Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 06)

Bad Bakhat by Arshi Noor

میں تمھیں شادی کی آفر کرتا ھوں تم نکاح کرو گی ؟؟؟

شاہ جی کی بات سن کر نمل بمشکل بولی ککککیا نکاح۔۔۔۔ ؟؟؟

شاہ جی نے ہاں میں سر ہلایا جی۔۔۔۔۔

مجھ سے پہلے کتنی لڑکیوں کی زندگی تباہ کر کے نکاح کر چکے ھیں آپ اس طرح ؟؟ نمل کا لہجہ کرخت تھا۔۔۔۔

اور یہ کونسا طریقہ ھے آپکا پہلے لوگوں کی بہن بیٹیوں کو اٹھا کر لے آؤ پھر انکی خوب جگ ہنسائی اور رسوائی کے بعد انھیں شادی کی آفرز کرو۔۔۔۔

دیکھو لڑکککک۔۔۔۔۔ نمل نے شاہ جی کو ٹوکا۔۔۔۔

آپکا اپنی بہنوں کے بارے میں کیا خیال ھے؟؟؟ کیا انکی شادیاں بھی ایسی ہی کرتے ھیں آپ لوگ ؟؟؟ یہی رواج عام ھے کیا آپکے یہاں شادیاں کرنے کا؟؟؟

نمل کی بات سن کر شاہ جی کا چہرہ غصے سے لال ھو گیا لیکن اسے ضبط کرنا پڑا کہ قصور سارا جازب کا تھا۔۔۔۔

آپکو کیا لگتا ھے میں آپکی یہ بمممممپپپپرررر آفر قبول کر لونگی؟؟؟ آپ جیسے غنڈے اور سڑک چھاپ ڈکیت رہ گۓ میرے ھمسفر بننے کیلیۓ جن کو نا کسی کی عزت کی پرواہ ھے نا خدا کا ڈر ۔۔۔۔۔

ھم سڑک چھاپ نہیں اور نا ہی چور ھیں شاہ جی لفظوں کو چبا چبا کر بولا لہجہ ایسا تھا جیسے ابھی اٹھ کر اسے تھپڑ رسید کرتا لیکن عورت ذات پر ہاتھ اٹھانا شاہ جی کو زیب نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔۔

توپھر کیا ھیں آپ؟؟ لوگوں کے رھبر یا خیر خواہ یا لجپال ؟؟؟ اسکے انداز میں ذرا برابر بھی لچک نا تھی۔۔۔۔۔

یہاں اس نے شاہ جی کو لاجواب کر دیا وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا اور دل ہی دل میں جازب کو کوسنے لگ گیا جسکی وجہ سے آج ایک لڑکی کے ہاتھوں وہ ذلیل ھو رہا تھا۔۔۔

شاہ جی کچھ توقف کے بعد کہنے لگا۔۔۔۔

جازب سے غلطی ہوئی ہے میں مانتا ہوں لیکن اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں اس لئے میں نے تم سے نکاح کا کہا ورنہ۔۔۔۔۔

ورنہ کیا؟؟ وہ ڈھٹاٸ سے بولی ۔۔۔۔

ورنہ یہ کہ ۔۔۔ شاہ جی نے نچلا ھونٹ دانتوں تلے چبایا پھر گہری سانس خارج کرتے ھوۓ کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔

ورنہ گھروں سے بھاگنے والی یا اغوا ھونے والی لڑکیوں کو نہ گھر والے قبول کرتے ہیں اور نہ ہی یہ معاشرہ۔۔۔۔۔ شاہ جی آج پہلی بار کسی کے سامنے جازب کی غلطی پر خود کو قصوروار پا کر اتنا شرمندہ ھوا تھا۔۔۔۔

ایسی لڑکیوں کو برباد بھی آپ جیسے مرد ہی کرتے ہیں شاہ صاحب نہیں چاہیے مجھے آپ کی غلطیوں کے ازالے اور آپ کا ترس وہ شاہ جی کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی۔۔۔۔

شاہ جی اسے دیکھتا رہ گیا کہ وہ کس قدر بے خوفی سے بولے جا رہی تھی اسے ذرا سا بھی اس بات کا احساس نہیں تھا کہ ھم اسکی باتوں میں طیش میں آکر کچھ بھی کر سکتے تھے اسکے ساتھ وہ انکے رحم و کرم پر انکی تحویل میں تھی۔۔۔۔۔

لیکن نمل شاید انکو پہچان چکی تھی اسلیے اسے اس بات کا یقین ھو گیا تھا کہ وہ اسکی عزت پامال نہیں کر سکتے۔۔۔۔

نمل کے پٹر پٹر جواب دیتے وقت اندر داخل ھوتے عامر نے اسکی بات سن کر جواب دیا۔۔۔۔

شاہ جی اسکی اسی بک بک کی وجہ سے آج یہ ھم نامحرم مردوں کے بیچ ھے نا یہ جازب کو چماٹ مارتی نا یہ آج یہاں ھوتی۔۔۔۔

شاہ جی کو حیرت کا جھٹکا لگا کیا کیا کہا تم نے اس نے جازب کو تپھڑ مارا شاہ جی نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر عامر کو دیکھا۔۔۔۔

شاہ جی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جازب شاہ کسی سے تپھڑ کھاۓ گا وہ بھی ایک عورت ذات سے۔۔۔

عامر شاہ جی کو حیران دیکھ کر مذید بتانے لگا۔۔۔۔۔

یار نا صرف تپھڑ مارا بلکہ تھوکا بھی جازب پر اس نے اس وقت بھی عامر کی آنکھوں میں بات کرتے ہوئے غصہ تھا۔۔۔

اور تو اور ھم سب کو اس نے نامرد ھونے کا طعنہ بھی دیا وہ بھی گن پوائنٹ پر۔۔۔۔

شاہ جی کو حیرت کے دو تین جھٹکے ایک ساتھ لگے اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر نمل کیطرف دیکھا اور کچھ لمحے وہ شاکڈ سا ھو گیا پھر اففففففف کہہ کر سر جھٹکا اور جہاں بھر کی حیرت لہجے میں سمو کر بولا اتنی ہمت تھی اس میں۔۔۔۔

عامر اسکی ایک ایک شکایت ایسے لگا رہا تھا شاہ جی کو جیسے وہ اسکا احتساب کرنے بیٹھا ھو۔۔۔۔

ھمت صرف اپنے گھر میں نہيں یہاں آکر بھی دکھاٸ اسد پر بھی اس نے حملہ کیا تھا اسکا سر پھاڑ کر۔۔۔

شاہ جی نے حیرت سے گہری سانس اندر کھینچی۔۔۔

تمھیں ذرا ڈر نہيں لگا کہ یہ تمھیں جان سے بھی مار سکتے تھے یا غصے میں تمھاری عزت کی دھجیاں بھی أڑا سکتے تھے۔۔۔۔

وہ سر جھکاۓ خاموش تھی۔۔۔۔

شاہ جی نے اسکا حال دیکھا بکھرے ھوۓ بال ،گالوں پر انگلیوں کے نشان ، سوجھے ھوۓ ھونٹوں پر ناک سے بہتا ھوا خون جم گیا تھا اور کٸ راتوں سے جاگتی اور روٸ روٸ آنکھیں اور اس پر اسکے غصے سے ابلتے جذبات شاہ جی کو اس پر ترس آگیا ۔۔۔۔

بےوقوف لڑکی کسی مرد پر ہاتھ اٹھانے کا مطلب سمجھتی ھو؟؟؟؟

نمل نے اپنا سر مذید جھکا لیا۔۔۔۔

مرد پر ہاتھ اٹھانے کا مطلب اسکے اندر کے سوۓ ھوۓ شیطان کو جگانا ھے اور جب مرد کا شیطان جاگ جاۓ تو پھر بدلے کی آگ میں وہ اندھا ھو جاتا ھے اسے کچھ سجھاٸ یا سناٸ نہيں دیتا کہ اسکے سامنے کونسی ھستی ھے۔۔۔۔۔۔

لڑکی تم نے بہت بڑی غلطی کی جانتی ھو اس اکڑ اور گھمنڈ میں تم نے صرف اور صرف اپنا نقصان کیا ھے بات کرتے ھوۓ وہ پریشان سی نمل کے سامنے آ بیٹھا۔۔۔۔

عورت جتنی بھی باھمت اور پر اعتماد ھو وہ مرد کا مقابلہ نہيں کرسکتی ۔۔۔۔

جانتی ھو لڑکی بہت نازک ھوتی ھے بلکل اس تتلی کی طرح جسے اگر ہاتھوں میں ایک بار بھی پکڑ لیا جاۓ تو ناصرف وہ بےرنگ ھو جاتی ھے بلکہ اڑنے کے قابل بھی نہيں رہتی۔۔۔۔

وہ سر جھکاۓ بولی میں نے پہل نہيں کی تھی بدتمیزی میں اس نے مجھے چھونے کی کوشش کی تھی تبھی میں نے اس پر ہاتھ اٹھایا ۔۔۔۔

شاہ جی اسکے جھکے ھوۓ سر پر نظریں جماۓ کہنے لگا۔۔۔۔۔

یہاں بھی تمھاری غلطی ھے اگر اس نے چھونے کی کوشش کی تھی تو تم اسے زبان سے بھی روک سکتی تھی نا کہ ہاتھ اٹھا کر اب نتیجہ دیکھو اپنے ہاتھ اٹھانے کا۔۔۔۔

تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا وہ تمھیں اٹھا کر یہاں لے آیا ۔۔۔

وہ شاہ جی کی شیشے جیسی صاف شفاف ہری آنکهوں میں جھانکنے لگی تو کیا جازب کی غلطی نہيں یہ ؟؟؟

کیا میں اسے چھونے دیتی خود کو خاموشی سے اسکے آگے تھالی میں پڑے کھانے کیطرح سجا کر پیش کرتی کہ جتنی بھوک لگی ھے اتنا کھا لو باقی جو بچ گیا وہ جوٹھا کسی اور کیلیۓ سہی ۔۔۔

شاہ جی نے سر ہلا کر کہا ۔۔۔۔

غلطی ھے جازب کی بلکہ بہت بڑی غلطی کہ وہ خود کو سنبھال نہيں سکا لیکن اتنا ضرور جانتا ھوں وہ غصے سے بے قابو ھوا ھوگا تمھارے مطابق تمھاری عزت کو پامال نہیں کر سکتا وہ کبھی بھی نہیں۔۔۔۔

نمل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔

یہ تو آپکا کہنا ھے نا اس نے میرے گھر میں ہی نہیں یہاں لا کر بھی میرے ساتھ نشے کی حالت میں غیر اخلاقی حرکت کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

شاہ جی نے بے یقینی سے عامر کی طرف دیکھا جازب اور نشے کی حالت میں ؟؟؟

عامر نے فوراً جازب کی صفائی پیش کی۔۔۔۔۔

شاہ جی وہ اسکی بدتمیزی کو بھلا نہيں پا رھا تھا اور پھر اسکی ھٹ دھرمی نے کٸ بار جازب کے صبر کو للکارا اسلیۓ اس نے تھوڑی شراب پی لی تھی۔۔۔۔

شاہ جی نے ابرو اچکاۓ۔۔۔۔

افففففف لڑکی اک تمھارے پیچھے وہ شرابی بھی ھو گیا اور قاتل بھی توبہ توبہ شاہ جی نے جھرجھری سی لی۔۔۔۔۔۔

اتنا جنون میں نے اسمیں پہلے کبھی نہيں دیکھا شاہ جی حیران تھا اور اپنی حیرانی وہ بیان نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔

شاہ جی نے ابرو اچکاۓ شکر کرو کہ تمھاری عزت محفوظ رہی کیونکہ جازب کسی کام کو کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ ارادہ کر لے تو پورا کر کے دکھاتا ہے تمھارے باعزت ھونے کا یہ سب سے بڑا ثبوت ھے کہ اس نے تمھیں اپنی ھوس کانشانہ بنانے کیلیے ہرگز نہیں اٹھایا۔۔۔۔

نمل نے قدرے خوف اور لا چارگی سے شاہ جی کو دیکھا شاہ جی کا انداز بہت نرم اور پر سکون تھا۔۔۔۔

تم نے اسے پہلے تھپڑ مارا پھر تھوک پھینکا پھر نازیب الفاظ کا استعمال کیا اسکی مردانگی پر چوٹ کی۔۔۔۔۔

مجھے تو حیرت ھو رہی ھے اب تک کہ تم نے یہ سب کہا کیسے اور اس نے یہ سب سہا کیسے ؟؟؟

نمل بہت بے چین ھو گئی تھی شاہ جی کے لب و لہجے کو دیکھ کر اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فوراً شاہ جی سے رحم کی بھیک مانگتی کہ وہ اسے چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔

شاہ جی نے اپنے گولڈن بالوں میں ہاتھ پھیرا پھر بولا جانتی ھو تمھاری یہ جواب طلبی تمھاری جان بھی لے سکتی تھی یا۔۔۔ یا پھر کچھ بھی ھو سکتا تھا تمھارے ساتھ لیکن۔۔۔۔۔۔

نمل کے آنسو شاہ جی کی بات سن کر اسکی گود میں گرنے لگے۔۔۔۔

شاہ جی کو بہت افسوس ھو رہا تھا اسکی حالت پر لیکن پتہ ھے تم اس کی ایک عادت کی وجہ سے بچ گٸ۔۔۔۔

نمل نے سر اٹھا کر شاہ جی کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔

ہاں میں ٹھیک کہہ رہا ھوں تم اسکی صرف ایک عادت کیوجہ سے بچ گئ ھو کہ وہ اپنی طاقت یا مردانگی خود سے کمزور انسان پر کبھی نہيں آزماتا جہاں وہ بے قصور ھو۔۔۔۔۔

نمل کے چہرے پر اب پشیمانی کے آثار نمودار ھونے لگے۔۔۔۔

خیر جو بھی ھوا بہت غلط ہوا لیکن اب جازب کو کوٸ بددعامت دینا پلیز یہاں شاہ جی کا لہجہ التجایا تھا۔۔۔۔۔

نمل بنا سوچے سمجھے فوراً بولی۔۔۔۔۔

کیوں ؟؟؟

شاہ جی نے اسے کچھ گھنٹے پہلے گزرا ھوا وقت یاد کروایا یہ مت بھولو کہ بابر بلوچ کے آدمیوں کی جان لیکر وہ تمھارا محافظ بھی بنا ھے۔۔۔۔

وہ نا ھوتا تو آج تمھاری لاش سمندر کے کنارے یا بوری بند لاش کی صورت کسی کچرے کے ڈھیر میں یا ٹکڑوں کی صورت میں انہی پہاڑوں میں پڑی ملتی۔۔۔

نمل یہ سن کر خوف سے کانپ اٹھی اور با آواز رو پڑی۔۔۔۔

تم نے ھمیں غلط سمجھا مرد مرد میں فرق ھوتا ھے بے وقوف لڑکی شاہ جی لہجہ بہت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والا تھا۔۔۔۔

ھم گلیوں کے نکڑ پر بیٹھنے والے یا بازاروں میں گھومنے والے چور چکے مرد نہيں جو راہ چلتی عورتوں کو چھیڑ کر ان سے تھپڑ کھاتے یا گالیاں لیتے پھریں۔۔۔۔

یا پستول ہاتھ میں لیکر لوگوں سے چھینا جھپٹی کریں شاہ جی نمل کی فطرت کو سمجھ چکاتھا اس لیے اسے سمجھا رہا تھا کہ وہ جذباتی اور نا سمجھ تھی کافی۔۔۔۔

شاہ جی کا لہجہ اس بات پر تھوڑا سختی لیۓ ھوۓ تھا اور ایسے زانی مرد بھی ہرگز نہيں جو عورتوں کے ٹھاکر ھوں اور انکو صرف اپنے لیۓ وقتی لطف کا سامان سمجھیں۔۔۔۔۔

شاہ جی کی باتیں نمل کے دل میں اترتی گٸیں اچھی لڑکی ھو تم اور با ھمت بھی لیکن ۔۔۔

نمل کے خاموش لب کھلے لیکن کیا ؟؟؟ اس نے شاہ جی کیطرف دیکھا وہ شاہ جی کو مذید سننا چاہتی تھی۔۔۔۔

تم زبان بہت چلاتی ھو اسے تھوڑا کنٹرول کرو کیونکہ انسانی جسم میں زبان واحد ایسی چیز ھے جسکا وزن تو بہت ہلکا ھوتا ھے لیکن بہت کم لوگ اسے سنبھال پاتے ھیں اور جب یہی زبان بلاوجہ کھُلے تو بہت سی مشکلات کی وجہ بن جاتی ھے۔۔۔۔۔

نمل کے چہرے پر ندامت کے آثار دیکھ کر وہ پھر نرمی سے بولا۔۔۔۔

میراکام تھا تمھیں سمجھانا کہ غلط جازب ہی نہيں تم بھی ھو اور جازب نے تمھارے ساتھ اگر کوئی نازیب حرکت کی ھے تو وہ تم سے معافی بھی مانگے گا لیکن اتنا میں جانتا ھوں جن ہاتھوں میں اسکی پرورش ھوئ ھے وہ ہاتھ تمھاری حیا کے پردے فاش کر کے حد سے نہیں گزر سکتے۔۔۔۔۔

اس نے اگر تمھیں چھوا یا چھونے کی کوشش کی تو ھو سکتا ھے شراب پینے کی وجہ سے اسے اس بات کی سدھ بدھ نا رہی ھو کہ وہ کیا کر رہا ھے۔۔۔۔

خیر اللہ تمھیں اور سب کی بہن بیٹیوں کو اپنی امان میں رکھے آمین پھر وہ عامر کیطرف پلٹا۔۔۔

لے جا یار اسے جازب کے پاس ۔۔۔۔

نمل فوراً بولی جازب کے پاس کیوں؟؟؟؟؟

ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے مجھے گھر بھیجنے کا وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔

ہاں وعدہ میں نے کیا تھا اور پورا بھی کردونگا لیکن فی الحال جازب کی ناراضگی مول نہيں لے سکتا۔۔۔

میں تمھیں اسی کے حوالے کرتا ھوں وہ مجھ سے بہتر جانتا ھے کہ کیا کرنا ھے ۔۔۔۔۔

______________

بختی نے پوری رات اسی طرح آنکھوں میں گزار دی تھی کون لوگ تھے یہ ان کے ساتھ کب تک رہنا تھا بختی کو اور وہ یہاں محفوظ بھی ھوگی یا نہيں یہ سوال وہ خود سے کر کر کے تھک گٸ تھی۔۔۔۔۔

صبح کب کی ھو چکی تھی لیکن صبح کے اجالے کا بختی پر کوٸ فرق نہيں پڑا کیونکہ اسکی قسمت میں اندھیرا ہی لکھا تھا روشنی کی کرنیں اسکے نصیب کی پہنچ سے کوسوں دور تھیں۔۔۔۔

وھیل چٸیر والی عورت نے اسے اندر آ کر پکارا سنو نام کیا ھے تمھارا؟؟

وہ سر اٹھا کر گم صُم بولی بدبخت۔۔۔۔۔

یہ کیسا نام ھے کس نے رکھا ھے یہ نام تمھارا۔۔۔۔

میرے بخت نے آواز پوری رات رونے سے بیٹھی ھوئ نکلی۔۔۔۔۔

اچھا اٹھو منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کر لو تم نے رات کو بھی کچھ نہيں کھایا۔۔۔۔

بختی اس کی بات مانتے ھوۓ اٹھ کھڑی ھوئ منہ ہاتھ دھو کر درخت تلے پڑی چارپائی پر آ کر بیٹھی اسکے سامنے چاۓ کا کپ تھا اسٹیل کی ٹرے میں اور چار پاپے اور ایک پلیٹ بسکٹ کی وہ اپنے حلق سے ناشتہ بڑی مشکل سے اتار رہی تھی ۔۔۔۔

نوری بیٹا نوری بیٹا احمد ابھی ابھی باہر سے آیا تھا وہ دوڑتا ھوا اس معذور عورت کی طرف بڑھا اور اسکا ماتھاچوم لیا۔۔۔۔

بہت خوش لگ رھے آپ خیریت تو ھے نا۔۔۔۔

احمد نے ہاتھ میں پکڑا پرچہ اسکے سامنے رکھا اور رونے لگے نوری تیرے آپریشن کی تاریخ مل گٸ آج ۔۔۔۔۔۔

نوری نے باپ کے ہاتھ سے پرچہ لے کر حیرت سے دیکھا تو چھم چھم اسکے نین برس پڑے وہ باپ سے لپٹ گٸ اور بار بار پرچہ ہاتھ میں لیکر اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

ابو ھماری دعا قبول ھو گٸ اللہ نے سن لی میری التجا ۔۔۔

ہاں میری بچی وہ رب چاھے تو کیا نہيں ممکن۔۔۔۔۔

دونوں باپ بیٹی کا پیار دیکھ کر بختی کے دل میں درد کی ٹیسیں اٹھیں کاااااااش میرا بھی کوٸ اپنا ھوتا میں بھی کسی کو اپنا کہہ سکتی میں بھی کسی سے لپٹ سکتی اسطرح ۔۔۔۔

ابو اب میں چلنے لگونگی نا اپنے پیروں پر وہ خوشی خوشی اپنی ساکت ٹانگوں کو دیکھ کر بولی۔۔۔۔

احمد نے گیلے نینوں سے بختی کیطرف دیکھا تمھارے قدم بہت مبارک ھیں بیٹا ھمارے یہاں آتے ہی خوشیوں کی بہار لاٸ ھو اپنے ساتھ۔۔۔۔۔

احمد کی بات سن کر بختی کے ہاتھ سے چاۓ کا کپ چھوٹ گیا وہ گھبرا کر جلدی سے کانچ اٹھانے کیلیے جھکی۔۔۔

کوٸ بات نہيں بیٹا گھبراٶ مت رہنے دو اسے ہاتھ کٹ جاۓ گا تمھارا

وہ اسے کانچ اٹھانے سے روکنے لگے۔۔۔۔

جانتی ھو میں کٸ مہینوں سے ھسپتال کے چکر کاٹ کاٹ کہ تھک گیا اسکا ایکسیڈینٹ ھوا تھا جس سے اسکی کمر کے مہرے خراب ھو گۓ ڈاکٹر نے آپریشن کا کہا جلد از جلد اور آپریشن پانچ لاکھ کا تھا میں غریب آدمی کہاں سے لاتا آپریشن نا ھونے کی وجہ سےمیری بچی معذوروں کیطرح زندگی گزار رہی ھے روز گورنمنٹ ھسپتال جاتا ہر بار ڈاکٹر اگلے مہینے کا کہہ دیتے تھے اور آج ڈاکٹر نے آپریشن کی تاریخ دے دی وہ بھی اسی ھفتے

احمد نے بختی کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

اللہ تمھارے نصیب اچھے کرے بیٹا بہت بختوں والی ھو تم۔۔۔

احمد کی بات سن کر بختی کے آنسو گالوں پر بہنے لگے اور اسکے دل سے نکلتی کرب ناک آوازیں صرف وہی خود ہی سن سکی۔۔۔

خدا میرے جیسے بخت کسی کے نا کرے جسکے بختوں میں در در کی ٹھوکریں لکھی ھوں۔۔۔۔

پیدا ھونے سے باٸیس سال کی عمر تک یہ چوتھی چوکھٹ تھی جہاں اسے قسمت نے مجبوری کے نام پر لا پھینکا تھا ۔۔۔۔

نوری نے اسکا ہاتھ تھاما تم بد بخت نہيں خوش بخت ھو تم خوش بخت۔۔۔۔۔

_________________

گوپال کے والد کا انتقال ھو گیا وہ اچانک اسی دن فیملی کے ساتھ اندرون سندھ لاڑکانہ روانہ ھو گیا۔۔۔۔

یہاں نوری کے آپریشن کی خبر سن کر اسکی چھوٹی بہن سکینہ گھر آ گٸ اور اپنی جگہ بختی کو مسز جمال کے بنگلے پر کام کیلیۓ چھوڑ آٸ اور اسکے بدلے کچھ پیسے بھی وصول کر لیۓ۔۔۔۔

اتنا بڑا بنگلہ بختی نے کبھی اپنے خوابوں میں بھی نہیں دیکھا تھا وہ چاروں طرف ٹکر ٹکر نگاھوں سے گھرکو تکنے لگی۔۔۔۔

اتنا خوبصورت گھر دیکھ کر اسے لگا کہ جیسے وہ کسی جنت میں آ گئی ھے۔۔۔

مسز جمال نے بختی کو غور سے دیکھا کھِلتی ھوٸ سنہری گندمی رنگت اس پر کالی سیاہ آنکھیں اور ان پر دراز پلکوں کی جھالر مسز جمال کو وہ بہت پسند آٸ ۔۔۔۔

نام کیا ھے تمھارا ؟؟؟

بختی خاموش ھو گٸ کیا کہتی اپنا پیداٸشی نام بد بخت بتاتی یا صبح کو ملنے والا نیا نام خوش بخت۔۔۔۔۔

نام پوچھا ھے تمھارا ۔۔۔۔

وہ سہم کر بولی بببببب ۔۔۔۔بختی۔۔۔۔۔

مسز جمال مسکرائی اور کہا نام تھوڑا پرانا ہے لیکن اچھا ہے وہ اسے بنگلے کے اندر لے گئی اور کچن کا کام سمجھانے لگی۔۔۔۔۔

____________

شام ھو رہی تھی ۔۔۔۔

نمل اپنے گھٹنوں پر سر رکھے گہری سوچوں میں گم تھی سارا پچھلا منظر اسکی آنکھوں میں جھلملا رہا تھا۔۔۔

بختی کی ضد سے لے کر شاہ جی کی باتوں تک سارا منظر فلم کیطرح اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا اسے بختی بہت یاد آٸ کہ نمل کے علاوہ اسکا پرسانِ حال کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔

وہ کھڑکی سے ڈھلتے سورج کو تکتی رہی۔۔۔۔

عین اسی وقت جازب نے کمرے میں داخل ہو کر اسے پکارا۔۔۔۔

سنو اپنے گھر جانا ھے تم نے ؟؟؟

نمل نے سر اٹھا کر جازب کی طرف دیکھا۔۔۔۔

اسکے نین بلکل زخمی لگ رھے تھے جازب کا دل زور سے دھڑکا رہا تھا اسکے دیکھنے کا انداز اسے گاہل کرنے لگا۔۔۔

وہ بہت بے چین ھو گیا کہ اب وہ اس صورت کو دیکھ نہیں پاۓ گا دوبارہ شاید۔۔۔۔

نمل بلکل خاموش تھی اور اسے تکے جا رہی تھی ایسے جیسے اس نے کوئ انہونی بات کی ھو۔۔۔۔

جازب اپنے لب کاٹتا پھر سے بولا گھر جانا ھے تم نے؟؟؟؟

انداز اسکا التجا لیے ھوۓ تھا ایسے جیسے کہہ رہا ھو گھر مت جانا۔۔۔

اب دوسری بار پوچھنے پر اس کے منہ سے انکار سننے کا وہ شدت سے منتظر تھا۔۔۔

جاری ھے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *