Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 17)

Bad Bakhat by Arshi Noor

نرگس نے زارا کو دیکھ کر رتابہ سے پوچھا یہ کون ھیں؟؟؟

رتابہ کیا بتاتی میری رسواٸ کا تباہی کا مقام۔۔۔۔

زارا نے اسکی خاموشی دیکھ کر خود ہی کہا میں زارا ھوں اور آپ؟؟؟؟

نرگس نے ان سے ہاتھ ملایا میں رتابہ کی ساس ھوں۔۔۔۔۔

اوہ اچھاااا یہ بہت اچھا ھوا آج آپ سے ملاقات ھو گٸ آٸیں میرے ساتھ یہیں میرا گھر ھے اس نے لجاجت سے کہا۔۔۔۔

رتابہ نہيں جانا چاہتی تھی اس گھر میں دوبارہ جسکی در و دیوار میں اسکی لاچارگی کی چیخیں دفن تھیں جہاں اسکی معصومیت اور عزت ھوس کی بھینٹ چڑھی تھیں۔۔۔

خوف کی اک شدید لہر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں حرکت کرنے لگی جسکے آثار اسکے چہرے سے نمودار ہو رھے تھے۔۔۔۔

ڈرو مت بختی میں نے وہ گھر چینج کر لیا ھے زارا اسکے گھبرانے پر اسکا ہاتھ تھام کر چل پڑی۔۔۔

گراؤنڈ فلور پر اسکا پارلر تھا اور فرسٹ فلور پر گھر زار نے انکو ڈراٸینگ روم میں بٹھایا۔۔۔۔

یہ آپکا پوتا ھے؟؟؟؟ وہ دیان کو دیکھ کر بولی۔۔۔

جی میرا پوتا ھے یہ۔۔۔۔

زارا پھر نرگس سے بختی کی باتیں کرنے لگی۔۔۔۔

ماشاءاللہ بہت پیاری بچی ھے یہ میں بہت پر سکون تھی اسکے ساتھ لیکن میں بہت شرمندہ ھوں کہ اسے اپنی چار دیواری میں بھی تحفظ نا دے سکی جسکا افسوس مجھے ساری زندگی رھے گا لہجے میں حد درجہ ندامت اور افسوس تھا۔۔۔

قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ھے بہن جس نے اجڑنا ھو وہ اجڑ کر رہتا ھے جس نے لٹنا ھو وہ لٹ کر رہتا ھے اور جس نے برباد ھونا وہ آباد نہیں ھو سکتا بس ھم سب قسمت کے ہاتھ کی کٹھ پتلیاں ھیں۔۔۔۔

یہ قسمت کب کہاں کس کے در پر لا پھینکے ھمیں کچھ معلوم نہیں ھوتا ھمیں با اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ھوۓ صبر سے کام لینا پڑتا ھے۔۔۔۔

نرگس کا انداز بہت دھیمہ لیکن پر اعتماد تھا۔۔۔۔

بات کرتے ہوئے نرگس نے اک نظر رتابہ پر ڈالی پھر بات مکمل کی رتابہ کیساتھ یہ حادثہ ھونا تھا اور اس نے اسی طرح مجھ تک پہنچنا تھا شاید۔۔۔۔۔

زارا شرمندگی سے نظریں جھکاۓ نرگس کو جواب دینے لگی۔۔۔

اسکی بد قسمتی میں غلطی میری بھی تھی جس پر میں اس سے ہزار بار معافی بھی مانگوں تو اسکی تلافی نہيں کرسکتی زارا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر نرگس نے اسے تسلی دی۔۔۔۔

بہن قصور اسمیں نا آپکا ھے نا رتابہ کا وقت کو یہی منظور تھا اگر انسان کو اپنے ساتھ مستقبل میں ھونے والے حالات اور واقعات کا علم پہلے سے ھوتا تو شاید، کاش اگر، مگر جیسے الفاظ ھماری زبان پر نا ھوتے۔۔۔۔

اور یہ کاش اور اگر جیسے الفاظ ہی ھمیں کمزور کرتے ھیں ان لفظوں کی پکڑ بہت سخت ھوتی ھے یہ ھمیں نا شکرا اور مایوس بنا دیتی ھے ان دو لفظوں سے کنارا کرنا ھمیں اللہ تعالیٰ کے سے قریب کرتا ھے۔۔۔۔

زارا کو بہت گلٹی فیل ھو رہا تھا لیکن نرگس کی باتیں سن کر کچھ حوصلہ بھی ھوا۔۔۔۔

آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ھیں لیکن ایسے حادثات جو ھماری زندگی کو بربادی کے ہاتھوں سونپ دیں ان پر افسوس ساری زندگی رہتا ھے اور اپنے بے آبرو ھونے کا داغ تو مرنے کے بعد بھی ھمارے کفن پر تحریر ھوۓ قبر میں بھی ہمارے ساتھ اترتا ھے۔۔۔۔

نرگس نے ذرا سا خم لیتے ھوۓ اپنا رخ اب مکمل زارا کیطرف کیا۔۔۔

زارا بہن ھمارے کفن پر ھمارے ہر ایک عمل کی تحریر ھمارے اپنے اعمال درج کرتے ھیں جو ھم نے کیا اسکی سزا کاٹنی ھے بالاۓ زمین بھی اور زیر زمین بھی۔۔۔

لیکن ھمارے ساتھ دوسروں کے اعمال کا حساب نہیں ھونا وہ بے بسی وہ صبر وہ آنسو وہ معافی وہ بدلہ نا لینے کا فیصلہ ھماری جزا کی فہرست میں شامل ھوتے ھیں نا کہ سزا کی۔۔۔۔

زارا متاثر کن انداز سے نرگس کو اب دیکھ رہی تھی۔۔۔

( 🌷🌷نرگس کے کردار سے ہٹ کر یہاں آپ سب سے کچھ کہنا چاھونگی۔۔۔

بے آبرو ھو جانا کسی کے ہاتھ سے صرف لباس کا اتر جانا یا حیا کے پردے چاک ھو جانے کا نام نہیں بے آبرو تو ھم قدم بہ قدم ایک دوسرے کو بارہا کرتے رہتے ھیں۔۔۔

کبھی ذہنی اذیت دے کر کبھی نظر انداز کرتے ھوۓ کبھی الزامات لگا کر کبھی بےیقینی کے ترازو میں تول کر۔۔۔

کبھی کسی کو چھوٹی سی غلطی کی کڑی سزا دیکر کبھی کسی کو اسکے گناہ گنوا کر۔۔۔۔

کبھی کسی کا احسان فراموش کر کے کبھی جھوٹ بول کر کبھی کردار کشی کر کے۔۔۔۔

کبھی اپنا احسان جتا کر کبھی ھنس کر کبھی رلا کر کبھی نیچا دکھا کر۔۔۔۔

کبھی کسی کو اپنی نفرت اور حسد کا نشانا بنا کر کبھی کسی کے بہکاوے میں آ کر۔۔۔۔

کبھی اپنے رویوں سے کبھی سازشوں سے کبھی اپنے مقاصد کیلیے استعمال کر کے۔۔۔۔

اور نا جانے کتنے ہی ایسے طریقے ھیں جن سے ھم روزانہ ایک دوسرے کا استحصال کرتے ھیں ۔۔۔۔

اور ایسی ہزاروں کہانیاں اور تحریریں مکافات کی شکل دنیا میں ھمارے ساتھ ساتھ رہتی ھیں۔۔۔۔۔

وقتاً فوقتاً ھمیں داغتی رہتی ھیں لیکن ھم اس عمل سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور نا جانے کتنے لوگوں کو بے پردہ کرتے ھوۓ آخرکار ان سب بد اعمالیوں کیساتھ دنیا سے پردہ کر جاتے ھیں۔۔۔۔

اور یاد رکھیں پھر ایک دن آئیگا جب یہ تصدیق شدہ دفنائ ھوئ تحریریں آخرت میں ھمارے ساتھ زندہ کی جائیں گی۔۔۔۔🌷🌷۔)

زارا اب اسکے ساتھ اپنی پچھلی ملاقات کا ذکر کر رہی تھی یقین کریں جب سے اس نے مجھے مال میں ملتے وقت اپنے بارے میں بتایا تھا۔۔۔۔

کہ میرے ہی گھر میں اسکے ساتھ جو ھوا اس دن سے میں چین کی نیند سو نہیں سکی اکثر اسکی ان سنی چیخیں میرے کانوں میں گونجنے لگتیں ھیں۔۔۔۔

نرگس اسکی تکلیف سمجھتے ھوۓ اطمینان سے بولی۔۔۔۔

آپ اللہ تعالیٰ سے دعا گو رہا کریں نماز پڑھ کر سویا کریں اللہ تعالیٰ سب کی عزتوں کا محافظ رھے اور کسی کی بچی بہن کیساتھ اسطرح زیادتی نا ھو۔۔۔۔

پھر وہ درد بھرے انداز سے رتابہ کیطرف دیکھنے لگی بس اس بچی کی قسمت ہی ایسی ھے کہ آزمائشیں اسکا مقدر ھیں اسے رب نے چن رکھا ھے۔۔۔۔

زارا نے بڑے پیار سے رتابہ کو دیکھا۔۔۔۔۔

لیکن ایک بات ضرور کہونگی یہ اپنے لیۓ تو بد قسمت رہی یا بدبخت لیکن جہاں جہاں اسکے قدم پڑے انکے بخت اسکے قدموں سے کھلے۔۔۔۔

زارا بڑی خوشی سے بختی کے بخت آور قدموں کی تعریف کر رہی تھی۔۔۔۔۔

مسز جمال کے پاس تھی تب وہ بے اولاد تھیں اسکے جاتے ہی پچاس سال کی عمر میں انکی گود ہری ھوٸ معجزہ تھا انکا اس عمر میں ماں بننا اور جب میرے یہاں آٸ تو میری بیٹی کی کسٹڈی کے کیس کا فیصلہ پانچ سال بعد میرے حق میں ھوا۔۔۔۔۔

نرگس بھی اسے پیار سے دیکھ کر بولی۔۔۔

واقعی آپ نے ٹھیک کہا بہت بخت آور ھے یہ ھمارے حالات بھی ایسے بدلے جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھماٸ اور سب بدل گیا اور بہت سی خواہشات پوری ھوٸیں۔۔

زارا اپنی خوشی بیان نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔

آپ سے ملکر میں کتنی خوش ھوٸ آپکو بیان نہيں کر سکتی کہ آپ جیسے لوگ بھی ھیں اس دنیا میں جو بختی جیسی بچی کو اپنے بچوں کا بخت بنا لیتے ھیں۔۔۔

سچ کہوں تو آپ جیسے نیک اور نرم دل لوگوں سے ہی دنیا قائم ھے آپ یقین کریں بختی جیسی بچیوں کی جگہ نا اس معاشرے میں ھے نا ھمارے گھروں میں اور نا ھمارے دلوں میں۔۔۔

کسطرح سے آپ نے بختی کو اپنے سینے سے لگا کر اپنے گھر کی عزت بنایا آج سے پہلے ایسا صرف فلم ڈراموں میں ہی دیکھا تھا لیکن آپکے چہرے میں آج حقیقت پاٸ۔۔۔۔

نرگس خوشی سے مسکرا کر بولی میری خوش قسمتی ھے یہ کہ مجھے بختی جیسی بیٹی ملی میری کسی بڑی نیکی کا صلہ ھے یہ کہ میرے رب نے مجھے اور میرے گھر کو اس بچی کیلئے منتخب کیا۔۔۔

آپ یقین کریں جب یہ پچھلی بار مجھ سے ملی تھی میں اس پر بہت غصہ تھی کہ یہ میرے گھر سے بھاگی ھے کسی کیساتھ اور مجھے وہاں سے گھر بھی بدلنا پڑا کیونکہ کچھ نۓ چہرے اپنے گھر کے آس پاس دیکھ کر میں خوفزدہ ھو گٸ تھی لیکن جب سچاٸ کا سامنا ھوا تو خود کا سامنا کرنا بھی مشکل تھا میرے لیۓ کیونکہ میں بھی ایک عورت ھوں اور ایک بیٹی کی ماں بھی جنہوں نے اسکا استحصال کیا وہ بعد میں میری تاک میں بھی تھے لیکن میں نے گھر فوری بدل لیا۔۔۔۔

بختی یہ سب کچھ خاموشی سے سنتی رہی اسکے آنسو اسکی گود میں گرنے لگے جسمیں بد قسمتی نے سو چھید کر رکھے تھے۔۔۔۔

میں دوسروں کیلیۓ بخت آور اور کسی کے بخت میرے قدموں میں؟؟؟؟؟ اور میں خود اتنی بد بخت کہ خود اپنے بخت کی ٹھوکروں میں وہ اپنے من کی آوازیں سننے لگی۔۔۔۔۔

نرگس زارا کے منہ سے بھی سچاٸ سن کر مذید مطمئن ھوٸ کہ اسکا یقین جھوٹا نہيں ثابت ھوا بختی نے اسے اپنے بارے میں سچ بتایا تھا جھوٹ یا فریب سے کام نہيں لیا تھا۔۔۔

نرگس کے دل میں رتابہ کے مان سمان میں کئ گنا اضافہ ھوا تھا اور محبت اب عقیدت کی صورت اختیار کرنے لگی تھی۔۔۔۔

زارا آخر میں انکے جانے پر بولی ۔۔۔

اگر یہ میرے ساتھ اسوقت ھوتی تو شاید ان لوگوں کو پہچان لیتی تو میں انکو انکے انجام تک ضرور پہنچاتی۔۔۔۔۔

_________________

عضد کی دو دن بعد فلاٸیٹ تھی وہ اینڈ تک ضد لگاۓ بیٹھا رہا کہ وہ رتابہ کو ساتھ نہيں لے جاۓ گا۔۔۔۔

اور نرگس بھی بضد تھی کہ وہ رتابہ کے بغیر اسے جانے نہيں دیگی۔۔۔۔

نرگس کچن میں مصروف تھی وہ سیدھا رتابہ کے کمرے میں داخل ھوا۔۔۔

سنو۔۔ عضد کے جبڑے ضبط سے بھینچے ہوئے تھے۔۔۔

وہ اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران ھوٸ۔۔۔

وہ اسکے سر پر آ کر دھاڑا امی کو تم خود منع کرو کہ تم نے میرے ساتھ نہيں جانا اگر امی نے تمھیں میرے ساتھ وہاں بھیجا تو یاد رکھنا بہت برا سلوک کرونگا تمھارے ساتھ۔۔۔۔

پھر وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر نہایت سرد مہری سے مذید بولا۔۔۔۔

وہاں نا تو نازو ھوگی نا ساجد چاچا کا گھر اور نا ہی تمھاری سب سے بڑی ڈھال میری ماں۔۔۔۔

رتابہ اسکی ستم ظریفی پر سہم کر بولی میں نے انکو بہت منع کیا وہ نہيں سن رہیں میری بھی۔۔۔۔

وہ اسے اسی طرح کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔

ہاں مجھے پتہ ھے تمھی نے انکو فورس کیا ھے ورنہ ۔۔۔۔۔

آپ ہر الزام مجھ پر کیوں لگاتے ھیں وہ اسکی بات کاٹ کر بولی۔۔۔۔۔

کیونکہ تم زمانے بھر کی جھوٹی ھو شرافت اور معصومیت کا نقاب لگاۓ پھرتی ھو۔۔۔

رتابہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسی کی ٹون میں دو ٹوک بولی۔۔۔

اچھی بات ھے آپکو میں نقاب میں ہی نظر آتی ھوں میرے اصلی چہرے کی دید آپکے لیۓ ناقابلِ دید بھی ھو سکتی ھے۔۔۔۔

اس کے تلخ جواب اور آنکھیں نکال کر جواب دینے پر عضد نے ایک تھپڑ رسید کر دیا اسکے منہ پر جو اسکے گال رنگ گیا۔۔۔

جواب طلبی آٸندہ کی میرے ساتھ تو زبان کھینچ لونگا حلق سے۔۔۔ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر اداکیا۔۔۔

رتابہ اسکے کٹھور پن پر اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔

وہ کمرے سے جاتے جاتے پھر پلٹا ایک بار پھر کہہ رہا ھوں میرے ساتھ جانے کی غلطی مت کرنا

میری برداشت جہاں جہاں جواب دیگی ایسے کٸ طمانچے تمھارے منہ پر پڑیں گے۔۔۔۔

اسے دھمکاتا ھوا وہ کمرے کا دروازہ زور سے مار کر باہر چلا گیا۔۔۔۔۔

__________________

گوپال تھکا ہارا کام سے واپس آیا تو آگے بابو کو اپنے گھر دیکھ کر ششد رہ گیا۔۔۔

نمستے چاچا۔۔۔۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے نوابوں کیطرح اکڑ کر بیٹھا ھوا مونچھوں کو تاؤ دیتا خباثت سے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

گوپال کاغصہ اسکے چہرے پر چھلکنے لگا تم یہاں کیا کر رھے ھو؟؟؟؟

دیوی فوراً بولی یہ کیا طریقہ ھے گھر آۓ مہمان سے بات کرنے کا۔۔۔۔

رھنے دیں چاچی چاچا تھکا ہارا آیا ھے اسلیۓ لہجے میں تھکاوٹ سے ذرا تیزی آگٸ چاچا کے۔۔۔۔۔

دیوی اسے آنکھیں نکال کر کہنے لگی ذرا سنبھل کر بات کیا کرو اس سے تمھارا ھونے والا جماٸ ھے یہ۔۔۔۔

کیااااا گوپال کو حیرت کا جھٹکا لگا وہ منہ کھولے ایسے دیکھنے لگا دیوی کو جیسے اس نے کوئ انہونی بات کر دی ھو۔۔۔۔

کیوں اس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ھے بندیا اور یہ پسند کرتے ھیں ایک دوسرے کو اسلیۓ اپنی بندیا کا ہاتھ مانگنے آیا ھے۔۔۔۔

میں اپنی بیٹی کا بیاہ اسکے ساتھ نہيں رچا سکتا گوپال کے لہجے میں انتہا کی سختی تھی۔۔۔وہ مٹھیاں بھینچ کر کھڑا تھا۔۔۔

دیوی اکڑ کر بولی کیوں کیا خرابی ھے اسمیں بتاٶ ذرا۔۔۔۔

مجھے نہيں پسند یہ اپنی بیٹی کیلیۓ گوپال منہ پھیر کر بولا۔۔۔۔

بابو ھنستے ھوۓ مونچھوں کو تاؤ دینے لگا چاچا تجھے کیا پسند ھے یہ میں جانتا ھوں۔۔۔۔لہجہ معنی خیز انداز میں دھمکانے والا تھا۔۔۔

گوپال نے غصے سے مٹھیاں اور لب بھینچتا رہ گیا۔۔۔

دیکھو گوپال دیوی فیصلہ کن لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔

مجھے پسند ھے یہ اور تمھاری بیٹی کو بھی اب تمھیں پسند ھو یا نا ھو میں نے بیاہ بندیا کا اسی سے کرنا ھے۔۔۔۔

گوپال بابو کی ڈھٹائی اور بیوی کی ضد دیکھ کر غصے سے باہر چلا گیا۔۔۔

کچھ دیر بعد بابو اسکے پیچھے آیا۔۔۔۔

او چاچا مان جا شرافت سے ورنہ تیری چڑیا اڑا کر لے جاٶنگا میں آخر کو بختی کے ملنے تک میرے لطف کا کوٸ سامان تو ھونا چاھیے ناااا۔۔۔۔

کمینے تجھے میری بیٹی ہی نظر آٸ تھی اپنا کمینہ پن دکھانے کیلیۓ

گوپال نے اسکا گریبان پکڑا اور بڑی مشکل سے اسے مارنے سے خود کو روکا تھا۔۔۔۔۔

بابو نے ھنستے ھوۓ گوپال کے ہاتھ گریبان سے ہٹاۓ اور اپنا کالر جھاڑنے لگا ظاہر سی بات ھے چاچا تو نے بھی تو میری بختی دو سال سے چھپا رکھی ھے نا آج بتا دے اسکا پتہ میں چھوڑ دونگا تیری بیٹی کا پیچھا۔۔۔۔

مجھے نہيں پتہ بختی کہاں ھے گوپال صاف گوئی سے بولا۔۔۔۔۔

چاچا ابھی تک میں تیرا لحاظ کر رہا ھوں وہ اپنی کھیڑیوں سے زمیں کی مٹی اکھاڑنے لگا۔۔۔۔

نیچے دیکھ اس نے آنکھوں کے اشارے سے گوپال کو زمین پر دیکھنے کو کہا۔۔۔۔

اگر بندیا کو تونے میرے ساتھ رخصت نا کیا تو تیری عزت پوری برادری کے سامنے خاک میں ملا دونگا میرا منہ بند ھے تو تو بھی اپنا منہ بند رکھ ورنہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا کفن تیار رکھ۔۔۔۔۔

گوپال اسکا کچھ نہيں بگاڑ سکتا تھا کیونکہ بابو بہت اثر رسوخ والا بندہ تھا۔۔۔

گوپال کو اپنی اور سب کی عزت بچانے کی خاطر اپنی بیٹی بندیا بابو کیساتھ رخصت کرنی پڑی۔۔۔۔

بابو اسے بیاہ کر کراچی لے آیا۔۔۔۔

بندیا بہت خوش تھی بابو کیساتھ شادی کے ابتدائی دنوں میں لیکن اسکی عادتوں اور جرم بھری دنیا سے وہ زیادہ دن بے خبر نا رہ سکی ۔۔۔۔۔

بابو کے جوے اور شراب کے اڈے تھے وہ شراب بھی پیتا تھا اور کوٹھوں پر طواٸفوں کیساتھ بھی اسکے تعلقات تھے۔۔۔۔

بندیا نے شروع شروع میں برداشت کیا اور اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن بیکار بابو سے تنگ آ کر اس نے اپنے باپ کے پاس واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔

لیکن بابو کے علم میں یہ بات آتے ہی بابو نے اسے قید کر لیا۔۔۔

وہ ماں بننے والی تھی اسکے باوجود ہر طرح کا ظلم وہ بندیا کیساتھ کرتا اور اسے بار بار یاد دلاتا کہ جب تک تیرا باپ بختی کو میرے حوالے نہيں کرتا میں تجھے اسی حال میں قید رکھونگا۔۔۔۔

گوپال اپنی بیٹی کے پیچھے دو بار کراچی آیا پر بابو کا اسے پتہ نا چلا کہ وہ کہاں ھے؟؟

گوپال کو بختی رہ رہ کر یاد آٸ۔۔۔

او میری بختی دیکھ تجھے خود سے جدا کیا ھے نا تیری بددعا لگ گٸ مجھے وہ روتا روتا احمد کے گھر گیا جہاں اس نے بختی کو چھوڑا تھا۔۔۔۔

وہاں جا کر معلوم ھوا کہ احمد صاحب دو سال پہلے انتقال کر چکے ھیں اور انکی بیٹیاں بیاہ کر اپنے گھروں کی ھو گٸیں۔۔۔۔

گوپال پاگلوں کیطرح سر پیٹ پیٹ کر رویا میں تجھے دیکھنے تجھ سے ملنے آیا تھا تجھ سے معافی مانگنے آیا تھا کہاں چلی گٸ تو میری بچی تو نے تو معافی مانگنے کا حق بھی چھین لیا تیرا ماما اب تیری دید سے بھی گیا۔۔۔۔

کہاں تلاش کروں تجھے بھی میری دونوں بچیاں بابو کے خوف سے در بہ در ھو گٸیں بابو تیرا بیڑہ غرق ھو مل تو اب کی بار مجھے میں تجھے زندہ نہيں چھوڑونگا گوپال پاگلوں کیطرح گلی گلی اسے ڈھونڈتا رہا۔۔۔۔

_____________

عضد کے لندن جانے میں چند گھنٹے باقی تھے رتابہ کے بار بار انکار کرنے پر نرگس کو غصہ آگیا۔۔۔

یہ کیا تم نے نا نا کی رٹ لگا رکھی ھے میں جو فیصلہ کر لوں ایک بار اس سے پلٹتی نہيں میری فکر اتنی مت کرو تم میں اپنے بڑے بیٹے کو بلا لونگی۔۔۔۔

رتابہ دونوں ماں بیٹے کی ضد کی نذر ھو گٸ۔۔۔۔۔

اور عضد کو اسے ساتھ لے جانا پڑا عضد کا دل چاہا وہ اٸیر پورٹ پر ہی اسے چھوڑ کر چلا جاۓ لیکن ماں کی ناراضگی کے ڈر سے ایسا نا کر سکا۔۔۔۔۔

جہاز میں وہ بیٹھ چکے تھے۔۔۔۔

رتابہ نے ھمیشہ جہاز آسمان پر اڑتے دیکھے تھے اس نے کبھی سوچا بھی نا تھا کہ ایک دن آسمان پر اڑتے جہازوں میں وہ بھی شامل ھوگی۔۔۔۔۔۔۔

وہ بہت ڈر رہی تھی کیونکہ جہاز میں ھوتے حادثات وہ گھر میں سنتی رہتی تھی جہاز جب ٹیک آف کرنے لگا تو اس نے زور سے مٹھیاں بھینچ کر آنکھیں میچ لیں۔۔۔

جہاز ابھی رن وے پر ہی تھا۔۔۔

اس نے آھستہ آھستہ کلمہ پڑھنا شروع کر دیا عضد نے گردن کو ہلکا سا خم دیکر اسکی طرف دیکھا وہ بہت ڈر رہی تھی۔۔۔۔

عضد نے سر جھٹک کر آنکھیں موند لیں اسے نہيں معلوم تھا کہ اب آگے وہ کیا کرنے والی ھے۔۔۔۔

جہاز رن وے سے جیسے ہی اوپر کیطرف ٹیک آف کرنے لگا رتابہ نے روتے ھوۓ کلمہ با آواز پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔۔

سبھی مسافر اسکی طرف متوجہ ھو گۓ عضد نے اسے چپ کرایا۔۔۔

کیا جاہلیت ھے یہ کیوں سب کو پریشان کر رہی ھو بند رکھو اپنا منہ وہ آہستہ سے اسکے کان میں بڑبڑایا۔۔۔

پر رتابہ کی رونے کی آواز اڑتے جہاز کیساتھ بلند ھوتی گٸ۔۔۔۔۔

اٸیر ھوسٹس انکے پاس آٸ۔۔۔

پلیز میم آپ ڈریں مت کچھ نہيں ھوگا آپکے ساتھ اور بھی لوگ ھیں وہ دیکھیں سب کتنے سکون سے بیٹھے ھیں۔۔۔۔

عضد کو بہت شرمندگی ھوٸ سب کے سامنے۔۔۔۔

آآآ۔۔۔۔ اسکا رونا اب چیخوں میں بدل گیا۔۔۔

اٸیر ھوسٹس پھر پاس آٸ۔۔۔

اپنی مسز کو خاموش کرواٸیں سبھی کو ڈسٹرب کر رہی ھیں یہ ورنہ ھم اسلام آباد اٸیر پورٹ پر لینڈ کر کے آپکو اتار دیں گے اسطرح رو کر اور چلا کر یہ باقی مسافروں کو بھی بدحواس کر رہی ھیں۔۔۔۔

عضد نے اسکا ہاتھ سختی سے پکڑا رتااااابہ میرا تماشا مت بناٶ۔۔۔لفظوں کی چیونگم کیطرح چبا کر ادا کیا۔۔۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھوں سے عضد کے ہاتھ تھام لیۓ مجھے ڈر لگ رہا ھے عضد پلیز مجھے نیچے اتار دیں مجھے واپس جانا ھے آپ باٸ روڈ لے جاٸیں اس جہاز میں نہيں بیٹھنا مجھے۔۔۔

رتابہ کیساتھ بیٹھی لڑکی ھنس پڑی رتابہ کی لندن باٸ روڈ جانے والی بات پر پھر وہ اچھے خاصے ھینڈسم عضد کیطرف دیکھ کر بولی۔۔۔

سر انکا پہلا سفر ھے پلین میں؟؟؟

عضد نے ہاں میں سرہلایا۔۔۔

اوکے یہ اتنا ہی ڈر رہی ھیں تو آپ انکو Hug کر لیں تھوڑی دیر میں relax ھو جاٸینگی آپکی مسز اس نے عضد کو مسکراتے ہوئے مشورہ دیا۔۔۔۔

عضد کو ایسا ہی کرنا پڑا۔۔۔

رتابہ کو کندھوں سے اس نے بانہوں کے گھیرے میں لیا تو اس نے دونوں ہاتھوں سے عضد کے کوٹ کو پکڑ کر اسکے کوٹ میں بلیوں کیطرح منہ چھپا لیا۔۔۔

سبھی لوگ ان دونوں کو دیکھ رھے تھے سفر بھی 12 گھنٹوں کا تھا لیکن 1.2 گھنٹے بعد رتابہ کچھ ریلیکس ھو گٸ تھی پر عضد کی ناگواری اسے چہرے پر نظر آرہی تھی کہ لندن پہنچ کر اسکی خیر نہيں ۔۔۔۔۔

3.4 گھنٹے کے بعد وہ عضد سے پوچھنے لگی کب آۓ گا لندن ؟؟؟

عضد آرام سے بولا 8 گھنٹوں بعد۔۔۔

رتابہ کی آنکھیں حیرت سے کھلیں آآآآٹھ گھنٹوں بعد افففف اللہ اب کیا ھوگا ان سے کہو نا تیزچلاٸیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ھے۔۔۔۔۔

انکے ساتھ بیٹھی لڑکی پھر ھنسی۔۔۔

عضد خجل سا ھو کر جواب میں لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا اور رتابہ کو آنکھیں نکال کر خاموشی رھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ انداز ایسا تھا کہ اب بولی تو تپھڑ پڑ جانا تھا۔۔۔۔

رتابہ کا دل بہت تیز دھڑک رہاتھا درود شریف کا ورد ورد کرتے کرتے وہ کچھ دیر بعد پھر بولی۔۔۔۔

اگر یہ جہاز پھٹ گیا تو جہاز میں فارغ بیٹھتے بیٹھتے اسے عجیب ہی الہام ھونے لگے تھے۔۔۔

عضد نے تنک کر گردن اسکی طرف گھمائ۔۔۔۔

جہاز تو نہيں پھٹے گا لیکن اگر اسکے بعد تم نے ایک لفظ بھی اور کہا تو میں تمھارا سر پھاڑ دونگا۔۔۔

وہ عضد سے ڈر کر چپ ھو گٸ۔۔۔۔

عضد لیٹنے لگا اور اسکی سیٹ بھی لیٹنے کیلیۓ پیچھے کی تو وہ زور سے عضد کا ہاتھ پکڑ کر لیٹی پھر ڈرتے ڈرتے کچھ دیر میں سو گٸ ساتھ بیٹھی لڑکی کو معصوم سی رتابہ اچھی لگی وہ بار بار اسکو دیکھتی اور مسکراتی۔۔۔۔

لندن پہنچ چکے تھے وہ۔۔۔۔

جہاز جب لینڈ کرنے لگا تو رتابہ نے تب بھی اچھا خاصا شور مچایا عضد کا دل چاہا وہ اسے اٹھا کر جہاز سے نیچے پھینک دے۔۔۔۔

اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر بچوں کیطرح اسے اپنے ساتھ لگاۓ چپ کروانا پڑا۔۔۔

جہاز لینڈ کر کے رک چکا تھا اپنی منزل پر۔۔۔۔

عضد نے شکر کا سانس لیا۔۔۔

آپکی wife بہت ہی cuteاور innocent ھے اسکو پیار سے treat کیا کریں وہ شائستہ سے لہجے میں عضد سے بات کرنے لگی۔۔۔۔

عضد نے بمشکل رتابہ کیطرف دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا جیسے کہا ھو گھر پہنچو ذرا پھر دیکھنا۔۔۔۔

وہ لڑکی گہری مسکراہٹ ھونٹوں پر سجا کر کہنے لگی اور اگلی بار اسے پاکستان by road لے کر جاٸیۓ گا۔۔۔۔

عضد کو اسکے انداز پر ھنسی آگئ اور وہ دونوں ھنس پڑے۔۔۔

سبھی مسافر نیچے اترنے لگے رتابہ بھی جلدی سے اتری اس خوف سے کہ جہاز کہیں اسے دوبارہ نا لے اڑے۔۔۔۔

تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے ھوۓ اسکا پاٶں مڑا اور وہ گرتے گرتے بچی لیکن پاٶں مڑنے سے ہلکی سی موچ آگٸ۔۔۔

عضد اسے اٹھا کر پلیٹ فارم کیطرف آیا اور سامان اٹھا کر اسے وھیل چٸیر پر باہر لایا عضد کی اتنی خاموشی کسی خطرے کے طوفان سے کم نا تھی راستے میں بھی وہ بلکل خاموش رہا۔۔۔۔

رتابہ دل ہی دل میں عضد کے تیور دیکھ کر اپنی خیر کی دعاٸیں مانگنے لگی۔۔۔۔

باہر کی چکا چوند روشنی اسے بلکل متاثر نہیں کر رہی تھی اس پر اب عضد کے غصے کا بھوت سوار تھا بس۔۔۔۔

گاڑی ایک بہت ہی خوبصورت سے گھر کے پاس آکر رکی سامان اندر ڈرائيور لے کر گیا۔۔۔

پھر عضد کے حوالے چابی کر کے خود چلا گیا۔۔۔۔

وہ لڑکھڑاتی ھوٸ گاڑی سے ڈرتے ڈرتے باہر نکلی عضد نے سرخ ھوتی آنکھوں سے ایک جھٹکے سے اسے گود میں اٹھایا اور سیدھا گھر میں داخل ھو کر اسے صوفے پر اس زور سے پٹخا کہ وہ کراہ کر رہ گٸ۔۔۔۔

وہ وہیں صوفے پر تھک کر بیٹھا تو رتابہ نے اسے پکارا بات سنیں۔۔۔۔۔۔

شیٹ اپ۔۔۔۔وہ اس پر دھاڑا خبردار جو کچھ کہا تو منہ توڑ دونگا میں تمھارا۔۔۔۔۔

رتابہ پہلے ہی ڈری ھوٸ تھی اسکے دھاڑنے پر مذید ڈر گٸ۔۔۔۔

عضد اب کمرے میں بیڈ پر جاکر اوندھے منہ جوتے سمیت ہی لیٹا تو سو گیا۔۔۔۔۔۔

__________________

رتابہ کو بھوک لگ رہی تھی اس نے گھڑی میں ٹاٸم دیکھا تو کافی حیران ھوٸ۔۔۔

یہ کیا یہاں بھی شام ھو رہی ھے اور جب ھم گھر سے نکلے تھے تب بھی شام تھی کتنا لمبا سفر تھا اور ٹاٸم گزرا ہی نہيں بونگوں کیطرح منہ کھولے حیرت سے گھڑی کی سوئ پر نظر تھی۔۔۔

پھر سر جھٹک کر خود سے بولی چوبیس گھنٹے کا سفر ھوگا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ کھانے کی تلاش میں کچن میں آٸ کچھ بھی نہيں تھا۔۔۔۔

فرج کھولا وہ بھی خالی تھا عضد کو کیسے جگاتی وہ اسکی ھمت ہی نہيں ھوٸ چپ چاپ واپس صوفے پر آکر لیٹی تو بیل کی آواز پر فوراً اٹھ گٸ لیکن دروازہ نہيں کھولا بیل مسلسل بج رہی تھی۔۔

عضد نیند سے بوجھل آنکھوں سے کمرے سے باہر نکلا اور گیٹ کھولا اور کچھ پیکٹس لے کر کچن میں آیا۔۔۔۔

رتابہ کو وہ ایسے نظرانداز کر رہاتھا جیسے وہ تھی ہی نہيں وہ باکس سے جوس نکال کر فرج میں رکھنے لگا۔۔۔

رتابہ اسے دیکھ کر کچن میں آٸ میں رکھ لیتی ھوں یہ سب آپ جاٸیں آرام کریں۔۔۔۔

جہاں بیٹھی تھی وہیں بیٹھی رھو میرے سر پر سوار ھونے کی ضرورت نہيں۔۔۔۔

عضد کی بات سنکر وہ جیسے آٸ تھی ویسے ہی پلٹ گٸ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ ڈاٸینگ ٹیبل پر بیٹھا پیزا کھانے لگا رتابہ کے پیٹ میں چوھے دوڑ رھے تھے وہ خاموشی سے دیکھتی رہی۔۔۔۔

عضد نے اسے دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی نظروں کے تصادم پر اس نے زاویہ بدلا۔۔۔

ایسے کیا دیکھ رہی ھو ندیدوں کیطرح تمھارے لیۓ بھی منگوایا ھے کھا لینا انداز احسان جتانے والا تھا۔۔۔۔۔

وہ کھا پی کر آرام سے اٹھا۔۔۔۔

میرے روم میں آنے کی یا مجھے ڈسٹرب کرنے کی کوشش مت کرنا آٸ سمجھ یہ برابر میں دوسرا روم ھے یہاں سو جانا وہ اسے ہدایت کرتا چلا گیا۔۔۔۔

اسکے جانے کے بعد رتابہ میز پر آٸ اور پیزے کو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔۔

یہ ھے کیا؟؟؟ اس نے جیسے ہی چکھا اسے پسند نا آیا اس نے پیزا اٹھا کر فرج میں رکھا اور جوس پی کر دوسرے کمرے میں گٸ۔۔۔۔۔

اسے اب اکیلے سونے کی عادت نہيں تھی وہ بیڈ پر لیٹی تو گھبرا رہی تھی نماز کیلیۓ اٹھی نماز پڑھ کر اپنے سامان سے قرآن پاک نکالا جو وہ ساتھ لائ تھی۔۔۔

نرگس نے اسے نماز قرآن ہر چیز سکھا دی تھی اور ٹیوٹر گھر بلوا کر لینگویج کورس بھی کروا دیا تھا وہ ذھین بھی کافی تھی سال بھر میں وہ سب کچھ سیکھ چکی تھی۔۔۔۔

قرآن پاک کی تلاوت کرتے کرتے وہ سو گٸ عضد صبح جاگا اورفریش ھو کر آفس چلا گیا۔۔۔

رتابہ کی آنکھ ذرا دیر سے کھلی اسے خالی پیٹ چکر آرھے تھے کچن میں آٸ فرج میں سوا جوس کے اور کچھ نا تھا رتابہ نے سارا کچن کھنگالا اسے کچھ بھی کھانے کو نہيں ملا اس نے پھر سے جوس پر گزارا کیا۔۔۔

عضد آفس میں اتنا مصروف تھا کہ اسے یاد ہی نہيں رہا کہ رتابہ کے پاس گھر میں کچھ بھی کھانے کو نہیں ھے۔۔۔۔۔

وہ مسلسل تیس گھنٹوں سے بھوکی تھی اس سے زیادہ بھوک نہيں کاٹ سکتی تھی نڈھال ھوکر صوفے پر بیٹھ گٸ نا اسکے پاس موباٸل تھا نا عضد کا نمبر۔۔۔۔۔

رات کو عضد گھر آیا تو اسے صوفے پر نڈھال پڑی رتابہ کو دیکھ کر یاد آیا۔۔۔۔

اوہ شٹ میں بھول ہی گیا تھا وہ جلدی سے بیگ سائیڈ پر رکھے اسکے پاس آیا۔۔۔

تم نے کچھ کھایا۔۔۔

رتابہ نے بھوک سے چکراتا سر اٹھایا اور نا میں ہلایا۔۔۔۔

اسکی نڈھال آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ اس نے کچھ نہيں کھایا وہ جلدی سے باہر گیا اور برگر لے کر آیا۔۔۔۔

یہ لو کھا لو اس نے باکس اسکے سامنے رکھا اور کمرے میں جانے لگا۔۔۔

وہ پلیٹ لینے کیلیۓ اٹھی تو چکرا کر صوفے پر گری وہ پھر اسکے پاس آیا۔۔۔

کیا ھوا ھے تمھیں ؟؟؟

وہ بند ھوتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔

تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا کیا؟؟؟؟ عضد نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔۔

جب پلین میں بیٹھے تھے تب سے کچھ نہیں کھایا اسکی آواز بھی مشکل سے نکل رہی تھی….

عضد کو بہت شرمندگی ھوٸ کہ ساری زیادتی اپنی جگہ تھی وہ کم از کم اسے بھوک سے تو نا مارتا….

عضد نے ٹرے میں برگر کھول کر اسکے ہاتھ میں دیا تم یہ کھاٶ میں آتا ھوں کچھ دیر میں پھر وہ باہر چلا گیا اور اسے راستے میں بھی بہت افسوس ھوا کہ وہ 36 گھنٹوں سے بھوکی تھی صرف اسکی لاپرواٸ کیوجہ سے۔۔۔۔

وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر غصے سے وہی ہاتھ اسٹیرنگ پر مار کر خود سے ھمکلام ھوا۔۔۔۔

آپکو منع بھی کیا تھا امی مت بھیجیں اسے میرے ساتھ اب کون دیکھے گا اسے۔۔۔۔

اکیلے رھنے کی عادت ھے مجھے اب سب کچھ گھر میں بھی پورا کرنے کی ذمہ داری الگ گھر جلدی آنے کی الگ اسکا خیال رکھنے کی الگ آفس ورک کی الگ وہ کافی غصے میں تھا۔۔۔۔

یوٹیلیٹی اسٹور سے وہ پھل سبزیاں گوشت کوکنگ آٸل دودھ بریڈ آٹا تقریباً ہر چیز لینے لگا جو جو اسے ضروری لگا اور یاد رہا۔۔۔۔۔

_______________________

نمل لاھور آ چکی تھی اور حافظ صاحب سعودیہ روانہ ھو چکے تھے۔۔۔۔

مسز عارف اور انکی ساس نے اسے اپنے بیٹیوں کیطرح ویلکم کیا۔۔

یہاں آنے سے پہلے نمل بہت کنفیوز تھی لیکن عارف کی فیملی سے مل کر کافی ریلیکس ھوٸ وہ کبھی اپنے بابا سے دور نہيں ھوٸ تھی اسے بابا کی یاد بار بار رلاتی لیکن صبر کرنا تھا اسے اور صبر آتے آتے آ ہی گیا۔۔۔

کافی دن گزر گۓ تھے وہ گھر سے باہر بلکل نہيں گٸ تھی البتہ عارف کے یہاں آنے والے پڑوسیوں اور رشتے داروں سے وہ ملتی۔۔۔۔

دوپہر کا وقت تھا کچن میں وہ چاۓ بنانے میں مصروف تھی جب عارف کی بیٹی مومل ایک چھوٹا سا بچہ گود میں اٹھا کر لاٸ۔۔۔۔

باجی یہ دیکھیں کتنا پیارا بچہ ھے۔۔۔۔

نمل نے اس بچے کو دیکھا وہ واقعی بہت خوصورت تھا نمل نے اسے گود میں لینا چاہا پر وہ نا آیا۔۔۔

کس کا بچہ ھے یہ ؟؟؟؟

سامنے والی انٹی ھیں انکا پوتا ھے۔۔۔۔

کیا نام ھے اسکا نمل نے بڑے پیار سے پوچھا؟؟؟

دیان۔۔۔

نمل نے اسے زبردستی لیا گود میں تو وہ رونے لگ گیا نمل باہر آٸ لان میں بیٹھی نرگس کو سلام کیا۔۔۔۔

نرگس مسز عارف کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی یہ کون ھے؟؟

میری بھتیجی ھے یہ۔۔۔۔

نرگس اسے دیکھ کر مسکراٸ دیان روتا ھوا نرگس کے پاس چلا گیا۔۔

نرگس اسے گود میں لیکر پیار سے بولی۔۔۔۔

یہ نۓ چہرے دیکھ کر ڈر جاتا ھے ذرا لیکن ایک دو بار دیکھ لے تو گھل مل جاتا ھے پھر۔۔۔۔

وہ سب باتیں کرتے رھے آپس میں۔۔۔

نمل بار بار بچے کو پیار سے دیکھتی وہ شرما کر دادو کے آنچل میں چھپ جاتا۔۔۔

نمل کو نرگس بھی کافی پسند آئ بہت پرکشش شخصیت کی مالک تھی وہ۔۔۔۔

______________

نرگس نے سودا سلف لینے بازار جانا تھا وہ دیان کو عارف کے گھر چھوڑ کر جاتی تھی آج بھی ایسا ہی ھوا۔۔۔۔

نمل نے اسے کچھ ہی دیر میں اپنے ساتھ بہلا لیا نرگس واپس آٸ تو دیان سو رہا تھا۔۔۔

وہ اسے وہیں نمل کے پاس چھوڑ کر واپس گھر آگٸ اور جازب کو فون کر کے اپنے پاس آنے کو پھر سے کہا۔۔۔۔

جازب نے دن نا بتایا اور جلد ہی آنے کی حامی بھر لی۔۔۔۔۔

دیان نمل کیساتھ بہت اٹیچ ھو گیا تھا وہ دیان کیلیۓ اکثر نرگس کے گھر چلی جاتی۔۔۔۔

آج اتفاق سے نرگس کی طبیعت اچانک خراب ھو گٸ نمل اسی کے گھر میں تھی۔۔۔۔

تم دیان کا خیال رکھنا میں ابھی آتی ھوں کلینک سے ھو کر۔۔۔

نمل انکی طبیعت دیکھ کر بولی انٹی آپ اکیلی کیسے جاٸیں گی میں ساتھ چلتی ھوں آپکے۔۔۔

نرگس جواب میں مسکراٸ ارے بیٹا ساری زندگی اکیلے گزار دی ھے میں نے تم فکر نا کرو میں جلدی آٶنگی۔۔۔۔۔

نمل دروازہ بند کر کے دیان کے پاس آٸ وہ سو رہا تھا۔۔۔

کچھ دیر میں باہر ڈور بیل بجی وہ دروازے پر آٸ کون ھے؟؟؟

باہر عارف کی بیٹی مومل تھی نمل کو بلانے آئ تھی وہ ۔۔۔۔۔

دیان کے رونے کی آواز آٸ وہ دونوں جلدی سے اندر گٸیں دیان جاگ گیا تھا۔۔۔

وہ اسے گود میں لیکر مومل سے کہنے لگی تم جاؤ میں آتی ھوں کچھ دیر میں انٹی کلینک گٸ ھیں وہ آجاٸیں۔۔۔۔

نمل دیان کے ساتھ کھیلنے میں اتنی مصروف تھی کہ اسے مومل کے جانے پر دروازہ بند کرنا یاد ہی نہيں رہا۔۔۔۔۔

دیان کو بھوک لگ رہی تھی وہ اسے کھلونے دے کر کچن میں آٸ اور اسکے لیۓ سریلیک ڈھونڈنے لگی باری باری کی ن کھولنے کر چیک کر رہی تھی۔۔۔۔

اسے کچھ محسوس ھوا اپنے پیچھے جیسے وہ اکیلی نہیں تھی اسکے ہاتھ کیبن کے ھینڈل پر تھم گئے۔۔۔۔

بھینی بھینی پرفیوم کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائ اور اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ھوا۔۔۔۔

وہ جیسے ہی خوف سے پلٹی تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے ھوش اڑ گۓ۔۔۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *