Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 36)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 36)
Bad Bakhat by Arshi Noor
بیل مسلسل بج رہی تھی وہ جلدی سے اٹھی اور دروازہ کھولا تو سامنے مسز ھمدانی تھی۔۔۔۔
جو رو رہی تھیں۔۔۔۔
رتابہ کا دل انکو اس طرح روتا ھوا دیکھ کر ڈوبنے لگا۔۔۔۔۔
کیا ھوا انٹی آپ یہاں اور آپ رو کیوں رھی ھیں انکل تو ٹھیک ھیں نا۔۔۔۔۔
وہ دروازے پر ہی کھڑی تھیں ہاں انکل ٹھیک ھیں لیکن عضدددد۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ھوا عضد کو۔۔۔۔۔۔
رتابہ بیٹا عضد کا بہت برا ایکسیڈینٹ ھو گیا ھے۔۔۔۔۔۔۔
ککککککک۔۔۔ کیاااااااا۔۔۔۔۔۔عضد کا ایکسیڈنٹ؟؟؟؟؟؟
رتابہ کی سانسیں یک دم رک گئیں اسے ایک پل اپنے پیروں تلے سے زمین کھسکتی ھوئ محسوس ھوئ اسے کھڑا ھونے کیلیے دیوار کا سہارا لینا پڑا۔۔۔۔۔۔
نہیں آنٹی ایسے کیسے ھو سکتا ھے۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
میرے اللہ یہ کیا ھو گیا ابھی صبح صحیح سلامت تو تھے وہ ایسا نہیں ھو سکتا نہیں بلکل نہیں ھو سکتا ھے آپکا غلط فہمی ھوئ ھو رتابہ تو پاگل سی ھونے لگی۔۔۔
نہیں کوئ غلط فہمی نہیں ھوئ ھمیں کچھ دیر پہلے اطلاع ملی ھے چلو میرے ساتھ۔۔۔۔
رتابہ کو عضد کا سن کر کچھ ھوش نا رہا وہ ننگے پاؤں ہی چل پڑی مسز ھمدانی کیساتھ۔۔۔۔۔
ھوسپٹل پہنچ کر وہ بھاگتے ھوۓ i.c.u تک پہنچی اسے وہاں ننگے پاؤں دوڑتا دیکھ کر سبھی لوگ دیکھ رھے تھے۔۔۔
اسکے بھاگتے قدم وہاں رکے ھمدانی سر پہلے سے موجود تھے رتابہ ہانپتی کانپتی ہوئی ھمدانی سے پوچھنے لگی ۔۔۔
کہاں ھے عضد۔۔۔
کیسا ھے وہ اب۔۔۔۔۔
اسکی سانسوں سے سانسیں نہیں مل رہی تھیں آسو برسات کی طرح بہہ رھے تھے اور چہرے پر خوف وہراس پھیلا ھوا تھا۔۔۔۔۔۔
ھمدانی صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
ٹھیک ھو جائے گا وہ بیٹا دعا کرو اللہ تعالیٰ سے۔۔۔۔
رتابہ کو تو اب گلے لگانے والا بھی کوئی نہیں تھا یہاں نا نرگس نا نمل نا عضد خود بہت بری کیفیت میں تھی وہ خود بھی۔۔۔۔۔
انکل میں اسے دیکھنا چاھتی ھوں ایک بار بس ایک بار مجھے اسے دیکھنا ھے۔۔۔۔۔
اسکا آپریشن ھو رہا ھے بیٹا ڈاکٹرز نہیں جانے دیں گے اندر۔۔۔۔
آپریشن ککککک کس چیز کا۔۔۔۔
بیٹا روڈ کراس کرتے ھوئے اسے کنٹینر نے ھٹ کیا تھا اسکی پسلیاں ٹوٹ گئیں ھیں اور شاید ایک ٹانگ اور بازو بھی۔۔۔
رتابہ نے نا میں سر ہلایا۔۔۔
نہیں انکل اسے کچھ نہیں ھو سکتا اسے میں نے رب کے حوالے کیا تھا میرا رب کیسے اسے اتنی تکلیف دے سکتا ھے۔۔۔
آپ مجھے دیکھنے دیں نا کیا پتہ وہ عضد نا ھو۔۔۔۔۔
مسز ھمدانی نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی پر وہ کچھ بھی سننے کو تیار نا تھی۔۔۔۔
بس روتے ھوئے اس نے ایک ہی ضد ٹھانی ھوئ تھی کہ اس نے عضد کو دیکھنا ھے۔۔۔۔۔
رو رو کر اس نے اپنا برا حال کر لیا تھا۔۔۔
بہت کوشش کی سب نے اسے بہلانے کی وہاں موجود دوسرے ڈاکٹرز نے بھی پر اس نے ایک ہی رٹ لگائے رکھی کہ عضد کو دیکھنا ھے ایک بار۔۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔۔۔۔
ایک ڈاکٹر کو رحم آیا اس پر وہ اسے آپریشن کے فوراً بعد اندر لیکر آیا۔۔۔۔
کافی زیادہ زخمی تھا عضد سر تا پاؤں پٹیوں سے لپٹا ھوا تھا وہ عضد کو دیکھ کر وہیں زمین پر گر گئ۔۔۔۔
عضد کی دو پسلیاں ٹوٹی تھیں جن کا آپریشن ھوا تھا۔۔۔۔
دائیں ٹانگ کی ایک ہڈی tibia فریکچر ھوئ تھی اور بازو کی humerus bone اور carpus فریکچر ھوئ تھیں۔۔۔۔۔
عضد کی ناک میں آکسیجن کی نلکیاں لگی ھوئی تھیں سانس لینے کیلئے اور سینے پر chest electrodes لگے ھوۓ تھے اور زخمی ہاتھوں پر کنولے۔۔۔۔۔۔
رتابہ کو نرس نے سہارا دیکر اٹھایا وہ بے یقینی سے لڑکھڑاتے قدموں کیساتھ اسکے پاس آئ اور اسکے زخمی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر رونے لگی۔۔۔۔۔
اے میرے خدا اب کونسا امتحان باقی ھے میری بد بختی کا۔۔۔۔
روتے روتے اسے زارا کی بات یاد آئ۔۔۔
بہت بختوں والی ھے یہ اسکے قدموں کے ساتھ ھمارے یہاں خوش بختی آہی ھے۔۔۔۔
پھر اس اماں کی بات یاد آئ اللہ کی رحمت ھو تم تمھارے ھوتے ھوئے کسی کو کچھ نہیں ھو سکتا تم جہاں جہاں جاؤگی اللہ کی رحمت کے فرشتوں کے ساتھ جاؤگی ۔۔۔۔۔
اے میرے رب اس نے روتے ھوۓ کھڑکی کے بند شیشوں سے نظر آتے آسمان کیطرف دیکھا کہاں ھے تیری رحمت جو میرے ساتھ تھی۔۔۔۔۔
پھر اسے دیوی کی باتیں یاد آئیں۔۔۔۔۔۔۔
بد بخت ھے تو منہوس ھے جہاں بھی جاۓ گی اپنی منہوسیت کی لپیٹ میں لے لے گی سب کو جنم جلی۔۔۔۔۔
عضد کی حالت دیکھ کر وہ ٹوٹ سی گئی تھی اس نے اپنے آنسو پونچھے اور خود سے مخاطب ھوی کیا دیوی انٹی صحیح کہتی ھیں میں سچ۔ میں بد بخت ھوں کیا عضد بھی میری بدبختی کا شکار ھوا تھا۔۔۔
پھر اسکے کانوں میں عضد کا جملا گونجا تم مجھے معاف نہیں کروگی۔۔۔۔
وہ اپنی سوچوں میں گم ھوگی کیا عضد کو میرے معاف نا کرنے کی سزا ملی ھے؟؟؟؟ لللل لیکن میں نے اسی وقت عضد کو معاف کر دیا تھا۔۔۔۔
یا پھر عضد کو اسکی کی ھوئ زیادتیوں کا صلہ ملا ھے لیکن پھر بھی سزا عضد کو ہی کیوں ملی باقی سب کیوں ماکافات کی قید سے رہا پھر رھے ھیں۔۔۔۔
اب اسکی نظریں پھر آسمان کیطرف تھی یا رب ذوالجلال میں نے تو کبھی کسی کو بددعا بھی نہیں دی اس نے اپنا سر کندھے پر جھکایا میں نے آج تک مکافات عمل بھی نہیں چاھا کہ کوئ میرا سزاوار رھے۔۔۔۔۔۔
تو کیا پھر واقعی عضد پر میری منہوسیت کا سایہ پڑا تھا وہ گھٹی گھٹی سانسوں سے رونے لگی۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے باہر جانے کو کہا۔۔۔
لیکن عضد کو اس حال میں چھوڑ کر جانے کو تیار نا تھی اسے نرس نے زبردستی باہر نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسز ھمدانی نے اسے پکڑ کر بٹھایا۔۔۔۔۔
بیٹا ھمت کرو ایسا کرو گی تو عضد کو کون سنبھالے گا شکر ادا کرو اللہ تعالیٰ کا اسکی جان بچ گئی ورنہ جس روڈ پر اسکا ایکسیڈینٹ ھوا ھے وہاں کسی کا بچنا ناممکن ھے۔۔۔
بہت ھیوی ٹریفک ھوتا ھے اللہ نصیب کرے اسے اسکی جوانی ٹھیک ھو جائے گا بس تم صبر سے کام لو کچھ حوصلہ کرو بیٹا۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں گویا ھوئ۔۔۔۔
کیسے کر لوں صبر اس مقام پر جہاں چوٹ میری روح نے کھائ ھے اب نہیں کر سکتی صبر۔۔۔۔
وہ ہر اذیت خود پر سہہ سکتی تھی لیکن عضد کی تکلیف اسکی برداشت سے باہر تھی۔۔۔۔۔
__________________
رتابہ کے لندن جاتے ہی پہلی فلائٹ سے نرگس لاھور آ گئ تھی اور یہاں آکر ایک ہی بار اسکی بات ھوئ تھی رتابہ سے نرگس کا دل بہت اداس تھا۔۔۔۔
مسلسل وہ کالز کر رہی تھی عضد کا فون بند جا رہا تھا اور رتابہ فون اٹھا نہیں رہی تھی وہ پریشان ھوگئ اسے عجیب سا دھڑکا لگا بہت فکر مند ھو رہی تھی وہ رتابہ اور عضد کیلیے کہ ناجانے عضد کیسے پیش آیا ھو گا اسکے ساتھ اب۔۔۔۔
اور رتابہ کا کیا حال ھوگا؟؟؟؟؟
علی اور مایا کا نمبر بھی نہیں تھا اسکے پاس ھمدانی صاحب کا نمبر بھی نہیں تھا اسکے پاس اب اس نے رتابہ کے پہلی بار لندن جاتے ھوے رابطہ کیا تھا ھمدانی سے لیکن نمبر سیو نا کر پائ۔۔۔۔
نمل ماں کو اس طرح پریشان دیکھ کر سمجھانے لگی۔۔۔۔
امی کچھ نہیں ھوا گا سب خیریت ھوگی آپ کیوں اتنا پریشان ھیں۔۔۔۔۔
نہیں نمل میری پریشانی بلا وجہ کی نہیں کچھ نا کچھ ضرور ھوا ھے نرگس رو پڑی میرا دل بہت بے چین ھے۔۔۔
امی کیا ھوگیا ھے یار آپکو جازب بھی اٹھ کر باہر آگیا۔۔۔۔
جازب بیٹا میرا دل بہت پریشان ھے کسی طرح بھی ممکن ھے تو عضد اور رتابہ سے میری بات کرواؤ مجھے ان سے ابھی بات کرنی ھے پتہ نہیں کس پریشانی میں ھیں میرے بچے ۔۔۔۔
جازب نے انکا سر اپنے سینے سے لگایا۔۔۔
کیا ھو گیا ھے امی آپ تو ھم سب کو حوصلہ دیتی ھیں پھر اچانک یہ سب ۔۔۔۔۔۔
نرگس بہت بے چین تھی میرے بچے ٹھیک نہیں ھیں جازب کچھ ھوا ضرور ھے میری یہ بے قراری یہ اضطراب بلا وجہ کا نہیں۔۔۔۔
نمل نے ماں کو دیکھ کرشاہ جی کو کال ملائ اور اسے کہا کہ وہ عضد کے گھر جا کر علی سے انکی بات کرواۓ۔۔۔۔
شاہ جی کراچی میں ہی تھا کچھ گھنٹوں میں وہ وہاں موجود تھا۔۔۔۔۔
علی اور مایا گھر میں نہیں تھے چوکیدار سے علی کا نمبر لیکر اس نے نمل کو بھیجا۔۔۔۔
نمل نے اسی وقت علی کو کال کی اور عضد کا پوچھا۔۔۔
سب خیریت ھوگی آپ سب کیوں اتنے پریشان ھیں میں ان سے کانٹیکٹ کر کے آپ کو انفارم کرتا ھوں۔۔۔۔
نمل نرگس کو دیکھ کر خود بھی پریشان ھو گئ کہ ایسا بھی کیا مسئلہ تھا کہ اسکی ماں اس قدر بے چین تھی۔۔۔۔۔۔
نمل کچھ دیر بعد بار بار علی کا نمبر ڈائل کرتی جو مسلسل بزی جا رہا تھا۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں علی کا فون آگیا نمل سے فون جازب نے لیا اور جو خبر علی نے اسے دی وہ سن کر اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا۔۔۔۔
نرگس اسکے سامنے آ کھڑی ھوئی کیا ھوا ھے بتاؤ مجھے وہ اسے بازوؤں سے پکڑے ھوئ تھی۔۔۔۔
جازب خاموش تھا نمل نے اسکی طرف دیکھ کر اشارے سے پوچھا کیا ھوا۔۔۔۔۔
اس نے آرام سے نرگس کو گلے سے لگایا۔۔۔۔
بتاؤ نا مجھے کیا ھوا نرگس نے اسے فوراً خود سے پیچھے کیا۔۔۔
امی عضد کا ایکسیڈینٹ ھو گیا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بات سن کر نرگس کا دل بند ھونے لگا وہ دو قدم چکراتے سر کیساتھ پیچھے ہٹی جازب نے انکو سہارا دیا ورنہ وہ گر جاتی۔۔۔۔۔
نہیں جازب میرا بچہ میرا عضد کلک کیسے ھوا ایکسیڈینٹ کہاں لگی چوٹ میرے لعل کو کہاں وہ کیسا ھے وہ؟؟؟؟
جازب نے بڑی مشکلوں سے نرگس کو سنبھالا۔۔۔
ٹھیک ھے امی وہ ۔۔۔
اسے کچھ نہیں ھوا بس ٹانگ اور بازو فریکچر ھوا ھے۔۔۔۔
وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی میری بات کرواؤ عضد سے میرا بچہ میری جان کتنی تکلیف میں ھوگا میری بچی میری رتابہ بھی اکیلی ھیں وہاں۔۔۔۔۔
میرے جانے کا کچھ کرو جازب مجھے نہیں پتہ مجھے اپنے بچے کے پاس جانا ھے کچھ کرو جلدی سے وہ مجھے پکار رہا ھوگا جازب میرا عضدددددد وہ پھوٹ پھوٹ کر روئ۔۔۔۔
نمل اور جازب نے پہلی بار نرگس کو اتنا مچلتے ھوۓ دیکھا تھا۔۔۔۔
کسطرح وہ سب کا حوصلہ اور اعتماد بنتی تھی آج جب بات اسکی اولاد پر آئ تو وہ خود برداشت نا کر سکی۔۔۔۔۔
عضد میں جان تھی نرگس کی وہ بن پانی کے مچھلی کیطرح تڑپ رہی تھی۔۔۔۔
شاہ جی کا فون آیا۔۔۔۔
وہ بھی عضد کا سن کر کافی پریشان ھوا اسکا ویزا بنا ھوا تھا اس نے جلدی سے اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹس ریڈی کیے ۔۔۔۔۔۔
علی سے مسز ھمدانی کا نمبر لیکر جازب نے رتابہ سے بات کروائ۔۔۔۔
وہ بات ہی نہیں کر پا رہی تھی نرگس مذید بے چین ھو گئ۔۔۔۔
عضد اب تک بیہوش تھا۔۔۔
اور رتابہ کی حالت نا قابل دید تھی وہ بھی کہاں اپنے ھوش و حواس میں تھی۔۔۔۔۔۔۔
___________________
رتابہ نے اللہ سے رو رو کر اپنے لیۓ ھمت کی دعا کی کہ اللہ پاک نے اسے اس آزمائش میں ڈالا ھے تو اسے سہنے کی ھمت بھی عطا کرے۔۔۔۔۔
اسکا رواں رواں دعا بنا ھوا تھا۔۔۔۔
علی اور مایا بھی پریشان ھو گۓ۔۔۔۔۔۔
مایا سے تو صبر ہی نہیں ھو رہا تھا کہ وہ اڑ کر لندن جاتی اسکی فلائٹ تین دن بعد کی کنفرم ھوئ تھی ۔۔۔۔
کیا سے کسی ھو گیا تھا پل بھر میں۔۔۔
انسان سوچتا کیا ھے اور اسکے ساتھ تقدیر کرتی کیا ھے کتنا بے بس اور لاچار ھو جاتا ھے انسان اس تقدیر کے ہاتھوں جہاں اسکی ساری تدبیریں ساری کوششیں ہتھیار ڈال دیتی ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عضد کو ھوش آ چکا تھا۔۔۔۔
رتابہ اجڑے چمن کیطرح اسکے سامنے ہی تھی۔۔۔۔۔
اسے سامنے دیکھ کر عضد کے آنسو کن پٹیوں پر بہنے لگے اسی دشمن جاں کی سوچوں میں وہ گم تھا جب اسکا ایکسیڈینٹ ھوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اپنے ھوش میں آنے پر اسے سارا منظر یاد آیا کہ کسطرح اسے ٹرالر نے مار کر ھوا میں اچھال کر زمین پر پٹخا تھا اور زمین پر گرتے ہی اسے اپنے جسم کی ایک ایک ہڈی ٹوٹتی ھوئ محسوس ھوئ وہ تکلیف کے سبب بلکل ساکت ھو گیا تھا سر سے بہتے خون سے وہ کے پت پڑا ھوا تھا موت اسکے سر پر کھڑی تھی اور ایک طرف رتابہ کا چہرہ تھا۔۔۔۔۔۔
خون سے لت پت بلکل بے یارو مدد گار پڑا ھوا تھا وہ کئ اپنا
کوئی شناسا چہرہ نا تھا اسکے قریب۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روڈ پر پڑا درد کی شدت سے تڑپ رہا تھا چند لمحے گزرے ہی تھے کہ سب لوگ اسکے ارد گرد جمع ھوگۓ تھے۔۔۔۔۔
ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اسکا سر اونچا کیا تو اسکے منہ سے خون کی پیک نکلی اور آخری بار رتابہ کا نام۔۔۔۔
پھر وہ اپنی تکلیف نا سہتا ھوا ھوش سے بیگانا ھو گیا تھا اور اب ھوش میں آنے کے بعد رتابہ کو اپنے سامنے دیکھ کر اسے یقین ھوا کہ وہ موت کی وادیوں سے پلٹ کر آیا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ کیطرف اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
اس نے لمحہ بھی نا لگایا ہاتھ تھامنے میں اب بھی وہ بول نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نا عضد کے سینے پر سر رکھ سکتی تھی خون کے آنسو رو رہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔
عضد کے لب آہستہ سے کھلے ٹھیک ھوں میں اب۔۔۔۔
وہ بہت مشکل سے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بول رہا تھا۔۔۔۔۔
تم نے مجھے معاف نہیں کیا تھا نا اسلیۓ شاید رب نے ایک بار اور جینے کی مہلت دے دی کہ تم سے مممم۔۔۔۔۔
رتابہ نے روتے ھوئے عضد کے ھونٹوں پر ہاتھ رکھا بس کچھ نا کہیں پلیز۔۔۔۔۔
عضد نے اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹایا اب بھی نہیں بولنے دوگی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔
آپ ٹھیک ھو جائیں پہلے پھر جتنا چاھے بول لینا لیکن ابھی آپکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔
عضد کا سانس پھولنے لگا اسکی آنکھوں سے آنسو لگاتار بہہ رھے تھے تمھارے ھوتے ھوئے مجھے کچھ نہیں ھو سکتا تم تو اللہ کی رحمت ھو نا۔۔۔۔۔
رتابہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
کہ وہ کیا سن رہی تھی عضد کے منہ سے کیا یہ وہی عضد تھا؟؟؟؟؟؟ جو کل تک اسے کچرے کا ڈھیر سمجھتا تھا جسکا وجود اس دھرتی پر بہت بڑا بوجھ تھا۔۔۔
اور آج اسی زبان سے وہ اسے اللہ کی رحمت کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
عضد پھر بولا رتابہ مجھ سے دور مت ھونا ایک پل بھی۔۔۔۔۔
وہ آنسو پونچھتی بچوں کیطرح نا میں سر ہلانے لگی نہیں ھونگی دور بس آپ ٹھیک ھو جائیں۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تو کیا میرے ٹھیک ھونے کے بعد چھوڑو گی مجھے۔۔۔۔
عضد آپ کیسی باتیں کر رھے ھیں یہ وقت ان باتوں کا نہیں
ڈاکٹرز کی آنے پر دونوں چپ ھو گۓ۔۔۔۔۔۔۔
____________________
نرگس عضد سے بات کر کے بھی سکون میں نہیں تھی۔۔۔۔
اسکی ممتا اسے دیکھنے کیلیے اسے بانہوں میں لینے کیلیے تڑپ رہی تھی۔۔۔۔
اسود بھی عضد کیساتھ تھا شاہ جی بھی لندن پہنچ چکا تھا وہ بنا آرام کیے ڈائریکٹ ھوسپٹل پہنچا۔۔۔۔۔
وہاں ھمدانی صاحب کو دیکھ کر چونک گیا وہ کہ یہ مایا کے پاپا تھے اسے کافی حیرت ھوئ اس نے بظاہر اپنا رویہ نارمل رکھا۔۔۔۔
رتابہ شاہ جی کو یہاں دیکھ کر کافی حیران ھوئ۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تم پریشان نا ھو بہن میں ھوں یہاں تم دونوں کیساتھ اب تم اکیلی نہیں ھو۔۔۔۔
اسود اور شاہ جی نے رتابہ کے ساتھ ملکر خوب دلجوئی سے عضد کی خدمت کی۔۔
مایا کے آنے تک عضد گھر شفٹ ھو گیا تھا۔۔
ھمدانی صاحب اسے اپنے گھر لے گۓ تھے کہ رتابہ اکیلی تھی مایا بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔
عضد کو اس طرح دیکھ کر وہ اسکے سینے سے جا لگی شاہ جی اور رتابہ سامنے ہی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
عضد کا آپریشن ھوا تھا اسے تھوڑا ہیں محسوس ھوا اور مایا کا اسطرح اسکا سینے سے لگنا کافی ناگوار گزرا تھا اس نے مایا کو پیچھے کیا۔۔۔۔
وہ رو رو کر اس سے گلے شکوے کرنے لگی۔۔۔۔۔
پھر اپنے بابا کا بھی خوب گلا کیا عضد سے کہ اسکے بابا کی ہارٹ سرجری بھی اس سے چھپا کر اس نے اچھا نہیں کیا تھا
وہ بہت بگڑتی اس بات پر لیکن عضد کی حالت دیکھ کر صبر کر گئ۔۔۔۔۔۔
شاہ جی کی موجودگی کا احساس اسے بعد میں ھوا۔۔۔
آپ یہاں۔۔۔
جی ۔۔۔
لیکن کب اور کیسے وہ کافی حیران تھی۔۔۔۔
دو دن ھوۓ ھیں۔۔۔
لیکن میرے گھر؟؟؟
جی چھوٹا بھائی ھے عضد میرا اسی کیساتھ اور اسی کی وجہ سے یہاں ھوں اب۔۔۔۔۔
___________________
نرگس کے لندن آنے کا انتظام شاہ جی کرنے لگے تھا۔۔۔۔
لیکن عضد نے منع کر دیا کہ وہ ٹانگ کا پلاسٹر کھلتے ہی پاکستان جاۓ گا۔۔۔۔۔
اسود بھی روز ہی چکر لگاتا تھا عضد سب کی بے انتہا کیئر سے کافی جلدی بہتر ھونے لگا تھا۔۔۔۔۔
نرگس کو اب شاہ جی اور اسود کا سن کر کچھ ڈھارس ملی تھی۔۔۔۔
رتابہ کو تو وقت ہی نا ملتا کبھی عضد کے پاس اسود ھوتا کبھی شاہ جی اور زیادہ تر مایا۔۔۔۔۔
عضد کے دائیں ہاتھ اور دائیں ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا تھا وہ بنا سہارے نا چل سکتا تھا نا کھا سکتا تھا۔۔۔۔۔
دس دن شاہ جی وہاں ٹھہرا پھر واپس پاکستان آگیا اور پاکستان آتے ہی سیدھا نرگس کے پاس پہنچا۔۔۔۔۔۔
نرگس شاہ جی کو دیکھ کر کافی مطمئن ھوئ کیونکہ شاہ جی نے اچھی خاصی تسلی دی تھی۔۔۔۔
اور وہ روز عضد سے بات بھی کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اس گھر کے بڑے بیٹے ھونے کا عملی ثبوت دیا تھا جازب بہت خوش تھا شاہ جی کے اسوقت میں ساتھ دینے پر۔۔۔۔
________________
مایا کو عضد کیساتھ ساتھ آفس بھی دیکھنا پڑا۔۔۔۔
وہ آفس کے سارے معاملات لیکر رات گئے عضد کے ساتھ اسکے کمرے میں موجود ھوتی۔۔۔۔۔۔
رتابہ ان دونوں کا منہ دیکھتے دیکھتے سو جاتی تھی۔۔۔۔۔
مایا کے کمرے سے جانے پر وہ اسکی نیند خراب نہیں کرتا تھا کہ شاہ جی کے جانے کے بعد سارا دن بچوں کیطرح وہ اسے سنبھالتی تھی۔۔۔۔
مایا نے بھی عضد کی خدمت میں کوئ کسر نا چھوڑی تھی
لیکن عضد اسکے اتنا قریب آنے سے اریٹیٹ ھونے لگا تھا وہ اکثر اسے ٹوک بھی دیتا تھا لیکن مایا پر کسی بات کا اثر نا ھوتا۔۔۔۔۔۔
مسز ھمدانی یہ بات اپنی بیٹی میں نوٹ کر چکی تھی کہ وہ عضد میں بہت زیادہ انوالو ھونے لگی تھی ماں تھی اسکی وہ اسکی نگاھوں سے اسکی چال سے بھی سمجھ سکتی تھی کہ وہ کیا چاھتی ھے۔۔۔
انکے گھر میں عضد دو ھفتے بڑی مشکل سے رکا پھر اپنے گھر چلا گیا وہاں آکر اسے کچھ سکون اور تنہائ میسر آئ تھی۔۔۔۔
اسود روزانہ چکر لگاتا تھا۔۔۔
ساری ٹریٹمنٹ وہ اسکی خود کر رہا تھا سرجیکل سرجن تھا وہ خود بھی۔۔۔۔۔۔۔
_________________
رتابہ عضد کو کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھی اور اکثر کھلاتے کھلاتے رو پڑتی کہ عضد کی اس طرح وقتی معذوری بھی وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔
رتابہ کی ڈیوٹی بڑی کڑی تھی اب اس نے خوب دل سے عضد کی خدمت میں خود کو قربان کیا ھوا تھا۔۔۔۔
روز گرم پانی میں گیلے ٹاول بھگو کر اسکو صاف کرنا اسکے کپڑے چینج کرنا اسے برش کروانا بلکل جنم لینے والے نومولود بچے کیطرح اس نے سنبھالا ھوا تھا عضد کو۔۔۔۔
اسے اپنے ہاتھوں سے کھلانا پلانا سب کچھ رتابہ بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہی تھی۔۔۔۔۔
رتابہ نے اب اسکا خیال رکھتے ھوۓ بلکل ماں جیسا روپ دھارا تھا اور یہ سب کرتے ھوۓ دن بدن وہ عضد کے دل میں اتر کر خون کیطرح اسکی رگوں میں شامل ھونے لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ جب عضد کے قریب آتی اسکا دل اسکے پہلو میں مچلنے لگتا تھا کہ وہ اسے اپنے پہلو میں لیکر اسکا اک اک درد اک اک آنسو اپنی پلکوں سے چنتا بڑی مشکل سے وہ اپنے آپ پر جبر کرتا ھوا صبر کرتا تھا ۔۔۔
مایا یہاں بھی روز چلی آتی تھی ایک دو بار عضد نے اسے اگنور بھی کیا لیکن اس نے کوئی پرواہ نا کی۔۔۔۔۔۔
عضد اسکی دوستی یا محبت سے خائف نہیں تھا بلکہ اسکے جنون سے ڈرتا تھا جو اسے اسکی آنکھوں میں ہر بار دکھائ دیتا تھا جیسے سمندر میں اٹھتا طوفان اپنے ارد گرد ساری تباہی مچا دیتا ھے اسے ایسا ہی طوفان مایا کی آنکھوں میں نظر آتا۔۔۔
عضد حیران تھا اسکے اس جنون پر کہ اس نے تو کبھی کوئی آس کوئی امید حتیٰ کہ اس سے کبھی پیار محبت کی بات بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
پھر کیوں وہ اسکی اتنی دیوانی ھوتی جا رہی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ عضد شادی شدہ ھے اور رتابہ کو چھوڑ بھی نہیں سکتا پھر بھی وہ کیوں اپنی یک طرفہ محبت میں اپنی دیوانگی میں اتنا آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
عضد کو رتابہ کی بھی بہت فکر تھی آج پھر وہ ان دونوں کے بیچ رات گئے تک موجود تھی۔۔۔۔۔
رتابہ دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی اسے نیند آ رہی تھی۔۔۔۔۔
آج عضد مایا سے بات کیۓ بنا نہ رہ سکا۔۔۔۔۔۔
مایا تم یہ سب کیوں کر رہی ھو۔۔۔۔
کیا سب؟؟؟ اس نے انجان بنتے ھوۓ کندھے اچکاۓ۔۔۔۔۔
تم اچھی طرح جانتی ھو میں کس متعلق بات کر رہا ھوں۔۔۔۔
مجھے نہیں معلوم کیا کہنا چاہ رھے ھو کھل کر کہو یار۔۔۔۔
عضد کو غصہ آ رہا تھا اس پر۔۔۔۔
کیوں میرے اتنے قریب آنے کی کوشش کرتی ھو؟؟؟
کیوں میرا قریب آنا تمھیں برا لگتا ھے۔۔۔۔
ظاہر ھے یار تم جس انداز سے میری طرف بڑھ رہی ھو وہ سب ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔
کیا سب ٹھیک نہیں؟؟؟؟
میری دوستی ۔۔۔
میری محبت۔۔۔
میری کیئر۔۔۔
یا میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔۔
یار دوستی تک تو ٹھیک ھے لیکن میں تمھاری محبت افورڈ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
وہ کھلکھلا کر ھنسی مسٹر عضد شاہ مجھ سے محبت تم کر نہیں سکتے تو مجھے محبت کرنے سے روک بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔
وہ عضد آنکھوں میں پورے اعتماد کیساتھ مسکرا کر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو بہلاتے ھوۓ بولی تم نہیں سمجھ سکتے مجھے نا میری محبت کو میں تو تمھارے خواب بھی کھلی آنکھوں سے دیکھتی ھوں۔۔۔
عضد اسکا confident دیکھ کر بولا مایا تم خود کو مسلسل دھوکے میں رکھے ھوۓ ھو۔جلد ہی باہر نکلو اپنے اس فریب سے میری نظر میں ایک اچھی دوست کے علاوہ تم اور کچھ نہیں۔۔۔
وہ کافی کا سپ لیکر کہنے لگی کیوں دوستی کے ناطے بھی محبت نہیں کرتے مجھ سے؟؟؟
یار میں تم سے محبت نہیں کرسکتا میرے وہ جذبات ہرگز نہیں جو تمھارے دل میں ھیں میرے لیۓ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈھٹائی سے مسکرائی۔۔۔۔۔
تم مجھے دوست سمجھتے ھو نا یہی کافی ھے۔۔۔۔
وہ کیسے سمجھاتا اس سر پھری لڑکی کو اس نے کافی کا مگ سائیڈ پر رکھا یار ایک بات میری دھیان میں رکھو تم میرے اتنے قریب آنے کی کوشش میں مجھے خود سے اتنا ہی دور کر رہی ھو۔۔۔۔۔
یار کتنے بزدل مرد ھو تم ایک لڑکی کی بے لوث اور بے ضرر محبت سے گھبرا رھے ھو حالانکہ محبت میری یک طرفہ پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔
تمھارے معاملے میں ، میں بزدل ہی اچھا ھوں کیونکہ تم یہ بھول جاتی ھو کہ تم عورت ذات ھو لیکن مجھے میری لمٹس یاد رہتی ھیں کہ مرد ھوں اور وہ بھی شادی شدہ۔۔۔۔
اور مجھے لیکر دوستی کی حدوں کو توڑتی ھوئ تم جتنا آگے جانے کو کشش کررہی ھو اتنا ہی پچھتاؤگی ابھی بھی وقت ھے ایک اچھے دوست کی حیثیت سے سمجھا رہا ھوں تو سمجھ جاؤ اپنے لیے یک طرفہ محبت کے عذاب نا پالو۔۔۔۔۔۔۔
مایا اسکی بات سن کر آگے کچھ نا بولی بس اسے دیکھنے لگی اسکی ضد اسکا جنون اسکے اندر سر اٹھا چکا تھا اپنی محبت میں اپنی انا میں وہ بےلگام گھوڑے کیہرح سرکش ھو چکی تھی عضد کو مسکراتے ھوے دیکھ کر خود سے ہمکلام ھوئ عضد صاحب جس کے پروں پر اپنی نئ نویلی محبت کو لیکر اڑنا چاھتے ھو تم اسکے پر میں نے نا کاٹے میرا نام مایا نہیں بہت جلد ہی تم میرے قدموں میں آ گرو گے۔۔۔۔۔۔
کہاں کھو گئ؟؟ عضد نے چٹکی بجا کر اسے سوچوں سے باہر لایا۔۔۔۔۔۔
اس نے مذید کچھ نا پھر سر جھٹک کر کچھ دیر بعد پرس اٹھا کر چل پڑی۔۔۔۔۔
عضد کے سر میں درد کر گئ تھی وہ اس نے رتابہ کو آواز دی
وہ مایا کے جاتے ہی دروازہ بند کر کے عضد کے بلانے پر اندر آئ۔۔۔۔۔۔
یار میرا سر دبا دو پلیز۔۔۔۔۔
جی ۔۔۔
وہ اسکے پاس بیٹھ کر سر دبانے لگی سردی بہت زیادہ تھی اسکے گرم گرم نرم گداز ہاتھ عضد کی روح تک کو پر سکون کر رھے تھے۔۔۔۔
وہ کچھ دیر میں سو گیا۔۔۔۔
رتابہ بھی سر دباتے ھوۓ وہیں سو گئ۔۔۔۔۔۔
عضد کی آنکھ کھلی رات کو تو وہ سردی سے خود میں سمٹی ھوئ اسکے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔۔
عضد نے ایک ہاتھ سے آہستہ سے اس پر کمبل ڈالا۔۔۔۔۔
آج کافی عرصے بعد وہ اسکے سینے پر سر رکھے سوئی تھی
عضد کا دل چاہا وہ اسی طرح اسکے قریب رھے اور یہ رات کبھی ختم نا ھو۔۔۔۔۔
____________________
اسود عضد کو باہر لے کر گیا تھا اپنا سہارا دیکر سارا دن وہ بیڈ پر لیٹا رہتا تھا آج دو دن بعد باہر نکلا تو اسے بہت اچھا محسوس ھوا۔۔۔۔۔
یار ایک بات تو بتا کیا تو نے رتابہ کو قبول کر لیا ھے؟؟؟؟؟
وہ ٹھنڈی ھوا میں ٹھنڈی سانس بھر کر بولا۔۔۔۔
قبول تو اسے نکاح کے وقت کیا تھا میں نے لیکن میرے دل نے اب قبول کیا ھے اسے۔۔۔۔
اسود کے چہرے پر خوشی پھیل گئی شکر ھے یار اللہ پاک کا اس نے تیرے دل میں اس معصوم کیلیے رحم ڈالا ھے۔۔۔۔
نہیں یار صرف رحم نہیں محبت بھی ڈال دی ھے۔۔۔۔
ویسے یار تو نے زیادتیاں بھی بہت کی تھیں اسکے ساتھ مجھے تو اب بھی اسکے وہ زخم نہیں بھولے جو تو نے دیۓ تھے تیرا رویہ دیکھ کر مجھے نہیں لگتا تھا وہ تیرے ساتھ زیادہ وقت گزار سکے گی۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کی مجبوری نے اسے تیرا ہر ستم سہنے پر بھی مجبور کیۓ رکھا۔۔۔۔۔۔
عضد سر جھکا کر اداسی سے بولا بس یار وہ وقت نا یاد کروا۔۔۔۔۔۔
تیرا ایکسیڈنٹ کا سن کر مجھے ایک ہی دھڑکا لگا تھا کہ رتابہ کا صبر نا پڑ گیا ھو تجھ پر لیکن تیرا رویہ دیکھ کر مطمئن ھوا کہ یہ محض حادثہ ھے اک۔۔۔۔۔
نہیں یار شاید تو ٹھیک کہہ رہا ھے یہ میرا مکافات ہی ھو۔۔۔
ھمممممم چل خیر ھے یار جیسے بھی سہی تجھے اسکا احساس ھوا اس سے بڑی اور کیا بات ھو سکتی ھے انسان میں انسانیت کا دوسرا نام ھی احساس ھے۔۔۔۔۔۔
ٹھنڈ بڑھنے لگی تھی۔۔۔
عضد کے زخم درد کر رھے تھے اب اسود اسے سہارا دیکر گھر لانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
ویسے یار ھے تو بہت لکی جسطرح وہ تیری خدمت کر رہی ھے نا تو اسکے پاؤں بھی دھو کر پی تو کم ھے۔۔۔۔۔
واقعی سچ کہہ رہا ھے میں بہت خوش قسمت ھوں جو رتابہ جیسی بیوی ملی لیکن پتہ ھے یار مجھے پہلے لگتا تھا وہ میرے لائق نہیں۔۔۔
لیکن اب یقین سے کہہ سکتا ھوں میں اسکے لائق نہیں تھا۔۔۔۔
اسود نے اسکا کندھا آہستہ سے دبایا جو ھو گیا اسے بھول جا ور اسکے لائق بننے کی کوشش کر اب۔۔۔۔
کوشش تو میری بھر پور ھے بس اب وہ مجھے قبول کر لے اب کی بار اسکا طالب اسکا منتظر میں ھوں۔۔۔۔۔
اللہ تم دونوں کو جلد ایک کر دے یار میری تو ہر وقت یہی دعا ھے کیونکہ میں پہلے بہت پریشان تھا تجھے لیکر لیکن اب تجھے پر سکون دیکھ کر اک بوجھ سا اترا ھے میرے من سے بھی جیسے کسی نے اک بھاری ڈک رکھی ھوئ تو جو اب ہٹ چکی ھے ۔۔۔۔۔
___________________
عضد کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا تھا رتابہ سست سست تھی
اس نے محض شک کی بنا اسکا چیک اپ کروایا کہ وہ اسکے بچے کی ماں تو نہيں بننے والی۔۔۔۔۔۔
لیکن رپورٹ کے مطابق وہ pregnant نہیں تھی۔۔۔
عضد کی ٹانگ کا پلاسٹر کھل چکا تھا لیکن بازو اور ہاتھ کا ابھی کچھ وقت تھا۔۔۔۔
اس نے آفس جانا اسٹارٹ کر دیا تھا آج پہلا دن تھا وہ کافی تھک کر واپس آیا مایا اسکے ساتھ ہی تھی کچھ دیر وہ رکی عضد کیلۓ خود کافی بنائ رتابہ کو بھی اس نے کافی دی پھر کچھ دیر بعد اپنے گھر چلی گئی۔۔۔۔۔۔
عضد سونے لگا تو اسے کچھ گرنے کی آواز آئ۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے باہر آیا تو رتابہ پاؤں پکڑے کچن میں بیٹھی ھوئ تھی گر گئ تھی وہ اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا وہ بھی ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے پاس آیا یار کیسے گر گئ تم خیال سے نہیں چل سکتی۔۔۔۔۔
بس اچانک چکر سا آیا تو گر گئ۔۔۔۔۔
کہیں چوٹ تو نہیں لگی۔۔۔۔
گھٹنے پر لگی ھے۔۔۔۔۔
عضد نے اسکی طرف ہاتھ بڑھا کر اٹھنے میں مدد کی لیکن وہ چل نہیں پا رہی تھی اور سر چکرانے سے نا ٹھیک سے بیلینس کا پارہی تھی اپنا۔۔۔۔
کیا ھوا ھے تمھیں نیند میں ھو کیا؟؟؟؟
اس نے ہاں میں سر ہلایا عضد نے اسے سہارا دیکر کمرے میں لایا اور صوفے پر بٹھایا طبیعت تو ٹھیک ھے نا تمھاری۔۔۔۔
جی طبیعت ٹھیک ھے۔۔۔۔
تو پھر چکرا کر گری کیوں ھو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید نیند بہت آ رہی ھے اسلیے۔۔۔۔
ھممممم ٹھیک ھے۔۔۔
ابھی سو جاؤ کل اسود کیساتھ ھوسپٹل چلتے ھیں تم بھی اپنا کمپلیٹ چیک اپ کروا لینا۔۔۔۔۔
وہ نیند سے جھولے کھا رہی تھی۔۔۔۔
سو جاؤ۔۔۔۔
عضد نے اس پر کمبل ڈالا تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ سو گئی۔۔۔۔
عضد نے ہیٹر تیز کیا تاکہ روم کا ٹمپریچر بیلنس ھو کیونکہ رتابہ یہاں کی ٹھنڈ برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
عضد صبح اٹھا تو وہ سو رہی تھی اور پورا دن اس نے سو کر گزار دیا ایسا پہلی بار ھوا تھا ۔۔۔
عضد نے بھی اسے جگانا مناسب نا سمجھا کہ پہلی بار وہ اتنی گہری نیند سوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔
___________________
ھمدانی صاحب اوپن ہارٹ سرجری کے بعد آفس جانے کے قابل نہیں رھے تھے دن بدن انکی صحت گرتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کراچی میں علی ایک ساتھ دو فیکٹریاں نہیں سنبھال پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں بھی بزنس دیکھنے والا فی الحال کوئی نا تھا عضد کو کچھ دن مذید رکنا پڑ گیا کیونکہ اسے پاکستان جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔
علی نے مایا کو پاکستان بلوایا لیکن لندن کی فلائیٹس بھی کچھ دن سے معطل تھیں موسم کی خرابی سے لگاتار تین دن سے برفباری ھو رہی تھی۔۔۔۔
ہر طرف ہر منظر نے برف کی سفید چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔۔۔۔
لیکن آج کچھ امن تھا عضد کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی وہ سو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
مایا کا دل نہیں لگ رہا تھا گھر میں۔۔۔۔۔۔
موسم کچھ نارمل دیکھ کر وہ عضد کیطرف آگئ لیکن اسے سویا ھوا نا جگایا۔۔۔۔۔۔
رتابہ کو کچھ سامان اور گروسری لینی تھی۔۔۔۔۔۔
اسکے ہاتھ میں لسٹ دیکھ کر مایا نے اسے اپنے ساتھ مارکیٹ لے جانے کا کہا۔۔۔۔۔
رتابہ نے عضد کو جگایا وہ نیند میں بولا کیا ھوا؟؟؟
میں مایا کیساتھ مارکیٹ جا رہی ھوں۔۔۔۔
اچھا یار چلی جاؤ نا مجھے کیوں جگا رہی ھو وہ پھر سے منہ تک کمبل اوڑھے سو گیا۔۔۔۔۔۔
رتابہ نے سویٹر کے اوپر شال اوڑھی اور نکل پڑی مایا کیساتھ
ابھی وہ سامان لے ہی رہی تھی کی ہلکی ہلکی بارش شروع ھو گئ ۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے کچھ سامان لیا اور کچھ چھوڑ دیا۔۔۔
مایا نے بھی کچھ خریداری کی دوران سفر مایا نے کوئی بات بھی نا کی اس سے بس آتے جاتے ھوۓ گانے سنتی رہی۔۔۔۔۔۔
واپسی میں گاڑی بار بار رک رہی تھی ۔۔۔۔
مایا نے بڑی مشکل سے گھر کے راستے تک گاڑی پہنچائ سردی بہت زیادہ تھی بارش کیساتھ ٹھنڈ بہت زیادہ بڑھ گئ تھی۔۔۔۔
رتابہ کا حلق خشک ھو رہا تھا۔۔۔۔
مایا نے اسکے ہاتھ میں پانی کی بوتل دی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پانی پیا اور کھڑکی سے باہر ہلکی بارش کا منظر دیکھتی رہی۔۔۔۔
ساتھ میں اسے عضد کی بھی فکر تھی کہ اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اوپر سے گاڑی بھی خراب ھو گئ گھر سے کچھ فاصلے پر ہی گاڑی رکی ھوئ تھی۔۔۔۔
بیٹھ بیٹھ کر وہ تھک گئ مایا نے اسے پیدل گھر جانے کا مشورہ دیا اور خود ڈرائیور کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
وہ مایا کی بات سن کر کپکپاتی ھوئ گاڑی سے باہر آئ۔۔۔
اور شاپنگ بیگ ہاتھ میں لیۓ پیدل تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف آنے لگی تو اس پر پھر غنودگی سی طاری ھو رہی تھی
اس کے لڑکھڑاتے قدم دیکھ کر مایا نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چلی گئی وہاں سے۔۔۔۔
گاڑی خراب ھونے کا محض بہانا کیا تھا اس نے اور پانی میں اسے نشہ آور ڈرگ دی تھی ایسا وہ ایک بار پہلے بھی کر چکی تھی جب رتابہ چکرا کر کچن میں گری تھی۔۔۔۔۔
مایا کو رتابہ سے عضد کیوجہ سے شدید نفرت تھی وہ اسے کسی بھی طرح اذیت دینا چاھتی تھی اور عضدسے اسے دور رکھنے کی کوشش میں تھی ۔۔۔
اور آج جو حرکت کی اس نے محض عضد کے دل میں اسکا شک پھر سے پیدا کرنے کیلیئے کی کیونکہ وہ اب جان چکی تھی کہ عضد رتابہ کیطرف مائل ھونے لگا ھے اس بات کا بدلہ وہ رتابہ کو اذیت پہنچا کر لینا چاھتی تھی۔۔۔۔۔
اور عضد کو بھی ذہنی ٹینشن دینا چاھتی تھی کہ وہ پھر سے اس پر غصہ ھو شک کرے اور اسے مارے پیٹے۔۔۔۔۔
رتابہ کو چلتے ھوئےایسا لگا وہ گر کر ابھی بیہوش ھو جائیگی بڑی مشکل سے وہ گھر کے دروازے پر پہنچی۔۔۔۔۔۔۔
اور ڈور بیل بجائ۔۔۔۔
مایا نے جاتے ھوئے ڈور بیل کا مین سوئچ آف کر دیا تھا۔۔۔۔
عضد سویا ھوا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ نے سن ھوتے دماغ کیساتھ دروازہ بجایا لیکن اسے ہاتھوں میں بھی جان نا رہی برف کیطرح ٹھنڈی ھو رہی تھی وہ پیدل آنے سے بھیگ بھی چکی تھی۔۔۔
اس نے پھر سے کوشش کی دروازہ بجانے کی لیکن چکرا کر دروازے پر ہی بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
وہاں سے گزرتے ھوئے ایک کپل نے اسے دیکھا وہ اسکے پاس چلے آۓ وہ نیم بیہوشی کی حالت میں تھی۔۔۔۔۔۔
انہوں نے زور زور سے دروازہ بجایا تو عضد کی آنکھ کھلی بستر سے اٹھ کر آنکھیں مسلتے ھوۓ وہ باہر آیا اور دروازہ کھولا۔۔۔۔
تو باہر رتابہ کو ایک عورت اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
ھیلو۔۔۔۔
میم ھیلو۔۔۔۔۔
عضد نے جلدی سے رتابہ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ انگلش میں اس سے بات کرنے لگے کہوہ کب سے دروازے پر اسطرح مدھوش پڑی ھوئ ھے اور گھر ڈور بیل بھی نہیں بج رہی۔۔۔۔
عضد انکا شکریہ ادا کر کے جلدی سے اسے اٹھا کر کمرے میں لے گیا اور اسے ھوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔
اسکی گیلی شال اتاری اس نےسویٹر بھی ہلکا سا گیلا تھا وہ بھی اس نے احتیاط سے اتارا۔۔۔۔۔
رتابہ رتابہ۔۔۔۔۔
کیا ھوا ھے تمھیں عضد نے اسکا چہرہ تھپتھپایا اسکے ہاتھ پاؤں اور ھونٹ نیلے ھو رھے تھے۔۔۔۔
اس نے جلدی سے مایا کو فون لگایا۔۔۔۔۔
وہ صاف مکر گئ کہ اسے نہیں پتہ وہ تو اسے گھر کے سامنے اتار کر گئ تھی۔۔۔۔
عضد پریشان ھو گیا تھا کہ اسے ھوا کیا ھے وہ جلدی سے اسکے ہاتھ پاؤں مسلنے لگا۔۔۔۔۔
اسے ایک بار پھر وہ منظر یاد آیا جب اسے وہ فیکٹری میں طوفانی رات میں بھول آیا تھا۔۔۔۔۔
عضد سمجھا شاید وہ سردی کی وجہ سے پھر سے بیہوش ھوئ ھے لیکن وہ یہ نا جان سکا کہ مایا نے اسے نشہ آور ڈرگ دی تھی۔۔۔۔
عضد نے اسکے ہاتھ پاؤں سہلاتا ھوا رتابہ کے پاس آکر لیٹا تو وہ اسکے حواسوں پر چھانے لگی آج وہ اسکی قربت میں خود سے کیۓ سارے عہد توڑ بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔
___________
یہاں لندن کی کمپنی کیلیۓ عضد نے پوری انویسٹیگیشن کے بعد ھمدانی صاحب سے مشورہ کر کے چیئر مین کی سیٹ کیلئے مسٹر جاوید کو choose کیا۔۔۔۔۔۔
اب عضد کچھ ریلیکس ھو گیا تھا کہ وہ پاکستان جا سکتا ھے۔۔۔۔۔۔
مایا کو کچھ دن ٹھہرنا پڑ گیا کہ ھمدانی صاحب کی طبیعت کافی خراب تھی عضد رتابہ کو لیۓ سیدھا پاکستان آیا۔۔۔۔۔
اسکے یہاں آتے ہی نرگس نمل اور دیان کو لیۓ کراچی آگئ
رتابہ نمل کیساتھ کافی خوش تھی۔۔۔۔۔۔۔
نمل بھی اب عضد کا رویہ دیکھ کر مطمئن تھی لیکن مایا کا دھڑکا اسکے دل سے نا نکلا۔۔۔۔۔۔
کچھ دن وہ وہاں رکیں۔۔۔۔
علی نمل کو بھی اچھا لگا علی دیان کیساتھ بہت خوش تھا انکی لاھور کی فلائیٹ سے ری دو دن پہلے جازب بھی آیا کراچی۔۔۔۔۔
پھر نمل اور نرگس انکے ساتھ ہی واپس گئیں۔۔۔۔۔
_______________
شاہ جی کو عضد کا علم ھوا تو وہ بھی اسکا حال احوال پوچھنے اسکے گھر کیطرف نکلا۔۔۔۔۔
راستے میں اچانک اسکی گاڑی کے آگے تیزی روڈ کراس کرتی کوئ لڑکی آ گئ اس نے فوراً بریک لگائی پر وہ ہلکا سا گاڑی کے ہٹ ھونے پر گر گئ تھی وہ گاڑی سے باہر آیا۔۔۔۔۔
سوری میم آپکو چوٹ تو نہیں لگی۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے سر اٹھا کر شاہ جی کو دیکھا تو دیکھتی رہ گئ کافی خوبصورت جوان تھا وہ۔۔۔۔۔
اس نے کھڑے ھو کر خود کو جھاڑا نہیں چوٹ تو نہیں لگی لیکن پلیز آپ مجھے گھر ڈراپ کر دیں گے۔۔۔۔
جی ضرور آپ ایڈریس بتا دیں میں ڈراپ کر دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی میں شاہ جی کیساتھ بیٹھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد شاہ جی نے اس سے پوچھا کہاں جانا ھے آپ نے۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بڑے دلفریب انداز میں بولی جہاں آپ لے چلیں۔۔۔۔
میں سمجھا نہیں کیا مطلب آپکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اتنے بھی نا سمجھ نہیں۔۔۔۔
شاہ جی پھر بولا۔۔۔۔
رئیلی میں نہیں سمجھا آپ پلیز ایڈریس بتائیں اپنا۔۔۔۔۔
وہ گئیر پر ہاتھ رکھے شاہ جی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولی
ھم تو آپکے غلام ھیں سیٹھ جی آپ لے چلیں جہاں آپکا دل چاھے۔۔۔۔
شاہ جی کو اب سمجھ آئ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکا ہاتھ پیچھے ہٹایا اور بلکل سیریئس ھو کر کہنے لگا میڈم میں تو قبرستان جا رہا ھوں چلنا ھے ساتھ تو بولیں۔۔۔۔
قبرستان کا سن کر وہ گھبرائ نہیں نہیں وہاں نہیں جانا مجھے میرا مطلب ھے کسی ھوٹل روم یا فارم ھاؤس لے چلیں۔۔۔۔۔
شاہ جی کا چہرہ غصے سے لال ھو گیا۔۔۔۔
اس نے فوراً بریک لگائی گاڑی کو میم آپ جو سمجھ رہی ھیں نا میں ویسا نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ بڑے والہانہ انداز سے شاہ جی کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اسکا ظاہری حلیہ اور کم عمری دیکھ کر شاہ جی بولا دیکھنے میں لگ رہا ھے شریف گھرانے کی ھو پھر ایسی آفر کیوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں شاہ جی پر ٹکا کر بولی میرا کوئ گھر نہیں۔۔۔۔۔
ن
روڈ کنارے تو نہیں رہتیں آپ کوئ تو ٹھکانا ھوگا خیر نام پوچھ سکتا ھوں آپ سے۔۔۔۔۔
وہ گہری سانس لیکر سیٹ سے سر ٹکاۓ بولی جو کام ھے وہی نام وحشیا اور انگریزی میں کال گرل۔۔۔۔
شاہ جی اسکے جواب پر دانت پیس کر رہ گیا پھر پوچھے بنا نا رہ سکا کون کرواتا ھے تم سے یہ سب۔۔۔۔۔۔
وہ بڑے دھڑلے سے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔
پیٹ۔۔۔۔۔
پیٹ کو بھرنے کیلیے اور بھی بہت سے کام ھیں ضروری ھے کہ تم خود کو بیچ کر ہی اپنا پیٹ بھرو اور بھی بہت سے راستے ھیں۔۔۔۔
وہ زور زور سے ھنسنے لگی۔۔۔۔
دیہاڑی دار مزدور کی اتنی اوقات کہاں کہ وہ اپنی تنخواہ پر تن من اور پیٹ کی ضرورت ایک ساتھ پوری کر سکے۔۔۔۔۔
کیوں اتنا مشکل بھی نہیں ہزاروں عورتیں ھیں جو اپنے ہاتھ سے کما کر پوری فیملی کو پال رہی ھیں عضد کی نظریں سامنے اور ہاتھ اسٹیرنگ پر تھے۔۔۔
مجھے دیکھ کر آپکو کیا لگتا ھے مجھے کوئی کام دے سکتا ھے ؟؟؟
اسکا سوال بہت گہرا تھا۔۔۔۔
شاہ جی جواب میں بولا ایسی بھی بات نہیں ھے کہ تمھیں کوئ نوکری ہر نا رکھے اچھی خاصی ھو۔۔۔۔
جناب نوکری تو ھے پر ھوں چھوکری کون چھوڑ سکتا ھے مجھے بہی گنگا کو دیکھ کر سبھی آگے وہ خاموش ھو گئ۔۔۔۔
بہت سی لڑکیاں ھیں جو مختلف جاب کر رہی ھیں ضروری تو نہیں کہ وہ ۔۔۔۔
اس لڑکی نے شاہ جی کو ٹوک دیا آپ نے کچھ کرنا نہیں تو پلیز بھاشن بھی مت دیں آپ کے بھاشن سے میری ضرورت نہیں پوری ھونی مجھے اگلے اسٹاپ پر اتار دیں۔۔۔۔
شاہ جی ہلکا سا مسکرایا ایسے نہیں اتارونگا۔۔۔۔۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھ بڑے اسٹائل سے ھنسی آگۓ نا لائن پر میں جانتی تھی۔۔۔۔۔
شاہ جی نے گاڑی اسٹارٹ کی ویسے کتنے پیسے لیتی ھو۔۔۔۔
گھنٹوں کے حساب سے لیتی ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھااااا شاہ جی نے اسٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ھوۓ پوچھا پوری رات کا کیا حساب لوگی۔۔۔۔۔
اس نے شاہ جی کی بات سن کر ھنستے ھوۓ ہاتھ جھاڑے دکھنے میں تو تم بھی شریف لگ رھے ھو لیکن ھو نہیں۔۔۔۔
شاہ جی کو ھنسی آ گئ اسکی بات پر ھممممم شاید ٹھیک کہہ رہی ھو تم مرد ھوں نا۔۔۔۔۔۔
وہ شاہ جی کو ایک نظر دیکھ کر تھوڑے سخت لہجے میں بولی کیا دے سکتے ھو۔۔۔۔
جتنا تم کہو اس سے دگنا شاہ جی اسکی تلخیص کو نوٹ کر کا تھا۔۔۔
اس لڑکی نے گھڑی میں ٹائم دیکھا رات کے نو بج رھے تھے صبح کب تک گھر جا سکتی ھوں میں۔۔۔
نو بجے تک۔۔۔۔
اوہ یعنی بارہ گھنٹے اس نے ھونٹ سکیڑے۔۔۔
ھمممممم شاہ جی نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
اگر میں کہوں کہ حساب لاکھوں میں ھوا تو؟؟؟؟؟؟؟
شاہ جی بڑے خوبصورت انداز میں بولا دے دونگا پھر اسکی طرف اک نظر ڈالی جسکے لبوں پر بظاہر مسکراہٹ تھی لیکن آنکھوں میں اک عجیب سی وحشت اور ویرانی تھی۔۔۔۔
وہ ھوںٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ چسپاں کرکے بولی چلو پھر چھپے رستم صاحب دیر کس بات کی ھے۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی کے ھونٹوں پر اسکے چھپے رستم کہنے پر بڑی گہری مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکے نازک اور گورے سراپے پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور گاڑی آگے بڑھائ۔۔۔۔۔
اب تمھارا اصلی نام پوچھنے کی جسارت کر سکتا ھوں؟؟؟؟؟؟
وہ شاہ جی کے ہاتھ پر دوبارہ ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔۔
بندیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔
