Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 35)

Bad Bakhat by Arshi Noor

لیکن رتابہ عضد کو تلافی کا موقع دیگی یا نہيں وہ اسکے ساتھ رہنا بھی چاھتی ھے یا نہيں اب یہ سب رتابہ کی چاھت پر منحصر تھا…

رتابہ اب کچھ بہتر تھی لیکن ذہنی طور پر وہ عضد سے بھی زیادہ شاکڈ اور پریشان تھی..

علی رتابہ کے پاس ہی تھا دیان اسکے کندھے سے لگا سو رہا تھا اب کیسی طبعیت ھے تمھاری۔۔۔۔

رتابہ کے پاس کوئی جواب نا تھا سوا خاموش آنسوؤں کے…

علی اسکا کرب محسوس کر رہا تھا کہ وہ کس قدر لاچار اور بے بس تھی۔۔۔

اسکے خاموش لبوں کی بے زبان دھائیاں اور چیخیں علی کے کانوں میں گونج رہی تھیں علی بہت بے بس محسوس کر رہا تھا خود کو اسوقت کہ وہ اسے تسلی بھی نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔۔

کاش تم سے میرا کوئی رشتہ ھوتا تو آج تمھیں اس حالت تک کبھی نا پہنچنے دیتا تمھاری زندگی کے سارے کانٹے اپنی پلکوں سے چنتا نرگس نماز پڑھ کر فارغ ھوئ تو رتابہ کے سرہانے آ کر بیٹھی…

علی بیٹا دیان کو مجھے دے دو ور تم جاؤ اب گھر کچھ ریسٹ کر لو میں ھوں یہاں تمھاری ضرورت ھوئ تو بلوا لونگی..

جی ٹھیک ہے انٹی میں شام کو پھر چکر لگا لونگا وہ اللہ حافظ کہہ کر چلا گیا…

علی کے جاتے ہی وہ رتابہ کی طرف متوجہ ہوئی کیسی ھے میری بچی۔۔۔

رتابہ نرگس کا ہاتھ تھام کر رونے لگی۔۔۔

امی کیوں زندگی کے ہر امتحان نے میرا ہی دامن تھام رکھا ھے کیوں مجھے نجات نہیں ملتی ان اذیتوں سے ان تکلیفوں سے کیوں حالات میری زندگی کے اتنے خلاف ھیں کیوں میری زندگی میں مجھے مستقل سکون میسر نہیں جب بھی سکون کا پلا میرے ہاتھ آتا ھے وہ ریت کے ذروں کی طرح ہاتھ نکل جاتا ھے اب کویں امی کیوں ؟؟؟؟

نرگس اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولی دیکھو بیٹا جب بھی ھمیں لگے کہ زندگی کے حالات ھمارے موافق نہیں اور زندگی میں ہر چیز ھمیں اپنے ہاتھوں سے نکلتی ھوئ محسوس ھو تو ایک بار اس درخت کے بارے میں ضرور سوچنا جو ایک ایک کر کے اپنے سارے پتے کھو دیتا ہے

لیکن پھر بھی کھڑا رہتا ھے اللہ تعالیٰ سے اپنی ویرانی کا شکوہ نہیں کرتا اپنی شاخوں کے دامن کو خالی دیکھ کر واویلا نہیں مچاتا کیونکہ وہ جانتا ھے کہ اس پت جھڑ کے بعد نئے سرے سے سرسبز و شاداب کیا جاۓ گا پہلے سے بھی زیادہ تر وتازہ اور پرکشش ہریالی سے ہرا بھرا ھوگا۔۔۔

رتابہ کے آنسو نرگس نے اپنی ہتھیلی میں جذب کیے۔۔۔۔

میری جان انسان کی زندگی بھی ایسی ھی ھے اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھتے ھیں ہر تکلیف ہر غم اپنے ساتھ نئ خوشیوں کا پیغام بھی لیے ھوتا ھے بس ھمیں صبر کرنا پڑتا ہے

وہ اور بھی زیادہ رونے لگی کیسی خوشیاں کیسا صبر اور کیسی بہار کا انتظار میری تو جڑیں ہی کاٹ دی گئی ھیں میں کس کے سہارے کھڑی ھو سکتی ھوں اب؟؟؟ میرے سہاروں نے ہی بے آسرا کر دیا ھے مجھے۔۔۔

رتابہ پاگل تو نہیں ھو گئ ھو کیسی باتیں کررہی ھو

وہ روتے روتے سسکیوں کے ہچکورے لینے لگی آپکے عضد نے مجھے برباد کر دیا ھے امی ابھی میرے پچھلے زخم نہیں بھرے تھے کہ عضد نے ایک اور زخم ایک اور درد کتنی بے دردی سے میری جھولی میں ڈال دیا۔۔۔

اللہ نا کرے بیٹا تم برباد ھو۔۔۔۔۔

امی اجڑ گئ میں لٹ گئی میں انہی ہاتھوں سے لٹ گئ جن ہاتھوں میں آپ نے میری نگہبانی سونپی تھی۔۔۔

امی لوٹ لیا آپکے عضد نے مجھے وہ اپنا ماتھا پیٹ پیٹ کر زار زار رونے لگی۔۔۔

نرگس کو اسکا تڑپنا اسکا رونا اب سمجھ آیا تھاکہ وہ اپنی دانست میں سمجھ رہی تھی کہ عضد نے جو کیا وہ بھی گناہ تھا رتابہ کی نظر میں وہ بھی زنا کا مرتکب ھوا تھا۔۔

نرگس نے اسے گلے سے لگایا نہیں میری جان ایسا نہیں کہتے عضد کیوں لوٹے گا تمھیں شوہر ھے وہ تمھارا۔۔۔۔۔۔

میری جان ایسا نہیں سو چتے وہ کل بھی تمھارا محافظ تھا آج بھی تمھارا نگہبان تمھارا سائبان ھے۔۔۔

بس اسکا اپنا حق جتانے کا طریقہ غلط ھے وہ سہی کام اپنی انا میں اپنے غصے میں غلط طریقے سے کر جاتا ھے لیکن وہ غلط نہیں میری جان نا اس نے تمھاری عزت لوٹی ھے۔۔۔۔

تو کیا امی جو کچھ کیا اس نے وہ سہی تھا اس نے میری آبرو میری عزت پامال نہیں کی۔۔۔

نرگس اسکے آنسو پونچھنے لگی نہیں اس نے بہت غلط کیا ۔۔۔

اسے زبردستی نہیں کرنی چاہیئے تھی لیکن میری جان شوہر بیوی کیساتھ اگر یہ سب زبردستی بھی کر لے تو اسے زنا نہیں کہتے یا شوہر بیوی کیساتھ اگر یہ رشتہ قائم کرتا ھے تو وہ زانی نہیں ھوتا نا زنا کا مرتکب ھوتا ھے ۔۔

میاں بیوی کی شرم و حیا ایک ھوتی ھے انکے درمیان کوئی پردہ نہیں ھوتا حتیٰ کہ جسمانی بھی نہیں۔۔۔

رتابہ نے حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے نرگس کو دیکھا جیسے وہ اسے کسی بھیانک آئینے کا پس آئینہ دکھا رہی ھو۔۔۔

نرگس کے چہرے پر اطمینان تھا رتابہ بیٹا سر سے پاؤں تک عورت اپنے شوہر کی امانت ھوتی ھے شوہر جب چاہے جیسے چاھے اپنی بیوی کو چھو سکتا ھے دیکھ سکتا ھے پیار کر سکتا ھے۔۔۔

عورت کو مرد کیلئے پیدا کیا گیا ھے اسکی جیون ساتھی بنا کر

تم عضد کے نکاح میں ھو اسکا تم پر اور تمھارا اس پر حق ھے وہ جب چاھے تم سے یہ حق وصول کر سکتا ھے لیکن یہاں اس نے زبردستی میں جو تمھیں تکلیف پہنچائ وہ سراسر غلط ھے۔۔۔

وہ بچوں کی طرح ٹکر ٹکر نرگس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

نرگس اسے پیار سے سمجھانے لگی لیکن یہ سب نکاح سے پہلے ناجائز اور غلط ھوتا ھے اسلیے اسے نکاح سے پہلے حرام قرار دیکر زنا کا نام دیا گیا ھے۔۔۔۔۔

لیکن نکاح کے بعد یہ ناجائز نہیں جائز ھوتا ھے اسی مرحلے سے گزرتے ھوئے عورت ماں بنتی ھے میری جان اپنے معصوم سے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ عضد نے زنا جیسا گناہ کیا ھے یہ اسکا شرعی حق ھے جو اسے اللہ تعالٰی نے عطا کیا ھے خیر اسکا طریقہ بہت غلط تھا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ھے۔۔۔۔۔

وہ کچھ کچھ سمجھتے ھوئے ایک دم فکر سے بولی تو کیا امی اب عضد پھر سے یہ سب کر سکتا ھے میرے ساتھ کیا اسے یہ سب کرنے کا حق ھے؟؟؟

ہاں کر سکتا ھے وہ یہ سب ایک بار نہیں بار بار لیکن اس طرح زبردستی اور تمھیں تکلیف پہنچا کر نہیں بلکہ پیار سے محبت سے تمھیں اپنے اعتماد میں لیکر تمھاری رضامندگی سے۔۔۔

امی اگر عضد نے پھر سے زبردستی کی تو؟؟ رتابہ اب بھی خوفزدہ تھی۔۔۔

نہیں کریگا اب وہ لیکن تم بھی بیٹا اپنے ماضی کے خول سے باہر نکلو اپنا مقام اپنی حیثیت کو سمجھو اگر عضد تم سے پیار کرنا چاھتا ھے یا تمھارے پاس آتا ہے تو اسے آنے دو یہ حق اسے اللہ تعالیٰ نے دیا ھے۔۔۔۔

میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ھوتے ھیں جو بیوی اپنے شوہر کے تمام حقوق پوری ایمانداری سے پورے کرتی ھے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتا ھے ۔۔۔

رتابہ سر جھکا کر منہ ناخن ڈالے انکو دانتوں سے نوچنے لگی۔۔۔

جانتی ھو بیٹا جب میاں بیوی پیار سے ایک دوسرے کے قریب آتے ھیں تو انکی محبت دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی خوش ھوتا ھے

رتابہ حیرت اور پریشانی کے ملے جلے احساس سے یہ سب سنتی رہی۔۔۔۔۔۔

نرگس اسکے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیکر مذید پیار سے بولی لیکن حقوق سارے بیوی کے نہیں ھوتے شوہر کے بھی ھوتے ھیں۔۔۔

اگر شوہر کسی بھی معاملے میں بیوی کی حق تلفی کریگا تو روز قیامت اسکا جواب دہ ھوگا اور بیوی کے ساتھ کی گئی زیادتی اور ناجائز کا خمیازہ اسے زندگی میں بھی بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔

کچھ لمحے دونوں کے بیچ خاموشی چھا گئ۔۔۔۔

پھر نرگس پیار سے اسے دیکھ کر اس سے سوال پوچھنے لگی یہ بتاؤ دنیا کا سب سے پہلا رشتہ کونسا تھا؟؟

رتابہ نے تحمل سے جواب دیا میاں بیوی تھے آدم اور حوا بی بی۔۔۔

ھمممم بلکل میری جان نا ماں باپ تھے نا بہن بھائی نا دوست نا احباب دنیا کا سب سے پہلا اور خوبصورت ترین رشتہ میاں بیوی کا ھے۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبصورتی سے مرد اور عورت کو نکاح جیسے مضبوط بندھن میں باندھ کر انکو ایک دوسرے کا محرم اور ساتھی بنایا ھے مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزوم ہیں دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔۔۔۔

رتابہ اپنے ساتھ سوۓ ھوۓ دیان کو پیار سے دیکھ کر بولی امی کیا اب میں پھر سے ماں بنوگی؟؟

ہاں میری جان بن سکتی ھو اگر تم دونوں پیار اور محبت سے ایک دوسرے کو قبول کر لو تو۔۔۔۔۔

امی عضد پھر دیان کی طرح میرے بچے سے نفرت تو نہیں کریگا نا۔۔۔

ارے نہیں پگلی وہ تو اسکا اپنا بچہ ھوگا کیسے نفرت کریگا وہ اپنے وجود کے حصے سے۔۔۔۔۔

دیان کو دیکھتے ہوئے رتابہ کی آنکھوں سے آنسو چھلکے۔۔۔

امی اگر میں اب ماں بن گئی تو وہ پھر دیان کے پاس بھی نہیں جانے دیگا مجھے نا اسے دیکھنے دیگا نا پیار کرنے دیگا وہ اسکا باپ نا سہی لیکن میں تو اسکی ماں ھونا وہ مجھ سے دیان کی ماں ھونے کا حق بھی چھین لے گا امی۔۔۔۔۔

نہیں چھین سکتا وہ یہ حق میں ھوں میری جان تمھارے ساتھ اور دیان کی فکر اتنی مت کیا کرو نمل اور جازب اس سے والدین کیطرح پیار کرتے ھیں اسے ھم سب کے ھوتے ھوئے ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ھوگی کبھی بھی۔۔۔۔۔۔

لیکن امی وہ کچھ پوچھتے پوچھتے یک دم چپ ھو گئ اسکے چہرے پر آنے والے بے خبر وقت کی ھوائیاں اڑنے لگیں۔۔۔

نرگس اسکا چہرہ دیکھ کر اسکا خاموش سوال بنا کہے سن چکی تھی۔۔۔۔

پھر دیان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولی اس بات سے پریشان ھو کہ یہ بڑا ھو کر تم سے اپنے باپ کا سوال کریگا کہ کون ھے اسکا باپ؟؟

رتابہ نے بڑی حیرت سے نرگس کو دیکھا کہ وہ کیسے اسکی خاموشی کی زبان بھی سمجھ لیتی تھی۔۔۔۔۔

میری بچی یہ سوال کرنے کا موقع ہی نہیں دونگی میں اسے کیونکہ اب نمل اور جازب ہی اسکے ماں باپ ھیں۔۔۔۔

رتابہ کا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا تھا نرگس کی بات سن کر۔۔۔۔

لیکن امی لوگ اور خاندان والے تو سب جانتے ھیں کہ یہ میرا بچہ ھے۔۔۔۔

نرگس مسکرائ لیکن اس بچے کی پہچان تو عضد کے نام سے ہی ھے نا تو پھر کیسا خوف اسکے سوال اور لوگوں کے جواب کا؟؟؟

عضد نے تمھیں قبول کر لیا ھے نا تو میری جان ایک دن دیان کو بھی قبول کر ہی لے گا۔۔۔۔۔

اسکے سارے خوف اور الجھے سوال نرگس نے بڑے سلیقے سے سلجھا دیۓ تھے۔۔۔۔

________________

رتابہ گھر شفٹ ہو چکی تھی فی الحال عضد کے نام سے بھی وہ ڈری اور سہمی ھوئ تھی۔۔۔۔۔

عضد کی ھمت نہیں ھو رہی تھی کہ وہ رتابہ کے سامنے آتا وہ اسکا سامنا نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔

کہ اس نے محض غصے اور جذبات میں آ کر اسے اتنی تکلیف پہنچائ تھی وہ بلکل خاموش تھا کسی سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔

آفس میں بھی اپنے کام کی بات کرتا اور مصروف رہتا۔۔۔۔۔

مایا نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنے اندر کے اس کرب سے اور گھٹن سے باہر نکلے۔۔۔

لیکن وہ نہیں نکل پا رہا تھا رتابہ کیساتھ کی ھوئ زیادتی نے اسے بہت بے چین کر دیا تھا کیونکہ وہ اس طرح اسکے قریب نہیں آنا چاھتا تھا۔۔۔

اسکی نظر میں اس نے زبردستی کر کے اپنے اور رتابہ کے رشتے کی بہت توہین کی تھی۔۔۔

____________________

نرگس کا رویہ عضد کیساتھ بہت سخت اور بلکل اجنبیت لیۓ ھوۓ تھا۔۔۔۔۔

لیکن وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی ھوئ بھی اسے مسلسل نوٹ کر رہی تھی۔۔۔۔

اپنے آپ سے ہی من ہی من میں جنگ کرتا عضد اسے دکھائ دے رہا تھا۔۔۔۔

آفس سے تھکا ہارا آکر اس نے نرگس کو سلام کیا مایا اور علی بھی وہیں موجود تھے۔۔۔۔۔

وہ سلام کر کے تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں جانے لگا تو اپنے کمرے سے نکلتی رتابہ سے ٹکرا گیا۔۔۔۔

رتابہ نے کیا سنبھلنا تھا اسکے چٹان جیسے مضبوط جسم سے ٹکرا کر عضد نے ہی اسے تھاما۔۔۔۔۔

اس نے اپنی دراز پلکوں کی جھالر اٹھا کر عضد کیطرف دیکھا

بڑھی ھوئ شیو سوجھی ھوئ آنکھیں بہت بکھرا بکھرا سا لگ رہا تھا وہ جیسے کسی بڑے طوفان کے بعد لوگو ن کا مال متاع اجڑ جاتا ھے بلکل اسطرح عضد کی ذات بھی ویران سی لگی رتابہ کو بہت اور پشیمان بھی۔۔۔۔

اسکے منہ اور سانسوں سے سگریٹ کی بو بھی آ رہی تھی

عضد نے اس کے سنبھل کے کھڑے ھونے پر اسے فوراً چھوڑا پھر سر جھکاۓ سوری کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

اسکے اچانک سامنے آ نے پر شرمندگی کے احساس سے وہ اسے دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔۔۔۔۔

اور رتابہ کہ زخم بھی اسے دیکھ کر تازہ ھونے لگے تھے دونوں ہی کا ایک دوسرے کا سامنا کرنا مشکل ھو رہا تھا جیسے دونوں ایک دوسرے کے مجرم تھے ایک سزا دینے والا مجرم اور دوسرا بنا قصور کے سزا پانے والا مجرم۔۔۔۔

ایک کے دل میں تکلیف سہنے کا احساس جاگ جاتا اور دوسرے کے دل میں تکلیف دینے کا سبب۔۔۔

__________________

نرگس کچھ دن مذید ٹھہر گئ تھی کہ وہ عضد اور رتابہ کو سمجھا کر انہیں ایک کرنے کی کوشش کر سکے۔۔۔۔۔

اور وہ جانتی تھی کہ اب اتنا مشکل بھی نہیں تھا یہ سب

کیونکہ عضد کی انا کے بت کو اس نے اپنی آنکھوں سے ٹوٹتے دیکھا تھا انکو تھوڑا وقت دینا چاھتی تھی وہ کہ پہلے وہ کچھ سنبھل سکیں۔۔

عضد کی مرضی تو وہ جان چکی تھی لیکن رتابہ کی مرضی بھی جاننا ضروری تھی کہ وہ عضد کیساتھ رہنا چاھتی ھے یا اسکے ساتھ جانا چاھتی ھے فی الحال اس نے اس باب کو کچھ دن بند ہی رہنے دیا۔۔۔

نمل کے فون پر فون تھے اسے دیان بہت یاد آ رہا تھا نرگس نے جانا تھا واپس نرگس کی واپسی کا سن کر رتابہ نے نرگس کیساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔

شام کو عضد کے لوٹنے کا وہ شدت سے انتظار کر رہی تھی کہ رتابہ کو لے جانے کیلیے اسکی اجازت بھی درکار تھی آخر کو شوہر تھا وہ اسکا۔۔۔۔۔

عضد دیر سے گھر لوٹا نرگس اسی کے کمرے میں تھی۔۔۔۔

آپ میرے کمرے میں خیریت امی وہ ماں کو دیکھ کر تھوڑا سا ٹھٹھکا کہ اب کونسی بات تھی۔۔۔۔

ہاں خیریت ہی ھے کب سے تمھاری منتظر ہوں کچھ بات کرنی تھی تم سے نرگس نے آرام سے جواب دیا۔۔۔۔۔

وہ سر جھکائے تھکے ہارے لہجے میں بولا جی بولیں امی۔۔۔

نرگس نے تنکا تنکا بکھرتے ھوۓ عضد پر اک گہری نگاہ ڈالی لیکن وعدہ کرو میری پوری بات تحمل سے سنو گے نا غصہ کرو گے نا ٹوکو گے۔۔۔۔۔۔

جی ٹھیک ہے آپ بولیں میں سن رہا ھوں وہ صوفے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ھو کر لیٹا۔۔۔

ایسے نہیں یہاں آؤ میرے پاس نرگس نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا کافی دن ھوگۓ تھے اس نے عضد کا ماتھا نہیں چوما تھا نا عضد اسکے گلے سے لگا تھا بہت بے چین تھی اسکی ممتا عضد کو اس طرح بکھرتا دیکھ کر۔۔۔۔۔

یہ انا بھی کیا چیز ھوتی ھے نا جب انسان کے دل میں ڈیرہ ڈالتی ھے تو اسے اپنے انجام اور نقصان سے بلکل اندھا اور بہرا کر دیتی ھے اور جب ٹوٹتی ھے تو انسان کو توڑ مروڑ کر رکھ دیتی ھے۔۔۔۔۔

وہ نرگس کے پاس آ کر بیٹھا تو بے قرار سا ھو کر بولا جی بولیں ۔۔۔۔۔

نرگس کا لہجہ اسوقت بھی سخت تھا فی الحال وہ اس سے نرمی سے بات نہیں کرنا چاھتی تھی تاکہ اسے اسکی غلطی کا احساس ھو۔۔۔۔

تم نے کیا فیصلہ کیا ھے؟؟؟

کس بات کا؟؟

رتابہ کا ۔۔۔

آپ اب کیا فیصلہ کروانا چاھتی ھیں مجھ سے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ جواب میں کہنے لگا۔۔۔۔۔۔

میں نہیں کروانا چاھتی کوئ فیصلہ لیکن رتابہ تمھارے ساتھ رہنے کو تیار نہیں نرگس کی بات سن کر عضد کو یوں لگا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ھو۔۔۔۔

وہ بمشکل بول پایا کیوں نہیں رہنا چاھتی وہ۔۔۔۔۔۔

کیوں تم بچے ھو چھوٹے بھول گئے ھو کہ اب میں تمھیں یاد کرواؤں تمھاری زیادتیاں۔۔۔۔۔۔

امی اس سے پہلے میں نے کبھی اسکے ساتھ اس طرح نہیں کیا تھا میں مانتا ھوں میں نے زبردستی کی لیکن گناہ تو نہیں کیا بیوی ھے میری وہ۔۔۔۔۔۔

اچھااااااا تمھیں اب احساس ھوا تمھاری بیوی ھے وہ اور بیوی کا یہ حال کرتے ھیں شوہر جو تم نے کیا اور اسطرح رکھا جاتا ھے بیوی کو جیسے تم اسے اتنے سالوں سے اذیت میں رکھے ھوۓ ھو۔۔۔۔۔

عضد سر جھکا کر پیر کے انگھوٹے سے قالین کے ریشے اکھیڑنے لگا۔۔۔۔۔۔

تم اس بات کا اعتراف نہیں کرنا چاھتے کہ تم نے غلطی کی ھے نرگس نے اسکے جھکے سر کیطرف دیکھا۔۔۔۔۔۔

اعتراف ھے غلطی کا امی ازالہ بھی کرنا چاھتا ھوں لیکن آپ اسے بھی سمجھائیں میاں بیوی کے بیچ میں ہزار باتیں ھوتی ھیں اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس طرح چھوڑنے کا فیصلہ تو نہیں کیا جاتا نا۔۔۔۔۔۔۔

تم اسے چھوٹی سی بات کہتے ھو کتنی اذیت میں تھی وہ جانتے ھو۔۔۔۔

عضد نے بھرائی ھوئ آنکھوں سے ماں کیطرف دیکھا۔۔۔

عضد اتنا خائف کر دیا ھے تم نے اسے خود سے کہ تمھارا نام لینے پر بھی وہ سہم کر رہ جاتی ھے بہت مشکل سے میں نے اسے سمجھایا ھے تمھارے رشتے کے بارے میں۔۔۔۔

وہ معصوم اب تک اس بات پر ہلکان ھو رہی تھی کہ تم نے بھی اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا ھے تم بھی اسکے لیے اک لٹیرے ھو ہر طرح سے تم نے اسے لوٹا ھے کبھی نفرت سے کبھی سختی سے کبھی نظر انداز کر کے کبھی اسے جھٹلا کے اور اب اسکے ساتھ زیادتی کی آخری حد سے بھی تم گزر گۓ ۔۔۔۔۔

عضد کی پشیمانی اور بے چینی اسکے من میں تیزی سے بڑھنے لگی نرگس کے الفاظ اسکے کانوں کیساتھ ساتھ اسکے حلق سے کانٹوں کیطرح اترنے لگے جو اسکو اندر تک زخمی کر رھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بچی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ تمھارے اور اسکے رشتے کی حقیقت کیا ھے تمھارا قریب آنا تمھارا چھونا بھی اسے گناہ لگ رہا تھا کیونکہ وہ ازدواجی زندگی کے تمام حقوق سے نا واقف تھی۔۔۔۔

عضد بے یقینی سے نرگس کو دیکھنے لگا اسکے آنسو جو اب تک آنکھوں میں تاروں کیطرح جھلملا رھے تھے وہ لہو کی صورت بہنے لگے۔۔۔۔۔

ایسے میں تم نے اسکے ساتھ زیادتی کر کے مذید خوفزدہ کر دیا ھے اسے اب تنی جلدی وہ قبول نہیں کر پاۓ گی تمھیں۔۔۔۔

اسکا پاگلوں کی طرح رونا میں نے دیکھا ھے وہ اتنی معصوم ھے عضد کے تمھارے اس اقدام کے بعد وہ یہی سمجھ رہی ھے کہ اب پھر ایک اور دیان پیدا ھوگا اور تم اس سے بھی نفرت کروگے۔۔۔

عضد بہت پشیمان ھوا نرگس سے اسکی یہ حقیقت جان کر۔۔۔۔

اب خود سوچو کیا وہ رہ سکتی ھے تمھارے ساتھ ؟؟؟؟

امی آپ سمجھائیں تو رہ سکتی ھے وہ۔۔۔

عضد میں اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرنے والی۔۔۔۔

لیکن امی میرے ساتھ تو آپ نے ہر بار زبردستی کی اسکے معاملے میں اب ایک بار میری خاطر اسے بھی حکم دے سکتیں ہیں آپ۔۔۔۔۔۔

نرگس عضد کا منہ دیکھنے لگی جس پر اسوقت آنسو شرمندگی اور پشیمانی کے علاوہ کچھ نا تھا۔۔۔۔۔

امی میں وعدہ کرتا ھوں آپ سے اسکے ساتھ کوئی زبردستی کوئی زیادتی نہیں کرونگا جب تک اس نے خود ھمارے اس رشتے کو قبول نا کیا میں کوئ حق نہیں جتاؤنگا نا اسکے قریب جاؤنگا وہ نرگس کی منت کرنے لگا۔۔۔

لیکن امی پلیز اسے لے جانے کی بات نا کرنا میں نہیں رہ سکتا اب اسکے بغیر۔۔۔۔

نرگس اسکی آنکھوں میں رتابہ کیلۓ امڈتی محبت دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

چاھنے لگے ھو اسے؟؟

عضد نرگس سے آنکھیں چرا کر بولا نہیں چاھتا نہیں ھوں لیکن اسکے بغیر رہنا نہیں آتا امی مجھے۔۔۔۔۔

عضد کا انداز اتنا روہانسی تھا کہ نرگس کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔۔۔۔

تو میری جان اس بات کو تم قبول کیوں نہیں کر لیتے کہ تمھاری شدید نفرت شدید محبت میں بدلتی جا رہی ھے کیوں اپنی جھوٹی انا کے ترازو میں تول کر رکھتے ھو اسے۔۔۔

نرگس کا لہجہ بہت دھیمہ تھا اب میری جان بہت تکلیف دہ ھے اسکی زندگی ایسی جو ھم پہ گزرے تو ھم سے گزاری نا جاۓ

اتنا درد اتنی تکلیفیں اسکی اس مختصر سی زندگی کا کل سرمایہ ھیں۔۔۔

امی میں اسکے ماضی سے کوئ واسطہ نہیں رکھنا چاھتا اب۔۔۔۔

بیٹا تم چاھو تو اسکا ہر درد خوشی میں راحت میں بدل سکتے ھو۔۔۔۔۔

عضد نے سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا کہ کیسے۔۔۔۔۔

نرگس اسکا سوال بنا بتاۓ سمجھ کر جواب میں بولی۔۔۔۔

اسے پیار سے گائیڈ کرو اسے مکمل عزت اور تحفظ دو اپنی غلطیوں پر نظر ثانی کرو دوسروں کو موقع نا دو کہ تمھاری غلطیاں لوگوں کے ہاتھوں تمھاری کمزوریاں بن جائیں۔۔۔۔۔

نرگس کا لہجہ اسے سمجھاتے سمے اپنے آپ نرم ھو گیا میری جان میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ھوتے ھیں۔۔۔۔

جہاں تم اس پر انگلی اٹھاؤ گے تو تمھارا اپنا وجود بھی ننگا ھوگا میاں بیوی کا کام ایک دوسرے کی غلطیوں کو ڈھانپنا ھے۔۔۔۔۔

پھر نرگس نے اسکے چوڑے شانوں پر اپنا ہاتھ رکھا میری جان اپنی آگ میں انسان خود جلے تو بہتر ھے دوسرے لوگ تو صرف تماشا دیکھتے ھیں جلنے اور جلانے کا کوئ بھی پرائ آگ میں کود کر خود کو نہیں جلاتا البتہ مدد کا شور مچا مچا کر تماش گیروں کی بھیڑ ضرور لگاتا ھے۔۔۔۔

سمجھ رھے ھو میں کیا کہنا چاہ رہی ھوں۔۔۔

عضد بیڈ سے اتر کر اسکے قدموں میں بیٹھ کر ہاں میں سر ہلانے لگا۔۔۔

اور میری جان وہی انسان کامیاب ھوتا ھے جس میں اپنی غلطی کا اعتراف اور ازالہ کرنے کی ھمت اور جرات ھوتی ھے وہ کامیابی کے کسی نا کسی زینے تک ضرور پہنچا جاتا ھے اور میری جان اپنی محبت کا اعتراف کرنا بھی بزدلی نہیں بہادری ھے۔۔۔

لیکن امی اب تو اسے بھی مجھ سے نفرت ھوگی نا اسکی نفرت کو اسکے خوف کو اب محبت میں تبدیل کرنے کیلیے مجھے کیا کرنا ھوگا؟؟؟

نرگس نے بہت پیار سے اسے دیکھا دونوں ہی اسکے لیۓ نا سمجھ اور معصوم بچوں کیطرح تھے ۔۔۔۔۔۔۔

میرے بچے محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ھوتی یہ تو رب کی عطا ھے نصیب ھے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ھے۔۔۔

زمین کے سفر میں اگر کوئی چیز آسمانی ھے تو وہ محبت ہی ھے محبت سے آشنا ھونے والے کبھی کسی کو درد سے آشنا نہیں کرتے محبت وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر کرتی ھے۔۔۔۔

جانتے ھو۔۔۔۔

محبت جب زمین پر پاؤں رکھتی ھے تو آہٹ آسمانوں پر سنائ دیتی ھے محبت کے سامنے نا ممکن اور وصال کچھ نہیں ھوتا محبت پھیلے تو پوری کائنات ھے اور سمٹے تو اک قطرہ خون۔۔۔۔۔

وہ سر نرگس کی گود میں رکھ کر بولا امی محبت جس سے ھو اسکی جدائی موت جیسی کیوں لگتی ھے؟؟؟

کیونکہ بیٹا محبت دو روحوں کا ملاپ ھے اسمیں جسم نہیں روحیں ایک ھوتی ھیں تو ایک کی روح جب اسکے جسم سے جدا ھونے لگے تو دوسرا وجود خودبخود بے جان ھونے لگتا ھے ۔۔۔۔

امی محبت کا زوال بھی ھوتا ھے کبھی؟؟

نہیں میری جان محبت لازوال سفر ھے جسکا کوئی اختتام کوئی حد نہیں نرگس نے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔

وہ اچانک کچھ سوچ کر گھبرایا اور نرگس کے گلے سے لگا۔۔۔۔

کیا ھوا میری جان نرگس نے پریشانی سے اسکے گرد بانہیں پھیلائیں۔۔۔

امی مجھے اک خوف اک ڈر محسوس ھو رہا ھے ۔۔۔

کیسا خوف ۔۔۔۔۔۔؟

امی ایسا تو نہیں ھوگا نا کہ وہ اس نباہ کے مرحلے پر آ کر یہ کہہ دے کہ اب نہیں اسکے دل میں میری طلب نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔

نرگس اسے پیار سے تھپتھپانے لگی۔۔۔۔۔

میری جان انسان جب کسی کو چاھتا ھے نا تو بدلے میں چاھے جانے کی خواہش نہیں رکھتا یہ محبت ھے سودا تھوڑی ھے کہ ایک ہاتھ دو دوسرے ہاتھ سے لو۔۔۔۔

تم اسے اپنی چاھت سے نوازتے جاؤ اس سوچ سے آزاد ھو کر کہ وہ بھی تمھیں چاھے گی یا نہیں۔۔۔۔۔

لیکن یہ یاد رکھنا اللہ تعالیٰ بنا کسی صلے کے نوازنے والے کو دوگنا عطا کرتا ھے۔۔۔۔

اب وہ چاھے سخاوت ھو رحم دلی ھو یامحبت۔۔۔۔

_________________

نرگس عضد کے کہنے پر مذید کچھ دن ٹھہر گئ رابی رتابہ کیساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔

بی بی جی۔۔۔۔

آپ کو جو غزل ایاز کے پروگرام میی سنا رہی تھی میں کل وہ یاد ھے ۔۔۔۔۔

ہاں یاد ھے کیوں۔۔۔۔

بی بی جی سنا دیں نا۔۔۔۔۔

میرا موڈ نہیں۔۔۔۔۔۔

بی بی جی سنا دیں نا اتنی اچھی آواز ھے آپکی۔۔۔۔

نرگس بھی بولی سنا دو بیٹا۔۔۔۔۔

عضد جو اندر آرہا تھا رتابہ کی گلوگیر آواز سن کر رک گیا۔۔۔۔

وہ اپنی دھن میں مگن غزل کے الفاظ دوہرا رہی تھی۔۔۔۔

میرے پاؤں چھلنی ھوۓ مگر۔۔۔۔

کہیں رکا نا میرا سفر۔۔۔۔

عضد اسکی دل آویز آواز پر دروازے کی چوکھٹ سے سر لگاۓ اسے سننے لگا۔۔۔۔

میرے پاؤں چھلنی ھوۓ مگر

کہیں رکا نا میرا سفر

میری نارسائی کے ہاتھ میں

نا چراغ ھے

نا کوئی ہنر

کسی راہ کی تلاش میں

ھے لہو لہو میری چشمِ تر

میری بے بسی کے حساب میں

اے میرے خدا

اے میرے معتبر

کوئ ھمسفر

کوئ ھمسفر۔۔۔۔۔

نرگس نے آج پہلی بار اسے سنا تھا وہ کھو سی گئ اسکے لب و لہجے میں۔۔۔۔

اور یہاں عضد کا دل اسکے ایک ایک لفظ پر رک رک کر دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔

واہ بی بی جی واہ کیا انداز بیاں ھے آپکا۔۔۔۔

نرگس بھی اسکی تعریف کرنے لگی۔۔۔۔

یہ درد بھی کتنا عجیب ھے نا جب اسے قلم کی زبان ملتی ھے سارے درد اپنے اندر سمو لیتا ھے اور پھر ھماری آہ لوگوں کی واہ واہ بن جاتی ھے۔۔۔۔

عضد نے اندر آ کر نرگس کو سلام کیا رتابہ نرگس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

عضد نے نرگس کے آگے سر کرتے ھوئے اس پر ایک نظر ڈالی تو وہ سہم کر رہ گئی۔۔۔۔۔

نرگس نے اسکا ماتھا چوم کر اسے پاس بٹھایا تو رتابہ اٹھ کر جانے لگی کہاں جا رہی ھو بیٹا بیٹھو یہاں۔۔۔۔

نہیں امی اب اور نہیں بیٹھ سکتی وہ طبیعت کا بہانا بنا کر چلی گئی۔۔۔۔۔

____________________

رتابہ۔۔۔رتابہ۔۔۔۔کہاں ھو۔۔۔

نرگس کمرے میں آکر اسے آواز دینے لگی۔۔۔۔

وہ ٹیرس میں کھڑی تھی۔۔۔۔

جی امی۔۔۔۔

سوئ نہیں ابھی تک۔۔۔۔۔

نہیں نیند نہیں آ رہی۔۔۔۔۔

نرگس بھی اسکے ساتھ ٹیرس میں بیٹھ گئ ھوا میں ہلکی ہلکی خنکی اور ٹھنڈ دونوں کے وجود میں اتر رہی تھی چاند پوری اپنی آب و تاب سے آسمان پر چمک رہا تھا۔۔۔۔

رتابہ چاند کی چاندنی میں کھوئ ھوئ تھی نرگس نے بڑے پیار سے اسے دیکھا رتابہ اک سوال پوچھوں تم سے؟؟

جی امی پوچھیں۔۔۔

تمھیں عضد کیسا لگتا ھے بیٹا۔۔۔۔

چاند سے نظریں ہٹا کر وہ نرگس کو دیکھنے لگی کہ یہ کیسا سوال تھا وہ پھر چاند کو دیکھ کر گہرے سانس لینے لگی اور نرگس کی بات کا جواب نا دے پائ۔۔۔۔

برا لگتا ھے وہ تمھیں۔۔۔۔۔۔

نہیں امی برا یا اچھے لگنے کی بات نہیں۔۔۔

تو پھرررر؟؟؟؟

اب مجھے صرف اس سے ڈر لگتا ھے بس۔۔۔۔۔۔

کیوں کیسا ڈر بیٹا شوہر ھے تمھارا تمھاری محبت کا تمھارے ساتھ کا تمھارے وجود کا تمھاری زندگی حقدار ھے وہ۔۔۔۔۔

امی مجھے لیکر ایک بار آپ نے اسکے ساتھ زبردستی کی تھی نا اب وہ اپنا ہر حق مجھ سے زبردستی وصول کرتا ھے پہلے وہ مجھے لفظوں کی مار مارتا تھا ہاتھ اٹھاتا تھا میں نے ہر حال میں اسکے ساتھ گزارا کیا لیکن اب وہ جس جبر اور زبردستی سے میری طرف بڑھا ھے وہ مجھے گوارا نہیں۔۔۔۔۔

نرگس پریشانی سے بولی ایسا اس نے کب کب کیا تمھارے ساتھ ؟؟؟

وہ سر جھکا کر بولی ایک ہی بار کیا ھے امی۔۔۔۔

تو کیا اس ایک بار کی معافی تم اسے نہیں دوگی کہ وہ اسکی تلافی کر سکے۔۔۔۔

رتابہ نے سر اٹھا کر نرگس کو دیکھا امی میرے ساتھ بھی ایک ہی بار زیادتی ھوئ تھی تو کیا اس ایک بار کو وہ ان ساڑھے تین سالوں میں معاف کر سکا کیا وہ بھول سکا یا اس نے مجھے بھولنے دیا۔۔۔۔۔

میری جان اپنے ماضی کو یہاں حال میں مت گھسیٹ کر لاؤ۔۔۔۔

امی وہ مجھے میرے ماضی میں روز گھسیٹ کر لے جاتا ھے میں چھٹکارا حاصل کرنا بھی چاھوں تو نہیں کر سکتی اسکی نفرت مجھے ہر لمحہ ہر گھڑی یہ احساس دلاتی ھے کہ میں استعمال شدہ اس ناپاک لباس کیطرح ھوں جسے عضد جیسا پاکیزہ انسان اپنے جسم پر زیب تن نہیں کر سکتا۔۔۔۔

نرگس پہلی بار رتابہ کہ جواب پر لاجواب ھوئ تھی۔۔۔۔۔

نرگس ان دونوں کے رشتے کی مضبوط کڑی تھی اس نے ان دونوں کو جوڑنا تھا واپس وہ پیار سے کہنے لگی ۔۔۔

عضد اب وہ عضد نہیں رہا بدل گیا بیٹا وہ۔۔۔۔

امی وہ اپنی نفرت کے خول سے وقتی طور پر باہر آتا ھے پھر بہت جلد اسی خول میں واپس جا بستا ھے۔۔۔۔۔۔

نرگس دھیمے لیکن پر اعتماد لہجے میں بولی۔۔۔۔

نفرت نہیں کرتا وہ تم سے اب اور وہ خول جسکی تم بات کر رہی ھو وہ نفرت کا تھا یا انا کا ٹوٹ کر پاش پاش ھو چکا ھے اپنی جھوٹی انا کی دیواریں پھلانگ کر اب وہ محبت کی بانہیں پھیلائے تمھارا منتظر ھے۔۔۔۔۔۔

رتابہ بے یقینی اور مایوسی کے سمندر میں ڈوب کر بولی محبت نہیں اسکو مجھ سے وہ صرف مجھ سے اپنی زندگی کے ان لمحات کا بدلہ لیتا ھے جو میری ھمسفری میں ضائع ھوۓ رتابہ بہت مایوس ھو چکی تھی عضد سے اور اسکے رشتے سے۔۔۔

نرگس اسکی حد درجہ مایوسی دیکھ کر بھی مایوس نہیں ھوئ۔۔۔۔

میری جان اگر تم عضد سے علیحدگی کا فیصلہ کرنا چاھتی ھو تو کچھ باتیں اپنے سامنے رکھ کر فیصلہ لینا تم پر میں عضد کیطرح کوئی دباؤ نہیں ڈالونگی۔۔۔

لیکن بیٹا کچھ حقائق جو مستقبل میں تمھیں پیش آ سکتے ھیں ان سے آگاہ کرنا میرا فرض بنتا ھے تاکہ تم سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو اور اس بات کا خوف دل میں مت رکھنا کہ عضد سے علیحدہ ھو کر میں تمھیں پناہ نہیں دونگی تم میری بیٹی ھو بلکل نمل کیطرح۔۔۔۔۔

رتابہ نے مخمور آنکھوں سے نرگس کیطرف دیکھا۔۔۔۔

میری جان ایک حادثے کا شکار تم پہلے سے ھو چکی ھو جسکا داغ تمھارے دامن سے آج تک مٹ نہیں سکا۔۔۔۔۔۔۔

اور عضد سے علیحدہ ھونا یا طلاق لینا دوسرا داغ طلاق ھوگا اور طلاق کا داغ عورت کے ماتھے پر اس کیل کے نشان کیطرح لگا رہ جاتا ھے جسکو دیوار پر ٹھونک کر نکال بھی دیا جاۓ تو وہ اپنا نشان چھوڑ جاتی ھے۔۔۔

نرگس کی بات سن کر رتابہ نے بے اختیار اپنا ماتھا چھوا۔۔۔

اور بیٹا طلاق واحد وہ جائز کام ھے جو اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ھے جب یہ الفاظ مرد منہ سے نکالتا ھے تو زمین و آسمان کانپ کر رہ جاتے ھیں۔۔۔

میری جان مجھے اس لفظ کو ادا کرنے پر بھی ڈر لگ رہا ھے۔۔۔

رتابہ کی نظریں اب زمین پر چاند کی پھیلتی روشنی پر ٹک سی گئیں۔۔۔

نرگس نے اپنی بات جاری رکھی لیکن یہ بھی سوچا ھے تم نے عضد سے علیحدہ ھو کر کب تلک تم میرے پاس بھی رہ سکتی ھو میرے جینے تک؟؟؟

رتابہ نے یک دم نگاھیں اٹھا کر نرگس کو دیکھا جسکے چہرے پر اسوقت مکمل فکر اور سنجیدگی کی شکنیں تھیں۔۔۔

چلو تمھیں نمل بہن بنا کر رکھ بھی لے ساتھ تو کیا عضد اس گھر سے الگ ھو سکتا ھے ؟؟؟ کیا تم بعد میں عضد کا سامنا کر سکو گی۔۔۔۔

رتابہ اپنے ھونٹ کاٹنے لگی اسکے پاس کوئ جواب نا تھا وہ جواب دیتی کیسے اسکا کوئ ٹھکانا نا تھا اس در کے سوا جس پر وہ عضد کے نام سے باندھی ھوئ تھی۔۔۔۔

نرگس نے کرسکے اسکے پاس کھسکائ یہاں دیکھو میری طرف عضد سے علیحدہ ھو کر ساری زندگی اس طلاق جیسے دھبے کیساتھ گزار سکتی ھو؟؟؟؟

آج تو معاشرہ تمھیں عزت کی نگاہ سے دیکھ رہا ھے کیونکہ تم معاشرے میں عضد کی منکوحہ کی حیثیت سے جی رہی ھو کل لوگوں کا اور انکی سوالیہ اور بری نظروں کا سامنا کر سکو گی؟؟؟ کیا جواب دوگی سوال کرنے والے کو ؟؟؟

رتابہ نے حلق سے کڑوے گھونٹ بھرے اور آنسوؤں میں ڈبڈبائ آنکھوں سے بلکل خاموش سمندر کیطرح نرگس کو دیکھا۔۔۔

نرگس اسکی اندرونی کیفیت سمجھ رہی تھی دیکھو میری جان ایسی عورت خود سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ھے اور اس معاشرے کو اس دنیا داری کو ھم نظر انداز کر کے نہیں جی سکتے کیونکہ ھمیں اسی معاشرے میں اسی دنیا میں دنیاداری کے ساتھ رہنا ھے۔۔۔۔۔۔

رتابہ ایک ٹک نرگس کو تکتی رہی۔۔۔۔

میں تمھیں کسی اور کے حوالے بھی نہیں کر سکتی۔۔۔۔

اپنے بیٹے پر تو مجھے یقین ھے کسی اور کی گارنٹی میں نہیں دے سکتی کہ کل کو کوئی تمھاری سچائی جان کر تمھارے ساتھ کیسا سلوک کرے۔۔۔۔

وہ نرگس کی ساری باتیں آرام خاموشی سے سن رہی تھی پھر سر کرسی سے ٹکاۓ کرسی کو جھلاتے ھوۓ کہنے لگی۔۔۔۔

امی آپکی ساری باتیں بجا ھیں لیکن ایسا ممکن نہیں کہ عضد اور میں ایک ھو جائیں آپکی اور میری ساری کوششیں دھری کی دھری رہ جاتی ھیں اسکی نفرت اسکا غصہ چٹان جیسا مضبوط ھے جس پر کسی طوفان کا کسی ضرب کا اثر نہیں ہوتا امی عضد اور میں نزدیک نہیں آ سکتے اس مجبوری اور زبردستی کی نزدیکیوں سے سکون کی دوریاں بہتر ھیں ھم دونوں کے لیے۔۔۔۔

نرگس نے ٹھنڈے ھوا کے جھونکے سے گہری سانس خارج کی اور اسکا اڑتا آنچل سنبھالا اور پورے یقین سے کہنے لگی میری جان یہ دوریاں سکون کی نہیں پشیمانی کی دوریاں ھونگی۔۔۔

کیا مطلب امی وہ سیدھی ھو کر بیٹھی۔۔۔

ایسا بھی ممکن ھے نا میری بچی کہ تم عضد سے دوری اختیار کر کے کل کو پچھتاؤ اور پھر پلٹ کر آنا چاھو تم تو عضد کے پاس بھی نا آ سکو اور زمانے کی ٹھوکریں تمھارا مقدر ھوں۔۔۔۔

رتابہ نے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔

میری جان یہ مت سمجھنا کہ میں اپنے بیٹے کی وکیل بن کر آئ ھوں یا تم پر اپنا فیصلہ صادر کرنے آئ ھوں میرا بیٹا عضد اسوقت تمھاری زندگی کا ضامن ھے اور وہ اپنی غلطی پر بہت نادم بھی ھے۔۔۔۔

نرگس نے رتابہ کے آنسو پونچھے جو ضبط کے سارے بندھن توڑ کر اب قطرہ قطرہ بارش کی بوندوں کیطرح اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔۔

بیٹا صبح کا بھولا لوٹ کر آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔۔۔۔۔

اور جو اپنے جرم کا اعتراف کرکے اسکے ازالے کی صورت لوٹ کر آۓ تو ایسے شخص کو واپس لوٹا دینا انسان کی سب سے بڑی بے وقوفی ھوتی ھے۔۔۔۔

رتابہ کے ہاتھ اب آہستہ آہستہ کپکپا رھے تھے۔۔۔

جانتی ھو میری بچی لوٹ کر واپس آپکے قدموں میں وہی آتا ھے جو آپکو کسی صورت بھی کھونا نہیں چاھتا کیونکہ اسکے دل میں آپکی لگن آپکی سچی محبت اسے واپس لاتی ھے اور یہ بات بھی یاد رکھنا عضد کیلۓ تم کوئ متبادل راستہ نہیں ھو۔۔۔۔۔

نرگس کی آخری بات پر وہ بھیگی بھیگی پلکیں جھپکا کر بولی۔۔۔۔

امی عضد مجھے نہیں چھوڑنا چاھتا؟؟؟

نہیں میری جان بلکل بھی نہیں میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا عضد کو تم سے ایک ہی چیز جدا کر سکتی ھے اسکا نام ھے موت۔۔۔۔

آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ھیں امی وہ بھولے بھالے بچے کیطرح نرگس سے اس بات کی تصدیق مانگنے لگی کہ بات سچی ھے یا نہیں۔۔۔۔

میری چندہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ھے مجھے اس نے آج تک میرا یقین ٹوٹنے نہیں دیا میں کبھی مایوسی کی چادر میں خود کو لپیٹ کر اسے آگے حاضر نہیں ھوئ اور بدلے میں اس نے بھی کبھی مجھے مایوس نہیں لوٹایا ھمیشہ مجھے اپنی رحمتوں سے جھولی بھر بھر کے نوازا ھے کہ میں پہلے سے زیادہ عقیدت اور بھروسے کیساتھ اسکے پاس آؤں۔۔۔۔

رتابہ نرگس کی ساری باتیں اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔

بیٹا جسے تم مضبوط چٹان کہہ رہی تھی نا ابھی کچھ دیر پہلے اس میں دراڑیں پڑتی میں نے دیکھی ھیں اور وہ وقت دور نہیں کہ وہ چٹان رب کے حکم سے بہت جلد پاش پاش ھو جاۓ ۔۔۔

اب بھی اسکی آنکھوں میں اک بے یقینی کی ہلکی سی جھلک تھی۔۔۔۔

تم پریشان مت ھو بیٹا میں تمھیں وقت دیتی ھوں سوچ سمجھ کر مجھے اپنا فیصلہ سنا دینا اتنا کہہ کر نرگس اسکے سر پر ہاتھ رکھ جانے کیلیے کھڑی ھوئ۔۔۔

رتابہ نے انکا ہاتھ تھام لیا امی سوچنا کیسا میں نے عضد سے الگ ھونے کی بات ضرور کی ھے لیکن طلاق کا نہیں کہا اور یہ بات آپ نے کیوں کہی کہ آپ عضد کیطرح مجھ پر اپنا حکم صادر نہیں کر سکتیں اسکا مطلب یہی ھوا کہ آپ مجھے غیر سمجھتی ھیں۔۔۔۔۔

نہیں بیٹا غیر نہیں سمجھتی۔۔۔۔

میں نے اسلیۓ ایسا کہا کہ کہیں تم یہ نا سمجھو کہ تمھارے آگے پیچھے کوئ نہیں اور میں اس بات کا فائدہ اٹھا رہی ھوں۔۔۔۔۔

امی آپ مجھ پر عضد کیطرح زبردستی کر سکتی ھیں آپ ماں جیسی نہیں میری ماں ہی ھیں کیونکہ اتنے پیار سے اتنی فکر سے ماں ہی بیٹی کو سمجھا سکتی ھے۔۔۔۔۔۔

رتابہ نے نرگس کا ہاتھ چوما۔۔۔۔

نرگس کا دل چاہا وہ اپنی ساری ممتا اس پر نچھاور کر دے۔۔۔۔

امی میں آپکے بیٹے کی خوشیوں کی خاطر اس سے الگ ھونے کا سوچ رہی تھی کیونکہ میرے ساتھ وہ اپنی بھرپور زندگی نہیں جی سکتا۔۔۔۔۔

نرگس نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا۔۔۔۔

لیکن میری جان وہ تمھارے بغیر جینا بھی نہیں چاھتا میری اس بات کا یقین کر لو کہ رتابہ تم عضد کیلیے متبادل راستہ نہیں ھو۔۔۔۔۔

رتابہ کو پوری طرح یقین نہیں آرہا تھا وہ کیسے مان لیتی کہ عضد کے پاس اسکے سوا جینے کا دوسرا راستہ نہیں لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ نرگس جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔۔

نرگس نے گہری سانس لی امی آپ کیا چاھتی ھیں۔۔۔۔

بیٹا میں تم دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھنا چاھتی ھوں۔۔۔۔۔

یہ نا ممکن ھے امی۔۔۔۔

نہیں چندا۔۔۔۔۔

اللہ پر یقین ھو تو نا ممکنات پر جی نہیں اٹکتا اپنا ایمان اپنا یقین اللّٰہ تعالیٰ پر کامل رکھو اور مانگتی رھو اس سے ۔۔۔۔

مانگنے والے کو اللہ تعالیٰ وہ بھی عطا کر دیتا ھے جو اسکے وھم و گماں میں بھی نہیں ھوتا اس بات کا یقین تم عضد کے دل کو ٹٹول کر کر سکتی ھو جسکی دھڑکنیں تمھارا ورد کرنے لگی ھیں اب ۔۔۔۔

رتابہ نے اپنے دل میں جھانکا جہاں عضد کا نام اسکے یقین کیطرح دھندلا دھندلا موجود تھا اور وہ وقت اب دور نہیں تھا جب یہ دھند چھٹنے والی تھی۔۔۔۔۔۔

__________________

مایا عضد کے ساتھ ضد کر کے اسے ساحل سمندر پر لے گئ کیونکہ وہ جانتی تھی وہ اسکی پسندیدہ جگہ ھے۔۔۔۔

وہ عضد کا ہاتھ تھامے ٹھنڈی ٹھنڈی ریت پر اسکے قدموں کیساتھ اپنے قدم اٹھانے لگی تم کیوں اتنے پریشان ھو۔۔۔۔۔

وہ کیا کہتا اس سے کہ وہ رتابہ کی محبت میں گرفتار ھونے لگا تھا یہ وہی مایا تھی جسکے سامنے عضد نے پورے ھوش و حواس سے اقرار کیا تھا کہ وہ رتابہ کیساتھ خوشحال زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

اور اب بھی یہی مایا تھی جسکے سامنے وہ اس بات کا اقرار نہیں کر پا رہا تھا کہ اسکے تصور میں اسوقت ہر سو صرف رتابہ ہی رتابہ ھے۔۔۔۔۔

عضد بولو بھی کچھ خاموش کیوں ھو۔۔۔۔۔۔

عضد نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا کچھ نہیں یار بس ویسے ہی پریشان ھوں کہ اچھا نہیں کیا میں نے رتابہ کیساتھ۔۔۔۔

یار بس بھی کرو جانے بھی دو اس بات کو اس میں تمھارا قصور بلکل بھی نہیں اس نے کچھ تو ایسا کہا ھے نا تمھاری ماما سے جس پر انہوں نے تمھاری اتنی انسلٹ کی۔۔۔۔

آخر کو مرد ھو تم کس کس کی سنتے اور رتابہ کو تمھارے غصے کا اچھی طرح سے علم ھے تو پھر کیوں اس نے اپنے دل کی ساری بھڑاس آنٹی کے سامنے نکالی اب اسکا نتیجہ اسے ہی بھگتنا تھا نا۔۔۔۔۔

نہیں یار ایسی بات نہیں۔۔۔۔۔۔

ایسی ہی بات ھے تمھیں وہ اتنی معصوم لگتی ھے لیکن جو وہ دکھتی ھے وہ ھے نہیں۔۔۔۔۔

ھمممممم عضد نے ہاں میں سر ہلا کر جان چھڑانی چاہی کیونکہ وہ اب رتابہ کو لیکر کسی سے کچھ بھی ڈسکس نہیں کرنا چاھتا تھا۔۔۔۔۔

یار جو بھی ھوا جانے دو اپنا موڈ ٹھیک کرو اور chill کرو تم جس کے غم میں اتنا گھل رھے ھو نا اسے تمھاری ذرہ بھی فکر نہیں۔۔۔۔۔

وہ مسکرا کر بولا تمھیں بہت فکر ھے میری۔۔۔۔۔

ظاہر ھے میرے دوست ھو جانتے ھو جان سے بھی زیادہ عزیز ھو مجھے اس طرح مجنوں بنتے تمھیں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔

اچھاااااااا جی۔۔۔۔

ہای جی۔۔۔۔

کیوں بھول گۓ اک تمھیں منانے کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا دی تھی میں نے تو سوچو تمھیں اتنا اداس اور بکھرا بکھرا کیسے دیکھ سکتی ھوں۔۔۔۔

وہ تو جانتا ھوں میں بہت جذباتی اور پاگل ھو تم۔۔۔۔

ہاں عضد تم مجھے پاگل کہہ سکتے ھو کیونکہ تمھاری دوستی میں پاگل پن سے بھی آگے جا چکی ھوں میں۔۔۔۔۔۔

عضد کو اسکا جنون اس وقت بات کرتے ھوئے اسکی آنکھوں میں بھی دکھائی دیا ایسا کیا دکھتا ھے مجھ میں تمھیں جو اتنا چاھتی ھو۔۔۔۔۔

تمہی کو چاھتی ھوں عضد تم ہی تم دکھتے ھو۔۔۔۔۔۔

عضد اسوقت اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ نرگس بھی گھر میں موجود تھی اور رتابہ بھی گھر سے جانا چاھتی تھی

ایسے میں وہ ڈر گیا کہیں مایا کے پھر کسی شدید رد عمل پر رتابہ اس سے علیحدگی کے فیصلے پر ڈٹ نا جاۓ۔۔۔۔۔۔

وہ مایا کو ہرگز یہ موقع نہیں دینا چاھتا تھ اسلیے اسکے اقرار پر خاموش ھو گیا وہ یہ بھی جانتا تھا کہ مایا حد سے جذباتی لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔

اور رتابہ پہلے ہی سے اسکی دوسری شادی کا ووٹ مایا کے حق میں دے چکی تھی اور نرگس کو بھی اس پر کوئی اعتراض نا تھا سارے حالات اسکے خلاف تھے ایسے میں خاموش رہنا ہی اسے بہتر لگا۔۔

___________________

نرگس کو جواب مل چکا تھا رتابہ کا کہ وہ عضد کیساتھ ہی رھے گی۔۔۔۔۔۔

لیکن کچھ عرصہ نرگس اسکے ساتھ رھے نرگس کو ماننا پڑی اسکی بات۔۔۔۔

اس نے جازب کو بلوا کر دیان کو لاھور نمل کے پاس بھیج دیا

ابھی عضد کو اس نے رتابہ کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا تھا کیونکہ عضد کو معاف کرنے کیلیے رتابہ کو کچھ وقت لگتا۔۔۔۔

نرگس بھی یہی چاھتی تھی کہ رتابہ اپنے دل میں بیٹھے سارے خوف اور وسوسے دور کر کے اسکے رشتے کو خوشی سے قبول کرے۔۔۔۔

_________________

عضد آفس جاکر فوراً ہی واپس آگیا اور آتے ساتھ اس نے جلدی سے اپنا سامان پیک کیا وہ لندن جا رہا تھا۔۔۔۔

ھمدانی صاحب کو ہارٹ اٹیک ھوا تھا انکی حالت کافی سیریئس تھی۔۔۔۔

وہاں کے آفس کا سارا کام ھمدانی سر کے ذمے تھا۔۔۔۔۔

علی اور مایا ابھی اس پوزیشن پر نہیں تھے کہ وہ آفس کے سارے معاملات دیکھ سکتے مسز ھمدانی کے کہنے پر اس نے علی اور مایا کو کچھ نا بتایا کیونکہ مایا کی جان تھی اسکے بابا میں وہ سن کر برداشت نا کر پاتی۔۔۔۔

اتفاق سے عضد کو لندن کا ٹکٹ بھی فوراً ہی مل گیا تھا۔۔۔۔۔

وہ نرگس کو ساری بات بتا کر ایئرپورٹ نکلنے لگا تھا کہ رتابہ کا خیال آیا اسے وہ کچن میں رابی کیساتھ کھانا پکا رہی تھی۔۔۔۔

اسکا دل چاھا کہ وہ ایک بار اسے گلے سے لگا کر اپنی غلطی کی معافی مانگ کر جاۓ لیکن وہ ایسا کر نا سکا۔۔۔۔۔

جاتے جاتے اسے اپنے سامنے دیکھ کر بہت بے چین ھوا پھر اسے نرگس کے حوالے کر کے چل دیا۔۔۔

لندن پہنچ کر اس نے سیدھا ھسپتال کا رخ کیا جہاں ھمدانی صاحب i.c.u میں تھے۔۔۔۔۔

مسز ھمدانی نے عضد کو دیکھ کر کچھ ریلیکس فیل کیا کہ اب وہ اکیلی نہیں تھیں ھوسپٹل پہنچ کر اسے علم ھوا کہ ھمدانی صاحب کا بائ پاس ھونا تھا۔۔۔۔

اسے بیک وقت دونوں طرف توجہ دینی پڑ گئ ایک طرف ھمدانی صاحب تھے اور ایک طرف آفس ورک۔۔۔۔

عضد کے پاس سر کھجانے کا بھی وقت نا رہا تھا ھمدانی صاحب کی حالت سیریئس دیکھ کر اس نے علی کو آفس ورک کے بہانے سے بلوا لیا اب علی کے آنے سے اسکا بوجھ کچھ کم ھوا تھا۔۔۔۔

مایا کو وہاں عضد ساتھ ساتھ بزنس کیلیے guide کرتا رہا۔۔۔۔۔

ھمدانی صاحب کا بائ پاس کامیاب ھو گیا تھا اب وہ خطرے سے باہر تھے۔۔۔۔

علی کسی صورت بابا کو اس حال میں چھوڑنے کر جانے کو تیار نا تھا لیکن ھمدانی صاحب کے کچھ recover ھونے پر وہ پاکستان واپس گیا۔۔۔

عضد کو یہیں لندن میں رکنا پڑا۔۔۔۔

آج اسے آۓ ھوۓ 20 دن گزر چکے تھے مسلسل دن رات ھوسپٹل اور آفس ورک نے اسے اتنا تھکا دیا کہ وہ اپنی کیئر بھی نا کر سکا اور بیمار پڑ گیا۔۔۔۔

اوپر سے رتابہ کی یاد رہ رہ کر اسے ستانے لگی کیونکہ وہ دیان کی پیدائش کے بعد بیس گھنٹے بھی رتابہ سے دور نہیں رہا تھا

رتابہ کی عادت اسے اتنی پڑ گئی تھی کہ وہ ہر کام میں اس کو تلاش کرتا۔۔۔۔۔۔

اسوقت بھی وہ نرگس سے فون پر باتیں کرتے ھوئے رتابہ کا پوچھ رہا تھا امی رتابہ کیسی ھے اب۔۔۔۔

ٹھیک ھے وہ بیٹا لیکن مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رھے آواز بھی بھاری بھاری لگ رہی ھے۔۔۔

نہیں امی ٹھیک ھوں بس تھک گیا ھوں بہت۔۔۔۔۔۔

رتابہ کو بھیج دوں لندن تمھارے پاس نرگس نے اسکے دل کی بات کہہ دی تھی اسکا دل کھلکھلا اٹھا۔۔۔۔۔

جی امی اگر وہ آنا چاھتی ھے تو بھیج دیں سچ میں اسکی کمی بہت محسوس ھو رہی ھے ادھورا ادھورا سا لگ رہا ھے سب کچھ اسکے بغیر نا گھر میں دل لگتا ھے نا کھانے پینے میں۔۔۔۔۔

نرگس کو ھنسی آ گئ اچھا بابا اچھا۔۔۔

میں کوشش کرتی ھوں اگر وہ رضامند ھوتی ھے تو۔۔۔۔

امی مجھے تو اسکے ساتھ نکاح کرنے پر بھی راضی کر لیا تھا اور اب اسے یہاں لندن آنے پر راضی نہیں کر سکتیں آپ۔۔۔

کہا تو ھے کوشش کرتی ھوں۔۔۔

نرگس نے رتابہ سے پوچھا تو وہ رتابہ کے منہ سے انکار نا نکل سکا۔۔۔۔

حالانکہ وہ جانا نہیں چاھتی تھی لیکن نا جانے کونسی قوت تھی ایسی جو اسکا دل مسلسل عضد کیطرف مائل کر رہی تھی۔۔۔۔۔

کچھ دنوں سے وہ عضد کے متعلق کچھ عجیب عجیب خواب دیکھ رہی تھی لیکن انکا ذکر نرگس سے نا کر سکی البتہ خود وہ بہت پریشان تھی۔۔۔۔۔

اور عضد کیلیے فکر مند بھی تھی بہت کہ اللہ جانے کیوں وہ مسلسل ایک اذیت میں تڑپتا ھوا اسکے خوابوں میں آ رہا تھا

رتابہ کو اکیلے جانے سے کافی ڈر لگ رہا تھا مایا اور علی کیساتھ وہ جانا نہیں چاھتی تھی۔۔۔۔۔

وہ کبھی اکیلی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی یہ تو دیس سے پردیس کا سفر تھا وہ بھی انتہائی طویل۔۔۔۔۔۔

نرگس کا ویزا پاسپورٹ نہیں تھا وہ بھی فوری طور پر نہیں جا سکتی تھی اسکے ساتھ۔۔۔۔

اللہ اللہ کر کے بڑی محنت اور تسلیوں کیساتھ نرگس نے اسے ایئرپورٹ سے جہاز تک رخصت کیا۔۔۔۔

جہاز میں رتابہ کیساتھ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی جو رتابہ کو ڈرا سہما ھوا دیکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی۔۔۔۔۔۔

یہ اسکا پہلا سفر تھا جہاز کا جو وہ عضد کے بغیر کر رہی تھی اسے یقین نہیں تھا خود پر کہ وہ اکیلی اس سفر کے قابل ھوگی۔۔۔۔۔۔

لیکن اسکے ساتھ موجود عورت نے لندن پہنچنے تک رتابہ کا بڑا خیال رکھا اور ایئرپورٹ پر بھی عضد کے آنے تک وہ اسکے ساتھ تھی۔۔۔۔۔۔

عضد کے آتے ہی رتابہ کی جان میں جان آئ اور اسے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *