Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 28)

Bad Bakhat by Arshi Noor

وہ اسے اپنی آنکھوں میں قید کیۓ وہیں اسکے پاس سو گیا۔۔۔

صبح عضد کی آنکھ پہلے کھلی کروٹ بدلتے ھوۓ اسے محسوس ھوا کہ وہ بیڈ پر اکیلا نہیں ھے۔۔۔

اس نے لیمپ لائٹ آن کی تو خود کو اسکے پاس اسکے کمرے میں دیکھ کر پہلے وہ کچھ حیران ھوا پھر سب کچھ یاد آنے پر خود کو حیرت سے دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔۔۔۔

پھر دبے قدموں کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا تو آگے مایا اسکے کمرے میں پہلے سے موجود تھی اسے دیکھ کر غصے سے پوچھا۔۔۔

کہاں تھے تم؟؟

یہیں تھا کیوں؟؟؟

لیکن اپنے کمرے میں تو تم اب آۓ ھو۔۔۔۔

ہاں تو اس نے کندھے اچکاۓ۔۔۔

مطلب رات رتابہ کے ساتھ گزاری ھے تم نے؟؟اب باقاعدہ بیویوں والا اسٹائل تھا اسکا۔۔۔

عضد اسے دیکھ کر بولا تمھارا کوٸ حق نہيں بنتا یہ سوال کرنے کا۔۔۔

دوست ھونے کے ناطے حق بنتا ھے میرا اس نے پرزور طریقے سے کہا۔۔

یار صبح صبح موڈ آف مت کرو میرا دوست ھو تو دوست بن کر رھو بیوی بننے کی ضرورت نہيں۔۔۔وہ الجھ گیا تھا اسکے گھورنے پر۔۔۔

ضرورت تو تمھیں تمھاری اپنی بیوی کی بھی نہيں تھی پھر آج اسکے ساتھ کی ضرورت کیسے پیش آگٸ تمھیں؟؟؟

یار پلیز مجھے اس متعلق کوٸ بات نہيں کرنی…اس نے بیزاری سے کہا۔۔

مایا طنز سے مسکراٸ۔۔۔

ہاں مرد ھو نا اپنی خواہش کے پیش نظر تعلق بھی جوڑ لیتے ھو اور اپنی سہولت دیکھتے ھوۓ باتوں سے کنارا بھی کر لیتے ھو۔۔۔

مطلب کیا ھے تمھارا؟؟وہ الماری سے کپڑے نکالتے ھوۓ پورا اسکی طرف گھوما۔۔۔

میرا مطلب تو کچھ نہيں البتہ تم نے اپنا مطلب پورا کر لیا کافی ھے یہ۔۔۔

عضد کو اسکی بات کا منطق سمجھ نا آیا تو ٹاول اٹھا کر اسے گھورتا ھوا واش روم چلاگیا۔۔۔۔

جاٶ آفس کی تیاری کرو کل تم نے جانا ھےاسلام آباد۔۔۔

رتابہ کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے بستر سے عضد کے پرفیوم کی خوشبو آٸ۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھ کر باہر آٸ عضد اور مایا آفس جا رھے تھے وہ کچن کی کھڑکی کے پاس کھڑے ھو کر جاتے ھوۓ عضد کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

عضد نے گاڑی میں بیٹھتے ھوۓ اسے دیکھا تو واپس اندر آیا کیسی طبیعت ھے اب؟؟سر میں جہاں چوٹ لگی درد تو نہيں ھو رہا نا۔۔

رتابہ جواب کیا دیتی حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی کہ آج وہ اتنا مہربان تھا پھر سے۔۔۔۔

مجھے دیکھتی رہنا گھر واپس آیا تو ابھی جو پوچھا جواب دو۔۔۔عضڈ نے اسکے تاڑنے پر مسکراہٹ دبائ۔۔۔

وہ دل ہی دل میں بولی تم جو اتنے پیار سے پوچھو حال تو حال سے بے حال ھونا اچھا ھے۔۔۔

عضد نے چٹکی اسکی آنکھوں کے آگے بجاٸ ھیلو کچھ پوچھا ھے تم سے۔۔۔

اس نے سر جھٹک کر جواب دیا میں بلکل ٹھیک ھوں۔۔۔۔

اوکے گڈ اتنا کہہ کر وہ اللہ حافظ کہتا کچن سے باہر چلا گیا۔۔۔

رتابہ نے اسے رب کے حوالے کیا۔۔

پھر رابی سے پوچھا تم چلی گٸ تھی رات کو میرے کمرے سے؟؟

جی بی بی جی صاحب نے بھیج دیا تھا کہ وہ ھونگے آپ کیساتھ۔۔

رتابہ واپس اوپر اپنے کمرے میں گٸ۔۔۔۔

اور کمبل کو ہاتھ میں لیۓ عضد کی خوشبو کو محسوس کرنے لگی اسے اچھا لگا تھا عضد کا اسطرح خیال رکھنا وہ بے اختیار کمبل کو گالوں سے لگا کر بولی کاش تم میرے پاس ھوتے اپنے نام کیطرح۔۔۔

_____________________

جازب نرگس کے پاس بیٹھا ھوا باتوں میں مصروف تھا۔۔۔

دیان کھیل رہا تھا کہ اچانک وہ سیڑھیوں سے سیدھا نیچے آگرا۔۔

جازب اور نرگس بھاگے اسکے پیچھے جازب نے جلدی سے اسے گود میں لیا اس نے روتے ھوۓ اپنا سانس روک لیا تھا۔۔

نمل بھی کچن سے بھاگتی ھوٸ باہر آٸ۔۔

دیان کو ھسپتال لے کر گۓ تو اسکا بازو دو جگہ سے فریکچر ھو چکا تھا۔۔۔

نمل اور جازب بہت پریشان تھے نمل کا تو رو رو کر برا حال تھا اک تو دیان کی چوٹ پر دوسرا یہ کہ رتابہ کو معلوم ھوا تو اسکا کیا ردعمل ھوگا کیا جواب دیگی وہ کہ اسکے ایک بچے کو نہيں سنبھال سکے وہ۔۔۔۔

نرگس نے اسے تسلی دی کہ رتابہ ایسی نہيں ھے بچہ انکی مکمل دیکھ بھال میں ھے ھو جاتے ھیں اکثر ایسے حادثے اپنےوالدین سے بھی۔۔۔

امی اپنا بچہ ھو تو صرف دل دکھتا ھے کسی کے آگے جوابدہ نہيں ھونا پڑتا اپنی غلطی پر بھی پردہ پڑجاتا ھے کہ بچہ اپنا ھے۔۔

لیکن کسی اور کی اولاد کو ھنسانے والے کا نام نہیں ھوتا رلانے والے کا ھوتا ھے۔۔۔

ارے میری جان کسی اور کی اولاد کیوں کہہ رہی ھو رتابہ میرے لیۓ بلکل تم جیسی ھے وہ کیوں سوچے گی ایسا اسے معلوم ھے ھم سب کی جان ھے دیان میں۔۔۔

اور ویسے بھی جنم دینے والے سے زیادہ حق پالنے والے کا ھوتا ھے اور تم نے کوٸ غلطی نہيں کی بچے اسی طرح بڑےھوتے ھیں کھیلتے ھیں گرتے ھیں پھر سنبھلتے ھیں تم خوامخواہ ہلکان ھو رہی ھو۔۔

دیان کو پلاسٹر لگوا کر وہ گھرآ رھے تھے۔۔۔

اسکی ننھی پلکوں پر آنسو ستاروں کی طرح چمک رھے تھے نمل نے سو بار اسے چوما۔۔

جازب کو اسکا یہ والہانہ پیار دیکھ کر بہت شدت سے اپنے ادھورے پن کا احساس ھوا کہ اسکے ساتھ ساتھ نمل بھی ادھوری عورت بن چکی تھی۔۔۔

_________________

رتابہ کا دل بہت اداس تھا کسی کام میں اسکا دل نہيں لگ رہا تھا۔۔

اس نے نمل کو کال ملاٸ کال کسی نے نا اٹھاٸ بے چینی سے وہ بار بار کال کرتی پر کوٸ جواب موصول نہيں ھو رہا تھا۔۔

رابی اسکی بے چینی دیکھ کر بولے بنا نا رہ سکی۔۔۔

بی بی جی کیا ھوا ھے آپکو میں کب سے دیکھ رہی ھوں آپ پریشان سی لگ رہی ھیں؟؟

پتہ نہيں رابی کیوں عجیب سی طبیعت ھو رہی ھے جیسے کچھ ھوا ھے یا کچھ ھونے والا ھے…

بی بی جی اللہ خیر کرے آپ اچھا سوچیں اور دعا کریں اللہ سب بہتر کرنیوالا ھے۔۔۔

رتابہ نے پھر کال ملاٸ تو جازب نے فون اٹھایا رتابہ نے نا سلام کیا نا حال پوچھا فوراً اپنے بچے کا پوچھا دیان کیسا ھے؟؟

جازب کو کافی حیرت ھوٸ کہ آج اس نے سب کو چھوڑ کر دیان کا پہلے پوچھا ماں تھی وہ اپنے بچے کی تڑپ اس تک پہنچ چکی تھی۔۔

جازب نے فون نرگس کودے دیا

نرگس نے اسے فی الحال کچھ نا بتایا۔۔۔

لیکن رتابہ ہر دوسری بات کے جواب میں دیان کا پوچھتی پھر کچھ دیر بعد وہ خود ہی رو پڑی امی مجھے دیان سے ملنا ھے بہت یاد آرہا ھے وہ امی پلیز آپ اسے ایک دو دن کیلیۓ یہاں لے آٸیں میں اسے دیکھنا چاھتی ھوں اپنی گود میں لینا چاھتی ھوں۔۔

اسکی ممتا کی تڑپ نرگس سمجھ سکتی تھی فی الحال نرگس نے اسے ٹالا کراچی کے حالات کچھ بہتر ھونے دو میں کچھ دن بعد لےآٶنگی تم پریشان نا ھو وہ بلکل ٹھیک ھے۔۔۔

لیکن امی مجھے کیوں لگ رہا ھے وہ ٹھیک نہيں ھے مجھے ایسے لگ رہاھے وہ مجھے بلا رہا ھے رو رو کر۔۔

نرگس نے بڑی مشکل سے اسے بہلایا کہ ایسا کچھ نہيں۔۔

اس نے اللہ حافظ کہہ کر فون تو رکھ دیا پر بے چینی اسکی روح سے ایک پل نا دور ھوٸ تھی۔۔

__________________

بابو گلی گلی کوچہ کوچہ اسے ڈھونڈنے لگا۔۔۔

اسے کراچی میں ہی زندہ سلامت اپنے سامنے دیکھ کر وہ بہت بےقرار ھو گیا تھا اپنے آپکو اسکے مل کر دوبارہ کھو جانے پر وہ لعنت ملامت کرتا رہا۔۔۔

آۓ دن وہ کسی نا کسی بازار میں صبح سے شام تک گھومتا رہتا کہ اسے وہ دوبارہ مل جاۓ اب کی بار اپنی جان دیکر بھی وہ اسے حاصل کرنے پر تلا ھوا تھا ایسے میں اسکی ملاقات بندیا سے ھو گٸ۔۔۔

بندیا نے حقارت سے اسے دیکھ کر نظرانداز کیا اسے بھی اب بندیا کی ضرورت نہيں تھی۔۔۔

لیکن اس نے بختی کا ضرور پوچھا کہ وہ اسے ملی یا نہيں؟؟

بندیا نے انکار کیا کہ نہيں ملی اگر ملی بھی تو وہ اسکو سزا پہلے خود دیگی وہ میری مجرم ھے پہلے بعد میں کسی اور کی۔۔

بابو اور بندیا دونوں کا مشن اب ایک ہی تھا۔۔

بختی کی تلاش۔۔۔

دونوں نے طے کر لیا کہ وہ دونوں میں سے جسے ملی وہ ایک دوسرے کو خبر کر دیں گے بابو نے اسے بتا دیا تھا کہ بختی اسے کچھ دن پہلے ملی تھی وہ کراچی میں ہی ھے۔۔

لیکن اس سے وعدہ بندیا نے جھوٹا کیا تھا کیونکہ سزاوار تو بابو بھی تھا اسکا اس نےسوچ لیا تھا کہ بختی کے ملنے پر وہ اسے بھی پل پل لمحہ لمحہ تڑپاۓ گی جیسے اس نے بندیا کو تڑپایا تھا۔۔

________________

مایا اور علی دونوں اسلام آباد میں تھے۔۔۔

عضد یہاں اکیلا تھا حالات کراچی کے کچھ بہتر ھوۓ تھے لیکن مکمل نارمل نہيں تھے۔۔۔

حالات مکمل نارمل ھونے تک عضد نے ان دونوں کو کراچی نا آنے دیا اور سب کچھ خود ھینڈل کرنے لگا۔۔۔۔

سردیوں کا موسم تھا لاٸٹ دو تین سے زیادہ جانے لگی تھی کسی فنی خرابی کی وجہ سے۔۔۔۔

رتابہ گھر میں بلکل اکیلی تھی رابی اپنی فیملی کےساتھ کسی کےگھر شادی میں تھی۔۔۔

بجلی آج بھی نہیں تھی جسکی وجہ سے گھر میں کافی اندھیرا تھا گھر میں چوکیدار بھی نہيں تھا کہ وہ جنریٹر آن کروا لیتی۔۔۔

اس نے عضد کے آفس فون کیا مصروفیت کی وجہ سے وہ بات نا کر سکا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رتابہ کا ڈر اور خوف بھی بڑھنے لگا۔۔۔۔

اندھیرے سے گھبرا کر وہ باہر لان کی طرف آنے لگی تو گلدان سے جا ٹکراٸ۔۔۔

گلدان فرش پر گر کر ریزہ ریزہ ھو گیا وہ احتیاط سے پیچھے ھوٸ کہ کانچ نا لگ جاۓ تو لاٸٹ بھی آگٸ۔۔

پورا گھر لاٸٹ آنے سے ایک دم روشن ھوگیا اس نے آنکھیں چندھیا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور جلدی سے گلدان کے ٹکڑے اٹھانے لگی۔۔۔

عضد گھر واپس آرہا تھا اسے معلوم تھا کہ رتابہ گھر میں اکیلی رات کو ڈرتی ھے اور آج تو رابی کی پوری فیملی نہيں تھی گھر سے کچھ فاصلے پر اسکی گاڑی خراب ھوگٸ۔۔۔

اس نے گاڑی لاک کر کے وہیں کھڑی کی اورخود پیدل گھر آنے لگا۔۔۔ گیٹ کا لاک کھول کر وہ اندر آیا بلکل خاموشی کا راج تھا لان سے گزر کر وہ ہال کے دروازے کا لاک گھماتا آرام سے ہال میں داخل ھوا۔۔۔

رتابہ کو معلوم تھا کہ عضد نے گاڑی میں آنا تھا لیکن گاڑی تو نہيں آٸ تھی یہ کون تھا پھر جو لاک کھول کر دھڑلے سے اندر آگیا تھا رتابہ نے دروازے کو خود اچھی طرح لاک کیا تھا۔۔۔لاک کی ناب گول گھومتی دیکھ کر وہ صوفے کے پیچھے جا چھپی۔۔۔

عضد اندر آ چکا تھا اس نے آس پاس دیکھا سارے گھر کی لائٹس آن تھیں اس نے رتابہ کو آواز لگاٸ۔۔۔ رتابہ۔۔۔ رتابہ۔۔۔

اس نے عضد کی آواز سن کر صوفے کی اوٹ سے جھانکا وہ اسے دیکھ چکا تھا یہاں کیا کر رہی ھو؟؟

وہ اسکے پاس آیا۔۔۔

سردی میں بھی وہ پسینے سے شرابور تھی کیا ھوا ھے تمھیں

خوف سے رکے ھوۓ آنسو وہ مذید روکنے کی کوشش کرنے لگی۔۔

اتنا ڈری ھوٸ کیوں ھو عضد ایک ہاتھ زمین پر رکھے گھٹنے کے بل جھکا اور اسکے برف کی طرح ٹھنڈے ہاتھ ہاتھوں میں لیۓ۔۔۔

آپ۔۔۔۔ گاڑی ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کر رہی تھی۔۔۔

میرے بغیر گاڑی کے خاموشی سے اندر آنے پر ڈری ھو؟؟عصد نے سوال پوچھا۔۔۔

اس نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے کے پیچھے سے آگے لایا یار تم اتنا ڈرتی کیوں ھو اپنا گھر ھے تمھارا اسمیں کیسا ڈر بہت عجیب لگتا ھے مجھے تمھارا اسطرح ڈر کر سہم جانا میری سمجھ سے باہر ھے اس نے ابرو اٹھاۓ کہا۔۔۔

ابھی عضد بات کر ہی رہا تھا کہ وہ اس سے ہاتھ چھڑا کر درد سے آہ کرتی فرش پر جا بیٹھی۔۔۔

گلدان کی ایک آدھی کرچی رہ گٸ تھی جو رتابہ کے پیر میں جا لگی تھی۔۔

عضد نے اسے مڑ کر دیکھا اوہ یہ کیسے لگا تمھیں۔۔

اسکی آنکھوں میں آنسو چمکے لاٸٹ نہيں تھی اندھیرے میں گلدان سے ٹکرا گٸ تھی اسی کا کانچ لگا ھے۔۔

