Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 37)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 37)
Bad Bakhat by Arshi Noor
وہ شاہ جی کے ہاتھ پر دوبارہ ہاتھ رکھ کر بولی…
بندیا۔۔۔
شاہ جی نے اب کی بار اسکا ہاتھ نا جھٹکا وہ ھونٹ سکیڑ کر بولا۔۔۔
اوہ اچھا تو تم نون مسلم ھو۔۔۔
وہ اپنی بلوری آنکھوں سے شاہ جی گھور کر بولی صاحب جی۔۔۔
عورت کیلیۓ عورت ھونا ہی کافی ھے انسان کی خواہشات کا اور مرد کی ھوس کا کوئی دین مذہب نہیں ھوتا اور نا اسکی خواہش کے آگے عورت کی عمر معنی رکھتی ھے ۔۔۔
اسکے لبوں لہجے نفرت اور حالات کی بے بسی شاہ جی محسوس کیے بنا نا رہ سکا
صاحب جی مرد جب اپنی چاہت پر آجاۓ پھر کافر مسلمان یا حرام حلال نہیں دیکھتا اسکی نگاھیں اب شیشے کے اس پار رات کے اندھیرے میں گم تھیں۔۔۔۔
شاہ جی مسکرایا مرد اب اتنے بھی برے نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ ترچھی نگاہوں سے اک نظر شاہ جی کو دیکھ کر بولی اچھی تو میں بھی نہیں پھر اس نے پرس میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا جمنا باٸ کو کال کر کے کہا کہ وہ صبح آۓ گی صبح تک کا سن کر جمنا بائ کی بانچھیں کھل گئیں دیکھ بندیا حساب میں کمی بیشی نہیں ھونی چاہیے اور اپنا بھی خیال رکھنا پیسے نقد وصول کرنا اپنی خدمت کے مطابق۔۔۔۔۔
فون کاٹتے ھوۓ اس نے شاہ جی سے رخ موڑے کھڑکی سے باہر جھانکا آنسو کا اک ننھا سا قطرہ اسکی آنکھ میں چمکا جسے وہ بڑی خوبصورتی سے انگلی کی پوروں میں جذب کر گئ لیکن جب ہاتھ اس نے شاہ جی کے ہاتھ پر دوبارہ رکھا تو آنسو کی نمی شاہ جی کو اپنے ہاتھ پر محسوس ھوئ جس پر وہ بمشکل ضبط کرتے ھوۓ گہری سانس اندر کھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔۔
چند منٹوں بعد شاہ جی کی گاڑی ایک بنگلے کے اندر جا کر رکی بندیا نے شاہ جی کیساتھ اندر داخل ھوئ بنگلہ بے انتہا نفیس اور خوبصورت سامان سے آراستہ تھا جو شاہ جی کے عمدہ ذوق کی عکاسی کر رہا تھا۔۔۔۔۔
شاہ جی اسے ایک کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تم بیٹھو میں آتا ھوں ابھی۔۔۔
وہ کمرے کو دیکھ کر دنک رہ گئ کمرہ بے انتہا خوبصورت تھا وہاں پر موجود ایک ایک چیز اٹھا کر وہ دیکھنے لگی جو لگ رہا تھا بہت قیمتی تھیں اسے وہ خوابوں خیالوں کی دنیا لگی۔۔۔۔
شاہ جی کچھ دیر بعد اندر آیا تو شاہ جی کے دو قدم پاس آنے پر پل بھر اسکا وجود لرز سا گیا اسکے چہرے کے اڑتے رنگ دیکھ کر شاہ جی نے اپنے قدم پیچھے ہٹاۓ پھر نرم گو لہجے میں پوچھا کھانا کھاؤگی۔۔۔
نہیں۔۔۔
کیوں؟؟؟
میں کھانا کھا کر نکلتی ھوں گھر سے خالی پیٹ کسی کی خدمت میں پیش ھونا مشکل ھو جاتا ھے نا۔۔۔
اچھا تمھارے ساتھ اور بھی کوئی ھے؟؟؟
ہاں دو تین لڑکیاں اور ھیں لیکن تم کیوں پوچھ رھے ھو کوئ اور گاہک ھیں کیا؟؟؟
نہیں ویسے ہی پوچھ رہا تھا میں۔۔۔
شاہ جی نے دراز سے چیک بک نکالی اور بلینک چیک بندیا کے آگے رکھا رقم لکھو اس پر وہ چیک بک ہاتھ میں لیتے ھوۓ بولی ابھی تمھارا کام نہیں ھوا کام ھو جانے کے بعد لکھوں گی۔۔۔۔۔
کام ھو جاۓ گا تم پہلے رقم لکھو۔۔۔۔
بندیا کچھ سوچنے لگی پھر بولی بارہ گھنٹوں کے حساب سے تو چھ لاکھ بنتے ھیں چلو تم چار لاکھ دے دو۔۔۔۔
اس نے چار لاکھ کی اماؤنٹ لکھی شاہ جی نے اسکا چیک دیکھا پھر اسکی طرف دیکھ کر اسکا چیک پھاڑ دیا۔۔۔۔
شاہ جی رد عمل پر وہ تھوڑا گھبرائ۔۔۔۔
شاہ جی نے دوسرا چیک نکالا میں نے کہا تھا دگنا دونگا تمھیں۔۔۔
چھ کے حساب سے پھر بارہ لاکھ بنتے ھیں شاہ جی نے بارہ لاکھ کا چیک سائن کر کے اسکے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی شاہ جی کو دیکھتی اور کبھی بارہ لاکھ کے چیک کو۔۔۔
شاہ جی ابرو اٹھا کر بولا کم ھیں کیا؟؟
نہیں بہت زیادہ ھیں بہت زیادہ اتنا تو میں مہینوں نہیں کما سکتی جتنا تم نے ایک بار میں دے دیا۔۔۔
اسکے کانوں میں جمنا بائی کی آواز گونجی نقد رقم وصول کرنا پھر اس نے سر جھٹکا اسے اعتبار سا ھونے لگا تھا شاہ جی پر کہ وہ جتنا بھی غلط ھو لیکن دھوکے باز نہیں ھو سکتا۔۔۔۔
اب تک وہ چیک کو ہی دیکھ رہی تھی شاہ جی اسکی خاموشی بھانپ کر بولا میرے ساتھ ہی صبح بینک چلی جانا چیک کیش کروا دونگا۔۔۔۔۔
وہ خجل سی ھو کر سر کھجانے لگی ایسی بات نہیں تمھیں دیکھ کر اتنا بھروسہ تو کر ہی سکتی ھوں تمھارا کہ چیک باؤنس نہیں ھوگا۔۔۔۔
شاہ جی اسکے سامنے کاؤچ پر بیٹھا کب سے ھو اس فیلڈ میں۔۔۔۔۔
بندیا کا سر جھک گیا جب سے اپنے رشتوں نے دھوکا دیا ھے۔۔۔۔۔
شاہ جی چیئر اسکے قریب کھسکا کر بیٹھا کونسے اپنے رشتوں نے۔۔۔۔
باپ اور شوہر وہ اپنی انگلیوں کو چٹخانے لگی۔۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے سگریٹ سلگایا کیوں باپ نے کیا کیا؟؟؟
اس نے ایک لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنے کی خاطر مجھے ایک وحشی درندے کے حوالے کر دیا۔۔۔۔۔
شاہ جی نے اگلا سوال پوچھا اور شوہر نے کیا کیا؟؟؟؟
شوہر نے میرے باپ سے بدلہ لینے کی خاطر اسی لڑکی کے پیچھے جو میرے باپ کی تحویل میں ھے نا صرف مجھے بیچا بلکہ میری دودھ پیتی معصوم سی بچی کو شراب پلا کر مار دیا جو چند ماہ کی تھی اب اسکی آنکھوں میں نیر تیرنے لگے۔۔۔۔
کہاں ھیں وہ دونوں اب؟؟؟
نہیں معلوم مجھے۔۔۔۔۔
شاہ جی سگریٹ کا دھواں ھوا میں اڑا کر بولا تم کبھی پلٹ کر اپنے گھر نہیں گئ۔۔۔
نہیں جا سکتی۔۔۔
کیوں؟؟؟
جب تک اپنے باپ اور شوہر کی معشوقہ سے اپنا بدلہ نہیں لے لیتی تب تک نا گھر پلٹ سکتی ھوں اور نا موت کی آغوش میں سو سکتی ھوں۔۔۔
شاہ جی کو اسکی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑکتی ہوئی نظر آئ جو آہستہ آہستہ اسکے لہجے میں بھی اتر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ابھی کس کے ساتھ رہ رہی ھو؟؟؟؟
جمنا بائی کیساتھ۔۔۔۔۔
ھممممم صحیح۔۔۔۔
شاہ جی اٹھ کر باہر گیا اور پھر پلٹ کر واپس نا آیا۔۔۔۔۔۔
کافی دیر بندیا اسکی راہ تکتی رہی پھر کمرے سے باہر آئ تو وہ کسی سے فون پر باتیں کر رہا تھا اسے دیکھ کر فون کاٹا۔۔۔۔
باہر کیوں آئ ھو؟؟؟
کیونکہ تم اندر نہیں آۓ۔۔۔۔
آتا ھوں تم جاؤ۔۔۔۔۔
لیکن صاحب جی میں سو گئ تو؟؟
اٹھا لونگا۔۔۔۔۔۔۔
اچھا وہ جمائ لیتی اندر واپس گئ تو بیڈ پر لیٹ کر شاہ جی کا انتظار کرتے کرتے سو گئ اسکی آنکھ جب کھلی تو صبح کے آٹھ بج رھے تھے۔۔۔۔
اس نے اپنے آس پاس دیکھا شاہ جی نہیں تھا اور وہ اکیلی تھی بلکل اس نے اٹھ کر اپنا آپ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر لگے شیشے میں دیکھا بلکل صحیح سلامت تھی وہ۔۔۔۔
نا کاجل پھیلا ھوا تھا نا ھونٹوں کی لپ اسٹک اتری تھی نا آنکھوں کے پپوٹے سوجھے تھے بال بھی بلکل سلیقے سے رات جیسے ہی لپیٹے ھوۓ تھے نا بستر پر کوئ سلوٹ تھی سوا اس جگہ کے جہاں وہ خود لیٹی تھی پل بھر اسے سب کچھ خواب سا لگا۔۔۔۔
وہ بے یقینی کے سمندر میں غوطہ زن ھوتی جلدی سے باہر آئ کوئ بھی نا تھا۔۔۔۔
اس نے ہر کمرے کا دروازہ کھول کر جھانکا۔۔۔۔
گھر بلکل خالی تھا اسکی نظریں شاہ جی کو ڈھونڈنے لگیں۔۔۔۔
وہ کچن سے چاۓ کی ٹرے ہاتھ میں لیے بر آمد ھوا اٹھ گئ تم۔۔۔۔۔۔
کہاں تھے تم؟؟؟وہ حیرت اور پریشانی سے پوچھنے لگی۔۔۔
یہیں تھا شاہ جی ہلکے سے مسکرایا۔۔۔
لیکن رات کو تم آئے نہیں میرے پاس نا مجھے جگایا۔۔۔۔۔
چھوڑو اس بات کو رات گئ بات گئ چاۓ پی لو تمھارا ٹائم پورا ھونے والا ھے۔۔۔
وہ اک ٹک شاہ جی کو دیکھتی رہی پھر کچھ لمحوں بعد بولی اس بارہ لاکھ کے چیک کو میں کیا سمجھوں تمھارا ترس یا تمھاری خیرات۔۔۔
شاہ جی نے مسکرا کر ڈش ٹیبل پر رکھی پھر اسکی طرف پلٹا نا میں نے تم پر ترس کھایا ھے نا تمھیں خیرات دی ھے بلکہ جو زبان دی تھی وہ پوری کی ھے۔۔۔۔
لیکن تمھارا کام؟؟؟؟
میں نے تم سے تمھارا وقت مانگا تھا نا کہ تم یا تمھارا تن اب اسوقت کو میں جیسے چاھتا استعمال کر سکتا تھا لیکن تمھیں استعمال کرنے کی بات میں نے کہیں نہیں کی۔۔۔۔
بندیا کے تو ھوش ہی اڑ گئے پل بھر اسکا سر چکرا کر رہ گیا کہ یہ کیسا شخص تھا یا پھر یہ مرد تھا بھی یا نہیں۔۔۔۔
شاہ جی چاۓ کے سپ لیکر بولا پی لو اتنی بری نہیں بناتا میں۔۔۔۔
بندیا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گۓ۔۔۔۔۔
اررررےےےےےے کیا ھوا رو کیوں رھی ھو؟؟؟
شاہ جی کے پوچھنے پر وہ اور بھی زیادہ رونے لگی۔۔۔۔۔
سنا تھا تمھارے خدا کے فرشتے انسان کے ساتھ ساتھ ھوتے ھیں آج اپنے ساتھ بھی دیکھ لیا۔۔۔
میں فرشتہ نہیں گنہگار سا عام سا انسان ھوں شاہ جی نے چاۓ کا کپ اسکے آگے کھسکا کر کہا۔۔۔۔
نہیں تم انسان نہیں میرے لیۓ بھگوان ھو۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ھےتم رونا تو بند کرو شاہ جی نے پانی کا گلاس اسکے سامنے رکھا لو پانی پی لو پہلے۔۔۔۔۔
بندیا اپنی ہی سوچ میں مگن بولنے لگی دنیا کہ اب تک ہزار مرد دیکھے ھیں ہر روپ میں، میں نے مرد کو شیطان پایا ھے جو اپنی ھوس میں لمحہ بھر کیلیۓ بھی ھمیں انسان نہیں سمجھتا وہ بس ھمارے جسم کو نوچتا ھوا اپنی ایک ایک پائی وصول کرتا ھے۔۔۔۔۔
شاہ جی اسے خاموشی سے سننے لگا۔۔۔۔
جانتے ھو ھمارے سامنے ان مردوں کی شرافت بھی برھنہ ھوتی ھے جو شرافت کا چولہ پہنے معاشرے میں بڑے مہذب کہلاتے ھیں اور لوگوں کو شرم و حیا کا درس دے رھے ھوتے ھیں ایسے مرد ھمارے سامنے لباس میں بھی بے لباس ہی ھوتے ھیں کیوں کہ انکا اصل چہرہ ھم نے دیکھ رکھا ھوتا ھے۔۔۔
شاہ جی کپ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنے ہاتھ گرم کرتے ھوئے بولا نگاھیں شاہ جی کی ٹیبل پر تھیں۔۔۔۔
دیکھو بندیا۔۔۔۔۔
تم اور تم جیسی ہزاروں عورتیں ھیں جو یہ کام اپنی مرضی سے نہیں کرتیں کسی نا کسی مجبوری کے تحت کرتی ھیں۔۔۔
کچھ محبت میں اندھی ھو کر یہاں آتی ھیں اور کچھ تم جیسے حالات کا سامنا کرتی ھوئ۔۔۔۔۔
ایک لمحہ کو شاہ جی رکا بندیا کی نظریں شاہ جی کی جھکی ھوئ نگاھوں پر تھیں جو اسوقت پلکیں جھکائیں ٹیبل پر نظرے جماۓ ھوۓ تھا۔۔۔۔
لیکن تم کو وحشیا ، فاحشہ ، کال گرل پیشہ ور جسم فروش اور ایسے کئی نام ھیں جو ھم جیسے مردوں نے ہی دییۓ ھیں۔۔۔۔
ایک نظر شاہ جی سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر نگاھیں جھکا لیں۔۔۔۔
یہ دھندا یہ کوٹھے یہ سب ھم جیسے شرافت کا لبادہ اوڑھے مردوں کا کاروبار ھے جہاں تم جیسی لڑکیاں ملازمت کرتی ھیں اور ان مردوں کے دل بہلاتی ھیں جو سماج کیلئے ناسور ھیں۔۔۔۔۔
شاہ جی کی بات پر بندیا کے آنسو ایک بار پھر تیزی بہنے لگے۔۔۔
جانتی ھو تم جیسی عورتیں ہی مردوں کی اصل قیمت جانتی ھیں کہ اس جسم کے بازار میں وہ کتنے روپوں میں بکتے ہیں
ورنہ ھمارے گھر کی عورتوں کیلیۓ تو ھم انمول اور معصوم فرشتے ھیں اور ھماری خدمت میں دن رات ایک کر کے وہ اپنے لیے ھمیں جنت کا راستہ سمجھتی ھیں۔۔۔
پھر اک نظر ٹیبل سے ہٹا کر شاہ جی نے روتی ھوئ بندیا کو دیکھا پھر آگے بولنے لگا لیکن ھمارے من اور تن کی جہنم تم جیسی عورتیں ہی سہار سکتی ھیں۔۔۔۔۔
جانتی ھو تمھارے یہاں آکر مرد تمھیں خریدتا نہیں بلکہ اپنے آپ کو بیچتا ھے اپنی نام نہاد مردانگی کا سودا کرتا ھے وہ کہ کس حد تک اور کتنے میں خود کو بیچ سکتا ھے۔۔۔۔
شاہ جی کا اک اک لفظ اسکے اسکی روح میں تحلیل ھو رہا تھا۔۔۔۔
اس لحاظ سے دیکھو تو پھر تم جسم فروش نہیں ھو تم ھم جیسے مردوں کی خریدار ھو اور ھم ھوس فروش۔۔۔۔۔
بندیا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ اپنے اس جسم فروشی کے بازار میں اس پر آج اتنی بڑی حقیقت آشکار ھوئ تھی کہ وہ تو واقعی میں ملازمہ تھیں ھوس فروش مردوں کی وہ نہیں بیچتی تھیں خود کو بلکہ مرد اپنے آپ کو بیچنے آتے تھے انکے پاس۔۔۔۔۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ چاۓ کے دو سپ لیکر شاہ جی گھمبیر آواز نے اسے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
مرد تم سے غلط کام کر کے ہی تمھیں تمھاری اجرت دیتے ھیں یہی کام ھم چاھیں تو حلال طریقے سے تمھاری مدد کر کے بھی کر سکتے ھیں لیکن ایسا کیوں کریں گے ھم اللہ کو راضی رکھنا مشکل ھے ھمارے لیے بس اپنے نفس کے غلام ھیں جسکی پیروی کرتے ھوۓ ھم خالق حقیقی کو بھی نظر انداز کرتے ھوۓ اپنی ھوس کی آگ کو بجھانے میں جہنم کا ایندھن بنتے رہتے ھیں۔۔۔۔
بندیا اسے اڑے اڑے حواس سے دیکھنے لگی کیسا بیوپاری ھے یہ
جس نے بندیا کا جسم نہیں اسکا مان سمان خرید لیا کیا ایسے مرد بھی ھیں دنیا میں؟؟جو اپنے نام کا اصل مطلب (محافظ) اپنے کردار میں لیۓ اس دھرتی پر موجود ھیں۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا وہ ایسے گم ھو گئ تھی شاہ جی میں جیسے اسے کوئ سانپ سونگھ گیا ھو ۔۔۔۔
ھیلو بندیا شاہ جی نے اسے دوبارہ پکارا تو وہ ھوش کی دنیا میں واپس آئ ۔۔۔۔
چلو نو بجنے والے ھیں ناشتہ کر لو پھر چلتے ہیں۔۔۔۔۔
اسکے آنسو پھر سے بہنے لگے وہ اپنے داغدار آنچل سے آنسو پونچھنے لگی جو آج تک اسکی آنکھوں سے کسی غیر مرد کیلیۓ نا بہہ سکے تھے۔۔۔
شاہ جی کو اس وقت اسکی بے بسی پر بہت شرمندگی ھو رہی تھی کہ آخر کو وہ بھی تو مرد ہی تھا۔۔۔۔
ناشتہ کر کے پھر شاہ جی کیساتھ وہ گاڑی میں بیٹھی دونوں نے پورا سفر خاموشی میں کاٹا۔۔۔۔۔
وہ سیدھا اسکے گھر کے سامنے جاکر رکا بندیا نے حیرت سے اسے دیکھا کہ وہ یہاں تک آیا کیسے اس نے تو اپنا اتہ پتہ نہیں بتایا تھا۔۔۔۔
اسکے حیرت سے دیکھنے پر شاہ جی ہلکا سا مسکرایا پھر اسے اپنا موبائل نمبر دیا۔۔۔۔۔
سنو یہ نمبر رکھ لو جب بھی ضرورت پڑی ایک کال کر لینا۔۔۔
پتھر کا بت بنی بندیا نے اسکے ہاتھ سے نمبر لیا۔۔۔۔
میری اک بات مانو گی شاہ جی کی نظریں اسوقت بھی سامنے روڈ تھیں۔۔۔
اس نے روبوٹ کیطرح ہاں میں سر ہلایا جی حکم کریں۔۔۔
شاہ جی گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکا کر کہنے لگا حکم نہیں بس اک گزارش ھے تم سے تمھیں جب بھی کچھ ضرورت ھو اک دوست ھونے کی حیثیت سے یاد کر لینا لیکن پلیز کسی مرد کے حوالے اب خود کو مت کرنا۔۔۔۔۔۔
بندیا کی تو زبان ہی بند ھو گئ دنک ھوتے اعصاب کیساتھ وہ اسے تکے گئ۔۔۔۔۔
شاہ جی نے کچھ دیر بعد اسکے گھورنے پر اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائ ھیلوووو کہاں کھو گئ نہیں قبول میری گزارش ؟؟؟؟
بندیا نے چونک کر شاہ جی کو دیکھا پھر اب کی بار جو آنسو نکلے اسکی آنکھوں سے اسمیں اسکے من کی ساری گندگی بہہ نکلی۔۔۔۔
صاحب جی جو گزارش تم نے کی ھے آج مجھ سے یہ تو آج تک میں اپنے آپ سے اپنے بھگوان سے نہیں کر سکی۔۔۔۔
تم نے مجھے عزت کے جس مرتبے پر بٹھایا ھے اس پر سے تو میں لاش بن کر بھی نا اترنا چاھوں اب پھر روتے روتے یک دم سے اس نے شاہ جی کو چھوا؟؟؟
کیا ھوا ؟؟؟؟ ایسے کیوں چھو رہی ھو۔۔۔۔
دیکھ رہی ھوں چھو کر کہ واقعی انسان ھو یا انسان کے روپ میں بگھوان۔۔۔
انسان ہی ھوں میں بھگوان نہیں ھو سکتا تمھارا شاہ جی نے اسٹرینگ پر انگلیاں بجاتے ھوۓ کہا۔۔
بندیا نے اپنی ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے نام کیا ھے تمھارا؟؟ بندیا نے بڑے پیار سے پوچھا۔۔۔
کیوں کیا کروگی نام کا؟؟؟ وہ گاڑی سے باہر جھانکنے لگا۔۔۔۔
پوجا کرونگی تمھاری۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔
شاہ جی کہتے ھیں لوگ مجھے۔۔۔۔۔
بندیا پر اعتماد ھو کر اسکی گاڑی سے اتری اور بیل بھائ جمنا بائی دوڑی چلی گیٹ پر بندیا روئ روئ آنکھوں سے لیکن بہت فخر کیساتھ گھر میں داخل ھوئ۔۔۔
جمنا بائی اسکے پیچھے لپکی کیا ھوا تجھے اتنی اکڑ کر کیوں چل رہی ھے کون ھے کس کیساتھ واپس آئ ھے ۔۔۔۔
اس نے مسکرا کر جمنا بائی کو دیکھا اپنے مان سمان عزت کیساتھ آئ ھوں واپس۔۔۔۔
کیا مطلب ھے تیرے کہنے کا جمنا بائی نے اسے بازو سے پکڑا۔۔۔۔
آج پہلی بار کسی نے اک بے عزت بے آبرو وحشیا کو عزت کی چادر میں لپیٹ کر تیری طرف لٹایا ھے۔۔۔۔
اسکے آنسو پھر سے بہنے لگے ۔۔۔۔
جمنا بائی اپنا ماتھا پیٹ کر بولی او میڈم کہیں کسی ملا یا مفتی کے ہتھے تو نہیں چڑھ گئ ان کی باتوں میں آ کر بھوکا مرنے کا ارادہ ھے کیا؟؟؟؟ وہ تو صرف مسجدوں میں اعلان کر کے جنت اور جہنم کا درس دیتے پھرتے ھیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس پیٹ سے بڑی کوئ جہنم نہیں۔۔۔۔۔
بندیا نے پرس سے بارہ لاکھ کا چیک نکال کر جمنا بائی کے ہاتھ پر رکھا جسے دیکھ کر جمنا کو تو غش سا آگیا۔۔۔۔
اس نے چکر کھا کر صوفے پر گرتی جمنا بائی کیطرف دیکھ کر کہا کسی ملا یا مفتی سے مل کر نہیں آئ میں۔۔۔۔۔
تو پھر کس سے ملاقات ھوئ ھے تیری جمنا بائی کا تجسس بڑھنے لگا تھا پر چیک سے اسکی نگاھیں ہٹ نہیں رہی تھیں۔۔
بھگوان سے ھوئ ملاقات جس نے اس ذلت کو عزت کے ترازو میں تولا ھے۔۔۔۔
جمنا بائی اسکے جواب پر اسکا منہ تکتا رہ گئ جسکے چہرے پر اسوقت دھنک کے سارے رنگ دمک رھے تھے اور اسکی آنکھوں میں آنسو ستاروں کیطرح ٹمٹما رھے تھے۔۔۔۔
_________________
عضد کو جب سے رتابہ سے محبت ھوئ تھی اسکا رتابہ سے دور رہنا ناممکن ھوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ عضد کے بدلتے رویۓ پر حیران تھی کہ کسطرح عضد پتھر سے موم بنا تھا اسکی دعائیں رب نے سن لیں تھی۔۔۔۔۔۔
پہلے وہ دعا میں ہر وقت صرف عضد کے دل میں رحم ڈالنے کی دعائیں کرتی تھی اور اب وہ اپنے لیے بھی دعا مانگنے لگی تھی۔۔۔
لیکن اسکے دل میں اب بھی اک کسک اک ڈر موجود تھا کہ ناجانے کب اور کس بات پر عضد پھر سے نا بدل جاۓ کہ اسکی کایا پلٹنے میں ذرا دیر نہيں لگتی تھی۔۔۔۔
نمل اور نرگس کے جاتے ہی دوسرے دن مایا بھی واپس آ چکی تھی وہ پہلے تو رتابہ سے بات تک نا کرتی تھی۔۔۔۔
لیکن اسکی محبت عضد کی آنکھوں میں دیکھ کر اسکے من کی نفرت اب زباں تک آ گئ تھی۔۔۔۔۔
اسے جب موقع ملتا وہ بات بات پر رتابہ کو ٹوکتی اور باتیں سناتی تھی لیکن یہ سب وہ عضد کی غیر موجودگی میں کرتی تھی۔۔۔۔
رتابہ خاموشی سے برداشت کر لیتی تھی کیونکہ یہ سب سہنے کی عادت اسے بچپن سے تھی۔۔۔
اور وہ یہ بات بھی اچھے سے جانتی تھی کہ مایا اس طرح لڑائ کر کے گھر کا ماحول خراب کرنا چاہتی ھے۔۔۔۔۔
اسلیے رتابہ اسے خاموشی سے برداشت کرنے لگی اور اتنا ہی زیادہ رتابہ کی خاموشی اسکی برداشت سے باہر ھونے لگی۔۔۔۔۔۔
علی نے ایک دو بار مایا کو دیکھا تو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اب علی کی سمجھ سے باہر ھوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ عضد سے جنونی محبت کر بیٹھی تھی اسکا بس اپنے آپ پر بھی نہیں چلتا تھا وہ رتابہ اور عضد کو ایک ھوتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
اسکی حاسد محبت نے اسکی پرسنالٹی کو اسکی انسانیت کو بھی مسخ کر رکھ دیا تھا وہ مسلسل رتابہ کی کسی خطا کی منتظر تھی جسکے بلبوتے پر وہ عضد سے اسکو جدا کرنا چاھتی تھی۔۔۔۔
اس جنون میں وہ یہ بھی بھول گئ کہ عضد سے رتابہ کو جدا کرکے ھو سکتا ھے عضد اسکے قابل بھی نارہتا۔۔۔۔۔۔
اسکا چڑچڑا پن دن بدن بڑھتا جا رہا تھا جسے علی اور عضد بھی محسوس کر رھے تھے۔۔۔۔
__________________
رات کا کھانا وہ سب ساتھ ہی کھا رھے تھے لیکن رتابہ نا آئ۔۔۔
عضد کھانا چھوڑ کر اسکے پیچھے گیا وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ھوئ تھی۔۔۔
کیا ھوا کھانا کھانے نیچے کیوں نہیں آئ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھی اور اپنے لمبے سیاہ بال لپیٹنے لگی مجھے بھوک نہیں۔۔۔
کیوں؟؟؟
بس ویسے ہی دل متلی کر رہا ھے۔۔۔۔
اوہ اچھا لیکن کچھ تو کھا لو؟؟؟
ابھی نہیں بھوک لگی تو کھا لونگی۔۔۔۔
عضد واپس نیچے آیا لیکن اس نے کھانا نہیں کھایا۔۔۔
رات کو خالی پیٹ رتابہ کو نیند نہیں آرہی تھی کبھی دائیں کبھی بائیں وہ کروٹیں بدلتی رہی۔۔۔
عضد اسے دیکھ رہا تھا وہ ہاتھ سے پکڑ کر اسے نیچے لایا اور کھانے کی ٹیبل پر بٹھایا پھر وہ فرج کھولے کھڑا تھا۔۔۔۔
رتابہ اٹھ کر پاس آئ آپ جائیں میں کھا لونگی کھانا۔۔۔۔
نہیں میرے سامنے کھاؤگی تب جاؤنگا رتابہ نے کھانا نکال کر گرم کیا اور ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔
عضد میز پر کہنیاں ٹکاۓ بڑے پیار سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسکے مسلسل اسطرح دیکھنے پر رتابہ جھینپ سی گئی لیکن عضد اسکے کھانا کھانے تک یونہی اسے نظروں میں لیۓ بیٹھا رہا۔۔۔۔۔
رتابہ سے کھانا نا کھایا گیا وہ اٹھ کھڑی ھوئی۔۔۔
تو عضد نے اسے ہاتھ سے پکڑا یہ دو نوالے کھانے تھے تم نے بس۔۔۔۔
نہیں کھایا جا رہا مجھ سے۔۔۔۔
بیٹھو ادھر میں کھلاتا ھوں۔۔۔۔
میرا دل نہیں چاہ رہا اس نے ہاتھ چھڑایا۔۔۔
لیکن عضد بضد تھا۔۔۔
اس نے رتابہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھایا اب ہلنا مت چپ کر کے بیٹھی رھو اسکا لہجہ حکمانہ تھا۔۔۔۔
عضد نے نوالہ اپنے ہاتھ سے بنا کر اسکے منہ میں ڈالا تو اسے کھانا پڑا اب۔۔۔۔
عضد نے کچھ نوالے ہی کھلاۓ تھے کہ اس نے عضد کا ہاتھ روکا۔۔۔
اور کافی منع کیا کہ وہ خود کھا لے گی وہ بچی تو نہیں لیکن عضد نے اسے موقع نا دیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کھاتی۔۔۔۔
بس ایک اور ایک اور کہہ کر عضد نے اسے پوری روٹی کھلائ۔۔۔۔۔۔
آخری نوالہ اسکے ہاتھ میں تھا جو عضد نے زبردستی اسکے منہ میں ڈالا تو رتابہ کے دانتوں تلے اسکی انگلی آگئ۔۔۔۔
اس کے منہ سے آؤچھ کی آواز نکلی تو رتابہ ڈر گئ۔۔۔۔
عضد ہنس پڑا اس نے گھبرا کر فوراً سوری کہا۔۔۔۔۔
نا بابا نا عضد نے سر دائیں سے بائیں ہلایا سوری سے کام نہیں چلے گا۔۔۔۔۔
اس نے بغیر چباۓ نوالہ حلق سے نگلا تو پھر۔۔۔۔۔
وہ اسکی سیاہ چمکدار آنکھوں میں جھانک کر بولا اب تمھیں مجھے بھی کھلانا ھوگا اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔۔
آپ نے تو کھا لیا تھا کھانا۔۔
نہیں جناب آپکے بغیر دل ہی نہیں چاہا۔۔۔
تو کیا آپ بھی بھوکے ھیں۔۔۔۔
وہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولا بہت زیادہ۔۔۔
تو پہلے بتاتے نا۔۔۔۔
چلو ابھی بتا دیا ھے نااااااااا اب تم کھلاؤگی۔۔۔۔
اس نے جلدی سے سالن پلیٹ میں ڈالا اور عضد کو کھلانے لگی۔۔۔
اسکی انگلی اچانک عضد کے دانتوں تلے آئ تو اس نے فوراً ہاتھ واپس کھینچا۔۔۔
بدلہ لے لیا نا آپ نے۔۔۔۔
نہیں یار بدلہ لینا ھوتا تو ایسے نا لیتا۔۔۔۔
اچھااااا پھر کیسے لیتے۔۔۔
عضد اپنی feelings کا اظہار نا کر سکا لیکن اسکی بولتی آنکھوں نے رتابہ کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
کہاں بھاگ رہی ھو میرا پیٹ نہیں بھرا ابھی۔۔۔۔
وہ کچن سے باہر تیزی سے نکلتے ھوۓ پلٹ کر بولی۔۔۔
نہیں بھرنے والا آج آپکا پیٹ مجھے نیند آرہی ھے میں جا رہی ھوں۔۔۔۔۔
مجھے بھی آرہی ھے نیند میں بھی آرہا ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔
رتابہ کیلئے عضد کا یہ روپ فوری طور پر accept کرنا مشکل تھا کیونکہ وہ چار سال ھونے کو تھے اس نے عضد کے دو ہی روپ دیکھے تھے۔۔۔۔۔
ایک اس پر وقتی ترس کھاتا ھوا اور دوسرا نفرت کا اب عضد کی محبت کا روپ انوکھا تھا اسکے لیۓ۔۔۔۔
عضد بھی اسکے ساتھ کوئی زور یا زبردستی نہیں کرنا چاھتا تھا۔۔۔۔
وہ اسے چاھنے لگا تھا اور وہ یہ بھی چاھتا تھا کہ رتابہ اپنی چاھت کے اقرار کیساتھ اسکے قریب آۓ۔۔۔۔۔
اسکے لیۓ رتابہ کو کچھ وقت چاھیۓ تھا اور عضد اسے space دے رہا تھا کہ وہ خوشی سے اور محبت کیساتھ اپنے اس ازدواجی رشتے کو قبول کرے
__________________
عضد کا موڈ آج بہت اچھا تھا کافی دنوں بعد آج وہ اپنے کمرے میں بیٹھا رومینٹک مووی دیکھ رہا تھا رتابہ سارے کام نمٹا کر کمرے میں آئ۔۔۔
یہاں آؤ عضد نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی۔۔
فلم اچھی لگتی ھے تمھیں؟؟
نہیں میں نے کبھی نہیں دیکھی۔۔۔۔
دیکھا کرو یار وقت اچھا گزر جاتا ھے۔۔۔۔
کیوں ان میں ایسا کیا ھے کہ وقت اچھا گزرے۔۔۔۔
دیکھو گی تو پتہ چلے گا۔۔۔۔۔
اس نے ٹی وی اسکرین پر نظر ڈالی جہاں شاہ رخ خان اور سونالی کا رومانوی سین چل رہا تھا۔۔۔
یہ سب ھوتا ھے فلموں میں۔۔۔۔
ہاں real life میں بھی ھوتا ھے دیکھو گی زمانے کے رنگ تو سیکھو گی نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیڈ کے دوسری طرف جا کر لیٹ گئی مجھے نہیں دیکھنے ایسے رنگ۔۔۔۔
اچھا یعنی ڈائریکٹ مجھے ہی رنگنا پڑے گا تمھیں اپنے رنگوں میں۔۔۔۔
کونسے رنگوں میں اس نے عضد کیطرف دیکھا۔۔۔۔
عضد اسکو خود سے قریب پاکر اسوقت اسکی آنکھوں میں دیکھ کر خود کو زیادہ بے چین نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
ایسے رنگوں میں۔۔۔
عضد نے ریمونٹ سے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا تو رتابہ نے شرما کر کمبل منہ تک اوڑھ لیا۔۔۔۔۔
عضد نے اسوقت اسکا شرمانا دیکھا تو اسکا دل چاہا وہ اسے بانہوں میں بھر کر خوب پیار کرے لیکن وہ رتابہ کی مرضی نا دیکھ کر رک گیا اپنے جذبات اپنے من میں لیے وہ فلم کا پورا گانا ساتھ ساتھ گنگنا رہا تھا۔۔۔
دیوانہ میں تیرا دیوانہ
محبت کیا ھے اب یہ جانا
نظریں جو جھوم کے آئیں تجھے چوم کے چھانے لگا نشہ
آنکھوں نے تیری
آنکھوں سے میری جانے کیا کہا
جانے کیا کہا
اپنے ہی رنگ میں مجھ کو تو رنگ لے
یہی تو کہا
بس یہی تو کہا
رنگائ مجھ کو دوگے کیا صنم
تو رکھ لے میری لاج اور شرم
دیوانہ میں تیرا دیوانہ
عضد کی آواز رتابہ کو خواب و خیال کی دنیا میں لے گئ۔۔۔۔
سانسوں نے تیری دھڑکن سے میری جانے کیا کہا؟؟؟
جانے کیا کہا۔۔۔
اففففف کیا ادا ھے سب کو پتہ ھے پوچھتے ھو کیا۔۔۔۔پوچھتے ھو کیا
اشارہ کر رھے ھیں کیا یہ پل
تمھارے ہونٹوں پر لکھوں غزل
عضد کے اس بول پر رتابہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
دیوانہ میں تیرا دیوانہ
دیوانہ دل ھوا دیوانہ
___________________
نمل دیان کے ساتھ لیٹی ھوئ تھی باہر بیل بجی تو اسے دروازہ کھولنے جانا پڑا نرگس نماز پڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔
دروازے پر چھوٹا سا بچہ تھا اس نے مٹھائ سے بھری پلیٹ نمل کے ہاتھ میں تھمائ۔۔۔
یہ کس لیے لاۓ ھو۔۔۔۔
آنٹی ھمارے یہاں پیاری سی منی آئ ھے اسکی خوشی میں لایا ھوں۔۔۔۔
نمل کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی اس نے کچن میں بے دلی سے مٹھائ نکالی اور پلیٹیں بچے کو واپس دے کر زور سے دروازہ بند کیا
ایک بار پھر سے ماں نا بننے کا احساس اور اپنی خالی گود اسے خون کے آنسو رلانے لگی
نرگس اسکے پاس آئ۔۔۔۔
جو اداسی کی چادر اوڑھے روئ روئ آنکھوں سے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
کیا ھوا میری جان نماز نہیں پڑھی تم نے؟؟؟
نہیں امی۔۔۔۔
کیوں؟؟؟
دل نہیں چاہ رہا۔۔۔۔۔
یہ کیا بات ھوئ؟؟؟
بس امی نمل کے لہجے میں مایوسی اور ناراضگی چھلک رہی تھی وہ خالی خالی آنکھوں سے ماں کو دیکھنے لگی آپ نے پڑھ لی نماز؟؟؟؟
جی۔۔۔۔۔
امی آپ میرے لیے دعا کرتی ھیں۔۔۔
نرگس نے اسکا سوال سن کر ہلکے سے اسکے سر پر چپت لگائ۔۔۔۔۔
پگلی ماں کی دعا مکمل کہاں ھوتی ھے جب تک اسمیں اولاد کا نام نا ھو میری جان عورت جب ماں بنتی ھے نا تو پھر اپنے لیۓ کچھ نہیں مانگ پاتی اسکی ہر راحت اولاد کی خوشی میں پنہا ھوتی ھے۔۔۔۔۔
امی کہتے ھیں ماں اور رب کے بیچ کوئ پردہ نہیں ھوتا پھر جو عورت ماں نہیں بن سکتی تو کیا وہ رب کے قریب نہیں ھو سکتی؟؟
اسکی ارمانوں کی یلغار تلے نرگس کی ممتا پل بھر کیلئے گھٹ کر رہ گئی۔۔۔
نرگس اپنے جذبات سنبھالتی اسے پیار سے جواب دینے لگی میری جان رب تو ان سے بھی دور نہیں جو اسکی واحدانیت سے انکار کیے بیٹھے ھیں وہ ان کیلیے ان پتھر کے بتوں میں بھی موجود ھے جس سے وہ پر امید ھوکر مانگتے رہتے ھیں۔۔۔۔
پھر تم تو اسکے محبوب کی امتی ھو میری جان وہ تم سے دور کیسے رہ سکتا ھے؟؟
نمل ماں کو دیکھ کر بولی امی میں اللہ سے مانگ مانگ کر تھک گئ ھوں۔۔۔۔۔
میری بچی ھم اللہ سے عاجزی کیساتھ مانگتے رہنا چاھیے کیونکہ اسی کی ذات ھے نوازنے والی لیکن دعا کو اپنی ضد بنا کر نہیں بیٹھ جاتے ۔۔۔
پھر نرگس نے اس سے سوال پوچھا اللہ سے ناراض ھو کر ھم جی سکتے ھیں ؟؟؟
نمل نے نا میں سر ہلایا۔۔۔
غلط جواب ھے تمھارا ھم جی سکتے ھیں اس سے ناراض ھو کر بھی بلکہ ھم تو ھیں ہی اللہ سے ناراض ھم راضی ھوتے ہی کب ہیں؟؟؟
مگر میرا رب ھم سے راضی رہتا ھے۔۔۔۔
میری جان ھم رب کے بغیر جی سکتے ھیں اس کی عبادات کے حق سے غفلت برت سکتے ھیں۔۔۔
اپنی دعاؤں کو قبول نا ھوتا دیکھ کر اسکی راہ سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیتے ہیں لیکن وہ ھم سے ناراض ھوکر ھماری سانس نہیں کھینچتا پانی نہیں روکتا کھانا نہیں روکتا وہ دیتا ہی جاتا ھے، اور دیتا ہی رہتا ھے لیتا نہیں ھے۔۔۔۔
نمل چپ چاپ ماں کے لہجے میں گم ھونے لگی۔۔۔۔۔
وہ رب اللہ ھے محبت کا راز ھے سراپا نور ھے ھم پکاریں تو سہی اسے دل سے میری بچی جب دل کی گہرائیوں سے الفاظ دعا بن کر نکلتے ہیں نا تو میرا رب ان الفاظ کو قبولیت کی چادر اوڑھا دیتا ھے۔۔۔۔
جانتی ھو میری جان انسان کا ربط اللہ سے ھے ہی دعا کی صورت بلکل ایسے جیسے ایک ڈوری کے دو سِرے ھوتے ھیں۔۔۔
دعا ھے تو ھم ھیں اللہ ھے تو ھم ھیں وہ تو اپنا مالک ھے نا بس یہی یقین، یہی یقین ھو کہ وہ اپنا ھے جب وہ اپنا ھے تو سب اپنا ھے۔۔۔۔
تم تھک گئ ھو لیکن وہ تو آج تک نہیں تھکا
کروڑوں عربوں کی تعداد سے انسانوں کو دیکھ رہا سن رہا ھے وہی اک ذات ازل سے ھم کو سنبھالے ھوۓ ھے۔۔۔۔
جو ھمیشہ سے تھا اور ھمیشہ رھے گا یہ دنیا اسکے رنگ پھول بادل ھوا پانی خوشبو جانور انسان یہ رشتے یہ ناطے۔۔۔
یہ گھر تمھارے یہ اعضاء انکی حرکت سب کچھ اسکی عطا ھے اسکی عطاؤں سے بھی ھم نظریں پھیر لیتے ھیں۔۔۔
کیا کبھی اپنی خطاؤں پر خود سے بھی گلہ کیا ھم نے کبھی ناراض ھوۓ ھیں ھم خود سے؟؟؟؟
نمل نے نقاہت سے ناں میں سر ہلایا۔۔۔
تو کیا یہ تمھاری خود غرضی نہیں۔۔
نمل ماں سے لپٹ گئ۔۔۔۔
نرگس بڑے پیار سے اسے تھپکی دیتے ھوئے بولی وضو بناؤ اور اپنا فرض پوری خوشنودی کیساتھ ادا کرو ۔۔۔
___________________
حافظ صاحب سعودیہ سے واپس آچکے تھے دیان بہت زیادہ بیمار تھا رتابہ کا دل بہت اداس تھا اپنے بچے کا سن کر۔۔۔۔۔
اس نے عضد سے لاھور جانے کا کہا تو اس نے آفس کی مصروفیت سامنے رکھ دی۔۔۔۔
رتابہ نے سارا دن اداس گزارا کھانا بھی نا کھایا اس نے۔۔۔
عضد سے دوبارہ اس نے کال کر کے پوچھا تو عضد نے صاف منع کردیا کہ ابھی کچھ ہی دن ھوۓ تھے انکو یہاں سے گۓ ھوۓ۔۔۔۔۔
وہ وہیں صوفے پر روتے روتے سو گئ۔۔۔۔
علی گھر جلدی آگیا تھا۔۔۔۔
اسے اسطرح صوفے پر سویا دیکھ کر اسکے پاس آیا رابی بھی وہی تھی۔۔۔
کیا ھوا اسے ایسے یہاں کیوں سو رہی ھے؟؟؟
صاحب جی دیان بیمار ھے بہت یہ جانا چاہ رہی تھیں لاھور عضد صاحب نے منع کردیا ابھی وہ یہ بات ہی کر رہی تھی کہ عضد اور مایا ایک ساتھ اندر آۓ۔۔۔
علی دو قدم پیچھے ھوا رتابہ سے۔۔۔۔۔
عضد نے بھی پوچھا رابی سے۔۔۔۔
صاحب جی پورا دن کچھ نہیں کھایا انہوں نے ابھی رو رو کر سوئ ھیں۔۔۔۔
اچھاااا۔۔۔
وہ اسکے پاس آیا آنسو اسکی پلکوں پر موتی کیطرح چمک رھے تھے عضد نے احتیاط سے اسے اٹھایا تو اس نے نیند میں سر اٹھا کر ایک نظر عضد کو دیکھا پھر سو گئ۔۔۔۔
وہ اسے گود میں لیے اپنے کمرے میں آیا۔۔۔
مایا ایک ٹک کھڑے یہ سب دیکھتی رہی۔۔۔۔۔
علی بھی وہی تھا جو مایا کے چہرے پر ناگواری کے آثار بڑے غور سے دیکھ رہا تھا وہ کہے بنا نا رہ سکا تم کیوں غصے میں ھو تمھیں کیا ھوا ھے؟؟؟
کچھ نہیں وہ پرس صوفے پر پھینک کر خود بھی گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔
علی کو کچھ کچھ شک ھونے لگا تھا کہ وہ عضد کیساتھ رتابہ کو دیکھ کر برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
کہیں یہ رتابہ کی جگہ لینے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔۔۔
اگر عضد رتابہ کیساتھ اسے بیوی کا حق دیکر انصاف کیساتھ چلا تو مایا میں انکی زندگی میں تمھارے یہ بڑھتے قدم روک لونگا رتابہ کی زندگی میں تمھیں اسکی جگہ کبھی بھی نہیں لینے دونگا۔۔۔
وہ من ہی من میں خود سے ہی سوال جواب کرنے لگا۔۔۔۔۔
____________________
نمل جازب کی گود میں سر رکھے لیٹی ھوئ تھی ایک بار پھر ان کے درمیان عضد اور رتابہ کے ٹاپک پر بات ھو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
نمل پریشان تھی بہت اسے پریشان دیکھ کر جازب اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے تسلی دینے لگا۔۔۔۔
رات کے دس بج رھے تھے۔۔۔۔۔۔
نمل نمل نمل دیکھو تو کون آیا ھے؟؟؟
وہ دونوں نرگس کی آواز پر باہر آۓ تو سامنے عضد اور رتابہ تھے۔۔۔۔
ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا کہ ابھی وہ انکا ذکر ہی کر رھے تھے اور وہ انکے سامنے موجود تھے نمل اور رتابہ بڑی گرم جوشی سے ملیں۔۔۔۔
جازب اور عضد بھی بغلگیر ھوۓ حافظ صاحب بھی کمرے سے باہر آۓ۔۔۔
رتابہ کا ماتھاچوما پھر عضد کو گلے لگا کر اسکا حال احوال پوچھا۔۔۔۔
انکے اچانک سرپرائز پر سبھی بہت خوش تھے۔۔۔
رتابہ نمل کیساتھ اسکے کمرے میں گئ جہاں دیان سورہا تھا سوۓ ھوۓ دیان کو گود میں لیۓ وہ اسے چوم چوم کر تھک نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔
بس کر دو یار کیا کھا جاؤ گی اسکو آج۔۔۔۔۔
اسی کیلیۓ تو آئ ھوں۔۔۔۔۔
نمل شکوہ کرتے ھوئے بولی اچھااااا تم پھر ھم سب کس کھاتے میں ھیں۔۔۔
تم سب بھی ساتھ ہی ھو اسکے یار کہاں الگ ھو مجھ سے۔۔۔
رتابہ نے جلدی سے اسے گلے سے لگایا تو اس نے زور سے اسے دبایا۔۔۔
بہت خوشی ھوئ مجھے تمھارے آنے سے مجھے تو بتا دیتی نا۔۔۔۔
عضد نے خود مجھے نہیں بتایا تھا ایئرپورٹ پر جا کے معلوم ھوا کہ فلائٹ لاھور کی ھے۔۔۔۔
پھر رتابہ اور وہ اپنی پرانی یادوں میں چلی گٸیں۔۔۔۔۔
رتابہ گوپال کو اور اسکا پیار یاد کر کے بہت روٸ وہ ایک بار گوپال سےملنا چاہتی تھی۔۔۔
نمل نے اسکے ساتھ وعدہ کیا کہ اب وہ کراچی آٸ تو اسے ساتھ لیکر جاٸیگی اور گوپال سے ملواۓ گی۔۔۔۔۔۔ _________________
آج کام والی نہیں آئ تھی نمل رتابہ کے اٹھنے سے پہلے ہی گھر صاف کرنا چاہ رہی تھی وہ باہر صحن میں آئ تو رات کو چلنے والی تیز ھوا سے پورا صحن مٹی سے بھرا ھوا تھا سردی اب ڈھل چکی تھی۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ میں پانی کا پائپ لیۓ دوسرے ہاتھ میں جھاڑو لیۓ دھڑا دھڑ تیزی سے فرش دھو رہی تھی۔۔۔۔
جازب کسی کام سے باہر گیا ھوا تھا وہ گھر لوٹا تو اسکے ہاتھ میں جھاڑو دیکھ کر ھنس پڑا۔۔۔
ھنس کیوں رھے ھو تم وہ کمر پر ہاتھ رکھے کڑے تیوروں سے بولی۔۔۔۔
اللہ خیر کرے آج تو خیر نہیں شاید میری بھی ہاتھ میں جھاڑو ھے باگڑ بلی کے وہ گندے جوتے سمیت بڑبڑاتا ھوا صحن سے گزر کر اندر جانے لگا۔۔
تو پیچھے سے چلاتی ھوئ نمل کی آواز پر کانوں میں انگلیاں ڈالے رک گیا۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا ھے تم نے یار کتنی مشکل سے دھویا تھا میں نے تم نے سارا گندا کر دیا۔۔۔۔
جازب نے پیچھے دیکھا اسکی مٹی سے بھرے جوتوں کے نشان تھے فرش پر۔۔۔۔۔۔۔
اففففف کتنا برا چلاتی ھو یار کوئ بات نہیں دوبارہ دھو لینا ۔۔۔۔۔
جازب کو شرارت سوجھی وہ فرش پر جوتے رگڑ کر صاف کرنے لگا یہ لو صاف ھو گۓ جوتے اب جا سکتا ھوں جوتوں سمیت اندر؟؟؟
نمل نے غصے سے فرش کیطرف دیکھا جہاں سے صاف تھا وہاں سے بھی سارا گندا ھوگیا
جااااااااااززززززب۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی طرف جھاڑو لیکر ایسے بھاگی جیسے کوئی تلوار ہاتھ میں لیۓ دشمن کے پیچھے بھاگتا ھے۔۔۔
جازب اسے دیکھ کر فوراً بولا ابے رک جااااا گرے۔۔۔۔۔گی۔۔۔
ابھی جازب کا جملہ پورا نہیں ھوا تھا کہ وہ پانی سے slip ھوتی جھاڑو سمیت فرش پر آن گری۔۔۔۔
اسے فرش پر آڑھا ترچھا گرتا دیکھ کر جازب قہقہہ لگاتے ھوئے اسکے پاس آیا۔۔۔۔
جو فرش پر گری خونخوار نظروں سے اسکے ھنسنے پر اسے گھور رہی تھی۔۔۔
جازب نے اسکا منہ دیکھ کر بمشکل اپنی ھنسی روکی اور ہاتھ بڑھایا اسکی طرف اٹھنے کیلیے۔۔۔۔
تو ہاتھ میں ہاتھ دینے کے بجاۓ نمل نے گیلا جھاڑو اسکے سر پر دے مارا جازب اس حملے کیلیے بلکل تیار نا تھا گیلا جھاڑو سر پر پڑتے ہی اب چلانے کی باری جازب کی تھی۔۔۔
اور ھنسنے کی باری نمل کی۔۔۔۔
اس نے جھاڑو سمیت نمل کو اٹھایا تیری تو میں وہ دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔۔
اتارو نیچے ورنہ دوسرا جھاڑو پڑے گا اب پھر سے۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ زور سے بھینچ کر بولا مار کر تو دیکھو تم۔۔۔۔۔
اچھا کیا کروگے تم۔۔۔۔۔۔
کچا چبا جاؤنگا تمھیں۔۔۔۔۔
جازب کے ارادے دیکھ کر وہ بولی ارے چھوڑو امی آرہی ھیں۔۔۔
جازب نے جلدی سے اسے نیچے اتارا۔۔۔۔۔
نرگس نہیں تھی وہ خجل سا ھوگیا نمل ایک بار پھر ھنسی۔۔۔۔۔
تو وہ پھر اسکی طرف لپکا۔۔۔
نمل نے فرش سے پائپ اٹھا کر اسکا رخ اپنی طرف بڑھتے ھوۓ جازب کیطرف کیا۔۔۔۔
جازب نے بہت زور سے اسے بانہوں میں جکڑا ھو اتھا وہ ھنستے ھنستے شرارت سے ایک دوسرے کو پورا بگھو چکے تھے۔۔۔
رتابہ جو نیند سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئ تھی پردہ سرکاۓ انکا یہ منظر کھڑے کب سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
اسے معلوم نا تھا کہ عضد اسکے پیچھے کھڑا انکو بھی اور اسے بھی دیکھ رہا ھے۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر اپنی دھن میں جیسے ہی پلٹی تو پیچھے کھڑے عضد سے ٹکرا کر ڈر گئ۔۔۔۔
عضد کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اس نے جھک کر رتابہ کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
میرے ساتھ فلم دیکھتے ھوۓ رومانس پسند نہیں اور یہاں چھپ چھپ کر live romance دیکھا جا رہا ھے۔۔۔۔۔
وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر عضد کی نظروں کا سامنا نا کر سکی اور اسکی طرف پیٹھ کر کے بولی ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔
عضد اسکے بہت قریب تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔
تو پھر کیسی بات ھے۔۔۔۔۔
اسکی ھمت ہی نا ھوئ پلٹنے کی واپس کیونکہ عضد کا انداز جازب سے کئ گنا رومانوی لگ رہا تھا۔۔
___________________
آفس سے چھٹی تھی انکی آج علی پھر پورا دن گھر سے غائب تھا۔۔۔۔
مایا بڑی شدت سے اسکے انتظار میں تھی وہ رات گئے گھر لوٹا تو وہ اس پر برس پڑی کہاں جاتے ھو تم؟؟
ہر ویک اینڈ پر تم غائب ھو جاتے ھو ایسی کونسی مصروفیات اپنا رکھی ھیں تم نے مجھے بھی بتاؤ ذرا۔۔۔۔
یار تم ہر بات پر جھگڑتی کیوں ھو جہاں بھی گیا تھا تمھیں اس سے کیا میری اپنی بھی اک پرسنل لائف ھے جو میں اپنی مرضی سے گزار سکتا ھوں۔۔۔۔
اچھا تو پھر میں ابھی پاپا کو فون لگاتی ھوں اور بتاتی ھوں انکو کہ تمھاری اب اک پرسنل لائف بھی ھے جو ھم سے چھپا کر رکھی ھے تم نے۔۔۔۔۔۔
علی نے اسکے ہاتھ سے فون لیا یار پاپا پہلے ہی ٹھیک نہیں ھیں انکو پریشان مت کرو۔۔۔۔
تم جب تک بتاؤ گے نہیں میں خاموش نہیں بیٹھوں گی۔۔۔
اچھاااا۔۔۔
لیکن پرامس کرو پاپا سے اسکا ذکر نہیں کروگی نا ماما سے پھر بتاتا ھوں تمھیں کہاں تھا میں۔۔۔۔
اوکے پرامس۔۔۔۔۔
علی نے جیسے ہی نام لیا کہ وہ کس کے پاس جاتا ھے تو مایا ہتھے سے اکھڑ گئ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔کیا۔۔ کیا کہا تم نے؟؟
شرم نہیں آتی تمھیں وہاں جاتے ھوئے جانتے بھی ھو کہ وہ ھمارے دشمنوں کا گھر ھے پھر بھی تم وہاں جاتے رھے۔۔۔۔
یار وہ دشمن نہیں ھیں ھمارے۔۔۔
ہاں تو کیا ھے پھر اس قاتل خاندان سے کیا تعلق ھے تمھارا؟؟؟ مایا زور زور سے چلانے لگی۔۔۔۔
علی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا آہستہ بولو باہر تک تمھاری آواز جا رہی ھے۔۔۔۔
مایا نے اسکا ہاتھ جھٹک کر پیچھے کیا اگر پاپا کو پتہ چلا تو تمھاری ٹانگیں توڑ دیں گے وہ۔۔
تم نے ابھی پرامس کیا تھا پاپا کو نہیں بتاؤ گی۔۔۔۔۔
انکو تو میں واقعی نہیں بتا سکتی کیونکہ انکی کنڈیشن ایسی نہیں کہ وہ یہ بات برداشت کر سکیں۔۔۔
لیکن اگر تم دوبارہ گۓ وہاں تو میں ماما کو بھی بتا دونگی اور وہاں پہنچ کر انکو بھی آئینہ دکھاؤنگی کہ اب وہ مذید کیوں ھمیں برباد کرنا چاھتے ھیں۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں کروگی تم۔۔۔۔
میں کچھ بھی کر سکتی ہوں تم اچھے سے جانتے ھو مجھے۔۔۔۔
وہ اسکا رد عمل دیکھ کر جھٹ سے کان پکڑ کر فرش پر پاؤں پسارے بیٹھ گیا اچھا بابا سوری اب نہیں جاؤنگا بس۔۔۔۔۔
دل چاہ رہا ھے تمھارا سر پھاڑ دوں میں یار تمھیں ذرا ڈر نہیں لگا تمھیں کوئ نقصان پہنچا دیں وہ کچھ کر دیں تمھارے ساتھ۔۔۔
وہ مایا کے ہاتھ پکڑ کر اٹھا۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ھے یار میں کافی بار ملا ھوں ان سے اگر وہ اتنے گہرے دشمن ھوتے ھمارے تو میں اب تمھارے سامنے زندہ سلامت نا ھوتا؟؟
جو بھی ھے میں نہیں جانتی تم آئندہ انکے پاس نہیں جاؤگے۔۔۔
مایا نے اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھا کھاؤ میرے سر کی قسم۔۔۔۔۔
اچھا نا نہیں جاؤنگا اب بس خوش اس نے بڑی مشکل سے مایا کو بہلایا۔۔۔۔
____________
عضد دوپہر سے کہیں باہر گیا ھوا تھا شام ھونے کو تھی وہ نہیں لوٹا تھا سبھی اسکے منتظر تھے جب وہ گھر آیا تو شاہ جی اسکے ساتھ تھا۔۔۔۔۔
سب نے ملکر کھانا کھایا۔۔۔۔
پھر باہر آگۓ موسم بہار تھا ہلکی ہلکی ٹھنڈی ھوا میں وہ سب گھاس پر ایک ساتھ بیٹھے۔۔۔۔۔
شاہ جی نے سب کو ساتھ دیکھ کر جازب سے غزل سنانے کی فرمائش کی۔۔۔۔۔
کیونکہ کافی عرصہ گزر گیا تھا اس نے جازب کے دلفریب انداز میں شاعری نہیں سنی تھی نمل کافی خوش ھوئ اور بھاگ کر رتابہ کو پکڑ کر باہر لائ۔۔۔
نرگس بھی موجود تھی۔۔۔۔
جازب نے غزل سنانے میں پہل کی اور غزل نمل کو dedicate کی۔۔۔
اَدائیں حشر جگائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
خیال حرف نہ پائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
چمن کو جائے تو دَس لاکھ نرگسی غنچے،
زَمیں پہ پلکیں بچھائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
اُداس غنچوں نے جاں کی اَمان پا کے کہا،
لبوں سے تتلی اُڑائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
یہ شوخ تتلیاں ، بارِش میں اُس کو دیکھیں تو،
اُکھاڑ پھینکیں قبائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
حلال ہوتی ہے پہلی نظر تو حشر تلک،
حرام ہو جو ہٹائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
غزال نقشِ قدم چوم چوم کر پوچھیں،
کہاں سے سیکھی اَدائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
جفا پہ اُس کی فدا کر دُوں سوچے سمجھے بغیر،
ہزاروں ، لاکھوں وَفائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
تمام آئینے حیرت میں غرق سوچتے ہیں،
اُسے یہ کیسے بتائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے،
صنم کی تجھ کو قسم قیس روک دے یہ غزل،
رَفیق مر ہی نہ جائیں، وُہ اِتنا دِلکش ہے…..!!
سبھی نے واہ واہ کر کے اسکو داد دی۔۔۔۔
نرگس بڑے پیار سے رتابہ کیطرف دیکھا۔۔۔
میری بیٹی رتابہ کا بھی بڑا خوبصورت انداز ھے۔۔۔۔۔سنا دو تم بھی بیٹا کچھ۔۔۔۔۔۔
امی مجھے اسوقت یاد نہیں کچھ۔۔۔
چلو کچھ اشعار ہی سنا دو۔۔۔
وہ نرگس کا پیار بھرا انداز دیکھ کر انکار نا کر سکی لیکن مجھے اس غزل کے دو تین اشعار ہی یاد ھیں۔۔۔۔
نمل بولی چلو ھم تمھارا ساتھ دیں گے جہاں تم بھولی۔۔۔۔
اس نے ایک نظر عضد کو دیکھا پھر غزل سنائی۔۔۔
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ھے پھر بھی آۓ تو۔۔۔۔۔۔
آس نے دل کا ساتھ نا چھوڑا ویسے ھم گھبرائے تو۔۔۔۔۔
آگے وہ خاموش ھوئ۔۔۔
عضد کی پسندیدہ غزل تھی یہ اگلا شعر عضد نے اپنی گھمبیر آواز میں سنایا۔۔۔۔
شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول۔۔۔
اس دامن میں کیا کیا کچھ ھے وہ دامن ہاتھ میں آۓ تو۔۔۔۔۔
چاہت کے بدلے ھم تو بیچ دیں اپنی مرضی تک۔۔۔۔۔
کوئ ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپناۓ تو۔۔۔۔۔۔۔
اگلا شعر رتابہ کی آواز میں تھا۔۔۔۔
کیوں میرا یہ انگیز تبسم مد نظر جب کچھ نہیں۔۔۔۔۔
ہاۓ انجان کوئی اس دھوکے میں آۓ تو۔۔۔۔
پھر عضد نے ساتھ دیا اسکا۔۔۔
سنی سنائی بات نہیں یہ تو اپنے اوپر بیتی ھے۔۔۔
پھول نکلے ھیں شعلوں سے چاہت پھر آگ لگاۓ تو۔۔۔
پھر رتابہ کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔
جھوٹ ھے سب تاریخ خود کو دہراتی ھے۔۔۔
اچھا خوابِ بچپن میرا تھوڑا سا دوہراۓ تو۔۔۔
آخری شعر عضد کی زبانی تھا جو مکمل طور پر اسکے دل کا ترجمان تھا۔۔۔۔
نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو۔۔۔۔۔
اک بے بس انسان کرے کیا جب ٹوٹ کے دل کسی پر آۓ تو۔۔۔۔۔
اسکے آخری شعر کو پھر جازب نے دوہرایا
اک بے بس انسان کرے کیا جب ٹوٹ کے دل کسی پر آۓ تو۔۔۔۔
واہ واہ۔۔۔۔۔
سب نے دونوں کا انداز بہت سراہا۔۔
_______________
دو دن کے بعد وہ لوٹ آۓ تھے کراچی مایا کی جان میں جان آئی تھی عضد کو دیکھ کر اسکا چہرے کی رونق لوٹ آئ تھی۔۔۔۔
وہ خود بھی بے بس تھی اپنی محبت کے آگے جو عضد کی ہٹ دھرمی کے باوجود بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
مایا آفس سے گھر جلدی آئ تو عضد گھر نہیں تھا نا رتابہ تھی۔۔۔۔
اسکا موڈ آف ھو گیا رابی سے پوچھا وہ دونوں کہاں گۓ ھیں۔۔۔۔
رتابہ بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی انکو ھوسپٹل لیکر گۓ ھیں۔۔۔۔۔
وہ سوچ میں میں پڑ گئی کہ آئ تو چنگی بھلی تھی اچانک سے کیا ھو گیا اسے۔۔۔۔
عضد گھر آیا تو وہ منتظر بیٹھی تھی۔۔۔
__________________
مایا کافی دنوں سے نوٹ کر رہی تھی کہ عضد رتابہ کا حد سے زیادہ خیال رکھ رہا تھا اور اسکی فکر میں وہ اسے کافی بار نظر انداز بھی کر جاتا جو مایا سے برداشت نا ھوتا وہ حد سے زیادہ رتابہ سے بدتمیزی کرنے لگ گئی تھی۔۔۔۔
رتابہ پھر بھی صبر کے گھونٹ پیتی رہی۔۔۔۔
آج وہ رابی کیساتھ بازار گئ تھی کچھ خریدنا تھا اسے۔۔۔۔
ڈرائیور انکے ساتھ تھا وہ سامان گاڑی میں رکھ کر بیٹھی تو باہر جھانکتے ھوۓ رتابہ کی نظر روڈ کے دوسرے طرف گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے گوپال پر پڑی۔۔۔۔
ڈرائیور گاڑی پارکنگ سے نکال کر آگے لے جا چکا تھا۔۔۔۔
اس نے جلدی سے گاڑی رکوائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور رابی کو بنا بتاۓ گوپال کیطرف بھا گنے لگی جو گاڑی والے سے پیسے اور ایک تھیلی لیکر چھاؤں کی تلاش میں آگے بڑھ رہا تھا رابی رتابہ کو آوازیں دیتی رہ گئ۔۔۔۔۔
اسے اسوقت گوپال کے علاوہ نا کچھ سنائ دے رہا تھا نا دکھائ۔۔۔
وہ بھاگتے ھوۓ اسکے پیچھے جا رہی تھی گوپال روڈ کے ایک طرف کارنر پر درخت تلے بیٹھا اپنے ہاتھ میں لیۓ تھیلی کو کھنگال رہا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ بھاگتی ھوئ اس تک پہنچی تو اسکے قدموں میں جا گری ابھی اس نے سر اٹھایا ہی نہیں تھا کہ وہ پل بھر میں اسے پہچان گیا۔۔
اسکے ملگجے سے لاچارگی غربت اور تھکاوٹ سے بھرے چہرے پر زندگی کی نوید
