Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 12)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 12)
Bad Bakhat by Arshi Noor
مسٹر عضد مبارک ھو آپکو
آپ باپ بننے والے ھیں آپکی wife pregnant ھے۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر رتابہ اور عضد دونوں ایسے حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جیسے ان دونوں کے سر پر بم آن پھٹا ہو ۔۔۔۔
رتابہ کی تو سانسیں ہی رک گئیں عضد کو دیکھ کر۔۔۔۔۔
عضد کا دل چاہا کہ وہ اسے جان سے مار دے۔۔۔
ان دونوں کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ڈاکٹر نے پوچھا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے خیریت تو ہے نا آپ دونوں تو ایسا ری ایکٹ کر رہے ہیں جیسے کوئی بڑی عجیب بات کر دی ہے میں نے۔۔۔۔۔
عضد نے حقارت بھری نظروں سے رتابہ کو دیکھا پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے باہر چلا گیا۔۔۔۔
رتابہ کی تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی وہ کیا کہتی۔۔۔۔
ڈاکٹر اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی یہ شوہر ھے آپکا؟؟؟
رتابہ سر جھکا کربولی جی میڈم شوہر ھیں میرے۔۔۔۔
ڈاکٹر کی حیرانی چھپاۓ نہیں چھپ رہی تھی تو پھر باپ بننے کی خبر سن کر اتنا غصہ کیوں آیا انکو؟؟؟؟
وہ دراصل رتابہ نے اپنے خشک ھوتے ھونٹوں پر زبان پھیری ان کو بچے بالکل پسند نہیں اس لیے یہ ایسا کر رھے ھیں رتابہ نے دیوار کے دوسری طرف منہ پھیر کر کہا۔۔۔۔
تو کیا اب تم ابارشن کرواٶ گی قتل کرو گی اس معصوم سی جان کا؟؟
وہ خاموش رہی اور دل میں سوچنے لگی کہ اس نے ابھی تک مجھے قبول نہيں کیا تو بچے کو کیسے قبول کریگا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی آواز پر وہ چونکی کیا سوچ رہی ہیں آپ کہ بچہ ابارشن کرواؤگی سمجھاؤ اپنے شوہر کو بہت بڑا گناہ ھے یہ ۔۔۔۔
رتابہ نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
ڈاکٹر کے جاتے ہی رتابہ نے ایک نظر ڈرپ کو دیکھا ڈرپ قطرہ قطرہ کر کے اسکی رگوں میں ایسے اتر رہی تھی اسوقت جیسے موت انسان کی رگ رگ سے نکلتی ھے۔۔۔۔
اس نے ڈرپ خود ہی نکالی جلدی سے خون اسکے ہاتھ سے قطروں کی صورت بہنے لگا ہاتھ اپنے دوپٹے سے صاف کر کے وہ چپ چاپ اٹھی اور بہت مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے عضد کی گاڑی کے پاس آٸ۔۔۔۔
وہ وہاں موجود نہيں تھا گاڑی بھی لاک تھی وہ اور زیادہ گھبرا گئی اور ادھر ادھر نظریں دوڑا کر اسے ڈھونڈنے لگی وہ کہیں نظر نا آیا تو وہ گاڑی کے پاس ہی کھڑی ھو کر رونے لگی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اچانک آ کر اس پر دھاڑا گھر چلو۔۔۔۔
اسکی آواز پر رتابہ کی چیخ ہی نکل گئی پھر وہ رکی ھوئ سانسوں سے جلدی سے گاڑی میں بیٹھی عضد کے خوف سے اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی خشک ھو گۓ۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر عضد نے اسے گاڑی سے کھینچ کر باہر نکالا اور گھسیٹتا ھوا اسےاندر لے گیا۔۔۔۔
نرگس نماز پڑھ کر دعا میں مصروف تھی۔۔۔۔
عضد نے اسے نرگس کے قدموں میں لاکر پھینکا۔۔۔۔۔
نرگس بھی بری طرح سے ڈری۔۔۔۔
غصے اور حقارت سے اسکا منہ لال سرخ ھو رہا تھا۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ھے نرگس نے آنکھیں دکھاٸیں عضد کو۔۔۔۔
مجھے چھوڑیں پہلے پوچھیں اپنی اس لاڈلی رتابہ سے کیا ھوا ھے اسے ؟؟ اسکی آنکھیں غصے کے سبب پھٹ رہی تھیں۔۔۔۔
نرگس نے رتابہ کیطرف دیکھا جسکے چہرے پر خوف سے ھواٸیاں اڑ رہی تھیں اور رنگ چہرے کا بلکل لٹھے کیطرح سفید ھو رہا تھا۔۔۔۔
کیا ھوا ھے ؟؟؟ نرگس اسکا چہرہ دیکھ کر پریشان ھو گئ۔۔
رتابہ کی آواز سانسوں کیطرح اسکے حلق میں اٹکنے لگی اااااامی ۔۔۔۔۔۔ ووووووہ۔۔۔۔ ممممم۔۔۔ میں۔۔۔۔
عضد اسکے پاس آیا جو فرش پر نرگس کے پاس ہی بیٹھی ھوئ تھی عضد زور زور سے اسے جھنجھوڑ کر چیختا ھوا بولا اب زبان کیوں لڑکھڑا رہی ھے بولو بھی کیا گلُ کھلایا ھے تم نے۔۔۔
نرگس نے اسے چھڑایا عضد سے۔۔۔۔
پیچھے ہٹو اور خبردار جو دوبارہ اس بچی کیساتھ اسطرح پیش آۓ تو اس نے رتابہ کو خود سے لگایا۔۔۔
جسکی اسوقت ایسی حالت ھو رہی تھی جیسے اسکی روح پرواز کرنے لگی ھو۔۔۔۔۔
عضد شدید غم و غصے سے چلا کر بولا امی آپکی یہ بچی بچے کی ماں بننے والی ھے۔۔۔۔۔
نرگس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں عضد کے منہ سے خبر سن کر پل بھر وہ بلکل سن ہی ھوگئ تسبیح اسکے ہاتھ سے چھوٹ گئ یہ کیا کہہ رہے ہو یہ تم۔۔۔۔۔۔
وہی کہہ رہا ھوں جو آپ سن چکی ھیں۔۔۔۔۔۔
نرگس نے رتابہ کی طرف بونچھکا کر دیکھا تم پریگنینٹ ہو؟؟
رتابہ جو اپنے اندر آنسوٶں کا طوفان روکے ھوۓ تھی نرگس کے پوچھتے ہی وہ با آواز رو پڑی۔۔۔۔۔۔
امی اس سے پوچھیں کس کا گناہ یہ اپنی کوکھ میں لیۓ پھر رہی ھے میں ایک پل بھی برداشت نہيں کرونگا اب اسے بھی اس گھر میں عضد کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔۔ اسکے ماتھے اور گرد۔ کی رگیں تنی ھوئ تھیں جیسے وہ خود کو اسے مارنے سے بمشکل روکے ھوا تھا۔۔۔
نرگس کی سمجھ میں نہيں آرہا تھا وہ کیا کرے اور کیا کہے۔۔۔
عضد بے بسی سے اپنے بال نوچ کر بچوں کیطرح روپڑا۔۔۔۔۔
امی یہ پسند تھی آپکو میرے لیۓ جو کسی اور کا گناہ اپنی کوکککک۔۔۔۔۔
رتابہ جو کافی دیر سے خاموش تھی یہاں اس نے عضد کی بات کاٹی۔۔۔۔
بس کردیں عضد بس آپکی مجھ سے نفرت اپنی جگہ لیکن اتنا بڑا الزام تو نا لگاٸیں۔۔۔۔
عضد ابلتے ھوۓ لاوے کیطرح اسکی طرف پھر سے بڑھا میں الزام لگا رہا ھوں تم پر نرگس نے بمشکل عضد کو رتابہ سے دور رکھا۔۔۔۔
جی الزام لگا رھے ھیں آپ مجھ پر میں نے کوٸ گناہ نہيں کیا اور یہ کسی اور کا گناہ بھی نہیں ہر عورت شادی کے بعد ماں بنتی میں بھی بن گٸ پھر اس میں اتنا آگ بگولہ ھونے والی کونسی بات ھے۔۔۔۔وہ بری معصومیت سے پوری بات روتے ھوئے کہہ گئ ۔۔
تمھارا مطلب ھے یہ بچہ میرا ھے عضد نے حیرت سے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر اپنی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔
رتابہ نے بچوں کیطرح ہاں میں سرہلایا ظاہر سی بات ھے آپ سے شادی ھوٸ تو بچہ بھی آپکا ھی ھے نا وہ اٹھ کھڑی ھوئ ۔۔۔
اسکی بات سن کر نرگس کے پیروں تلے زمین نکل گٸ۔۔۔۔۔
عضد نے اسے گلے سے پکڑ کر دبوچا بکواس کرتی ھو اپنا آپ گنوا کر بھی دل نہيں بھرا کہ اپنے اندر پنپنے والی غلاظت میرے متھے مار رہی ھو۔۔۔۔۔
عضد نے زور سے اسکا گلا دبایا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا اسکی سانسیں رکنے لگیں چہرہ سانس رکنے سے سرخ ھو گیا۔۔۔
نرگس جاۓ نماز سے اٹھی چھوڑو اسے عضد میں کہتی ھوں چھوڑو اسے۔۔۔۔
عضد کی آنکھوں سے لگ رہا تھا آج وہ رتابہ کی جان لیکر ہی دم لیگا۔۔۔۔
عضدددددد نرگس نے طوفان کیطرح بپھرے ھوئے عضد سے رتابہ کو چھڑایا جسکا چہرہ سانس رکنے سے خون کیطرح سرخ ھو چکا تھا اسکی ماتھے کی رگیں بھی ابھرنے لگی تھیں۔۔۔
عضد کے چھوڑنے پر وہ زور زور سے کھانستے ھوۓ سانس لینے لگی آنسو تیز رفتاری سے بہنے لگے۔۔۔۔۔
نرگس نے عضد کو اس سے پیچھے دھکیلا اس کی کچھ سمجھ میں نہيں آرہا تھا رتابہ کیا اور کیوں کہہ رہی تھی؟؟؟
وہ پھر اسکی طرف بڑھا تمھیں اپنے بچے کی ماں بنانا تو بہت دور کی بات ھے میں تمھاتی شکل دیکھنا بھی گوارا نہيں کرتا….
اسکی آواز اتنی بلند تھی کہ نرگس نے اسکے منہ ہر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرایا اور عضد کو زبردستی کمرے سے دھکیل کر باہر نکالا۔۔۔۔۔
وہ غصے میں بلکل اندھا ھوگیا تھا۔۔۔۔۔
نرگس جانتی تھی کہ عضد سب کچھ برداشت کر سکتا تھا لیکن جھوٹ اور گندگی بلکل برداشت نہيں ھوتی چاھے وہ گھر کی ھو کردار کی یا زبان کی۔۔۔۔۔
اور یہاں تو معاملہ ہی اسکی انا اور غیرت کا تھا۔۔۔۔۔۔
______________
بابا جانی ۔۔۔۔
نمل نے مسجد سے آتے ھوۓ حافظ صاحب کو آواز لگائ۔۔۔
جی بولو بیٹا۔۔۔۔
بابا میں اپنا ماسٹرز مکمل کرنا چاھتی ھوں۔۔۔۔۔
لیکن یہاں کی یونیورسٹیز اور بورڈ کا کچھ نہيں معلوم ھمیں۔۔۔۔
تو کیا ھوا بابا پتہ کرنا کونسا مشکل ھے ۔۔۔
ٹھیک ھے جیسے تمھاری مرضی۔۔۔۔
بابا ایک اور بات کہوں ۔۔۔۔
ہاں کہو۔۔۔
کسی طرح بختی کاپتہ کروا دیں وہ واپس آٸ یا نہيں۔۔۔
اسکے لیۓ تو کراچی جانا ھوگا بیٹا۔۔۔
تو بابا چلتے ھیں نا۔۔۔۔
بار بار وہاں جانا اتنا آسان نہيں۔۔۔
کیوں بابا اس میں مشکل کیا ھے وہ منہ بنا کر پوچھنے لگی۔۔۔
میری بچی ھم اُس محلے سے نکالے گۓ ھیں وہاں ھمارا کوٸ خیرخواہ نہيں۔۔۔۔۔
نمل کا منہ لٹک گیا۔۔۔۔
اچھا اداس مت ھو میں کچھ دنوں میں معلوم کروا لونگا۔۔۔۔
نمل خوشی سے مسکراٸ۔۔۔۔
اسے مسکراتا دیکھ کر حافظ صاحب کے دل کو سکون ملا۔۔۔۔
_____________
نرگس بختی کو اسپتال سے واپس لاٸ۔۔۔۔۔
تمھیں یہ بھی نہيں معلوم تھا کہ تم تین مہینے سے امید سے ھو۔۔۔۔۔
اس نے نا میں سر ہلایا۔۔۔۔
نرگس کو اسوقت اس پر بہت ترس آیا۔۔۔
اسے یہ بھی نہيں معلوم تھا کہ عورت ماں کب بنتی ھے اسکے معصوم سے ذہن میں بس یہ بات تھی کہ عورت شادی کے بعد ہی ماں بنتی ھے۔۔۔۔
نرگس کیسے بتاتی اسے کہ وہ جس کے ہاتھوں تباہ و برباد ھوٸ تھی اسی کے گناہ کا بوجھ اپنی کوکھ میں لیۓ وہ انجان تھی لیکن اسے سمجھانا بھی ضروری تھا۔۔۔۔
فی الحال نرگس نے اسکے معصوم سے ذہن پر بوجھ نہيں ڈالا کیونکہ وہ پہلے ہی اپنے ناکردہ گناہ کا بہت بڑا بوجھ اٹھاۓ ھوۓ تھی۔۔
___________
عضد آفس کے کام سے کچھ ماہ کیلیۓ لندن جا رہا تھا۔۔۔۔۔
اپنا سامان ٹیچی میں رکھتے ھوۓ اس نے اندر آتی نرگس کو دیکھا۔۔۔۔
اب بھی ناراض ھو مجھ سے۔۔۔۔
میں کسی سے ناراض نہيں رخ پھیرے انداز چٹان جیسا سخت تھا۔۔۔۔۔
تم جارھے ھو مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔
عضد کے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھ رکے۔۔۔۔
امی اگر آپکو چھوڑ کر جانا ھوتا تو اسی دن چلا جاتا جس دن آپ نے مجھے نکاح کیلیۓ مجبور کیا تھا۔۔۔
نرگس کی آنکھوں میں آنسو تھے کب واپس آٶ گے؟؟؟
وہ نرگس کے بھراۓ ھوۓ لہجے پر پلٹا آجاٶنگا دو تین ماہ بعد۔۔۔
بیٹا مجھ سے اسطرح ناراض ھو کر مت جاٶ میں مر گٸی تتتتتت۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر ماں کے منہ پر ہاتھ رکھا ایسا تو نا کہیں۔۔۔۔۔
نرگس اسکے ہاتھ چومنے لگی پھر اپنے ہاتھ اسکے آگے جوڑ کر بولی میرے بچے میری جان مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔
امی یہ کیا کر رہی ھیں آپ عضد نے ماں کو گلے سے لگایا۔۔۔۔
اسکے سینے سے لگے اسے نرم پڑتا دیکھ کر وہ فوراً سے رتابہ کی وکالت کرنے لگی بیٹا رتابہ پر کڑھنا یا غصہ کرنا چھوڑ دو وہ اتنی معصوم ھے کہ اسے یہ بھی نہيں پتہ کہ عورت ماں کیسے اور کب بنتی ھے۔۔۔۔
وہ ماں سے الگ ھوا بس امی بس رہنے دیں میرے سامنے اسکی وکیل بن کر مت آیا کریں اور اتنی معصوم ھے نہیں وہ جتنی آپکو لگتی ھے۔۔۔۔
بیٹا میری با۔۔۔۔۔۔
اس نے سر جھٹک کر ماں کو ٹوکا امی انسان کے جسم پر ایک معمولی سا دانہ بھی نکل آۓ نا تو وہ معمولی سا دانہ بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ھے کہ میں موجود ھوں اور اسکے وجود میں ایک اور وجود تین ماہ سے پلتا رہاسانس لیتا رہا اور وہ اس بات سے بے خبر رہی؟؟ حد ھوتی ھے امی بے وقوف بننے اور بنانے کی۔۔۔۔۔۔
بیٹا عورت جب پہلی بار ماں بنتی ھے تو اسے کچھ بھی ٹھیک سے معلوم نہيں ھوتا وہ اسی طرح انجان ھوتی ھے ۔۔۔
امی آپ مجھے بےوقوف بنا رہی ھیں یا خود کو یا آپ اسے بے وقوف سمجھ رہی ھیں جو جھوٹ کی گٹھلیاں اٹھاۓ ھمارے گھر ڈیرہ ڈال کر ھمیں ھی بے وقوف بنا رہی ھے۔۔۔۔۔
میری جان ایسی نہیں ھے وہ نرگس اسکی صفائ میں بولی۔۔۔
عضد کی آواز غصے سے بلند ھوئ امی آپکو معصوم بن کر اپنے سانچے میں ڈھال سکتی ھے وہ عضد شاہ کو نہيں بہت جلد اسکی حقیقت جب آپ پر آشکار ھوگی تب آپ کو اندازہ ھوگا کہ آپ نے کتنا غلط فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔
نرگس چپ ھو گٸ۔۔۔۔۔
ماں کا ماتھا چوم کر وہ ٹیچی کیس اٹھا کر جانے لگا۔۔۔۔۔
ایک دم کمرے سے نکلتے ھوۓ رتابہ اسکے سامنے آگٸ۔۔۔۔
اسے دیکھ کر عضد کا خون کھول اٹھا۔۔۔۔۔
وہ اسے ہاتھ سے پرے دھکیل کر چلتا بنا عضد کے دھکا دینے پر وہ گرتے گرتے بچی۔۔۔۔
_____________
وقت تیزی سے پر لگا کر اڑتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے چھ ماہ گزر گۓ۔۔۔۔
رتابہ کی ڈلیوری کا وقت بھی قریب تھا۔۔۔۔۔
عضد کو ابھی واپس آۓ ھوۓ ایک ھفتہ ھوا تھا۔۔۔۔۔
ایک بار ہی وہ عضد کے سامنے نا آئ تھی عضد کی باتیں سن کر وہ اتنی رنجیدہ ھوئ تھی کہ دوبارہ اس میں ھمت ہی نا ھوئ عضد کے سامنے آنے کی۔۔۔۔
اگر غلطی سے سامنا ھو بھی جاتا تو اسکا بڑھا ھوا پیٹ دیکھ کر عضد کا بس نا چلتا وہ اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا۔۔۔۔
عضد کو اپنے آپ سے بھی غیرت آنے لگی تھی اب کہ رتابہ اسکے نکاح میں تھی اور اب وہ ماں کسی اور کے بچے کی بننے جا رہی تھی۔۔۔۔
رتابہ اوپر اپنے روم میں لیٹی ھوٸ تھی کہ اچانک اسے لیبر پین اسٹارٹ ھوا وہ دیوار کا سہارا لے کر کمرے سے باہر آٸ۔۔۔۔۔
نرگس باہر لان میں فون پر مصروف تھی ۔۔۔۔۔
وہ نرگس کو پکارتی سیڑھیاں اترنے لگی تو خود کو سنبھال نا سکی اور گیند کیطرح لڑھکتی ھوٸ خون سے لت پت فرش پر آگری ۔۔۔
اسکی فلگ شگاف چیخیں سن کر نرگس بھاگتی ھوٸ اندر آٸ
عضد بھی اپنے روم سے باہر نکلا۔۔۔
رتابہ درد سے تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔
نرگس کے ہاتھ پیر پھول گۓ اس نے عضد کو بلایا جلدی کرو اٹھاٶ اسے ھسپتال لے کر جاٸیں۔۔۔
عضد بڑی بے رحمی سے بولا آئ ایم سوری امی میری ذمہ داری نہيں یہ۔۔۔۔۔
نرگس اسکی سفاکی پر اسے دیکھتی رہ گٸ پھر چلا کر بولی عضد مر جائے گی یہ۔۔۔۔۔
وہ بمشکل خود کو چلانے سے روک کر بولا مر جائے تو اچھا ھے اسکے لیۓ ویسے بھی جینے کے قابل نہیں یہ اب۔۔۔
عضد بعد میں نبھا لینا اپنی نفرتیں ابھی تو اس پر رحم کرو۔۔۔۔
امی اس نے خود پر خود رحم نہیں کیا آپ نے مجھ پر رحم نہیں کیا پھر میں کیوں کروں رحم؟؟؟
نرگس نے خود ہی کال کر کےجلدی سے ایمبولینس منگوا کر اسے ھسپتال پہنچایا۔۔۔۔۔
عضد کے رویے کا نرگس کو بہت دکھ تھا اوپر سے رتابہ کی حالت کافی سیریٸس تھی نرگس رو رو کر اسکے لیۓ دعا گو تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آٸ تو نرگس جلدی سے ڈاکٹر کے پاس آئ۔۔۔۔
ھم بچے یا ماں میں سے کسی ایک کی جان بچانے کی کوشش کر سکتے ھیں نرگس نے کہاں ماں کی بچا لیں۔۔۔۔۔
ڈاکٹر پھر بولی مشکل بہت ھے کہ ھم اسے بھی بچا سکیں۔۔۔۔
نرگس اکیلی تھی اپنا درد کسی سے بانٹ بھی نہيں سکتی تھی وہ رب کے آگے جھکی رہی گڑگڑاتی رہی
لیکن اللہ کے فیصلوں کے آگے کون ڈٹ سکتا ھے۔۔۔۔
کسے جان دینی ھے یا کس کی جان لینی ھے یہ سب رب کے فیصلے ھیں انسان یہاں آ کر بہت بے بس ھوجاتا ھے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کچھ دیر میں باہر آٸ تو بچے کے رونے کی آواز سن کر نرگس نے سجدے سے سر اٹھایا۔۔۔۔۔
مبارک ھو بیٹا ھوا ھے نرگس نے اس ننھے سے فرشتے کو گود میں لیا۔۔۔۔۔
میری بہو کیسی ھے۔۔۔۔۔
انکا ھم ابھی کچھ نہيں کہہ سکتے بلڈ بہت ضائع ھوا ھے اگر 24 گھنٹوں میں ھوش میں آگٸ تو ٹھیک ورنہ۔۔۔۔۔۔
نرگس کا دل دہل کر رہ گیا وہ بچہ بھی ڈاکٹر بات پر بلک بلک کر رونے لگا جیسے اس نے بھی ماں سے بچھڑنے کی خبر سن لی ھو۔۔۔۔۔
نرگس اسے چپ کروانے لگی کہاں آ گۓ ھو تم اس ظالم دنیا میں جہاں کوٸ تمھیں قبول نہيں کریگا کوئ تمھیں اپنا نام نہیں دیگا۔۔۔
نرگس اس معصوم سے بچے کو سینے سے لگائے خوب روئ اس بچے نے بھی نرگس کا رونے میں بھرپور ساتھ دیا۔۔۔۔
___________
نرگس کے آنسو ضائع نا گۓ رب نے اسکی سن لی تھی۔۔۔۔
رتابہ کو ھوش آ گیا تھا اس نے سب سے پہلے اپنے بچے کو پکارا۔۔۔۔
میرا بچہ کہاں ھے نرگس اندر آٸ اسے خوب پیار کیا۔۔۔۔
امی جان میرا بچہ ؟؟
نرس بچہ اٹھا کر لاٸ نرگس نے نرس سے لے کر بچہ اسکی گود میں دیا ۔۔۔۔
رتابہ کے لیۓ ماں بننے کا احساس سب سے الگ تھا اس نے خود تو ماں نہیں دیکھی تھی لیکن آج خود کے ماں بننے کا احساس اسے بے چین کرنے لگا تھا۔۔۔۔
اس نے بچے کو غور سے دیکھا پھر چھم چھم برستے نینوں سے نرگس کو دیکھا۔۔۔
امی یہ میرا بچہ ھے میرا وہ بے یقینی سے بولی۔۔۔۔
امی سچ میں میرا بچہ ھے یہ؟؟ میں ماں بن گئی امی میں ماں بن گئ وہ بچے کو اپنے سینے سے لگا کر دیوانوں کیطرح چومنے لگی۔۔۔۔۔
میں ماں بن گٸ۔۔۔۔
میں ماں۔۔۔۔
ماں۔۔۔۔
ماں۔۔۔۔۔
وہ پاگلوں کیطرح کبھی ھنستی کبھی روتی۔۔۔۔
نرگس نے اسکا ماتھا چوما۔۔۔۔
ہاں میری جان تمھارا بچہ ھے یہ ماں ھو تم اسکی۔۔۔۔۔
امی میں ماں ھوں ماں ۔۔۔۔۔۔۔
بن ماں کے پلی تھی وہ ماں کیا ھوتی ھے کیسی ھوتی اسے نہيں معلوم تھا بس اسے اس بات کی خوشی تھی کہ آج اسکا وارث پیدا ھوا ھے اب وہ دنیا میں تنہا اور لاوارث نہیں رہی۔۔۔۔
لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ وہ ماں بھی اس بد بخت بچے کی بنی ھے جو آنیوالے وقت میں اس کے لیۓ صرف ذلت و رسواٸ کا سبب تھا۔۔۔
وہ خود بھی بد بخت تھی اب اسی بد بختی سے ایک اور بد بخت نے جنم لیا تھا۔۔۔
___________________
جازب اپنی دھن میں مگن گاڑی ڈرائيو کر رہا تھا جب اچانک سامنے آکر کسی دشمن نے اس پر حملہ کیا۔۔۔۔
فاٸرنگ سے گاڑی کے فرنٹ کا شیشہ چور چور ھوگیا۔۔۔
جازب اچھا خاصا زخمی ھوا۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی گن لوڈ کر کے باہر نکلا آس پاس بلکل سناٹا تھا اور سامنے کھڑی ہاٸ لیکس میں پورے چار آدمی تھے۔۔۔۔
جازب خود کو بچاتا ھوا ان پر جوابی فاٸر کرنے لگا۔۔۔۔
جازب کی فاٸرنگ سے انکے دو آدمی اسی وقت دنیا سے کوچ کر گۓ۔۔۔۔
لیکن ان میں سے ایک نے جازب کی پیٹھ پر وار کیا وہ گاڑی کے پیچھے سے گھوم کر آیا اور اس پر فائر کیا گولی جازب کی ریڑھ کی ہڈی کو چیرتی ھوٸ پیٹ سے باہر نکلی۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر اس پر فاٸر کرنا چاہا پر گولیاں ختم تھیں۔۔۔۔
وہ دو رہ گۓ تھے وہ دونوں جازب کے قریب آۓ تو جازب گاڑی کا سہارا لے کر کھڑا ھوا اور پیچھے سے وار کرنے والے کو گردن سے دبوچ لیا۔۔۔
اسکے دوسرے ساتھی نے جازب کی پسلیوں پر گن رکھ کر تین گولیاں آر پار کر دیں لیکن جازب نے تب تک اسے نا چھوڑا جب تک اسکا سانس نا نکلا۔۔۔۔
آخری ہچکیوں تک وہ زمین پر ایڑیاں رگڑتا رہا جب اسکا جسم بے جان ھوا تو جازب خود بھی زمین پر گر پڑا اسکے سانس اکھڑنے لگے۔۔۔۔۔
اپنی ماں کا منتظر چہرہ اسکے سامنے تھا۔۔۔۔۔
پھر نمل کا دلہن بنا سراپا اسکی آنکھوں میں لہرایا نمل اسے اپنے سامنے مسکراتی نظر آٸ۔۔۔۔۔۔
اسکی آواز اسکے کانوں میں گونجی تم یہ جان لیوا کھلونے ہاتھوں میں لے کر خود کو مرد سمجھتے ھو؟؟
بڑا مان ھے نا ان کھلونوں پر جس کے بل بوتے تم لوگوں کی زندگیوں کا سودا کرتے ھو یاد رکھنا کل یہی کھلونے تمھاری تقدیر سے بھی کھیلیں گے اور تمھارا وجود بھی خون سے لت پت کسی روڈ کے کنارے پڑا ملے گا۔۔۔
پھر کسی کی خاموش آھیں اور التجاٸیں اسکے کانوں میں گونج رہی تھیں جازب کی آنکھوں سے آنسو کن پٹیوں پر بہنے لگے
پھر اسکی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ھونے لگیں۔۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
