Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 25)

Bad Bakhat by Arshi Noor

نمل کی روح جازب کے ھونٹوں کی جنبش میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔

جازب نے خود کو مضبوط کرتے ھوۓ کہا مجھ سے تمھیں ایک پل کو وہ رکا تھا اااوو۔۔۔ اولاد کی خوشی نہيں مل سکتی۔۔۔

کیکککک کیا مطلب؟؟اسکی گرفت جازب کے بازو پر ڈھیلی پڑ گئ۔۔۔

تم ماں نہيں بن سکتی کبھی بھی نہيں میرے ساتھ رہ کر ساری زندگی تمھاری گود خالی رھے گی۔۔۔

نہيں ۔۔ نہيں ۔۔ نہيں ۔۔۔ اس نے حیرت سے منہ کھولے سر نفی میں ہلایا۔۔۔

ایسا نہيں ھو سکتا تم جھوٹ بول رھے ھو جازب کہہ دو یہ مذاق ھے۔۔۔۔اسے اپنی آواز کسی کھائ سے آتی محسوس ھوئ۔۔۔

یہ مذاق نہيں وہ کڑوی حقیقت ھے جسے اب ھم نے برداشت کرنا ھے اور اللہ کے اس فیصلے پر صبر کرنا ھے۔۔۔۔

نہيں جازب ایسا نہيں ھو سکتا یار مممم میں نہيں مانتی اس بات کو تمھیں غلط فہمی ھوٸ ھے کوٸ۔۔۔ نمل کے آنسو آنکھوں میں برف کیطرح جم گئے تھے۔۔۔

کوٸ غلط فہمی نہيں ھوئ بس ھمارے بخت میں یہی لکھا ھے۔۔۔

اس نے زرد پڑتی نمل کو گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔

لیکن ھم تنہا تو نہیں ھمارے جیسے ہزاروں لوگ ھیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ھیں ان بد نصیبوں میں ھم بھی شامل ھیں اب۔۔۔

نمل کے جمے ھوۓ آنسو پانی کیطرح بہنے لگے اسکو اپنا دل پھٹتا ھوا محسوس ھوا۔۔۔

جازب نے اسے گلے سے لگایا تو خود بھی روپڑا۔۔۔

یہ کیسا امتحان تھا جہاں پل بھر میں انکے خواب ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ھو گۓ جن کی کرچیوں کی چبھن نے اب ساری زندگی انکی آنکھوں کو بے نور رکھنا تھا۔۔۔

_______________

رابی رتابہ کیساتھ کام کرتے ھوۓ بولی رتابہ جی ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔

وہ سبزی کاٹتے ھوۓ بولی ہاں پوچھو۔۔۔۔۔

عضد صاحب سچ میں آپکے شوہر ھیں؟؟؟

رتابہ نے تیزی سے سبزی کاٹتے ہاتھ یک دم رکے یہ کیسا سوال ھے اور تمھیں کیا لگتا ھے کیا میں اسکی گرل فرینڈ ھوں یا زرخرید غلام رتابہ کا لہجہ سخت تھا کافی۔۔۔

رابی نے جھٹ سے سر جھکا لیا۔۔۔

اتنا گھٹیا سوال تمھارے ذہن میں آیا کیسے؟؟؟ کیا تمھیں عضد اور میں ایسے لگتے ھیں کہ بغیر نکاح کے ایک دوسرے کیساتھ رہ رھے ھیں؟؟؟

نانانانا معاف کرنا میرا یہ مطلب ہرگز نہيں تھا اس نے کانوں کو ہاتھ لگاۓ۔۔۔

تو پھر یہ مطلب تھا کہ ھم کراۓ کے میاں بیوی ھیں؟؟؟

اللہ نا کرے بی بی جی رابی نے منہ پر ہاتھ رکھا میں نے اپنی نادانی میں غلط کہہ دیا۔۔۔

رتابہ کو برا تو بہت لگا لیکن اسکے بار بار معافی مانگنے پر چپ ھو گٸ۔۔۔۔

ویسے ایک بات اور کہوں بی بی جی۔۔۔

وہ چھری میز پر پٹخ کر بولی۔۔۔

رہنے دو تم پہلے ہی اتنا غلط سوال پوچھا ھے تم نے یہ تو میں تھی جو سہہ گٸ عضد ھوتے تو جواب ایک تھپڑ سے ملتا تمھیں آجاتی تمھاری عقل ٹھکانے پھر۔۔۔

نہيں بی بی سوال نہيں پوچھنا کچھ بتانا ھے آپکو۔۔۔

اچھا جلدی بولو رتابہ نے لاپرواہی سے سر جھٹکا۔۔۔۔

صاحب جی نے جب آپ پر ہاتھ اٹھایا تھا تو غصے سے سیدھا نیچے میرے پاس آۓ اور کہا کہ میں آپکا بہت خیال رکھوں آپ کو اکیلا نا چھوڑوں اور اگر آپکی طبیعت خراب ھو گٸ یا آپ کا رونا بند نا ھوا تو مجھے کال کر کے بلا لینا۔۔۔

پھر بی بی جی انہوں نے رات تک دس بار کال کر کے آپکی خیریت پوچھی تھی۔۔۔

اسکی بات سن کر پل بھر رتابہ کے ہاتھ حیرت سے تھم گۓ کہ رابی یہ کیا کر رہی تھی لیکن پھر اس نے رابی کے سامنے خود کو نارمل رکھا۔۔۔

رتابہ جی ایک بات اور کہوں برا نا ماننا۔۔۔۔

رتابہ نے اک نظر اس پر ڈال کر پھر سبزی کاٹنی شروع کر دی ہاں بولو۔۔۔۔۔

آپ دونوں میں میاں بیوی والی محبت نہیں عضد بابو اتنے پڑھے لکھے ھیں لیکن ان میں رشتوں کی پاسداری کا ادب نہیں۔۔۔

رتابہ نے گہری سانس لی رہنے دو اس بات کو رابی ضروری نہیں کہ انسان کو سب کچھ ملے بس سر پر چھت تن پر کپڑے دو وقت کی روٹی اور پیروں تلے زمین اپنی ھے اتنا سامان کافی ھے نا جینے کیلیے۔۔۔۔

بی بی جی زندگی ڈگریوں کے بغیر بھی گزر جاتی ھے زندگی ایک ہی کپڑے کو سو بار پہن کر گزاری جا سکتی ھے زندگی دو روٹیوں کے بجاۓ ایک روٹی کھا کر بھی چل سکتی ھے لیکن زندگی بغیر عزت کے نہيں چل سکتی۔۔۔

ھم چھوٹے لوگ ھیں بہت اور جاہل بھی گنوار بھی لیکن اتنے جاہل نہيں کہ اپنی عورتوں کو اسطرح ذلیل کریں یا ان پر ہاتھ اٹھاٸیں۔۔۔

رتابہ نے بڑی مشکل سے ضبط کیا تھا رابی کی اس بات کو کہ وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی۔۔۔

ھمارے یہاں ایسے مرد کو نامرد کہا جاتا ھے رتابہ بی بی جو اپنی طاقت کا نشہ عورت پر اتارے۔۔۔۔۔

رتابہ چپ چاپ اپنے اور عضد کے رشتے کی تذلیل سنتی رہی کہ انکا آپس میں ریلیشن شپ رابی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔۔۔

وہ رابی کی بات ختم ھونے پر نا چاھتے ھوۓ بھی بولی وہ اسکے کسی سوال کی جوابدہ نہیں تھی لیکن اس سے رشتہ بھی دوستی والا تھا۔۔۔

رابی عضد برا نہيں وہ تو میری غلطی ہی اتنی بڑی تھی کہ وہ مجبور ھو گۓ یہ سب کرنے پر اور مرد جب مجبور ھوتا ھے تو وہ روتا نہیں ھے عورت کیطرح۔۔۔

مرد پھر ہاتھ اٹھاتا ھے یا گالم گلوچ سے کام لیتا ھے لیکن عضد ایسے نہيں ھیں وہ تو بس اس دن غصے سے۔۔۔۔

رھنے دیں بی بی جی میں نے دیکھ لیا کہ عضد صاحب کیسے ھیں۔۔۔

عضد کچن سے باہر کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔

رابی رابی پھر رابی کو آواز دیتا اندر ایسے آیا جیسے کچھ سنا ہی نا ھو جاٶ میرا واٸٹ کاٹن کا سوٹ پریس کردو۔۔۔۔۔

رابی کا چہرہ یک دم فق ھوا تھا وہ رتابہ کو اک نظر دیکھ کر چلی گٸ وہاں سے۔۔۔

رتابہ بھی گھبرا گئی تھی وہ سبزی کی باسکٹ ہاتھ میں اٹھاۓ اٹھی۔۔۔

عضد آہستہ سے چلتا ھوا رتابہ کے بہت پاس آیا وہ پیچھے ہٹتی ھوئ سلپ سے جا لگی۔۔۔۔

ڈرو مت میں کل بھی آیا تھا تم سے سوری کہنے لیکن۔۔۔ عضد کی نظروں میں رتابہ کے ھونٹ تھے۔۔۔۔

اور ایک بار پھر اسکی نظروں میں وہ منظر لہرایا جب رتابہ کے لبوں نے اچانک اسکے لبوں کو چھوا تھا۔۔۔

اس نے سر جھٹک کر گہری سانس لے کر گردن پر ہاتھ پھیرا اور کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔

مجھے کل تم پر ہاتھ نہيں اٹھانا چاھیۓ تھا میں نے وعدہ کیا تھا خود سےکہ تم پر ہاتھ کبھی نہيں اٹھاٶنگا لیکن غصے میں پتہ نہيں مجھے کیا ھو جاتا ھے کچھ سمجھ نہيں آتا کیا کر رہا ھوں۔۔۔انداز میں شرمندگی کا عنصر اب واضح تھا۔۔۔

رتابہ ایک ٹک اسے دیکھتی رہی کہ یہ وہی عضد تھا کل والا؟؟

مایا عضد کو ڈھونڈتی ھوٸ کچن میں آٸ یہاں کیا کر رھے ھو تم؟؟ عضد کو رتابہ کے اتنا قریب دیکھ کر اسکے چہرے پر تناؤ سا پھیلا۔۔

کچھ نہيں اس سے کچھ کام تھا بولو کیا ھوا ؟؟؟ وہ ایک قدم بھی رتابہ سے پیچھے نہیں ہٹا تھا۔۔۔

مجھے مارکیٹ جانا ھے کیونکہ پرسوں مسز کمال کے بیٹے کا ولیمہ ھے اسکے لیۓ ڈریس لینا تھا۔۔۔۔

مایا سے برداشت نا ھو رہا تھا عضد کا رتابہ کے اتنے پاس کھڑا ھونا وہ آگے بڑھی اور اسے ہاتھ سے پکڑے باہر لے آٸ چلو میر ساتھ۔۔۔۔

رتابہ کو بھی لے چلتے ھیں عضد نے کہا تو وہ اچھا خاصا چڑگٸ۔۔۔۔

اسکا کیا کام ھے ھمارے ساتھ۔۔۔۔

عضد نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا کیوں تمھیں شاپنگ کرنی ھے تو ھو سکتا ھے اسے بھی کچھ ضرورت ھو۔۔۔۔۔

ٹھیک ھے تم لے جاٶ اسے میں کیب میں چلی جاٶنگی اس نے سینے پر ہاتھ رکھے رخ پھیرا۔۔۔

یار تم تو فوراً ناراض ھو جاتی ھو چلو پھر اسے میں رابی کیساتھ بھیج دیتا ھوں۔۔۔۔

عضد کچن میں آیا وہ وہاں نہیں تھی رتابہ رتابہ عضد کے آواز لگانے پر وہ ڈرائنگ روم سے باہر آئ اسے ہزار ہزار کے نوٹوں کی گٹھی پکڑاتے ھوۓ کہا مارکیٹ چلی جاٶ تمھیں رابی لے جاٸیگی جو لینا ھوا لے لینا۔۔۔۔

رتابہ نے پیسے واپس کر دیۓ مجھے کچھ نہيں لینا اتنا کہہ کر وہ پلٹ گئ۔۔۔۔

عضد نے پیسے واپس لیۓ اور کوارٹر میں آکر رابی کو دیۓ رتابہ کو بازار لے کرجانا ھے تم نے شاپنگ کیلیۓ۔۔۔۔۔۔

رابی نے انکے ہاتھ سے پیسے لیۓ کتنے ھیں صاحب جی یہ۔۔۔۔

پچیس ہزار ھیں اور چاھیۓ تو دے دیتا ھوں۔۔۔

نہيں نہيں یہ کافی ھیں۔۔۔

مایا گاڑی میں بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

مایا کے ہارن پر ہارن بجانے پر وہ بھاگتا ھوا گاڑی میں بیٹھا صبر کیا کرو یار۔۔۔

وہ مایا کیساتھ چلا گیا رابی رتابہ کو زبردستی ساتھ لے گٸ۔۔۔

اور ساری شاپنگ اپنی پسند سے کرواٸ رتابہ کے منع کرنے کے باوجود ہر چیز اس نے بہت اعلیٰ قسم کی لی میچنگ جیولری میچنگ پرس میچنگ سینڈل۔۔۔۔

اور پھر واپسی میں اسے پارلر لے گٸ۔۔۔۔

اسکے بے انتہا لمبے بالوں کو ہلکی سی لیٸر کٹنگ کروا کر فشل مینیکیور پیڈیکیور کروا کر رات کو عضد سے پہلے گھر پہنچی۔۔۔

رتابہ اسکی فضول خرچی پر بہت خفا ھوٸ لیکن رابی بہت خوش تھی رتابہ کو شاپنگ کروا کر۔۔۔۔

رتابہ نے ایک قیمتی سوٹ زبردستی اسے بھی دلوایا تو وہ اور بھی خوش ھو گٸ۔۔

______________

مایا کا موڈ بہت آف تھا کہ عضد رتابہ کو ولیمے پر کیوں ساتھ لے جا رہا ھے۔۔۔

مسز کمال نے عضد کو رتابہ کو ساتھ لانے کی ریکوٸسٹ کی تھی

کیونکہ لاھور والی ھمدانی صاحب کے گھر پارٹی میں وہ رتابہ سے مل چکی تھی اسلیۓ انکے اسرار پر اسے رتابہ کیساتھ جانا پڑا۔۔۔

مایا پارلر سے تیار ھو کر جب گھر آٸ تو عضد اس سنگ مرمر کی ھوش ربا مورت کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔

بغیر آستین کے فل فیٸری اسٹاٸل کی ریڈ فراق میں ڈارک میک اپ کیساتھ وہ پرستان کی شہزادی لگ رہی تھی عضد اسکی تعریف کیۓ بنا نا رہ سکا۔۔۔۔

اس نے بڑے غرور سے تھینکس کہا اور مسکرائ۔۔۔۔

رتابہ کیلیۓ رابی نے پارلر والی گھر بلاٸ تھی رتابہ کی ایک نا مانی رابی نے اور اپنی مرضی سے اسے تیار کروایا رتابہ کے بار بار ٹوکنے پر اس نے سمپل سا تیار کیا۔۔۔۔

آف واٸٹ ساڑھی پر باریک سنہری کورے اور سفید نگوں سے بھرا بلاؤز تھا ساڑھی کے پلو پر بھی ہلکی سی کورے کی بیل بنی ھوئ تھی۔۔۔

ساڑھی پہنے پنسل ھیل کیساتھ لاٸٹ سے نیچرل میک اپ میں نازک سی جیولری پہنے ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگاۓ وہ پھر آج حسین بلا لگ رہی تھی۔۔۔۔

رابی اسے دیکھ دیکھ کر تھک نا رہی تھی۔۔۔۔

عضد نے نیچے سے آواز لگاٸ رتابہ جلدی کرو دیر ھو رہی ھے۔۔۔

رابی نے جلدی سے اسکے جوڑے پر تازہ گلاب کے سرخ پھول لگاۓ تو اسکی مہکار سے پورا کمرہ مہک اٹھا۔۔۔۔

وہ عضد کی آواز پر ساڑھی کا پلو ہاتھ میں پکڑے بھاگی تو پاٶں مڑا اور گرتے گرتے بچی۔۔۔۔

رابی نے اسکی ساڑھی کا پلو ٹھیک کیا اب جاٸیں لیکن آرم سے۔۔۔

رابی تم نے مجھے اتنی لمبی ھیل پہنا دی ھے مجھ سے چلا ہی نہيں جا رہا یار۔۔۔۔

آرم سے چلیں آپ بھاگیں مت پھر رابی اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر لاٸ تو وہ ہاتھ چھڑاتی جلدی سے کمرے میں واپس چلی گٸ۔۔۔

رابی اسکے پیچھے آئ کیا ھوا ھے اب۔۔۔

دیکھو رابی اسطرح کا ڈریس میں نے کبھی پہلے نہيں پہنا عجیب سا لگ رہا ھے مجھے عضد نے ڈانٹ دیا تو؟؟؟

بی بی جی اگر انہوں نے کچھ کہا تو میں سنبھال لونگی آپ جاٸیں نیچے۔۔۔

عضد انگلی میں چابی گھماتا اسے بلانے اوپر آیا۔۔۔

وہ کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کہ عضد کو دیکھ کر اسکو بریک لگ گٸ۔۔۔

عضد نے اسے سر سے پاٶں تک دیکھا وہ پہچان ہی نہيں پا رہا تھا کہ یہ رتابہ ہی ھے۔۔۔۔

رتابہ نے ساتھ کھڑی رابی کا ہاتھ دبایا اور اسکے کان میں سرگوشی کی میں نے منع کیا تھا تم سے کہ مجھے نہيں کرنا یہ سب اب دیکھ لیا وہ ڈر رہی تھی عضد سے۔۔۔۔

عضد ستائشی نظروں سے اسے دیکھا پھر آہستہ سے اس نے آگے بڑھ کر رتابہ کی طرف ہاتھ بڑھایا چلو دیر ھو رہی ھے۔۔۔۔

صاحب جی رابی نے اسے روکا کیسی لگ رہی ھیں آپ کو میری بی بی؟؟؟

عضد کچھ لمحے خاموش ھو گیا جس پر دونوں کا منہ لٹک گیا رابی نے رتابہ کو ہلکی سی کہنی ماری۔۔۔۔

پھر عضد سے کہا اتنی محنت کی ھے میں نے تعریف کے دو بول ہی بول دیں صاحب جی۔۔۔۔

عضد پہلے رتابہ کو اتنا پزل دیکھ کر مسکرایا اسکی تعریف میں کچھ اشعار دل ہی دل میں پڑھے۔۔۔

ماہ نور کہوں کہ مہتاب کہوں

مہِ جبیں کہ کِھلتا گُلاب کہوں

شوخ ترے عشوہ غمزہ ادا پر

داستان کہ شاعری کتاب کہوں

ترا رٌخ انور اِتنا حسین و جمیل

چاند چودھویں کہ آفتاب کہوں

غزال آنکھیں قاتل مٌسکان

حسین تر کہ حسن لاجواب کہوں

عضد کو بلکل خاموش دیکھ کر رابی نے دوبارہ نا پوچھا بس منہ بسور کر اتنا کسی جائیں بی بی دیر ھو رہی ھے آپکو۔۔۔

عضد نے نچلا ھونٹ دانتوں تلے دبایا پھر رابی کیطرف دیکھا جسکا منہ اچھا خاصا لٹکا ھوا تھا۔۔۔

بہت خوبصورت لگ رہی ھے تمھاری بی بی جی۔۔۔انداز ایسا تھا جیسے تعریف نہیں احسان کیا ھو۔۔۔

رابی مسکرائ صاحب ھیں بھی تو یہ چاند کا ٹکڑا۔۔۔

نہیں عضد نے سر نفی میں ہلایا تو دونوں نے ایک ساتھ عضد کو دیکھا جو مسکراہٹ دباۓ بولا چودھویں کا چاند کہہ سکتی ھو۔۔۔

رتابہ جھینپ سی گئ عضد نے خود ہی اسکا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر آیا۔۔۔

مایا نے جب رتابہ کو دیکھا تو وہ بھی پل بھر دیکھتی رہ گٸ اسکے پرکشش چہرے کو لیکن پھر ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر اسکا خون کھولنے لگا۔۔۔

بڑے ناگوار تاثرات سے وہ عضد کیساتھ مخاطب ھوٸ۔۔۔۔

حد ھے جلدی کرو پہلے ہی موصوفہ کی وجہ سے لیٹ ھو گۓ ھم اوپر سے تم اسے ایسے لا رھے ھو پکڑ کر جیسے یہ بھاگ جاۓ گی۔۔۔

مایا سے برداشت نہيں ھو رہا تھا عضد کے ہاتھ میں رتابہ کا ہاتھ۔۔۔۔

وہ سینڈل سے ٹک ٹک کرتی گاڑی میں اگلی سیٹ پر جا بیٹھی

رتابہ کو پیچھے بیٹھنا پڑا۔۔۔۔

مایا کا منہ اچھا خاصا پھولا ھوا تھا۔۔۔

کیا ھوا ھے منہ غبارے کیطرح کیوں پھلا رکھا ھے۔۔۔

وہ نظریں سامنے جماۓ بولی میرا منہ ھے میری مرضی۔۔۔۔

اوہ عضد ھنسا اوکے میڈم ۔۔۔۔

عضد گاڑی چلاتے چلاتے سو بار ویومرر میں رتابہ کے ھونٹ اور آنکھیں دیکھتا رہا۔۔۔

پھر اپنی پسند کا سونگ چلا کر آھستہ آھستہ خود بھی گنگنانے لگا۔۔۔۔

تیری اکھیاں دے وچ ڈب کے مر جانڑے نوں جی کردا اے۔۔۔۔

نیناں دے سمندر وچ اک تاری لاٶنڑے نو جی کردا اے۔۔۔۔۔

اکھاں اکھاں دے بہانے پالے دلاں دے یارانے۔۔۔

اسی ھو گۓ مستانے ویکھ اکھاں دے مہ خانے۔۔۔

تیری اکھ دے مہ خانے چوں کٹ آٶنڑیں نو جی کر داے۔۔۔۔

نیناں دے سمندر وچ اک تاری لاٶنڑے نو جی کردا اے۔۔۔۔

مایا بڑے انہماک سے عضد کو سنتی رہی پھر اسکےخاموش ھونے پر بولی wow کتنی خوبصورت آواز ھے تمھاری تمھیں تو پروفیشنلی بزنز مین نہيں سنگر ھونا چاھیۓ تھا۔۔۔

عضد نے مسکرا کر تھینکس کہا مایا سے اور گاڑی روکی مسز کمال کے یہاں پہنچ چکے تھے وہ۔۔۔

مایا عضد کا ہاتھ تھامے گاڑی سے باہر نکلی اور اسکا ہاتھ تھامے آگے بڑھی۔۔۔

عضد نے مڑ کر رتابہ کو دیکھا جو اسکے پیچھے آہستہ آہستہ آرہی تھی عضد رک گیا اسکے پاس آنے تک مایا نے اسکا ہاتھ نا چھوڑا۔۔۔

سب نے بہت پیار سے ویلکم کیا انکو۔۔۔

پورا ہال مہمانوں سے بھرا ھوا تھا۔۔۔

فل آواز میں بڑے اسپیکر پر جھنکار سے بھرے گانے چاروں طرف گونج رھے تھے اتنے تیز میوزک کی دھاپ پر دل بھی دھڑک رہا تھا۔۔۔

رتابہ نے وہاں سب سے سمپل خود کو پایا تھا۔۔۔

وہاں تو ایسے لگ رہا تھا جیسے پوری فلم انڈسٹری ود ماڈلز موجود ھے ایک سے بڑھ کر ایک شاھکار تھا وہاں۔۔۔۔

لیکن رتابہ کا بے حد معصوم سا سراپا سبھی کی نظر میں ایک بار ضرور آیا۔۔۔

سب عورتیں اور لڑکیاں ادھر سے ادھر اداٸیں دکھاتیں خوشبوؤں سے بھری گھوم رہی تھیں اور سارے مردوں کی للچاتی نگاھوں کا مرکز بنی ھوٸ تھیں۔۔۔

ایسے میں رتابہ ایک ساٸیڈ کارنر والے ٹیبل پر بیٹھی جبکہ مایا عضد کی ساتھ ساتھ گھومتی رہی۔۔۔

سب اسے عضد کی بیوی سمجھ رھے تھے اور وہ خوشی سے ھنس پڑتی لیکن عضد بڑی سہولت سے اسکا تعارف ھمدانی صاحب کے نام کیساتھ کر وا رہا تھا۔۔۔۔

عضد کو اسکی فرم کے کچھ دوست اپنے ساتھ لے گۓ سوٸمنگ پول کے پاس جہاں لوگوں کی زیادہ بھیڑ نا تھی عضد ان کیساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا۔۔۔

مایا مسز کمال کیساتھ اسٹیج پر تھی۔۔۔

رتابہ بیٹھ بیٹھ کر تھکی تو اٹھ کر لان کیطرف آ گئ جہاں کوئ نہیں تھا لیکن تازہ گلابوں کے پودوں کی خوشبو نے اسے تنہائ کا احساس نا دلایا وہ اس خوشبو سے محصور ھوتی ٹہلتی رہی۔۔۔

چلتے ھوۓ اسکا پاٶں اچانک وہاں پر گھومتے ایک چھوٹے سے پپی پر آگیا جو لان میں ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔۔۔

اچانک رتابہ کے پاؤں تلے آیا تو وہ غراتا ھوا رتابہ کے پیچھے پڑ گیا۔۔۔

وہ پہلے ہی کتوں سے بہت ڈرتی تھی ساڑھی اٹھاۓ وہ خود سے کچھ فاصلے پر کھڑے عضد کیطرف بھاگی۔۔۔

عضد جہاں کھڑا تھا وہاں پول چاروں اطراف گرین ٹاٸلز والا فرش تھا۔۔۔۔

کتے کے ڈر سے بھاگتے ھوۓ رتابہ کا پاٶں عضد کے پاس پہنچ کر ٹاٸلز سے ایسے سلپ ھوا کہ وہ پہلے تو بری طرح لڑکھڑائ پھر اونچی جیل والے سینڈل سے سنبھل نا سکی اور عضد پر جا گری۔۔۔

عضد اس حملے کیلیۓ تیار نا تھا اور اپنی طرف بھاگتے ھوۓ آتی رتابہ کونہيں دیکھا تھا اسکی پشت تھی رتابہ کیطرف۔۔۔

وہ اسکے ٹکراتے ہی سنبھل نا سکا اور اسکے سمیت سوٸمنگ پول میں جا گرا۔۔۔۔

وہاں پول کے قریب موجود کچھ لوگ انہیں دیکھ کر پول کے آس پاس جمع ھو گۓ۔۔۔۔

عضد کا جو حال ھوا شرمندگی سے وہ ناقابل دید تھا۔۔۔

پانی میں ڈوبنے کے ڈر سے رتابہ نے جلدی سے عضد کو شرٹ سے پکڑا اسے کیا معلوم تھا کہ سوٸمنگ پول کی گہراٸ زیادہ نہيں ھوتی لیکن وہ بہت بری طرح سے ڈری تھی۔۔۔۔

عضد کو اسقدر غصہ تھا اپنے اسطرح تماشا بننے پر کہ اسکا بس نہيں چل نہيں رہا تھا وہ اسے اسی پانی ڈبو ڈبو کر مارتا۔۔۔

عضد نے اتنے زور سے اسے اپنے ساتھ بھینچا کہ رتابہ کو لگا اسکی پسلیاں عضد کی پسلیوں میں دھنس جاٸیں گی وہ اسے پکڑ کر خونخوار نظروں سے باہر لایا اور کمر سے اٹھا کر فرش پر بٹھایا۔۔۔

مسز کمال بھی وہاں آ چکی تھیں کسی کے بلانے پر انہوں نے ہاتھ کا سہارا دیکر رتابہ کو اٹھایا۔۔۔

سب کو اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر پانی سے بھیگتا ھوا عضد شرم سے بھی پانی پانی ھو گیا اسے اسی وقت واپس گھر جانا پڑا۔۔۔۔

مایا بھی بہت زیادہ غصے میں تھی۔۔۔۔

رتابہ رونے لگی کہ اب اسکی خیر نہيں تھی گھر جا کر وہی ھوا جسکا اسے ڈر تھا۔۔۔۔

گھر جاتے ہی وہ اس پر پھٹ پڑا سارے راستے بھی وہ اسے باتیں سناتا ھوا آیا تھا۔۔۔

تم کہیں بھی لے کر جانے کے قابل نہيں ھو ہر جگہ ہر موقعے پر تم مجھے شرمندہ ضرور کرواتی ھو دوسرے کے سامنے اپنی ان اوٹ پٹانگ حرکتوں سے۔۔۔

یار تم چیز کیا ھو کیا حرکت کی ھے تم نے وہاں جانتی ھو کس قدر میری انسلٹ ھوٸ ھے اسکے آنسو گالوں پر بہتے دیکھ کر وہ دانت پیسنے لگا دل چاہ رہا ھے منہ توڑ دوں تمھارا۔۔۔۔

مایا اسے کول کرنے لگی بس عضد جانے دو اتنا غصہ مت کرو تمھاری طبیعت خراب ھو جاٸیگی اسکی اپنی تو عزت ھے نہيں دوسروں کی عزت اس سے برداشت نہيں ھوتی۔۔۔۔۔

عضد مایا کو پیچھے ہٹاتا اسکی طرف تیزی سے بڑھا تو اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔

عضد نے اسکے ہاتھ سختی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑے۔۔۔۔

مجھے سمجھ نہيں آتی کہ تم ہر چیز سے اتنا ڈرتی کیوں ھو؟؟ اپنے گھر سے۔۔۔۔آگے اس نے مایا کو دیکھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔

مایا کے کان کھٹکے عضد کے ایک دم خاموش ھونے پر۔۔۔

عضد نے اب تک اسکے ہاتھ سختی سے جکڑے ھوۓ تھے کیوں کرتی ھو ایسا یار تم ہر جگہ پبلک پلیس پر مجھے تماشا بناتی ھو۔۔۔

کبھی پلین میں کبھی ٹرین میں اور آج یہاں ہزار لوگوں کے بیچ بھی تم نے یہ سب کیا۔۔۔

عضد کی آواز اتنی اونچی تھی کہ رابی بھی اپنے کواٹر سے باہر آگٸ یااللہ خیر کیا ھو گیا آج پھر وہ جلدی سے لاٶنج میں آٸ۔۔۔۔

اسطرح مجھے سب کے سامنے ذلیل کر کے کیا ثابت کرنا چاھتی ھو تم بدلہ لینا چاھتی ھو مجھ سے؟؟؟ عضد کا غصہ کسی صورت کم نہیں ھو رہا تھا۔۔۔۔

رتابہ نے روتے ھوۓ نا میں سر ہلایا وہ ۔۔۔ وہ کتا پیچھے لگ گیاتھا۔۔۔

کتا ہی تھا نا کوٸ شیر تو نہيں جو تمھیں چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہر کام غلط کرتی ھو پھر مگر مچھ کے آنسو بھی بہاتی ھو ایسے جیسے دنیا کاظالم ترین شخص میں ہی ھوں اور تم جہاں بھر کی مظلوم ۔۔۔۔۔ غصے سے عضد کی سانسیں پھول رہی تھیں اب۔۔۔

چھوڑو عضد بس بھی کرو مایا نے اسکے ہاتھ رتابہ کے ہاتھوں میں جکڑے ھوۓ چھڑاۓ اور اسے اپنے روم میں زبردستی لے گٸ۔۔۔۔

عضد نے آج اسے باتيں تو بہت سناٸیں پر ہاتھ نہيں اٹھایا تھا

رابی عضد کے جاتے ہی رتابہ کے پاس آٸ کیا ھوا صاحب پھر غصے میں ھیں۔۔۔۔

وہ صوفے پر گرتے ھوۓ بیٹھی کچھ نہيں ھوا اتنا کہہ کر منہ ہاتھوں میں چھپاۓ رو دی۔۔۔

کچھ تو ھوا ھے نا بی بی آپ بھی بھیگی ھوٸ ھیں پوری صاحب جی بھی۔۔۔

کچھ نہيں میں پول میں گر گٸ تھی رابی کے کندھے پر ہاتھ رکھنے پر آرام سے کہا۔۔۔

لیکن کیسے گری آپ؟؟؟

رہنے دو ابھی جاٶ سو جاٶ تم۔۔۔

رابی چلی گٸ وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گٸ۔۔۔۔

_________________

بندیا۔۔۔ او بندیا جمنا باٸ نے اسے آواز لگاٸ۔۔۔۔

کوٸ نیا گاہک ہاتھ نہيں لگ رہا آج کل اور یہ جو پرانے ھوتے جا رھے ھیں انکی جیبیں بھی ہلکی ھو رہی ھیں مہنگائی کتنی ھے۔۔۔۔

آج ذرا تو باہر کا دورہ لگا لے کلفٹن والے روڈ پر دیکھ کوٸ تگڑا گاہک ملتا ھے تجھے۔۔۔

بندیا جمنا کے پاس آٸ۔۔۔

فرید کا کیا ھوا اس نے بھی کوٸ نٸی پارٹی نہيں دیکھی ارے چھوڑ اس کم ذات کو وہ آدھا حصہ مانگتا ھے میں نے تو اسے صاف صاف منع کر دیا۔۔۔

اب اس اتنے خوبصورت فلیٹ کی آدھی رقم بھی دینی ھے اور گاڑی بھی لینے کا ارادہ ھے خود ہی کوشش کرنی ھوگی اب تجھے۔۔۔

تم آفرین کو بھی ساتھ لے جاؤ دو گاہک ھو جائیں تو بہتر ھے۔۔۔

بندیا نے اپنے ساتھ ساتھ آفرین کو بھی تیار کیا دونوں ہی خوبصورتی میں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔۔۔۔

جمنا نے انکو روکا۔۔۔۔

اچھا سن وہ غزالہ نہيں آٸ دوبارہ جو آفس کی نوکری کرتی ھے۔۔۔

نہيں جمنا باٸ اسکا فون آیا تھا کہہ رہی تھی ابھی نوکری چھوٹنے میں کچھ دن باقی ھیں۔۔۔۔

چل اچھا ھے وہ پڑھی لکھی لڑکی ھے ھمارے کام میں شامل ھو گٸ تو ھمارے لیۓ فاٸدہ ھے۔۔۔۔

میں ذرا عالیہ کیطرف جا رہی ھوں اس سے پتہ کروں اسکا کا کام کہاں تک پہنچا۔۔۔

_______________

نمل بہت اداس ادس رہنے لگ گٸ تھی اسکی اداسی اسکا بجھا بجھا چہرہ دیکھ کر جازب سے برداشت نہيں ھوتا تھا۔۔۔۔

نرگس بھی کافی بار پوچھ چکی تھی پر نمل ہر بار ٹال جاتی۔۔۔

آج نرگس نے جازب کو گھیر لیا۔۔۔

جازب تم دونوں کے بیچ کیا چل رہا ھے؟؟ کٸ دنوں سے تم بھی اداس ھو اور نمل بھی بولاٸ بولاٸ پھر رہی ھے؟؟؟ سب خیر تو ھے نا؟؟؟

جازب نے نظریں فرش پر گاڑیں کچھ نہيں امی بس ویسے ہی اسکی طبیعت ٹھیک نہيں ان دنوں۔۔۔

کیوں کیا ھوا ھے اسکی طبیعت کو نرگس پریشان ھو گٸ۔۔۔۔

جازب نہيں چھپا سکتا تھا کچھ بھی نرگس سے۔۔۔

اسکا رو دینے والا منہ دیکھ کر نرگس نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا تو وہ خود پر قابو نا پا سکا اور نرگس کے سینے میں منہ چھپاۓ رو دیا۔۔۔

کیا ھوا ھے میری جان کچھ بولو تو کیوں رو رو کر ہلکان ھو رھے ھو مجھے کچھ بتاٶ تو سہی۔۔۔

وہ روتے ھوۓ نرگس کے کندھے پر چہرہ رکھے بولا امی میں باپ نہيں بن سکتا۔۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ھو تم کیسے ممکن ھے یہ؟؟؟ نرگس پھٹی آنکھوں سے جازب کو خود سے الگ کرتی اسے بازوؤں سے جکڑے بولی تھی۔۔۔

امی میں نے نمل کے کہنے پر اپنے کچھ ٹیسٹ کرواۓ تھے نمل بلکل ٹھیک ھے لیکن میں۔۔۔۔۔

خبر واقعی بہت اذیت ناک تھی۔۔

اب نرگس کو ان دونوں کو سنبھالنا تھا اس نے پہلے اپنے لیۓ اللہ سے صبر کی توفیق مانگی پھر اپنے آنسو اپنے اندر ہی اتار لیۓ۔۔۔۔

امی میرے ساتھ کویں ھوا ایسا کیا ھو جاتا اگر ایک ہی بچے کا بن جاتا میں۔۔۔وہ لپٹا ھوا تھا ماں سے۔۔۔

جازب بیٹا تمام خواہشات انسان کی پوری نہيں ھوتیں کسی کا کاش تو کسی کا اگر رہ جاتا ھے ھو سکتا ھے اسمیں بھی میرے رب کی کوٸ مصلحت ھو۔۔۔

نمل بھی آگٸ تھی نرگس نے اسے بھی سینے سے لگایا وہ بھی رو رہی تھی اپنے ادھورے پن پر۔۔۔

ناں میرے بچوں نا ایسے نہیں روتے میرے رب کے فیصلے ھیں یہ انسان اسکے ہاتھ کی کٹھ پتلی ھے کبھی وہ دے کر آزماتا ھے اور کبھی کچھ لے کر۔۔۔۔ اور کبھی ھماری خواہش کو پورا نا کرتے ھوۓ بھی ھمیں آزما رہا ھوتا ھے۔۔۔

نمل سسک پڑی امی یہ کیا ھو گیا میرے ساتھ بچپن سے ماں کے ساۓ سے محروم رہی اور اب شادی کے بعد میں خود ماں نہیں بن سکتی جب کہ عورت کی سب سے بڑی خواہش ھوتی ھے یہ کہ وہ ماں بنے اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تو نا کرتا ایسا۔۔۔

دل ہی دل میں نرگس خود بھی روئ تھی لیکن رب کی مرضی کے آگے سر خم کرنا جھک جانا اسکی فطرت تھی۔۔۔

نمل کے سسکنے پر اسکے آنسو بڑے پیار سے پونچھے نرگس نے۔۔۔

ھم انسان ھیں نا اپنی خواہشات کے لیے بلکتے ھیں سلگتے ھیں سسکتے ھیں چٹختے ھیں بس صبر نہيں کرتے اور بہت جلد مایوس ھو کر اپنی خواہشات دل سے نکال پھینکتے ھیں۔۔۔

اور رب سے شکوہ کرتے ھیں کہ اس نے ھمیں تنہا چھوڑ دیا یا وہ ھماری سنتا ہی نہيں۔۔۔

نمل نے روہانسی لہجے میں کہا آپ ٹھیک کہہ رہی ھیں امی اللہ نے نہیں سنی میری۔۔۔۔

نرگس نے دونوں کے اداس چہروں کیطرف پیار سے دیکھا۔۔۔

میری جان اللہ تو ھماری سرگوشیوں کو بھی سن لیتا ھے اک ھم نادان ھیں کہ اسکی ایک نہيں سنتے۔۔۔۔

اور سمجھتے ھیں وہ ھماری دعا قبول نہيں کرتا اور مایوس ھوتے ہی ھمیں تہی داماں ھونے کا احساس گھیر لیتا ھے لیکن ھم انسان ناقص عقل ھیں ھم نہيں سمجھ پاتے کہ ھمیں رب کو خالصتاً پکارنے کے سامان سے آراستہ کیا جا رہا ھے۔۔۔

نمل اور جازب نے ایک ساتھ ماں کیطرف دیکھا کہ وہ کیا کہہ رہی ھیں۔۔۔

میرا رب محرومیوں سے پہلے ہی اپنی عنایات سے ھمیں نواز دیتا ھے بس ھم دیکھ اور سمجھ نہیں پاتے۔۔۔

جازب نے نرگس پر نظریں ٹکائیں جیسے پوچھ رہا ھو کیا مطلب کیسی عنایات؟؟؟

نرگس اسکا ان کہا سوال اسکی آنکھوں میں پڑھ چکی تھی۔۔۔

دیکھو میرے رب کے فیصلے کتنے خوبصورت ھوتے ھیں۔۔۔

تم باپ نہيں بن سکتے لیکن تمھاری اولاد نا ھونے سے پہلے ہی اس نے تم دونوں کی گود بھرنے کیلیۓ دیان کو اس گھر میں پیدا کیا۔۔۔

کہاں تھی تمھاری دوست بختی اور کہاں تھی تم؟؟؟ آج وہ تمھارے ساتھ ھے اور اسکی کوکھ کا پھول تمھاری گود میں ھے۔۔۔

تمھاری یہ انہونی خواہش رب نے پوری نہیں کی؟؟؟ کہ بختی کا سسرال نا صرف تمھارا سسرال بلکہ میکہ بھی ھے۔۔۔

اور تمھاری خواہش جازب۔۔۔اسکا رخ اب جازب کیطرف تھا تمھیں پسند تھی نا یہ کیا کبھی اسکو پانے کی رازداں خواہش تمھارے دل میں نہیں ابھری تھی؟؟؟

اور میں خود کو دیکھوں تو میرا یقین میری دعا میرا صبر آج تم دونوں کی صورت میری نگاھوں کے سامنے ھے جس دن تم پیدا ھوئ تھی میرے دل نے بس ایک بار تمھیں جازب سے منسوب کرنے کا سوچا تھا اور آج وہ سوچ عملی جامہ پہنے میرے سامنے موجود ھے۔۔۔

نرگس کی بات سن کر ان دونوں کے سر جھک گئے اور چہرے پر پھیلا اداسی کا تناؤ کچھ کم ھوا تھا۔۔۔

رب سے ناراض نہيں ھوتے میرے بچو اسکی مصلحت کو سمجھو اسکے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرو۔۔۔۔

نمل نے اپنی طرف بھاگ کر آتے ھوۓ دیان کو دیکھا جو اسکو ماما ماما پکارتا اسکی گود میں آگرا تھا۔۔۔

اسے دیکھو جازب اسکا باپ نہيں ھے اور عضد جیسے شوہر کی بیوی اسکی مجبور ماں ھے جو اسے ممتا کی صورت میں میسر نہیں۔۔۔

یہ بچہ ماں کے ھوتے ھوۓ بھی ماں کے آنچل سے اسکی ممتا سے اسکی چاھت سے محروم ھے اس بھری دنیا میں کوٸ نہيں اسکا۔۔۔۔

شاید اسی کو ماں باپ جیسی دولت سے نوازنے کیلیۓ اللہ نے تم دونوں کو چن لیا تھا شاید اس بچے کے جنم سے ہی ھم تینوں کی انہونی خواہشات پوری ھوئیں۔۔۔

دیان اب نمل کے چہرے پر اپنے ہاتھ پھیر کر اسے بے چینی سے روتا دیکھ رہا تھا۔۔۔

میرے رب کا چناٶ ھو تم اس معصوم بچے کیلیۓ جسے اس نے بختی کیطرح بد بخت نہيں رکھنا تھا۔۔۔

کیا تم دونوں کے علاوہ یہ بچہ کوٸ اور اتنے لاڈ سے پال سکتا تھا؟؟؟؟

ان دونوں نے نا میں سر ہلایا۔۔۔

تم دونوں بھاٸیوں کو پالا میں نے اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنی اس ننھی سی بچی کو بھی چھوڑ دیا تھا میں نے۔۔۔۔۔

کیونکہ میرے اللہ نے مجھے تم دونوں کیلیۓ چن لیا تھا۔۔۔۔

میں نے اپنے رب سے اپنا دامن نہيں چھڑایا تھا نا مایوس ھوئ نا شکوہ کیا بلکہ مذید مضبوطی سے جڑ گٸ رب سے کہ وہ مجھے حوصلہ اور صبر دے کہ میں اسکے منتخب ھونے کے فیصلے پر پورا اتر سکوں۔۔۔۔

اور دیکھو آج تم دونوں میری نظروں کے سامنے ھو ھمیشہ کیلیۓ۔۔۔۔

نمل نے دیان کو اپنے سینے کیساتھ بھینچ لیا۔۔۔۔

نرگس کی آنکھوں میں اب رکے ھوۓ آنسو امڈ آۓ۔۔۔۔

جازب بیٹا اب یہی تم دونوں کی اولاد ھے تمھارے رب کا انتخاب ھے یہ تم دونوں کیلیۓ اور اس کیلیۓ تم دونوں۔۔۔

نرگس نے بڑی خوبصورتی سے انکی صلح اپنے بے نیاز رب سے کروائی تھی جس سے وہ اپنی نادانی میں مایوس اور ناراض ھو کر بیٹھ گئے تھے۔۔۔

_______________

رابی کے والد کا انتقال ھو گیا تھا وہ پوری فیملی کیساتھ گاٶں چلی گٸ کچھ دن کیلیۓ۔۔۔۔

رتابہ پھر اکیلی پڑ گٸ شام ھونے کو تھی۔۔۔

اسکا دل بہت گھبرا رہا تھا وہ لان میں ٹہل رہی تھی اچانک اسکے ہاتھ پر باہر سے آکر کچھ بھاری چیز لگی وہ بری طرح ڈر کر اچھل پڑی۔۔۔۔۔

اور بھاگ کر اندر چلی گٸ اسکے ہاتھ میں کافی درد ھورہا تھا

باہر ڈور بیل بجی یااللہ کون آگیا اسوقت۔۔۔

اس نے اوپر جا کر گیلری سے چھپ کر جھانکا تو کچھ لڑکے تھے گیٹ پر وہ بھاگتے ھوۓ نیچے آٸ اور t.v لاٶنج کا دروازہ لاک کیا۔۔۔

ان میں سے ایک دیوار پھلانگ کر اندر آگیا تھا رتابہ کچن کی کھڑکی سے دیکھ رہی تھی اسے اندر کودتا دیکھ کر اس نے کچن کا دروازہ بھی بند کر دیا۔۔۔۔

وہ لڑکا جو اندر آیا تھا واپس جب گیٹ سے چڑھ کر باہر اترا تو اسکے ساتھی بھاگ گۓ تھے عضد کی گاڑی دیکھ کر۔۔۔۔

اس نے بھی چھلانگ لگاٸ اور دو منٹ میں غاٸب ھو گیا۔۔۔۔

عضد حیرانی اور غصے کے ملے جلے احساس سے گاڑی سے اترا لڑکے کو پکڑنے کیلیے تو وہ نا پکڑ سکا کیونکہ وہ عضد کے گاڑی سے نکلنے سے پہلے ہی بھاگ گیا تھا۔۔۔۔

لیکن رتابہ اسکی پہنچ میں تھی

وہ جلدی سے اندر آیا اسکے غصے کو دیکھ کر گاڑی مایا نے اندر پارک کی۔۔۔

عضد نے زور سے دروازہ پیٹا رتابہ نے نا کھولا وہ اور بھی زیادہ ڈر گئ تھی۔۔۔

عضد نے پھر دروازہ بجایا منہوس لڑکی کھو لو دروازہ عضد دروازہ زور زور سے پیٹنے لگا۔۔۔۔

وہ عضد کی آواز سن کر جلدی سے اٹھی تو دوپٹہ اسکے پیر میں الجھ کر نیچے گرا اس نے دوپٹہ وہیں چھوڑ کر دروازہ کھولا تو عضد دروازے کو دھکا دے کر اندر آیا۔۔۔

وہ دروازے کے ساتھ ہی کھڑی تھی دروازہ اسکے منہ پر جا لگا وہ دروازہ لگنے سے پیچھے کیطرف جا کر گری دروازہ منہ پر لگنے سے ناک سے خون قطرہ قطرہ بہنے لگا تھا۔۔۔

عضد اسکے خون کی پرواہ کیۓ بغیر اسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھا۔۔۔

کون تھے یہ لڑکے؟؟؟ آواز میں غصے کے ساتھ ساتھ ہلکی سی لغزش بھی تھی۔۔۔

مایا جلدی سے اندر آٸ رتابہ کی ناک سے بہتا خون دیکھ کر اسکا سر چکرا گیا کہ اب عضد نے اسے کیا مارا تھا کہ خون بہنے لگا تھا۔۔۔۔

میں پوچھ رہا ھوں کون تھے یہ لڑکے؟؟ اور دیوار پھلانگ کر کون بھاگا تھا؟؟؟

مجھے نہيں معلوم کون تھے وہ رتابہ ناک پر ہاتھ رکھے مشکل سے بولی۔۔۔

مایا نے بھی پوچھا چپ کیوں ھو بتا دو کون تھے وہ لڑکے کسے بھگایا ھے تم نے؟؟؟

عضد نے دیکھا اسکا دوپٹہ بھی نیچے فرش پر پڑا ھوا تھا عجیب سے وسوسے اور خوف نے عضد کو آن گھیرا تھا۔۔۔

وہ فرش سے اٹھا اور جھک کر اسے بازو سے پکڑے کھڑا کیا اور اندر کمرے میں لے گیا۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *