Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 19)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 19)
Bad Bakhat by Arshi Noor
عضد کے ایک ہاتھ میں رتابہ کے ہاتھ اور دوسرے ہاتھ میں اپنی پینٹ کا بیلٹ تھا جو کچھ دیر پہلے اس نے پہننے کیلیے ہاتھ میں لیا ھوا تھا۔۔۔
غصے میں عضد بلکل پاگل ھو جاتا تھا خود پر کنٹرول کرنا نا ممکن تھا اسکے لیۓ۔۔۔
وہ ششد رہ گیا کہ رتابہ اسکی غیر موجودگی میں اتنی گھناؤنی حرکت بھی کر سکتی ھے غم و غصے سے وہ اس پر برس پڑا محض شک کی بنا پر لیکن شک ثبوت سمیت رتابہ کے چہرے پر اپنے نشاں چھوڑے ھوۓ تھا اوپر سے اسکی بدحواسی اور خاموشی نے عضد کے شک کو مذید ھوا دی۔۔۔
پہلے اسکے منہ پر طمانچہ مارا جس سے رتابہ اتنی خوفزدہ ھوئی کہ کچھ بول ہی نا پائ پھر اسے بیلٹ سے مار کر اسکی کھال ادھیڑ کر رکھ دی۔۔۔
مار کھاتے سمے رتابہ کے سامنے اسوقت عضد کی صورت دیوی تھی جس کے خوف سے وہ اپنی تکلیف پر گریہ و زاری بھی نا کر سکتی تھی بس لب سیے اسکا غصہ ٹھنڈا ھونے تک وہ سب سہتی تھی۔۔۔
وہ ہلکی سی آواز کیساتھ روتی رہی عضد سے مار کھاتی رہی لیکن کچھ بولنے کے قابل نا رہی نا اپنی صفائی میں نا اپنی تکلیف پر ایک لفظ اسکے منہ سے نا نکلا تھا کہ عضد اس پر اسطرح کا شک بھی کر سکتا ھے۔۔۔
اور یہاں عضد کی رگ رگ غصے سے پھٹ رہی تھی کہ رتابہ نے یہاں آ کر پھر جھوٹ کا سہارا لیا پھر دھوکہ دیا۔۔۔۔
________________
آفس میں داخل ھوتے ہی سب اسکی خیریت پوچھنے لگے۔۔۔
غصے میں وہ پہلے سے تھا ستواں ناک کے نتھنے پھولے ھوۓ تھے چہرے کی سفید رنگت ضبط کرتے ھوۓ سرخی مائل ھو رہی تھی۔۔۔۔
سب کے باری باری پوچھنے پر وہ چڑ کر بولا۔۔۔
کیا ھوا ھے مجھے جو تم سب ایک ایک کر کے میرا حال پوچھ رھے ھو؟؟؟ آنکھوں میں اب بے پناہ غصہ تھا۔۔۔
ریاض صاحب جو آفس میں سب سے سینیٸر تھے وہ بولے۔۔۔
عضد بیٹا کل پارٹی میں کسی نے آپکو سوفٹ ڈرنک میں وائن مکس کر کے پلا دی تھی جس سے آپ کی طبیعت کافی خراب ھو گٸ تھی میں اور اکبر آپکو گھر چھوڑنے گۓ تھے۔۔۔
ریاض کی بات سن کر عضد کے ھوش اڑنے لگے۔۔۔۔
کیااااا مجھے ڈرنک دی تھی کسی نے؟؟ اب کن پٹیوں کی رگیں تن گئیں تھیں۔۔
ریاض بولے جی بیٹا آپکو ھماری بہو بیٹی نے نہيں بتایا؟؟؟
عضد کے ہاتھ سے ایک دم فاٸل چھوٹ کر زمین پر گری وہ بہت اپ سیٹ ھو گیا اس نے منہ کھولے سانس باہر خارج کی پھر پریشانی اور افسوس سے ماتھے کو انگلیوں سے مسلنے لگا کہ وہ کیا کر آیا تھا رتابہ کے ساتھ۔۔۔۔
عضد وہیں سے واپس جلدی سے آفس سے گھر کیطرف نکلا۔۔۔۔
راستے میں اسود کا فون آیا۔۔۔
کیسا ھے یار تو اب کچھ بہتر ھے طبیعت تیری؟؟؟
عضد نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیسے پتا میری طبیعت خراب تھی؟؟؟ ذہن میں اب بھی رتابہ تھی اسکے۔۔۔
جواب میں اسود بولا یار رات کو بھابھی کی کال آئی تھی کافی طبیعت خراب تھی تیری ڈرنک کیوجہ سے انجیکشن لگا کر بھابھی کو تسلی دے کر گھر آیا تھا کیونکہ وہ بہت پریشان تھی تیری حالت دیکھ کر اور بہت ڈری ھوئ بھی تھی۔۔۔
عضد جواب میں صرف اتنا بول سکا ٹھیک ھے پھر بات کرتے ھیں فون کاٹ کر وہ جلدی سے گھر پہنچا۔۔۔
رتابہ وہیں فرش پر نڈھال پڑی ھوٸ تھی جہاں وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔
عضد کے قدم اسکے پاس آکر رک گئے اپنا ماتھا پیٹ کر اس نے بال مٹھی میں جکڑے یا خدا یہ میں نے کیا کیا اسکے ساتھ؟؟؟
پھر اس نے آرام سے رتابہ کو اٹھایا جس پر وہ کراہ کر رہ گئ اسے بیڈ پر لٹایا اسکی حالت عضد سے خود بھی نا دیکھی گٸ۔۔۔۔
اس نے جلدی سے فون کر کے اسود کو گھر بلایا۔۔۔۔
اسود اس کے گھر سے قریب ہی تھا وہ جلد ہی پہنچ گیا لیکن یہاں آ کر اسکی حالت دیکھ کر حیرت زدہ ھوا۔۔۔
اور پھر عضد پر وہ برسا شرم نہيں آتی تجھے کیا سمجھ کر مارا تو نے اسے وہ دانت پیستے ھوۓ کہہ رہا تھا۔۔۔
لاوارث ھے یہ گونگی بہری بنی رہتی ھے تیرے آگے اسلیۓ اسکے ساتھ تو جانوروں جیسا سلوک کرتا ھے حالت دیکھ اسکی اسود نے گردن سے پکڑ کر عضد کو آگے دھکیلا دیکھ نا اب اسے اس نے پلائی تھی تجھے شراب ھیں نا؟؟
رتابہ کو دونوں کی موجودگی کا احساس ھوا تھا لیکن انکی باتیں اسکی سمجھ سے باہر تھیں تکلیف کے سبب وہ بلکل نڈھال اور نیم بیہوشی کی حالت میں تھی۔۔۔
سیدھا جیل جانے کی تیاری کر اب وہیں تیرا جنون ٹھکانے لگے گا اسود کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ عضد سے کیا کہتا اور کہا کرتا اسکے ساتھ ۔۔۔۔
عضد نے شرمندگی سے گردن اس سے چھڑاوئ اور سر جھکا لیا۔۔۔
تونے مارا کیوں اسکو وجہ تو بتا مجھے اسود اس پر بری طرح سوار تھا۔۔۔
کیا کہتا وہ سر جھکاۓ چپ رہا۔۔۔
اسود نے ایک نظر ڈالی رتابہ پر پھر عضد کا منہ جبڑوں سے پکڑ کر رتابہ کیطرف موڑا اسکے چہرے پہ اپنے نشے کے نشان خود ہی چھوڑ کر پھر تونے اس پر شک بھی کیا؟؟؟
اسود بہت غصے میں تھا لعنت ھے تیرے مرد ھونے پر۔۔۔
غصے سے وہ ہانپتا ھوا کہہ رہا تھا اتنا بھی اعتماد نہيں تجھے اس پر اول درجے کا جاہل انسان ھے تو۔۔۔۔
اسود کا غصہ اسوقت سوا نیزے پر تھا۔۔۔۔
عضد شرمندگی سے بولا بس کر یار غلطی ھو گٸ مجھ سے اس نے کچھ بتایا بھی تو نہيں اور مجھے بھی کچھ یاد نہیں کل کی پارٹی تک یاد نہیں کہ کیا ھوا تھا۔۔۔۔
تونے اسے بتانے دیا ھوتا تب وہ بیچاری بولتی۔۔۔
بس کر یار اب دیکھ اسکو کیسے ٹریٹ کریں اسود میڈیکل اسٹور پر جا کر اسکے علاج کا سارا سامان لے کر آیا۔۔۔۔
پھر رتابہ کا چیک اپ کیا اسکی آنکھوں کے پٹ آہستہ آہستہ لرز رھے تھے اور آنسو کنپٹیوں پر اپنی قطار میں لگاتار بہہ رھے تھے۔۔۔
وہ خود پر جھکے اسود اور پریشان حال میں پاس کھڑے عضد کو آنکھیں نیم وا کیے دیکھتی رہی۔۔۔
اسے انجیکشن لگا کر وہ باہر آیا عضد اسکے پیچھے لپکا۔۔۔
اب نیند کا انجیکشن دیا ھے وہ بھی اس کنڈیشن میں جب اسکا ھوش میں آنا ضروری تھا کیونکہ یہ ان زخموں کی تکلیف نہيں سہہ سکے گی اب لے یہ سارا سامان اور کر اسکی مرھم پٹی اسود کا بس نہیں چل رہا تھا وہ عضد کی حالت بھی ایسی کرتا۔۔۔
اور یاد رکھنا اگر اگلی بار کچھ ایسا جنگلی پن کیا تو نے اس معصوم کیساتھ تو میں نے اسے پاکستان بھیج دینا ھے اور تجھے سیدھا جیل اس نے ماتھے پر بل ڈالے انگلی اٹھاۓ سخت تیور سے عضد کو خبردار کیا۔۔۔۔
عضد اسکا غصہ دیکھ کر بولا یار ایسی باتیں تو نا کر تو میرا دوست ھے یا دشمن۔۔۔۔۔
دوست ھوں اسلیۓ سمجھا رہا ھوں تو بھی اسکا دشمن نا بن اگر اسے اپنا ہی لیا ھے نا تو پھر دل و جان سے قبول کر تیرے نکاح میں تیرے رحم و کرم پر ھے یہ انسان بن حیوان نا بن۔۔۔۔
عضد فرسٹ ایڈ بکس لیے کمرے میں داخل ھوا رتابہ اب بلکل ھوش میں نہیں تھی ۔۔
عضد نے ہلکی سی کروٹ دیکر جب اسکی پشت سے شرٹ ذرا سی اوپر کی تو اسکے جسم پڑے نیل کے نشان وہ دیکھ نا سکا اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا اور سانس رک سی گئ۔۔۔
اس نے فوراً اس پر کمبل واپس ڈالا۔۔۔
اور خود کو نہایت پشیمانی سے کوسنے لگا کیا ھوا کیوں برداشت نہيں ھو رھے اب مجھ سے اسکے زخم میری ہی عنایت ھے نا تو اب پچھتانے کا کیا فاٸدہ ؟؟؟
جو حالت میں نے کی ھے اسکی وہ دیکھ کر میری برداشت سے باہر ھے تو اس نے کیسے سہا ھوگا عضد سے برداشت نا ھوا بھرائی ھوئ آنکھوں سے وہ کمرے سے باہر آگیا۔۔۔
کیا ھوا اسود اسے باہرآتا دیکھ کر پوچھنے لگا لہجہ اب بھی کرخت تھا۔۔۔
وہ ھونٹوں پر ہاتھ رکھے گہری گہری سانس لینے لگا مجھ سے نہيں ھوگا میں نہيں دیکھ سکتا اسکے وہ زخم۔۔۔۔
زخم دینے کی بڑی سکت تھی تیرے اندر اس وقت مردانگی کا بھوت سوار تھا نا اب انسانیت کاروپ دھار اور کر اسکی کیٸر کر اب۔۔۔
عضد کو اس نے بازو سے پکڑ کر واپس اندر دھکیلا۔۔
اسکے آنکھوں میں آنسو تھے رتابہ کے جسم پر پڑے بیلٹ کے نشان دیکھ کر۔۔۔
کیا کیا ھے میں نے اسکے ساتھ اتنا غصہ اتنی حیوانیت کیوں آٸ میرے اندر؟؟ وہ بہت ڈسٹرب ھو گیا تھا رتابہ پر اسطرح تشدد کر کے۔۔۔
اس سے بلکل برداشت نہیں ھو رہا تھا کہ اس نے کیا کیا تھا اسکے ساتھ۔۔۔
لیکن شک کی وجہ بھی کافی جاندار تھی جس پر وہ جانور بنا تھا۔۔۔
___________________
رتابہ اٹھی تو جازب کے بستر پر تھی اٹھ کر بیٹھی تو درد کی ٹیسیں اس سے پہلے جاگ اٹھیں آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں سوکھے لبوں اور خشک حلق سے سانس لینا بھی محال تھا اسکے لیے۔۔۔
عضد کچن میں تھا۔۔۔
وہ آھستہ آھستہ چل کر باہر آٸ۔۔۔
تم کیوں اٹھی بستر سے وہ اسکی قدموں کی چاپ سن کر فوراً پلٹا۔۔۔
وہ عضد کو خاموشی سے دیکھنے لگی جسکے چہرے پر ملال فکر اسے تکلیف دینے کا کرب شرمندگی سارے احساس ایک ساتھ جاگے ھوۓ تھے۔۔۔
بیٹھوں یہاں آرام سے اس نے کچن سے باہر آ کر اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
کچھ سیکنڈز کی خاموشی کے بعد اس نے سر جھکا کر کہا کل کیلیۓ میں بہت شرمندہ ھوں مجھے تم پر اسطرح ہاتھ نہيں اٹھانا چاھیۓ تھا لیکن تم نے بھی نہيں بتایا ن اکچھ بولی تم۔۔۔ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیے وہ بے چینی سے ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑنے لگا۔۔۔
وہ درد کی شدت کو برداشت کرتے ھوۓ حلق سے آنسو اتار کر بولی میرے بتاۓ پر آپ یقین کر لیتے؟؟؟
اسکی بات سن کر عضد کا دل چاہا وہ زمین میں گڑ جاۓ۔۔۔
ایک پل اسکے چہرے کو دیکھا جو تکلیف کے باعث بلکل پیلا پڑ گیا تھا۔۔۔
جاٶ آرام کرو اور یہ دوا بھی لے لو عضد نے اسکو ٹیبل پر پڑی میڈیسن دیں میں کچھ کھانے کو لاتا ھوں۔۔۔
اس نے عضد کے ہاتھ سے میڈیسن لے کر واپس ٹیبل پر رکھیں مجھے انکی ضرورت نہيں۔۔۔
کیسے ضرورت نہيں درد ھو رہا ھوگا تمھیں وہ کچن میں جاتے ھوئے رکا تھا۔۔۔
رتابہ کی آنکهوں سے آنسو ٹپ ٹپ ٹپکے اگر یہ لیں تو ان سے میرا درد اور بڑھ جاۓ گا۔۔۔۔
عضد نے حیرانی سے اسے دیکھا کیوں؟؟
کیونکہ مجھے اپنے درد پر درد سہنے کی عادت ھے دوا یا مر ھم کی نہيں۔۔۔ آنکھوں میں شکوہ اور در کی چیخ و پکار آنسوؤں میں ابل ابل کر باہر آ رہی تھیں۔۔۔
وہ عضد کو یونہی منہ کھولے حیران چھوڑ کر کچن میں آٸ۔۔۔۔
تم جاٶ کمرے میں اپنے میں باہر سے لے آٶنگا کھانا لہجے میں سختی اور ملائمت ساتھ ساتھ تھی۔۔۔
رتابہ اپنا درد آپ سمیٹے خاموشی سے چلدی۔۔۔
کچھ دیر بعد عضد اسکا دروازہ ناک کر کے اندر آیا اور کھانے کی ڈش بیڈ پر اسکے پاس رکھی۔۔۔۔
کھانا کھا لینا اور یہ دوا بھی۔۔۔
رتابہ کا دل نہيں چاہ رہا تھا کچھ بھی کھانے کو۔۔۔
وہ یونہی اپنے رب سے باتیں کرتے کرتے اپنے درد سمیت سو گٸ تو اسکے درد بھی اسکے ساتھ تھپکی لیے کچھ دیر کیلیے سو گئے۔۔
عضد اسے دیکھنے کیلیۓ آیا کھانا ویسا کا ویسا ہی پڑا تھا اس نے رتابہ کو جگایا رتابہ۔۔۔
رتابہ۔۔۔ اب کی بار اس پر جھک کر اسے پکارا رتابہ اٹھو۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں کھانا کیوں نہيں کھایا تم نے وہ اب بھی جھکا ھوا تھا۔۔۔
خود ہر جھکے نادم سے عضد کو دیکھ کر جواب نادار تھا۔۔۔۔
بھوک نہيں لگتی تمھیں؟؟؟
وہ اپنے لیۓ فکر مند ھوتے عضد کو ایک ٹک دیکھنے لگی۔۔۔
کھانا کھاٶ جلدی سے میں دوبارہ گرم کر لاتا ھوں۔۔۔
نہيں رہنے دیں مجھے بھوک نہيں ابھی۔۔۔ لہجہ بلکل سادہ مگر تکلیف سہتا ھوا تھا۔۔۔
اتنا بھوکا کیسے رکھ لیتی ھو خود کو؟؟ اب کی بار عضد نے بھنویں اکٹھی کرتے حیرت سے پوچھا۔۔۔
وہ درد کی شدت سے پھیکی مسکراہٹ سجاۓ کہنے لگی میرے لیۓ یہ کوٸ نٸ بات نہيں۔۔۔
ہر طرح کا ظلم زیادتی بھوک پیاس برداشت کر لیتی ھوں میں بچپن سے یہ ٹریننگ دی گئ ھے مجھے اب تو عادت سی ھو گئ ھے۔۔۔
عضد نے پچھتاوے کی بھٹی میں بھنتے ھوۓ سر جھکا کر کہا تب تمھارے حالات اور تھے اب اور ھیں۔۔۔ اب وہ سیدھا کھڑا تھا۔۔۔
حالات بدل بھی جاٸیں لیکن پرانی عادتیں کہاں بدلتی ھیں اور اب بھی میرے لیے حالات نہیں بدلے بس اذیت اور نفرت کرنے والے چہرے بدل گئے ھیں۔۔۔۔
عضد نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔جہاں صدیوں کا درد اسکی آنکھوں کے تیرتے ھوۓ پانی میں تھا۔۔۔۔
عضد کو لگا اسکا دل کسی نے مٹھیوں میں بھینچ لیا ھو اسکی بات پر دل پھٹنے جیسا احساس ھوا۔۔۔
ایک پل اسکا دل چاہا وہ اسے اپنی بانہوں میں لے لے اور چرا لے اسکی آنکھوں سے یہ شکوے یہ درد یہ کربناک آنسو لیکن وہ صرف سوچ سکا۔۔۔
_______________
جازب نرگس کے پاس تھا نرگس اب کچھ بہتر تھی پہلے سے۔۔۔
ہلکا سا بازو فریکچر ھوا تھا اور سر پھٹنے سے چار ٹانکے آۓ تھے۔۔۔
دیان عارف کےگھر نمل کے ہی پاس تھا۔۔۔
جازب نرگس کو ڈسچارج کرکے گھر لایا۔۔۔
مسز عارف مومل سبھی آس پاس سے پوچھنے آۓ پر نمل نا آٸ۔۔۔
نرگس نے اسکا پوچھا وہ تب بھی نا آٸ لیکن دیان کو مسلسل اسی نے سنبھال رکھا تھا وہ سامنا نہيں کر سکتی تھی نرگس کا۔۔۔
کہ اس نے بہت غلط سوچا تھا انکے بارے میں۔۔۔
دسرا وہ جازب کا سامنا بھی نہيں کرنا چاہتی تھی کیونکہ اسے دیکھ کر اسے وہ ساری ذلت وہ ساری رسواٸیاں وہ اپنی بے بسی لوگوں کے طعنے یاد آجاتے تھے۔۔۔
جازب کی آنکھیں مسلسل اسکی منتظر تھیں لیکن وہ انتظار ہی کرتا رہ گیا۔۔
_____________
اسود نے اگلی شام چکر لگایا عضد کے گھر اس نے بازٶوں سے رتابہ کے زخم چیک کیۓ یہ تو ابھی بھی ویسے ہی ھیں۔۔۔
یار دی میں نے میڈیسن یہ نہيں لے رہی خود سمجھاٶ اسے۔۔۔
بھابھی یہ کیا بات ھوٸ یہ زخم اسطرح نہيں جاٸیں گے انکا درد کیسے برداشت کر رہی ھیں آپ؟؟؟
اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
اسود بھائ میں پہلے ہی درد کی سبھی حدوں سے بھی گزر چکی ھوں یہ درد مجھے اپنی برداشت کے اس پار بھی لے جا چکا ھے جہاں اکثر کسی اور کیلیۓ برداشت کرنے کے مقام پر مر جانا آسان ھو۔۔۔
اسود نے بے انتہا غصے سے عضد کیطرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ھوا۔۔۔
چل میرے ساتھ باہر انداز ایسا تھا جیسے اب عضد کی درگت بننے والی تھی اسکے ہاتھوں۔۔۔۔
وہ دونوں گھر سے باہر چلے گۓ۔۔۔۔
اسود پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے لب بھینچے اپنے جوتوں پر نظر ڈالے ھوۓ تھا عضد بھی اسکے ساتھ ہی تھا۔۔۔
اسود نے گردن کو خم دیکر سر اٹھایا اب نظریں عضد کے چہرے پر تھیں کبھی تو اسکے مقام پر خود کو کھڑا کر سکتا ھے؟؟؟ جہاں وہ لفظوں کی لہجوں کی رویوں کی برچھیاں کھا کر بھی ایک سل ایک دیوار کی مانند کھڑی ھے صرف ایک آس ایک امید پر کہ اسکی زندگی کبھی تو اس پر آسان ھوگی۔۔۔
عضد نے نچلے ھونٹ کا کونا دانتوں تلے کچلتے ھوۓ خاموشی سے اسود کو دیکھا۔۔۔
یار اتنا بدگماں نا ھو اس کی ذات سے کہ کل کو تیری بدگمانی اسکے لیۓ کفن اور تیرے لیۓ نا قابل دفن سزا بن جاۓ۔۔۔۔
عضد نے ابرو اچکا کر سانس اندر کھینچی بس یار کیا کروں وہ لمحہ ہی ایسا تھا کہ اسوقت مجھ سے برداشت نہيں ھوا۔۔۔
یار تو اتنا نیرو ماٸنڈڈ کب سے ھو گیا ھے؟؟ یہ شک یہ جاھلیت یہ مار پیٹ یہ نفرت یہ ظلم یہ زیادتی یہ سب کیسے آگیا تیرے جیسے انسان کے اندر؟؟؟
عضد نے سینے پر ہاتھ باندھے پنجوں سے خود کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔۔
نہيں معلوم یار بس اسے دیکھتا ھوں تو امی کی وہ شک بھری نگاھیں اپنے گال پر پڑنے والے طمانچے اسکا اپنی آبرو لٹا کر میرے نکاح میں آنا پھر بچے کی ماں بننا یہ سب نہيں بھولتا مجھے۔۔۔
اسود اسکے سامنے آ کر کھڑا ھوا پھر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا توکیا میرے یار تو اسکا بدلہ اس سے ساری عمر لے گا؟؟
عضد کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
یار بات صرف بدلہ لینے کی یا نفرت کی نہيں۔۔۔
پھر کیا بات ھے بتا مجھے؟؟؟ اسود کا لہجہ نرم تھا۔۔۔
میرا دل میرا دماغ اس بات کو قبول نہيں کرتا کہ یہ مجھ سے پہلے کسی اور کے ساتھ منسلک رہی ھے بلکہ اسکے ہاتھوں استعمال بھی ھوئ ھے اور یار ماں بھی بن گٸ پھر یہ اسی کے بچے کی میں یہ سب کیسے برداشت کروں میں بھی آخر انسان ھوں یار میری غیرت یہ سب کیسے گوارا کر لے سوچ خود کو میری جگہ رکھ کر۔۔۔عضد گلوگیر لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔۔
جب یہ سب معلوم تھا تو شادی کیوں کی پھر تو نے اسود نے گہری سانس خارج کر کے عضد کیطرف دیکھا۔۔۔
جسکی آنکھوں میں شکوے آنسو کی صورت تیرنے لگے تھے ۔۔۔۔
اپنے سوال پر خود ہی جواب دینے لگا دیکھ عضد اب کر ہی لی ھے شادی تو قبول بیشک نا کر اسے پر اسطرح ظلم نا کر اسکے ساتھ کیا پتہ آنے والے وقت میں وہ سچی ثابت ھو جاۓ اور تیرے سارے وسوسے اور شکوے جھوٹے…
عضد پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ھوۓ انکو مٹھی میں جکڑے خاموش رہا۔
اچھا چل پریشان نا ھو چھوڑ ان سب باتوں کو اپنے ان زخموں پر مرھم لگانے کا سوچ جو تو نے اسے دیۓ ھیں۔۔۔ اسود نے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔۔
یار نہيں مان رہی وہ میری عضد نے بیزاری سے کہا۔۔۔
تو فورس کر اسے۔۔۔
ایسا رشتہ نہيں اسکا اور میرا کہ میں فورس کروں یا منت سماجت کروں آنکھیں اب اسود کی آنکھوں میں جھانک رہی تھیں۔۔۔
زبردستی بھی نہيں کرسکتا اسکے ساتھ اور تکلیف ھوگی اور وہ ڈر بھی جاتی ھے مجھ سے بہت۔۔۔
اسود کے ماتھے پر بل ابھرے چل ٹھیک ھے پھر۔۔۔
میں اسے گہری نیند کا انجیکشن لگا دیتا ھوں تو دیکھ لینا پھر۔۔۔انفیکشن ھو گیا تو زخم خراب بھی ھو سکتے ھیں۔۔۔
کتنی بار کرنا ھوگا ایسا؟؟؟
اسود بولا جب تک زخم کچھ بہتر نہیں ھو جاتے۔۔۔۔
عضد نے ہاں میں سر ہلایا ٹھیک ھے۔۔۔ ___________
عارف کی والدہ کا انتقال ھو گیا تھا عارف پاکستان آگۓ اور دس دن میں واپس بھی لوٹ گۓ۔۔۔
سبھی دادی کے چلے جانے سے بہت اداس تھے مسز عارف کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی مومل کو لیکر وہ ھوسپٹل گئ ھوئ تھیں گھر میں صرف نمل تھی۔۔۔
وہ لاٶنج میں بیٹھی گہری سوچ میں گم تھی اچانک اسکی آنکھوں پر آکر کسی نے ہاتھ رکھا۔۔۔۔
ہاتھ رکھنے والے کے ہاتھ بڑے نرم تھے انکو چھوتے ہی وہ اچھل پڑی باباجانی آپ وہ ان سے لپٹ گئ۔۔۔
حافظ صاحب نے اسکا سر چوما میری جان کیسی ھے؟؟؟
وہ ناراض ھونے لگی بابا جانی آپ نے مجھے بتایا بھی نہيں اچانک سے آگۓ۔۔۔۔۔
سرپراٸز دینا تھا تمھیں پہلے بتا دیتا تو خوشی میں پاگل ھوتی یہ خوشی کیسے دیکھتا اپنی شہزادی کے چہرے پر۔۔۔
وہ بابا کو اپنے کمرے میں لے گٸ اور ڈھیر سای باتیں کرنےلگی بابا سے۔۔۔۔
وہ گھنٹہ اسکی باتیں سنتے رھے پھر بولے کچھ کھانے کا بھی پوچھوگی یا بس باتوں سے ہی میرا پیٹ بھرو گی محبت بھرے انداز میں سوال کیا۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی بھول گٸ بابا بس ابھی آٸ آپ تھوڑا صبر کر لیں۔۔۔
مومل اور مسز عارف ابھی تک نہيں آٸیں تھیں۔۔۔
وہ کھانا بنانے لگ گٸ۔۔۔۔
_________________
نرگس اب کچھ بہتر ھو گٸ تھی
جازب لان میں بیٹھے چاۓ پی رہا تھا وہ اسکے پاس آکر بیٹھی۔۔۔۔
جازب بیٹا اب لوٹ ہی آۓ ھو میرے پاس تو میری اک اور بات بھی مان لو۔۔۔
جی بولیں اس نے چاۓ کا سپ لیتے ھوۓ کہا۔۔۔۔
بیٹا تم بھی اپنا گھر اب آباد کر لو عضد تم سے چھوٹا ھے اور شادی شدہ ھے تم بھی کچھ سوچو اپنا اب تو تم نے اپنا نیا کاروبار بھی شروع کر لیا ھے۔۔۔
عضد بھی لوٹ کر آیا تو تمھارا بسا بسایا گھر دیکھ کر وہ تمھیں جلد ہی قبول کر لے گا۔۔۔
ھممممم اس نے ہنکارا بھرا کر لونگا شادی بھی آپ فکر نا کریں۔۔۔
اریج آ رہی ھے کچھ دنوں میں پاکستان تمھاری بچپن کی ساتھی ھے تمھیں پسند بھی کرتی ھے تم کہو تو میں کروں شادی کی بات؟؟؟نرگس پر امید نگاہ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جازب نے اریج کا سن کر گہرا سانس لیا اور کپ میز پر رکھا نہيں امی ابھی نہيں مجھے کچھ وقت دیں سوچنے کیلیۓ۔۔۔۔
لو بھلا اریج کےساتھ وقت گزار کر تم تیس سال کے ھو گۓ ھو اب بھی تمھیں وقت کی ضرورت ھے کتنا وقت تم پہلے ہی برباد کر چکے ھو۔۔۔۔۔۔۔
امی مجھے کوٸ اور پسند ھے۔۔۔
نرگس نے حیرت سے اسے دیکھا کون ھے وہ۔۔۔۔
بس ھے کوٸ جلد ملواٶنگا آپ سے۔۔۔
نرگس کو کچھ کچھ سمجھ آگٸ کہ وہ شاید نمل کو پسند کرنے لگا ھے اسلیۓ نمل نے جازب کے آتے ہی یہاں سے قدم کھینچ لیۓ تھے۔۔۔۔
_________________
نمل آپی نمل آپی۔۔۔۔
مومل کی آواز پر وہ بابا کے روم سے باہر آٸ۔۔
کیا ھوا؟؟؟
دیان رو رہا ھے بہت اسے سنبھالیں آپ انٹی آ رہی ھیں تھوڑی دیر میں۔۔۔
وہ دیان کو لیۓ بابا کے پاس آگٸ حافظ صاحب نے اسے گود لیا
اچھا تو یہ ھے دیان جس سے تم نے خوب دل لگا رکھا ھے۔۔۔
جی بابا بہت پیارا بچہ ھے ماشاءاللہ۔۔۔
اسے پیار کرتے ھوۓ انہوں نے نمل کو دیکھا بیٹا ایک بات کہنی ھے تم سے۔۔۔
جی بولیں بابا ۔۔۔
میں چاھتا ھوں میرے جیتے جی تم اپنے گھر کی ھو جاٶ…
بابا میں آپ سے الگ نہيں ھو سکتی کبھی بھی۔۔۔۔
بیٹیاں ماں باپ کے گھروں میں آباد نہيں رہتیں ماں باپ کیلیۓ وہ پراٸ امانت ھوتی ھیں اس امانت کو جتنا جلدی ھو سکے امانتدار کے ہاتھ میں دے دینا چاھیۓ۔۔۔
(حافظ صاحب پہلے ہی خوفزدہ تھے اسکے گڈنیپ ھونے پر انکی امانت میں تھوڑی خیانت پہلے ہی ھو چکی تھی اب وہ مزید کسی آزمائش میں نہیں پڑنا چاھتے تھے)
وہ منہ بنا کر بولی۔۔۔
کیوں بابا بیٹیاں بوجھ ھوتی ھیں؟؟؟
ارے نہيں میری جان بیٹیاں بوجھ نہيں ھوتیں۔۔
بیٹیوں کی شادی کرنا ہر ماں باپ کا فرض ھوتا ھے اور فرض میں قضا اچھی نہيں۔۔۔
کیا پتہ کتنی زندگی ھے میری تمھارے پیچھے تو کوٸ آسرا بھی نہيں سوا میرے میں نا رہا تو نمناک لہجے میں بیٹی کیطرف دیکھا۔۔۔
بس کریں بابا جانی ایسی باتیں نا کریں۔۔۔
ٹھیک ھے نہیں کرونگا ایسی بات لیکن میری پہلی بات پر غور کرنا۔۔۔۔
میرے پاس ایک دو اچھی فیملی کے لوگ ھیں لڑکے بھی میرے دیکھے بھالے ھیں جو تمھاری پسند ھو گی وہی میری۔۔۔۔
________________
نمل بیٹا میں مومل کے اسکول جا رہی ھوں دیان میرے کمرے میں سو رہا ھے اسکا ذرا خیال رکھنا۔۔۔۔
وہ ہاں میں سر ہلاتی دیان کے پاس چلی گٸ جو مسز عارف کا کمرہ تھا۔۔۔
حافظ صاحب سو کر جاگے تو انکا دل کچھ گھبرا رہا تھا اپنا ماضی یاد کر کے وہ ذرا پریشان اور اداس ھو گۓ تھے۔۔۔۔
وہ نمل سے بات کرنے کیلیے نیچے لاٶنج میں آکر بیٹھے ماضی اسکی بانہیں پکڑ کر اسے پیچھے دھکیل رہا تھا وہ گہری سوچ میں پڑ گئے کہ نمل سے اپنی بیتی زندگی کا ذکر کسطرح کرے وہ اپنا چھپا ھوا ہر راز اس پر افشاں کرنا چاھتے تھے لیکن ڈرتے بھی تھے کہ بیٹی بد گمان ھو گئ تو کیا رہ جاۓ گا پیچھے۔۔۔ابھی وہ انہی سوچوں میں غوطہ زن تھے کہ ایک مانوس سی آواز کانوں کے پردوں سے ٹکرائ۔۔۔۔
مومل ۔۔۔ مومل۔۔۔ نمل۔۔۔ کہاں ھو سب؟؟؟
نرگس انکو آواز لگاتی اندر آٸ۔۔۔۔
حافظ صاحب نے پلٹ کر نرگس کو دیکھا….
نمل تک انکی آواز نہیں پہنچی تھی دیان کے جاگنے پر وہ اسے اٹھاۓ سیڑھیاں اترنے لگی۔۔۔
تو لاٶنج میں کھڑی نرگس کے قدموں میں جھکے اپنے باپ کو دیکھ کر ٹھٹھر گٸ اسکے قدم وہیں رک گۓ۔۔۔
وہ نرگس کے قدموں میں بیٹھے معافی مانگ رھے تھے مجھے معاف کر دو نرگس معاف کردو۔۔۔۔
نرگس جیسے پتھرا سی گئی تھی۔۔۔
حافظ صاحب بچوں کیطرح بلک بلک کر رو رھے تھے۔۔۔۔
نرگس کچھ بولو بھی اب تم جب تک مجھے معاف نہيں کروگی میں تمھارے قدموں سے نہيں اٹھونگا۔۔۔
نرگس کے آنسو اسکے پتھر بنی مورت سے بہہ نکلے ایسے جیسے پتھروں سے چشمے پھوٹتے ھیں۔۔۔
ان دونوں کا یہ عجیب منظر دیکھ کر نمل بھی وہیں پتھر کا بت بنی کھڑی رہی۔۔۔۔
نرگس نے جھک کر حافظ صاحب کو اوپر اٹھایا۔۔۔
وہ ہاتھ جوڑے بھی اسکے سامنے گڑگڑا رھے تھے۔۔۔
مجھے معاف کر دو انکے کپکپاتے ہاتھ سسکتے لب لرزتی آواز دہائیاں دیتے الفاظ نمل کا دل چیرنے لگے۔۔۔
نرگس نے اپنے آنسو صاف کر کے صرف اتنا کہا نمل میری بیٹی ھے؟؟؟؟؟ کیونکہ مسز عارف نے ہی انکو بتایا تھا کہ نمل کے بابا آۓ ھوۓ ھیں اسلیے وہ انکے ساتھ سارا ٹائم اسپینش کرتی ھے۔۔۔۔
حافظ صاحب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
نمل دیان کو لیۓ یہ بات سن کر وہیں سیڑھی پر دھپ سے بیٹھ گٸ روح اپنے جسم و جاں سے نکلتی محسوس ھوئ۔۔۔
دیان رونے لگا نرگس اور حافظ صاحب نے ایک ساتھ نمل کو دیکھا۔۔۔۔
حافظ صاحب نے آگے بڑھ کر دیان کو گود میں لیا اور نمل کا ہاتھ پکڑ نرگس کے پاس لایا۔۔۔۔
میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا کہ تمھاری ماں نہیں ھے۔۔۔
نمل بیٹا ماں ھے تمھاری یہ۔۔۔۔
نمل نے پہلے بابا کو دیکھا پھر نرگس کو دیکھا سانسیں حلق میں گھٹ کر رہ گئیں۔۔۔۔
ایک طرف اسکے کان میں حافظ صاحب کی آواز گونجی۔۔۔
ماں ھے تمھاری یہ۔۔۔۔
دوسری طرف جازب کی آواز تھی
ماں ھے یہ میری۔۔۔۔
پھر اسے جازب کا خود کو چھونا یاد آیا۔۔۔
اس نے اپنے ھونٹوں پر ٹرانس کی صورت بے یقینی سے ہاتھ پھیرا جہاں جازب کا لمس آج بھی اسے محسوس ھو رہا تھا۔۔۔
وہ یہ سوچ کر اپنے ھوش کھو بیٹھی کہ اگر نرگس اسکی ماں ھے تو کیا اسکی ذلت کا سبب بننے والا جازب اسکا بھاٸ ھے ؟؟؟
جاری ھے۔۔۔۔۔۔
