Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 38)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 38)
Bad Bakhat by Arshi Noor
میری بچی میری بختی۔۔۔۔۔
بختی نے سر اونچا کیا اور گوپال کے میلے کچیلے ہاتھ ہاتھوں میں لیۓ پاگلوں کیطرح چومنے لگی۔۔۔
گوپال کے چہرے پر جمی گرد اسکے آنسوؤں سے دھلنے لگی۔۔۔۔۔
گوپال نے کپکپاتے اور میل سے سیاہ ھوتے ہاتھوں کے کٹورے میں رتابہ کا آنسوؤں سے تر چہرہ لیا۔۔۔۔۔
میری بختی کیسی ھے تو۔۔
اسکے منہ سے خوشی کے مارے الفاظ ہی نہیں نکل رھے تھے۔۔۔۔۔
گوپال نے اسکا ماتھا چوما۔۔
روڈ سے گزرتے ہوئے کئ لوگ یہ منظر دیکھ رھے تھے۔۔
رابی حیران تھی کہ یہ کون تھا جسے دیکھ کر رتابہ پاگلوں کیطرح روڈ سے بھاگتی آئ تھی اسے نا گاڑیوں کی فکر تھی نا اپنی جان کی کبھی وہ گاڑیوں کے سامنے آجاتی کبھی گاڑیاں اسے دیکھ کر ہارن بجاتی اسکے پاس بریک لگاتیں اور کتنی ہی گاڑیوں سے ٹکراتے اور انکے نیچے آتی ھوئ بچی تھی وہ۔۔۔۔
رابی ہانپتی سانسوں کیساتھ اس تک پہنچی
اس نے دیکھا بوسیدہ سے پرانے کپڑوں میں ملبوس جسکے پیروں میں ڈھنگ کے جوتے تک نا تھے رتابہ ان مٹی سے بھرے قدموں میں اس بوڑھے شخص کے سینے میں منہ چھپائے بیٹھی ھوئ تھی۔۔
بی بی جی اٹھیں یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔
گوپال نے سر اونچا کر کے رابی کو دیکھا جو رتابہ کو بی بی جی کہہ کر پکار رہی تھی رابی نے اسے اٹھایا۔۔۔۔۔
وہ گوپال کا ہاتھ پکڑ کر اٹھی اور گاڑی میں گوپال کو بٹھایا رابی اور ڈرائیور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رھے تھے۔۔۔۔
آپ مجھے کہاں چھوڑ کر چلے گۓ تھے پلٹ کر میری خبر تک نا لی کہ میں زندہ بھی ھوں یا نہیں وہ بڑے پیار سے گوپال سے شکوہ کناں تھی۔۔۔۔
تیرا گلہ بجا ھے میری بچی میں آیا تھا لوٹ کر لیکن مجھے تو کہیں نہیں ملی گلی گلی کوچہ کوچہ بھکاریوں کی طرح تجھے ڈھونڈتا رہا جیسے کوئی اپنا آپ کھو بیٹھتا ھے ایسے کھو گئی تھی تو مجھ سے۔۔۔
رتابہ نے گوپال کی حالت دیکھی تو اس سے برداشت نہیں ھوا آج اس نے گوپال کو ماما جی نہیں بابا جان کہہ کر پکارا۔۔۔۔۔
اسکے منہ سے یہ لفظ سننے کیلیے وہ ترس جاتا تھا لیکن دیوی کے ڈر سے وہ نہیں بول سکتی تھی کہ اس نے زبان کاٹنے کی دھمکی دے رکھی تھی کہ وہ گوپال کو اپنا باپ نہیں کہہ سکتی۔۔۔۔
رابی اور ڈرائیور کی آنکھیں پھٹ کر باہر آئیں جب انہوں نے اس بھکاری جیسے حلیۓ والے شخص کو رتابہ کے منہ سے بابا جان کہتے سنا تھا۔۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ھے بابا جان آپ نے چہرہ دیکھیں اپنا اور یہ کیا اتنے میلے کپڑے کیا ھو گیا ھے آپ کو؟؟؟
بس میری بچی تو آئ تھی تو میرے بخت جاگے تھے جس دن سے تو جدا ھوئ تو اپنے ساتھ ساتھ میرے بخت بھی لے گئ تجھی سے تو یہ فقیر شاہ بخت بنا تھا۔۔۔
گوپال کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوکا پیاسا ھے۔۔۔۔
رحیم چاچا گھر چلیں رتابہ نے ڈرائیور کو گھر جانے کا کہا۔۔۔۔۔
جی بیگم صاحبہ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تو گوپال نے رتابہ کیطرف دیکھا تو انکی بیگم صاحبہ ھے۔۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
مجھے پتہ تھا تیرے بختوں میں یہ سب ایک دن ضرور ھوگا راج کریگی تو ماہ رانی جیسا بخت ھے تیرا شادی ھو گئ ھے نا تیری؟؟؟
جی چار سال ھونے والے ھیں۔۔
کیا نام ھے اسکا گوپال نے بڑی چاہ سے پوچھا۔۔۔
عضد شاہ۔۔
گوپال نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اسکا نصیب مسلمان گھر میں لکھا تھا کیونکہ اس کے بچپن کے طور طریقوں سے وہ جانتا تھا کہ اسکی رگوں میں کسی مسلمان کا خون ھے گوپال نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا سدا سہاگن رھے میری بچی۔۔۔۔
بختی نے گوپال کے ہاتھ پھر ہاتھوں میں لیکر چومے۔۔۔
گوپال نے اسکا سر چوما میری اک بات مانے گی اسوقت۔۔۔۔
جی حکم تو کریں آپ۔۔
حکم نہیں میری التجا ھے بیٹا کہ مجھے اپنے گھر مت لیکر جا۔۔
کیوں نا لیکر جاؤں آپکی بختی کا گھر ھے بابا جان۔۔۔۔
گوپال نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے میری نادان سی بچی سمجھ میری بات اس حلیے میں تیرے ساتھ تیرے گھر نہیں جا سکتا میں۔۔۔۔۔
آپ کی کوئ بات نہیں سنوں گی میں اب آپ کو چلنا ھوگا میرے ساتھ۔۔۔۔
گوپال کے دل میں ڈر تھا کہ کہیں اسے بختی کیساتھ دیکھ کر کوئ اسے کمتر ھونے کا طعنہ نا دے یا اسکی وجہ سے بختی کی زندگی میں کوئی مشکل نا آ جاۓ اب تک بابو نام کا کانٹا اسکے من میں چھبا ھوا تھا۔۔۔۔
مان جا میری بات یہ دیکھ میں ہاتھ جوڑتا ھوں تیرے آؤنگا تیرے گھر میں لیکن اس حالت میں نہیں جانا چاھتا میری بچی کیا کہے گی گھر والوں سے کون ھوں میں؟؟
گوپال کو اپنے آپ سے شرم آ رہی تھی اسوقت کہ اسے غربت اور لاچاری نے کیا سے کیا بنا دیا تھا۔۔۔۔۔
وہ گوپال کو اپنے بچپن میں لے گئ بابا جب کوئی آپ سے پوچھتا تھا میرے متعلق کون ھوں میں؟؟تو آپ کیا کہتے تھے؟؟بیٹی ھے میری۔۔۔۔
وہ وقت اور تھا بختی تو میرے پاس تھی لیکن اب تو شادی شدہ ھے تیرا اک مقام اک حیثیت ھے۔۔۔۔
اور کیوں مجھے لے جا کر اپنی زندگی میں ایسا بونچھال لانا چاھتی ھے کہ لوگ تجھے میرے ساتھ دیکھ کر سوال کرنے لگ جائیں کتنے لوگوں کو تسلی بخش جواب دے گی کہ میں پہلے کہاں تھا اب کیوں ملا تجھے اور کیوں تجھے خود سے جدا کیا؟؟؟
اور کیا حیثیت اور کیا اوقات ھے میری؟؟
کیوں مجھے ظاہر کر کے اپنی زندگی خراب کرتی ھے مجھے اک راز کیطرح چھپا رہنے دے اسی میں تیری بھلائی ھے ؟؟
پھر گوپال نے ڈرائیور کو روکا کہ وہ گاڑی یہیں روکے رتابہ ماننے کو تیار نا تھی۔۔۔۔۔
بڑی مشکل سے اسے گوپال نے بہلایا تھا۔۔۔۔
لیکن اسے معلوم تھا اب کی بار بھی گوپال ایسا ہی کریگا اسے نہیں ملے گا دوبارہ۔۔۔۔۔
گوپال نے اسکی قسم کھا کر اسے یقین دلایا کہ وہ ضرور آۓ گا اسکے پاس اور رتابہ سے اسکا ایڈریس بھی لیا جو ڈرائیور نے لکھ کر دیا رتابہ کے کہنے پر ڈرائیور نے گاڑی ھوٹل کے پاس روکی۔۔۔۔
رتابہ گوپال کا ہاتھ تھامے جب ھوٹل میں داخل ھوئ تو ہر نظر اسی پر نظریں جماۓ تھی کہ وہ کس فقیر کا ہاتھ تھامے اندر آئ تھی گوپال کی نظریں شرم سے جھکی ہوئی تھیں۔۔۔
وہ گوپال کو لیکر ٹیبل پر بیٹھی اور کھانا آرڈر کیا۔۔۔۔
گوپال سے اتنا کچھ اپنے سامنے دیکھ کر کھایا ہی نہیں گیا وہاں کے لوگوں کا لام لباس دیکھ کر پھر اپنے آپ کو دیکھ کر اسکی بھوک ہی ختم ھو گئ تھی۔۔۔۔۔
رتابہ نے کھانا سارا پیک کروایا پھر جتنی بھی رقم اسکے پاس بچی تھی اس نے کھانے کے ساتھ پیک کروادی وہ جانتی تھی گوپال اس سے ایک پائی نا لیگا۔۔۔۔۔
گوپال اس سے نہیں ملنا چاھتا تھا دوبارہ کیونکہ وہ جانتا تھا اسکے حوالے سے ہی اسکی زندگی تباہی و برباد ھو سکتی ھے۔۔۔۔
وہ بختی سے ملکر بہت خوش تو تھا لیکن اپنے ساتھ جڑی اسکی حقیقت سے وہ خوفزدہ بھی تھا۔۔۔
پھر بابو کا خوف بھی وہ جھٹلا نہیں سکتا تھا
کہ اسکے لگاۓ گۓ الزامات پر دنیا آنکھیں بند کر کے یقین کر سکتی تھی کیونکہ اسکے پاس بختی کا باپ ھونے کا کوئی ثبوت نا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ گوپال کو اسکے بتاۓ ھوۓ اسٹاپ پر لائ۔۔۔۔۔
ڈرائیور نے گاڑی ہجوم سے ہٹا کر ایک سائیڈ پر گلی کے اندر روکی اس نے پھر سے گوپال سے وعدہ کیا ملنے کا۔۔۔۔۔
وہ اسے سینے سے لگا کر اپنے آنسو حلق سے زہر کیطرح اتارنے لگا کہ یہ اب اسکی بختی سے آخری ملاقات تھی۔۔۔۔۔۔
اب وہ سکون سے مر سکتا تھا کہ اسکی بختی اپنے بخت کے تخت تک پہنچ چکی تھی وہ گاڑی سے اترا تو بختی اسکے ساتھ اتری وہ گوپال کی آنکھیں پڑھ چکی تھی۔۔۔
اور ایک بار پھر گوپال کا ہاتھ تھامے اسے بے یقیں نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اسکی نظریں بختی کی نظروں سے مل نا سکیں ۔۔۔
بابا جان یہاں دیکھیں میری طرف۔۔
نہیں دیکھ سکتا بختی تجھے میں میری نگاہوں میں اتنی تاب نہیں کہ تیرے خاموش سوالوں کا جواب دے سکیں اس نے بختی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن بختی نے مضبوطی سے تھام لیا۔۔۔۔۔
گوپال کی سانسیں اسکے حلق میں اٹکنے لگیں چھوڑ دے بختی مجھے ۔۔۔۔۔
اس نے معصوم سے بچے کیطرح نا میں سر ہلایا اور اپنے مخصوص انداز میں سر ایک طرف کندھے سے جھکائے وہ بولی آپ نے چھوڑا تھا مجھے؟؟؟؟
تب تو بچی تھی اب بڑی ھو گئ ھے اپنے گھر بار والی ھے جا اپنا گھر اپنی زندگی سنبھال۔۔۔
بختی رو رہی تھی بابا آپ نے مجھے اسوقت سنبھالا تھا جب نا میرا کوئ گھر تھا نا بار تھا نا کوئ وارث تھا نا زندگی سب کچھ آپکا ہی دیا ھوا ھے بابا۔۔۔
گوپال نے اس سے رخ پھیر لیا وہ گوپال کا چہرہ اپنی طرف کرتے ھوۓ بولی بابا کیا اس دن کیلئے اپنے سینے سے لگا کر پالا پوسا تھا آپ نے کہ آپکو چھوڑ دوں ؟؟؟؟
گوپال نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا جو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا اب تیرا جو فرض ھے تو وہ پورا کر۔۔۔۔
بابا کیا میں اب صرف بیوی بن کر رھونگی بیٹی بننے کا فرض گنوا چکی میں؟؟؟؟
ہاں گنوا چکی ھے تو تیرا مجھ پر اور میرا تجھ پر اب کوئی حق نہیں۔۔۔
رتابہ کے آنسو روانی سے بہنے لگے ایسا تو نا کہیں۔۔۔۔
جا گھر جا سکون سے جی اپنی زندگی ۔۔۔۔۔
یہ زندگی بھی تو آپکی دان کی ھوئ نے نا۔۔۔۔۔۔
بس کر دے بختی بس چپ ھو جا اور جا اپنے گھر میں آؤنگا تجھ سے ملنے۔۔۔۔۔
اتنا کہہ کر گوپال اس سے دو قدم پیچھے ہٹا اور پھر دوڑ لگا دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسکے پیچھے آۓ گی۔۔۔۔
رتابہ دو قدم آگے بھاگی لیکن گوپال نے اک لمحہ بھی پیچھے مڑ کر نا دیکھا رتابہ کا ہاتھ ھوا میں لہرا کر رہ گیا۔۔۔۔
گوپال نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تک نہیں ایسے جیسے وہ پلٹا تو پتھر کا بت بن جاۓگا۔۔۔۔
وہ اپنی میلی کچیلی آستینوں سے آنسو صاف کرتا بھاگتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی پل میں وہ ایک بار پھر اسکی نظروں سے ھمیشہ کے لئے اوجھل ھو گیا۔۔۔
رتابہ یونہی پتھرائی ہوئی کھڑی رہی۔۔۔۔۔
رابی نے اسے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔۔۔
اور ڈرائیور کو بھی سختی سے منع کیا کہ آج جو بھی ھوا اسکا ذکر وہ کسی کے ساتھ نا کرے ڈرائیور اپنے نام کی طرح رحیم تھا وہ سمجھ گیا تھا کہ ماجرا کیا ھے۔۔۔۔
اسکی آنکھیں بھی بھیگنے لگیں آپ فکر نا کریں بیگم صاحبہ میری بیٹی جیسی ھے اسکا رحیم چاچا کبھی بے رحمی نہیں دکھا سکتا۔۔۔۔۔۔
رابی نے فی الحال رتابہ سے کوئی سوال نا کیا کہ اس نے رو رو کر خود کو ہلکان کیا ھوا تھا گھر پہنچ کر رتابہ سیدھا اپنے کمرے میں گئ۔۔۔۔
رابی اسکے پیچھے پیچھے تھی بی بی جی بس کر دیں رونا اب آپکی طبیعت خراب ھوئ تو میں کیا کہونگی عضد صاحب سے کیا ھوا ھے آپکو۔۔۔
وہ روتے ھوئے بولی میں خود بتا دونگی عضد کو۔۔۔۔
نہیں بی بی جی ابھی عضد صاحب سے کچھ مت کہنا رابی کافی سمجھدار تھی اور رتابہ کی خیرخواہ اور دوست بھی اس نے بڑے سلیقے اوراطمینان سے رتابہ کو سمجھایا تو وہ اسکے کہنے پر چپ ھو گئ۔۔۔۔
__________________
مایا کو خاموش اور کچھ اپ سیٹ دیکھ کر عضد پوچھے بنا نا رہ سکا کیا ھوا ھے پریشان لگ رہی ھو۔۔۔۔
ہاں یار پریشان تو ھوں میں۔۔۔۔۔
کیوں؟؟؟
علی کی وجہ سے….
علی کی وجہ سے لیکن کیوں عضد نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔
یار تم جانتے ھو وہ ہر ویک اینڈ پر گھر نہیں ھوتا۔۔۔۔۔
ہاں اکثر گھر نہیں ھوتا لیکن اسمیں پریشانی والی کونسی بات ھے؟؟
عضد بات پریشانی والی ھے اسلیے پریشان ھوں میں۔۔
تو شیئر کر لو ھو سکا تو تمھاری مدد ضرور کروں گا۔۔۔۔
مایا پین کو ٹیبل پر گھمانے لگی۔۔۔۔
بولو بھی غلط activities میں انوالو تو نہیں وہ عضد نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔۔۔
مایا نے گہری سانس لیکر عضد کو دیکھا یہی سمجھ لو۔۔۔
اوہ اچھا عضد بھی سیریئس ھو گیا کسی لڑکی وڑکی کا چکر تو نہیں۔۔۔۔۔۔
ھو بھی تو میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔۔
عضد نے اسکے ہاتھ سے پین لیا جو وہ مسلسل اپنی الجھن میں اسے گھماۓ جا رہی تھی یار کیوں سسپینس createکر رہی ھو اب بتا بھی دو۔۔۔۔۔
عضد میرے تایا کا قتل ھوا تھا آج سے تقریباً 28 سال پہلے۔۔۔۔
عضد پوری خاموشی اور توجہ سے اسے سننے لگا۔۔۔۔
میرے تایا نے پسند کی شادی کی تھی کسی جاگیردار گھرانے کی بیٹی سے۔۔۔۔۔
دونوں خاندان کسی پرانی دشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے کے سخت خلاف تھے۔۔۔۔۔
تائ کو انکے گھر والوں نے نا صرف جائیداد سے بلکہ اپنے نام اور خاندان سے بھی مکمل طور پر عاق کر دیا تھا اسوقت میرے تایا بھی اپنے علاقے کے وڈیرے تھے بہت مال دولت تھی انکے پاس۔۔۔
کچھ ہی سال وہ تائ کے ساتھ رھے تھے پھر میری تائ کے بھائی نے طیش میں آکر میرے تایا پر قاتلانا حملہ کیا تھا۔۔۔
کچھ دنوں بعد انکی death ھو گئ تھی آدھی سے زیادہ جائیداد تائ کے نام تھی۔۔۔
تایا ابو کے انتقال کے بعد انہوں نے ساری جائیداد پاپا کے نام کر دی اور اپنے لیے صرف حویلی رکھی جس میں وہ تایا ابو کیساتھ رہتی تھیں۔۔۔۔
ھمارے خاندان والے بھی تایا کے قتل کا بدلا لینا چاھتے تھے لیکن پاپا نے سب کو خبردار کیا کہ وہ یہ خون خرابا نہیں چاھتے۔۔۔
انہوں نے اپنے بھائی کا قتل معاف کر دیا تھا اسی دوران تائ کے چھوٹے بھائی کا کسی نے قتل کر دیا اسکا الزام پاپا پر لگا دیا گیا۔۔۔
آۓ دن انکو قتل کی دھمکیاں ملتی تھیں پھر ایک بار ان پر بھی حملہ ھوا جس میں علی اور ماما بھی بری طرح زخمی ہوئے تھے۔۔۔۔
پاپا وہ سب کچھ چھوڑ کر ماما اور علی کو لیکر نا صرف وہ شہر بلکہ ملک ہی چھوڑ کر چلے گئے پاپا نے آج تک پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔۔۔
لیکن ناجانے علی کو کیسے انکا پتہ چلا اور اب وہ یہاں کراچی آکر ان سے ملنے جاتا ھے جہاں اسکی جان کو اب بھی خطرہ ھو سکتا ھے کیونکہ انکی یہ قبیلوں کی جنگ نسل در نسل چلتی ھے۔۔۔۔
عضد بھی سن کر کافی حیران اور پریشان ھوا اس نے دونوں ابرو آچکا کر گہری سانس لی لیکن علی جب سب کچھ جانتا ھے تو وہاں وہ کس سے ملنے جاتاھے؟؟
تائ سے جو اب اپنے اسی بھائ کیساتھ رہتی ھیں جو میرے تایا کے قاتل تھے۔۔۔۔
اوہ اچھاااا لیکن تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا یہ سب؟؟؟
کیسے بتاتی مجھے خود ابھی پتہ چلا ھے کہ یہ وہاں جاتا ھے۔۔۔
عضد مایا کو دیکھ کر بولا بات تو واقعی پریشانی والی ھے لیکن تم ٹینشن مت لو میں سمجھاؤ گا اسے۔۔۔
لیکن اک بات تو بتاؤ کیا تمھاری تائ نے شادی نہیں کی تھی پھر دوسری۔۔۔۔۔
اسکا مجھے علم نہیں۔۔۔۔۔
بچے ھیں تمھارے تایا کہ؟؟؟
پاپا نے بتایا دو بیٹے تھے انکے۔۔
عضد نے مایا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔
U don’t worry
میں بات کروں گا اس سے۔۔۔
یار میں پاپا کو بھی نہیں بتا سکتی انکی کنڈیشن ایسی نہیں کہ وہ یہ سب برداشت کر سکیں اور میں بھی پریشان ھوں بہت کہ اللہ نا کرے وہ اپنی کسی پرانی دشمنی کی بھینٹ علی کو نا چڑھا دیں۔۔۔۔
________________
رتابہ کچن میں عضد کیلیے رات کا کھانا بنانے میں مصروف تھی عضد گھر میں نہیں تھا نا علی موجود تھا رابی نے رتابہ کو آواز لگائی بی بی جی شاہ صاحب آئیں ھیں۔۔۔۔
رتابہ نے چولہے کی آنچ ہلکی کی اچھا انکو بٹھاؤ ڈرائنگ روم میں میں آتی ھوں۔۔۔۔
بی بی جی وہ باہر لان میں ہی بیٹھ گۓ ھیں رتابہ نے اپنا دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھا اور باہر آکر سلام کیا۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر سلام کا جواب دیا ۔۔۔
وہ وہیں شاہ جی کیساتھ بیٹھی دونوں آپس میں خیر خیریت کی باتیں کر رھے تھے۔۔۔۔
مایا کچن میں رابی کو جوس کا آرڑ دینے آئ تو کھڑکی سے باہر شاہ جی کو دیکھا۔۔۔۔۔
رتابہ شاہ جی کے کہنے پر خود چاۓ بنانے کیلئے جیسے ہی اٹھی تو ایک دم سے اسے چکر آئے وہ گرنے لگی تھی لیکن شاہ جی نے فوراً اسے تھام لیا۔۔۔۔
اور واپس کرسی پر بٹھایا کیا ھوا ھے تمھیں؟؟؟
کچھ نہیں بس ویسے ہی چکر سے آگۓ۔۔۔۔۔
کھانا پینے کا خیال نہیں رکھتی ھو کیا؟؟؟
حالت دیکھو اپنی ایسے لگتا ھے جیسے 15.16 کی بچی ھو کھایا پیا کرو یار۔۔۔۔
جی کھاتی تو ھوں ۔۔۔۔
عضد کے کان کھینچنے پڑیں گے مجھے لگتا ھے وہ تمھارا خیال نہیں رکھتا۔۔
رتابہ فوراً بولی نہیں نہیں ایسی کوئ بات نہیں۔۔۔۔
شاہ جی نے پھر سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا عضد کیساتھ ساتھ اپنا خیال بھی رکھا کرو بستر پہ پڑ گئی تو کوئ نہیں پوچھنے والا تمھارا۔۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
مایا سینے پر ہاتھ باندھے بڑے ہی اسٹائل سے چلتی ھوئ انکے پاس آئ کیا باتیں ھو رہی ھیں دونوں میں۔۔۔
شاہ جی مایا کو دیکھ کر مسکرایا آپ بھی بیٹھ جائیں ساتھ اندازہ ھو جائیگا کیا باتیں چل رہی ھیں۔۔۔۔
وہ رتابہ کو کھوجتی ھوئ نظروں سے دیکھ کر بولی اندازہ تو مجھے ھے پہلے سے ہی خیر۔۔۔
رتابہ مایا کو دیکھ کر اٹھنے لگی میں چاۓ بنا کر لاتی ھوں آپکے لیے۔۔۔۔
ارے نہیں نہیں شاہ جی نے اسے روکا تم بیٹھو یہیں تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں میں پھر کبھی پی لونگا۔۔۔۔
مایا شاہ جی کے سامنے بیٹھی آپ کا آنا کیسے ھوا آج یہاں۔۔۔۔
ویسے ہی یہاں سے گزر ھوا تو سوچا عضد سے ملتا چلوں۔۔۔۔
اچھا لیکن عضد تو گھر میں نہیں ھے مایا کے چہرے پر مسلسل شک اور بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔۔۔
نو پرابلم آپ سب تو ھیں نا شاہ جی اسکا انداز سمجھ کر سیدھا ھو کر بیٹھا۔۔۔۔
مجھ سے تو آپکا کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔
شاہ جی ہلکے سے مسکرایا آپکو دیکھ کر لگتا ھے آپ تعلق بنانے میں دیر نہیں لگاتیں شاہ جی نے ڈائیریکٹ اسکے کردار پر چوٹ کی جسے وہ اپنی تعریف سمجھ کر اٹھلائ۔۔۔۔۔
کیا مطلب؟؟ لیکن مذید کچھ سننا چاہ رہی تھی وہ اپنے بارے میں وہ۔۔۔۔
شاہ جی اپنی بات کا پہلو بدل کر بولا مطلب یہی کہ کافی attractive personality ھے آپکی۔۔۔۔
مایا اپنی تعریف پر خوشی سے کھلکھلائ اوہ رئیلی۔۔۔۔۔
یقین نہیں آتا تو آئینے میں دیکھ لیا کریں خود کو۔۔۔
مایا کو ھنسی آگئ وہ بڑے غرور سے بولی آئینہ جھوٹ بھی تو بول سکتا ھے۔۔۔
نہیں مایا میم آئینہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتا اسکا کام ہی صاف گوئی ھے بس انسان اپنا باطن دیکھنے سے قاصر رہتا ھے۔۔۔
بڑی گہری باتیں کرتے ھیں آپ۔۔۔۔
رتابہ انکے درمیان سے اٹھی۔۔۔
تم کہاں جا رہی ھو۔۔۔۔۔
آتی ھوں کچھ دیر میں وہ چلی گئ وہاں سے۔۔۔۔۔
شاہ جی اور مایا باتیں کرتے رھے آپس میں رتابہ چاۓ کیساتھ کباب لیکر حاضر ھوئ ارے واہ کیا کہنے یار مجھے کباب بڑے پسند ھیں کباب دیکھ کر شاہ جی کی بھوک چمک اٹھی۔۔۔۔
ویسے ایک بات ھے کھانا بڑا ہی بہترین بناتی ھو تم جب سے تمھارے ہاتھ کا کھانا کھایا ھے نا میں تو فین ھو گیا ھوں تمھارا۔۔۔
شاہ جی نے کھل کر رتابہ کی تعریف کی دل چاھتا ھے روز آجایا کروں کھانے۔۔۔۔۔
رتابہ خوش دلی سے بولی آپکو کس نے روکا ھے آپکا اپنا ہی گھر ھے آجایا کریں ۔۔۔۔۔
شاہ جی مزے سے کباب کھاتے ھوۓ بولا سوچ لو پھر برداشت کر لوگی روز مجھے۔۔۔۔
رتابہ مسکرائ اس میں برداشت کرنے والی کونسی بات ھے آپ غیر تو نہیں ھماری فیملی کا حصہ ھیں۔۔۔
مایا کافی غور سے رتابہ کو دیکھ رہی تھی جو مسکرا کر شاہ جی کی باتوں کا جواب دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
شاہ جی نے کباب کی پلیٹ اور اپنے بھوکے پیٹ کیساتھ پورا انصاف کیا اور سارے کباب کھا گیا۔۔۔
لو جی تمھاری پلیٹ تو کر دی میں نے صاف
رتابہ نے خالی پلیٹ اٹھائ اور لا دیتی ھوں آپکو۔۔۔۔
نا بابا نا بس اتنے ہی کافی ھیں پھر وہ ہاتھ جھاڑ کر کھڑا ھوا اچھا میں چلا عضد تو اب تک نہیں آیا۔۔۔۔۔
آپ کی بات تو ھوئ تھی آتے ہی ھونگے وہ رتابہ نے اسے روکنا چاہا۔۔۔۔
نہیں رتابہ اب چلونگا میں مجھے کہیں اور جانا ھے۔۔۔۔
مایا کو اسکی باتیں بڑی دلچسپ لگی تھیں وہ بھی بولی بیٹھ جاتے کچھ دیر اور آپ۔۔۔
نہیں میم پھر آؤنگا اور اسکے ہاتھ کا کھانا کھا کر جاؤنگا۔۔۔
شاہ جی نے بڑے پیار سے رتابہ کا سر تھپتھپایا۔۔۔۔۔
مایا مسکراہٹ سے نچلا دانت ھونٹوں تلے دبا کر بولی لگتا ھے بڑے عادی ھیں آپ اسکے۔۔۔۔ پھر کچھ ٹھہر کر بولی ہاتھوں کے۔۔۔۔
شاہ جی اسکی بات کا منطق سمجھ چکا تھا وہ مسکراتا ھوا شان بے نیازی سے بولا ھم آپکے عادی بھی ھو سکتے ھیں ان جیسی عادت اپنا لیں تو۔۔۔۔۔
مایا شاہ جی کا کھرا جواب سنکر کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ اس نے اللہ حافظ کہہ کر اپنے قدم تیزی سے دروازے کیطرف بڑھاۓ۔۔۔۔
_____________________
جازب اور نمل کا روز کا معمول تھا وہ رات کو باہر ٹہلنے جاتے تھے کبھی دیان انکے ساتھ ھوتا اور کبھی نا ھوتا۔۔۔۔۔
یار تم نے عضد کے behave پر غور کیا جازب کی بات سنکر نمل اسکے ساتھ چلتے چلتے اسکے سامنے کھڑی ھوئ۔۔۔۔
ہاں میں نے کافی لچک محسوس کی اس کے لب و لہجے میں اسکے انداز میں۔۔۔۔
جازب اسکا ہاتھ پکڑ کر وہی سیمینٹ کے بنے بینچ پر بیٹھا۔۔۔۔
تم نے صرف لچک محسوس کی لیکن میں نے اسکی آنکھوں میں رتابہ کیلیے اسکا دل دھڑکتا محسوس کیا ھے۔۔۔۔۔۔
امی بھی کہہ رہی تھیں کہ عضد اب بدل رہا ھے لیکن مجھے اس میں صرف رتابہ کیلئے نرمی نظر آئ محبت نہیں۔۔۔
کیوں؟؟؟
کیونکہ محبت میاں بیوی کے درمںان تمام فاصلوں کو طے کرتی قربت کا دوسرا نام ھے جبکہ ان کے درمیان فاصلہ کل بھی تھا آج بھی ھے نمل کے چہرے پر اتنی خوشی نہیں تھی۔۔۔
تمھاری کوئی بات ھوئ رتابہ سے اس متعلق جازب اسکی طرف دیکھ کر فکر مندی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
ہاں ھوئ تھی لیکن اسکا جواب عارضی طور پر تسلی بخش تھا یا شاید جھوٹی تسلی جو وہ یا تو مجھے دے رہی تھی یا اپنے آپ کو دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
نمل کے جواب پر جازب افسوس سے بولا یار رتابہ کیساتھ بڑی زیادتی ھے یہ کہ عضد اسے اپناتا بھی نہیں اور چھوڑتا بھی نہیں۔۔۔۔
شاید اب آنیوالے وقت میں چھوڑ دے نمل کا لہجہ آنے والے خدشات کا ڈر لیے ھوۓ تھا۔۔۔
کیوں تمھاری سوئ یار ہر بار مایا پر آکر اٹک جاتی ھے جازب کو چڑ سی ھونے لگی تھی اب نمل کے اس شک پر وہ اٹھ کھڑا ھوا۔۔۔۔
اسٹریٹ لائٹ کی ہلکی ہلکی روشنی میں اسکا سایہ اسکی قدو قامت سے بھی دراز ھو رہا تھا نمل جازب کے بڑھتے ھوۓ ساۓ کو خاموشی سے تکنے لگی۔۔۔۔۔
چلو یار اٹھو گھر چلتے ھیں۔۔۔
پھر اسکی آواز پر اپنی سوچوں سے باہر آئ اور جازب کا ہاتھ تھامے اسکے ساتھ گھر کیطرف آنے لگی۔۔۔
ناجانے کیوں عضد اور رتابہ کو کچھ قریب ھوتا دیکھ کر بھی اسکے دل سے مایا کا کھٹکا نہیں نکل رہا تھا۔۔۔۔
____________________
عضد اور علی ایک ساتھ باہر گۓ تھے ابھی تک وہ لوٹ کر نہیں آۓ تھے رتابہ لاؤنج میں بیٹھ کر عضد کا انتظار کرتے کرتے تھک گئ تھی۔۔۔
مایا اپنے کمرے سے باہر آئ تو رتابہ کو صوفے پر لیٹا دیکھ کر اسکے پاس چلی آئ۔۔۔۔۔
سنو۔۔۔۔
رتابہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔۔
شاہ جی کیساتھ کیا رشتہ ھے تمھارا؟؟؟
کیوں آپ کیوں پوچھ رہی ھیں؟؟؟
لگتا ھے مراسم کافی پرانے ھیں تمھارے شاہ جی سے۔۔۔۔
آپ کہنا کیا چاھتی ھیں وہ اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
مایا اسکی آنکھوں میں جھانک کر دیدہ دلیری سے بولی وہی جو تم کہنا نہیں چاھتی۔۔۔۔
رتابہ کو سمجھ نا آئ وہ کس بارے میں بات کر رہی ھے۔۔۔۔۔
میں کیا کہنا نہیں چاھتی اور آپ مجھ سے کیا سننا چاھتی ھیں ؟؟؟؟؟
مایا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا گھبرا کیوں رہی ھو میں تو بس یہ سچ جاننا چاہتی ھوں کہ جب یہ پہلی بار یہاں آیا تھا تو تمھیں ساتھ لیکر آیا تھا۔۔۔۔
اور تمھارا سر راہ ہنگامی حالات میں اسی کو ملنا محض اتفاق تو نہیں ھو سکتا۔۔۔
رتابہ اسکی بات سن کر سخت لہجے میں بولی۔۔۔
دیکھیں مایا آپ ھمدانی انکل کی بیٹی ھیں اور عضد کی دوست بھی اسلیے میں آپکی ہر بات آپکا ہر رویہ برداشت کر لیتی ھوں لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپکی اس قدر گھٹیا سوچ کو بھی برداشت کروں۔۔۔
ناجانے کہاں سے آج رتابہ میں اتنی ھمت آئ تھی کہ وہ مایا کیساتھ مایا کے ہی لہجے میں مخاطب ھوئ تھی۔۔۔۔
اونہہ مایا رعونت بھرے لہجے میی بولی۔۔۔۔
گھٹیا تعلقات رکھتی ھو تو سچ بھی اب تمھیں گھٹیا ہی لگے گا نا۔۔۔
رتابہ کو آج پہلی بار اتنا غصہ آیا تھا وہ اٹھ کھڑی ھوئ اور اسکی نگاھوں میں نگاھیں گاڑ کر انگلی اٹھا کر بلند آواز میں کہا۔۔۔۔
بسسسسس مایا بس میرے کردار پر بات مت کرنا آئندہ ورنہ۔۔۔۔۔
مایا اس سے دو قدم قریب ھوئ اور اکڑ کر بولی ورنہ کیا؟؟؟
بولو نا ورنہ کیا؟؟؟؟؟
رتابہ اس سے پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔
کیوں بولتی بند ھو گئ تمھاری بس اتنا سا دم خم تھا تمھارے اندر سچ بول نہیں سکتی تو جھوٹ کی پٹی دوسروں کی آنکھوں پر کب تک باندھتی پھروگی؟؟؟
رتابہ اس کے بدلتے تیور دیکھ کر کچھ سہم گئ تھی۔۔
گھر میں بھی کوئی نا تھا اور رابی بھی اپنے کوارٹر میں تھی۔۔۔
میں آپ سے کوئ بات نہیں کرنا چاھتی اتنا کہہ کر وہ جانے لگی تو مایا نے اسے بازو سے پکڑا تم عضد کو سچ بتا کیوں نہیں دیتی۔۔۔۔
کونسا سچ؟؟؟؟؟
یہی کہ شاہ جی کے ساتھ تمھارے مراسم کافی گہرے ھیں اور مجھے تو یہ یقین بھی ھونے لگا ھے کہ تمھارے ناجائز بچے کا باپ بھی شاہ جی ہی ھے۔۔۔۔
مایا کی بات سن کر رتابہ کو ایسے لگا جیسے کسی نے اسکے کان میں پگھلتا ھوا سیسہ انڈیل دیا ھو اتنا بڑا الزام وہ کیسے برداشت کرتی وہ بھی شاہ جی کے متعلق جسے وہ اپنا بڑا بھائ مانتی تھی رتابہ نے اسکے لحاظ کا چولا اتار پھینکا۔۔۔
اور ایک زور دار چماٹ مایا کے منہ پر دے ماری۔۔۔۔۔
مایا کو آج پہلی بار کسی نے طمانچہ رسید کیا تھا وہ بھی رتابہ جیسی بزدل اور ڈرپوک لڑکی نے جسے وہ کسی نالی کا معمولی کیڑا سمجھتی تھی۔۔۔۔۔
مایا نے دیوانوں کیطرح اسے کندھوں سے پکڑ کر زور زور سے جھنجھوڑا تم نے مجھے ۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔
مجھے تھپڑ مارا اسکی آواز درو دیوار سے ٹکرا کر باہر عضد کے کانوں تک گئی جو ابھی ابھی گھر میں داخل ھوا تھا۔۔۔۔
رتابہ نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی اور بنا کسی خوف کے بولی تمھاری بات کا میرے پاس اس سے بہتر اور کوئ جواب نہیں تھا۔۔۔۔۔
مایا کا اب اپنے ھوش میں رہنا نا ممکن تھا عضد مایا کی آواز سن کر بھاگتا ھوا اندر آیا مایا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رتابہ کو شانوں سے پکڑا ھوا تھا ایسے لگ رہا تھا وہ آج رتابہ کی جان لے لیگی۔۔۔۔۔۔
عضد ان دونوں کو دیکھ کر بلند آواز میں بولا کیا ھو رہا ھے یہ سب ؟؟
مایا نے اسے دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور بھاگتی ھوئ اسکے پاس آئ۔۔۔۔
کیا ھوا ھے؟؟؟
وہ مایا کو روتا دیکھ کر رتابہ سے پوچھنے لگا رتابہ تو خاموش ہی رہی لیکن مایا روتے روتے بولی۔۔۔۔۔
آج شاہ جی آیا تھا اور تمھاری غیر موجودگی میں اسے شاہ جی کیساتھ اتنا کلوز دیکھ کر میں نے صرف اتنا پوچھا کہ اتنی کلوز تم عضد کیساتھ بھی نہیں ھو جتنی شاہ جی کیساتھ ھو وہ ایک دو بار پہلے بھی تمھاری غیر موجودگی میں آچکا ھے ۔۔۔۔
میں نے صرف اتنا پوچھا اس سے کیا تمھاری کوئی پرانی جان پہچان ھے شاہ جی سے تو اس نے میرے منہ پر تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔
رتابہ مایا کے سفید جھوٹ پر اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔
عضد نے گردن گھما کر رتابہ کو دیکھا۔۔۔
اسکا رخ اب رتابہ کی طرف تھا تم نے اسے تھپڑ مارا ھے؟؟؟؟
وہ مایا کے منہ پر اسکی انگلیوں کے نشان دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
کیوں؟؟؟؟
اسی سے پوچھ لیں آپ۔۔۔
مایا رو رو کر اپنی صفائی دینے لگی عضد میں قسم کھا کر کہتی ھوں میں جھوٹ نہیں بول رہی پوچھو اس سے کیوں اسے میری بات اتنی بری لگی کیوں اس نے مجھے شاہ جی کے نام پر تھپڑ مارا۔۔۔۔
مایا بولتی ہی گئ اور رتابہ سر جھکاۓ خاموشی سے کھڑی رہی ایک آنسو نہیں تھا اسکی آنکھ میں اسوقت مایا کا یہ روپ دیکھ کر وہ ششد رہ گئ۔۔۔۔۔
عضد نے رتابہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے کمرے میں لے گیا۔۔۔۔
اسکے جاتے ہی مایا نے اپنے آنسو صاف کیۓ مجھے تھپڑ مارا ھے نا تم نے اب دیکھنا میں اسکا بدلہ تم سے کیسے لیتی ھوں۔۔۔۔
عضد نے رتابہ کو صوفے پر بٹھایا اور خود اسکے قدموں میں پنجوں کے بل بیٹھا
رتابہ کو پیٹ میں درد ھو رہا تھا۔۔۔
مایا کیا کہہ رہی ھے تمھارے متعلق ؟؟؟ عضد کا لہجہ برف کیطرح ٹھنڈا تھا اسکے سوال پر وہ خاموش رہی۔۔۔۔
عضد نے اسکی ٹھوڑی اونچی کر کے اسکا رخ اپنی طرف کیا یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔۔
رتابہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے دیکھا اور صرف اتنا بولی جس انداز سے مایا نے بات کی ھے ایسی کوئ بات نہیں آپ شاہ جی کو بھی جانتے ہیں اور مجھے بھی۔۔۔۔
تم نے تھپڑ کیوں مارا اسے۔۔۔۔
رتابہ نے جس بات پر اسے تھپڑ مارا تھا عضد کا وہی سوال پوچھنے پر اس نے اپنی آنکھیں اور مٹھیاں سختی سے میچ لیں۔۔۔۔۔
عضد نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیۓ میں کچھ نہیں کہونگا تمھیں بولو اس نے کیا کہا ھے تم سے۔۔۔۔۔۔
رتابہ نے نا میں سر ہلایا میں نہیں بتا سکتی آپ اسی سے پوچھ لیں۔۔۔
عضد کو غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔
بیوی میری تم ھو وہ نہیں۔۔۔۔
رتابہ کے آنسو عضد کے ہاتھوں پر گرنے لگے جو رتابہ کی گود میں تھے۔۔۔۔۔
لیکن یقین آپکو اس پر ھے مجھ پر نہیں۔۔۔۔۔
اگر تم پر یقین نا ھوتا تو ابھی تم سے نا پوچھتا۔۔۔۔
اس نے جھکی پلکیں اٹھا کر عضد کی آنکھوں میں دیکھا تو عضد کا دل مچل کر رہ گیا۔۔۔
اگر یقین ھے آپکو مجھ پر تو پھر یہ تصدیق کیسی ؟؟؟
عضد جانتا تھا کہ وہ اپنی صفائی میں ایک لفظ نہیں بولے گی وہ عام لڑکیوں کیطرح نہیں تھی۔۔۔۔
نا گلہ کرنا
نا شکوہ کرنا
نا ناراض ھونا
نا اپنی بات منوانا
نا اپنا آپ شئیر کرنا
نا دوسروں کی بات کرنا
نا اپنا حال بیان کرنا
غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح ثابت کرنے کی سکت بھی نا تھی اس میں کیا وقت اور حالات نے اسے اتنا کمزور کر دیا تھا؟؟؟؟
یا پھر یہ صبر کی کونسی منزل تھی جہاں وہ تنہا ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی اسکی خاموشی میں اسکی شخصیت میں سمندر کی گہرائی جیسا سکوت تھا۔۔۔۔
عضد اسے دیکھتا ہی رہ گیا پھر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبا کر کمرے سے باہر چلا گیا نیچے آکر اسکے قدم مایا کے روم کی طرف بڑھے۔۔۔
عضد کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر وہ روتے ھوۓ اس سے جا لپٹی تو عضد نے اسے بازو سے پکڑ کر آھستہ سے پیچھے کیا۔۔۔
وہ بہت برے طریقے سے رو رہی تھی عضد یقین کرو میرا میں نے اس سے کوئی غلط بات نہیں کی۔۔۔
عضد جانتا تھا کہ کوئ تو ایسی بات ضرور ھوئ ھے جس پر رتابہ نے اسے تھپڑ مارا تھا ورنہ رتابہ ایسے کیسے ہاتھ اٹھا سکتی تھی وہ بھی مایا پر جسکے غصے اور جنون سے عضد خود بھی احتیاط برتتا تھا۔۔۔۔
عضد نے اسے خاموش کروایا اچھا بس رونا تو بند کرو بتاؤ مجھے کیا ھوا تھا۔۔۔۔
مایا نے رتابہ کا گرنا اور شاہ جی کے سنبھالنے سے لیکر اسکی تعریف تک کو اپنے شکوک بھرے لہجے میں لپیٹ کر عضد کو بتایا۔۔۔
جانتے ھو عضد میں نے ابھی اس سے یہ بھی پوچھا تھا کہ شاہ جی جب پہلی بار یہاں آیا تھا تو تمھیں لیکر آیا تھا۔۔۔ تم شاہ جی کو ہی کیوں ملی تھی اس دن جب حالات شہر کے خراب تھے نا ڈرائیور کو ملی تم نا کسی ٹیکسی میں آئ تم یہ محض اتفاق تو نہیں ھو سکتا کہ وہ پھر تمھاری وکالت کرنے کیلیئے ھمارے دروازے پر کان لگاۓ کھڑا رہا بس اس سے برداشت نہیں ھوا اور اس نے مجھے تھپڑ مارا عضد مجھے۔۔۔۔۔
وہ اپنے بال ہاتھوں میں جکڑ کر رونے لگی۔۔۔۔۔
تم خود سوچو یہ اتفاق کیسے ھو سکتا ھے کہ تم جب بھی نہیں ھوتے گھر وہ یہاں آ دھمکتا ھے۔۔۔
اور لندن بھی پہنچ گیا تھا وہ تمھارے ایکسیڈینٹ کا سنکر حالانکہ آنا تمھارے بھائی کو چاھیے تھا لیکن یہ دوڑا چلا آیا کیوں اور میں نے رتابہ میں یہ بات نوٹ کی ھے وہ کسی سے کوئی بات نہیں کرتی۔۔۔
علی سے بھی بات کرتے ھوئے جھجھکتی ھے پھر شاہ جی سے اتنے دھڑلے سے کیسے بات کر لیتی ھے؟؟شاہ جی کیساتھ کیا رشتہ ھے تمھارا اور اسکا؟؟؟؟؟
عضد کو اس نے شک میں ڈالنے کی بھرپور کوشش کی جس میں وہ مکمل کامیاب ھو سکتی تھی لیکن عضد شاہ جی کو جانتا تھا کہ وہ اسکے بڑے بھائی جیسا ھے اس قسم کی حرکت کی امید وہ شاہ جی سے بلکل بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔۔
لیکن مایا کے سامنے وہ خاموش رہا کیونکہ اس وقت مایا کو ریلیکس کرنا تھا اس نے اگر وہ اسے کچھ کہتا تو وہ کچھ بھی کر سکتی تھی اپنے ساتھ۔۔۔۔۔
عضد مجھے تمھاری پرواہ نا ھوتی تو میں اسکا حشر بگاڑ دیتی لیکن میں صرف تمھیں دیکھ کر رک گئی۔۔۔۔
تمھاری خاطر اس مایا نے اسکا طمانچہ بھی سہہ لیا جو کسی کی تلخ نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی برداشت نہیں کرتی وہ عضد کو اپنا یقین دلانے لگی۔۔۔۔
عضد میں نے اسلیے اس سے یہ پوچھا کیونکہ تم موجود نہیں تھے تمھارے سامنے اسکی زبان ہی بند ھو جاتی ھے لیکن شاہ جی کے سامنے اسکی مسکراہٹ ہی ھونٹوں سے جدا نہیں ھو رہی تھی۔۔۔
تمھارے سامنے وہ ڈری سہمی رہتی ھے لیکن تم سے ہٹ کر اسکا روپ اسکے رنگ ڈھنگ ہی الگ ھیں۔۔۔
عضد خاموشی سے سنتا رہا بولا کچھ بھی نہیں اسے یہاں مایا کے سامنے کچھ بھی بولنا مناسب نا لگا۔۔۔
کہہ تو وہ بھی وہی کچھ رہی تھی جو اس نے دیکھا اور محسوس کیا تھا عضد صرف اس بات کو لیکر پریشان تھا کہ رتابہ نے تھپڑ کس بات پر مارا تھا مایا کو؟؟؟
اور مایا یہ سب کیوں کہہ رہی تھی آج سے پہلے تو مایا نے شاہ جی کے متعلق ایسی کوئ بات نہیں کی تھی۔۔۔۔
اور رتابہ نے تو کبھی مایا کے سامنے سر تک نہیں اٹھایا تھا آج کیا ھوا تھا ایسا کہ اس نے مایا پر ہاتھ اٹھا لیا تھا؟؟؟
وہ یقین نہیں کرسکتا تھا اور رتابہ نے ایک ہی بات کر کے اسے خاموش کروا دیا تھا کہ اگر یقین ھے مجھ پر تو پھر یہ تصدیق کیسی؟؟
____________________
مایا کے دل میں تھپڑ کھانے کے بعد رتابہ کی نفرت نے مذید شدت اختیار کر لی تھی۔۔۔۔۔
ایک طرف عضد کی محبت کا جنون تھا اور دوسری طرف رتابہ کیساتھ اسکی نفرت دشمنی کا روپ دھارنے لگی تھی۔۔۔۔۔
ایک دو بار عضد نے بھی اسکا تلخ رویہ نوٹ کیا تھا رتابہ کیساتھ۔۔۔۔
لیکن رتابہ نے آج تلک عضد کے سامنے اسکا نام تک زبان پر نہیں لایا تھا عضد واش روم میں منہ ہاتھ دھو رہا تھا اسکا فون مسلسل بج رہا تھا شاہ جی کال تھی۔۔۔۔
عضد نے واش روم سے رتابہ کو آواز دی کس کا فون ھے؟؟؟
اس نے عضد کو آواز لگائ شاہ جی کا ھے۔۔۔۔
تو اٹھا لو۔۔۔۔
رتابہ نے کال اٹھائ السلام و علیکم۔۔۔۔
وعلیکم السلام کیسی ھو۔۔۔۔
ٹھیک ھوں۔۔
عضد کہاں ھے۔۔۔
واش روم میں ھے آپ کچھ دیر بعد کال کر لیجیۓ گا۔۔۔
اوکے میں باہر ہی ھوں گھر کے عضد آجاۓ تو بتا دو اسے ۔۔۔
جی ٹھیک ھے اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔۔
رتابہ نے کمرے سے ہی رابی کو آواز دی کہ چوکیدار سے کہو شاہ صاحب گھر کے باہر ھیں انکو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیں۔۔۔۔۔
وہ عضد کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی وہ تولیۓ سے منہ رگڑتا باہر آیا۔۔۔۔
شاہ جی آۓ ھیں۔۔۔۔۔
اچھا وہ بالوں میں کنگھی کرتا اسے چاۓ کا کہہ کر شاہ جی کے پاس چلا گیا۔۔۔
رتابہ نے چاۓ رابی کے ہاتھ اندر بھیجی۔۔۔
شاہ جی نے اس سے پوچھا میری بہن کہا ھے آج؟؟؟؟
عضد نے اسے اندر بلوایا۔۔۔۔
اس نے سلام کیا تو شاہ جی نے اٹھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا ناراض ھو کیا مجھ سے؟؟
شاہ جی پوچھے بغیر رہ نا سکا۔۔۔۔
نہیں تو میں کیوں ھونے لگی آپ سے ناراض ۔۔۔۔۔
شاہ جی نے عضد کے سامنے ہی پوچھا کسی نے کچھ کہا ھے؟؟؟
نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ شاہ جی کو سر اٹھا کر دیکھ نہیں پا رہی تھی جو الزام مایا نے لگایا تھا۔۔۔۔۔
وہ زیادہ دیر نا بیٹھی اور چلی گئ عضد کچھ دیر میں اسکے پیچھے آیا کیا ھوا ھے؟؟؟ موڈ کیوں آف ھے تمھارا۔۔۔۔
آپکو لگ رہا ھے ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔
اچھاااااااا چلو تم کہتی ھو تو مان لیا یہ بتاؤ کھانے میں کیا بنایا ھے؟؟؟
ساگ گوشت اور دال چاول ھیں۔۔۔۔
ٹھیک ھے کھانا لگا دو وہ کھانا کھا کر جاۓ گا رتابہ نے ہاں میں سر ہلایا جی بہتر۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ سب کھانے کی میز پر تھے مایا کو بھی اب علم ھوا تھا کہ شاہ جی آیا ھوا ھے۔۔۔۔
رتابہ مایا کی موجودگی میں شاہ جی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
آج علی بھی موجود تھا بہت خوش ھوا تھا وہ شاہ جی سے ملکر شاہ جی بھی بڑی گرم جوشی اور محبت سے ملا تھا علی سے۔۔۔
شاہ جی نے کھانا کھاتے ھوۓ آج رتابہ کی تعریف نا کی تھی۔۔۔۔
مایا نے اسے ٹہکا دیا لگتا ھے آج کا کھانا آپ کو پسند نہیں آیا۔۔۔
شاہ جی نے چاول کھاتے ھوۓ مایا کیطرف سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔
عضد کو رتابہ کا نا ھونا ذرا عجیب لگا تھا لیکن اس نے اظہار نا کیا۔۔۔۔
اچھا بنا ھے اسلیے کھا رہا ھوں۔۔
مایا نے طنز بھرے لہجے میں مسکرا کہا جس دن آپ آۓ تھے عضد نہیں تھا اس دن تو تعریفوں کے پہاڑ اٹھا رکھے تھے آپ نے آج بھی کھانا رتابہ نے بنایا ھے لیکن آج تعریف کا ایک لفظ نہیں نکلا آپکے منہ سے۔۔۔
شاہ جی اسکا انداز سمجھ گیا تھا اس نے وہیں ہاتھ روک لیا۔۔۔۔۔
اور عضد سے کہا رتابہ کہاں ھے؟؟؟؟
کچن میں ھوگی۔۔۔
تم نے ہاتھ کیوں روک دیا کھانا تو کھاؤ۔۔۔۔
نہیں یار بس پیٹ بھر گیا ھے۔۔۔۔
علی نے بھی اسکی منت کی لیکن اس نے ایک نوالہ بھی منہ میں نا ڈالا۔۔۔۔۔
عضد نے رتابہ کو آواز دی وہ کھیر ہاتھ میں لیے ڈائینگ ٹیبل پر آئ۔۔۔۔
شاہ جی نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جتنے نوٹ تھے وہ رتابہ کے سامنے رکھے یہ لو تمھارا انعام اس دن خالی ہاتھ تھا۔۔۔۔
وہ پیسے دیکھ کر بولی یہ کیا ھے بھائی؟؟؟؟
اتنا اچھا کھانا کھلانے پر بھائ کیطرف سے انعام ھے۔۔۔۔
میں نہیں لے سکتی یہ۔۔۔۔
عضد بھی بولا یہ کیا کرہے ھو یار ایسے نہیں ھوتا واپس رکھو یہ پیسے۔۔۔۔
یار رتابہ کے ہاتھ کا کھانا جب بھی کھاتا ھوں اسکے ہاتھوں سے ماں کے ہاتھ کا ذائقہ اور خوشبو آتی ھے۔۔۔۔
اور بھائ ھونے کے ناطے اسے اتنا بہترین کھانا کھلانے پر انعام نہیں دے سکتا میں؟؟؟
علی بولا بلکل دے سکتے ھیں آپ اٹھا لو رتابہ ایسے بھائ قسمت والوں کو ملتے ھیں۔۔۔۔۔
شاہ جی مسکرایا۔۔۔
نہیں بھائ ھونے کے ناطے میں زیادہ خوش قسمت ھوں ایسی بہنیں کہاں سب بھائیوں کے نصیب میں جن سے ماں جیسی خوشبو آئے۔۔۔۔۔۔
عضد اور مایا نے ایک ساتھ شاہ جی کو دیکھا جس نے رتابہ کو بہن سے ماں جیسی عزت بخشی تھی۔۔۔۔
رتابہ بھی شاہ جی کو دیکھتا رہ گئ کہ کسطرح شاہ جی نے تعریف کرتے ھوۓ اسے زمین سے اٹھا کر آسمان پر لا بٹھایا تھا۔۔۔۔
شاہ جی سے گھومتی ھوئ عضد کی نظر مایا پر جا ٹکی جسکے چہرے سے ناگواری کے تاثرات چھپاۓ نا چھپ رھے تھے۔۔۔۔
مایا وہاں انکے درمیان زیادہ دیر نا ٹھہر سکی۔۔۔۔
شاہ جی جانے کیلئے اٹھا تو کال پر بات کرتے ھوۓ عضد نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
رتابہ علی کی پرواہ کیے بغیر شاہ جی سے بولی۔۔۔۔
آپ عضد کی غیر موجودگی میں گھر نا آیا کریں پلیز۔۔۔۔۔۔
رتابہ کا التجایا لب و لہجہ دیکھ کر وہ پوچھے بنا نا رہ سکا۔۔۔
کسی نے کچھ کہا ھے تو پلیز شیئر کر سکتی ھو مجھ سے۔۔۔۔
ضروری نہیں بھائ کہ میں کچھ کہوں بہت سی باتیں انسان بن کہے بھی سمجھ سکتا ھے اور اس معاملے میں آپ کافی سمجھدار ھیں۔۔۔۔۔
علی بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ کیا معاملہ تھا رتابہ کیوں کہہ رہی تھی شاہ جی سے اسطرح۔۔۔۔۔
شاہ جی نے ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھے پھر گہری سانس لیکر اٹھا پریشان مت ھو اب ایسا نہیں ھوگا۔۔۔
عضد فون بند کر کے آیا تو شاہ جی نے اجازت چاہی علی اور عضد گاڑی تک باہر اسکے ساتھ ہی آۓ تھے۔۔۔۔
واپسی پر شاہ جی سوچتا رہا کہ اس نے جو اندازہ پہلے دن لگایا تھا مایا کو دیکھ کر وہ بلکل درست ثابت ھوا تھا۔۔۔۔
وہ مکمل طور پر عضد کو اپنے رنگوں میں رنگنا چاہتی تھی اور عضد اسکے ہاتھ کا کھلونا بنا ھوا تھا وہ جس طرف اسکی چابی گھماتی وہ اسطرف چلنے لگتا تھا۔۔۔
مایا کا انداز اسکا لہجہ اسکی نگاھیں اسکے من میں چھپے چور کی عکاسی کرتے ھوئے شاہ جی کو صاف دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔۔
رتابہ کا جھکا ھوا سر اور اسے گھر سے آنے سے روکنا وہ سب سمجھ گیا تھا کہ یقیناً مایا نے کچھ کہا ھوگا ورنہ آج سے پہلے تو اس نے کبھی ایسا behave نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔
___________________
نرگس کیساتھ عضد فون پر باتیں کر رہا تھا جی امی سب ٹھیک ھے۔۔۔۔
عضد بیٹا ایک گزارش کرنی ھے تم سے۔۔
امی مائیں گزارش نہیں حکم دیا کرتی ھیں بیٹوں کو۔۔۔۔
نرگس نے بڑے پیار سے عضد سے بات کی میری جان یہ بتاؤ مجھے تمھاری محبت کا سلسلہ کہاں تک پہنچا۔۔۔۔۔
شاہ جی کو نرگس نے ہی بھیجا تھا عضد کے یہاں کہ وہ انکو دیکھ کر آۓ کہ کیسے حالات ھیں ان دونوں کے بیچ اور شاہ جی نے مایا کے خدشات سے نرگس کو آگاہ کر دیا تھا۔۔۔۔
اسلیے اب وہ عضد سے یہ ٹاپک ڈسکس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
کونسی محبت امی۔۔۔۔۔
وہی جسکی خاطر تم میرے سینے سے لپٹ کر روۓ تھے کہیں اب اسے رلا تو نہیں رھے؟؟؟
نہیں امی کیسے رلا سکتا ھوں اب اسکا رونا مجھ سے برداشت نہیں ھوتا۔۔۔۔
نرگس کو سن کر تسلی ھوئ۔۔۔۔۔
دیکھو میری جان۔۔۔
محبت اچھائیوں کو ہی چاھنے کا نام نہیں۔۔
لیکن امی محبت تو اسی سے ھوتی ھے نا جو دل کو اچھا لگتا ھے اور دل کو وہی اچھا لگتا ھے جو حقیقت میں اچھا ھو۔۔۔۔۔۔
نرگس دھیمے انداز میں بولی۔۔۔۔
محبت صرف خوبیوں سے نہیں ھوتی جس سے محبت ھو جاۓ نا تو اسے اسکی خامیوں اور کمزوریوں سمیت اپنایا جاتا ھے۔۔۔۔
میری جان مضبوط ترین ھوتا ھے وہ رشتہ جہاں عیب گنواۓ نہیں بلکہ چھپاۓ جاتے ھیں بلکل اس رب عظیم اور ھمارے تعلق کیطرح ۔۔۔۔۔۔
جو ھماری ایک ایک نیکی کو سنبھال کر رکھتا ھے اور ھماری بے شمااااار خطاؤں کو معاف کر دیتا ھے۔۔۔۔
وہ ھمارے گناھوں کی ھماری کوتاہیوں کی ھماری نافرمانی کی گنتی نہیں رکھتا۔۔۔
ھماری نا فرمانی دیکھ کر ھمارے مٹاۓ گۓ پچھلے گناہ واپس نہیں دوہراتا نا انکو ھمارے اعمال میں دوبارہ درج کرتا ھے۔۔۔
لیکن جانتے ھو عضد بیٹا وہ ھماری چھوٹی چھوٹی نیکیاں تا قیامت اجر دینے کیلیے سنبھال کر رکھتا ھے ھمارے برے اعمال دیکھ کر بھی انکو ضائع نہیں کرتا بلکہ ھماری نیکی کو دیکھ کر ثواب دگنا کر دیتا ھے لیکن عذاب دگنا نہیں کرتا ھماری معافی کا منتظر رہتا ھے وہ۔۔۔۔
عضد نرگس کی باتوں میں کھو سا گیا۔۔۔
امی وہ تو اللہ ھے نا بلکل بے نیاز اور رحیم۔۔۔۔۔
میرے بچے اللہ کی ذات نے اپنی تمام صفات کسی نا کسی انسان کے اندر رکھی ھیں۔۔۔
کوئ سخی ھے تو کوئ کریم۔۔۔
کوئ صبور ھے تو کوئ رحمن اور رحیم۔۔۔۔
جانتے ھو اللہ نے اپنا ثبات انسان کے پیکر میں رکھا ھے۔۔۔۔۔
امی ھم تو گنہگار سے ادنی سے انسان ھیں۔۔۔
نہیں میری جان ایسا نہیں بیٹا انسان اپنے ظرف سے اپنے کرار سے بھی بڑا ھو سکتا ھے اور وہی انسان بڑا ھوتا ھے جو دوسروں کے سارے تضاد انکی طبیعتوں کا فرق حالات خیالات سارے رنگوں کو خوش دلی سے قبول کر لے۔۔۔
امی انسان کے جذبات خیالات بھی اعتقاد اور مسلک کیطرح مختلف ھو سکتے ھیں نا۔۔۔
نرگس دھیرے سے مسکرائی میری جان اگر مسلک مختلف ھو تو اپنا مسلک چھوڑے بنا دوسرے کے اعتقادات کی تعظیم کر سکتے ھیں نا ھم اور اگر کلچر مختلف ھو تو اعتراضات کیے بغیر دوسرے کے کلچر کو بھی اچھا سمجھنا چاہیے اسکے کلچر کو اپناۓ بیشک نا لیکن رنگ نسل طبقاتی اونچ نیچ لباس زبان غرض یہ کہ زیادہ سے زیادہ تضاد اور فرق کو زندگی کا اور انسان کو انسان سے ممیز کرنے کی سہولت سمجھ کر قبول کر لینا چاھیے لیکن ان امتیازات کی وجہ سے نفرت کا شکار بلکل نہیں ھونا چاھیئے بلکہ محبت اور خیر بانٹنی چاھیے۔۔۔۔۔۔
وہ نرگس کو لفظ بہ لفظ سن اور سمجھ رہا تھا پھر دھیرے سے بولا امی محبت کا درس کہاں سے سیکھا ھے آپ نے؟؟؟
نرگس کے ھونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا تو وہ بڑے پیار سے بولی میری جان محبت کا سبق سیکھنا ھے نا تو اللہ کی ذات پر اسکی صفات پر غور کرنا پھر خود کو ٹٹولنا اور دیکھنا رب کی کتنی صفات کے اہل ھو تم؟؟
اور ہاں بیٹا اگر رب سے محبت کے دعویدار ھو تو پھر شک کا مایوسی کا بیج دل میں کسی کو نا بونے دینا کیونکہ جہاں سچی اور کھری ھو محبت ھو وہاں شک اور مایوسی کی گنجائش نہیں ھوتی۔۔۔۔
اور جہاں محبت شک کی نذر ھو جاۓ تو اسکا کفارہ ممکن نہیں ھوتا وہ پھر شرک کے زمرے میں آتی ھے جو نا قابل معافی اور نا قابل تلافی گناہ ھے۔۔۔۔
کال land line numbe پر تھی۔۔۔
نرگس کی ساری باتیں علی بھی اپنے روم میں فون کا کریڈل اٹھاۓ سن رہا تھا۔۔۔۔
وہ ایسی حرکت نا کرتا لیکن نرگس کی باتیں ہی ایسی تھیں جس نے اسے یہ سب سننے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔
کتنا مضبوط ایمان اور کردار تھا نرگس کا علی مبہوت سا ھو کر رہ گیا۔۔۔
__________________
عضد کو اپنے لیے شاپنگ کرنی تھی وہ رتابہ کو بھی ساتھ لے گیا واپسی پر اسکی گاڑی سگنل پر رکی تو رتابہ کی نظریں مسلسل گوپال کو تلاش کر رہی تھیں۔۔۔
یہیں تو ملا تھا اسے اسکا بابا گوپال۔۔۔
عضد اسے باہر جھانکتا دیکھ کر بولا کسے ڈھونڈ رہی ھو؟؟؟؟
اس نے گردن گھما کر عضد کو دیکھا پھر مایوسی سے بولی کسی کو نہیں۔۔۔
تو پھر کب سے باہر کیوں جھانک رہی ھو؟؟؟
رتابہ نے سچ بول ہی دیا گوپال ماما ملے تھے مجھے یہاں کچھ دن پہلے۔۔۔۔۔
اوہ رئیلی عضد نے سن گلاسز اتار کر اسے دیکھا۔۔۔۔
ملی تم ان سے پھر۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔
تو کہاں ھیں اب وہ مجھ سے بھی ملواؤ کسی دن انہیں۔۔۔۔
انکا ایڈریس نمل کو پتہ ھے۔۔۔۔
ھمممممم ٹھیک ھے تم لے لینا ساتھ چلیں گے کسی دن ان سے ملنے۔۔
رتابہ عضد کی بات سن کر کافی خوش ھوئ اسکے چہرے پر ا