عضد نے جھک کر اسکا پاؤں ہاتھ میں لیا خون بہہ رہا تھا پھر اسکے پیر سے کانچ کا ٹکڑا کھینچا تو کچھ حصہ پاٶں کے اندر ہی ٹوٹ کر رہ گیا۔۔

عضد کے کانچ کھینچنے پر اسکے حلق سے لمبی سی چیخ نکلی۔۔

عضد کو اسے ھسپتال لے جانا پڑا کہ اسے تکلیف بہت ھو رہی تھی۔۔

عضد نے کال کر کے کیب منگوائی اور ھوسپٹل لے گیا اسے۔۔

وہاں ڈاکٹر کو اسکے پاٶں کو کٹ لگا کر کانچ کا ٹکڑا نکالنا تھا۔۔

ویسے تو بڑے بڑے درد بڑے بڑے زخم وہ سہہ لیتی تھی لیکن آج عضد کی موجودگی اور اسکی ذرا سی توجہ پا کر اسمیں نا جانے درد نا سہنے کی نزاکت کہاں سے آگٸ تھی۔۔

وہ پاٶں کو ہاتھ نہيں لگانے دے رہی تھی کانچ کی چبھن بھی بہت تھی۔۔

نرس نے اسکی نا نا نا سے تنگ آکر عضد سے کہا۔۔

سر آپ انکو پکڑیں ایسے تو ھم کچھ نہيں کر سکتے اور یہ زیادہ ہلی جلی تو کٹ مذید گہرا لگ جاٸیگا۔۔

نرس کی بات سن کر اس نے عضد کا ہاتھ پکڑ لیا ننننن نہیں ایسے ہی ٹھیک ھے نا پلیز مجھے نہیں لگوانا کٹ شٹ۔۔

عضد نے اسے انگلی سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔

پھر اسکی پشت سے تکیہ ہٹا کر بیٹھا اسکے گرد بانہیں پھیلائے اسے گھیرے میں لیا۔۔

اب رتابہ کی پشت عضد کے سینے کے ساتھ لگی ھوٸ تھی اور دونوں بازو عضد کے مضبوط بازوؤں کی گرفت تلے تھے۔۔

ڈاکٹر نے سن کرنے کے انجیکشن اسے زخم کے پاس لگاۓ تو تکلیف سے اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں کہ پاؤں کے تلوے میں انجیکشن کا درد اسکے دماغ تک کو ہلا گیا تھا۔۔

وہ چلاتی رہی درد سے لیکن دائرے کی شکل میں چار جگہ انجیکشن لگا کر اسکا پیر سن کیا تھا۔۔

اسکی تکلیف اسکا رونا عضد سے بھی برداشت نہيں ھو رہا تھا آج۔۔۔

ڈاکٹر کے کہنے پر اس نے بڑے طریقے سے پکڑا ھوا تھا اسے باڈی بلڈر تھا وہ اس نے بڑی مضبوطی سے اسے قابو میں کیا ھوا تھا رتابہ اسکی گرفت میں ذرا سی بھی نا ہل سکی البتہ آنسوؤں کا سیلاب اسکی آنکھوں سے جاری تھا۔۔۔

اسے تین ٹانکے بھی لگانے پڑے وہ بہت بری طرح سے رو رہی تھی۔۔۔

عضد بہت درد ھو رہا ھے مجھے پلیز ان کو روکو وہ اپنا زخم دیکھ دیکھ کر روتی۔۔۔

عضد نے ٹانکے لگاتے ھوۓ اسکا سر اپنے سینے سے لگایا اب ایک بازو عضد کا اسے کمر سے گھیرے ھوۓ تھا اور دوسرا ہاتھ رتابہ کے کان اور سر پر تھا اور رتابہ کا آدھا چہرہ عضد کے سینے میں چھپا ھوا تھا۔۔

ڈاکٹر نے ٹانکے لگا کر اینڈ میں اسے نیند کا انجیکشن دے دیا وہ کچھ دیر میں نیند سے جھولتی ھوٸ عضد کو سر اٹھا کر دیکھنے لگی

بہت۔۔۔۔ بہت۔۔۔ بہت ظالم ھو تم۔۔۔

پھر اس پر نیند کا نشہ طاری ھونے لگا اسکی سیاہ آنکھیں درد اور آنسوؤں سے دہک رہی تھیں۔۔

عضد کو ایسے لگا جیسے اسکے دو نین نہيں جام کے پیالے تھے جو اپنا نشہ اپنا درد آہستہ آہستہ عضد کی رگ رگ میں اتار رھے تھے۔۔۔

نیند سے اسکی آنکھیں بند ھونے لگیں اسکے لبوں پر پھر وہی جملا تھا بہت ظالم ھو تم۔۔۔

عضد کے چہرے سے اسکا چہرہ بہت قریب تھا عضد نے بہت نرمی سے اسکے چہرے پر بکھری لٹیں ہٹاٸیں۔۔۔

پھر اسکے آنسو صاف کرتے ھوۓ اسکے ھونٹوں کو دیکھنے لگا جن سے نیند میں بھی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔۔۔

وہ اسکے سینے سے لگی ھوٸ تھی عضد اسکی دھک دھک کرتی دھڑکنیں شمار کر رہا تھا جو اسکی دھڑکنوں کیساتھ یکجا ھو رہی تھیں۔۔۔

اسکا دل چاہا وہ چوم لے اسکے معصوم سے چہرے کو بھیگی ہوئی آنکھوں کو لیکن اسے معلوم تھا اگر اس نے ایسا کیا تو وہ پھر خود کو روک نہيں پاۓ گا اور رتابہ کی مدہوشی کا وہ اسطرح فاٸدہ نہيں اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔

اس پر عضد کو اسوقت ٹوٹ کر پیار آرہا تھا لیکن یہ سب چند لمحات کا کھیل تھا جو عضد کو چاروں خانے چت ھونے سے بچا لیتا تھا اور اسکے تمام جذبات پر جلد ہی اسکی انا حاوی ھو جاتی تھی۔۔۔

ھمیشہ کیطرح اس نے اپنے دل کی بدلتی کیفیت پر قابو پا لیا تھا اب اسکی قربت چند لمحے پہلے کیطرح اسکے ضبط کا امتحان نہیں لے رہی تھی وہ بلکل بے اثر ھوتے تاثرات کیساتھ آرام سے پیچھے ہٹا تھا۔۔۔

وہ اسے لیکر گھر آیا تو آگے رابی لوگ آچکے تھے۔۔۔۔

رتابہ گہری نیند میں تھی عضد اسے اٹھا کر کمرے میں لایا۔۔۔

رابی پریشان تھی کہ اچانک کیا ھو گیا رتابہ کو چوٹ کیسے لگی؟؟

عضد نے اسے بیڈ پر لٹایا تو عضد کی شرٹ نیند میں بھی اس نے بچوں کیطرح اپنی مٹھی میں پکڑی ھوٸ تھی۔۔۔

عضد بے ساختہ مسکرایا پھر آرام سے شرٹ چھڑاٸ اور باہر آکر رابی سے کھانے کا کہا تو اس نے جلدی سے کھانا لگایا اسے بھوک لگی ھوئ تھی کہ دوپہر کا کھانا بھی اس نے نہیں کھایا تھا۔۔۔

صاحب جی کیا ھوا بی بی جی کو کیسے لگی چوٹ؟؟ رابی نے کھانا لگاتے ہوئے فکر سے پوچھا۔۔۔

کانچ لگ گیا پاؤں میں اسکے تین ٹانکے آۓ ھیں۔۔۔

اوہ۔۔۔لیکن کیسے صاحب جی اسکے سوال پر عضد نے تھکن بھرے انداز سے اسے دیکھا تو وہ چپ ھو گئ۔۔۔

سمجھ گئ تھی کہ وہ خود کو پوچھ لے رتابہ سے۔۔۔

اچھا صاحب جی انکا کھانا کمرے میں لے جاٶں؟؟

نہيں وہ سو رہی ھے صبح دے دینا اور خیال رکھنا اسکا۔۔۔

عضد کھانا کھا کر اپنے روم میں جاتے جاتے رکا اور رتابہ کےکمرے میں واپس آیا ایک عجیب سی کشش تھی جو رتابہ کی طرف اسے مسلسل اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔

وہ خود کو روکنے کے باوجود نا روک پایا اب وہ اسکے سر پر کھڑا اسے غور سے دیکھ رہا تھا جو پوری دنیا سے بیگانی ھو کر سو رہی تھی۔۔۔

وہ تھکے ہارے مسافر کیطرح اسکے پاس لیٹا تو کچھ ہی دیر میں تھکن سے سو گیا۔۔۔۔

_______________

رابی مسلسل رتابہ کا خیال رکھے ھوۓ تھی۔۔۔

لیکن وہ اسے سہارا دیکر نیچے نہيں لا سکتی تھی کیونکہ رابی امید سے تھی اور پانچ سال بعد اسے ماں بننے کی خوشی نصیب ھوٸ تھی۔۔۔

اسکے دو بیٹے تھے ایک اس نے اپنی نند کو دے دیا تھا اور ایک سات سال کا بیٹا اسکے پاس ہی تھا۔۔

عضد پھر دو تین دن اس سے غافل رہا۔۔۔

کیونکہ اسے دیکھتے ہی عضد کو اب غصہ نہيں آتا تھا اسکا دل رتابہ کی طرف اسکے قدموں سے پہلے دوڑا چلا آتا تھا لیکن وہ دل کی بات ان سنی کر کےدماغ سے کام لیتا تھا۔۔

اور اسکے دماغ میں اسکی انا سے بڑھ کر کچھ نا تھا دو تین دن وہ اسکے سامنے ہی نہيں آیا۔۔

لیکن آج اسکے ٹانکے چیک کروانے تھے عضد آفس سے جلدی گھر آیا اور آتے ساتھ رابی سے کہا رتابہ سے کہو ھوسپٹل جانا ھے اور مجھے ایک کپ چاۓ بنا دو۔۔۔رابی پر دو حکم ایک ساتھ صادر کیے۔۔

جی صاحب جی رابی چاۓ چولہے پر چڑھا کر رتابہ کے کمرے میں گٸ۔۔۔

بی بی جی صاحب کہہ رھے ھیں ھسپتال جانا ھے۔۔۔

رتابہ کو پہلے دن والا درد یاد آیا تو فوراً انکار کرنے لگی نہيں جانا میں ٹھیک ھوں صاحب جی کہہ دو۔۔

بی بی جی وہ مجھے بھی ڈانٹیں گے۔۔

تم کہہ دو نا بس میں ٹھیک ھوں۔۔

رابی نے کچن میں آ کر عضد کو چاۓ دی۔۔۔

ھو گٸ رتابہ ریڈی اس نے چاۓ کا کپ لیتے ھوۓ پوچھا۔۔

نہيں صاحب جی وہ کہہ رہی ھیں میں ٹھیک ھوں۔۔۔

وہ چاۓ کا کپ ہاتھ میں لیۓ اسکے کمرے میں آیا وہ اپنے گیلے بالوں میں کنگھا کر رہی تھی۔۔

ھوسپٹل کیوں نہيں جا رہی تم؟؟

عضد کی آواز پر اس نے سر گھمایا میرا ٹھیک ھے نا پاٶں اب تو کیوں جاؤں۔۔۔

یار ٹانکے لگے ھیں تمھیں چیک کروانے ھیں کھلوانے ھیں تمھارا کیا خیال ھے اسی طرح بیٹھی رھوگی تم اور میں تمھیں گود میں اٹھاۓ ادھر سے ادھر لیۓ پھرتا رھونگا میرا اور کوٸ کام نہيں کیا؟؟؟ لہجے میں بلا کی سرد مہری تھی۔۔۔

آپ اپنا کام کریں مجھے رہنے دیں ایسے ہی اس نے لاپرواہی سے گردن جھٹکی۔۔۔

یار عجیب لڑکی ھو تم پاٶں خراب ھو گیا تو لینے کے دینے پڑجاٸیں گے عضد نے اسے ڈرایا ایسا نا ھو تمھارا پورا پاٶں کاٹنا پڑ جاۓ۔۔۔

جی نہيں ایسے نہيں ھوتا کانچ ہی تو تھا وہ ڈر گئ تھی سچ میں۔۔

تم نے بحث کرنی ھے یا چلنا ھے ساتھ میرے؟؟

اس نے منہ بسورتے ھوۓ بیڈ کا سہارا لیکر کھڑی ھوٸ اسے درد تھا لیکن وہ چھپاۓ ھوۓ تھی پر عضد کو اسوقت انکار کرنا اپنی شامت کو بلانا تھا کہ وہ کڑے تیوروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔

عضد کو چاۓ اچھی نا لگی اس نے دو سپ لیکر کپ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا اور اسے اٹھانے آگے آیا۔۔

رکیں میں چادر اوڑھ لوں اس نے عضد کو روکا۔۔

اس نے دوپٹے کا بکل باندھا اور چادر کندھوں پر پھیلائ۔۔۔

عضد نے اسے گود میں اٹھایا تو اسکا دل زور سے دھڑکا وہ اپنا آپ چھپانے کی کوشش میں رتابہ کو سنانے لگا۔۔۔چور الٹا کوتوال کو ڈانٹے والا حساب تھا۔۔۔

یار کیا مصیبت میرے پلے پڑی ھو تم کبھی کیا کر بیٹھتی ھو اور کبھی کیا پریشانی میرے لیۓ بن جاتی ھے ساری۔۔۔۔

وہ اسکے چہرے سے بہت قریب تھی ناگواری کے بل دیکھ سکتی تھی۔۔۔

تو نا لیکر جاٸیں کہا تو ھے ٹھیک ھو جاٶنگی۔۔۔اس نے منہ لٹاکایا ھوا تھا۔۔۔۔

ہاں تمھارے کہنے سے تو سبھی ٹھیک ھوتا ھے نا۔۔۔۔وہ اپنے دل کو رتابہ کیلیۓ موسم کیطرح بدلتے دیکھ رہا تھا لیکن وہ اپنی کیفیت خود پر بھی ظاہر ھونے سے ڈر رہا تھا خائف تھا وہ خود سے بھی۔۔۔

ھوسپٹل جا کر معلوم ھوا میڈم جی نے پاٶں پر زور دیکر ایک ٹانکا خراب کر لیا ھے اور دو دن سے ایک ہی بینڈیج ھوٸ پڑی تھی وہ بھی اسکے نہانے سے گیلی تھی جس سے زخم بھی خراب ھو گیا تھا۔۔۔

ڈاکٹر کے مطابق مذید کچھ دن لگیں گے زخم ٹھیک ھونے میں آج پھر وہ خوب روٸ درد ھونے پر۔۔۔۔

عضد نے اسے اچھا خاصا جھاڑا جس سے اسکے درد میں مذید اضافہ ھوا۔۔۔

وہ جاتے ھوۓ اسے اٹھا کر بولا تم چاہتی ہی نہيں ھو کہ میں سکون سے رھوں میری توجہ حاصل کرنے کا بہت ہی برا طریقہ ھے یہ تمھارا وہ سارا الزام اب اس پر الٹ رہا تھا۔۔۔۔

مجھے آپکی توجہ یا آپکو حاصل کرنے کیلیۓ یہ بھونڈے طریقے اپنانے کی ضرورت نہيں۔۔۔ روتے ھوۓ فوراً سے جواب دیا تھا۔۔

اچھااااا تو پھر اس سب کو کیا کہوں میں؟؟؟ اسے گود میں لیے قدم آگے بڑھاۓ وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔۔۔

میری بد بختی۔۔۔رتابہ کیطرف سے جواب مختصر تھا۔۔۔

عضد اسے گاڑی میں بٹھاکر بولا یعنی مجھ سے شادی کر کے تمھارے بخت پھوٹ گۓ ھیں؟؟

میں نے ایسا تو نہيں کہا فوراً سے اس نے پہلی بات کی تردید کی میرا مطلب یہ نہیں تھا بلکل۔۔۔

عضد ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر بیٹھا ھمممم مطلب تو یہی تھا تمھارا۔۔۔

رتابہ نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی کہ عضد کا کچھ بھروسہ نا تھا نا جانے اسکی کونسی بات پر چلتی گاڑی سے اتار باہر پھینکتا۔۔۔

باقی کا سفر دونوں نے خاموشی سے کاٹا۔۔۔۔۔

عضد گھر آ کر جب اسے بیڈ پر لٹانے لگا تو عضد کے چہرے کے بدلتے تاثرات اس نے بھی محسوس کیۓ تھے۔۔۔۔

تھوڑا گھبرا گٸ تھی وہ۔۔۔۔

عضد نے کمرے کے پردے ساری کھڑکیوں پر لگاۓ جا سے رتابہ حیرانی سے پلکیں جھپکا کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

پھر ایک دم اسکے سامنے آ کھڑا ھوا اور گرتے ھوۓ اسکے پاس لیٹا۔۔۔

وہ اچھل کر تھوڑا پیچھے ھوٸ یہ۔۔۔۔کککککک کیا کر ھے ھیں آپ؟؟؟ اپنے اچھلنے کیستاھ اسکا دل بھی اچھل کر حلق میں آیا تھا۔۔۔

عضد کو اسکے گھبرانے پر ھنسی آگٸ۔۔۔۔

ہاہاہا ھنستے ھوۓ وہ اسکے بہت قریب ھوا۔۔۔۔

اب وہ پیچھے ہٹتی تو سیدھا بیڈ سے نیچے گرتی۔۔۔۔

میں نے کیا کرنا ھے پیار کے علاوہ آنکھیں اب رتابہ پر والہانہ انداز میں جمی ھوئ تھیں۔۔۔

کککک کیا مطلب اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں ۔۔۔۔

مطلب صاف ھے رتابہ جی کہ آج تم پر بہتتتتت(بہت لفظ کو وہ اچھا خاصا کھینچ کر بولا) زیادہ پیار آرہا ھے۔۔۔

رتابہ تو اسکی بات سن کر بیہوش ھونے کو تھی۔۔۔۔

للللیکیننن لیکن کیوں؟؟؟ عضد کی بات سن کر اس نے جلدی سے بیڈ سے اترنا چاہا۔۔

عضد نے ھنستے ھوۓ اسکا ہاتھ پکڑا وہ عضد کے اس انداز پر اچھی خاصی گھبرا گٸ تھی اسے عضد کے ذہنی توازن درست ھونے ہر شبہ ھوا تھا اسوقت۔۔۔

اسکے چہرے کا رنگ اڑتا دیکھ کر عضد بھرپور انداز میں مسکرایا کیا تمہی مجھے پریشان یا حیران کر سکتی ھو میں نہيں کر سکتا؟؟؟

وہ کچھ نا سمجھتے ھوۓ عضد کو سانس روکے دیکھنے لگی۔۔

ایک دو سیکنڈ گزرنے کے بعد عضد نے اسکا ہاتھ چھوڑا یار تم سچ سمجھ گٸ میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔

کونسا مذاق رتابہ کا دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔

یہی کہ مجھے پیار آسکتا ھے وہ بھی تم پر۔۔

اسکی بات سن کر رتابہ نے گھبراہٹ پر قابو پایا اسے عضد کا یہ جملہ اپنی توہین کرتا محسوس ھوا تھا

عضد صاحب میری حیثیت اور اوقات کے مطابق آپکو مجھ پر صرف غصہ یا ترس آسکتا ھے پیار آنے کی خوش فہمی میں نہيں پال سکتی۔۔

پالنا بھی مت ایسی خوش فہمی کیونکہ خوش فہمی ھمیشہ غلط فہمی میں بدل جاتی ھے۔۔

رتابہ اس موم کو پتھر میں بدلتا دیکھتی رہ گئ۔۔

اور میں نے پھر کبھی ایسا مذاق کیا تو اسطرح سچ سمجھ کر گھبرا مت جانا۔۔۔

اپنی اتنی تذلیل پر وہ خاموش ہی رہی عضد اتنا کہہ کر وہ رکا نہيں کمرے سے چلا گیا۔۔

_______________

پاٶں رتابہ کا ٹھیک ھو چکا تھا

رابی رتابہ سے ہر بات شیٸر کرتی تھی رابی کو شاعری بہت پسند تھی پر وہ پڑھ نہيں سکتی تھی۔۔

بی بی جی اس نے لان سے آتی رتابہ کو پکارا آپکو شاعری پسند ھے؟؟؟

ہاں بہت۔۔

آپ لکھتی ھیں ڈاٸری میں؟؟

نہيں لکھتی تو نہيں ھوں نمل کی ڈاٸری سے کچھ پڑھ لیتی تھی کچھ رہ جاتی ھیں اور کچھ بھول جاتی ھیں۔۔

بی بی جی اگر کوٸ غزل یاد ھے تو مجھے سناٸیں گی آپ وہ اسکے سامنے آ بیٹھی۔۔

رتابہ مسکراٸ تمھیں بھی پسند ھے شاعری؟؟

جی بی بی رات کو روز ریڈیو پہ شاعری والا پروگرام سن کر سوتی ھوں۔۔

آپ بھی سنادیں نا کچھ آپکی تو آواز بھی بہت پیاری ھے۔۔

رابی نے بہت پیار سے کہا تو وہ سوچنے لگی کہ کونسی غزل ھو۔۔

عضد اٹھ چکا تھا ناشتے کیلیۓ نیچے آنے لگا تو رتابہ کی آواز سنکر رک گیا۔۔

تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوں۔۔

میں زخم زخم ہوں پھر بھی تجھے دکھائی نہ دوں۔۔

اسکی آواز میں صدیوں کی تھکاوٹ اور درد تھا۔۔وہ اپنی دھن میں مگن رابی کو پوری غزل سنانے لگی۔۔

خود اپنے آپ کو پرکھا تو یہ ندامت ہے

کہ اب کبھی اسے الزامِ نارسائی نہ دوں

مری بقا ہی مری خواہشِ گناہ میں ہے

میں زندگی کو کبھی زہرِ پارسائی نہ دوں

جو ٹھن گئی ہے تو یاری پہ حرف کیوں آئے

حریفِ جاں کو کبھی طعنِ آشنائی نہ دوں

مجھے بھی ڈھونڈ کبھی محوِ آئینہ داری

میں تیرا عکس ہوں لیکن تجھے دکھائی نہ دوں

یہ حوصلہ بھی بڑی بات ہے شکست کے بعد

کہ دوسروں کو تو الزامِ نارسائی نہ دوں

فراز دولتِ دل ہے متاعِ محرومی

میں جامِ جم کے عوض کاسۂ گدائی نہ دوں۔۔۔

عضد وہی کھڑا مبہوت سا ھو کر اسکا درد شاعری میں محسوس کرنے لگا۔۔

رابی عش عش کر اٹھی بی بی ایک بار اور سنادیں۔۔

نہيں چلو اٹھو ناشتہ لگاٶ دیر ھو رہی ھے صاحب کو میں اٹھانے جاتی ھوں وہ سیڑھیوں کے پاس آٸ تو عضد سامنے ہی کھڑا تھا۔۔

آپ اٹھ گۓ آٸیں ناشتہ کر لیں۔۔

وہ نیچے آیا ناشتے سے آفس آنے تک اسکے کانوں میں رتابہ کی غزل کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔

کیا اسے علم ھوتا جا رہا ھے کہ میں اسکی طرف ماٸل ھونے لگا ھوں کیا وہ میرے بدلتے احساسات کو محسوس کرنے اور سمجھنے لگی ھے؟؟

اسکی غزل کا اک اک لفظ اسکی زندگی کی سچاٸ پر مبنی لگ رہا تھا عضد کو۔۔

مایا اور علی کراچی پہنچ گۓ تھے عضد کو انفارم کر کے وہ دونوں سیدھا گھر آۓ۔۔

رتابہ پودوں کو پانی دے رہی تھی

پھولوں کے گھیرے میں اسکا چمکتا ھوا سلونا سا چہرہ علی کی نظروں میں تھا۔۔

انکے آنے سے پہلے ہی وہ سارا کام کر چکی تھی۔۔

اپنا کمرہ پھر سے اوپر شفٹ کیا تھا اس نے کیونکہ پاٶں کی چوٹ لگنے کے بعد کچھ دن وہ نیچے والے کمرے میں تھی۔۔

عضد اور اسکا کمرہ فرسٹ فلور پر ساتھ ساتھ تھا علی اور مایا کا گراؤنڈ فلور پر تھا۔۔

وہ آتے ہی اپنے اپنے کمرے میں چلے گۓ۔۔

رات کو اٹھے تو کھانا میز پر لگا ھوا ملا علی کو اچھی خاصی بھوک لگی ھوٸ تھی یار کیا کمال کا کھانا بناتی ھے یہ لڑکی۔۔

کیا لذت ھےاسکے ہاتھ میں جی چاہ رہا ھے کہ۔۔

مایا نے اسے آنکھیں نکال کر جملہ پورا کیا جو اس نے مایا کو دیکھ کر ادھورا چھوڑا تھا۔۔

یہ جی چاہ رہا ھے کہ چوم لو اسکے ہاتھ علی نے شرارت سے ہاں میں سر ہلایا۔۔

شرم نہيں آتی تمھیں۔۔

یار میرے منہ سے تو نہيں نکلا تمھی نے کہا ھے۔۔

ہاں تو منہ سے نکالنا تو یہی چاہ رھے تھے تم۔۔

اچھا بابا لڑ کیوں رہی ھو سوری اس نے کان پکڑے۔۔۔

اٹس اوکے but next time خیال رکھنا۔۔

اور تعریفیں کر کے سر چڑھانے کی ضرورت نہيں تمھیں مایا کھانا کھا کر اٹھ گٸ۔۔

علی نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔۔

رابی میز سے برتن اٹھانے لگی علی رابی سے رتابہ کا نام پوچھ کر

اس کے پیچھے کچن میں آیا

ھیلو رتابہ۔۔

اس نے پلٹ کر علی کو دیکھا جو کافی قریب کھڑا تھا اس سے

وہ دو قدم پیچھے ہٹی

چاۓ بنا دیں گی ایک کپ مذیدار سی اپنے ہاتھوں کی۔۔

جی چاۓ بنا دونگی لیکن پلیز بات ذرا دور رہ کر کیا کریں اتنا قریب آنے کی ضرورت نہيں آپکو رتابہ کا انداز غصیلہ تھا۔۔

علی نے کندھے اچکاۓ اوکے جی آپکا حکم سر آنکھوں پر۔۔

رابی اندر آٸ تو وہ باہر لان میں چلا گیا۔۔

عضد بھی آگیا رتابہ نے سب کیلیۓ چاۓ بناٸ اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ھو گئ۔۔

رات گۓ وہ تینوں آپس میں بیٹھے بزنس کی باتیں کرتے رھے

عضد اپنے کمرے میں گیا تو رتابہ سے ایک کپ کافی کا کہا وہ کافی بنا کر عضد کے کمرے میں گٸ تو وہ سو چکا تھا۔۔

وہ کافی لیکر اپنے روم میں چلی گٸ علی اسے دیکھ رہاتھا کہ یہ عضد کیساتھ والے کمرے میں کیا کر رہی ھے؟؟

مایا موبائل ہاتھ میں لیے باہر آٸ تم کیا کر رھے ھو سوۓ نہيں ابھی تک؟؟

نہيں یار ماما سے بات کررہا تھا پھر اس نے رتابہ کے کمرے کیطرف دیکھ کر پوچھا۔۔

اک بات تو بتاٶ یہ لڑکی servant quarter میں نہيں رہتی کیا؟؟

کونسی لڑکی؟؟

رتابہ کا پوچھ رہا ھوں۔۔

اوہ اچھااااا۔۔

نہيں عضد کی دور پرے کی جان پہچان والی ھے نا ماں باپ ھیں نا گھر بار نا کوٸ اور عضد نے ترس کھا کر اسے ساتھ رکھا ھوا ھے اسکے اور گھر کے سارے کام کاج کرتی رہتی ھے بس۔۔

تو کیا یہ عضد کیساتھ اکیلی ہی رہتی ھے؟؟ علی نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔

ہاں لیکن تم کیوں اتنے تجسس سے پوچھ رھے ھو؟؟

کچھ نہيں ویسے ہی پوچھا یار تم تو شک نا کرو مجھ پر۔۔۔علی نے اسکے گھورنے پر ٹوکا۔۔

وہ بھاٸ کو جانچتی ھوٸ نظروں سے دیکھ کر بولی۔۔

ھمممم ٹھیک ھے لیکن ذرا دھیان سے رہنا اور اس رتابہ میڈم سے دور بھی تمھارے ٹاٸپ کی نہيں یہ۔۔

________________

نمل دیان کیساتھ کھیل رہی تھی نرگس گھر میں نہيں تھی گیٹ بجنے پر وہ باہر آٸ تو شاہ جی تھا۔۔

السلام علیکم

وعلیکم سلام کیسی ھو بہنا؟؟

میں ٹھیک ھوں آٸیں اندر آٸیں نمل نے اسے اندر بلایا۔۔

ماں جی کہاں ھیں؟؟

وہ بازار گٸیں ھیں۔۔

اوہ اچھا معذرت چاہتا ھوں انکی غیر موجودگی میں آیا۔۔

نہيں اسمیں معذرت کی کیا بات ھے بیٹھیں آپ تھوڑی دیر میں آجاٸیں گی امی اور جازب بھی آتا ھوگا

شاہ جی نے باتوں باتوں میں نمل سے پوچھا۔۔

عضد کی شادی اسکی پسند سے ھوٸ ھے کیا؟؟

نمل خاموش ھو گٸ پھر الٹا اس سے سوال پوچھا خیریت آپ کیوں پوچھ رھے ھیں؟؟

تم بتاٶ تو سہی۔۔

نہيں امی کی پسند تھی وہ۔۔

اوہ اچھا۔۔

لیکن آپ نے کبھی پہلے تو نہيں پوچھا ایسا اب کیوں پوچھ رھے ھیں نمل کچھ ٹھٹھکی شاہ جی کے پوچھنے پر۔۔

جازب کو آنے دو پھر بات کرتے ھیں اس نے کولڈرنک ھونٹوں سے لگائ

کیوں مجھ پر یقین نہيں آپکو؟؟نمل کو یقین تھا دال میں کچھ کالا ھے۔۔

نہیں ایسی کوٸ بات نہيں شاہ جی نے سہولت سے کہا۔۔

تو پھر بتاٸیں آپکی ملاقات ھوٸ تھی کیا ان سے؟؟

ہاں کچھ دن پہلے مجھے بڑی ہی بری حالت میں عضد کی بیوی ملی تھی۔۔

نمل کا تجسس مذید بڑھ گیا کیا مطلب کیسی بری حالت میں؟؟

یار کراچی کے حالات تو سن رکھے ھونگے خراب تھے کافی کچھ دن پہلے۔۔

ھممم نمل نے ہنکارا بھرا۔۔

میں بازار کے پاس سے گزر رہا تھا حالات کافی خراب تھے اس دن بھی ہر طرف ٹریفک اور اور لوگوں کی بھگڈر مچی ھوٸ تھی مار پیٹ فائرنگ جاری تھی دو گروپوں میں

میں ٹریفک سے نکل کر گلیوں کیطرف آیا تو وہ کسی سے شاید خود کو بچاتے ھوۓ بھاگ رہی تھی اچانک سامنے سے آتی میری گاڑی سے ٹکراٸ۔۔

مٹی سے بھرے ھوۓ اسکے کپڑے تھے جیسے کسی نے پکڑ کر اسے گھسیٹا ھو۔۔

نمل کے چہرے کے تاثرات اب غصے میں بدل رھے تھے۔۔

میں نے بہت منت سماجت کر کے اسے گاڑی میں بٹھایا وہ بہت زیادہ ڈری اور سہمی ھوٸ تھی۔۔

نمل دیان کو گود سے اتار کر بولی کون تھا اسکے پیچھے؟؟

مجھے نہيں معلوم میرے بہت بار پوچھنے پر بھی وہ بس روتی رہی اور صرف گھر کا ایڈریس بتایا

پھر آپکو کیسے پتہ چلا کہ وہ عضد کی بیوی ھے؟؟

مجھے نہيں معلوم تھا پہلے لیکن اسے ڈراپ کر کے جب میں جانے لگا تو انکے گھر سے آوازیں سن کر رک گیا۔۔

بہت سختی سے اس سے سوال پوچھے جا رھے تھے کہ وہ کہاں تھی اور کس کیساتھ آٸ ھے؟؟

میں نے باہر بلوایا گھر کے مالک کو کہ انکو تسلی دوں تو باہر آنیوالا عضد تھا۔۔

نمل فوراً بولی مار پیٹ کی آواز تو نہيں آٸ تھی آپکو؟؟

نہيں ایسا کچھ نہيں تھا پھر نملنکو جواب دیتا خود سوال کیا کیوں عضد مارتا ھے کیا بیوی کو؟؟

ننن نہیں ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔

یار وہاں ایک لڑکی اور بھی تھی مجھے لگ رہا تھا اسے دیکھ کر کہ وہ بھی عضد کی بیوی ھے

نہيں وہ بیوی نہيں عضد کے باس کی بیٹی ھے

تو کیا وہ لڑکی بھی انکے ساتھ رہتی ھے؟؟

جی

لیکن یہ کیا تُک بنتی ھے کہ ایک جوان جہان لڑکی ایک ینگ کپل کیساتھ رھے کیسے ھیں اسکے والدین انکو احساس نہيں اس بات کا؟؟

نمل طنز بھرے لہجے میں بولی غیرت کا احساس ہر اک میں کہاں۔۔

ھمممم لیکن یار مجھے اس لڑکی پر بڑا ترس آیا نا جانے کیوں مجھے وہ زمانے کے ہاتھوں ستاٸ ھوٸ لگی۔۔

نمل نے سر جھکا لیا کیا کہتی۔۔

ابھی یہی باتیں کر رھے تھے کہ جازب بھی آگیا۔۔

نمل کافی پریشان ھو گٸ ساری بات سن کر۔۔

شاہ جی کے جاتے ہی اس نے رتابہ کو فون لگایا اور ساری بات پوچھی۔۔

رتابہ کافی حیران ھوٸ کہ اسے کیسے پتہ چلا۔۔

نمل نے اسے سمجھایا دیکھو رتابہ جب تم بے بس لاچار مظلوم بختی تھی نا وہ دور گزر گیا نا اب تمھاری زندگی میں دیوی انٹی ھے نا کوٸ اور شادی شدہ ھو تم اب

عضد تمھارا شوہر ھے اسے اپنی بیوی ھونے کا احساس دلاٶ اسکے قریب رھو یار اسطرح تو تم اپنا گھر خراب کر بیٹھو گی۔۔

گھر بنتا تو خراب ھوتا نا اسکا اور میرا رشتہ ایک کاغذ کے ٹکڑے کے علاوہ کچھ نہيں رتابہ نے مایوسی سے کہا۔۔

اسمیں بھی تمھاری غلطی ھے اپنی زندگی کی ڈور تم نے دوسروں کے ہاتھوں میں دے رکھی ھے جب جسکا جی چاہتا ھے کھینچ کر تمھیں منہ کے بل گرا دیتا ھے۔۔

رتابہ خاموش رہی۔۔

یار کچھ تو بولنا سیکھو اپنے حق میں اور پلیز اپنے تنہا ھونے سے مت ڈرو یار میں ھوں تمھارے ساتھ جازب ھے امی ھیں کیا تم ھمیں اپنا نہيں سمجھتی؟؟

تمھارے اور امی کے آسرے ہی تو جی رہی ھوں۔۔رتابہ نے گہری سانس لی تھی۔۔

تو میری جان ذرا ڈھنگ سے جینا سیکھو نا کیوں خود کو دوسروں کے ہاتھوں استعمال کروا رہی ھو کب سمجھو گی خود کو انسان تم؟؟

جواب میں خاموشی تھی۔۔

دیکھو رتابہ جب تک تم خود پر ترس کھانا نہيں چھوڑوگی لوگ تمھیں نہيں چھوڑیں گے جینے بھی نہیں دیں گے۔۔

ھمممم رتابہ نے سر ہلایا۔۔

اور ڈرو مت عضد سے یا مایا سے جب بھی وہ غلط کریں انھیں جواب دو انکی غلطی کا ایسے ڈرپوک روھو گی تو لوگ تمھیں ڈرا ڈرا کر ہی مار دیں گے۔۔۔

رتابہ آھستہ سے بولی کوشش کرونگی۔۔

نمل نے سختی سے کہا نہيں کوشش نہيں کروگی تم عمل کروگی ورنہ میں آجاٶنگی پھر تمھارا مقابلہ کرنے۔۔

رتابہ ھنسی نہيں یار تم مت آنا بہت خطرناک ھو تم تو۔۔

میری جان خطرناک ھوں اسلیۓ لوگ مجھ سے نا غلط بات کر سکتے ھیں نا کوٸ غلط حرکت۔۔

منہ پڑنے والے لوگوں کا منہ توڑنا نہيں سیکھو گی تو کوٸ چبا جاٸیگا اور کوٸ تھوک جاٸیگا تمھیں۔۔

______________

رابی کا بچہ ھونے والا تھا وہ پنجاب چلی گٸ تھی۔۔

سردی بھی اس بار کراچی کے پچھلے دس سالہ ریکارڈ توڑ رہی تھی اوپر سے بارش کا بھی امکان تھا۔۔

آج کافی دیر ھو گٸ تھی عضد نۓ آفس میں تھا جبکہ علی اور مایا بزنس میٹنگ میں ستار گروپ آف کمپنیز میں تھے۔۔

رات کا وقت تھا اس نے عضد کو بار بار کال کی کہ وہ جلدی گھر آجاۓ لیکن عضد ایک کال بھی اٹینڈ نا کر سکا۔۔

رات کے گیارہ بج رھے تھے بادلوں نے چاروں اطراف خوب اندھیرا کر رکھا تھا عضد اپنے آفس میں اندر آیا تو رتابہ کی بیس بار آٸ ھوٸ کالز دیکھیں پھر کال بیک کی۔۔

کیا ھوا خیریت ھے اتنی کالز؟؟

عضد آپ جلدی آجاٸیں پلیز مجھے ڈر لگ رہا ھے بہت۔۔

سوری میں جلدی نہيں آسکتا تم اک کام کرو میں ڈرائيور کو بھیج دیتا ھوں تم یہیں آجاٶ پھر گھر ساتھ چلیں جاٸیں گے ھم۔۔

رتابہ نے شکر ادا کیا اور جلدی سے اپنا حلیہ درست کیا..

بلیک نیٹ کی فراق پہنی ھوٸ تھی اس نے ڈرائيور کے آتے ہی گرم شال اوڑھے وہ عضد کے آفس پہنچی

وہاں کچھ ہی کولیگ تھے سب نے رتابہ کو سلام کیا۔۔

اس نے اتنا خوبصورت آفس پہلی بار دیکھا تھا سب کو سلام کا جواب دیتی ڈرائيور کے پیچھے پیچھے وہ عضد کے آفس میں داخل ھوٸ۔۔

عضد نے فاٸل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا کالے لباس میں سرمٸ شال پہنے وہ غضب ڈھا رہی تھی۔۔

عضد کے اشارہ کرنے پر وہ صوفے پر بیٹھ گٸ..

آفس کا اسٹاف بار بار عضد کے پاس آتا کچھ نا کچھ پوچھ کر جاتا۔۔

رتابہ کو نیند آرہی تھی سب کے آنے جانے سے وہ کمفرٹ فیل نہيں کر رہی تھی۔۔۔

عضد اسے ساتھ والے آفس میں لے آیا تم یہاں ریلیکس ھو کر بیٹھو میںں گھنٹے دو تک فری ھو جاٶنگا۔۔

وہ واپس اپنے کام میں مصروف ھو گیا رتابہ بیٹھے بیٹھے صوفے پر ہی سو گٸ۔۔

دوسری طرف علی کی طبیعت خراب تھی وہ گھر آگیا تھا مایا کمپنی میں ہی تھی۔۔

ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ھو گٸ عضد نے سب کو چھٹی دے دی اور خود کچھ امپورٹینٹ ڈوکیومنٹ بناتا رہا رات کا ایک بج رھا تھا وہ بھی کافی تھک گیا تھا گھر جانے لگا رتابہ اسے بھول گٸ کہ وہ بھی وہیں تھی۔۔

گھر جاتے ہی وہ بستر پر ڈھیر ھو گیا ہلکی بارش نے اب طوفانی روپ دھار لیا تھا۔۔

رتابہ کی آنکھ بادلوں کی ہولناک گرج سے کھلی تو اسے اپنے آس پاس کچھ بھی دکھاٸ نا دیا گھپ قبر کی طرح اندھیرا تھا وہ وہیں بیٹھے بیٹھے عضد کو پکارنے لگی۔۔

عضد۔۔عضد وہاں کوٸ ھوتا تو جواب دیتا۔۔

عضد۔۔ عضد کہاں ھیں آپ؟؟

اتنے گھپ اندھیرے میں اسکا دم گھٹنے لگا وہ اٹھ کر اندھوں کیطرح آس پاس ہاتھ ہلانے لگی۔۔

عضد یہ کیا کیا آپ نے ایسے مجھے یہاں چھوڑ گۓ وہ روپڑی عضد اسطرح تڑپا تڑپا کر مت مارو ایک ہی بار مار ڈالو۔۔

وہ مشکل سے دروازے تک آٸ لاک تھا دروازہ وہ مذید ڈر گٸ۔۔

عضد۔۔ عضد وہ دروازہ بجاۓ پھوٹ پھوٹ کر روٸ۔۔

سردی بھی بہت لگ رہی تھی اسے وہ خوف اورسردی سے کپکپانے لگی کہ اسکے تن پر صرف شال تھی۔۔

بادل پھر گرجے تو اسے ٹیبل کے پیچھے کھڑکی سے روشنی سی نظر آٸ۔۔

وہ آھستہ سے چل کر کھڑکی طرف آٸ کہ شاید اسے کوٸ نظر آجاۓ۔۔

اس نے کھڑکی کے پردے سرکاۓ تو سامنے بھی گھپ اندھیرا تھا سوا بادلوں کے اسے کچھ دکھائ نا دیا

کھڑکی کے ساتھ ہی ایک دروازہ تھا رتابہ نے اسے کھولا تو وہ کھل گیا وہ گیلری تھی۔۔

رتابہ جلدی سے گیلری میں لگی گرل کے پاس آٸ تو تیز ھوا سے گیلری کا دروازہ اتنے زور سے بند ھوا کہ اسکا سانس ہی رک گیا۔۔

نیچے اس نے جھانکا سب کچھ بلکل سنسان پڑا ھوا تھا۔۔

سیکنڈ فلور پر تھی وہ اس نے پوری کوشش کی کہ ٹیرس کادروازہ کھلے کیونکہ تیز ھوا سے وہ بارش سے بھیگ رہی تھی ٹیرس کا دروازہ نا کھلا۔۔

یہ کیا ستم ھوا تھا اسکے ساتھ وہ رو رو کر اللہ کو یاد کرکے ٹیرس کے ایک کونے پر پھولوں کے گلدان کو کھسکا کر اسکے پیچھے بیٹھی۔۔

پر بارش کی بوندوں سے بچ نا سکیہوا بھی بہت تیز تھی اسکے ساتھ برف کیطرح ٹھنڈی بارش سے وہ مسلسل بھیگتی ہی رہی۔۔۔

ماضی کا خوف اسکے سامنے کھڑا اس پر مسکرا رہا تھا خوف اور دہشت سے اسکی آنکھیں پھیل اور سکڑ رہی تھیں۔۔

ھوا کے جھونکوں پر بھی سوکھے پتے کی طرح تھرتھراتی وہ گردن گھمانے لگتی اسکی چیخیں اسکے حلق میں پھنس کر رہ گئیں۔۔

سردی خوف تنہائ ماضی کا درد سب ایک ساتھ اسکے ذہن پر سوار ھوۓ خوف سے خون اسکی رگوں میں جمنے لگا تھا اپنے حواس برقرار رکھنا اب اسکے بس کی بات نا تھی۔۔۔

ادھر عضد مزے سے اس سے بے خبر سو رہا تھا۔۔

مایا بھی گھر آتے ہی سو گٸ۔۔

عضد کے روم کی کھڑکی کھلی ھوئ تھی بارش کی گرج چمک سے اچانک آنکھ کھلی تو اسے رتابہ یاد آٸ کہ وہ اکیلے ڈرتی ھے بہت بارش میں وہ سردی سے ہاتھ ملتا اسکے کمرے کیطرف آیا۔۔۔

اسے وہاں نا پا کر اسے یاد آیا کہ رتابہ کو تو وہ آفس میں ہی چھوڑ آیا ھے اس نے ٹاٸم دیکھا رات کے تین بج رھے تھے اس نے جلدی سے گاڑی نکالی۔۔

لیکن انجن ٹھنڈا ھونے سے گاڑی اسٹارٹ نہيں ھو رہی تھی بڑے جتن کرکے عضد نے گاڑی اسٹارٹ کر لی اور جلدی سے وہ چوکیدار کیطرف گیا۔۔

اور اسے لے کر کمپنی پہنچا پھر بھاگتے ھوۓ اندر داخل ھوا اور دروازہ کھول کر اس آفس میں آیا جہاں اس نے اسے چھوڑا تھا وہ اندر نہيں تھی۔۔

عضد نے آواز لگاٸ رتابہ رتابہ۔۔

پھر اسے واش روم میں دیکھا وہ وہاں بھی نہيں تھی۔۔

کھڑکی کے پردے ہٹے ھوۓ تھے عضد نے ٹیرس میں جھانکا تو وہ ایک طرف کونے میں اک گٹھڑی کی طرح بے جان پڑی ھوٸ تھی۔۔

اس نے دروازہ کھولا لیکن لاک نہيں کھل رہا تھا۔۔

اس نے کہنی مار کر کھڑکی کا شیشہ توڑا اور جمپ کھا کر رتابہ کے پاس آیا جب اسے چھوا تو وہ برف کیطرح ٹھنڈی اور مردے کیطرح اکڑی ھوٸ تھی۔۔

اس نے جلدی سے اسے کندھے پر ڈالا اور کھڑکی پھلانگ کر اسے صوفے پر لٹایا پھر اسکی دھڑکن چیک کی بہت آھستہ آھستہ اسکا دل دھڑک رہا تھا اسکے ھونٹ اور ہاتھ پاٶں نیلے ھو گۓ تھے سردی سے۔۔۔

عضد نے اسکے ہاتھ پاٶں جلدی سے مسلے پر بیکار تھا چوکیدار کو گھر پہنچا کر وہ خود گھر کیطرف آنے لگا۔۔

طوفانی بارش تھی روڈ پر ہر جگہ پانی کا سیلاب آیا ھوا تھا اسکی گاڑی بھی بار بار بند ھو رہی تھی

بڑی مشکل سے وہ گھر پہنچا

لیکن باہر گیٹ سے کچھ فاصلے پر گاڑی رک گٸ اور پھر اسٹارٹ نا ھوئ اس نے گاڑی کو وہی چھوڑی اور رتابہ کو اٹھا کر گھر لانے لگا

چوکیدار کو وہ جگا کر آیا تھا عضد کی اک آواز پر ہی اس نے دروازہ کھولا۔۔۔

سردی سے بھیگ کر عضد کی اپنی حالت غیر ھو رہی تھی بارش کی ایک ایک بوند اسے برف کے گولے کیطرح لگ رہی تھی۔۔

بارش سے علی بھی جاگا ھوا تھا اور لان میں کھڑکی سے باہر جھانک کر بارش انجواۓ کر رہا تھا پھر اچانک عضد رتابہ کو گود میں اٹھاۓ اندر آتا اسے دکھائ دیا۔۔۔

حیرت سے وہ پوری آنکھیں کھول کر دیکھنے لگا کہ رات کے پچھلے پہر وہ کہاں سے آرہا تھا رتابہ کو لیکر؟؟

عضد سیدھا اسے اوپر اپنے کمرے میں لے گیا علی خاموشی سے دیکھتا رہا کہ ماجرا کیا ھے؟؟

عضد نے آتے ہی اندر ھیٹر تیز کیا اور

جلدی سے لباس تبدیل کیا کہ مکمل بھیگ چکے تھے دونوں۔۔

پھر اسے کمبل میں لپیٹ کر اسکے ہاتھ پاٶں سہلانے لگا۔۔

بہت ٹینشن ھو رہی تھی اسے اب رتابہ کی حالت دیکھ کر نا جانے کب سے وہ بارش میں بھیگ رہی تھی ٹیرس میں کیا گزری ھوگی اس پر عضد کو اپنے آپ پر بے انتہا غصہ آرہا تھا کہ وہ کیسے اسے بھول گیا اسطرح۔۔

اسکی اس حالت کا ذمہ دار وہ خود تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ رتابہ کا ایسی حالت میں کیا کرے اس نے لندن میں اسود کو فون لگایا اور رتابہ کی کنڈیشن بتاٸ۔۔

پہلے تو اسکی بات سن کر اسود نے اسے خوب لتاڑا۔۔

حد ھوتی ھے لاپرواہی کی بھی یار گھر میں انسان ایک جانور بھی پالتا ھے نا تو اسکا خیال رکھتا ھے اور تو ایک جیتی جاگتی لڑکی کو کیوں روز موت کے گھاٹ اتارتا ھے مجھے لگتا ھے تیرے اندر انسانیت مر چکی ھے بلکل تو اسے بیوی سمجھ نا سمجھ کم از کم انسان تو سمجھ لے۔۔

یار تو جھاڑ بعد میں لینا پہلے بتا کیا کروں میں؟؟

اس بیچاری کو اتنی اذیت دینے سے بہتر ھے کہ تو اسے آزاد کر دے۔۔

یار بس بھی کر اب بول کیسے ٹریٹ کروں اسے۔۔

دیکھ کراچی کا ٹمپریچر منفی پر نہیں آتا اسلیے وہ ویزو کنسٹرکشن vaso constriction میں نہیں جا سکتی کسی خوف کو برداشت نا کرتے ہوئے بیہوش ھوئ ھے۔۔۔

تو اسکو مسلسل گرم رکھ پانی سے ٹھنڈ سے دور رکھ اسے اب اور اگر ھوش میں آنے کے بعد بھی اسکے ہاتھ پاؤں نیلے ھیں یا مسلسل سن ھو رھے ھوں تو پھر اسے ھوپسٹل لے جانا کہ صحیح سے ٹریٹ ھو سکے کہ ویسلز میں بلڈ سپلائ کہاں نہیں ھو پا رہی ٹھیک سے۔۔

اسکا فون کاٹ کر عضد نے پریشانی سے کھڑکی پر ہاتھ رکھے باہر لان میں جھانکا کیا کیا ھے میں نے اسکے ساتھ؟؟

اپنی انا اپنی نفرت اپنی ضد سب بھول گیا تھا اسے یاد تھا تو صرف اتنا کہ رتابہ کو کچھ نہيں ھونا چاھیۓ۔۔

وہ سر جھکاۓ جبڑے بھینچے رتابہ کے پاس آ کر بیڈ پر بیٹھا اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اسکی ہتھیلیاں رگڑنے لگا۔۔

عضد کی نظر اسکے ہاتھوں سے اب نیلے ھونٹ پر تھی اپنا دل مٹھی میں جکڑا ھوا اسے محسوس ھوا اس نے اسکے برف کیطرح ٹھنڈے ماتھے پر بوسہ لیا تو اسکی تکلیف کا احساس اسے شدت سے ھونے لگا کہ اس نے کیسے اتنی ٹھنڈ میں بارش میں بھیگنا برداشت کیا ھوگا اسکی قربت میں عضد کا دل موم ھونے لگا تھا وہ اک ٹک اس پر نظرے جماۓ اسکے ساتھ لیٹا ھوا تھا۔۔

اسکے کانوں میں رتابہ کی غزل کے آخری الفاظ تھے۔۔

مجھے بھی ڈھونڈ کبھی محوِ آٸینہ داری۔۔

میں تیرا عکس ھوں لیکن تجھے دکھاٸ نا دوں۔

دولتِ دل ھے متاعِ محرومی

میں جامِ جم کے عوض کاسہ ٕ گداٸ نا دوں۔۔

جاری ھے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *