Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 16)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 16)
Bad Bakhat by Arshi Noor
وہ ڈرتے ڈرتے کپکپاتی ھوٸ پیچھے پلٹی تو خوف کے مارے اسکی چیخ بھی نا نکلی اور وہ وہیں بیہوش ھو کر گر گٸ۔۔۔۔
صبح کا اجالا ہلکا سا پھیلا نازو نیند سے اٹھی اور آنکھیں مسلتی باہر صحن میں آٸ منہ دھویا تو اسکی آنکھیں کھلیں۔۔۔
اس نے مٹکے کے پاس فرش پر پڑی رتابہ کو دیکھا ہاۓ اسے کیا ھوگیا۔۔۔
رتابہ رتابہ۔۔۔۔۔ وہ بھاگتی اسکے پاس آئ وہ بیہوش تھی۔۔۔۔
نازو نے جلدی سے عضد کا دروازہ بجایا۔۔۔۔
عضد گہری نیند سے اٹھا۔۔۔
کون ھے آواز کافی غصیلی تھی۔۔۔
میں ھوں عضد بھاٸ عضد کی آواز سن کر وہ کمرے میں آٸ۔۔۔
بھاٸ وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔ رتابہ ۔۔۔ نازو کافی بدحواس ھو رہی تھی۔۔۔
کیا ھوا اسے عضد نے ناگواری سے آنکھیں مسل کر پوچھا۔۔۔۔
وہ باہر پتہ نہيں کب سے بیہوش پڑی ھے جلدی آٸیں دیکھیں اسے۔۔۔۔
عضد منہ میں بڑبڑایا کیا مصیبت ھے یہ لڑکی بھی وہ کمبل پھینک کر اٹھا اور اسکے ساتھ باہر گیا۔۔۔
رتابہ کو اٹھا کر صحن میں پڑی چارپائی پر ڈالا۔۔۔
سب ہی گھر والے تھوڑی دیر میں رتابہ کے سر پر کھڑے تھے۔۔۔۔
دادی اماں سب کو ہٹاتیں خود آگے آٸیں اور پیار سے اس پر جھکیں ۔۔۔
کیا ھوا میری دھی (بیٹی) کو۔۔۔۔۔
نازو نے اس پر پانی کی چھینٹیں ماریں اس نے ھوش میں آ کر پلکیں جھپکائیں اور جیسے ہی آنکهيں کھولیں تو کھلے بالوں میں خود پر جھکی دادی کو دیکھ کر ایک دم چلاٸ ۔۔۔۔۔۔
آآآآآ۔۔۔۔۔۔ چڑڑڑڑڑڑڑیل۔۔۔۔۔
اسکی چیخ سن کر سبھی کا دل دہل کر رہ گیا۔۔۔۔۔
لیکن نازو سمجھ گٸ تھی وہ زور زور سے منہ پھاڑے ہنسنے لگی تو سبھی ھنس پڑے۔۔۔۔
دادی سب کی ھنسی دیکھ منہ بسور کے بیٹھ گٸیں۔۔۔۔
نازو ھنستے ھنستے بولی مجھے لگتا ھے دادی جان یہ آپکو ہی دیکھ کر بیہوش ھوٸ کیونکہ رات کو نیند میں صحن کے چکر آپ ہی کاٹتی ھیں۔۔۔۔
دادی اماں نے جوتا اتار کر نازو کیطرف پھینکا جس سے اس نے خود کو بچا لیا۔۔۔۔
اب رتابہ کا منہ دیکھ کر وہ مسلسل ھنستی ہی چلی گٸ۔۔۔۔
ساجد کی ھنسی دیکھ کر دادی اماں تھوڑا تپ گٸیں بے غیرتا تو بھی ھنس لے ماں کے چڑیل بننے پر۔۔۔۔
ساجد کی ھنسی کو فوراً بریک لگے۔۔۔۔
نازو سے چھوٹی سادیہ رتابہ سے بولی کیا ھوا تھا باجی آپکو۔۔۔
رتابہ کچھ نا سمجھتے ھوۓ سب کے ھنستے منہ دیکھ کر روہانسی لہجے میں بولی۔۔۔
وہ میں پانی کیلیۓ اٹھی پانی پی ہی رہی تھی کہ اچانک مجھے اپنے پیچھے ایک سایہ سا محسوس ھوا میرا سانس اوپر کا اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔۔
میں نے پلٹ کر دیکھا تو سفید بالوں میں کوٸ چڑیل میری طرف آرہی تھی۔۔۔
اسکے دادی کو پھر سے چڑیل کہنے پر نازو پھر زور سے ھنسی۔۔۔
ھاھاھھاھاھا وہ چڑیل نہيں میری دادای تھیں انکی عادت ھے رات کو نیند میں چلنے کی۔۔۔۔۔
رتابہ نے دادی کیطرف ڈرتے ڈرتے دیکھا۔۔۔
جو بچوں کیطرح منہ پھلاۓ اس سے کچھ فاصلے پر ناراض بیٹھی تھیں۔۔۔
پھر عضد کیطرف دیکھا جو سینے پر ہاتھ باندھے اپنی انگشت شہادت ھوںٹوں پر رکھے بڑے افسوس سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔
رتابہ نے دادی کو دیکھ کر جھٹ سے دونوں کان پکڑے دادی جان معاف کر دیں مجھے۔۔۔۔
نازو نے ہی کہا تھا مجھے کے رات کو ھمارے گھروں میں بھی چڑیلیں آتی ھیں میں اسلیۓ ڈر گٸ تھی معاف کر دیں دادی جان۔۔۔۔۔۔
دادی نے اسے پیار سے دیکھا تو وہ اٹھ کر دادی جان کے گلے لگ گٸ۔۔۔
موقع سے فاٸدہ اٹھا کر نازو بھی دادای کے گلے سے لٹکی۔۔۔۔
ساجد اور عضد باہر چلے گۓ۔۔۔۔
عضد سوچتا رہ گیا کہ کتنی بچکانہ حرکتیں تھی اس میں۔۔۔
نازو کی امی نسرین خالا ناشتہ بنانے میں مصروف ھوگٸیں۔۔۔۔
________________
نازو کی شام کو منگنی تھی۔۔
عضد ساجد چاچا کیساتھ سارے انتظامات میں آگے آگے رہا۔۔۔۔
کیونکہ نازو نے اسے بھاٸ بنایا تھا بھاٸ ھونے کا فرض اس نے خوب نبھایا۔۔۔۔
سب مہمان آنا شروع ھو گۓ تھے۔۔۔
نازو کو اسکی دوستیں تیار کرنے میں مصروف تھیں۔۔۔۔
رتابہ نے گرین کام والی فراق پہنی اور لپ اسٹک لگا کر تیار ھو گٸ۔۔۔۔
اسکے گال گورے گلابی نا تھے نا وہ گوری چٹی تھی نا بھورے بال نا بھوری آنکھیں لیکن اسکے نازک نازک نین نقش میں بلا کی کشش تھی۔۔۔
اس پر اسکی کالی سیاہ آنکھیں گھنیری پلکیں اور گُھٹنوں سے نیچے آتے ریشمی بال۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں اپنے لمبے بال چھڑا رہی تھی۔۔۔
جب عضد اندر کپڑے لینے آیا تو اسکے اتنے لمبے بال دیکھتا ہی رہ گیا وہ کھلے بالوں میں کبھی اسکے سامنے نہیں آئی تھی۔۔۔
ھمیشہ سر پر دوپٹہ اوڑھے بالوں کا جوڑا بناۓ سادہ سے لباس میں ڈری سہمی سی رہتی آجکا روپ اسکا بہت ہی دلفریب اور انوکھا تھا۔۔۔۔
عضد نے گلا کھنکھارا۔۔۔
تو وہ پیچھے مڑی اور اسے دیکھ کر جلدی سے دوپٹہ اوڑھا۔۔۔۔
میرے کاٹن کا ڈریس کہاں ھے۔۔۔
رتابہ نے دروازے کے پیچھے سے فوراً ھینگر اتار کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔۔
وہ اس پر اک بار پھر نگاہ ڈال کر چلا گیا۔۔۔۔
منگنی کی رسم رات تک ختم ھوٸ کھانا کھا کر سب مہمان چلے گۓ۔۔۔
سارا کام سنبھال کر تھکے ہارے سب اپنے بستر میں جا لیٹے۔۔۔
رتابہ سسرال کیطرف سے ملنے والے تحفے نازو کیساتھ دیکھ رہی تھی اس میں کشمیری تلے کے کام سے بھری ھوٸ کالی پشواس نما فراق رتابہ کو بہت پسند آٸ۔۔۔۔
نازو نے جھٹ سے اسے پہننے کا حکم دے دیا اسکے تیور دیکھ کر رتابہ مسکرانے لگی کہ اگر وہ نا پہنتی تو نازو نے اسے خود پہنانا تھا۔۔۔۔
کشمیری پشواس میں اسے دیکھ کر نازو ایک دم فرش پر لیٹ گٸ۔۔۔
رتابہ ڈر گٸ نازو نازو نازو کیا ھوا تمھیں وہ اس پر جھکی زمین پر بیٹھی۔۔۔۔
نازو نے دل پر ہاتھ رکھ کر اسے آنکھ ماری۔۔۔۔
وہ سادگی سے پریشانی میں بولی بتاؤ نا کیا ھوا ھے تمھیں؟؟؟؟؟
ارے میری بھولی بھالی بہنا تمھیں اس پشواس میں دیکھ کر غش آگیا تھا۔۔۔
رتابہ نے مسکرا کر اسے تپھڑ رسید کیا چل جھوٹی اتنی بھی خوبصورت نہيں میں اب۔۔۔۔
نازو اٹھ کھڑی ھوئ اور کمرے سے بھاگتے ھوۓ باہر نکلی۔۔۔
رکو تو نازو کہاں جا رہی ھو۔۔۔
نازو تھوڑی دیر میں عضد کا ہاتھ پکڑے اپنے روم تک آٸ۔۔۔
عضد نے اسکے ہاتھ سے بازو چھڑایا کام کیا ھے بتاٶ تو سہی۔۔۔
نازو نے کندھوں سے پکڑ کر اسکا رخ کمرے کیطرف کیا۔۔۔۔
سرپراٸز ھے آپ کیلیۓ اندر جاٸیں ذرا ۔۔۔۔
عضد دروازے کی چوکھٹ پر ہاتھ رکھے بڑے اسٹاٸل سےوہی کھڑے ھو کر بولا۔۔۔ نازو کیطرف اسکی پیٹھ تھی اور گردن گھما کر وہ اس سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔
ایسے تو میں اندر نہيں جانے والا پہلے بتاٶ۔۔۔۔
آپ اگر ایک منٹ میں اندر نا گۓ تو میں زبردستی بھی کر سکتی ھوں نازو نے ابرو اٹھا کر دھمکایا۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔اچھااااا جی۔۔۔۔ کیسے کروگی زبردستی ؟؟؟اسے نازو کو چھیڑنا اچھا لگا۔۔۔
وہ اپنی ناک سکیڑ کر بولی نازو کو چیلنج کر رھے ھیں آپ۔۔۔۔
ھممممم عضد نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
ایک دم سے نازو نے اسے اندر دھکا دے دیا وہ گاٶں کی جٹی تھی عضد اسکے دھکے سے سیدھا اندر دروازے کے پاس کھڑی رتابہ سے جا ٹکرایا اور وہ دونوں پیچھے پڑی دیوار سے لگی چارپاٸ پر جا گرے۔۔۔
چارپاٸ صدیوں پرانی تھی انکا دونوں کا بوجھ نا سہہ سکی چوں چاں کرتی وہ انکے سمیت زمین پر ڈھیر ھو گٸ۔۔۔۔
نازو جلدی سے اندر آٸ۔۔۔
اور ان دونوں کو ٹوٹی ھوٸ چارپاٸ میں گرا دیکھ کر کھلکھلا کر ھنس پڑی۔۔۔۔۔
عضد خجل سا ھوکر فوراً رتابہ کے اوپر سے اٹھا اور منہ پر ہاتھ پھیر کر بولا۔۔۔
نازو کی بچی یہ بدلہ تم پر ادھار رہا میرا۔۔۔۔
دیکھ لیں گے جی دیکھ لیں گے وہ مسلسل پیٹ پر ہاتھ رکھے ھنس رہی تھی اب بھی۔۔۔۔
وہ شرمندہ سا ھو کر کمرے سے جانے لگا تو نازو نے اسے روکا۔۔۔۔
اررررےےےےے کہاں چلے بھیا جی اپنا سرپراٸز تو لیتے جاٸیں۔۔۔
اس نے رتابہ کو آگے دھکیلا۔۔۔
ترچھی نظروں سے وہ رتابہ کو دیکھنے لگا اس سے پہلے کے نازو پھر کوئ شرارت کرتی اس نے جھٹ سے رتابہ کو حکم دیا چلو کمرے میں۔۔۔
رتابہ جلدی جلدی عضد سے آگے چلنے لگی کیونکہ اسے معلوم تھا کمرے میں جا کر اب اسکی خیر نہيں ۔۔۔۔
عضد نے دروازہ اندر سے لاک کیا اور اسکی طرف مڑا جو تکیہ زمین پر رکھے لیٹنے لگی تھی۔۔۔۔
عضد چارپائی پر بیٹھا اور رتابہ کو پکارا سنو۔۔۔۔
وہ پلکیں جھپکتی عضد کو دیکھنے لگی اسکا اتنا خوبصورت سراپا دیکھ کر عضد کا غصہ پل بھر ھوا ھو گیا۔۔۔
وہ اپنی انگلياں چٹخاتی کسی سزاوار مجرم کیطرح اسکے سامنے کچھ دیر کھڑی رہی پھر عضد کے خاموشی سے گھورنے پر اپنی صفائی میں بولی۔۔۔
وہ نازو کی شرارت تھی میں نے کچھ نہيں کہا تھا اس سے۔۔۔۔
عضد ستاٸشی نظروں سے اسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔
کہا تو میں نے بھی کچھ نہيں تم سے اور نا کچھ پوچھا ھے۔۔۔۔
رتابہ نے اپنی گھنی پلکیں اٹھاکر اپنے مخصوص اسٹاٸل میں سر ایک طرف جھکا کر بولی۔۔۔
تو۔۔۔ میں سو جاٶں۔۔۔
اسکے اتنے معصوم سے انداز پر عضد کے صبر کا پیمانہ لبریز ھونے لگا وہ دانت پیس کر رہ گیا اور گہری سانس خارج کرکے سر کو جھٹکا ہااااں جاٶ سو جاٶ۔۔۔۔۔
پھر لیٹ کر وہ خود سے مخاطب ھوا کیا ھے اسمیں ایسا جو میں بہکنے لگتا ھوں۔۔۔
ایسا کونسا جادو ھے اس کی شخصیت میں جو مجھے ہر بار خود کو کنٹرول کرنا پڑتا ھے میرے اعصاب پر کیوں چھا جاتی ھے یہ؟؟؟؟ وہ اسوقت بھی بے چین سا تھا۔۔۔۔
کیا نکاح کا بندھن اتنا اٹوٹ ھوتا ھے کہ بے انتہا نفرت میں بھی محبت کا گماں ھونے لگتا ھے؟؟؟ یہ بندھن اتنا مضبوط ھوتا ھے کہ ایک دوسرے کے سامنے آنے پر بے اختیار کر دیتا ھے انسان کو۔۔۔۔
پھر اسے نرگس کی بات یاد آٸ۔۔۔۔
ہر جذبہ شدت پا کر الٹ جاتا ھے چاھے محبت کا ھو یا نفرت کا۔۔۔
نہيں نہيں ۔۔۔ میرے جذبات رتابہ جیسی لڑکی پر نچھاور نہيں ھو سکتے اس نے اپنا سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔۔
پل بھر میں ہی اسکے دل پر پھر سے رتابہ کی نفرت نے اپنے پنجے گاڑ لیۓ تھے اور وہ پھر سرد مہری کی چادر اوڑھے نفرت کا لباس پہن چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔____________
ھمدانی صاحب اور انکی مسز نرگس کے گھر آۓ۔۔۔۔
ھمدانی نے نرگس کو میم کہہ کر پکارا۔۔
تو وہ بولی آپ میم کے بجاۓ مجھے بہن کہہ کر پکاریں تو زیادہ اچھا لگے گا۔۔۔
جی بہن میں آپ سے ایک گزارش کرنے آیا تھا اگر آپ قبول کر لیں تو۔۔۔
جی بولیں۔۔۔
عضد کو مجھے پھر لندن بھیجنا ھوگا لیکن اس بار میں چاھتا ھوں وہ اکیلا نا جاۓ۔۔۔
کیونکہ پچھلی بار بھی وہاں وہ مستقل دو ماہ بیمار رہا۔۔۔۔
نرگس چاۓ ڈالتے سمے انکی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہاں کوئ بھی اسکا خیال رکھنے والا نہيں تھا اور میڈ رکھنے کو وہ تیار نہيں تھا میں بھی یہاں تھا بہت ٹینس رہا وہ وہاں تنہاٸ میں۔۔۔۔
نرگس بولی مجھے تو اس نے ایسا کچھ نہيں کہا البتہ تھوڑا کمزور سا لگا مجھے پہلے سے لیکن فوری طور پر اسے اسلام آباد بھیجنا پڑا اسلیۓ اس سے کچھ پوچھ نہيں سکی۔۔۔۔۔
کیا آپ اور آپکی بہو کو اسکے ساتھ جا سکتی ھیں لندن؟؟؟
جی کیوں نہيں بہو میری جا سکتی ھے لیکن میں نہيں جا سکتی۔۔۔
پھر آپ یہاں اکیلے کیسے رھیں گی ؟؟؟
نرگس دیان کو پیار کرتے ھوۓ بولی میرا پوتا ھے نا اور میرا ایک بیٹا جازب بھی ھے میں اسے بلوا لونگی۔۔۔۔
ھمدانی صاحب بولے دیکھ لیں جیسے آپکو بہتر لگے ۔۔۔۔
پھر آپ مجھے اپنی بہو کے documents اور شناختی کارڈ دے دیں میں اسکا ویزا اور پاسپورٹ ارینج کر لوں۔۔۔۔
شناختی کارڈ اسکا نہيں عضد کے نام پر وہ جیسے ہی آتے ھیں میں بنوا کر آپکو بھجوا دونگی۔۔۔۔
ھمدانی نے نرگس کا بہت شکریہ ادا کیا کب آ رھا ھے عضد واپس۔۔۔
یہی ھفتے ایک میں آجاۓ گا۔۔۔۔۔
_________________
نمل لاھور جانے سے پہلے ایک بار پھر حافظ صاحب کو لیکر بختی کے گھر پہنچی پر وہاں اب بھی تالا پڑا ھواتھا۔۔۔۔
وہ واپسی میں جنت اماں اور رحیم چاچا کا نمبر لے گٸ کہ بختی کا پتہ کر سکے وہ لوٹی یا نہيں ۔۔۔۔
واپسی پر وہ بہت اداس تھی۔۔۔۔
کہ اسے دوسال ھونے کو تھے بختی کو دیکھا تک نہيں تھا اس نے۔۔۔
اور ان دو سالوں میں وہ بیس بار آ چکی تھی بختی کا پوچھنے۔۔۔۔۔۔
حافظ صاحب کا ویزا اور پاسپورٹ بن چکا تھا ایک ھفتے میں انکی روانگی تھی کراچی سے سیدھا سعودیہ عرب اور نمل کی لاھور۔۔۔۔۔
________________
عضد اور رتابہ نازو کے یہاں پورے پانچ دن رکے تھے۔۔۔۔۔
صبح انکی روانگی تھی۔۔۔۔
صبح صبح نازو نے انکا دروازہ بجایا عضد پہلے سے ہی جاگا ھوا تھا۔۔۔
دروازے پر نازو کی آواز سن کر اس نے نیچے فرش پر غافل نیند سوٸ ھوئ رتابہ کیطرف دیکھا۔۔۔
پھر نازو کے سوالوں سے گھبرا کر جلدی سے اس نے رتابہ کو گود میں لیا اس نے نیند سے آنکهيں کھولیں تو عضد اسے چارپاٸ پر لٹا رھا تھا۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھی کیا ھوا۔۔۔۔۔
کچھ نہيں عضد نے اسکا تکیہ بھی اٹھایا پھر دروازہ کھولا۔۔۔۔
ابھی تک آپکی صبح نہيں ھوٸ وہ کمرے میں جھانکنے لگی۔۔
تم نے کروا دی ھے نا بولو کیا ھوا عضد نے اسکے سر پر ہلکی سی بہت لگائ۔۔۔۔
موسم کا حال دکھانا اور سنانا تھا۔۔۔
وہ اندر آگئ کمرے میں۔۔۔۔
عضد نےباہر جھانکا۔۔۔
بادلوں نے گھپ اندھیرا کیا ھوا تھا اور تیز آندھی کے آثار لگ رھے تھے۔۔۔۔
رتابہ کے پاس بیٹھ کر نازو گنگناٸ۔۔۔۔
اے ابر کرم آج اتنا برس۔۔۔
اتنا برس کے وہ جا نا سکیں۔۔۔
گھر آیا ھے اک مہمان حسیں۔۔۔۔
عضد اندر پلٹا۔۔۔
اسکا مطلب تم نے دعاٸیں کیں کہ ھم جا نا سکیں۔۔۔۔
اس نے فوراً تیزی سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
عضد مسکرایا نازو اچھا نہیں کر رہی تم یہ سب۔۔۔۔
تمھیں جب میں نے لاھور بلایا نا تو جانے نہيں دونگا پھر سال سے پہلے۔۔۔
وہ اچھلی کیوں جی سال بھر کیوں ھمارے یہاں تو آپ ایک ھفتہ بھی نہيں رکے۔۔۔۔
کیوں میڈم جی آج پانچواں روز ھے اور موسم کی بانسبت آج بھی جانا کینسل ھوا اور کل چھٹا دن ھو جانا۔۔۔۔
وہ مزے سے ہاتھ اٹھا کر بولی اللہ کرے کل بھی نا جا سکیں۔۔۔
رتابہ نے اسے ٹوکا ایسا نہيں کہتے۔۔۔۔۔
ناشتہ کر کے عضد باہر نکل گیا ساجد چاچا کے چھوٹے بیٹے عابد کیساتھ۔۔۔
اسے آندھی اور طوفان کے ڈر سے سب نے روکا پر وہ بولا بچہ نہيں ھوں دادی جان میں اور کونسا ابھی آندھی آگٸ ھے ھم زیادہ دور نہيں جا رھے ھیں۔۔۔۔
وہ عابد کیساتھ باہر نکل گیا۔۔۔۔
عضد کے باہر جاتے ہی چند منٹوں بعد تیز آندھی کیساتھ طوفانی بارش شروع ھو گٸ۔۔۔۔
عضد اور عابد ساٸیڈ پر درخت کے نیچے پناہ لینے کیلیۓ آگے بڑھے تو عضد کا شوز کیچڑ سے پھسلا نیچے ڈھلان تھی وہ خود کو چاہ کر بھی نا سنبھال سکا۔۔۔
اور گیند کیطرح لڑھکتا ھوا سیدھا پہاڑ کی اونچاٸ سے کھاٸ میں جا گرا۔۔۔۔
عابد نے شور مچا کر آس پاس کے لوگوں کو جمع کیا اور رسی پھینک کر عضد کو کھاٸ سے نکلنے میں مدد کی سبھی لوگ جمع ھو گۓ۔۔۔
عضد اچھا خاصا زخمی تھا لیکن رسی کی مدد سے اس نے اوپر چڑھنے کی ہمت کی۔۔۔۔
وہاں بھاگتا ہوا ایک بچہ ساجد چاچا کے گھر پہنچا اور بولا ساجد چاچا شہری بابو کھائی میں گر گیا ہے جلدی آٶ۔۔۔۔
یہ خبر سن کر سبھی گھر والوں کو شاک سا لگا۔۔۔
رتابہ نے گھبرا کر رونا شروع کر دیا اور ساجد چاچا کی منت سماجت کرنے لگی کہ وہ بھی ان کے ساتھ جائے گی۔۔۔
سب نے اسے سمجھایا کہ پہلے ہی وہ عضد کے گرنے سے پریشان ھیں اتنی طوفانی بارش ہے تم بھی گر سکتی ہو۔۔۔
گھر میں ہی رہو بیٹا ساجد چاچا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی فکر نہیں کرو میں ابھی اسے اپنے ساتھ لاتا ہوں۔۔۔۔
رتابہ بہت برے طریقے سے رو رہی تھی دادی نے اسے اپنے سینے سے لگا کر کہا۔۔۔
اللہ سے دعا کرو کچھ نہیں ہوگا اس کو۔۔۔۔۔۔
ساجد چاچا کے کھائی پر پہنچنے تک عضد باہر آ چکا تھا لیکن زخمی وہ بہت زیادہ ہو چکا تھا تھا ساجد چاچا جلدی سے اسے قریبی کلینک میں لے گئے اور اس کی مرہم پٹی کروائی بارش رکنے تک وہ وہیں رھے۔۔۔۔
عضد کے دونوں ہاتھ رسی کیساتھ اوپر چھڑنے سے چھلنی ھو گۓ تھے۔۔۔۔
عابد نے اپنے گھر پہنچ کر عضد کی خیریت کی خبر سب کو دی۔۔۔
رتابہ کو کسی صورت سکون نہیں آرہا تھا وہ بہت بے چین اور بے قرار تھی آنسو برستی بارش کیطرح تھمنے کا نام ہی نہيں لے رھے تھے۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں بعد بارش رکی تو ساجد چاچا کیساتھ عضد گھر آیا سب بھاگتے ھوۓ اس کے پاس آئے۔۔۔
ساجد چاچا نے کہا اندر تو آنے دو پھر خیریت پوچھ لینا۔۔۔۔
عضد کو ساجد چاچا سہارا دے کر اسکے کمرے میں لاۓ رتابہ نماز پڑھ رہی تھی جلدی سے اس نے سلام پھیرا ۔۔۔
اور جاۓ نماز سے اٹھ کر تیزی سے عضد کے پاس آٸ اسے اتنا زخمی دیکھ کر وہ سسکیوں سے رونے لگی۔۔۔
نازو بھی رو رہی تھی دادی جان کی بھی آنکھیں نم تھیں۔۔۔
سبھی کو روتا دیکھ کر عضد بولا آپ سب تو ایسے رو رہے ہیں جیسے میں مر گیا ہوں۔۔۔۔
اللہ نا کرے پتر منہ سے ایسے بدفعال باتیں نا نکالو۔۔۔۔۔
نسرین کھانا لے کر آٸ دن کے دو بج رھے تھے۔۔۔۔۔
عضد کے دونوں ہاتھوں پر پٹیاں تھیں وہ کھانا اپنے ہاتھ سے نہيں کھا سکتا تھا۔۔۔۔
دادی اماں نے رتابہ کو آگے کیا آ میری دھی اسکو کھانا کھلا ۔۔۔۔
رتابہ نے روتے ھوۓ کانپتے ہاتھوں سے نوالا بنا کر عضد کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
دادی اماں نے سب کو کمرے سے باہر بھیجا اورعضد پر قرآن کی سورتیں پڑھ کر پھونکنے لگیں۔۔۔
میرے پتر تجھے نظر کھا گٸ کل سب کی ھے بھی تو شہزادوں جیسا۔۔۔۔
وہ عضد جو گھر میں اس کے ہاتھ سے پانی پینا بھی پسند نہیں کرتا تھا آج اسے انہی ہاتھوں سے کھانا بھی کھانا پڑ گیا۔۔۔۔
وہ نوالے اسکے منہ میں ڈالتی اور روتی رہی۔۔۔
دادی اماں عضد کے سر سے صدقہ وار کر باہر چلی گٸیں دادی کے جاتے ہی عضد اسکے آنسو دیکھ کر بولا
اسلیۓ رو رہی ھو کہ میں زندہ کیوں بچ گیا۔۔۔
رتابہ عضد کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
نہيں اس لیۓ رو رہی ھوں کہ آپکو اتنی تکلیف میں دیکھ کر میں کیوں زندہ ھوں۔۔۔۔
عضدکو ھنسی آگٸ اچھااااا کونسی فلم کا ڈاٸیلاگ ھے یہ۔۔۔۔۔۔
وہ بچوں کیطرح سر جھٹک کر بولی میں فلمیں نہيں دیکھتی۔۔۔۔۔
نازو تھوڑی دیر بعد اندر آئی اور رتابہ سے بولی بھائی کے کپڑے بدلوا دو سارے کیچڑ اور خون سے بھرے ہوئے ہیں۔۔۔
رتابہ نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر نازو کو اور پھر عضد کی طرف دیکھا میں کپڑے بدلواٶنگی ؟؟؟
نازو اس کی حیرت سے پھٹی آنکھیں دیکھ کر اپنی آنکھیں حیرت سے پھیلا کر بولی کیوں بہن شوہر ہے تمہارا کوئی غیر تو نہیں تم نہیں کرو گی تو کون مدد کرے گا بھاٸ کی۔۔۔
وہ چارپائی سے کھڑی ہوئی کیوں چاچا اور عابد ہیں نا ان کو بولو۔۔۔
نازو کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی کیوں تمھارا پردہ ھے کیا بھاٸ سے۔۔۔۔
عضد ان دونوں کی بحث سن کر بولا میرے ہاتھ ٹوٹے نہيں ھیں صرف زخمی ھوۓ ھیں میں خود بدل لونگا تم باہر جاٶ۔۔۔۔۔
وہ دونوں باہر جانے لگیں۔۔۔
او ھیلو تم کہاں جا رہی ھو واپس آٶ عضد نے رتابہ کو روکا۔۔۔
میرے کپڑے نکال دو ٹیچی سے پھر جانا باہر اس نے عضد کے کہنے پر اسکی بلیک پینٹ شرٹ نکالنے لگی۔۔۔
عضد ہاتھوں پر bandage کی وجہ سے بٹن نہيں کھول پا رہا تھا۔۔۔
رتابہ کپڑے نکال کر باہر جانے لگی تو عضد کی آواز سن کر رکی۔۔۔
رکو میرے بٹن کھول دو شرٹ کے۔۔۔
جب سے اسکی شادی ھوٸ تھی ان دوسالوں میں پہلی بار اس نے خود اسے اپنے کسی کام کا کہا تھا۔۔۔۔
وہ لیٹا ھوا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا رتابہ بڑے آرام سے جھک کر اسکی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔۔۔
وہ اسکے سینے سے اتنا قریب تھی کہ اسکے بدن سے اٹھتی مہک نے ایک بار پھر عضد کو اپنی لپیٹ میں لیا۔۔۔
بٹن کھلنے پر عضد نے اسے باہر بھیج دیا پھر کچھ دیر بعد اسے آواز لگاٸ۔۔۔
رتابہ ۔۔۔۔
عضد کے منہ سے پہلی بار اپنا نام سن کر وہ خوشی سے پاگل سی ھو گٸ جلدی سے دروازہ کھول کر اندر آئ۔۔۔
وہ کپڑے بدل چکا تھا عابد ھے باہر؟؟؟
اس نے نا میں سر ہلایا۔۔۔
ھممم شرٹ پہنا دوگی مجھے؟؟ سوالیہ نظروں سے رتابہ کیطرف دیکھا۔۔۔
رتابہ ٹرانس کی صورت کھڑے ہونقوں کیطرح اسکے منہ تاڑنے لگی۔۔۔۔
ھیلو میم تم سے کچھ کہہ رہا ھوں عضد نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔
شرٹ عضد کے ہاتھ سے لیکر بڑے آرام سے اس نے پہنائ شرٹ سے اٹھتی کلون کی خوشبو نے رتابہ کو جکڑا۔۔۔۔
اسکے چہرے کر مسکراہٹ پھیلی
جو عضد کی برداشت سے تقریباً باہر تھی لیکن مجبوری کے ہاتھوں چپ تھا۔۔۔۔۔ ___________
آج کی رات بہت خوفناک تھی سردی بھی کچھ زیادہ تھی مسلسل بارش سے۔۔۔
عضد اپنے بستر پر تھا رتابہ تکیہ لیۓ زمین پر لیٹنے لگی تو بادل ھولناک طریقے سے گرجے رتابہ کی چیخ نکل گٸ۔۔۔
وہ وہیں بیٹھے بیٹھے عضد کے قدموں سے لپٹی۔۔۔
وہ منہ سے کمبل اتار کر خود کو دھاڑنے سے روکا کہ ایک منٹ ہی ھوا تھا اسکی آنکھ لگی تھی کیا ھوا ھے؟؟؟
ممم مجھے ڈر لگ رہا ھے۔۔۔
کس سے ڈر لگ رہا ھے تمھیں اب؟؟ لفظ چبا چبا کر ادا کیے۔۔۔۔
بادلوں سے رتابہ کی آواز لرز رہی تھی۔۔۔۔
اب میں آسمان پر جاکر بادلوں کی گرج چمک تو روکنے سے رہا سو جاٶ آرم سے اور سونے دو مجھے بھی اس نے پھر سے کمبل منہ تک اوڑھا۔۔۔۔
رتابہ تکیہ دبوچے باہر جانے لگی دروازہ کھلنے کی آواز پر عضد نے کمبل منہ سے اتارا اور ھیلو کہاں جا رہی ھو۔۔۔۔
نازو کے پاس۔۔۔
واپس آٶ ادھر عضد سختی سے بولا۔۔۔۔
میں نے اکیلے نہيں سونا۔۔۔
کیوں اکیلی تو نہيں ھو تم۔۔۔۔
میرا مطلب ھے نیچے اکیلے نہيں سونا ڈر لگتا ھے مجھے وہ اب بھی دروازے پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔۔
وہ دانت پیس کر رہ گیا ڈر تو مجھے بھی لگتا ھے تم سے۔۔۔
رتابہ نا سمجھی۔۔۔
باہر جاکر تماشا مت بناٶ لیٹ جاٶ یہاں آرام سے آٸ سمجھ۔۔۔
وہ بادلوں کی گرج کے خوف سے رونے لگی اور نا میں سر ہلایا۔۔۔
عضد نے اٹھ کر اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر چارپائی پر لا بٹھایا۔۔۔۔
پہلے اچھی خاصی اسکی کلاس لی پھر چارپاٸ پر لیٹنےدیا عضد نے رتابہ کیطرف پیٹھ کر لی رتابہ نے خوف سے تکیے میں منہ چھپا لیا۔۔۔
بادلوں کی گرج اتنی ھولناک تھی اور اس سے زیادہ ھولناک خود سے کچھ فاصلے پر لیٹی رتابہ کی چیخ ۔۔۔
وہ غصے سے اسکی طرف پلٹا اور جیسے ہی اس سے تکیہ کھینچا تو خوف کے مارے رتابہ نے اسکے سینے میں منہ چھپا لیا۔۔۔
عضد کو زخموں میں کافی درد ھوا رتابہ کے اپنے ساتھ لپٹنے پر۔۔۔
یہ کیا کر رہی ھو درد ھو رہا ھے مجھے پیچھے ہٹو مجھ سے ۔۔۔
عضد کی بات سن کر اس نے چہرہ اوپر اٹھایا ٹھیک ھے پھر آپ مجھے نازو کے پاس جانے دیں آنکھوں میں اب آنسو بھی تھے۔۔۔۔
یہ کیا نازو نازو کی رٹ لگا رکھی ھے تم نے یہاں بھی بدنام کرواؤ گی مجھے۔۔۔۔
عضد کا غصہ دیکھ کر اس نے خود کو تھوڑا پیچھے کھسکایا لیکن اگلے ہی لمحے پھر سے بادلوں کی گرج پر عضد کو شرٹ سے پکڑ کر منہ چھپا لیا اسکے چوڑے سینے میں۔۔۔
عضد کو پھر سے زخموں میں درد ھوا لیکن اسے اب سہنا پڑا اگر نا سہتا تو رتابہ نے بھاگ جانا تھا نازو کے پاس ۔۔۔
اور صبح سب کی شک بھری نگاھوں کا سامنا وہ کیسے کرتا کہ رتابہ اسکی بیوی ھے بھی یا نہيں ۔۔۔۔۔
عضد مجھے بہت ڈر لگ رہا ھے پلیز مجھ سے دور مت جانا رتابہ نے مضبوطی سے اسکی شرٹ جکڑی ھوئ تھی مٹھیوں میں۔۔۔
ڈر عضد کو اس سے زیادہ لگ رہا تھا رتابہ کوخود سے قریب کر کے۔۔۔۔
رتابہ تو کچھ لمحوں میں خوف سے تھرتھراتی ھوئ سو گٸ لیکن عضد اپنے پہلو میں سوٸ رتابہ کیوجہ سے پوری رات نا سو سکا اور نا اسے خود سے دور کر سکا۔۔۔
صبح ھوتے ہی وہ فوراً اس سے الگ ھوا۔۔۔۔
رتابہ کی آنکھ کچھ دیر میں کھلی۔۔
عضد چارپاٸ پر ہی بیٹھا ھوا تھا
کیا ھوا آپ ٹھیک ھیں ناں اس نے جلدی سے عضد کی طبیعت دریافت کی۔۔۔۔
تمھارے ھوتے ھوۓ کیسے ٹھیک ھو سکتا ھوں میں عضد کی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ بولی آپ سوۓ نہيں رات کو؟؟؟
تم جو ساتھ تھی اور میرے زخموں میں بھی درد تھا کیسے سوتا میں
رتابہ نے آنکھیں رگڑیں کیا کہا میں آپکے ساتھ سوٸ تھی ؟؟؟
جی ہاں بلکل اور ایسے چپک کر سوٸ تھی جیسے چھپکلی دیوار سے چپکی ھوتی ھے رتابہ نے یقین نا کرتے ھوۓ نا میں سر ہلایا ایسے کیسے ھو سکتا ھے۔۔۔۔
عضد نے غصے سے اسکی طرف دیکھا تو کیا میں جھوٹ بول رہا ھوں۔۔۔۔۔
رتابہ چارپاٸ سے اتری اور بڑے آرام سے روانی میں بولی ھو بھی سکتا ھے۔۔۔
اس نے سختی سے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
تمھیں میں جھوٹا نظر آتا ھوں ہر اک کو اپنی طرح سمجھتی ھو۔۔۔۔
اس نے ہاتھ چھڑا کر نا میں سر ہلایا۔۔۔
میری طرح کوٸ بھی نہيں ھو سکتا نا میں کسی کو اپنی طرح بد بخت سمجھ سکتی ھوں۔۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ رکی نہيں چلی گٸ وہاں سے۔۔۔
دودن بعد جب اسکے زخم کچھ تھوڑے بہتر ھوۓ تو ساجد چاچا نے اپنے دوست سے کار لی اور انھیں اسلام آباد کیلیۓ خود لے جانے لگا۔۔۔
عضد نے کہا کہ وہ انکو بس یا ٹرین میں بھیج دیں ۔۔۔
لیکن عضد کے زخم دیکھ کر وہ بلکل راضی نا ھوۓ رتابہ ان سب سے ملکر جاتے ھوۓ خوب روٸ۔۔۔
وہ سب بھی رونے لگے نازو بار بار لپٹ جاتی رتابہ سے۔۔۔۔
نازو کو دیکھ کر اسے شدت سے نمل یاد آٸ وہ اسے یاد کر کے اور بھی زیادہ روٸ۔۔۔۔
جہاں تک انکی کار چڑھاٸ سے اترتی رہی وہ سب گھر والے باہر کھڑے انکو دیکھتے رھے۔۔۔
کچھ ہی پل میں انکی کار اوجھل ھوگٸ سب کی نظروں سے۔۔۔
_______________
بارہ دن بعد وہ اسلام آباد میں ماموں کے یہاں شادی اٹینڈ کرکے لاھور واپس آۓ۔۔۔۔
آتے ساتھ نرگس نے انکا صدقہ دیا
وہ پریشان اور فکر مند تھی بھاٸ کے منہ سے عضد کا سن کر۔۔۔۔۔
وہ عضد کی بلاٸیں لیتی ھوٸ تھک نہيں رہی تھیں۔۔۔۔
امی جان میں ٹھیک ھوں بلکل اب آپ پریشان کیوں ھوتی ھیں۔۔۔
تم نے میری بچی کو تنگ تو نہيں کیا تھا وہاں کوٸ ایسی حرکت تو نہيں کی اسکے ساتھ جو کل کو کوٸ مجھ پر باتیں کرے ۔۔۔
امی جااااااان میں اب اتنا احمق نہيں ھوں ابھی تھک گیا ھوں سونے دیں پھر باتیں کرتے ھیں وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
رتانہ دیان کو مجھے دو اور جاٶ تم بھی آرام کر لو۔۔۔۔
امی آپ عضد سے کچھ مت کہیں انہوں نے میرا بہت خیال رکھا ھے
نرگس نے اسکا چہرہ ٹٹولا سچ کہہ رہی ھو تم۔۔۔
جی امی رتابہ نے نظریں جھکاٸیں
مجھے تو لگ رہا ھے اس نے تمھیں بڑی مشکل سے برداشت کیا ھوگا۔۔۔۔۔۔
جو بھی ھے امی لیکن میرے ساتھ وہ بارہ دن رھے میرے لیۓ یہ دن زندگی کے سب سے خوبصورت دن تھے۔۔۔۔۔
نرگس پیار سے اسے تکنے لگی۔۔۔۔
وہ کھوئ کھوئ نرگس کو اپنے من کی کیفیت سے آگاہ کرنے لگی۔۔۔
امی انکی قربت میں مجھ پر بہت سی ایسی حقیقتیں آشکار ھوٸیں جن کا سامنا میں نے کبھی پہلے نہيں کیا تھا۔۔۔۔
گوپال ماما نے مجھے بیٹیوں سے بڑھ کر پیار کیا تحفظ دیا چھت دی ۔۔۔
لیکن امی آخر میں وہ بھی زمانے کے اٹھتے سوالوں سے گھبرا کر مجھے زمانے کے حوالے ہی چھوڑ گۓ کیونکہ وہ کسی کو اپنی صفاٸ کا اپنی سچاٸ کا ثبوت نہيں دے سکتے تھے ۔۔۔
میں انکی بیٹی جیسی تھی لیکن تھی نا محرم۔۔۔۔ محرم نہيں ۔۔۔
ھمممم زمانہ ھے نا میری جان کسی کو نہیں بخشا جاتا یہاں انسان کی اک خطا اسکی زندگی بھر کی سزا بن جاتی ھے۔۔۔۔
رتابہ بہت خوش تھی اسکی خوشی اسکے چہرے پر نرگس کو بھی محسوس ھوئ تو اسکے دل میں سکون س اترا۔۔۔۔
امی وہ بختی جو جگہ جگہ گاہے بگاہے مرد ذات سے خود کو بچاتی رہی عضد کیساتھ رہ کر مجھے احساس ھوا کہ میری زندگی میں ایسا بھی مرد ھے جو مجھے سارے جہاں سے بچاۓ بیٹھا ھے۔۔۔۔
میں نے بہت سے لوگوں کے درمیان ھمیشہ خود کو بہت کمزور سمجھا لیکن عضد کے ساتھ جو سکون اور تحفظ ملا میرے لیۓ ناقابل بیان ھے۔۔۔۔
مجھے ھمیشہ سب نے ھوس کی نظروں سے دیکھا لیکن عضد کی محرم ھو کر بھی امی میری قربت میں بھی انہوں نے خود کو اپنی نظروں کو پاکیزہ رکھا مجھے ان سے کوٸ شکایت نہيں ۔۔۔۔
وہ نفرت کرتے ھیں ہزار بار کریں مجھے فرق نہيں پڑتا اب بس میرے لیۓ یہ کافی ھے کہ میں زمانے کی ٹھوکروں سے بچ کر عضد کی مضبوط اور محفوظ پناھوں میں ھوں۔۔۔۔۔
نرگس اسکے چہرے پر اطمینان دیکھ کر خود بھی بہت پرسکون ھوٸ۔۔۔۔
امی اتنا خوبصورت ھوتا ھے نا ایک عورت کیلیۓ کسی مرد کا محرم ھونے کا احساس جہاں کسی بھی بدنامی کا کوٸ ڈر کوٸ خوف نہيں ھوتا۔۔۔۔
کتنی عزت کتنا مان کتنا بھروسہ کتنا تحفظ ھے نا اس شوہر نامی ایک لفظ میں ایسے لگتا ھے جیسے کاٸنات کا سارا حسن اس ایک لفظ میں سمٹ آیا ھو۔۔۔۔
نرگس نے اپنے پاس بیٹھی رتابہ کا ماتھا چوما جو اسوقت چاند کیطرح چمک رہا تھا۔۔۔۔
میری جان مجھے خوشی ھوٸ کہ ان چند دنوں میں تم نے عضد کو کچھ کچھ سمجھا ۔۔۔۔۔
نہیں امی کچھ کچھ نہيں سب کچھ سمجھ لیا۔۔۔۔
وہ نرگس کا ہاتھ پکڑ کر بولی امی آپ کو پتہ ھے جب انکو چوٹ لگی تھی نا تو مجھے ایسا لگا دھڑکن نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ھے۔۔۔۔
مجھے لگا میرے جسم سے کوٸ میری روح آھستہ آھستہ کھینچ رہا ھے مجھے اسوقت عضد کے علاوہ کچھ سنائی دکھائی یا سجھاٸ نہيں دے رہا تھا۔۔۔
جب میں نے انکو زندہ سلامت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تو میرے بے جان ھوتے جسم میں جان واپس آٸ۔۔۔
یہ کیسا رشتہ ھے امی انسان کو لگتا ھے کہ سانسوں کی ڈور اسی شخص کے ہاتھ میں ھے ۔۔۔
نرگس اسکے دمکتے جذبات کی دمک میں خود بھی چمک اٹھی۔۔۔
میری جان تمھیں پتہ ھے دنیا میں سب سے پہلا رشتہ ہی میاں بیوی کا تھا نا بہن بھاٸ نا ماں باپ نا کوٸ اور۔۔۔
اس لیۓ کاٸنات کا سب سے پہلا اور مظبوط ترین رشتہ ھے یہ جو حوا بی بی اور آدم کا تھا اسی لیۓ تو ھم سب انکی اولاد ھیں۔۔۔۔
اور ایک اور بات کہوں اس رشتے میں اگر محبت اور احساس نا ھو تو یہ رشتہ بھی بے معنی ھوتا ھے۔۔۔
نرگس نے رتابہ کے امیدوں کے جلتے چراغوں کو اک نئی ضیا بخشی۔۔۔
عضد آج تمھارے ساتھ برا ھے نا تو کل کو اچھا بھی ھوگا وہ جتنی شدید نفرت کرسکتا ھے نا تو کل کو اس سے بھی زیادہ شدت سے تم سے محبت بھی کریگا۔۔۔
امی یہ لفظ بہت سنا میں نے لیکن اسے سمجھنے سے قاصر ھوں کیا آج آپ اسے بیان کر سکتی ھیں کہ یہ محبت کیا ھوتی ھے؟؟
اپنے سوال کرنے کے بعد وہ پلکیں جھپکا کر معصومیت سے نرگس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
میری جان محبت بذاتِ خود ایک خوبصورت اور دل نشیں احساس ہے اگر دنیا میں محبت نہ ہوتی تو یہ زندگی اور اس کے جینے والے لوگ کتنے برے لگتے ہمیں۔۔۔
محبت بحر بیکراں ہے یہ کسی کے ہو جانے پر مختصر نہیں ہوتی۔۔۔۔
رتابہ کا سر اب نرگس کی گود میں تھا امی یہ محبت کیسے ھوتی ھے ؟؟؟
بیٹا محبت اگر سیکھنی ھے نا تو رب تعالی کی ذات سے سیکھو جو ھماری تمام اچھاٸیوں ، براٸیوں اور کوتاٸیوں سمیت ھمیں چاھتا ھے اور بدلے میں چاھے جانے کی گزارش یا امید نہيں رکھتا وہ تو بس نوازتا ھی رہتا ھے ھمیں۔۔۔۔۔
کیونکہ محبت نوازنے کا نام ھے اگر اس سے بدلے کی امید رکھی جاۓ تو پھر یہ محبت نہيں رہتی پھر یہ دکان داری بن جاتی ھے جہاں سارے معاملات ناپ تول کر سودے کی لین دین کیطرح چلتے ھیں۔۔۔۔
رتابہ کو اپنی باتوں میں گم ھوتا دیکھ کر نرگس نے اسے اسکی پرانی بات یاد کروائ تم نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ عضد نے اگر تمھیں چھوڑ دیا توووو۔۔۔
میری جان مجھے عضد پر خود سے زیاہ یقین ھے تمھیں پتہ ھے میرا ایک اور بیٹا بھی ھے عضد کا بھاٸ جازب۔۔۔۔
رتابہ نے حیرت سے نرگس کیطرف دیکھا۔۔۔۔
وہ ھمارے ساتھ نہيں رہتا وہ عضد سے دوسال بڑا ھے میں اسکا انتظار کر کے اسکے ساتھ بھی تمھارا نکاح کر سکتی تھی لیکن میں نے ایسا نہيں کیا۔۔۔
رتابہ نے حیرت سے دیکھا کیوں امی؟؟؟؟
اگر میرے اپنے دس بیٹے بھی ھوتے میں تب بھی تمھارا نکاح عضد سے ہی کرتی۔۔۔
کیونکہ میں جانتی ھوں ایک بار جو چیز اسکے نام سے جڑ جاۓ وہ پھر اسکی دشمنِ جان ھو یا جانِ جاں وہ دونوں صورتحال میں اپنی آخری سانسوں تک اسے خود سے جدا نہيں کرسکتا۔۔۔۔
امی جازب بھاٸ آپ دونوں کیساتھ کیوں نہيں رہتے ؟؟؟ کہاں ھوتے ھیں وہ۔۔۔۔
بیٹا وہ الگ ہی دنیا کا مکیں ھے جہاں وہ رہتا ھے وہ مقام معاشرے میں عزت کا نہيں۔۔۔
کیا مطلب رتابہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
بیٹا عضد اور جازب دونوں میں زمیں آسمان کا فرق ھے۔۔
جازب شروع سے ہی کسی کے انڈر رہنا یا کام کرنا پسند نہيں کرتا اسکا دماغ اس بات کو قبول نہيں کرتا کہ وہ کسی کے ہاتھ تلے رہ کر یس سر یا نو سر کرتا رھے۔۔۔
وہ آزاد پنچھی ھے اونچی اڑان اڑنا ہی اسکا خواب ھے اور وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کیلیۓ کسی غلط کام کو بھی غلط نہيں سمجھتا۔۔۔۔
امی آپ جیسی ماں کے زیرِسایہ رہ کر بھی وہ حق اور نا حق میں فرق نہيں کر سکے۔۔۔۔
نرگس کا سر جھک گیا۔۔۔
یونيورسٹی میں جب یہ دونوں تھے تبھی وہ ایسے لوگوں کے ہاتھ لگ گیا جن کے خواب جازب سے بھی اونچے تھے انہوں نے اپنے گروپ میں جازب کو شامل کر لیا۔۔۔
اپنے نام کی دھاک بٹھانے کیلیۓ وہ اچھے برے کی تمیز بھول گیا جازب کی غنڈی گردی اور من مانی کی وجہ سے عضد کو یونيورسٹی چھوڑنی پڑی کیونکہ اسکے ہر غلط کام کیلیۓ عضد کو آگے پیش ھونا پڑتا کہ وہ سمجھاۓ اپنے بھاٸ کو۔۔۔۔
دن بہ دن عضد اور ان دونوں کے بیچ بھاٸ کا رشتہ معدوم ھونے لگا آۓ دن عضد اسکی کسی نا کسی غلط حرکت پر اس سے لڑتا۔۔۔
جازب روز عضد کی بڑھتی ضد اور نفرت دیکھ کر گھر چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔
کیونکہ جازب کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کیساتھ تھا وہ معاشرے کیلیۓ کسی ناسور سے کم نہيں تھے۔۔۔۔
جازب کے مقابلے میں عضد بہت خودار اور کھرا انسان ھے کھوٹ یا دھوکہ یا غلط کام وہ کسی صورت برداشت نہيں کرتا۔۔۔۔
جازب کیوجہ سے اسے اکثر مقامات پر شرمندہ ھونا پڑتا تھا ایک بار تو وہ جازب کے یونيورسٹی کے دوستوں کیساتھ ہتھے پکے آگیا اور وہ ایسے لوگ تھے جو خود پر انگلی اٹھانے والے کا سر کاٹ دیتے تھے ۔۔۔
لیکن جازب کا بھاٸ سمجھ کر انہوں نے اسکی جان بخشی۔۔۔
میرے واسطے دینے پر رونے پر منت سماجت کرنے پر بڑی مشکل سے جازب ان سے الگ ھوا۔۔۔
رتابہ یہ سب سن کر بہت حیران ھوٸ۔۔۔
اب کہاں ھیں وہ۔۔۔
وہ کبھی ایران ھوتا ھے کبھی بلوچستان یا کراچی میں۔۔۔۔
امی اب جازب بھائ کس کے ساتھ ھیں؟؟؟
نرگس نے ٹھندی آہ بھری اب وہ جسکے ساتھ ھے اسکے ساتھ مجھے تسلی ھے کہ وہ مذید دلدل میں نہيں پھنس سکتا وہ شخص جازب کو ان گینگ واروں سے نکلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور مجھے وہاں سے اسکے لوٹ آنے کی امید بھی ھے۔۔۔۔
امی وہ کبھی آپ سے ملنے نہيں آۓ۔۔۔۔
آتا ھے سالوں میں کہیں لیکن عضد کی غیر موجودگی میں۔۔۔۔
عضد اپنے بھاٸ سے بھی نفرت کرتے ھیں کیا؟؟
نہيں عضد اپنے بھاٸ سے نہيں اسکے کاموں سے نفرت کرتا ھے۔۔۔۔
امی آپ انھیں سمجھاتی نہيں۔۔۔
بیٹا جن کے سر پر باپ کا سایہ نا ھو ایسے بچوں کو اکیلی تنہا عورت پال تو سکتی ھے لیکن زمانے کی دھوپ چھاٶں سے مکمل طور پر بچا نہيں سکتی۔۔۔
ایسے بچے زمانے کی پکڑ میں آ ہی جاتے ھیں اور کہیں نا کہیں زمانہ ان پر اپنی ظلمت کی اپنی بے دردی کی مہر ثبت کر ہی دیتا ھے۔۔۔۔
_____________
نرگس نے رتابہ کے شناختی کارڈ میں ماں باپ کی جگہ اپنا اور ایاز کا نام لکھوایا۔۔۔۔
پھر اسی شناختی کارڈ میں ایاز کے نام کو عضد کی زوجیت میں بدلوایا اور ھمدانی کے حوالے کیا۔۔۔۔
ھمدانی صاحب نے پندرہ دنوں میں اسکا ویزا پاسپورٹ اور ٹکٹس ارینج کر کے عضد کو آفس بلوا کر اسکے ہاتھ میں دیۓ۔۔۔۔
عضد اپنے ساتھ رتابہ کے ٹکٹس دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔
اور گھر آتے ہی نرگس پر سوار ھو گیا۔۔۔
امی امی امی۔۔۔
کیا ھو گیا خیریت تو ھے ایسے کیوں چلا رھے ھو۔۔۔۔
اس نے نرگس کے ہاتھ میں رتابہ کا ویزا اور ٹکٹس دیۓ۔۔۔۔
یہ کیا ھے امی۔۔۔۔
کیوں تمھیں نہيں معلوم کیا ھے؟؟
آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اسے اپنے ساتھ لندن لے کر جاٶنگا۔۔۔۔
تم نے بھی یہ کیسے سوچ لیا کہ میں تمھیں اس بار اکیلے جانے دونگی۔۔۔
عضد کو اپنی ہی ٹون میں جواب ملا۔۔۔۔
ایک بار اگر میں نے آپکی بات مان لی تھی تو آپ کیا سمجھیں میں نے ہار مان لی قبول کر لیا اسکو ایسے خواب نا پالیں امی جنکی کوٸ تعبیر نہیں ھوتی۔۔۔۔۔
نرگس اسی کی ماں تھی۔۔۔
میری جان میں حقیقت پسند عورت ھوں خود سے جڑے رشتوں کو پالا ھے میں نے ھمیشہ خوابوں کی زمین پر دھوٸیں کے محل بنانے والی عورت نہيں میں۔۔۔
امی میں نہیں لے کر جاٶنگا اسے وہ غصے سے چلایا۔۔۔۔
بس بہت سن چکی میں تمھاری تم جاٶ گے تو اسی کیساتھ ورنہ نہیں۔۔۔۔۔
نہیں جانا مجھے اس مصیبت کیساتھ۔۔۔۔۔
عضد غصے سے پاٶں پٹختا اپنے روم میں چلا گیا۔۔
__________
نرگس تیزی سے رتابہ کی تیاریوں میں مصروف تھی۔۔۔
رتابہ دیان اور نرگس کو اکیلا چھوڑ کر اتنی دور جانے پر بلکل خوش نہيں تھی۔۔۔۔
نرگس اسے لےکر اسی بوتیک گٸ جہاں اسے اریج لے کر گٸ تھی۔۔۔۔
رتابہ وہی بوتیک دیکھ کر ذرا گھبرا گٸ۔۔۔۔
کیونکہ زارا کا سامنا اسکا اسی بوتیک میں ھوا تھا اور اسکے سارے ماضی کے زخم پھر سے تازہ ھوۓ تھے۔۔۔۔۔
اتفاق سے آج بھی زارا کا ٹکراٶ اس سے ھو گیا ارے بختی تم یہاں زارا اسے دیکھ کر بہت خوش ھوٸ۔۔۔
لیکن زارا کو دیکھ کر رتابہ کے چہرے کی ھواٸیاں اڑ گٸیں۔۔۔
ایک بار پھر زارا کا سامنا کر کے وہ اپنے ماضی کیطرف پلٹی جسکا کرب اسکے چہرے سے عیاں ھو رہا تھا۔۔۔۔۔
نرگس نے زارا اور رتابہ کو دیکھ کر پوچھا یہ کون ھیں؟؟؟
جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔
