھیں دھوکہ دیا یا اندھیرے میں رکھا۔۔۔۔۔۔

عضد کو نمل کی بات سن کر کچھ تسلی ھوئ کہ اسکے اپنوں میں کوئ ایک تھا جو آج اسکے حق میں بولا تھا۔۔۔۔۔۔

بات کرتے کرتے نمل کا لہجہ بھیگنے لگا اور آنسو گالوں پر لڑھک آۓ۔۔۔۔

وہ بیچاری تو خود اپنی قسمت کی کال کوٹھری میں بند ھے کہاں تم پر اپنے وہ دریچے کھولتی جو آج تک اس پر نا کھل سکے۔۔۔۔۔

عضد نے پلٹ کر گہری نگاھوں سے نمل کو دیکھا۔۔۔۔

میں جانتی ھوں تم ھم سب سے زیادہ رتابہ کے ساتھ مخلص ھو اسے اذیت اپنی ذات سے پہنچا کر بھی تم نے اسے تنہا کبھی نہیں چھوڑا اپنے نام کیطرح اپنے ساتھ لیۓ پھرتے ھو اسے۔۔۔۔۔

لیکن میں یہ بھی جانتی ھوں ۔۔۔۔۔۔

عضد کسی بھی اخلاص بھرے تعلق میں ایک دوسرے کے صبر کو آزمانا اور پھر نفرت کی آگ سے جھلسے ھوۓ ارمان کیساتھ نکل کر محبت کی آگ میں کود جانا بھی آسان نہیں۔۔۔۔۔

عضد کے دل سے اک ٹھیس سی اٹھی۔۔۔

وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے جذبات لہجے میں سمو کر بولا۔۔۔۔۔

اسکی حقیقت کا تذبذب زہر کی طرح پھیلتا جا رہا ھے میری رگ رگ میں نمل میں نہیں سمجھ پا رہا کہ وہ میری خواہش تھی یا میرے لیۓ مرگ تمنا ھے اب ۔۔۔۔۔۔

نمل کا دل تڑپ اٹھا یہ جان کر کہ عضد کو اب اپنی زندگی سے کوئ دلچسپی کوئ لگاؤ نہیں رہا تھا ان سب حالات سے وہ مایوسیوں کی اتھا گہرائیوں میں جا اترا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی بیزاری رتابہ کی غیر موجودگی میں اسکے انگ انگ سے چھلک رہی تھی۔۔۔۔۔

بہت بری طرح سے اسکی ذات آج مسمار ھوتی نظر آرہی تھی جو محبت کے ابتدائیہ مراحل میں کل تک زیر تعمیر تھی۔۔۔۔

عضد کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں اور اسکے دل سے ایک ہی آواز نکلی اے کاش۔۔۔یہ سب خواب ھو یا جھوٹ ھو کچھ بھی سچ نا ھو۔۔۔۔۔

عضد نے اپنے آنسو پونچھ کر اپنا رخ کھڑکی کیطرف کر لیا۔۔۔۔

عضد تم اب تک اپنے آپ سے تنہا جنگ کرتے رھے اور رتابہ اپنے نصیب سے۔۔۔۔

لیکن اب ان سب باتوں کا اپنے انجام تک پہنچنا ضروری ھے۔۔۔۔

اچھا ہی ھوا کہ سب کھل کر سامنے آیا اب اسمیں کتنا جھوٹ اور کتنا سچ ھے یہ بھی سامنے لانا ضروری ھے۔۔۔۔

اور تمھارے سارے شکووں کو بھی تسلی بخش جواب ملنے چاھیے تاکہ اپنی آنے والی زندگی کو لیکر تم تمام حقائق کی روشنی میں بہتر فیصلہ کر سکو۔۔۔۔۔۔

نمل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تم اکیلے نہیں ھو میں بھی تمھارے ساتھ ھوں۔۔۔۔۔

آج پہلی بار نمل نے عضد کو اپنے ساتھ کا یقین دلایا تھا۔۔۔۔۔۔

اسکو نمل سے کچھ ڈھارس سی محسوس ھوئ کہ وہ ہر لحاظ سے عضد کیلیے قابل یقین تھی۔۔۔۔۔

___________________

عضد کے بعد نمل کا اگلا ٹارگٹ دیوی تھی وہ اپنے پرانے گھر گئ اسے وہاں کوئ نا ملا۔۔۔۔۔

وہ گھر واپس آئ اور شاہ جی کے ذریعے دیوی کا گھر معلوم کیا اور علی کیساتھ دیوی کے سامنے موجود تھی۔۔۔۔

دیوی اسے اتنے سالوں بعد یک دم اپنے سامنے دیکھ کر ششد رہ گئ۔۔۔۔۔۔۔

پھر اپنی حیرت سمیٹ کر اسے اندر آنے کو کہا۔۔۔۔

اندر آ کر نمل پھٹ پڑی اس پر۔۔۔۔۔

بہت افسوس ھوا آنٹی مجھے یہ جان کر کہ آپ نے اپنے شوہر گوپال پر اتنا گھناؤنا الزام لگایا۔۔۔۔

آپ کو شرم نہیں آئ اپنی دو بیٹیوں کیطرف دیکھ کر بھی۔۔۔۔۔

دیوی تو انتہا درجے کی بد تمیز خاتون تھی اور اب تو بات تھی بختی کی جس کے نام پر دیوی کے اندر انسانیت مکمل طور پر ختم ھو جاتی تھی۔۔۔۔۔

اب اس نے تمھیں اپنا وکیل بنا کر بھیجا ھے تو کان کھول کر سن لے میری بات۔۔۔۔۔

آج آئ ھے میرے در پر اس کم ذات کے کہنے پر دوبارہ مت آیو۔۔۔۔

نمل اسی کی طرح کرخت لہجے میں جواب دیتی بولی۔۔۔۔

میں اس کم ذات کے کہنے پر نہیں آئ بلکہ آپکی ذات دیکھنے آئ ھوں جو اسے نیچا دکھانے کیلئے شرمناک مقام تک نیچے آ گری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیوی اسکی بات پر بلبلا اٹھی۔۔۔۔

دیکھ نمل میں تیرے منہ نہیں لگنا چاھتی چلی جا یہاں سے۔۔۔۔۔

جاؤنگی میں لیکن آپکا دروغ گو اور بھیانک چہرہ آپکو آئینے میں دکھا کر جاؤنگی۔۔۔۔۔

دیوی اپنے جاہلانا انداز میں چلا کر بولی۔۔۔

ھمیں آئینہ دکھانے سے پہلے اس بد بخت کا پس آئینہ دیکھ جسے دیکھ کر تجھے اپنے آپ سے بھی شرم آۓ گی۔۔۔۔۔

بختی کے نام پر نمل جوشیلے انداز میں گویا ھوئ۔۔۔۔

ذرا بھی آپکی آنکھوں میں خوف نہیں حالانکہ اس پر ظلم کی انتہا کرتے کرتے آج اپنی بیٹی بندیا کا اور اپنا انجام دیکھ کر بھی آپکا دل نہیں کانپا۔۔۔۔

آپ کیا سمجھتی ھے بندیا کی اس حالت کی ذمہ دار بختی ھے؟؟؟؟ نہیں بختی نہیں اسکی ذمہ دار آپ ھیں۔۔۔۔

آپکی بچی آپکی بے رحمی کی سزا بڑی بے رحمی سے کاٹ کر رہی ھے۔۔۔۔

جس بختی کو آپ بھوک سے مارتی تھیں آج آپکی اپنی بیٹی اپنی بھوک مارنے کیلئے لوگوں کے آگے اپنا تن بیچتی ھے۔۔۔۔۔

جس بختی کے بدن پر اسے بھیک میں دیۓ ھوۓ پرانے کپڑے بھی برداشت نہیں ھوتے تھے آج آپکی بیٹی روز اپنے کپڑے اتارنے کا معاوضہ لیتی ھے۔۔۔۔۔۔

دیوی کا سانس رکنے لگا۔۔۔۔۔۔

یاد کریں وہ وقت جب بختی کو آپ بچے ھوۓ جوٹھے کھانے کھلاتی تھیں اور آج کا وقت دیکھیں انہی ہاتھوں سے لوگوں کے جوٹھے برتن دھوتی ھیں تو آپکو کھانا ملتا ھے۔۔۔۔۔۔

یہ اس بختی کے ساتھ کی ھوئ ہر ناجائز اور ظلم کا بدلہ ھے جسکا قرض آج آپکے حالات اور آپکی اولاد چکا رہی ھے۔۔۔۔

مجھے تو رحم آتا ھے گوپال انکل پر جس نے بھگوت گیتا کیطرح کسی لاوارث بچی کی حفاظت کی اس کو پالا۔۔۔۔

آج اسی کی اپنی گیتا در در اپنی عزت پامال کر رہی ھے۔۔۔۔۔

نمل کے آنسو جھر جھر بہنے لگے۔۔۔۔

دیوی کو تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا تھا اسکی پٹر پٹر کرتی زبان پر یک دم تالے پڑ گۓ۔۔۔۔

آنٹی جس جھوٹ کی آگ میں آپ نے بختی کو جھونکا ھے اب خیال کرنا اسی آگ کے شراروں سے آپ کو اپنا آپ زندہ نا جلانا پڑ جاۓ۔۔۔۔۔

نمل نے آج ٹھان لی تھی کہ وہ دیوی کے مردہ ضمیر کو جگا کر ہی جائیگی۔۔۔۔۔

آپ نے ایک بار نہیں بار بار بختی کو تباہ کیا اور صرف بندیا ہی کافی نا ھو شاید اب بھی وقت ھے معافی مانگ لیں اس سے ایسا نا ھو کہ آپکے رہتے مکافات چکانے کی باری اب پائل کے کندھوں پر آ جاۓ۔۔۔۔۔۔

بہت بد دعائیں دیتی تھی آپ اسے آج دیکھیں خود کو اسکے صبر نے آپکی بددعائیں پلٹ کر آپکے اپنے منہ پر دے ماری ھیں۔۔۔

دیوی سن ھوتے اعصاب کیساتھ بس اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔

آنسو بھی کچھ پل جم سے گۓ تھے اسکی آنکھوں میں اسکی انسانیت کیطرح۔۔۔۔

لیکن آج نمل کی باتوں نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔

وہ نمدیدہ نمدیدہ ھوتی روح سے جاتی ھوئ نمل کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔۔۔

_________________

شام کا وقت تھا موسم ابر آلود تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ جی ڈرائیو کرتا ھوا بندیا کے گھر پہنچا اسے اپنی چوکھٹ پر دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل سی ھونے لگی۔۔۔۔۔

شاہ جی کے ہاتھ میں کچھ پیپرز تھے اسکے کمرے میں آکر شاہ جی نے پیپرز اسکے سامنے رکھے۔۔۔۔

وہ انکو ٹٹولنے لگی یہ کیا ھے؟؟؟؟

اس گھر کے کاغذات ھیں جو اب تمھارے نام ھے۔۔۔۔۔

شاہ جی کی بات سن کر وہ جہاں بھر کی حیرت آنکھوں میں لیۓ بولی۔۔۔۔۔

ککککک۔۔کیا یہ گھررررر ممممم میرے نام پر؟؟؟؟؟

شاہ جی کے لبوں پر اسکی حیرت سے پھیلی آنکھیں دیکھ کر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔

ہاں میں نے خرید لیا تھا کافی ٹائم پہلے بس مصروفیت کی وجہ سے آ نہیں سکا اتنا کہہ کر شاہ جی نے سگریٹ سلگایا۔۔۔۔۔

اس احسان کی وجہ جان سکتی ھوں؟؟؟

احسان ضروری تو نہیں کسی خاص وجہ سے کیا جاۓ۔۔۔۔۔

میری عادت ھے میں ایک بار جس سے تعلق جوڑ لوں پھر اسکا دکھ سکھ میرا دکھ سکھ بن جاتا ھے۔۔۔۔۔۔

بندیا نے ستائشی نظروں نے شاہ جی کو دیکھا کیا واقعی میں تم مجھ سے تعلق رکھنا چاھتے ھو۔۔۔۔۔

وہ سگریٹ اپنے خوبصورت گلابی ھونٹوں کے درمیان رکھ کر بولا۔۔۔

تعلقات رکھنے والا نہیں نبھانے والا بندہ ھوں میں۔۔۔۔

وہ تو مجھے اندازہ ھو گیا ھے بندیا نے فخر سے اٹھلا کر کہا۔۔۔

شاہ جی سگریٹ کا گہرا کش لیکر بولا۔۔۔۔۔۔۔

اندازے انسان کے اکثر غلط بھی ثابت ھو سکتے ھیں۔۔۔

بندیا کو ھنسی آگئ وہ بڑے خوبصورت انداز میں گہری سانس لیکر کہنے لگی سب کچھ غلط ھو سکتا ھے لیکن تم غلط نہیں ھو سکتے۔۔۔۔۔۔۔

شاہ جی کو ھنسی آ گئ اسکی بات سن کر اچھااااا۔۔۔۔ ویسے اک بات پوچھوں تم سے۔۔۔۔۔۔

ہاں پوچھو۔۔۔۔۔۔

تمھارے اس انتقام کا کیا ھوا جسکی تپش میں اسوقت بھی تم جلتی ہوئی محسوس ھو رہی ھو۔۔۔۔۔

وہ کانچ کی میز پر آڑھی ترچھی لکیریں انگلی سے لگاتے ھوۓ شاہ جی کی بات سن کر رک گئ۔۔۔۔۔

پھر بڑے افسوس سے آہ بھرتی بولی ملا تھا ایک موقع پر نکل گیا میرے ہاتھ سے لیکن ہار میں نے بھی نہیں مانی اپنا بدلہ لیکر ہی دم لونگی۔۔۔۔۔

شاہ جی نے اسکی بات سن کر اسے بڑے پیار سے اپنے ساتھ کی پیشکش کی۔۔۔۔۔۔

ویسے چاھو تو شیئر کر سکتی ھو اس میں بھی تمھارا ساتھ دینے کو تیار ھوں شاہ جی اسے اپنے اعتماد میں لینے لگا۔۔۔۔۔

اس نے پلکیں اٹھا کر شاہ جی کو دیکھا۔۔۔۔

وہ مسکرایا گھور کیوں رہی ھو ایسے سچ کہہ رہا ھوں اعتبار کر سکتی ھو۔۔۔۔۔

بندیا اس پر اعتماد کیا کرتی وہ تو روز اول سے ہی اس پر ایمان لے آئ تھی۔۔۔۔

بندیا نے اسے بتا دیا کہ وہ بختی تک کیسے پہنچی تھی اور اسی نے بابو کو اسکے گھر بھیجا تھا لیکن اس نے مایا کا نام نا لیا جو اس نے انعم بتایا تھا۔۔۔۔۔

شاہ جی نے بڑے اطمینان سے انجان بنتے ھوۓ اسکی بات سنی

اچھا تو بختی اور تمھارے باپ کے بارے میں یہ سب تمھیں بابو نے بتایا تھا؟؟؟؟

ہاں بابو نے ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھایا تھا۔۔۔۔۔

تمھارے یا کسی اور کے سامنے تمھارے باپ نے کبھی کوئ غلط حرکت کی تھی بختی سے؟؟؟؟

نہیں دنیا والوں کے سامنے تو میرا باپو اسے دیوی کی طرح پوجتا تھا۔۔۔۔۔۔

ھمممممم یعنی بابو نے ان سب باتوں سے تمھیں آگاہ کیا اور پھر تم نے اپنی ماں کو بتایا یہ سب۔۔۔۔

وہ شاہ جی کے گورے گورے ہاتھوں پر اپنا نازک سا دودھیا ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔۔

ہاں اور آج تمھیں بتایا۔۔۔۔۔۔

شاہ جی بظاہر اسکا ساتھ دیتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام کر افسوس سے بولا میں تمھارے ساتھ ھوں تمھیں برباد کرنے والے اور اس مقام تک پہنچانے والے سب تمھارے سامنے لے آؤنگا۔۔۔۔۔۔

لیکن ایک سوال اور پوچھنا ھے تم سے شاہ جی گہری سوچ میں سوچتے ھوۓ بولا۔۔۔۔۔۔

ہاں پوچھو۔۔۔

عضد کو کیسےجانتی ھو؟؟؟؟

عضد کا نام سن کر بندیا ٹھٹک سی گئ۔۔۔۔

کون عضد؟؟؟

وہ اسکی بلوری آنکھوں میں جھانک کر بولا میں نے تمھیں ایک بار اسکے آفس سے نکلتے دیکھا تھا اب جھوٹ مت بولنا مجھ سے۔۔۔

بندیا نے الٹا شاہ جی سے سوال کیا ۔۔۔

تم کیسے جانتے ھو عضد کو؟؟؟؟

شاہ جی کو اصل کردار تک پہنچنے کیلیئے اس سے جھوٹ بولنا پڑا پرانی دشمنی ھے اس سے میری۔۔۔۔

شاہ جی اور عضد کی دشمنی کا سنکر بندیا کو ڈھارس ہوئی۔۔۔۔

پھر آرام سے انعم(مایا) کا بھی سچ بھی اگل دیا اس نے۔۔۔

شاہ جی نے فوراً سمجھ لیا کہ وہ لڑکی جسکا ذکر بندیا انعم نام سے کر رہی ھے وہ کوئ اور نہیں مایا ہی ھے۔۔۔۔۔۔

مایا کو اس معاملے میں ملوث پا کر شاہ جی کو دھچکا لگا پر اس نے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔۔

یہ انعم کون ھے؟؟؟ وور کیا چاھتی ھے عضد سے؟؟؟

بندیا اپنے لمبے سنہری بالوں کو چہرے سے ہٹاتی بولی۔۔۔

عضد سے کچھ نہیں چاھتی وہ بلکہ عضد کو دل و جان سے چاھتی ھے جو اسوقت مکمل اس بد بخت کے شکنجے میں ھے وہ کم ذات لوگوں کی محبتوں پر بھی ڈاکے ڈالنے لگی ھے اب۔۔۔۔

شاہ جی مذید کچھ نا سن سکا بختی کے بارے میں وہ سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر اٹھا۔۔۔۔

کہاں جا رھے ھو؟؟؟ بندیا نے اسے روکا۔۔۔

تمھاری ادھوری خواہش پوری کرنے۔۔۔۔۔۔

بندیا نے بے یقینی سے اسے دیکھا تم واقعی سچ کہہ رھے ھو؟؟؟

شاہ جی نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

اور جاتے جاتے پلٹا۔۔۔۔

جب تک سب تمھارے سامنے نا آ جائیں میرا ذکر کسی دوسرے سے مت کرنا کہ میں تمھارے ساتھ تھا۔۔۔۔

بندیا نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر خم کرتے ہوئے کہا جو حکم میرے آقا۔۔۔۔۔

شاہ جی پھر کچھ اور کہنے کیلیے رکا ذرا اپنے گھر کی بھی خبر لے لیا کرو۔۔۔۔۔۔

پائل اچھے راستے پر نہیں چل رہی کہیں ایسا نا ھو جس دلدل میں تم ھو کل وہ بھی اسی مقام پر تمھیں ملے۔۔۔۔۔۔

بندیا شاہ جی کی بات سن کر ہکابکا رہ گئ اور بھاگتے ھوۓ اسکے پاس آئ۔۔۔۔۔۔

تم کیسے جانتے ھو پائل کو؟؟؟؟؟

یہ بات رہنے دو اور میری بات پر غور کرو اسے میں نے مکیش کمار کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔۔

وہ بندیا کے ھوش اڑاتا نکل گیا۔۔۔۔

اور بندیا وہاں پتھر کا بت بنی کھڑی رہی کہ وہ اسکے بارے میں ساری معلومات کیسے رکھ سکتا ھے؟؟؟

_____________________

علی شاہ جی اور نمل ان تینوں کے درمیان تھی یہ ساری باتیں۔۔۔

مایا نرگس عضد کسی کو نہیں معلوم تھا کہ انکے بیچ کیا چل رہا ھے۔۔۔

بابو نے بھی بھاگنے کے بعد خوف سے کسی سے رابطہ نا کیا تھا بندیا کی مایا سے ایک دو بار بات ھوئ لیکن بندیا نے شاہ جی کا کوئی ذکر نا کیا۔۔۔۔۔

مایا اپنا گیم الٹنے پر بہت رنجیدہ تھی کہ اس نے کیا سوچا تھا اور یہ کیا ھو گیا تھا۔۔۔۔۔۔

عضد بہت پریشان تھا کہ اب اسکی اور رتابہ کی زندگی کا کیا ھوگا؟؟؟

عضد یہ بات سہہ نہیں پا رہا تھا کہ رتابہ اسے چھوڑ کر جا سکتی ھے وہ اپنے کمرے میں بیڈ سے ٹیک لگائے لیٹا ھوا تھا کہ اسے اچانک اپنے آس پاس رتابہ محسوس ھوئ۔۔۔۔

اس نے فوراً آنکھیں کھولیں تو وہ موجود نا تھی وہ بہت بے چین اور بے قرار ھو گیا تھا آج کتنے دن ھوگۓ تھے اس نے رتابہ کو دیکھا تک نہیں تھا اسکی آنکھیں بھی ترس گئ تھیں۔۔۔۔۔۔

اس نے نا کھانا کھایا نا گھر میں کسی کی غیر موجودگی نوٹ کی چابی اٹھائ اور سیدھا شاہ جی کی ماں کے گھر پہنچ گیا۔۔۔

ماں جی بہت محبت سے ملی اس سے۔۔۔

لیکن رتابہ اپنے کمرے سے باہر نا آئ۔۔۔۔۔۔۔

عضد کی آواز سننے کو اسکے کان ترس گۓ تھے وہ دروازے سے لگی عضد کی آواز سن کر روتی رہی۔۔۔۔

عضد مایوس ہی لوٹ گیا۔۔۔

وہ اسے لینے آیا تھا رتابہ نے صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ نہیں ملنا چاھتی عضد سے۔۔۔۔

سبحانہ زبردستی نا کر سکی اور عضد سے معذرت کر لی۔۔۔۔

رتابہ جانتی تھی کہ عضد اسے دیکھتے ہی دیوانہ وار اس سے لپٹ جاۓ گا اور وہ بھی اس سے الگ نا ھو سکے گی۔۔۔۔

بس ایک دوسرے سے ایک ملاقات کی دوری پر تھے وہ دونوں۔۔

وہ ڈرائیو کرتا ھوا سگنل پر رکا۔۔۔۔۔۔

تو برابر والی کار سے گانے کی آواز سن کر اسکی آنکھیں نم ھونے لگیں۔۔۔۔۔

بڑے کم نظر تھے ھم۔۔۔

گنہگار تھے ھم۔۔۔۔۔

مگر تیرے دل کو لبھاتے رھے ھیں۔۔۔۔۔

یہی سوچ کر تم بھلا دو خطائیں۔۔۔۔

تجھے ھم بہت یاد آتے رھے ھیں۔۔۔

فقط اک ملاقات مانگی ھے تم سے۔۔۔۔

ملا کر نظر کو گزر جائیے گا ۔۔۔۔۔

سگنل کب کا کھل چکا تھا وہ گم صم وہیں رکا رہا۔۔۔۔۔

پیچھے کھڑی گاڑیوں کے ہارن بجنے پر بھی وہ اپنی سوچوں سے باہر نا نکل سکا۔۔۔۔

ایک آدمی نے گاڑی سے نکل کر اسے ھوش کی دنیا میں واپس لایا تو اس نے گاڑی روڈ پر آگے بڑھائ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی وہ گھر نہیں پہنچا تھا کہ شاہ جی نے اسے کال کی کہ وہ فوراً اسکی حویلی میں آۓ جو ڈیفنس سائیڈ پر تھی۔۔۔۔۔۔

عضد کچھ دیر میں وہاں موجود تھا۔۔۔۔

نمل نرگس اور علی سب وہاں پہلے سے موجود تھے دیوی اور پائل بھی وہیں تھیں۔۔۔۔

عضد سب کو ساتھ دیکھ گھبرا گیا کہ کیا ھوا ھے؟؟؟

کچھ ہی پل میں شاہ جی ہال میں داخل ھوا بندیا اسکے ساتھ تھی۔۔۔۔۔

نمل اور عضد بندیا کو شاہ جی کیساتھ دیکھ کر کافی حیران ھوۓ اور بندیا نمل اور عضد کو دیکھ کر۔۔۔۔۔

دیوی نے آگے بڑھ کر بندیا کو گلے سے لگایا آج کئی سالوں بعد اسکی ماں اسکا دیدار کر رہی تھی وہ اسکے ایک ایک نقش کو چوم چوم کر رو رہی تھی پھر اسے اپنے ساتھ لگاۓ شاہ جی کے اشارے پر صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔

شاہ جی نے اپنے ایک ساتھی کو آواز دی بابو کو لیکر آؤ۔۔۔۔۔

شاہ جی کے دو ساتھی بابو کو پکڑے ھوۓ ان سب کے سامنے تھے۔۔۔۔۔۔

بابو کا حال مار کھا کر اتنا برا تھا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ھو پا رہا تھا۔۔۔۔

شاہ جی کے کہنے پر انہوں نے بابو کو فرش پر بٹھا دیا۔۔۔۔

شاہ جی ابھی اسکے پاس ہی آیا تھا کہ وہ کہنیوں کے بل رینگتا ھوا بندیا کے قدموں سے لپٹ گیا۔۔۔۔۔

مجھے معاف کر دے بندیا مجھے معاف کر دے میں نے تجھ سے بختی اور تیرے باپ کے متعلق سب جھوٹ بولا تھا وہ چلا چلا کر بول رہا تھا یہ سب میں نے بختی کو حاصل کرنے کیلئے کیا تھا قصور تیرے باپ کا نہیں میرا تھا۔۔۔۔۔۔۔

میں نے بختی کو اپنی ھوس کا نشانا بنانا چاہا تھا لیکن تیرے باپ کے ھوتے ھوئے میرا یہ خواب پورا نا ھو سکا۔۔۔۔

اسلیۓ اس پر میں نے یہ سارے الزامات لگائے تھے کہ وہ مجھ سے ڈر کر بختی کو میرے حوالے کر دے بختی بلکل بے قصور ھے اور گوپال چاچا بھی۔۔۔

وہ اپنا سر بندیا کے پیروں پر رگڑ کر بولا معاف کر دے مجھے۔۔۔

میں نے تجھے بھی برباد کر دیا اور خود کو بھی۔۔۔۔

وہ دھاڑیں مار مار کر اپنے آپکو پیٹنے لگا۔۔۔

علی نے دیان اور بابو کی DNA رپورٹ عضد کے سامنے رکھی۔۔

عضد نے رپورٹ کو چھوا تک نا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے زخمی شیر کیطرح بابو پر جھپٹا اسے گھونسوں اور لاتوں سے مارتا رہا۔۔۔۔۔

شاہ جی علی اور اسکے بندوں سے بھی وہ قابو میں نہیں آرہا تھا بابو اسکی مار کھا کر بیہوش ھو گیا۔۔۔۔۔

سب نے بڑی مشکل سے عضد کو کنٹرول کیا۔۔۔۔

علی تو اسکا غصہ دیکھ کر اتنا خوفزدہ ھو گیا تھا کہ جب اسے مایا کا پتہ چلا تو یہ اسکے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔۔۔

مایا کی سچائ ابھی دونوں بھائیوں کے درمیان تھی۔۔۔۔

کہ یہاں مایا بھی بابو کے جھوٹ کا شکار ھوئ تھی۔۔۔۔

ان سب باتوں میں مایا کا اتنا قصور تھا کہ اس نے بندیا کو عضد تک پہنچنے کا راستہ بنایا تھا۔۔۔۔۔

باقی سب کچھ بندیا نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔۔۔۔۔۔

شاہ جی نے بڑی مشکل سے اس بپھرے ہوئے عضد کو اپنے سینے سے بھینچا تھا۔۔۔۔

وہ شاہ جی کے سینے سے لگ کر تڑپ تڑپ کر با آواز رویا۔۔۔۔

ہر آنکھ اور وہاں کی درو دیوار بھی اسوقت اشکبار تھیں دیوی اور بندیا نے نمل کے پاؤں پڑ کر معافی مانگی۔۔۔۔

دیوی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کراہتے ھوۓ بولی بلکل سہی کہہ کر گئ تھی تو میری بچی میری بندیا نے میرے ظلم کا بدلہ چکایا ھے۔۔۔۔

_______________

شاہ جی نے بندیا اور دیوی کی منت سماجت دیکھ کر رتابہ کو اپنی حویلی میں لایا۔۔۔۔۔

رتابہ کو دیکھتے ہی بندیا اور دیوی اسکے قدموں میں آ گریں۔۔۔

رتابہ یہ سب دیکھ کر کافی حیرانی سے شاہ جی کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

شاہ جی نے بڑی محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

رتابہ کے چہرے کو دیکھ کر اسوقت شاہ جی کی آنکھیں بھی بھیگ گئ تھیں۔۔۔۔۔

وہ سر پٹخ پٹخ کر معافی مانگ رہی تھیں رتابہ سے۔۔۔۔۔

رتابہ نے دیوی آنٹی کو اوپر اٹھایا پھر بندیا کو۔۔۔

جن ہاتھوں نے ھمیشہ رتابہ پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا تھا آج وہی ہاتھ اسکے سامنے لاچارگی سے جڑے ھوۓ تھے۔۔۔۔۔

کتنا کٹھن ھوتا ھے یہ مرحلہ جب آپ کو زندگی بھر ذلیل اور رسوا کرنے والے خود اپنی رسوائیوں کے خوف سے فرار حاصل کرنے کیلئے آپ سے اپنے ان تمام مظالم کی معافی چاھتے ھیں جو آپکے لئے ناقابل فراموش ھوتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔

وہ مجرموں کیطرح کھڑی ہی رہیں اسکے سامنے ہاتھ جوڑے اور شاید تا قیامت کھڑی رہتیں وہ اگر انکو رتابہ معاف نا کرتی۔۔۔۔۔

بندیا کی صورت میں بہت سخت سزا کاٹی تھی دیوی نے بھی اور خود بندیا نے بھی۔۔۔۔

اللہ ایسا مقام کسی دشمن کی بہن بیٹی پر بھی نا لاۓ کہ وہ گھر کی زینت سے بازاروں کی رونق بن جائے۔۔۔۔

شاہ جی سے رتابہ کا رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔

کیونکہ جس انداز سے وہ رو رہی تھی شاہ جی کو ایسے لگا کہ اسکے آنسوؤں میں آج سارا جہان ڈوب جائیگا۔۔۔۔۔۔۔

گناہ کرنے والا اگر اپنے گناھوں سے شرمندہ ھوکر ان سے توبہ کرکے معافی کا طلبگار ھو تو رب تعالیٰ بھی انکو معاف فرما دیتا ھے۔۔۔۔۔

یہ تو رتابہ تھی دکھوں کی ماری آج رب نے اسے یہ مقام دیا تو اس نے فرعونیت کا لبادہ نا اوڑھا۔۔۔۔۔

بلکہ رب کو غفور الرحیم جان کر انکو معاف کردیا کہ وہ بھی تو رب سے اپنی ہر چھوٹی بڑی خطا کی معافی چاہتی تھی۔۔۔۔۔

مانا دیوی نے ہر طرح کا ظلم ضرور ڈھایا تھا رتابہ پر لیکن اسکی عزت کی حفاظت اس نے اپنی بچیوں کیطرح ہی کی تھی ۔۔۔

کبھی اسے گھر سے باہر نہیں نکالا تھا نا کسی لالچ میں آکر اسے کسی کے ہاتھ بیچا تھا نا اسکا ہاتھ کسی ایرے غیرے کے ہاتھ میں تھما کر اسے گھر سے چلتا کیا تھا۔۔۔۔۔

وہ کہتی دن میں ہزار بار تھی کہ اسے گوپال نکال دے گھر سے۔۔۔۔

لیکن یہ ھمت اٹھارہ سالوں میں دیوی نے خود بھی نا کی تھی نا اسکی بیٹیوں نے ۔۔۔۔۔

لیکن جسطرح کے حالات کا سامنا بندیا نے کیا تھا اسطرح کے حالات رتابہ کے نصیب میں اللہ تعالیٰ نے نہیں لکھے تھے۔۔۔۔۔

اور پھر وہ اس گوپال کی بیوی اور اولاد تھی جس گوپال نے اپنے سینے سے لگا کر اسے اپنی دھڑکنوں میں چھپا کر پالا تھا۔۔۔۔۔

بندیا اور دیوی جا چکی تھیں وہاں سے۔۔۔

شاہ جی اسے گھر واپس لے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ رتابہ سے پوچھے بنا نا رہ سکا کہ اس نے ایک ہی پل میں انکو کیسے معاف کر دیا؟؟؟؟؟

رتابہ نے گاڑی سے باہر آسمان کیطرف جھانکا اور پرسکون لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔

رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ھے کہ۔۔۔۔

مظلوم اور اللہ تعالیٰ کے بیچ کوئ پردہ نہیں ھوتا۔۔۔۔۔

پھر میں مظلومیت سے ظلمت کا راستہ کیسے اختیار کر لیتی؟؟؟؟ کیسے اللہ تعالیٰ کے اور اپنے بیچ پردے حائل کر لیتی۔۔۔

وہ خود اتنا بڑا غفور الرحیم ھے کہ پورررررررری دنیا کے گناہ پل بھر میں معاف کر سکتا ھے تو میں کون ھوتی ھوں ؟؟؟؟؟؟

جو اپنے ساتھ ھونے والے چند سالوں کے مظالم کا بدلہ لیتی؟؟؟؟

شاہ جی نے بڑے فخریہ انداز میں اسے دیکھا۔۔۔۔۔

میرے سارے معاملات اس رب العالمین کے سپرد ھیں جس نے آج ان گنہگاروں کو خود سے پہلے میرے سپرد کیا۔۔۔۔

میں کیا میری اوقات کیا؟؟؟؟؟

رب نے اپنے بندوں کی عاقبت کا فیصلہ مجھ جیسی ادنی سی بندی کے ہاتھ میں تھمایا دیا تو میں فرعون یا یزید بن کر گھاٹے کا فیصلہ کیوں کرتی؟؟؟

شاہ جی اسے سراہے بنا نا رہ سکا۔۔۔۔۔۔۔۔

ھو سکتا ھے بھائ میرے ذریعے سے اللہ انکو ہدایت کی راہ پر لانے کا منتظر ھو؟؟؟

بہت دور تک سوچا تھا رتابہ نے میں نے انکو دکھا دی اس رب کی راہ۔۔۔۔

آگے اللہ جانے اور اللہ کے کام۔۔۔۔۔

____________________

علی مایا کو آفس سے سیدھا شاہ جی کی حویلی پر لایا جہاں شاہ جی نے بابو کو اپنی قید میں رکھا ھوا تھا۔۔۔۔۔

مایا حویلی دیکھ کر بولی یہ تم مجھے کہاں لاۓ ھو؟؟؟

علی نے اسے اپنے سامنے بٹھایا۔۔۔۔

کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں تم سے اسلیے یہاں شاہ جی کی حویلی لایا ھوں۔۔۔۔۔

ایسی کونسی بات تھی جو تم گھر میں نہیں کر سکتے تھے؟؟؟

مایا اسے گھور کر بولی۔۔۔۔۔

نہیں کر سکتا تھا گھر میں یا باہر یا کہیں بھی۔۔۔۔

علی کا انداز آج بات کرنے کا مایا کو بہت عجیب لگا۔۔۔۔

علی کوئ تہمید باندھے بنا صاف گوئی سے مخاطب ھوا مایا سے۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں رتابہ کا گھر تباہ کرنے پر تلی ھوئ ھو تم؟؟؟؟؟

کیا چاھتی ھو تم؟؟؟؟

وہ غصے سے کھڑی ھوئ کیا بکواس ھے یہ؟؟؟؟؟

علی اسکے اتنا قریب ھو کر غرایا کہ وہ سہم کر رہ گئ۔۔۔

بکواس نہیں کر رہا میں۔۔۔۔

مایا دو قدم اس سے پیچھے ہٹی تو اپنے پیچھے کھڑی بندیا سے ٹکرائ۔۔۔۔۔۔۔

جب پلٹ کر اسے دیکھا تو بندیا کیساتھ دروازے پر زخموں سے چور چور بابو بھی موجود تھا۔۔۔۔۔

کیوں رک گئی نا سانس انکو سامنے دیکھ کر اب یہ مت کہنا کہ انکو جانتی نہیں ھو۔۔۔۔۔

مایا اپنا پول کھل جانے پر بری طرح بدحواس ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔

اور ساری سچائ جان کر اسکا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اسمیں سما جاۓ۔۔۔۔۔۔

شاہ جی بھی وہیں موجود تھا۔۔۔۔

علی نے اسے اپنے اور شاہ جی کے رشتے کے متعلق بھی سچ بتا دیا جسے جان کر اسے ایک اور دھچکا لگا تھا۔۔۔۔۔

شاہ جی کا دل چاہ رہا تھا وہ اسے گولی مار دے کیونکہ اس نے دیان کا الزام اس پر بھی لگایا تھا۔۔۔۔۔

مایا بلکل گونگی ھو گئ تھی ایک لفظ شرمندگی کے مارے اسکے منہ سے نا نکلا تھا۔۔۔۔۔

بس آنسو تھے جو لگاتار اسکے گالوں پر بہہ رھے تھے۔۔۔۔

علی اسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔

مجھے گھن آ رہی ھے اپنے آپ سے کہ میں تم جیسی بہن کا بھائی ھوں۔۔۔۔

تمھارا تو بس نہیں چلا ورنہ تم دیان کا الزام میرے سر بھی لگا دیتی اگر میں رتابہ سے پہلے مل چکا ھوتا تو۔۔۔۔

عضد کو یہ سب معلوم ھوا کہ تم بھی اسکی بربادی میں شامل ھو تو جانتی ھو وہ جان سے مار دیگا تمھیں۔۔۔۔

مایا نے روتے ہوئے علی اور شاہ کے آگے ہاتھ جوڑے پلیز عضد کو یہ سب مت بتانا۔۔۔

میں معافی مانگ لونگی رتابہ سے بھی نمل سے بھی لیکن پلیز عضد کو یہ سب مت بتانا۔۔۔

وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ لیکر پھوٹ پھوٹ کر روئ۔۔۔۔

شاہ جی نے اپنے لب کافی دیر بعد کھولے۔۔۔۔

تمھاری حرکتیں دیکھ کر ھمیں نہیں لگتا کہ تم ھمارا خون ھو۔۔۔۔

پھر وہ مایا اور بندیا دونوں سے مخاطب ھوا۔۔۔۔۔

اگر رتابہ تمھاری وجہ سے بابو کے ہاتھ لگ جاتی یا اسے رتی برابر بھی کوئ نقصان پہنچتا تو میں زندہ زمین میں گاڑ دیتا تم دونوں کو۔۔۔۔۔

شاہ جی کا غصہ اسکے تیکھے نقوش پر غصب ڈھا رہا تھا۔۔۔۔

یار تم سب نے ملکر اس معصوم سی بے ضرر سی لڑکی کیساتھ کتنے کھلواڑ کیۓ کتنے ظلم کتنے الزام لگاۓ صرف اسلیۓ کہ وہ لاوارث ھے۔۔۔۔

اور تم جیسے چاھوگی اسے اپنے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بناکر اپنے اشاروں پر نچاؤگی اب دیکھو اپنا حال غور کرو کون کس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنا ھے۔۔۔۔۔۔

جس رتابہ کو تم سب نے ملکر تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی آج اسی رتابہ کے ہاتھ میں تمھاری نجات ھے۔۔۔

تم سب نے ملکر اسے ذلیل و خوار کرنا چاہا اور آج خود اپنی ہی نظروں میں ذلیل و خوار ھو کر رہ گئ ھو۔۔۔۔۔

علی بھی پیچھے نا رہا اس نے بھی مایا کو کھری کھری سنائیں۔۔۔۔۔

عضد کو پانے کیلئے تم اتنی اندھی ھو گئ تھی کہ سچ جھوٹ کی تمیز ہی بھول گئ اور یہ بھی بھول گئ کہ جسے تم برباد کر رہی ھو اسے عضد کے ساتھ آباد کرنے والا اللہ موجود ھے جو تمھاری ساری سازشوں کو دیکھ اور سن رہا ھے اور اسکے آگے تمھاری ایک سازش بھی کامیاب نا ھو سکی۔۔۔

مایا شرم سے زمین میں گڑتی چلی گئ۔۔۔۔

عضد کو چاھتی ھو تم تو چاھنے کا سلیقہ بھی تو سیکھو۔۔۔۔

کسی کو برباد کر کے اپنی مکاریوں سے محبت حاصل کرنے کا یہ کونسا طریقہ ھے ؟؟؟؟؟

مایا اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے چلائ۔۔۔۔۔۔

بسسسسسسسس بس کردو بس کردو اب میں مذید کچھ نہیں سن سکتی۔۔۔۔۔۔

علی بھی رو پڑا کہ یہ تھی اسکی بہن جس پر وہ جان دیتا تھا وہ علی کی شرٹ پکڑے خوب روئ۔۔۔۔۔

علی اسکے ہاتھ جھٹک کر روتا ھوا بولا تم سے تو رشتہ بھی ایسا ھے کہ کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتا تمھارا۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے وہاں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔

شاہ جی بندیا کو باہر تک چھوڑنے آیا۔۔۔۔۔

بندیا نے پھر نہایت شرمندگی سے شاہ جی سے بار بار معافی مانگی کہ مایا بھی اسکے کہنے میں آئ تھی۔۔۔۔۔

علی مایا کو وہاں چھوڑتے ھوۓ یہ بھول گیا تھا کہ مایا کس حد تک جذباتی ھے وہ کچھ بھی کر سکتی اپنے ساتھ۔ ۔۔۔۔

یہاں اپنی ہار اس نے تسلیم کر تو لی تھی لیکن احساس شرمندگی نے اسے جینے کا موقع نا دیا کہ وہ عضد کا اور سب کا سامنا اب کیسے کرے گی۔۔۔۔

وہ اپنے جذبات کے ہاتھوں اس قدر مجبور ھو گئ تھی کہ اس نے خود کو آگ لگا لی۔۔۔۔

شاہ جی گھر کے باہر ہی تھا۔۔۔۔

بندیا کو گاڑی میں بٹھا کر وہ ابھی گھر میں داخل نہیں ھوا تھا کہ مایا کی فلگ شگاف چیخیں اسے سنائ دیں۔۔۔۔۔

وہ تیزی سے اندر بڑھا تو اپنی طرف بھاگ کر آتے ھوۓ اپنے ساتھی سے ٹکرایا۔۔۔۔

شاہ جی اس نے آگ لگا لی خود کو۔۔۔۔۔۔۔

شاہ جی تیزی سے بھاگتے ہوئے اندر آیا تو آگ نے پورا اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔۔۔۔

شاہ جی نے ہال کا پردہ کھینچ کر اتارا اور اسے پردے میں لپیٹ کر آگ بجھائی۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ شاہ جی کے بچانے کے باوجود جل چکی تھی۔۔۔۔۔

__________________

نمل اور نرگس رتابہ کے پاس تھیں۔۔۔۔۔۔۔

نمل کو بہت گلہ تھا کہ اس پر کیا کچھ بیت گیا تھا لیکن اس نے نمل کو بھنک تک نا لگنے دی تھی۔۔۔۔۔۔

سبحانہ نرگس کیساتھ ہال میں ہی بیٹھی ھوئ تھی۔۔۔۔

دیان انکے سامنے کھیلنے کودنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔

نمل رتابہ کو لیے اسکے کمرے میں تھی رتابہ سب کچھ کھل کر سب کے سامنے آ چکا ھے لیکن دیان کا علم کسی کو نہیں؟؟؟؟؟؟؟

کس کا بچہ ھے وہ تم مجھے تو بتا سکتی ھو نا۔۔۔۔۔

رتابہ کا سر جھکا ھوا تھا۔۔۔۔۔

تم کس سے ڈر رہی ھو اب؟؟؟؟ ھم سب تمھارے ساتھ ھیں۔۔۔۔

میں امی شاہ جی علی پھر کس بات کا ڈر ھے؟؟؟؟

میں نہیں جانتی کہ دیان کس کا بچہ ھے۔۔۔

یہ کیسی بات ھوئ نمل اس پر بگڑنے لگی۔۔۔۔۔

رتابہ نے نمل کے بگڑتے تیور دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔

میں سچ کہہ رہی ھوں میں اسکو نہیں جانتی۔۔۔

راہ چلتے ھوۓ لوٹنے والوں کو کون پہچان سکتا ھے؟؟؟؟؟

کتنی ہی بچیوں کا عورتوں کا روزانہ ریپ ھوتا ھے اس دنیا میں سب گناہ کرنے والے ہاتھ کہاں آتے ھیں نا سب کو سزا ملتی ھے۔۔۔۔۔

نمل اسکی آنکھوں میں اعتماد دیکھ کر دیکھتی رہ گئ۔۔۔۔۔

تم سچ کہہ رہی ھو؟؟؟؟؟

وہ ایک ٹک اسے دیکھ کر بولی تم جانتی ھو میں جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔۔۔

اسوقت اسکا لہجہ بتا رہا تھا کہ اسکا چہرہ دروغ گو کا چہرہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔

نمل نے ٹاپک بدلہ۔۔۔

تم نے اپنی اگلی زندگی کے بارے میں کیا سوچا ھے؟؟؟؟؟

کچھ نہیں سوچا۔۔۔۔

عضد کی حالت دیکھی ھے تم نے؟؟؟؟؟

نہیں دیکھنا چاھتی وہ سفاکی سے بولی۔۔۔۔۔

کیوں؟؟؟؟

کیونکہ اس نے میرے اور گوپال ماما کے رشتے پر شک کیا وہ ساری دنیا کے الزام لگا دیتا مجھ پر لیکن اس بات پر یقین نا کرتا کہ گوپال ماما میرے بچ۔۔۔۔۔

رتابہ اپنا چہرہ شرم سے ڈھانپ کر زمین میں گڑنے لگی۔۔۔۔

نمل نے اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔۔

بس رتابہ بس اب رونا نہیں ھے تم نے رونے کے دن اب انکے ھیں جنہوں نے تمھیں برباد کرنا چاہا تھا۔۔۔۔

لیکن میری جان یہاں عضد کا بھی قصور نہیں۔۔۔۔۔

تمھاری زندگی کے پہلو ہی اس قدر الجھے ھوۓ تھے کہ وہ الجھتا ہی چلا گیا اور اسے الجھانے والے وہ ہاتھ تھے جن ہاتھوں میں تمھاری زندگی کا لمحہ لمحہ گزرا تھا۔۔۔۔

تم سب کو معاف کر سکتی ھو تو اس عضد کو کیوں نہیں معاف کر سکتی جس نے تمھیں ان حالات میں بھی قبول کیا تھا جن میں تم اپنے لیے بھی نا قابل قبول تھی۔۔۔۔۔۔

رتابہ نے بھیگی پلکوں سے نمل کو دیکھا۔۔۔

تم خود سوچو جو حادثہ تمھارے ساتھ ھوا اسکے بعد تم نے خود کشی کے علاوہ کونسا راستہ چننا تھا؟؟؟

یا دیان جیسے بچے کی ماں بن کر تمھیں کونسا مرد قبول کر سکتا تھا؟؟؟؟؟

جانتی ھو رتابہ میں تو لاوارث نہیں تھی نا میرے ساتھ جازب نے کوئ ایسی ویسی حرکت کی تھی پھر بھی اس معاشرے میں میرے لیے کوئ جگہ کوئ مقام نا تھا۔۔۔

اور جس شخص کیساتھ میری زندگی جڑنے والی تھی اس نے بھی مجھ سے میری بے گناہی کا ثبوت مانگا تھا شادی سے پہلے کہ آیا میں کہیں استعمال شدہ تو نہیں اب؟؟؟

اسکی ماں ہاتھ جوڑ کر میرے رشتے سے انکار کر کے گئ تھی کہ وہ مجھے اپنا کر کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رھیں گی

محلے والوں نے رسوا کر کے ھمیں نکالا تھا وہاں سے۔۔۔

اب تم اپنی جانب غور کرو۔۔۔۔

اور موازنہ کرو کہ تمھیں آج کہاں ھونا چاھئے تھا؟؟؟؟

کسی گمنام قبرستان میں یا بد چلن عورت کا لقب لیکر کسی یتیم خانے میں؟؟؟ کون یقین کرتا تمھاری بے گناہی پر؟؟؟؟؟

نمل کی بات سن کر رتابہ کے رونگٹے کھڑے ھو گۓ۔۔۔۔۔

میری جان میں تمھیں طعنہ نہیں دے رہی بلکہ سمجھا رہی ھوں کہ معاشرے میں عضد کے بغیر تمھاری کیا حیثیت کیا مقام ھے؟؟؟؟

جانتی ھو لاوارث لڑکیوں کی یا ریپ کا شکار ھونے والی لڑکیوں کی شادیاں عضد جیسے پارس شہزادوں سے نہیں ھوتیں۔۔۔۔

بلکہ کسی لولے لنگڑے اندھے موالی یا رنڈوے یا عمر رسیدہ جوان بچوں کے باپ سے ھوتی ھے۔۔۔۔۔

اگر یہ سب نا ھو تو اللہ اپنی پناہ میں رکھے پھر بندیا جیسی بے گھر بے عزت بے آبرو بے لباس زندگی ھوتی ھے۔۔۔۔۔

رتابہ کیساتھ ساتھ نمل خود بھی رو پڑی۔۔۔۔

تم نے عضد کی زیادتیاں بہت برداشت کی ھیں لیکن اس نے تم سے جڑی وہ ذلت جھیلی ھے جسکے نام پر مرد عورتو?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *