Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 41)

Bad Bakhat by Arshi Noor

اب وہ لوٹ کر آنا بھی نہیں چاہتی وہ رکی نہیں اور گاڑی میں بیٹھے بابو کی طرف لپکی۔۔۔۔

بابو گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا…

عضد بے یقینی سے بھاگتے ھوۓ اسکے پیچھے آیا تھا لیکن وہ باہر کا دروازہ عبور کر چکی تھی….

بابو نے دیر نا لگائ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی گاڑی فراٹے بھرتی ھوئ غائب ھو گئ رتابہ بہت دور تک بھاگی تھی گاڑی کے پیچھے…..

سب لوگ اسے رک رک کر دیکھ رھے تھے اسکی آواز بلکل بیٹھ گئ تھی چلا چلا کر۔۔بابو رک جاؤ ۔۔۔بابو ۔۔

تھک ہار کر وہ روڈ تک آ گئ تھی جہاں سے بابو کی گاڑی اسکی نظروں سے اوجھل ھوئ تھی وہ اپنے ننگے سر ننگے پاؤں روڈ پر ہی بیٹھ گئ اسکا دوپٹہ اسکے کندھوں پر جھول رہا تھا بال بکھر کر زانوں اور چہرے پر پھیلے ھوۓ تھے۔۔۔۔

عضد اسکے پیچھے ہی تھا اسے دور سے روڈ پر بیٹھا دیکھ کر وہ رک گیا۔۔۔۔

رتابہ نے روتے ھوئے سر اپنے گھٹنوں پر رکھا میرا بچہ میرا دیان یا رب اسے اپنی امان میں رکھنا میں تو تیرے ھوتے ھوۓ بھی بے امان رہی میرے بچے کو بے امان نا کرنا وہ رو رو کر ہلکان ھو گئ عضد اسکے قریب آیا۔۔۔

عضد کی سانسوں سے سانسیں نہیں مل رہی تھیں وہ بھی ننگے پاؤں تھا۔۔۔

اپنے پاس رتابہ عضد کو محسوس کر چکی تھی لیکن سر اٹھا کر عضد کو دیکھنا بھی اس نے گوارا نا کیا۔۔۔

گھر چلو عضد کی بارعب آواز پر اس نے منہ پھیر کر کہا میرا کوئی گھر نہیں۔۔۔

یہاں روڈ پر تماشا مت کرو گھر چلو شرافت سے عضد نے اسکا ہاتھ پکڑا تو رتابہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اٹھ کر سروس روڈ کے کنارے چلنے لگی وہ بلکل پاگل ھو گئ تھی دیان کے غم میں عضد اسکے پیچھے پیچھے تھا۔۔۔

رتابہ میں تم سے کہہ رہا ھوں گھر چلو اسطرح میں تمھیں نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔

وہ غصے سے لال پیلی ھوتی عضد کیطرف پلٹی اور چنگھاڑتے ھوئ بولی چھوڑ نہیں سکتے تو بخش دو مجھے نہیں جانا مجھے تمھارے ساتھ کبھی بھی نہیں چلے جاؤ یہاں سے ورنہ یہاں روڈ پر سر پٹخ پٹخ کر میں اپنی جان دے دونگی۔۔۔۔

علی ابھی آفس سے واپس آ رہا تھا وہ ان دونوں کے قریب سے گزر گیا لیکن گلی کا موڑ کاٹتے ھوۓ سائیڈ گلاس میں اسے عضد نظر آیا اس نے گاڑی آگے بڑھائ لیکن عضد کو دیکھ کر واپس مڑا اور گاڑی عضد کے پاس لا کھڑی کی۔۔۔۔

اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ دونوں یہاں سڑک پر کیا کر رہے تھے۔۔۔۔

وہ جلدی سے باہر نکلا کیا ھوا عضد ، عضد اسکی آواز سن کر رک گیا۔۔۔۔

لیکن رتابہ تیز تیز قدموں سے راستوں سے بے خبر آگے بڑھتی چلی گئی اسے اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہی ھے

بس دیوانہ وار عضد کی آوازوں سے اپنے کان بہرے کیے چلتی رہی۔۔۔۔

عضد کیا بتاتا علی کو اسکی حالت دیکھ کر علی بہت پریشان ھو گیا تھا یار اسے روک لو۔۔۔

ھوا کیا ھے کچھ بتاؤ بھی۔۔۔۔

بات کرتے ھوئے ان دونوں کی نظر رتابہ پر تھیں جو ایک پل بھی نا ٹھہری تھی۔۔۔

بتا دونگا سب لیکن تم اسے روک لو مایا بھی انکو ڈھونڈتی ھوئ پیچھے آگئ۔۔۔

مایا کو دیکھ کر علی نے صرف اتنا کہا کہ تم اسے گھر لے کر جاؤ میں آتا ھوں علی نے عضد کے کندھے پر ہاتھ رکھا تم جاؤ میں دیکھتا ھوں اسے۔۔۔۔

مایا نے ہاتھ پکڑ کر عضد کو گاڑی میں بٹھایا اور گھر لے گئ اسے رتابہ علی کو اندھیرے میں نظر نا آئ تھی کیونکہ وہ بہت دور جا چکی تھی۔۔۔۔۔

عضد تم کیوں پاگلوں کیطرح behave کر رھے ھو اس نے جانا تھا وہ چلی گئ اگر اسے تمھاری محبت یا عزت کی ذرا بھی پرواہ ھوتی تو وہ ایک قدم اور نا اٹھاتی تمھاری بات سن کر۔۔۔۔

کہیں نہیں جا سکتی وہ عضد کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ مایا کی ھمت ہی نا ھوئ دوبارہ رتابہ کا نام لینے کی۔۔۔

علی بہت پریشان تھا کہ ایسا بھی کیا ھوا تھا وہ گاڑی میں بیٹھ کر رتابہ کے پیچھے آیا رتابہ رکو۔۔۔۔

وہ علی کی آواز بھی ان سنی کر کے چلتی رہی اپنے ھوش و حواس میں نہیں تھی وہ۔۔۔

علی گاڑی سے باہر نکل کر اسکے سامنے آن کھڑا ھوا وہ یک دم علی کو سامنے دیکھ کر رکی۔۔۔

کیا ھوا ھے رتابہ؟؟؟ لڑائ ھوئ ھے عضد سے؟؟؟؟؟

اس نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔

ھوا کیا ھے بتاؤ گی کچھ۔۔۔۔

دیان میرا بچہ اسکے آنسو دیکھ کر اور دیان کا نام سن کر علی چونکا کہ کیا ھوا ھے دیان کو؟؟؟؟

وہ لے گیا دیان کو…..

کون لے گیا دیان کو؟؟؟علی کو کچھ سمجھ نا آئ۔۔۔۔۔

بابو لے گیا میرے بچے کو اسکی آواز حلق سے نہیں نکل رہی تھی لیکن اسکے گلے کی کھنچتی رگیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ کس قدر اذیت سے رو رہی تھی۔۔۔۔

اچھا چلو گھر چل کر بات کرتے ھیں۔۔

نہیں جانا مجھے گھر۔۔۔

میرے بچے کے پاس لے چلو مجھے وہ مار دیگا میرے بچے کو میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ھوں علی بچا لو میرے بچے کو خدا کا واسطہ ھے علی میرے بچے کو بچا لو۔۔۔

علی پریشان ھو گیا کہ کون لے گیا دیان کو؟؟؟؟؟؟

بتاؤ تو سہی کون لے گیا ھے دیان کو؟؟؟

بابو لے گیا دیان کو بچا لو اسے وہ مار ڈالے گا میرے بچے کو میں پاؤں پڑتی ھوں تمھارے وہ اسکے قدموں میں بیٹھ گئ۔۔۔

علی نے اسے اٹھایا اپنے قدموں سے۔۔۔۔۔

اچھا اٹھو بتاؤ مجھے ھوا کیا ھے؟؟؟؟

علی نے بڑی مشکل سے اسے گاڑی میں بٹھایا اور پانی کی بوتل اسکی طرف بڑھائ۔۔۔

لو پانی پیو اور آرام سے بتاؤ کیا ھوا؟؟؟

اس نے پانی کا ایک گھونٹ نا پیا اور ہچکیاں لیتی ھوئ بولی۔۔۔

بابو لے گیا میرے بچے کو وہ کہتا ھے وہ اسکا باپ ھے جھوٹ بولتا ھے وہ اسکا باپ نہیں ھے۔۔۔۔۔

علی کو کچھ سمجھ نا آیا وہ کہہ کیا رہی ھے؟؟؟؟ کون بابو؟؟؟

کہاں سے آیا وہ اور دیان کا باپ ھونے کی بات کیوں کر رہا ھے؟؟؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی سہی سے بتاؤ میں ضرور تمھاری مدد کرونگا۔۔۔۔

اس نے روتی بلکتی ھوئ رتابہ کو بے بسی سے دیکھ کر کہا میں سب جانتا ھوں تمھارے بارے میں مجھے نرگس آنٹی نے بتایا تھا اعتبار کر سکتی ھو تم مجھ پر علی نے بڑی نرمی اور محبت سے اپنے الفاظ کی ادائیگی کی۔۔۔۔

رتابہ اپنی خالی جھولی میں نظریں جمائے بولی بابو گوپال ماما کا داماد تھا۔۔۔۔

شروع سے ہی اسکی بری نظر تھی مجھ پر اس سے مجھے بچانے کی خاطر ماما نے مجھے خود سے دور کر دیا تھا۔۔۔

وہ الٹے سیدھے الزام لگانے اور دھمکانے لگ گیا تھا ماما کو اب اسے میرے بچے کا اس گھر کا میری ساری زندگی کا علم کیسے ھوا میں نہیں جانتی۔۔۔۔

مجھے نہیں پتہ وہ کیسے یہاں تک پہنچا اور اسے کس نے بتایا کہ دیان۔۔۔۔آگے رتابہ کی ھمت ہی نا ھوئ بولنے کی وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی۔۔۔

لیکن وہ دیان کو لیکر کیسے گیا؟؟

وہ میرا پیچھا کرتے ھوۓ گھر تک آیا اور گلی میں شور شرابہ کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔

عضد اسے اندر لے آیا۔۔۔۔

اور مجھ سے دیان کو چھین کر بابو کے حوالے کر دیا کیونکہ بابو ثبوت دینے کو تیار ھے کہ دیان اسکا ہی بچہ ھے عضد نے اسکی باتوں پر یقین کر لیا ھے۔۔۔۔

لیکن میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ھوں بابو کا بچہ نہیں ھے وہ بابو کی ھوا سے بھی مجھے اللہ رب العزت نے اور گوپال ماما نے دور رکھا وہ رو رو کر علی کو یقین دلا رہی تھی کہ بابو اسکے بچے کا باپ نہیں۔۔۔

علی نے غصے سے پنچ اسٹیرنگ پر مارا لیکن عضد یہ بے وقوفی کیسے کر سکتا ھے؟؟؟؟

ضرور کوئ نا کوئ strong reason ھوگا ورنہ اتنا بڑا قدم عضد صرف بابو کے بہکاوے میں آکر نہیں اٹھا سکتا۔۔۔

کہیں نا کہیں اور بھی لوگ ھوں گے جنہوں نے تمھارے حالاتِ زندگی پر نظر رکھی ھوئ ھے خیر تم فکر نا کرو میں کچھ کرتا ھوں۔۔۔۔

ابھی گھر چلو۔۔۔۔

نہیں مجھے اب اس گھر میں نہیں جانا۔۔۔۔۔

علی کے لہجے میں جہاں بھر کی حیرت تھی کیوں نہیں جانا۔۔۔۔

وہ اپنے چہرے کا رخ پھیر کر بولی بس نہیں جانا آپ مجھے کہیں بھی لے جائیں کسی یتیم خانے میں کسی ٹرسٹ میں لیکن گھر کا نا کہیں۔۔۔۔۔

اسکی بے بسی اسکی لاچارگی اسکی سسکیوں سے امڈ امڈ کر باہر آ رہی تھی میرا کوئ گھر نہیں اس کے آخری الفاظ اتنے کربناک تھے کہ علی کی آنکھیں بھی نم ھو گئیں اسکا ایک ایک لفظ بین کر رہا تھا۔۔۔

ھمارے ھوتے ھوۓ تم کسی ٹرسٹ کا کسی یتیم خانے کا حصہ نہیں بن سکتی تم چلو ساتھ میں عضد سے بات کرتا ھوں دیان کو لے آئیں گے ھم۔۔۔

مجھے گھر نہیں جانا مجھے میرے بچے کے پاس لے جاؤ خدا کا واسطہ ھے میرے بچے کا پتہ کر دو میں چلی جاؤنگی اپنے بچے کو لیکر کہیں دور۔۔۔۔

دیان بھی مل جائے گا تم فکر نا کرو میں ساتھ ھوں تمھارے۔۔۔

تم نہیں جانتے بابو کتنا ظالم انسان ھے مار دیگا وہ میرے بچے کو۔۔۔۔۔

اچھا تم رونا تو بند کرو۔۔۔

بابو اسکو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ وہ جانتا ھے کہ تم تک پہنچنے کا راستہ صرف دیان ھے بس تم کچھ حوصلہ کرو میں کچھ کرتا ھوں وہ گاڑی گھر کی طرف لانے لگا۔۔۔۔۔

تو رتابہ نے اسے پھر کہا وہ گھر نہیں جائیگی۔۔۔۔

رتابہ تم پاگل تو نہیں ھو گئ کہاں جاؤگی پھر آخر کو گھر تو تمھارا وہی ھے نا۔۔۔۔

نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔

وہ بچوں کیطرح نا میں سر ہلا کر بولی وہ گھر نہیں جاۓ گی۔۔۔

اچھا تو پھر بولو کہاں لے جاؤں تمھیں؟؟کوئ اور ٹھکانا ھے تمھارا؟؟

وہ بے بسی سے اپنے ھونٹ کاٹنے لگی کہ خدا کی اتنی بڑی دنیا میں اسکے لیۓ کوئ جگہ نا تھی۔۔۔۔

اور وہ اسوقت نمل کے پاس لاھور بھی نہیں جا سکتی تھی نرگس جو اسکی سب سے بڑی ڈھال تھی وہ بھی یہاں نہیں تھی۔۔۔۔

علی نے گاڑی گھر کے راستے سے واپس لی اور سیدھا رتابہ کو اپنی ماں کے پاس لے آیا راستے میں رتابہ کو علی نے اپنے بارے میں سب کچھ بتایا۔۔۔۔

اسکا سچ سن کر رتابہ مذید دکھی ھو گئ کہ وہ انکو کتنا خوشحال سمجھتی تھی۔۔۔

لیکن ہر اک انسان کی زندگی میں کوئ نا کوئ دردناک کہانی ضرور ھوتی ھے زندگی جنت کسی کی بھی نہیں ھوتی۔۔۔

رتابہ نے علی کو منع کیا کہ وہ اسکے بارے میں کچھ نا بتاۓ اپنی ماں کو علی نے بڑے پیار سے سر ہلا کر اسے مطمئن کیا۔۔۔۔

راستے میں علی نے گاڑی شاپنگ مال کے باہر روکی اور رتابہ کے ننگے پیروں میں جوتے ڈالنے کیلئے اترا۔۔۔۔

تین چار سائز کے جوتے گاڑی میں لایا کہ اسے ننگے پاؤں مال میں نہیں لے جا سکتا تھا۔۔۔

رتابہ کو ایک جوڑی فکس آئ تو پھر اسے اتار کر وہ مال کے اندر لے گیا کہ وہ وہاں اپنا حلیہ کچھ ٹھیک کر سکے۔۔۔۔۔

علی کے پاس اپارٹمنٹ بھی تھا جو اس نے دو دن پہلے لیا تھا مایا اور اپنے لیے لیکن وہ اسے اکیلا وہاں نہیں لے جا سکتا تھا کہ وہ پہلے ہی اتنی خوفزدہ تھی ایسے میں وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا نا اسکے ساتھ وہ اپارٹمنٹ میں اکیلا رہ سکتا تھا۔۔۔۔

عضد کی موجودگی میں اپنی بہن کیساتھ وہ گراؤنڈ پورشن پر رہتا تھا وہ ایک الگ بات تھی لیکن اکیلے اسکے ساتھ رہنا علی کو خود مناسب نا لگا۔۔۔

اور نا ہی رتابہ رہ سکتی تھی گھر اسکا قریب آن پہنچا تھا۔۔۔۔

سنو تمھیں بابو کا کوئی ایڈریس معلوم ھے ؟؟؟

رتابہ نے نا میں سر ہلایا۔۔۔۔

گوپال کا؟؟؟؟

اس نے پھر نا میں سر ہلایا۔۔۔۔

اوہ شٹ یار تمھیں کچھ معلوم بھی نہیں علاقے کا نام معلوم ھے؟؟؟؟

جی نارتھ کراچی۔۔۔۔۔

ھمممم ٹھیک ھے علی لہجے میں سنجیدگی سمو کر بولا لو آگیا میرا گھر۔۔۔۔

رتابہ نے گردن گھما کر گھر کیطرف دیکھا اچھی خاصی بڑی حویلی تھی وہ علی کی گاڑی اندر داخل ھوئ سب گاڈز نے ایک ساتھ کھڑے ھو کر علی کو سلام کیا۔۔۔

علی ان سب کو مسکراتا ھوا جواب دیکر رتابہ کو لیے اندر آیا اسکی ماں سامنے ہی نماز پڑھ رہی تھی۔۔۔۔

سلام پھیرتے ہی وہ علی کو دیکھ کر پھولے نا سمائ میرا بچہ میرا لعل۔۔۔ماں صدقے اس نے اٹھ کر علی کا ماتھا چوما۔۔۔۔

رتابہ انکے چہرے کو دیکھتی رہ گئ اتنا پرنور چہرہ جیسے کوئ بزرگ ھستی ھو۔۔۔۔۔

رتابہ نے انکو سلام کیا۔۔۔۔

علی نے رتابہ کا تعارف کروایا۔۔۔۔

ماں جی یہ عضد شاہ کی بیوی ھے وہ کسی کام سے لندن گیا ھے مایا بھی ساتھ ہی ھے یہ اکیلی تھی گھر میں اسے یہاں لے آیا۔۔۔۔

علی کی ماں (سبحانہ) نے رتابہ کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا تو رتابہ کی پلکوں سے آنسو ٹوٹ کر بکھرے جسے اس نے جلدی سے صاف کیا۔۔۔۔آؤ بیٹا آؤ۔۔۔۔۔۔

اسے اپنا ہی گھر سمجھو عضد میرے بیٹوں جیسا ھے۔۔۔۔

علی کھڑے کھڑے واپس لوٹنا چاھتا تھا۔۔۔۔

امی میں کچھ دنوں میں اسے لے جاؤنگا یہاں سے آپ نے اسکا بہت خیال رکھنا ھے۔۔۔۔

سبحانہ نے گھر کے سارے افراد کو آواز دیکر بلوایا۔۔۔۔

علی نے جاتے ھوئے رتابہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو اسکی آنکھیں پھر سے چھلک پڑیں بھائ ھوں تمھارا فکر نا کرو سب بہتر ھوگا۔۔۔۔۔

__________________

علی کافی دیر سے گھر لوٹا تو عضد اپنے کمرے میں زندہ لاش کیطرح پڑا ھوا تھا کمرے کی ہر چیز بکھری ھوئی تھی۔۔۔

علی اسکے پاس آکر کھڑا ھوا عضد۔۔۔

عضد بلکل بہرہ سا ھو گیا تھا۔۔۔

عضدددد علی نے گہری آواز سے اسے پکارا وہ اٹھ کر بیٹھا۔۔۔

رتابہ کہاں ھے؟؟؟؟نہیں آئ تمھارے ساتھ بھی پھر کہاں گئ وہ۔۔۔

میں اسے امی کے پاس چھوڑ آیا ھوں بہت جذباتی اور غصے کی کیفیت میں تھی وہ زبردستی گھر نہیں لا سکتا تھا ایک دو دن میں لے آؤنگا۔۔۔۔۔

لیکن مجھے تم بتاؤ کیا ھوا ھے یہ سب؟؟؟ دیان کو تم نے بابو کے حوالے کیوں کیا؟؟؟؟

عضد کی آواز آنسوؤں سے بوجھل تھی جسکا بچہ تھا وہ لے گیا۔۔۔۔

تم کیسے یقین سے کہہ سکتے ھو کہ وہ بابو کا ہی بچہ تھا؟؟؟

میں نہیں بتا سکتا عضد نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

نرگس آنٹی نمل اور جازب کو کیا جواب دوگے؟؟؟؟یہی کہ نہیں بتا سکتے۔۔۔۔

یار نہیں بتانا چاھتا میں کچھ بھی عضد غصے میں تھا۔۔

تم جانتے ھو جسکے حوالے تم نے دیان کو کیا ھے وہ کون ھے؟؟ گلی گلی پھرنے والا آوارہ کتا ھے وہ یار مجھے تو حیرت ھوتی ھے تم پر۔۔

چار سال تم رتابہ کے ساتھ رھے تمھیں اتنا بھی اندازہ نہیں ھوا کہ وہ معصوم بھی ھو سکتی ھے؟؟؟

عضد نے اندرونی کرب سے اپنی مٹھیاں بھینچی تو اسکے اعصاب تن گۓ میں بھی یہی سمجھتا تھا لیکن۔۔۔ آگے وہ خاموش ھو گیا علی ایک ٹک دانت پیستے ھوۓ اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

میں نہیں ڈسکس کرنا چاھتا اسے تم سے یا کسی سے بھی۔۔۔۔۔

علی اپنا غصہ ضبط کرتے ھوے بولا تمھیں کس نے کہا وہ گنہگار ھے اور دیان کا باپ بابو ھے کیا تم نے صرف بابو کی سنی ھے یا کوئ اور بھی ھے اس رام کہانی کے پیچھے؟؟

جس نے بھی کہا تم رہنے دو اس بات کو عضد کچھ بھی کہنے کو تیار نا تھا۔۔۔۔

علی نے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال کر پوچھا دیان کو کہاں لیکر گیا ھے بابو؟؟؟

مجھے نہیں معلوم عضد نے سادہ لہجے میں جواب دیا۔۔۔

اگر اس نے اس معصوم کو جان سے مار دیا تو؟؟

کوئ باپ اپنے بچے کو جان سے نہیں مار سکتا عضد نے سرد مہری سے جواب دیا۔۔۔۔

علی نے بہت کوشش کی کہ عضد اسے کچھ بتاۓ لیکن عضد نے اسے مایوس ہی لوٹایا جاتے ھوۓ وہ عضد کو کہہ گیا دیان کو میں ڈھونڈ لونگا اور یہ ثبوت بھی تمھیں اب میں پیش کرونگا کہ وہ بابو کا بچہ نہیں ھے۔۔۔۔۔

لیکن تم پھر اتنا سوچ لینا اگر دیان کو کچھ ھوا تو رتابہ ماں تمھارے بچے کی بھی بننے والی ھے۔۔۔۔۔

عضد نے پریشانی سے ہاتھ مسلتے ھوۓ علی کو دیکھا کہ وہ تو یہ بات بھول ہی گیا تھا کہ رتابہ امید سے تھی۔۔۔

علی نے مذید حقائق پر روشنی ڈالی اور تو اور نرگس آنٹی کی جان ھے اس بچے میں تم اسکے ماضی کے جوش میں اتنے ھوش کھو بیٹھے کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تک نہیں کہ آگے ھوگا کیا؟؟؟

علی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اسکی حالت کافی قابل رحم تھی علی اسے کہے بنا نا رہ سکا۔۔۔

رتابہ کے بغیر تم رہ نہیں سکتے اور اسے اپنے ساتھ رکھنے کا ڈھنگ بھی تمھیں نہیں آتا تم اتنے کمزور مرد ھو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔

علی بڑے افسوس سے کہہ کر مذید نا رکا چلا گیا اسکے کمرے سے۔۔۔۔

پھر مایا کے کمرے میں آکر اسے ساری حقیقت پتہ چلی کہ ھوا کیا تھا۔۔۔۔

یہ سب سن کر وہ پریشان ھو گیا تھا کہ بابو یہاں تک آیا کیسے؟؟؟؟

مایا بندیا کا نام حذف کر گئ تھی۔۔۔۔۔

اور رتابہ کے تمام حالات کا بابو کو کیسے علم ھوا؟؟؟؟ کون تھا اس سب کے پیچھے؟؟؟

علی اپنی سوچوں میں گم اپنے بستر پر آ کر لیٹا۔۔۔

اور سوچتا رہا کہ دیان تک کیسے پہنچا جاۓ؟؟اس سے صبر نا ھوا اس نے نرگس آنٹی کو کال کی کہ وہ جلد از جلد کراچی پہنچے۔۔۔

صبح نرگس کی فلائیٹ تھی۔۔۔

اس نے نرگس کو عضد کے ایکسیڈینٹ کا کہا کہ ہلکی سی چوٹ آئ ھے نرگس عضد کا سن کر کافی پریشان ھوئ تھی۔۔۔۔

علی نے انکو کال کرنے سے منع کیا کہ وہ آرام کر رہا ھے۔۔۔۔۔

صبح سوئم تھا اسکی بھابھی کا وہ سوئم پورا کر کے ایمرجنسی فلائیٹ کے ذریعے کراچی پہنچی۔۔۔۔۔۔

علی پولیس کو بھی انفارم نہیں کر سکتا تھا کہ بات رتابہ اور اسکے بچے کی تھی۔۔۔

رتابہ سو بار اسے فون کر کے دیان کا پوچھ چکی تھی۔۔۔

عصر کی اذان کیساتھ ہی نرگس کراچی ائیرپورٹ پر تھی علی ہی اس کو ریسیو کرنے آیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور اپنے جھوٹ بولنے پر معذرت کی۔۔۔

دیان کا سن کر شدت جذبات سے نرگس کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا وہ سر پیٹ کر رہ گئ کہ یہ عضد نے کیا کیا تھا؟؟

گھر آتے ہی نرگس اسکے کمرے میں گئ وہ آفس نہیں گیا تھا اپنے کمرے میں ٹیبل پر ٹانگیں پھیلائے سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگاتاصوفے پر نیم دراز تھا۔۔۔۔۔

نرگس کی طرف اسکی پیٹھ تھی۔۔۔

اندر آتے ہی نرگس کو اچانک سامنے دیکھ کر اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکا امی آپ۔۔۔

نرگس نے عضد کے منہ پر طمانچوں کی برسات کر دی وہ بوکھلا کر رہ گیا۔۔۔۔

کیا ھوا ھے امی آپ کو اس نے نرگس کے ہاتھ پکڑے۔۔۔۔

کیا کیا ھے تم رتابہ کیساتھ؟؟؟ کہاں ھے میرا بچہ دیان؟؟

نرگس اسے گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ جھنجھوڑ کر پوچھ رہی تھی بتاؤ مجھے کہاں ھے دیان؟؟؟

وہ بمشکل نرگس کی طرف دیکھ کر بولا جسکا بچہ تھا وہ لے گیا ھے اسے۔۔۔

نہیں ھے وہ بابو کا بچہ نرگس کی آواز پورے کمرے میں گونجی۔۔

امی اسی کا ھے وہ بچہ جو کچھ اس نے مجھے بتایا ھے اور لوگوں نے جہاں آپکی لاڈلی رہ کر آئ ھے اور جنکے ساتھ رہی ھے ان سے پوچھی ھے ساری حقیقت۔۔۔۔

اسکا ظاہری سراپا کچھ اور ھے امی اور باطن کچھ اور۔۔۔۔۔۔

نرگس کو بہت بڑا دھچکا لگا تھا اسکی اتنی کاوشوں کے بعد وہ دونوں ایک ھونے جا رھے تھے کیا ھوا تھا ایسا انکے بیچ کس کی باتوں پر عضد ایمان کے آیا تھا اور دیان۔۔۔۔

دیان کو تو اس نے اپنے سینے سے لگا کر پالا تھا وہ کیسے جدا ھو سکتی تھی اس سے اور نمل۔۔۔نمل کی تو وہ زندگی کی امید اسکے جینے کا سہارا بن چکا تھا۔۔۔۔

یہ کیا کیا عضد تم نے کیا کیا وہ فرش پر بیٹھ گئیں مجھے دیان چاھیے کسی بھی قیمت پر اسے لے کر آؤگے اب تم رتابہ کا ماضی کیا تھا مجھے اس سے کوئ دلچسپی نہیں مجھے میرا بچہ چاھیے جانتے بھی ھو دیان نمل کی زندگی ھے۔۔۔۔۔

تمھارا بھائ باپ نہیں بن سکتا ساری زندگی کیلیے اس نے دیان کو اپنا بیٹا تسلیم کر لیا تھا عضد تم نے سب کچھ پل بھر میں سب تباہ کر دیا۔۔۔۔

تمھارے ہاتھ ذرا نہیں کپکپاۓ اس معصوم کو ماں سے چھینتے ھوۓ نرگس بہت زیادہ رو رہی تھی۔۔۔۔

میں تمھیں اپنا دودھ نہیں بخشونگی مجھے میرا بچہ میرا دیان اور میری بہو لا کر دو اس نے بلکتی ھوئ نرگس کو نیچے فرش سے زبردستی اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا۔۔۔

امی آپ نہیں جانتی بابو کو اس نے عدالت تک کی دھمکی دی ھے کہ وہ کیس کر دیگا ھم پر اگر میں نے اسے اسکا بچہ نا دیا تو۔۔۔۔۔

نرگس اپنا سر پکڑ کر رہ گئی۔۔۔

اس نے تمھیں ڈرایا اور تم اسکی گیڈر بھگتیوں سے ڈر گۓ۔۔۔۔

امی بچہ نہیں ھوں میں کہ کوئ میری انگلی تھام کر مجھے جس راہ پر چاھے گا لے چلے گا میں نے پہلے ہر بات کی تصدیق کی ھے تب اسکے حوالے بچہ کیا ھے۔۔۔۔۔

اچھا Dna test لیا تم نے دیان اور بابو کا ھیں نا لاؤ مجھے دکھاؤ کہاں ھے تمھارا تصدیق نامہ نرگس آج اسے بخشنے کو تیار نا تھی۔۔۔

عضد غصے سے پاگل ھوتی ماں کو دیکھنے لگا جسے رتابہ کے بچے کا دکھ تھا لیکن وہ اپنے بچے کو سننے کو تیار ہی نا تھی۔۔۔۔

مجھے میرا بچہ لا کر دو ورنہ میری نظروں سے دور ھو جاؤ میں تمھارا منہ بھی نہیں دیکھونگی۔۔۔

مجھے تو حیرت ھو رہی ھے میں نے ایسی پرورش تو نہیں کی تھی تمھاری یہ شک یہ ظلم یہ زیادتیاں یہ سب کہاں سے سیکھ لیا تم نے عضد مجھے اس قدر تم دکھی کروگے میں نہیں جانتی تھی۔۔۔

امی آپ ایسا تو نا کہیں دیان کا غم ھے آپ کو اپنے بیٹے کی محبت بھول گئ ھیں آپ۔۔۔۔

محبت کونسی محبت تم نے کس قابل چھوڑا ھے میری ممتا کو میری محبت کو محبت ھو جس سے تو پھر اسکی برائیاں نہیں دیکھی جاتیں تم صرف اپنی ذات سے محبت کرتے ھو بس۔۔۔۔

تمھیں اپنی پاکیزگی دکھائ دیتی ھے صرف اتنے پاکیزہ نا بنو کہ تمھارے قابل میں بھی نا رھوں۔۔۔۔۔

وہ ماں کو حیرت سے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگا۔۔۔۔

وہ بچی بھی اسی رب کی بندی ھے جسکے تم ھو اگر یہ سب میرے ساتھ ھوتا کیا تم مجھے بھی اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیتے۔۔۔۔۔۔

عضد کی روح تک تڑپ گئی ایسا تو نا کہیں امی۔۔۔

کیوں نا کہوں میں ایسا میرے ساتھ بھی تمھارے ساتھ بھی کسی کے ساتھ بھی یہ سب ھو سکتا ھے نا۔۔۔۔۔

ذرا خوف خدا نہیں تمھارے اندر باپ بننے والے ھو اگر بیٹی کے باپ بن گئے تو ایسا نا ھو تمھارے ظلم کا ازالہ۔۔۔۔ آگے نرگس کی زبان بند ھو گئ۔۔۔۔

لیکن عضد کی روح تک کانپ کر رہ گئ۔۔۔۔۔۔

نرگس کی حالت کے پیش سبب اسے بندیا سے رابطہ کرنا پڑا۔۔۔۔

لیکن بندیا نے صاف انکار کر دیا کہ وہ نہیں جانتی بابو اب کہاں ھوتا ھے۔۔۔

عضد کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے ایک طرف رتابہ تھی جو اسے چھوڑ کر جا چکی تھی اور ایک طرف نرگس جو دیان کے ملے بغیر اسے کسی صورت چھوڑنے کو تیار نا تھی۔۔۔

عضد نے شاہ جی سے رابطہ کیا اور اسے اپنے آفس بلایا شاہ جی اس سے دو گھنٹے کا وقت لیا اور جب وہ اسکے آفس پہنچا تو وہاں سے جاتے ھوئے بندیا کو دیکھا کافی حیران ھوا وہ کہ بندیا یہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔

گاڑی کی چابی انگلی میں گھماتا وہ عضد کے آفس میں داخل ھوا سلام دعا ھوئ دونوں کے بیچ تو شاہ جی نے سب سے پہلے اس سے بندیا کا پوچھا۔۔۔

یار ابھی تمھارے آفس سے اک لڑکی کو جاتے ھوۓ دیکھا ھے جانتے ھو اسے کون ھے وہ؟

کون سی لڑکی عضد کے پوچھنے پر شاہ جی نے اسے نام بتایا بندیا نام ھے اسکا۔۔۔

نہیں پرسنلی تو نہیں جانتا جاب کیلیے آئ تھی عضد نے یہاں جھوٹ بولا کیونکہ وہ نہیں چاھتا تھا رتابہ کی ساری سچائ کسی اور کے سامنے کھلے چاھے وہ اسکا سگا بھائی ہی کیوں نا ھو۔۔۔

شاہ جی پانی پیتے ھوۓ بولا دے دے یار اسے جاب مجبور اور حالات کی ماری لڑکی ھے۔۔۔۔

اچھااااا تم کیسے جانتے ھو اسے عضد نے اپنا رویہ بظاہر نارمل رکھا۔۔۔۔

بس یار اتنا ہی جانتا ھوں بیچاری کیساتھ باپ اور شوہر نے ملکر دھوکہ کیا وہ بھی ایک لڑکی کی خاطر۔۔۔۔۔

شاہ جی کی بات سن کر عضد کے کان کھڑے ھو گۓ کہ ایک اور گواہ اسے رتابہ کے خلاف ملا تھا وہ کس کس کو جھٹلاتا۔۔۔

تم جانتے ھو اسکے باپ اور شوہر کو؟؟

نہیں میں بس اس سے ایک بار ملا تھا وہ بھی کچھ ماہ پہلے خیر چھوڑو یہ بتاؤ تم کیوں پریشان ھو اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا ھے مجھے؟؟

عضد کسطرح بتاتا اسے سچائ وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ رتابہ کا بیٹا اسکا باپ چھین کر لے گیا ھے اسے تلاش کرنا ھے کہ نرگس نے اسے اپنے بچوں کیطرح پالا تھا وہ اسکے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔

شاہ جی بھی سن کر کافی پریشان ھوا تھا بابو کا کچھ علم نا تھا عضد کو سوا اسکے کہ وہ ھندو ھے اور اسکا نام بابو ھے۔۔۔۔

شاہ جی نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے ساتھیوں کو کال کی اور بابو کو ڈھونڈنے کا کہا اور اسکا ظاہری حلیہ عضد کی زبانی بتایا۔۔۔۔۔

پھر اسے تسلی دیکر اٹھا کہ رات تک بابو کا پتہ چل جاۓ گا اتنے بڑے شہر میں بابو کو ڈھونڈنا ناممکن تھا لیکن شاہ جی کیلۓ یہ کوئ مسئلہ نہیں تھا۔۔۔۔ _____________________

رتابہ اپنے بچے کیلیے اسقدر بے چین تھی کہ اسکی بھوک پیاس بلکل ختم تھی۔۔۔۔

سب کی منت سماجت پر وہ بہت ہی مشکل سے ایک دو نوالہ منہ میں ڈال تو لیتی لیکن وہ نوالہ اسکے حلق سے نیچے نا اترتا۔۔۔

اور وہ قے کرنے کیلیئے واش روم بھاگ جاتی بہانا اسکے پاس پریگنینسی کا تھا۔۔۔۔

سبحانہ نے اسکا پل پل خیال رکھا اسکے لاکھ انکار پر بھی وہ اسے بہت چاؤ سے جوس پلایا رات بھی وہ اسکے ساتھ سوئ۔۔۔

یہاں آ کر رتابہ کو ایک پل کی بھی تنہائ میسر نا ھوئ تھی سبحانہ ساۓ کیطرح رتابہ کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔

وہ واش روم میں جا کر گھٹ گھٹ کر روتی رہی اور ساری رات بستر پر اسکی آنکھوں میں کٹ گئ کہ ناجانے اسکے بچے کیساتھ کیسا سلوک کر رہا ھوگا بابو۔۔۔

اس نے کچھ کھایا بھی ھوگا یا نہیں یا بھوک سے بلک بلک کر رو رہا ھوگا وہ ایک پل بھی اسے چین نا ملا اسکا لمحہ لمحہ کانٹوں پر لوٹتے ھوۓ گزر رہا تھا۔۔۔۔

فجر کی اذان میں ابھی کچھ وقت باقی تھا رتابہ ھمت کر کے اٹھی اور وضو بنا کر کمرے کے ایک کونے میں اپنے رب کے سامنے حاضر تھی۔۔۔۔

تہجد کے نوافل ادا کر کے اپنے آنسوؤں سے رب کو تلاشنے لگی ۔۔۔

یارب العالمین کہاں ھے تو؟؟؟؟

کہاں ھے تو؟؟؟؟

سجدے میں سر رکھنے سے پہلے اسکے آنسو سجدہ ریز تھے۔۔۔۔

دیکھ اپنی اس بد بخت کی بد بختی۔۔۔۔۔۔

آ جا اب تو ہی کسی روپ میں مسیحا بن کر تیرے دنیاوی خداؤں سے میں تھک چکی ھوں۔۔۔۔

تقدیر لکھنے والی تیری ہی ذات ھے نا تو پھر کیوں ان دنیاوی خداؤں کے ہاتھ میری قسمت کی تختی تھمائی جس پر ہر انسان اپنی اپنی مرضی کی کہانی میں میرے کردار کو ڈھال رہا ھے۔۔۔۔۔

یا اللہ تیری بارگاہ میں کب میری التجا پوری ھوگی؟؟؟ کیا میں اپنوں کیلئے اور اپنے بچے کیلیے اسی طرح ترستی رھونگی۔۔۔۔۔

جو اپنے بنے وہ بھی بیگانے ھو رھے ھیں اب اور کتنا امتحان باقی ھے یااللہ۔۔۔۔

میں اس سے زیادہ بوجھ نہیں سہہ سکتی رحم کر دے مجھ پر بھی میرے بچے پر بھی روتے روتے اسکی ہچکیاں بندھ گئی۔۔۔۔۔

یااللہ کوئ گواہ نہیں میری بے گناہی کا تو ہی آ جا اپنی بختی کے پاس آ کر گواہی دے میری بے گناہی کی یار۔ تیرے علاؤہ کون ھے جو میری حقیقت سے آشنا ھے میں تو خود سے بھی آشنا نہیں کہاں جاؤں کون ھے میرا تو ہی ھے میرا سب کچھ بس ایک بار مجھے میرے بچے سے ملا دے ایک بار مجھ پر رحم کر دے میرے رحیم۔۔۔۔

ہچکیوں سے اسکی آواز بلند ھونے لگی وہ واش روم میں چلی گئ کہ کہیں سبحانہ نا جاگ جاۓ۔۔۔۔۔

فجر کی اذان میں سبحانہ اٹھی تو اسے واش روم سے سسکیوں کی آواز سنائ دی اس نے دروازہ بجایا تو رتابہ جلدی سے منہ دھو کر باہر آئ۔۔۔۔

اسکی پلکیں جھکی ھوئ تھیں سبحانہ نے اسکا پانی اور آنسو سے تر چہرہ ہاتھوں میں لیا بیٹی میں بوڑھی ضرور ھوں لیکن اندھی نہیں۔۔۔

چہرے پر بہاتے پانی اور آنکھ سے بہتے پانی میں فرق کر سکتی ھوں بتاؤ کیا ھوا ھے؟؟؟

کیوں رو رہی تھی۔۔۔۔

کیا بتاتی وہ اپنی ذلت کی داستان کچھ نہیں آنٹی وہ عضد یاد آ رھے تھے بہت۔۔۔۔

نا بیٹا نا جھوٹ نہیں بولتے تمھارے یہ آنسو کسی کی یاد میں نہیں بہہ رھے بلکہ انکی داستان تمھارے چہرے پر رقم ھے کہ تمھاری روح تک گاہل ھے کسی کے گہرے غم میں گھل رہی ھو۔۔۔۔۔

رتابہ نے آنسو کے بوجھ تلے دبی پلکیں اٹھا کر سبحانہ کو دیکھا جس نے اسکے بے زبان آنسوؤں کا ان کہا درد بھی جانچ لیا تھا انکی نگاھیں رتابہ کی روح تک کو ٹٹول چکی تھیں۔۔۔۔۔

رتابہ کا دل چاہا وہ انکے گلے سے لگ جاۓ اسے سبحانہ میں نرگس کا پیار بھرا چہرہ دکھائی دیا تو وہ اس سے لپٹ گئ۔۔۔۔۔

رتابہ کو سینے سے لگائے ہوئے سبحانہ کے دل سے اسکے درد کی ھوک سی اٹھنے لگی بہت بے چین ھو گئ تھی سبحانہ اسے سینے سے لگا کر۔۔۔۔۔

پھر روتی ھوئ رتابہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔۔۔

بیٹا کس اذیت سے گھٹ گھٹ کر جی رہی ھو چاھو تو بتا سکتی ھو اس نے دوپٹے کے پلو سے ناک کا بہتا پانی صاف کیا۔۔۔۔

ابھی میں کچھ نہیں بتا سکتی آپکو بس میرے حق میں دعا کریں اللہ پاک میرے لیۓ آسانی کرے۔۔۔۔

سبحانہ نے اسے زیادہ فورس نا کیا چلو ٹھیک ھے تمھاری مرضی ھے جب دل مانا تو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لینا۔۔۔۔

لیکن یوں باتھ روم میں چھپ چھپ کر مت رونا اللہ کے آگے آنسوؤں کی جھڑی لگانا نا جانے اسے کونسا آنسو تمھارا پسند آ جاۓ اور تمھاری مشکل آسان ھو جاۓ۔۔۔۔۔۔

سبحانہ اسے پیار سے دلاسا دیتی ھوئ وضو بنانے چلی گئ۔۔۔۔۔۔

___________________

نرگس نے کھانا پینا چھوڑ رکھا تھا اور نا وہ رتابہ سے ملی تھی۔۔۔

وہ دیان کے بغیر نہیں جانا چاھتی تھی رتابہ کے سامنے۔۔۔۔۔

شاہ جی کو جلد ہی بابو کا پتہ چل گیا تھا وہ عضد کے آفس پہنچا تو وہاں علی بھی موجود تھا۔۔۔

وہ تینوں اک ساتھ نکلے بابو کے ٹھکانے پر بابو تک یہ خبر کسی نے پہنچا دی تھی کہ شاہ جی کے بندے اسے ڈھونڈ رھے تھے۔۔۔۔

وہ شاہ جی کا نام ہی سن کر اتنا خوفزدہ ھوا کہ اپنے اڈے سے ہی فرار ھو گیا دیان اسکے گھر میں بند کمرے میں تھا خوف کے مارے بابو گھر جا ہی نا سکا وہ جانتا تھا کہ شاہ جی کو سچائ کا علم ھوا تو وہ اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا۔۔۔

شاہ جی عضد اور علی تینوں ایک ساتھ اسکے گھر پہنچے گیٹ پر تالا تھا۔۔۔

شاہ جی کے ایک آدمی نے فائر سے گیٹ کا تالا توڑا۔۔۔۔

عضد ان سب سے پہلے اندر داخل ھوا دیان ایک کمرے میں فرش پر بے سدھ پڑا ھوا تھا۔۔۔۔۔

عضد اس بچے کو دیکھ کر پسینے پسینے ھو گیا اور آگے بڑھ کر اسے گود میں لیا۔۔۔۔۔

اسکی ننھی ننھی سانسیں سست رفتاری سے چل رہی تھیں آنسو اسکے معصوم سے چہرے پر جمے ھوۓ تھے اور بخار کی حدت سے وہ تپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

آج پہلی بار عضد نے اسے گود میں لیکر اتنے قریب سے دیکھا تھا اسے دیان کے چہرے میں اپنے بچپن کے نقوش محسوس ھوۓ۔۔۔

علی اور شاہ جی بھی اندر آۓ۔۔۔۔

علی نے دیان کو عضد کی گود سے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ منٹوں میں ھو سپٹل پہنچ گۓ۔۔۔۔۔۔

بابو کو گھر میں تلاش کرتے ھوۓ واش روم میں ٹنگے ٹاول سے علی نے بابو کے بالوں کا سیمپل لے لیا تھا۔۔۔۔

__________________

دیان کچھ گھنٹوں کی ٹریٹمنٹ سے کچھ بہتر ھوا تو اپنی ہراساں آنکھوں سے ٹکر ٹکر ان کے چہروں کو دیکھنے لگا پھر خوف کے مارے رونے لگ گیا۔۔۔۔

علی جلدی سے اسکے سامنے آیا تو علی کو دیکھ کر اس نے اپنے ننھے ننھے سے ہاتھ اسکی طرف پھیلاۓ علی نے فوراً اسے گود میں لیا اسکا چہرہ اسکے ہاتھ چومے۔۔۔

عضد نم ھوتی آنکھوں سے شاہ جی کے گلے سے لگا اور اسکا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔

چلو اسے اماں جی کے پاس لے جاتے ھیں شاہ جی نے مشورہ دیا۔۔۔۔

نہیں پہلے رتابہ کے پاس عضد اس بچے کو پیار سے دیکھ کر بولا۔۔۔

جو علی کے سینے میں منہ چھپائے اس سے اسطرح لپٹا ھوا تھا جیسے بچہ ماں سے لپٹتا ھے۔۔۔

کیوں رتابہ گھر میں نہیں کیا شاہ جی حیرت سے بولا۔۔۔۔

میرے گھر میں ھے وہ علی دیان کے بالوں میں پھیر کر کہنے لگا۔۔۔۔

کیااااا شاہ جی کو اب کی بار کافی حیرت ھوئ تمھارے گھر لیکن کیوں؟؟؟

علی نے غصیلے تیوروں سے عضد کیطرف گھور کر کہا اس سے پوچھو۔۔۔۔

وہ عضد کی طرف گھوما پر جواب بلکل ندارد۔۔۔۔

شاہ جی کا رخ اب پھر سے علی کیطرف تھا کب سے وہ وہاں؟؟؟؟

دو دن سے۔۔۔

اوہ اچھا۔۔۔

پہلے وہاں جاؤگے تم۔۔۔۔

علی دیان کو اسی طرح سینے سے لگاۓ اٹھا جی وہی جانا ھے ھم نے۔۔۔۔

اگر اعتراض نا ھو تو میں چل سکتا ھوں ساتھ؟؟؟؟ شاہ جی نے علی سے پوچھا۔۔۔

ہاں کیوں نہیں یار بڑے بھائ جیسے ھو میرے تم نا بھی کہتے میں تمھیں تب بھی لے جاتا۔۔۔۔

اب کی بار گاڑی عضد نے ڈرائیو کی راستہ ایک دو بار علی نے گائیڈ کیا۔۔۔۔۔۔

رات کے دو بج رھے تھے۔۔۔۔۔

گاڑی سے اترتے ھوۓ عضد نے احتیاط سے سوۓ ھوۓ دیان کو اپنی گود میں لیا۔۔۔

اس نے نیند میں ڈر کر عضد کو شرٹ سے پکڑ لیا تھا بلکل اسطرح جیسے رتابہ ڈر کر اسکے سینے سے چمٹ جاتی تھی۔۔۔۔

گھر پہنچتے ہی گاڈ نے علی کو سلام کیا۔۔۔

اور شاہ جی کو دیکھ کر حیرت زذہ رہ گیا اسکی حیرت پر علی اور عضد نے بھی اسے دیکھا۔۔۔۔

شاہ جی نے گاڈ کو اشارہ کر کے خاموش رہنے کو کہا۔۔۔

رتابہ جاگ ہی رہی تھی۔۔۔۔۔

گاڑی کی آواز سن کر وہ جلدی سے بھاگتی ھوئ باہر آئ تو اندر کیطرف آتے عضد سے ٹکرائی عضد نے دیان کیساتھ ساتھ اسے بھی پھرتی سے سنبھالا۔۔۔۔۔

اسے چھوتے ہی عضد کی رگوں میں اس سے جدائ کا درد سرائیت کرنے لگا۔۔۔۔

وہ پیچھے ہٹی عضد سے تو اسکی گود میں اپنا بچہ دیکھ کر دیوانوں کیطرح اس سے دیان کو لیا اندھیرے میں بھی وہ ماں کو پہچان گیا تھا۔۔۔۔۔۔

رتابہ نے چھلکتی آنکھوں سے اسے سو بار چوما اس نے بھی ماں کو چوما اور اپنی معصوم سی آواز سے پکارا۔۔۔۔

ماما۔۔۔۔۔

رتابہ نے اشکبار آنکھوں سے اسے دبوچ لیا اپنے ساتھ ماں صدقے میرا بچہ میری جان۔۔۔۔

علی کے ماموں بھی اٹھ چکے تھے انہوں نے لاؤنج میں آ کر لائٹس آن کیں۔۔۔۔۔

رتابہ نے پھر عضد کیطرف دیکھا اسکے دائیں جانب شاہ جی تھا اور بائیں جانب علی۔۔۔

علی کے ماموں سکندر نے سبحانہ کو جگایا وہ بھی اٹھ کر باہر آئ تو ان سب کو ایک ساتھ دیکھ کر وہ خوشی سے چہکی اور لپکتی ھوئ شاہ جی کیطرف آئ۔۔۔۔۔

میرا سبحان۔۔۔۔۔

عضد اور علی نے حیرت سے پہلے ایک دوسرے کو پھر شاہ جی اور ماں جی کو دیکھا جو محبت سے ایک دوسرے سے لپٹے ھوۓ تھے۔۔۔۔۔

علی کچھ پل سکتے میں آ گیا۔۔۔۔

ماں جی یہ ھے سبحان؟؟؟؟؟

سبحانہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

شاہ جی اسکی طرف مڑا۔۔۔۔

علی حیرت اور افسوس کے ملے جلے احساس سے کہنے لگا تم جانتے تھے میں تمھارا بھائ ھوں تم نے مجھے پھر بھی نہیں بتایا یار۔۔۔۔۔

علی نے پہلے شکوہ کرتے ھوۓ زور سے اسکے سینے پر پنچ مارا پھر ایک دوسرے کی محبت میں ڈوبتے ھوۓ گلے سے لگے۔۔۔۔۔

رتابہ سے زیادہ عضد حیران تھا کہ وہ شاہ جی کا بھائ تھا اور اس نے خوامخواہ شک کیا علی کے کردار پر جو اس وقت اسکی سب سے بڑی سپورٹ بنا تھا۔۔۔

شاہ جی اور علی دونوں نے ملکر باری باری رتابہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

عضد شرمندگی کے احساس میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔۔

سکندر بھی شاہ جی سے ملا۔۔۔۔

اس نے سب کو بیٹھنے کیلئے کہا لیکن وہ جلدی میں تھے جانا چاھتے تھے نرگس کے پاس۔۔۔۔۔

رتابہ دیان کو لیے ماں جی کے کمرے میں چلی گئی شاہ جی کو اس گھر میں دیکھ کر رتابہ زیادہ سیکیور فیل کر رہی تھی۔۔۔

علی اسکے پیچھے آیا چلو رتابہ گھر چلتے ھیں نرگس آنٹی بہت بے چینی سے تمھاری منتظر ھیں۔۔۔۔

مجھے نہیں جانا اسکے انکار پر وہ پھر ایک بار بولا۔۔۔

دیکھو رتابہ عضد نے جو بھی کیا ھے یا کس کے کہنے میں آکر کیا ھے تم سامنے آؤ گی تو کھل کر بات ھوگی تبھی کسی فیصلے پر ھم پہنچ سکتے ھیں۔۔۔

مجھے نہیں جانا وہاں اب کی بار رتابہ کا لہجہ حتمی تھا۔۔۔

علی اسے فورس نا کر سکا اس نے عضد کو صاف صاف کہہ دیا کہ وہ نہیں جانا چاھتی سب کے سامنے عضد بحث نہیں کرنا چاھتا تھا۔۔۔

وہ علی کیساتھ گھر واپس آنے لگا تو شاہ جی بھی انکے ساتھ ہولیا کہ اسے کچھ ضروری کام تھا۔۔۔۔

وہ ماں جی سے جلد آنے کا وعدہ کر کے گیا پورے راستے عضد خاموش تھا۔۔۔۔

شاہ جی نے اور علی نے کافی کوشش کی کہ وہ ان کو کچھ بتاۓ پر اسکے ھونٹوں پر پڑے تالے نا کھلے انکے سامنے۔۔۔۔

البتہ آنکھوں سے آنسو بند توڑ کر باہر آچکے تھے۔۔۔۔۔

___________________

نرگس نے دیان کے ملنے کی خبر سنی تو اسکی جان میں جان آئ اس نے پہلی فرصت میں شکرانے کے نوافل ادا کئے۔۔۔۔

نرگس کو فون پر شاہ جی اطلاع دے چکا تھا نرگس بہت بے قراری سے انکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ پہنچ گئے تھے گھر۔۔۔۔۔

مایا مزے سے سو رہی تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ شاہ جی اس کراچی شہر کا بادشاہ تھا بابو پاتال میں بھی ھوتا تو شاہ جی اسے نکال باہر لاتا۔۔۔۔

نرگس نے ان تینوں کو باری باری دیکھا۔۔۔۔

رتابہ اور دیان کہاں ھیں؟؟؟؟

شاہ جی نے آگے بڑھ کر نرگس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ماں جی وہ میرے گھر میں ھے فی الحال نہیں آنا چاہتی وہ۔۔۔۔۔

نرگس نے عضد کیطرف دیکھا۔۔۔

کیا سن رہی ھوں میں؟؟؟؟

ایسا کیا کہہ دیا ھے تم نے اسے کہ وہ آنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔۔۔

علی اور شاہ جی ایک ساتھ بولے ھم نے بھی بہت پوچھا لیکن یہ کچھ بتا ہی نہیں رہا۔۔۔۔

نرگس عضد کے بے حد پاس آ کر کھڑی ھوئی پھر اسکے جھکے سر کو اونچا کیا۔۔۔۔

شرم آ رہی ھے ان کے سامنے بتاتے ھوۓ؟؟

سچائ تو رتابہ کی ھے نا جسے تم سزا کی سولی پر لٹکاۓ بیٹھے ھو تو پھر اسکی ذات سے جڑے سچ سے تمھاری کیسی شرم؟؟؟

کیسی حیا؟؟؟؟؟

شاہ جی عضد کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ انکے سامنے اپنی پرابلم disclose نہیں کرنا چاھتا۔۔۔

اس نے اجازت چاہی اور چلا گیا لیکن علی وہاں سے نا ہلا۔۔۔

عضد نے کہا جو ھوا ھے ھمارے بیچ امی میں صبح آپکو بتا دونگا اور ان سب سے ملوا بھی دونگا۔۔۔۔

عضد کی بات سن کر علی کے کان کھٹکے وہ پہلے سے ہی جانتا تھا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا ضرور تھا جس نے انکو ایک ھوتا دیکھ کر الگ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

پل بھر اسکا شک مایا پر گیا۔۔۔۔

لیکن مایا نے ان دنوں کوئ ایسی حرکت کوئ ایسی بات نا کی تھی جو رتابہ یا عضد کے خلاف ھوتی۔۔۔۔۔

___________________

عضد صبح سب کے اٹھنے سے پہلے نرگس کو گھر سے لے گیا۔۔۔۔

دیوی بندیا اور اسکے محلے والوں سے ملکر پل بھر کیلیۓ نرگس کے پیروں تلے سے بھی زمین نکل گئی تھی کہ ان سب کی زبان ایک کیسے ھو سکتی تھی وہ سب ایک ساتھ جھوٹ کیسے بول سکتے تھے؟؟؟

پھر عضد نے شاہ جی سے بھی پچھوایا کہ وہ بندیا کے بارے میں کیا کہہ رہا تھا۔۔۔۔

نرگس شاہ جی سے بھی یہ سب سن کر بیحد پریشان ھو گئ تھی گھر آ کر وہ خاموشی سے اپنے بستر پر لیٹی ۔۔۔۔۔

دیوی کی سینہ کوبی۔۔۔ بندیا کا رونا۔۔۔۔۔

محلے والوں کی باتیں۔۔۔سب کی آوازیں نرگس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔۔۔

لیکن یہ سب سن کر بھی نرگس کا دل رتابہ کے معصوم ھونے کی گواہی دے رہا تھا کہ جو سچائ اپنے متعلق رتابہ نے بتائ تھی نمل کی زبان پر بھی وہی حقیقت تھی ایک بات بھی اسکی جھوٹ نا نکلی تھی۔۔۔۔۔

عضد نرگس کے کمرے میں آکر انکے قدموں میں بیٹھا۔۔۔۔

امی جان۔۔۔

اب بتائیں آپ میں کیا کروں کس کی بات پر یقین کروں میرا قصور ان سب باتوں میں کہا ھے؟؟؟میں شک نہیں کرتا رتابہ پر۔۔۔۔

لیکن اسکی زندگی سے جڑے جو حقائق سامنے آۓ ھیں میں انکا سامنا کیسے کروں امی وہ نرگس کی گود میں سر رکھ کر سسکتا ھوا رونے لگا۔۔۔۔۔

نرگس کو اسے سمجھانا بھی تھا اور سنبھالنا بھی تھا۔۔۔

کہ جانے انجانے میں وہ اپنے آپ کو بھی سزا کی سولی پر لٹکاۓ ھوۓ تھا۔۔۔۔۔

عضد تمھیں محبت ھے رتابہ سے؟؟

اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

کیسی محبت ھے؟؟؟؟

ایسی محبت امی کہ یہ سچ جان کر بھی میں اسے خود سے دور نہیں کر سکتا وہ بیشک مجھے قبول نا کرے اب لیکن میرے سامنے میرے نام سے تو منسوب رھے اتنا ہی کافی ھے۔۔۔۔

عضد یہ محبت نہیں ھے خود غرضی ھے نرگس نے اسکے آنسو پونچھے جانتے ھو محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا شرک ھے بیک وقت انسان دو افراد سے محبت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔

اس نے سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا کہ دوسری محبت کہاں سے آگئ۔۔۔۔

نرگس نے بڑے تحمل سے اسکی سوالیہ نظروں کا جواب دیا۔۔

تمھاری محبت دو طرفہ ھے رتابہ کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کو بھی چاھتے ھو تم۔۔۔۔

اور اسطرح کی محبت ایک طرح کی غلامی ھوتی ھے کیا تم ساری زندگی اسے اپنا غلام بنا کر رکھنا چاھتے ھو۔۔۔۔

اس نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔۔

عضد مجھے تمھاری محبت آج تک سمجھ ہی نہیں آئ کیسا چاھتے ھو تم اسے مانا تمھاری زندگی بہت پاکیزہ گزری ھے لیکن اسمیں تمھارا کوئ کمال نہیں۔۔۔۔۔۔

یہ اس رب کی عطا ھے کہ تم کچھ خطاؤں سے پاک ھو لیکن بیوی کے معاملے میں تم بہت بڑے خطا کار اور گنہگار ھو۔۔۔۔

اللہ نے لعنت قرار دی ھے اس شخص پر جو اپنی بیوی کے حق میں ظلم کرے اور کوتائ سے کام لے۔۔۔۔۔

تمھارے ایک ایک عمل کی پوچھ گچھ ھوگی روز محشر کیوں اس معصوم اور لاوارث بچی کی آہ لیتے ھو۔۔۔

خدا کے غضب سے ڈرو اسکی پکڑ بہت سخت ھے میرے بچے۔۔۔

وہ ماں کی گود میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔۔

نرگس نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا بیٹا قرآن اٹھا کر دیکھو کئ مقامات پر اللہ نے میاں بیوی کے حقوق پر بہت زور دیا ھے۔۔۔۔

نرگس نے پھر سورۃ النساء کی آیت نمبر 19 تلاوت کی۔۔۔۔

تر جمہ : اور ان عورتوں کیساتھ خوبی سے گزارا کرو ، اور اگر وہ تم کو نا پسند ھوں تو ممکن ھے کہ ایک شے کو تم نا پسند کرو اور اللہ تعالیٰ اسکے اندر کوئ بڑی منفعت رکھ دے۔۔۔

عضد کے آنسو اور بھی تیز رفتاری سے بہنے لگے۔۔۔

بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ھے۔۔

مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ھے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ھے۔۔۔۔۔

اب اس بات کا فیصلہ تم خود کرو کہ تم کتنے کامل ایمان والے ھو اور بہتر مرد ھو اسکے حق میں؟؟؟ یا بد ترین مرد؟؟؟؟

امی میں نے آج تک اسکے ساتھ کوئ بے ایمانی نہیں کی اسے دھوکہ نہیں دیا کبھی اس سے جھوٹ نہیں بولا کبھی اسکی ضرورت سے نظریں نہیں چرائیں۔۔۔۔۔

اور نا ہی کبھی یہ احسان جتلایا ھے کہ میں ہی تھا جس نے اسے قبول کیا۔۔۔۔۔۔

لیکن امی میں نے یہ سب نہیں سوچا تھا کہ جس رتابہ کو میں نے قبول کیا ھے اسکا ماضی اتنا بھیانک ھوگا۔۔۔۔

نرگس جانتی تھی اسکا گلہ بھی بجا تھا۔۔۔۔

جسطرح رتابہ کے خلاف سب حقائق سامنے آۓ تھے اچھا خاصا انسان بھی جذبات میں آکر حد سے گزر سکتا تھا۔۔۔۔۔

اور اپنی بیوی کے ایسے معاملات دیکھ کر تو مرد غیرت کے نام پر قتل بھی کر دیتے ہیں لیکن یہاں رتابہ کے ساتھ ساتھ عضد کے ارمانوں کا بھی قتل عام ھوا تھا۔۔۔

ظاہر سی بات ھے برے سے برا مرد بھی اپنے لیے نیک بیوی چاھتا ھے۔۔۔

اور عضد ان تمام برائیوں سے بری الزماں تھا جسکی لپیٹ میں اسوقت ھمارا پورا معاشرہ ھے لیکن عضد کی زندگی کی شروعات ہی رتابہ کے نا کردہ گناہ سے ھوئ تھی۔۔۔۔

اور اب تو حالات ہی کچھ اور تھے نرگس کو رتابہ اور عضد دونوں پر بہت رحم آ رہا تھا اس نے عضد کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

عضد اللہ تعالیٰ نے اسے تمھارے نکاح میں دیکر مرد ھونے کی حیثیت سے تمھیں اسکا سربراہ مقرر کیا ھے۔۔۔۔

سربراہ ھونے کی حیثیت سے کتنی غفلت برتی ھے تم نے اسکے ساتھ۔۔۔۔

وہ روہانسی لہجے میں بولا۔۔۔

امی کیا میں کسی حق کا حقدار نہیں ھوں؟ کیا شوہر ھونے کی حیثیت سے میں اس بات کا بھی روادار نہیں کہ وہ مجھے اپنے سچ سے آگاہ کرے۔۔۔۔۔۔

کیوں دھوکے میں رکھا ھوا ھے اس نے ھمیں کیوں نہیں بتایا سب کچھ ایک بار میں ہی کیوں اسکا ماضی مجھے لوگوں کی زبان سے سننا پڑا۔۔۔۔

جو کوئ بھی اسے میرے ساتھ دیکھتا ھے تو اسکے کردار پر انگلی کیوں اٹھاتا ھے ؟؟؟

امی میں اسکی طرف سب کچھ بھلا کر دل و جان سے بڑھنے کی کوشش میں تھا۔۔۔۔

لیکن اس نے نا صرف میرا دل توڑا ھے بلکہ اس نے تو میری جان ہی لے لی میرے جینے کے انداز ہی بدل دیۓ ھیں اس نے۔۔۔۔۔

جو میں نہیں تھا نا بننا چاھتا تھا وہ بنا دیا اس نے مجھے اپنے ہی عکس سے میں خود بھی خود سے خوفزدہ ھوں اب۔۔۔۔۔

عضد کا رونا نرگس سے دیکھا نہیں جا رہا تھا وہ کیسے یقین دلاتی اسے جو یقیں اسے رتابہ پر خود تھا۔۔۔

عضد اگر اسکا کردار اتنا ہی برا ھوتا یا اسکے تعلقات واقعی میں شرمناک حد تک غلط ھوتے تو تمھاری زیادتی اور زبردستی کے وقت وہ ھوسپٹل نا پہنچتی نا اسکی وہ حالت ھوتی اور نا وہ چار سال تمھاری بے اعتنائی برداشت کرتی۔۔۔۔

اگر سچ میں اسکا کردار داغدار ھوتا تو وہ کب کی تمھیں چھوڑ کر جا چکی ھوتی۔۔۔۔

بابو اور بندیا کے مطابق وہ تم سے بھی تنگ آ کر بھاگ سکتی تھی لیکن اس نے ایسا کوئ قدم نہیں اٹھایا تمھیں حال میں اس کی بدکرداری نظر آئ کہیں؟؟؟؟؟

عضد نے نا میں سر ہلایا۔۔۔

تو میرے بچے ھوش سے کام لو۔۔۔۔

جن لوگوں نے رتابہ کے کردار پر روشنی ڈال کر تمھیں اسکا ماضی دکھانے کی کوشش کی ھے۔۔۔۔

انکے اپنے کردار پر بھی کچھ سوچ کر دیکھو فرشتہ صفت اور مظلوم ھو سکتا ھے وہ بھی نا ھوں اور یہ بھی ممکن ھے رتابہ سچی ھو اور سارے گواہ سارے ثبوت جھوٹے ھوں تمھارے یقین کیطرح۔۔۔۔

تو امی بولتی کیوں نہیں وہ؟؟ کیا اسے مجھ پر اعتماد نہیں۔۔۔۔۔

نرگس نے اسکے آنسو پونچھ کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا۔۔۔

تمھیں یقین ھے اس پر؟؟؟؟؟

اس سوال کا کوئی جواب نا تھا عضد کے پاس۔۔۔

لیکن کچھ توقف کے بعد وہ نظریں پھیر کر بولا امی یقین ہی تو کر بیٹھا تھا اس پر۔۔۔۔

تھا سے کیا مطلب؟؟؟

یقین نہیں اس پر تو اسے آزاد کر دو اس بے یقینی کے بندھن سے اور خود کو بھی آزاد کرو۔۔۔

یہ روز روز کا محشر برپا کرنے سے بہتر ھے کہ تم ایک ہی بار اس عذاب سے نکال لو خود کو۔۔۔۔

پل بھر عضد کو ایسے لگا جیسے اسکی روح کسی نے کھینچ لی ھو اسکے سانس حلق میں جا اٹکے۔۔

نہیں امی میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔

لیکن عضد تم اسے رکھ بھی نہیں سکتے ساتھ نرگس کا لہجہ حتمی تھا تمھارے رشتے کی ڈور بہت کچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *