Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 21)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 21)
Bad Bakhat by Arshi Noor
کونسی ذلت اور کونسے پھندے؟؟
اریج کی آواز پر وہ دونوں چونکے جو کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔۔۔۔
جازب جھٹ سے اٹھا اور بات کا پہلو بدلا
تمھیں اسکے گلے میں کوٸ پھندا کوٸ طوق کوٸ ہار نظر آرہا ھے وہ زبردستی مسکرایا تھا۔۔۔
اریج نے نا میں سر ہلایا اور دونوں کو باری باری پر تجسس نگاھوں سے دیکھا۔۔۔
بس ویسے ہی پاگلوں والی باتیں کرتی رہتی ھے جب نے ھوا سے سر ہلایا۔۔۔۔
نمل کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
پاگل ھوگے تم پاگل ھوگی تمھاری بیوی۔۔۔
جازب کو پھر شرارت سوجھی مسکراہٹ دباتے شریر لہجے میں بولا اور پاگل ھونگے میرے بچے بھی ھیں نا۔۔۔
نمل بے دھیانی میں زور زور سے ہاں میں سر ہلانے لگی۔۔۔
تو جازب اور اریج کا قہقہہ ایک ساتھ گونجا۔۔۔
تم دونوں بہت اسٹوپڈ ھو وہ دونوں کیطرف اشارہ کر کے چلائ۔۔۔
سوری ڈئیر تم نے خود جواب ایسے دیا کہ ھماری ھنسی چھوٹ گئی۔۔۔۔
وہ دونوں کو کمرے میں چھوڑ کر پاؤں پٹختی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
اریج کا رخ اب جازب کیطرف تھا تم دونوں کے بیچ کیا ھوا ھے؟؟
جازب ادھر ادھر گردن گھما کر بولا کچھ نہیں یار بس ویسے ہی میں اسے تنگ کر رہا تھا تو چڑ گئ۔۔۔۔
اریج جازب کے قریب جا کر سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی ھوئ تم نے مجھے بہرہ اور اندھا سمجھ رکھا ھے؟؟؟؟
جازب دھپ سے صوفے پر دھنس کر بیٹھا چھوڑو یار جانے دو پرانی بات ھے۔۔۔
اریج نے جازب کا ہاتھ پکڑا اٹھو۔۔۔
کیوں؟؟؟
تم اٹھ رھے ھو یا نہیں لہجہ ورنہ کی دھمکی والا تھا۔۔۔
جازب نے گہری سانس باہر خارج کی اور اٹھ کھڑا ھوا۔۔۔
چلو میر ساتھ۔۔۔
کہاں؟؟
کسی بھی پارک میں۔۔۔
اس باگڑ بلی کو بھی لے لو ساتھ جازب نے مشورہ دیا۔۔۔۔
نہيں اسکی ضرورت نہيں تم چلو۔۔۔
کچھ دیر میں وہ قریبی پارک میں دونوں گھاس پر ٹہلنے لگے تھے۔۔۔
اریج نے ٹھنڈی ھواؤں کو اپنے اندر سمویا اور جوتے اتارے۔۔۔
بتاٶ اب کس ذلت کی بات کر رہی تھی نمل۔۔۔
اسکے جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑنے سے جازب نے حیرت سے اسکے جوتے پھر اسے دیکھا۔۔۔
اریج کو ھنسی آ گئ تمھیں مارنے کے ارادے سے نہیں اتارے۔۔۔
جازب نے سگریٹ پینے کی جیب سے نکالا اور اب لائٹر سے اسے سلگانے لگا۔۔۔
بولو جازب ایسا کیا کیا ھے تم نے اسکے ساتھ جو وہ مرنے کو تیار ھے پر شادی کیلۓ نہيں۔۔۔اریج بے چین تھی کہ کیا ھوا تھا انکے بیچ۔۔۔
جازب نے آس پاس دیکھ کر سگریٹ کا دھواں ھوا میں خارج کیا اور کچھ پل خاموش رہا پھر اے ٹو زی اسے سارا قصہ سنایا۔۔۔
اسکی بات سن کر اریج کو حیرت کا دھچکا لگا لیکن جازب کو کوسنے یا سمجھانے کا کوئ فائدہ نا تھا کہ جو ھونا تھا وہ ھو گیا لیکن اس نے اسوقت ان دونوں کی شادی پر فوکس کیا۔۔۔
اس نے اگلا سوال کیا وہ تو راضی نہيں ھے تم سے شادی پر کیا کروگے؟؟؟
تم مدد کرو نا یار پلیز اسے سمجھاٶ معاف کر دے مجھے میں اسی کی خاطر لوٹ کر آیاھوں سب کچھ چھوڑ دیا ھے میں لوٹ کر واپس نہيں جانا چاہتا جازب کے لہجے سے سچائ چھلک رہی تھی اور وہ پشیمان بھی بہت تھا۔۔۔۔
تم نے اسے شاہ جی کے اور اپنے متعلق حقیقت سے آگاہ کیا ھے؟؟؟
نہیں جواب مختصر تھا۔۔۔
کیوں؟؟؟
اجازت نہیں بتانے کی اور میں تم سے بھی اس پر بات نہیں کرنا چاھتا لہجہ بلکل سپاٹ اور سنجیدہ تھا۔۔۔
اوکے۔۔۔اریج نے نگاھوں کا زاویہ بدلا۔۔۔۔
وہ سگریٹ کا گہرا کش لیتے ھوۓ کہنے لگا میں مانتا ھوں میری غلطی بہت بڑی تھی لیکن میں اسکا ازالا بھی تو کرنا چاھتا ھوں۔۔۔
اریج ٹھندی ھوا میں گہرے سانس لیکر جازب کو دیکھنے لگی ھممممم ٹھیک ھے میں کوشش کرتی ھوں اسے گاٸیڈ کر لوں لیکن وہ پھر بھی نا مانی تو؟؟؟
تو پھر اسے یہ سمجھا دینا اگر میری نہيں ھوٸ تو میں اسے کسی اور کا ھونے بھی نہيں دونگا اب کی بار جازب کا لہجہ بے انتہا سخت اور دھمکی آمیز تھا۔۔۔۔
اریج اسکے سپاٹ چہرے کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔
__________________
جازب کی آج چھٹی تھی لیٹ اٹھا کافی وہ۔۔۔
نمل کچن میں کوکنگ کر رہی تھی۔۔۔۔
نرگس دیان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔
امی جان اپنی بہو سے کہیں ایک کپ اپنی طرح کڑک سی چاۓ تو پلا دے انگڑائ لیکر وہ صوفے پر بیٹھا تھا آواز قدرے بلند تھی۔۔۔
وہ ھانڈی کا چمچہ ہاتھ میں لیۓ باہر آٸ کیا کہا تم نے۔۔۔
وہ معصومیت سے شانے اور ابرو اچکا کر بولا جو تم نے کہا تھا وہی کہا ھے۔۔۔
نمل گڑبڑا گئ جھوٹ مت بولو ورنہ یہ چمچ تمھارے سر پہ دے مارونگی نمل غصے سے بولی۔۔۔
نرگس دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔
قسم سے امی میں جھوٹ نہيں بول رہا آپکی قسم اس نے جھٹ سے ماں کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
جب پہلی بار اسے یہاں دیکھا تھا تو اس نے یہی کہا تھا کہ بہو ھے اس گھر کی دوسری بار ملنے پر میں نے پوچھا اس سے کونسے بیٹے کی تو اسے اپنے شوہر کا نام بھی نہيں آتا تھا۔۔۔۔
نرگس نے سوالیہ نظروں سے نمل کیطرف دیکھا۔۔۔
وہ گھبرا گئ لیکن سچویشن دیکھ کر فوراً اپنی صفائی دینے لگی امی فضول میں بول رہا ھے یہ میں نے ایسا کچھ نہيں کہا۔۔۔
جازب اسے آنکھ مار کر لب بھینچے مسکرایا۔۔۔
نمل اسکی اس حرکت پر اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔
اس نے ہاتھ اور لبوں کے اشارے سے بے آواز کہا بونٹ بندددد۔۔۔
نمل تپ گئ اسکی معنی خیز مسکراہٹ پر پھر اسکی طرف بڑھی رکو ذرہ تم ابھی بتاتی ھوں تمھیں وہ چمچ ہاتھ میں لیۓ اس تک پہنچی۔۔۔۔
جازب کو اچانک اسد کا پھٹا ھوا سر یاد آیا تو وہ بھاگا باہر کی جانب۔۔
وہ بھی اسکے پیچھے اندھا دھند بھاگی اور آؤ دیکھا نا تاؤ جیسے ہی بھاگتے ھوۓ پوری قوت سے اس نے اندھا دھند جازب پر چمچ سے وار کیا تو چمچ اندر آتے شاہ جی کے سر پر جا لگا اسٹیل کا چمچ تھا اچھا خاصا بڑا اور بھاری تھا۔۔۔۔
چمچ پڑتے ہی شاہ جی چکرا کر رہ گیا اسکی آنکھوں کے آگے پل بھر اندھیرا چھا گیا اسے سمجھ ہی نا آئ ھوا کیا ھے؟؟؟؟
ہاہاہاہاہا جازب کی ھنسی رک ہی نہيں رہی تھی شاہ جی کے سر پر چمچ سے پڑنے والا گیند نما گلولہ دیکھ کر۔۔۔
نمل نے جب سورج کی روشنی سے پوری آنکھیں کھول کر سامنے شاہ جی کو دیکھا تو بھاگی اندر کیطرف۔۔۔
جازب نے اسے آڑھے ہاتھوں لیا کہاں بھاگ رہی ھو دُم دبا کر اس نے نمل کی کلائی دبوچی۔۔۔
یہ کیا کیا ھے تم نے شاہ جی کیساتھ وہ اوور ایکٹنگ کرتے ھوۓ بلند آواز میں چلایا تھا۔۔۔
نمل نے جھٹکا دیکر اپنی کلائی چھڑائی اس سے۔۔۔
شاہ جی کا نام سن کر نرگس باہر آٸ۔۔۔
اس نے سر پکڑے سلام کیا۔۔۔
سر کیوں پکڑ رکھا ھے تم نے نرگس گھبرا گئ۔۔۔۔
مجھے نہيں معلوم تھا اماں جی آپکے گھر میں مہمانوں کو ھانڈی کے چمچے سے خوش آمدید کرنے کا رواج چل نکلا ھے اسکا چہرہ سرخ ھو رہا تھا۔۔۔
نرگس کو کافی غصہ آیا نمل پر وہ اسکی طرف پلٹی یہ کیا حرکت کی ھے تم نے؟؟؟
وہ جازب کے پیچھے چھپنے لگی جازب نے جلدی سے بازو سے کھینچ کر اسے نرگس کے آگے پیش کیا۔۔۔
امی وہ میں نے اس گدھے کو مارا تھا وہ جازب کیطرف اشارہ کرنے لگی اور پھر یہ بیچ میں پتہ نہیں کہاں سے آگۓ کیسے لگا انکو مجھے نہيں پتہ۔۔۔
شاہ جی رومال سے سر پکڑ کر بولا ظاہر ھے میڈم مارنے والے کو کیسے پتہ چل سکتا ھے یہ تو چمچ کھانے والا ہی جانتا ھے کہ دن میں تارے کیسے نظر آتے ھیں؟؟؟ اس نے ناراضگی سے نمل کو گھورا تھا۔۔۔
حد ھوتی ھےنمل بچپنے کی بھی اگر اسکا سر پھٹ جاتا تو نرگس اس پر ناراض ھونے لگی۔۔۔
جازب نے فوراً اپنا لقمہ جوڑا امی بے فکر رھیں سر پھٹنے سے خون نہيں نکلنا تھا بلکہ سارا بھوسہ آنا تھا باہر۔۔۔
نرگس کو ھنسی آگٸ وہ شاہ جی کو اندر لے گٸ۔۔
نمل کچن میں غاٸب ھو گٸ۔۔۔
نرگس نے شاہ جی کے سر پر iodex بام لگاٸ۔۔۔
نمل نے ھانڈی کا چمچ ھانڈی بھونتے ھوۓ جھاڑا تو آواز باہر تک آٸ۔۔۔
جازب نے اونچی آواز لگاٸ چمچ ذرا آھستہ ہلاٶ بہو رانی مہمان کا سر ہلا کر بھی چین نہيں آیا تمھیں۔۔۔
نمل نے بڑی مشکل سے برداشت کی اسکی بات۔۔۔
بس کر دو اب کیوں تنگ کرتے ھو اتنا اسے نرگس نے کچن میں جاتے ھوئے اسے ٹوکا۔۔۔۔
شاہ جی نے نرگس کے جاتے ہی اٹھ کر جازب کے سینے پر زور سے گھونسہ مارا جس پر وہ ناٹک کرتے ھوۓ تڑپ کر زمین پر لیٹ گیا۔۔۔
شاہ جی نے اسے کھینچ کر بٹھایا کمینے تو نے مجھے پکڑ کر اسکے آگے کیا تھا نا۔۔۔
شاہ جی کو اب یاد آیا کہ وہ جیسے ہی اندر آیا تھا جازب اس سے ٹکرایا تھا اور سیکنڈ کے دسویں حصے میں اس نے کھینچ کر اسے نمل کے آگے کیا تھا۔۔۔
نمل کو شاہ جی نے نہیں دیکھا تھا اس لیے نمل کا چمچ اسکے سر پر پڑا۔۔۔۔
اریج ابھی ابھی جاگی تھی وہ آنکھیں مسلتی باہر آٸ۔۔۔
شاہ جی کو دیکھ کر بڑی خوش ھوٸ ارے آپ یہاں۔۔۔
جازب جلدی سے زمین سے اٹھا اور صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔
وہ شاہ جی کے سامنے بیٹھی۔۔۔
نمل نے اریج کی آواز سن کر کچن سے باہر جھانکا کہ اریج کیسے جانتی ھے شاہ جی کو؟؟
وہ تینوں آپس میں ھنستے باتیں کرتے رھے نرگس کچن میں نمل کیساتھ مصروف ھو گٸ اور نمل اپنے خیالوں میں گم تھی۔۔۔
سب نے ملکر کھانا کھایا نمل بلکل خاموش تھی۔۔۔
جازب نے شاہ جی کو کہنی ماری کھانا کیسا لگا تجھے؟؟؟ اس گھر کی بہو کے ہاتھ کا۔۔۔
شاہ جی نے نمل کیطرف دیکھا جو بڑے غصے سے اسکی بات سن کر جازب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
شاہ جی جازب کی شرارت سمجھ کر آرام سے بولا ھممم اچھا ھے۔۔۔۔
اچھے سے تعریف کردے یارا ورنہ ایسا نا ھو کہ آتے ھوۓ چمچ کھانے سے سواگت ھوا تھا تیرا اب جاتے ھوۓ جوتے نا کھانے پڑ جاٸیں جازب نے اسے ڈرایا۔۔۔۔
سب بہت زور سے ھنسے۔۔۔
نمل اٹھ کر جانے لگی تو نرگس نے روکا رکو نمل ایسے کھانا بیچ میں چھوڑ کر اٹھنا مناسب نہيں۔۔
شاہ جی مسکرا کر جازب کے سر پر زور سے تھپڑ رسید کرتے ھوۓ کہا اس مستانے کی باتیں دل پر نا لیا کرو عقل سے پیدل ھے یہ۔۔۔۔
اریج بھی پیچھے نا ہٹی جھٹ سے بولی جازب تم بھی کھا لو نمل جی کے دو چار چمچچچچے عقل اپنے آپ آجانی ھے۔۔۔
نمل نے منہ لٹکا کر ماں کیطرف دیکھا۔۔۔
مذاق کر رھے ھیں نمل اسمیں برا منانے والی کونسی بات ھے؟؟؟
اریج مسکرا کر بولی برا تو شاہ جی کو منانا چاھیۓ جن کو آتے ہی تم نے دن میں تارے دکھاۓ۔۔۔۔
اب کی بار وہ بھی مسکراٸ انکے ساتھ۔۔۔
اریج سارے برتن اٹھانے لگی نمل کیساتھ۔۔۔
نمل بیٹا چاۓ بنا لاٶ سب کیلیۓ نرگس نے اسے چاۓ کا کہا۔۔۔
کچھ دیر بعد جازب کچن میں اسکے پیچھے گیا ماٸ ڈیٸر سویٹ ہارٹ چاۓ اچھی بنانا اوووکے جازب نے اوکے کہتے ھوۓ آنکھیں گول گول گھمائیں۔۔۔
اریج کھلکھلا کر ھنسی۔۔۔۔
وہ خونخوار نظروں سے مڑی تمھاری چاۓ میں زہر ملا کے دونگی تمھیں۔۔۔
وہ کان کھجانے لگا کانوں میں تو کافی گھولتی رہتی ھو چاۓ میں بھی گھول دو نو پرابلم۔۔۔
تم کچن سے باہر جاٶ گے یا میں چلی جاٶں۔۔۔۔
نمل کو سیرئیس دیکھ کر وہ چلا گیا اریج بھی اسکے ساتھ باہر آئ۔۔۔۔
شاہ جی اریج اور جازب تینوں باہر لان میں بیٹھے ھوۓ تھے نرگس اپنے کمرے میں تھی۔۔۔
نمل چاۓ لیے حاضر تھی کپ اس نے شاہ جی اور جازب کے ہاتھ میں پہلے دیۓ۔۔۔
جیسے ہی شاہ جی نے چاۓ کا ایک سپ لیا تو چاۓ حلق سے نیچے نا اتری اس نے گھاس پر چاۓ اگل دی۔۔۔
جازب نے اسے کھانستا دیکھ کر جلدی سے شاہ جی کی پیٹھ سہلاہی اوۓ یار کہیں سچ میں تو نہيں زہر ڈال دیا تم نے چاۓ میں۔۔۔
شاہ جی کا دودھیا چہرہ لال ھو گیا تھا۔۔۔۔
میرا کپ تھا یار یہ جازب نے اسکے ہاتھ سے فوراً کپ لیا۔۔۔
نمل کیطرف شاہ جی نے کڑوا سا منہ بنا کر دیکھا اور رومال سے ھونٹ اور منہ صاف کیا۔۔۔
تمھاری دشمنی اس سے ھے نا مجھ سے کونسے جنم کے بدلے لے رہی ھو ؟؟؟
وہ فوراً روہانسی لہجے میں بولی سوری بھاٸ وہ چاۓ کا کپ بدل گیا تھا۔۔۔
جازب بڑی دلچسپی سے خجل ھوتی نمل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
شاہ جی کرسی سے ٹیک لگائے اپنا ہاتھ اٹھاتے ھوۓ کہنے لگا جازب صاحب تو بھی اپنےارادے بدل لے ایسے نا ھو شادی سے پہلے ہی تو ہلاک ھو جاۓ۔۔۔
جازب بہت زور سے ہنسا منظور ھے میری جان دلدار کے ہاتھوں قتل ھونے کا مزہ ہی کچھ اور ھوگا۔۔۔
نمل ہاتھ ملتی گھورتی رہ گئ۔۔۔۔
شاہ جی آسمان کیطرف ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔
اریج بولی کیا دیکھ رھے ھو؟؟؟
شاہ جی سے پہلے جازب بول پڑا یہ وہ تارے ڈھونڈ رہا ھے جو نمل نے کچھ دیر پہلے اسے دکھاۓ تھے۔۔۔
شاہ جی نے لب بھینچے اپنی ھنسی روکی۔۔۔
نہیں یار یہ دیکھ رہا ھوں آج سورج کہاں سے نکلا ھے؟؟؟
کیوں خیریت اریج نے پوچھا۔۔۔۔
پھر وہ اپنی نگاھوں کا زاویہ نمل کیطرف کرتے ھوۓ بولا حسب خلاف موصوفہ کی جوابی کارروائی کی توپ جو خاموش ھے۔۔۔
اریج نا سمجھی لیکن جازب اور نمل سمجھ گۓ تھے شاہ جی کے نمل کو توپ کہنے پر خوب ھنسی آئ جازب کو۔۔۔۔
نمل نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی اور جاتے جاتے جازب کو سر پر تپھڑ دے مارا اس نے چاۓ کا کپ ھونٹوں کو لگایا ہی تھا کہ نمل کا تھپڑ پڑتے ہی چاۓ حلق کیساتھ ساتھ ناک میں بھی چلی گئ اور چاۓ تھی کہ جیسے نمک میں گھلا زہر۔۔۔۔
شاہ جی اور اریج کی ھنسی پر جازب نے کپ میز پر پٹخ کر وہاں سے کوچ کرتی ھنستی ھوئ نمل کی کلائی دبوچ لی۔۔۔
چاۓ ابھی بھی اسکے ناک سے نکل رہی تھی وہ شرٹ سے ناک صاف کرنے لگا اب تمہیں بھی پینی ھوگی یہ چاۓ اس نے نمل کا بازو پکڑ کر اسے گھمایا تو وہ گھومتی ھوئ چیئر پر آ بیٹھی۔۔۔
شاہ جی اور اریج نے اسکی جان چھڑائی جازب سے۔۔۔
_________________
رتابہ عضد کے کپڑے استری کر رہی تھی۔۔۔۔
سنو اس نے پیچھے سے اسے پکارا۔۔۔
جی۔۔۔
شام کو شادی میں جانا ھے ڈریسز ھیں تمھارے پاس شادی کیلیۓ؟؟ وہ اپنی شرٹ کے کف فولڈ کرتے ھوۓ پوچھ رہا تھا۔۔۔
جی امی نے رکھے تھے دو چار frocks ھیں۔۔۔
ھممممم رات کو پھر تیار ھو جانا اتنا کہہ کر وہ کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
شام کو گولڈن ایمبرائیڈڈ فراق میں ڈاٸمنڈ کی نازک سی جیولری پہنے لمبے دراز بالوں کی چٹیا آگے لٹکاۓ ریڈ لپ اسٹک میں وہ سحر کا ابھرتا ھوا سنہری سورج لگ رہی تھی۔۔۔
عضد باہر آیا تو اسکی نگاہ ٹھہر سے گٸ اس پر۔۔۔
جانا نہيں ھے رتابہ نے خود کو گھورتے عضد کو پکارا چینج کر لیں آپ بھی۔۔۔
اوکے وہ گہری سانس لیکر واش روم میں چلا گیا اور جلدی سے تیار ھوا۔۔۔
نیوی بلو کاٹن کی قمیض پر گھیر والی شلوار پہنے کندھوں پر سرمئ شال ڈالے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلنے ھوۓ چاند سورج کی جوڑی لگ رھے تھے۔۔۔
مایوں کی رسم تھی آج دو پارٹیوں کے بیچ انتاکشری کا گیم اپنے عروج پر تھا۔۔۔
مہمانوں کےس ساتھ ایک طرف وہ دونوں صوفے پر بیٹھے۔۔۔
مسز ھمدانی بھی وہاں موجود تھیں وہ کچھ دیر بعد عضد کو ملیں۔۔۔
کھینچ تان کر زبردستی انہوں نے عضد کو بھی شامل کیا اس پروگرام میں عضد مسز ھمدانی کی سائیڈ پر تھا۔۔۔
دونوں گروپوں کے درمیان میں پھولوں سے سجی کرسیوں پر مایوں میں بیٹھی دلہا دلہن کی جوڑی تھی۔۔۔
دلہا کیطرف سے ایک لفظ انکو دیا جاتا دونوں میں سے جو پہلے گانا گاتا وہ گروپ جیت جاتا۔۔۔
اب کی بار لفظ خوبصورت تھا۔۔۔
عضد نے پہل کی۔۔۔
خوبصورت ھے وہ اتنا۔۔۔
اسکے گروپ نے سیٹیاں بجا کر خوب شور مچایا کیونکہ عضد کی آواز بہت خوبصورت تھی اس پر اسکی مسکراتی آنکھوں اور گلابی ھونٹوں سے لفظوں کی ادائیگی کا انداز اس سے بھی نرالا تھا۔۔۔
خوبصورت ھے وہ اتنا سہا نہيں جاتا۔۔۔
کیسے ھم خود کو روک لیں رہا نہيں جاتا۔۔۔
چاند میں داغ ھے یہ جانتے ھیں ھممممم لیکن۔۔۔
رات بھر دیکھے بنا اسکو رہا نہيں جاتا۔۔۔
خوبصورت ھے وہ اتنا سہا نہيں جاتا۔۔۔۔
عضد کے شامل ھوتے ہی انکا گروپ جیتنے لگا تھا عشق لفظ پر پھر عضد کی آواز گونجی۔۔۔
اے گندمی رنگت والی۔۔
ہر پل تیرے جلوں کا۔۔۔
ھے میرا عشق سوالی۔۔۔
عضد کی آواز پر رتابہ کے دل کے تار چھڑنے لگے۔۔۔
دو گھنٹے گیم چلا آخری گانا بھی عضد نے ہی گایا۔۔۔
لفظ تھا چاند۔۔۔
میں نے پوچھا چاند سے دیکھا ھے کہیں۔۔۔
میرے یار سا حسیں۔۔۔
چاند نے کہا چاندنی کی قسم۔۔۔
نہيں نہيں نہيں۔۔
عضد کی ٹیم جیت گئ تھی
رتابہ کھو سی گئ تھی عضد کی آواز میں گیم کب کا ختم ھو چکا تھا رتابہ وہیں کی وہیں بیٹھی تھی۔۔۔
عضد نے اسکے ساتھ بیٹھتے ھوۓ اسکے کان میں سرگوشی کی جو گم صم بیٹھی تھی تمھارے لیۓ نہیں گایا یہ گانا۔۔۔
اسکی آواز پر چونک کر اس نے عضد کو غور سے دیکھا بہت خوبصورت لگ رہا تھا وہ مغرور سا کاٹن کے نیوی بلو قمیض شلوار میں بلکل نیلے آسمان پر چمکتے چاند کیطرح وہی حسن وہی غرور وہی نور تھا عضد کے چہرے پر بھی۔۔۔
عضد کی نظریں سامنے تھیں لیکن توجہ رتابہ پر مرکوز تھی ایسے کیا دیکھ رہی ھو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔۔
رتابہ نے نظریں چرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی عضد کو ھنسی آ گئ اسکے انداز پر۔۔۔
________________
نرگس کے کہنے پر نمل جازب کیساتھ شاپنگ کیلیۓ گٸ۔۔۔
جازب بڑا خوش تھا اسکے ساتھ جانے پر گاڑی میں رومانوی گانے لگا کر وہ خود بھی اونچی آواز میں گنگنا رہا تھا۔۔۔۔
دو باتیں ھو سکتی ھیں صنم تیرے انکار کی۔۔۔
یا دنیا سے تو ڈرتی ھے یا قدر نہيں میرے پیار کی۔۔۔۔
نمل نے ٹیپ ریکارڈر بند کیا۔۔
اسے کیوں بند کیا تم نے وہ ڈرائیو کرتے ھوۓ بولا۔۔۔۔
یا اسے بجنے دو یا اپنا باجا بند کرو وہ تنک کر بولی۔۔۔۔
جازب ھنسا۔۔۔
ھاھاھاھاھا اچھا تو یوں کہو نا جانی ناگوار گزر رہا ھے تمھاری سماعتوں کو میرا باجا۔۔۔
وہ ناک سکیڑے باہر جھانکنے لگی۔۔۔
گاڑی سگنل پر رکی تو ایک مانگنے والی انکے پاس آٸ۔۔
دے دے بابو کچھ اللہ کے نام پر صبح سے بھوکی ھوں کچھ نہيں کھایا۔۔۔
جازب نے اسے سو کا نوٹ تھمایا وہ نوٹ لے کر دعاٸیں دینےلگی۔۔۔
اللہ تجھے حج کراۓ اللہ تیری منتے مرادیں پوری کرے اللہ تجھے کسی کا محتاج نا کرے۔۔۔
ایک دعا اور کرو میری شادی ھو جاۓ وہ نمل کیطرف دیکھ کرشوخی سے بولا۔۔۔
وہ بولی اللہ کرے جلدی تیری شادی ھو جاۓ ساتھ بیٹھی شہزادی سے۔۔۔
جازب نے پانچ سو کا نوٹ اسے دیا وہ خوشی سے اور دعاٸیں دینے لگی۔۔
اللہ تجھے سوھنے سے بیٹے سے نوازے جازب نے پھر پانچ سو کا نوٹ نکالا۔۔۔
وہ پھر سے بولی۔۔۔
تو نے مجھ بھوکی کا پیٹ بھرا اللہ تیری ساری مرادیں بھرے تجھے دو دو بیٹوں سے نوازے۔۔
جازب نے بلند آواز میں آآآممممین کہا۔۔۔۔
تو نمل جل بھن کر رہ گٸ اور مانگنے والی کو گردن آگے کیے دیکھ کر غصے بولی۔۔۔
بات سنو تم ہی کر لو اس سے شادی بے فکر رھو کبھی تمھارا پیٹ خالی نہيں چھوڑے گا یہ۔۔۔۔
فقیرن تو اسکی بات نا سمجھ سکی لیکن جازب سمجھ چکا تھا اسکا قہقہہ پوری گاڑی میں گونجا۔۔۔
نمل غصے سے لال پیلی ھو گٸ اس نے نا آٶ دیکھا نا تاٶ گود میں پڑے پرس سے جازب کی پٹاٸ شروع کر دی۔۔۔۔
جازب نے ھنستے ھوۓ اس سے پرس چھینا بس کرو کیا کر رہی ھو سب دیکھ رھے ھیں یار۔۔۔
وہ فقیرن پھر بولی نا مار میرے بابو کو ایسا سونا منڈا تجھے نہيں ملے گا۔۔۔۔
سگنل کھل چکا تھا۔۔۔
گاڑی جازب نے آگے بڑھائ تو نمل نے بلند آواز میں کہا تجھے مبارک ھو یہ سوھنا منڈا۔۔۔۔
گاڑی اب اپنی منزل کیطرف رواں دواں تھی جازب کی ھنسی رک ہی نہيں رہی تھی۔۔۔
اور نمل کا غصہ اپنے عروج پر تھا۔۔۔
اب اگر تم دوبارہ ھنسے تو میں چلتی گاڑی سے اتر جاٶنگی زہر لگ رہی ھے تمھاری ھنسی اسوقت مجھے۔۔۔وہ کھا جانے والی نظروں سے جازب کے ھنسنے پر اسکو گھورنے لگی۔۔۔۔
یار تم نے بات ہی ایسی کہی کہ کبھی بھی پیٹ خالی نہيں چھوڑونگا ھاھاھاھاھاھاھا اب ھنسنے والی بات پر ھنسوں بھی نا میں ھنستے ھوۓ جازب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔
نمل نے دو چار ٹشو نکال کر منہ کھول کر ھنستے ھوئے جازب کے منہ میں ٹھونسے۔۔۔۔
وہ ٹشو نکال کر ھنستے ھوئے کہنے لگا خیر تم فکر نا کرو میں نے تمھارے ساتھ کرکٹ ٹیم نہيں بنانی۔۔۔وہ گاڑی کا موڑ کاٹتے ھوۓ اسکی طرف ہلکا سا مڑا تھا۔۔۔
کیا مطلب وہ اسے گھورنے لگی؟؟
مطلب یہ کہ پیار تو بہت ھوگا ھمارے بیچ لیکن بچے اتنے زیادہ نہيں ھونگے ھمارے ۔۔۔
مجھے لگتا ھے سینڈل اتارنا پڑے گا اب وہ نخرے سے ابرو اچکاۓ بولی۔۔۔
وہ انجان بن کر معصومیت کی انتہا کو چھوتا بولا کیوں ٹوٹ گیا ھے کیا؟؟؟؟
ابھی تو نہيں ٹوٹا البتہ تمھاری مذید کسی بھی بکواس پر تمھارے اوپر ٹوٹ سکتا ھے۔۔۔
نمل کے دھمکی آمیز لہجے پر وہ گاڑی کے شیشے سے آسمان کیطرف دیکھ کر بولا اے میرے پروردگار کس باگڑ بلی پر دل ہار بیٹھا میں؟؟؟
نمل نے سینڈل اتار کر ہاتھ میں پکڑا اب بولو ذرا تم۔۔۔وہ اسکی طرف گھوم کر بیٹھی تھی۔۔۔
جازب نے اسکے ارادے بھانپ کر جلدی سے ٹشو منہ میں ڈال لیۓ اور اشارے سے بولا بس خوش اب نہیں بولونگا۔۔۔
____________
اریج کی کچھ دن بعد واپسی تھی نرگس گھر میں نہيں تھی اریج نے موقع دیکھ کر نمل سے بات چھیڑی۔۔۔
نمل تمھارے پاس صرف یہی reason ھے عضد سے شادی نا کرنے کا کہ اس نے تمھیں kidnap کیا تھا یا کوٸ اور reason بھی ھے؟؟
اس نے بتا دیا تمھیں سب نمل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔
دیکھو نمل میرا پورا بچپن اسکے ساتھ گزرا ھے تم نہيں جانتی اتنا جتنا میں جانتی ھوں جازب کو ابھی تو یہ تمھاری بات ھنسی میں ٹال رہا ھے لیکن یہ یاد رکھنا یہ ٹلنے والا نہيں۔۔۔
جس بات پر ضد پر آجاۓ تو پوری دنیا ملکر بھی اسے نہيں سمجھا سکتی اگر وہ تمھیں تمھاری شادی سے دو دن پہلے تمھارے گھر سے اٹھا سکتا ھے تو سوچو وہ آگے کس حد تک جا سکتا ھے؟؟
اریج اسے پیار سے سمجھا رہی تھی پہلے تم اسکی پسند تھی اب اسکی محبت ھو اسکا جنون مت بنو۔۔۔
تم ڈرا رہی ھو مھے جازب سے نمل بے دھڑک اسکے جواب میں بولی۔۔
نہيں یار ڈرا نہيں رہی اریج اسکی ہٹ دھرمی پر پریشانی سے بولی تم سمجھ کیوں نہيں رہی ھو وہ تمھیں بہت چاھتا ھے تمھاری خاطر وہ ان راہوں سے بھی لوٹ آیا ھے جن راہوں سے موت کے علاوہ چھٹکارا ممکن نہيں تھا۔۔۔
نمل نے لاپرواہی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ھوئے کہا تم اسکی بچپن کی دوست ھونا اسلیۓ تمھیں وکیل بنا کر اس نے بھیجا ھے لیکن وہ یہ نہيں جانتا اسکی وجہ سے جو وکالت دنیا کے کٹہرے میں کھڑی میں نے اکیلے کی وہ کس قدر کٹھن تھی۔۔۔
وہ تمھارا ماضی تھا اریج نے اسکے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھ کر کہا ماضی میں جینے والے حال میں نا صرف نا خوش رہتے ھیں بلکہ اپنا مستقبل بھی برباد کر لیتے ھیں۔۔۔
میں جانتی ھوں بہت غلط کیا اس نے لیکن اسکی غلطی کے سبب ہی آج تم یہاں اپنی ممتا کی چھاٶں میں ھو۔۔۔
نا وہ تمھیں کڈنیپ کرتا نا تم اس محلے سے نکلتی نا تم لاھور آتی اور نا آج ماں کے پاس ھوتی۔۔
نمل چپ چاپ اسکا چہرہ دیکھنے لگی نمل اگر اس نے تمھیں اغوا کیا تو تمھاری حفاظت بھی کی اور شادی کی آفر اس نے اسی وقت کی تھی تم سے جب وہ تمھارا نام تک نہيں جانتاتھا وہ غلط ضرور تھا مگر بد نیت نہيں۔۔۔
اریج کی بات پر وہ جھٹ سے بولی تو کیا اس نے مجھے اچھی نیت سے اٹھایا تھا؟؟؟
اریج نمل کے جواب پر سر پیٹ کر رہ گئ تم نہيں کروگی اس سے شادی؟؟
نہيں نہیں نہیں۔۔۔
تو پھر سن لو پاگل لڑکی اریج نے اس سے عاجز آ کر کہا تمھاری شادی وہ کسی اور سے بھی نہيں ھونے دیگا۔۔۔
میری رگوں میں بھی اسی کا خون ھے شادی میری ھوگی اور اسی کے سامنے ھوگی نمل بضد تھی اپنی بات پر تم بھی دیکھ لینا اور اسے کہنا جو کرنا چاھتا ھے کر گزرے میں بھی تو دیکھوں کتنا دم ھے اسمیں مذید مجھے برباد کرنے کا۔۔۔
اریج کو اسکی نگاھوں میں کچھ عجیب سا دکھائی دیا وہ اسکا بازو سختی سے پکڑ کر بولی کہیں ایسا تو نہيں تمھاری شادی جس سے ھو رہی تھی تم اسے چاھتی تھی اور اب اسکے نا ملنے پر بدلہ جازب سے لینا چاہتی ھو؟؟
نہيں اریج اس شخص کیساتھ میرا ایسا کوٸ تعلق نہيں تھا کہ اسکے ملنے پر مجھے ساری کاٸنات مل جاتی یا نا ملنے پر دنیا کی ہر خوشی روٹھ جاتی۔۔۔۔
تو پھر کیا وجہ ھے تمھارے انکار کی؟ نمل نے اریج کی آنکھوں میں جھانکا جہاں جازب کے نام کی چراغ جل بھج رھے تھے۔۔
اریج کچھ کچھ سمجھتے ھوۓ اسکے ٹھنڈے ھوتے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے بولی یہاں دیکھو میری طرف تمھارا یہ انکار میری وجہ سے تو نہيں؟؟
نمل اسکی آنکھوں میں جھانک رہی تھی یک دم اسکے سوال پوچھنے پر نظریں چرا کر کہنے لگی ہاں شاید۔۔۔
اریج کا دل چاہا وہ یا اپنا سر پھاڑ دے یا اسکا۔۔۔۔
نممممممل اس نے سختی سے جبڑے بھینچے تمھاری بے وقوفی ھے یہ اور کچھ نہيں اریج دانت پیس کر رہ گئ۔۔۔۔
میں اسے چاھتی ضرور ھوں لیکن میں نے اسکے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب کبھی نہيں دیکھے کیونکہ میں جانتی ھوں ھماری دوستی ازدواجی رشتے میں نہيں بدل سکتی تم کیوں نہيں سمجھتی ھو اس بات کو اس دن تم نے انٹی سے بھی ذکر کیا اور جازب سے بھی
یار کیوں تم مجھے کشکول کیطرح لیۓ انکے آگے پھر رہی ھو مجھے رحم کی بھیک سمجھ رکھا ھے تم نے؟؟؟اریج بری طرح اس پر بگڑی۔۔۔
کیوں تم نہيں چاھتی کہ تمھاری زندگی کا سب سے بہترین دوست تمھارا ھمسفر بنے نمل نے الٹا اس سے سوال کیا۔
یار دوستی کب سے رشتوں کی محتاج ھونے لگی؟؟ نہيں چاھتی ایسا کچھ بھی نا میں نا جازب یہ محض تمھارا دماغی فتور ھے اور کچھ نہيں۔۔۔ اگر میں یا وہ پسند میں اس حد تک آگے ھوتے تو میں کب کی دلہن بن کر اس گھر میں آ چکی ھوتی۔۔۔
جازب مجھ سے محبت نا بھی کرے لیکن اس دوستی کے رشتے سے وہ میرا احترام کرتا ھے یار اسکی نظروں میں ڈی گریٹ مر کرو مجھے اریج بلکل سیریئس تھی۔۔
نمل سر جھکاۓ بولی اک اور وجہ بھی ھے انکار کی۔۔۔
کونسی؟؟ اریج نے اپنا غصہ ترک کیا۔۔۔
اسکا ماضی جو میں نے دیکھا ھے نمل کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
افففف خدایا اریج نے سر آسمان کیطرف اٹھایا پھر گردن سیدھی کی تم سمجھ رہی ھو جازب گینگسٹر یا پیشہ ور مجرم ہے؟؟
اریج وہ قاتل بھی ھے۔۔۔ نمل کے آنسو اب گالوں پر پھسل آۓ۔۔۔
ہاں جانتی ھوں سب۔۔
نمل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔
سنو نمل انکا گینگ ضرور ھے لیکن شاہ جی اور جازب گینگسٹر نہیں ھیں وہ دونوں آئ ایس آئ کے مخبر ھیں اور پاکستان میں جہاں بھی اصلحے کی غیر قانونی لین دین چلتی ھے وہاں شاہ جی آئی ایس آئ کو نا صرف رپورٹ کرتا ھے بلکہ جازب اس اصلحے کی ڈیلنگ کر کے جدید اصلحہ اور بارودی مواد پاکستان آرمی کے حوالے کرتا ھے۔۔۔
اریج نے یہاں سانس لیا پھر روانی سے بولی۔۔۔
اور جہاں تک بات ھے قتل کی تو ھمارے معاشرے میں ان لوگوں کا قتل وہ کرتے ھیں جو ہزاروں بے گناہ جانوں کا قتل اپنے سر لیے ھوۓ ھیں اسکی انکو اجازت پاکستان آرمی نے دے رکھی ھے اور تمھاری خاطر بھی اس نے ان دو بندوں کو اسی لیے قتل کیا تھا کہ کل وہ کسی اور نمل پر نا ٹوٹ پڑیں۔۔۔
اریج کے منہ سے یہ انکشاف سن کر نمل دنک رہ گئی۔۔۔
نمل وہ آئ ایس آئ کے ایجنٹ نہیں ھیں لیکن اسکا حصہ ضرور ھیں۔۔۔
اب خدا کا واسطہ ھے اسے بتا مت دینا کہ میں نے یہ سب تمھیں بتایا ھے ورنہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔
نمل بنا پلک جھپکے بت بنی ھوئ تھی تمھیں یہ سب کیسے معلوم ھوا؟؟؟
اریج نے صاف گوئی سے کام لیا ایک بار شاہ جی اور جازب کو آئ ایس آئ کے بارے میں بات کرتے سن لیا تھا۔۔۔۔ ____________
نمل نے شادی کیلیۓ کہیں اور ہاں کر دی تھی اور اب جلد از جلد وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اریج واپس چلی گٸ تھی نمل سے مایوس ھو کر۔۔۔
نمل کی شادی کا سن کر ھنستا مسکراتا جازب یک دم ہی ویرانوں کیطرح خاموش ھو گیا تھا۔۔۔
ایاز بھی آگۓ تھے۔۔۔
شادی کی تیاریاں اپنے زور و شور پر تھیں اور وہ دن آبھی گیا جب اسکی شادی تھی۔۔۔
جازب یہ سب چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن نمل کی قسم دینے پر رکا کہ وہ اسے رخصت ھوتا اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔۔۔
آج اسکی مہندی کی رسم اختتام پذیر ھوٸ تو پیلے لباس میں وہ موتیے کے پھولوں سے مہکتی جازب کے کمرے میں آٸ۔۔۔
کیسی لگ رہی ھوں میں۔۔۔
جازب سگریٹ پی رہا تھا اچانک اسکے کمرے میں آنے پر سیدھا ھو کر بیٹھا۔۔۔
کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکنے آٸ ھو انداز بلکل بیگانہ سا تھا۔۔۔
نمک چھڑکنے نہيں تمھیں احساس دلانے آٸ ھوں۔۔۔
کس بات کا وہ سگریٹ ایش ٹرے میں کچلنے لگا۔۔۔
اس بات کا کہ کتنا اذیت ناک ھوتا ھے وہ لمحہ جب اپنی روح کسی اور کے ہاتھوں میں قبض ھوتی دکھاٸ دیتی ھے۔۔۔
جازب اسے دیکھے بنا بولا جاٶ یہاں سے میرے صبر کا امتحان نا لو اتنا کہ۔۔۔۔
کیا کہ۔۔۔ بولو کیا کہ۔۔۔ پھر ایک بار لال جوڑے میں اٹھانے کا ارادہ ھے مجھے؟؟
جازب اسے جواب دیے بنا دھڑلے سے اٹھ کر باہرجانے لگا۔۔
تو نمل نے اسکا راستہ روکا۔۔۔
کہاں چلے اریج نے تو تمھاری وکالت میں بڑے بڑے دعوے کیۓ تھے کہ تم کسی صورت مجھے کسی اور کا ھونے نہيں دوگے پھر اب کیسے ہار مان لی۔۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔۔۔
وہ کچھ نا بولا خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
اب نہيں چھوٶ گے مجھے اب نہيں لوگے اپنی بانہوں میں وہ اسکے بہت قریب ھوٸ۔۔۔لہجے میں زرہ برابر لغزش نہیں تھی۔۔۔
جازب اس سے دو قدم پیچھے ہٹا اور چہرے کا رخ پھیرا نکلو یہاں سے باہر۔۔۔
کیوں اتنی بری لگ رہی ھوں میں آج تمھیں وہ مذید اسکے قریب ھوٸ آج میرے بولنے پر میرے لبوں پر اپنی مہر ثبت نہيں کروگے؟؟؟
اسکے اتنے قریب آنے پر جازب کاسانس لینا محال ھوگیا وہ اسے پیچھے دھکیل کر بولا۔۔۔
خدا کا واسطہ ھے چلی جاٶ یہاں سے ورنہ میں کچھ کر بیٹھونگا۔۔۔
کیا کروگے تم اور کر کیا سکتے ھو؟؟؟لہجہ پل بھر کو نمکین ھوا تھا۔۔۔
ابھی کچھ دن پہلے تو بڑے چہک رھے تھے بڑا مذاق اڑا رھے تھے میرا کہاں گٸ تمھاری وہ ٹھاٹھیں مارتی ھنسی بدل گٸ نا ماتم میں۔۔۔
نمل نے پھر اسکے سینے پر اپنے ہاتھ رکھے اب بدلہ نہيں لوگے مجھ سے۔۔۔
جازب کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اس نے اسے پیچھے ہٹایا کیا چاہتی ھو تم؟؟؟
میں بے بس اور لاچار دیکھنا چاہتی ھوں تمھیں اور تم سے تمھارا صبر آزمانا چاہتی ھوں کہ کس مقام پر آکر لبریز ھوگا۔۔
جازب کے ہاتھوں میں اسکی گجرے سے بھری کلائیاں تھیں جو اسکی گرفت سے پتی پتی بکھر رہے تھے۔۔۔ تم یہ سوچ رہی ھو کہ میں گڑگڑاٶنگا تمھارے آگے اپنی محبت خیرات میں مانگوں گا تم سے۔۔۔
یک دم لہجے میں انتہا کی سختی عود آئ تھی۔۔۔
تمھارے قدموں میں بیٹھ جاٶنگا یا مر جاٶنگا تمھارے بغیر اس نے نمل کی براؤن آنکھوں میں جھانکا تو تم نے غلط سوچا نمل بی بی بھیک میں ملنے والی محبت۔۔ محبت نہيں ھوتی اور میں اپنا جیون محبت کے خیراتی سکوں میں تول کر نہيں گزار سکتا۔۔۔
جاٶ یہاں سے جازب نے ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ چھوڑے میرا اور اپنا تماشا مت بناٶ۔۔۔
میرا تماشا تو بن چکا جازب اب باری تمھاری ھے تماشا بننے کی۔۔۔
جازب نے اسے سرخ ھوتی آنکھوں سےدیکھا۔۔۔
چچچچچچ کتنے بے بس ھو گۓ ھو نا تم کچھ بھی نہيں کر سکتے صرف اسلیۓ کہ میں اب تمھارے گھر کی عزت ھوں اگر آج یہاں نا ھوتی تو ایک بار پھر تم نے مجھے۔۔۔
بسسسس چپ وہ دبی دبی آواز میں چلایا۔۔
تکلیف ھو رہی ھے نا بہت کتنا کٹھن ھے نا یہ لمحہ جب اپنا آپ کسی اور کے ہاتھوں لٹتا ھوا دکھاٸ دے۔۔۔
نمل کی آنکھوں میں وہ سارے کرب جاگ اٹھے تھے جو اس نے جازب کے اسے اٹھانے کے بعد جھیلے تھے آنسو ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے گرنے لگے۔۔۔
جازب نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی کمرے سے باہر نکالا اور دروازہ لاک کیا۔۔۔
وہ جاتے جاتے اسے کہہ گٸ۔۔۔
تم کل بھی بزدل تھے آج بھی بزدل ھو۔۔
وہ اسکے جاتے ہی سگریٹ پر سگریٹ پینے لگا عجیب پاگل لڑکی ھے مجھے اذیت دیتے ھوۓ خود بھی اذیت سے دوچار ھوتی ھے
پوری رات جازب کی کانٹوں پر لوٹتے ھوۓ گزری۔۔۔
اسکی صبر کی رگیں چٹخنے لگی تھیں وہ خود پر قابو نا پا سکا اور شدت غم سے روپڑا۔۔۔
اسکا ایک ایک آنسو لہو کیطرح اسکے گالوں پر ٹپک رہا تھا پوری رات اسکی نمل سے جداٸ کے عذاب میں گزری۔۔
اس رات کا ایک ایک پل صدیوں پر محیط تھا وہ نمل کے سامنے نہيں ٹوٹنا چاھتا تھا۔۔۔
لیکن نمل کے فیصلے نے ریت کے ذروں کیطرح اسے بکھیر کر رکھ دیا تھا اسکے جسم کا رواں رواں آہ و بکا کر رہا تھا اسکی محبت کے روٹھ جانے پر اسے اپنی روح اپنے جسم سے نکلتی ھوئ محسوس ھو رہی تھی اس ایک رات میں جازب کو اتنا اندازہ ھو گیا تھا اپنی محبت سے دستبردار ھونا بلکل زندگی سے موت کے سفر جیسا تھا۔۔
______________
وہ دلہن بنی پارلر میں جازب کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
وہ آیا اسے لینے تو نمل نے اندر بلوایا اسے۔۔۔
وہ بوجھل طبیعت کیساتھ ڈریسنگ روم کیطرف آیا جہاں وہ قتل کے سارے ہتھیار سے لیس کھڑی تھی جازب کی نظریں جھکی ھوٸ تھیں۔۔
دیکھو گے نہيں میری طرف اس نے جازب کے جھکے سر کو دیکھا۔۔۔
نہيں۔۔۔
ایک نظر بھی نہيں۔۔۔
نہيں۔۔۔۔ بیت بے بسی سے کہا تھا۔۔۔
کیوں برداشت نہيں ھو رہا نا مجھے اس روپ میں سجا کسی اور کا ھوتا دیکھ کر؟؟
تم نے چلنا ھے یا نہيں جازب کی اب پیٹھ تھی اسکی طرف۔۔۔
جب تک تم مجھے نظر بھر کر دیکھو گے نہيں میں نہيں جاٶنگی۔۔۔
ٹھیک ھے کھڑی رھو یہیں جازب نے اپنے قدم باہر کیطرف بڑھاۓ وہ لپکی اسکے پیچھے تو شراراے میں پاٶں الجھ گیا۔۔۔
وہ منہ کے بل گرتی لیکن بڑی پھرتی سے جازب نے اسے تھام لیا ایک پل کو نظریں چار ھوئیں نمل کے دھڑکتے دل کی سدا کانوں میں گونجی۔۔۔۔
جازب کی نظریں اسکے سراپے پر جم سی گٸیں اسے لگا اسکی دھڑکن کیطرح وقت ٹھہر سا گیا ھے نمل کا یہ روپ تو اس نے اپنے لیۓ دیکھنا تھا لیکن یہ کیا نمل کسی اور کی ھونے جا رہی تھی؟؟؟
اور وہ کچھ بھی نا کر سکا وقت نے حالات نے رشتوں نے کتنی مظبوط بیڑیاں ڈال دی تھیں اس جازب کے قدموں میں جسکی ٹھوکر پر زمانہ تھا آج اسے اسکی محبت نے ٹھکرایا تھا اور محبت کی چوٹ کھا کر اسکی روح تک گھائل تھی اسوقت۔۔۔۔
وہ جازب جسکے اشاروں پر لوگ سر جھکاۓ چلتے تھے اسکی اپنی ہی محبت نے کسطرح اس سے سارے اختیار چھین کر اسے بے اختیار کر دیا تھا۔۔۔
وہ اسے شدت سے چاہ کر بھی کچھ نا چاہ سکا کچھ نا کر سکا اپنی محبت نمل کی ضد کی بھینٹ چڑھا دی اس نے۔۔۔
سچ کہا تھا کسی نے کہ محبت مرتی نہيں مار دیتی ھے وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا۔۔۔
جازب کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے جن کو وہ بڑی خوبصورتی سے حلق میں اتار گیا۔۔۔
نمل اس سے الگ ھوئ تو وہ جلدی سے رخ پھیرے چل پڑا اتنے بھاری شرارے کو بمشکل سنبھالے اسکے پیچھے آٸ لیکن وہ سیڑھیاں نہيں اتر سکتی تھی۔۔۔
جازب۔۔۔۔
وہ اسکی آواز پر پلٹا۔۔۔
میں نہيں اتر سکتی سیڑھیاں۔۔۔
جازب نے اپنے چہرے کا رخ پھیر کر بڑی مشکل سے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔
تمھارا ہاتھ تھام کر بھی نہيں اتر سکتی۔۔۔
جازب نے ضبط سے جبڑے بھینچے سگریٹ سلگاٸ تو کیا اب گود میں اٹھا کر اتاروں؟؟؟
نمل نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
پھر طعنہ مت دینا مجھے کہ لال جوڑے میں ایک بار پھر تمھیں اٹھا لیا میں نے۔۔۔
یہ تو اب میری مرضی ھے تمھاری نہيں۔۔۔۔
جازب نے سگریٹ پھینک کر زمین پر مسلا پھر اسکی طرف پلٹا۔۔۔
کیسے اٹھا کر کسی اور کیلئے وہ اسے لے جاتا جازب انگاروں پر لوٹتے ھوۓ اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر سیڑھیاں اترنے لگا اسکا ہر اٹھتا قدم پچھلے قدم سے کئی گنا بھاری اٹھ رہا تھا۔۔۔
ایک پل اسکا دل چاہا وہ اسے یونہی بانہوں میں لیۓ لے اڑے۔۔۔
لیکن آج وقت کا تقاضا کچھ اور تھا جازب کی بے بسی اسکی آنکھوں سے چھلک رہی تھی اس نے سیڑھیاں اتر کر آرام سے نملنکو نیچے اتارا۔۔۔
نمل نے راستے میں اپنی شادی کا کارڈ اسکی گود میں رکھا تم نہيں دیکھو گے میرے ساتھ جڑنے والے ھمسفر کا نام اب وہ پھر سے اسکے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔۔۔
جواب میں جازب خاموش رہا اور گاڑی چلاتا رہا۔۔۔
نمل نے اسکی ویران آنکھوں کو ویومرر میں دیکھ کر ایک گانے کے بول شاعرانہ انداز میں بولنے لگی۔۔۔
تو پیار ھے کسی اور کا
تجھے چاھتا کوٸ اور ھے
تو پسند ھے کسی اور کی
تجھے دیکھتا کوٸ اور ھے
جازب نے اسکی آواز سن کر ایک دم بریک لگاٸ گاڑی کو تو اسکا سر گاڑی کی سیٹ کے ساتھ جا ٹکرایا کیونکہ وہ جازب کی پچھلی سیٹ پر تھی۔۔۔
تم نے سہی سلامت گھر پہنچنا ھے یا نہیں جازب کی آواز کافی اونچی تھی۔۔۔
کیوں کیا مطلب ھے تمھارا؟؟ نمل سنبھل کر بیٹھی۔۔
یہی مطلب ھے کہ زندہ رہنے کا ارادہ ھے یا نہيں اس نے اسٹیرنگ کو سختی سے مٹھی میں جکڑا۔۔
کیوں تم مجھے جان سے مارو گے وہ اپنا جھومر درست کرنے لگی۔۔۔
نہيں صرف تمھیں نہيں مارونگا بلکہ خود کو بھی مار دونگا لہجہ بلکل سفاک تھا۔۔۔
نمل ڈر گٸ کیونکہ اسکے ارادے بڑے خطرناک تھے جو اسوقت اسکے چہرے کے اک اک نقش سے ابھر رھے تھے۔۔۔
جازب نے پیچھے اسکی طرف گردن گھمائ اب اگر کچھ بھی بولی تم تو میں نے گاڑی سیدھا اس برج سے نیچے پھینک دینی ھے۔۔۔
نمل خاموش ہی رہی گھر جانے تک کیونکہ وہ اپنی محبت ہار بیٹھا تھا اور محبت میں ہارا شخص اپنی زندگی بھی ہار بیٹھتا ھے نمل اس سے کچھ خائف سی ھو گئ کہ کچھ بھی کر گزرتا وہ اسوقت جانتی تھی وہ۔۔۔
گاڑی گھر کے اندر روکی جازب نے
سبھی لڑکیوں نے نمل کو گھیر لیا اور اندر لے گٸیں۔۔۔
جازب نے گود میں پڑے کارڈ کو دیکھا پھر کپکپاتے ہاتھوں سے اسے کھولا نمل کیساتھ جڑا نام دیکھ کر اسکے آنسو ٹپک کر نمل کے نام پر گرنے لگے۔۔۔
نمل کا نکاح ھو چکا تھا۔۔۔
وہ پھولوں سے سجی سیج میں بیٹھی شہزای لگ رہی تھی پھول اسکی گلابی رنگت کے آگے پھیکے لگ رھے تھے۔۔۔۔
وہ بیٹھ بیٹھ کر تھکی تو تکیۓ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔
کچھ دیر بعد کمرے میں قدموں کی آواز سن کر سیدھی ھو کر بیٹھی۔۔۔
اندر آنیوالا جازب تھا اسکی بھاری آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸ تم سب نے ملکر مجھے دھوکے میں رکھا امی نے تمھارے بابا نے تم نے۔۔۔
پھر وہ اسکے قریب بیٹھا میرے جذبات کیساتھ میری محبت کے ساتھ اتنا بڑا کھیل کھیلا تم سب نے اگر عین نکاح سے پہلے میں چلاجاتا یہاں سے تو کیا کرتے تم سب؟؟
ایک بار پھر رسوا ھوتی تم لیکن اس بار اپنی غلطی سے ھوتی۔۔۔اسکا لہجہ اور سنجیدگی کرب میں ڈوبا ھوا تھا۔۔۔
نمل پلکیں جھپکاۓ بلکل سیریئس ھوتے جازب کو دیکھنے لگی۔۔
اسطرح کا مذاق کرتے ھیں کسی کے ساتھ کہ کوٸ جان کی بازی ہی ہار جاۓ بہت غلط کیا تم سب نے اتنا بڑا ڈرامہ رچایا میرے ساتھ۔۔۔
نمل تم کیا سمجھتی ھو کہ میں خوشی سے پاگل ھو جاٶنگا تم سے اچانک اپنا نکاح ھونے پر؟؟ اب نگاھیں اسکے چہرے پر جمی ہوئی تھیں جن میں کوئ خوشی کوئ رمق نا تھی۔۔۔
نہيں نمل بی بی اس نے نفی میں سر ہلایا میں تمھیں اپنے تصورات سے اتار چکا ھوں تمھیں کسی اور کیلیۓ میرے دل و دماغ نے قبول کر لیا تھا اب اتنی جلدی اپنی ذات کیلیۓ تمھیں قبول کرنا میرے بس کی بات نہيں۔۔۔
جازب نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جہاں حیرت دم سادھے کھڑی تھی تم میرے صبر کا پیمانہ لبریز ھوتا دیکھنا چاہتی تھی نا نمل میرے صبر کا پیمانہ لبریز تو نہيں ھوا لیکن میرا صبر میرے ارمان منجمد ضرور ھو چکے ھیں اب جازب کا لہجہ برف کیطرح سرد تھا۔۔۔
جازب کی باتیں سن کر نمل کی دھڑکن کم ھونے لگی۔۔۔
وہ اٹھا تو وہ بھی کھڑی ھوٸ۔۔
نمل محبت میں کسی کو اتنا نہيں آزمانا چاھیۓ کہ وہ تمھاری آزماٸش پر پورا اترنے کے بجاۓ تمھیں دل سے ہی اتار دے۔۔۔
جازب کی اس بات پر نمل کا سر چکرانے لگا کیا سوچا تھا اس نے اور کیا ھوگیا تھا وہ سمجھی تھی جازب اسے پا کر خوشی سے پاگل ھو جاۓ گا لیکن یہ کیا پاگل تو اب وہ اسے کر رہا تھا۔۔۔
وہ چکرا کر سر ہاتھوں میں لیۓ بیڈ پر بیٹھی اسکے آنسوٶں کا پھندا اسکے گلے میں پھنس کر رہ گیا۔۔۔
وہ رندھائ ھوٸ آواز میں بولی جازب آٸ ایم سوری۔۔۔
جازب پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا۔۔۔
اس نے بے اختیار روتے ھوۓ جازب کے کندھے پر سر رکھا۔۔۔
یہ سب ڈرامہ کرنے کی جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی جازب نے بازو سے پکڑ کر اسے سیدھا کیا۔۔
مجھے اتنی اذیت دے کر تمھیں کیا ملاسکون؟؟ یا اس غلطی کا بدلہ لینا چاھتی تھی تم مجھے اذیت دیکر؟؟
نمل نے ناں میں سر ہلایا میں نے منع کیا تھا امی بابا کو کہ تمھیں کوئ کچھ نا بتاۓ کیونکہ اتنی آسانی سے میسر آنیوالی محبت اپنی قدر جلد کھو بیٹھتی ھے۔۔۔
تم نے کبھی اپنی محبت کا اقرار نہيں کیا مجھ سے ایک بار شاہ جی سے دوسری بار اریج کے منہ سے سنا۔۔۔ وہ اپنی حنائ ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا کر سر جھکاۓ رو رہی تھی اور جازب کا دل اسکے آنسو دیکھ کر موم کیطرح پگھل رہا تھا۔۔۔۔
میں چاہتی تھی تم ٹوٹ کر مجھ سے خود اپنی محبت کا اقرار کرو لیکن ایسا نہيں کیا تم نے بس خاموشی اختیار کر لی میں اس بات پر حیرت زدہ تھی کہ مجھے اتنی آسانی سے کسی اور کا ھونے دیا تم نے؟؟
نا کوٸ ضد کی نا کوٸ زبردستی کی نا کوٸ شور نا ھنگامہ نا اپنے حق میں کچھ کہا بس صبر کر لیا تم نے۔۔۔۔ اب وہ اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگی بس اتنی سی محبت تھی تمھیں مجھ سے۔۔۔
کہ میرے انکار سے اپنے اقرار تک نا پہنچ سکے اتنا حوصلہ تھا تمھاری محبت میں کہ مجھے کسی اور کا ھوتا دیکھتے رہتے۔۔
کیسی محبت ھے جازب تمھاری جس میں چاھت ھے لیکن چاھے جانے کا احساس نہيں یہ محبت نہیں تمھاری انا ھے تمھارے اندر اس انا کے بت کو توڑنا تھا مجھے تمھارے اندر وہ درد وہ احساس جگانے کی خاطر میں نے یہ سب کیا۔۔۔
لیکن یہ کیا کہ تم نے مجھے دل سے ہی اتار دیا جازب محبت کے رنگ اتنے کچے نہيں ھوتے یہ محبت ایک بار جسے اپنے رنگ میں رنگ لے پھر کسی اور رنگ میں رنگنے نہيں دیتی۔۔۔
جازب ایک ٹک سانس روکے اسے دیکھتا رہا پھر کھڑا ھوا۔۔۔
جازب محبت اقرار مانگتی ھے اپنے چاھے جانے کا خراج مانگتی ھے لیکن تم نے تو محبت کے اقرار سے پہلے ہی انکار کر دیا کہ تمھارے لیۓ مجھے قبول کرنا مشکل ھے۔۔۔
تو کیا جو میرے ساتھ ھوا تمھیں قبول کرنا میرے لیۓ آسان تھا؟؟
وہ اسکے روبرو کھڑی ھوٸ۔۔۔
جازب اب اسکا اور امتحان نہیں لے سکتا تھا اتنی سزا کافی تھی۔۔۔
اسکے بہتے آنسو جازب نے اپنی مٹھی میں لیۓ میری اتنی سی بات بری لگ گٸ تمھیں کیا تمہی جھوٹ بول کر مجھے تڑپا سکتی ھو میں ایک جھوٹ بول کر نہيں تڑپا سکتا۔۔۔
نمل نے چونک کر سر اٹھایا تم نے تو ھمیشہ تڑپایا ھی ھے جازب مجھے وہ گلہ کرنے لگی۔۔۔
جازب نے اب اسکے آنسو اپنی انگلی کی پوروں میں جذب کیۓ اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔
نمل پل پل تڑپا میں بھی بہت ھوں تمھارے لیے محبت کی تڑپ کتنی اذیت ناک ھوتی ھے شاید تم نہيں جانتی دو سال اس اذیت کے انگاروں پر چلا ھوں میں جہاں میرے پاٶں ہی نہيں میرا دل بھی لہولہان ھوا ھے۔۔
تم سے ملنے سے تمھارے انکار تک تمھیں پا کر پھر سے کھو دینا میرے لیۓ سہنا کیسے ممکن تھا مرتا تو نہيں میں لیکن جینے کے قابل نہيں رہتا تمھارے بغیر جازب کے آنسو آنکھوں کا بند توڑ کر باہر بہہ نکلے۔۔۔
دل و جان سے چاھتا ھوں میں تمھیں تم سے جدا میں نہيں رہ سکتا کل مجھے اس بات کا اندازہ ھوا کہ محبت میں جداٸ بلکل موت جیسی ھوتی ھے انسان کی رگ رگ سے روح نکلتی ھوٸ محسوس ھوتی ھے۔۔۔
جازب نے بے اختیار اسے گلے سے لگایا مجھ سے خود کو کبھی دور مت کرنا نہيں رہ پاٶنگا میں تمھارے بنا۔۔
جازب کی بانہوں میں آتے ہی نمل کے سارے خدشے سارے خوف پل بھر میں جھڑ گۓ نمل کو لگا پوری کاٸنات اسکی بانہوں میں سمٹ آٸ ھے۔۔
_________________
نرگس بہت خوش تھی کہ رتابہ اور عضد پاکستان آرھے تھے لیکن وہ پریشان بھی تھی کہ عضد کا کیا رد عمل ھوگا جازب اور ایاز کو دیکھ کر۔۔
انکا جہاز لینڈ کرنے والا تھا۔۔۔
نرگس کیساتھ نمل بھی تیار ھوٸ جانے کیلیۓ لیکن نرگس نے منع کر دیا۔۔۔
کہ وہ گھر میں اسکے آنے کا انتظام کرے اچھا سا۔۔
نرگس ایٸر پورٹ پر کھڑی انکو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
عضد نے پیچھے سے آکر انکو گھیر لیا امی جان۔۔۔
نرگس نے دونوں کو گلے سے لگا کر انکا ماتھا چوما۔۔۔
راستے میں نرگس نے بڑے آرام اور سہولت سے عضد کو جازب کا اور اسکی شادی کا بتایا لیکن یہ ذکر نا کیا کہ کس کے ساتھ ھوٸ ھے۔۔۔
عضد جازب کی شادی کا سن کر کافی حیران ھوا۔۔۔
آخر تھا تو وہ اسکا بھاٸ اسکا خون کب تلک وہ اس سے منہ پھیرتا یا اسکے وجود سے انکار کرتا اور اب اسکے سدھر جانے کے بعد اسکی نفرت کا کوٸ جواز ہی نہيں بنتا تھا۔۔۔
نرگس کی ہر بات اس نے سر جھکا کر تسلیم کی گاڑی گھر کے پاس رکی۔۔۔
رتابہ اپنے بیٹے سے ملنے کیلیۓ بے قرار تھی سب سے پہلے جلدی سے وہ گھر میں داخل ھوٸ۔۔۔
عضد اور نرگس اسکے پیچھے تھے
وہ جیسے ہی لاٶنج میں داخل ھوٸ تو نمل کیساتھ جازب کو اور پھر جازب کی گود میں اپنا بیٹا دیکھ کر اسکے قدم وہیں رک گۓ۔۔۔
اس نے بھنویں اکھٹی کیے جازب کو غور سے دیکھا تو اک لمحے میں پہچان لیا تھا یہ تو وہی شخص تھا جو نمل کو اٹھا لے گیا تھا۔۔۔
لیکن نمل یہاں اسکے گھر میں جازب کیساتھ کیا کر رہی تھی۔۔۔
جاری ھے۔۔۔
