Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 01)

Bad Bakhat by Arshi Noor

گھر میں داخل ھوتے ہی اس نے غصے سے سبزی کے شاپرز ٹیبل پر پٹخے اور چادر اتار کر اپنی پھولتی سانسوں میں بڑبڑاٸ ۔۔۔

سمجھتے کیا ھیں خود کو یہ بے غیرت جہاں بھر کے منہ اٹھاۓ بازاروں میں دندناتے پھرتے ھیں اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کو اپنی جاگیر سمجھ لیتے ھیں ۔۔۔۔

غصے سے اسکا چہرہ لال ھو رھا تھا ابھی وہ پھولتی سانسیں سنبھال ہی نہيں پاٸ تھی کہ پیچھے سے اسکے کندھوں پر کسی نے ہاتھ رکھے تو وہ ایک دم چونک کے پلٹی۔۔۔

تمممممم اندر کیسے آٸ ؟؟

نمل کے غصیلے لہجے اور بلند آواز سے دبے قدموں اندر آتی بختی سہم گٸ وہ سہمے ھوۓ بولی ۔۔۔

دددددروازہ کھلا تھا مممم میں اسلیۓ اندر آآآگٸ لیکن تمھیں کیا ھواااا؟

نمل سر جھٹک کر بولی کچھ نہيں

بختی اسکی حالت دیکھ کر سمجھ گٸ کچھ ھوا ضرور ھے تبھی جھٹ سے ٹھنڈا پانی لاکر اسکے سامنے رکھا اور خود خاموشی سے اسکے سامنے بیٹھ گٸ۔۔۔

نمل یک دم اٹھی اور رگڑ رگڑ کر اپنے ہاتھ دھونے لگی بختی سمجھ گٸ کہ آج پھر کسی کی شامت آٸ ھے۔۔۔

ہاتھ دھو کر غٹاغٹ اس نے دو گلاس پانی کے پیۓ ۔۔۔۔

بتاٶ تو سہی ھوا کیا ھے بختی نے سوال کیا۔۔۔

کچھ خاص نہيں وہی ھوا جو میرے باہر نکلنے اور کسی کی میرے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ھمیشہ ھوتا ھے

بختی مسکراٸ آج کس بے چارے کی شامت آگٸ تھی ۔۔۔

کیا کہا تم نے بیچارہ ؟؟ تمھارے لیۓ سب بیچارے ھیں نا اور بدمعاش صرف ایک میں۔۔۔

بختی نے مسکراتے ھوۓ ہاں میں سر زور سے ہلایا تو پاس پڑے آلو اسے سر پر کھانے پڑ گۓ۔۔۔

وہ بھاگی اندر کیطرف تو نمل بھی اسکے پیچھے بھاگی وہ بیچارہ تو بچ گیا لیکن تم نہيں بچو گی آج میرے ہاتھوں۔۔۔

خود کو بچاتے ھوۓ بختی جلدی سے بولی یار میرے پوچھنے پر تم نے آلوٶں کی برسات کر دی مجھ پر اس بیچارے کے چھونے پر کیا کیا ھوگا اس پر کونسی بارش ھوٸ چماٹوں کی یا۔۔۔

نمل بھی ھنس پڑی اسکے ساتھ اور دونوں بیڈ پر لیٹ گٸیں۔۔۔

بختی اسکے چہرے کو بغور دیکھتے ھوۓ بولی نمل اتنی ہمت کہاں سے لاتی ھو؟؟ تمھیں ڈر نہيں لگتا ذرا سا بھی کسی نے تمھیں پہچان کر بڑا نقصان پہچانے کی کوشش کی توووو؟؟

مت کیا کرو اسطرح کسی دن کچھ برا تمھارے ساتھ ھو گیا تو؟؟؟

کسی نے بدلہ لینے کی کوشش کی توووو؟؟؟ بختی اسکی جرات پر اکثر گھبرا جاتی تھی

کیا توووو؟؟؟ نمل نے گھور کر پوچھا…

بختی کسی پرانے زمانے کی فکرمند ھوتی دادی اماں والے اسٹاٸل میں بولی دیکھو نمل مرد پر ہاتھ اٹھانا وہ بھی سرِ بازار اچھا نہيں کوٸ اس ذلت کا بدلہ تم سے بہت برے طریقے سے بھی لے سکتا ھے

نمل اسکے ڈرانے والے انداز پر ھنستے ھوۓ بولی۔۔۔

میں تمھاری طرح کمزور یا ڈرپوک نہيں کہ کسی کی زیادتی یا غلطی پر اسے منہ توڑ جواب نا دوں۔۔۔

اور ایک بات بتاؤ اگر تمھیں کوٸ غیر مرد چھووے تو کیا کرو گی

چھونے دوگی اسکو؟؟ کچھ نہيں کہوگی ؟؟؟

اسکے سوال پر بختی ٹھہرے ھوئے لہجے میں بولی نہيں بس اپنی جگہ تبدیل کر لونگی۔۔۔

نمل اٹھ کر بیٹھ گٸ کیوں اتنی بزدل ھو تم؟؟تمھیں تو اس شخص کا منہ توڑ دینا چاھیۓ بظاہر لہجے میں ناراضگی سمو گر وہ مذید بولی

تمھارے جیسی ڈرپوک لڑکیاں ہی ایسے بے شرم مردوں کو شہہ دیتی ھیں۔۔۔

ایسے مردوں سے ڈرنا نہیں چاھیۓ بلکہ انکو ڈرانا چاھیۓ جو بازاروں میں اپنی گندی ھوس کا نشانہ دوسروں کی عزتوں کو بناتے ھیں

ایسے مردوں کو عبرت کا نشانہ بنانا چاھیے پھر نمل نے سرد ھوتے ہاتھ بختی کے اپنے ہاتھوں میں لیۓ۔۔۔

آج جو ہاتھ تمھیں چھونے کے لیۓ بڑھے اسے کاٹ پھینکو تاکہ کل وہ کسی اور کی عزت کو روندنے کیلیۓ نا بڑھ سکے۔۔۔۔

بختی اسکی طرف دیکھ کر بے بسی سے بولی تم یہ سب کر سکتی ھو۔۔۔

نمل غصے سے بولی کیوں تم کیوں نہيں کر سکتی تمھارے ہاتھ ٹوٹے ھوۓ ھیں کیا ۔۔۔

وہ سر جھکا کر بولی نہيں میں نہيں کر سکتی نمل تم بہادری کا مظاہرہ کر سکتی ھو کیونکہ تمھارے پیچھے ایک مضبوط ساٸبان ھے جو ہر جگہ ساۓ کیطرح تمھارے ساتھ رہتا ھے تمھاری حفاظت کرتا ھے تمھاری غلطیوں پر پردہ ڈال سکتا ھے۔۔۔

تمھارے ساتھ غلط ھونے پر تمھارا ساتھ دے سکتا ھے تمھارے سر پر اسکا مضبوط دستِ شفقت تمھاری ہمت بڑھاتا ھے۔۔۔

بختی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے جانتی ھو نمل کسی اپنے کی مضبوط پیٹھ پر سوار ھو تم تمھاری سواری کٹھن راستوں پر بھی رواں دواں رہ سکتی ھے۔۔۔

جبکہ میں۔۔۔ یہاں بختی کے الفاظ اسکے لہجے کی طرح ٹوٹنے لگے۔۔۔

میں بے ساٸبان ھوں میری حفاظت کو نا کوٸ آگے ھے میرے نا پیچھے میری طرف بڑھتے ھوۓ ہاتھ روکے نہيں جا سکتے البتہ میرے ہاتھ توڑے جا سکتے ھیں۔۔۔

وہ اپنی خالی ہتھیلیاں پھیلا کر انہیں تکنے لگی اور ٹپ ٹپ اسکے آنسو اسکی ہتھیلیوں پر ایسے گرنے لگے جیسے قیمتی موتی بے مول ھو کر مٹی میں رلتے ھوں۔۔۔

نمل سے اسکا درد برداشت نا ھوا اس نے اسے گلے سے لگا لیا نا کیا کرو ایسی باتیں کیا میں تمھاری کچھ نہيں لگتی ؟؟

بے یقین سی بختی اسکی محبت میں پورے یقین سے بولی۔۔۔

تمھیں پا کر ہی تو جینے لگی ھوں ورنہ اس ادھ ننگے وجود کی بھوک پیاس مجھے میرے ہی ہاتھوں کب کی مار چکی ھوتی۔۔۔

نمل نے اسکے آنسو صاف کیۓ مایوسی کی باتیں نا کیا کرو اللہ پاک کی ذات بہت رحیم ھے اس نے تمھیں پیدا کیا ھے نا وہی تمھاری زندگی کا مالک ھے وہی تمھارا محافظ ھے وہ کبھی کسی کا برا نہيں چاہتا یہ تو ھم ھیں مایوس سے کمزور ایمان والے ھیں جو اسکی حکمت کو نہيں سمجھتے اور اسے بھول کر خودکو زمانے کی زد میں چھوڑ دیتے ھیں۔۔۔

پھر نمل نے اسکے آنسو پونچھے پگلی وہ تو بہت پیار کرتا ھے اپنے بندوں سے۔۔۔۔

بختی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا کتنا پیار کرتا ھے وہ؟؟؟

نمل اسکی آنکھوں سے چھلکتی مایوسی بھانپ کر نہایت پیار سے بولی میری جان وہ ستر ماوٶں سے بھی زیادہ پیارکرتا ھے اپنے بندوں سے۔۔۔

بختی نے حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں میں نے تو ایک ماں بھی نہيں دیکھی ماں کیسی ھوتی ھے نمل؟؟ بلکل تیرے رب جیسی جسے میں نہيں دیکھ سکتی کبھی بھی۔۔۔

بختی کے اس سوال پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا کیونکہ ماں اس نے بھی نہيں دیکھی تھی۔۔۔

بختی بچوں کیطرح اسکی طرف دیکھ کر بکھرے ھوۓ لہجے میں بولی۔۔۔

نمل اپنے رب سے بول وہ ستر ماوٶں سے زیادہ چاھتا ھے نا اپنے بندوں کو تو کیا میں اتنی بری ھوں کہ اس نے مجھے ایک ماں کے پیار کے قابل بھی نہيں سمجھا اور اسے بھی اتنی دووووور اپنے پاس بلا لیا۔۔۔

نمل کے پاس اسے تسلی دینے کیلیۓ الفاظ ہی جیسے ختم ھونے لگے تھے۔۔۔

بختی اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی ابھی کچھ دیر پہلے تم نے کہا کہ اللہ بہت رحیم ھے مطلب رحم کرنے والا ھے وہ کبھی اپنے بندوں کےساتھ غلط نہيں کرتا۔۔۔

نمل نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

وہ بلکل ایسے انداز سے بول رہی تھی جیسے پاگل بچے ھوتے ھیں۔۔۔ اگر وہ رحیم ھے تو مجھے بےرحم ہاتھوں میں کیوں سونپا؟

اگر وہ سچ میں اپنے بندوں کا برا نہيں چاھتا تو مجھے اتنے برے حال میں کیوں رکھا ھوا ھے اس نے؟؟

بختی کی بےبسی کے بوجھ تلے دبی چیخیں نمل کے کانوں میں کسی دھماکے کی طرح گونجیں جو آس پاس کے سارے ماحول کو کچھ لمحہ بہرہ اور اندھا کر دیتی ھیں۔۔۔

بختی نے نمل کو جھنجھوڑا پوچھ اپنے رب سے پوچھ ناں۔۔۔

نمل بمشکل خود کو سنبھال کر بولی۔۔۔

بختی ایسا نہيں کہتے میری جان تم میرے رب کی ھو کر تو دیکھو وہ سب کچھ تمھارا کر دے گا یہ جہاں کیا دونوں جہاں تمھارے ھونگے تم خود سوال کرو اس سے وہ جواب دیگا تمھیں۔۔۔

بختی نمل کے ہاتھوں میں اب بختی کا معصوم سا چہرہ تھا۔۔۔

وہی تو ھے جو انسان کو درد و غم کے اندھیرے سے راحت کے اجالے میں لاتا ھے بلکل اسطرح جیسے رات کے اندھیرے کو ابھرتے سورج کی روشنی نگل لیتی ھے لیکن پتہ ھے بختی رات جتنی بھی سیاہ کیوں نا ھو سورج اس سیاہ سنسان رات کو اپنی آب و تاب سے روشن کرتا ھے وہ انسانوں کی طرح مایوسی کا لباس اوڑھے نہيں نکلتا اور یہ عمل روزانہ ھوتا ھے کبھی ایسا نہيں ھوا کہ سورج رات سے تھک گیا ھو یارات سورج سے شکوہ کناں ھو۔۔۔

بختی خاموشی سے خشک ھوتے آنسوٶں سے اسے تکنے لگی جو اپنے رب کے نظام کو بڑی خوبصورتی اور اعتماد سے بیان کر رہی تھی

دیکھ بختی میری باتیں اتنی جلدی نہيں آنی تمھاری سمجھ میں کیونکہ تم جن کے زیر سایہ ھو وہ مسلمان نہيں لیکن تمہیں بھی نہيں معلوم کہ تم کس دین پر ھو؟ تمھارا دل انکے پتھر کے خداوٶں کو نہيں مانتا ناں لیکن میں تمھیں اپنے دین پربھی زبردستی نہيں لا سکتی ھمارے مذہب میں جبر نام کی کوٸ چیز نہيں۔۔۔

اللہ نے تمہیں عقل دی ھے نا تو سمجھو اپنے دل کی طرف دیکھو وہ کیا چاھتا ھے؟ کسے قبول کرتا ھے ؟ ان بتوں کو جو بنانے والوں کے محتاج ھیں جن کو یہ بھی نہيں معلوم کو وہ کہاں اور کس مقام پر رکھے جاٸیں گے حتی کہ وہ اپنے اوپر پڑی دھول بھی صاف کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔۔۔

نمل کی باتیں سن کر وہ اپنے درد کی کیفیت سے نکل کر گہری سوچ میں پڑ گئی۔۔۔

بختی تم مجھ سے نا کہو کہ میں اپنے رب سے پوچھوں۔۔۔

وہ تو سب کا رب ھے مسلمانوں کا بھی ھندو، عیساٸ، یہودی ہزاروں مذاہب ھیں ان سب کا بھی وہی رب ھے جو میرا ھے تمھارا دل جسکو قبول کرے اس پر چلو لیکن اپنی عقل کو استعمال کرتے ھوۓ میرا ڈر نا رکھو میں تمھارے رستے کی رکاوٹ کبھی نہيں بنوگی نا تمھیں چھوڑونگی۔۔۔۔

بختی کی آنکھوں میں پھر سے آنسو ستاروں کی طرح چمکنے لگے لیکن ان کے ساتھ روح میں اتر جانے والی مسکراہٹ بھی اسکے لبوں پر پھیلی۔۔۔۔

نمل قدرت کے اس حسین امتزاج کو تکتی رہ گٸ جو بیک وقت اس نے بختی کے چہرے پر دیکھے تھے۔۔۔

وہ گہری سانس لے کر اٹھی میں چلتی ھوں اب انٹی آگٸ تو میری خیر نہيں۔۔۔

نمل نے اسے زور سے جپھی ڈالی آٸندہ میرے سامنے مت رونا۔۔۔

_______

نمل اپنے والد کے ساتھ کچھ عرصہ پہلے بختی کے برابر والے گھر میں شفٹ ھوٸ تھی نمل کے والد حافظ قرآن تھے یہاں آتے ہی وہ حافظ صاحب کے نام سے مشھور ھو گۓ اور نمل اپنے اخلاق کی بدولت سراہی جانے لگی بن ماں کے پلی بڑی تھی وہ لیکن والد نے بہت سلجھے ھوۓ طریقے اور اعلی اخلاق سے اسکی پرورش کی تھی ۔۔۔

جبکہ بختی کس کی اولاد تھی کوٸ نہيں جانتا تھا وہ تین سال کی تھی جب گوپال کی بہن ساوتری نے اسے گود لیا تھا اور چند ماہ بعد اس لاوارث بچی کو اپنے بھاٸ گوپال کے حوالے کر کہ اس دنیا سے چل بسی تھی۔۔۔

گوپال کی بیوی سندرتا دیوی ایک بہت ہی بدمزاج اور ظالم عورت تھی اس نے بختی کو اپنے زیر پرستی لینے سے صاف انکار کر دیا گوپال اپنی مری ھوٸ بہن سے کیا وعدہ نا توڑ سکا دیوی کے لاکھ دھمکانے اور مخالفت کے باوجود اس نے بختی کو پالنے کاعہدکر لیا۔۔۔

دیوی کو وہ ایک آنکھ نا بھاتی تھی حالانکہ شادی کے دس سالوں میں اسکی ایک ہی بیٹی پیدا ھوٸ تھی بندیا جو بختی سے تین سال بڑی تھی۔۔۔۔

دیوی اس تین سالہ معصوم سی بچی پر وہ ظلم کی انتہا کر دیتی تھی گوپال کی غیر موجودگی میں اسے بھوکا پیاسا رکھتی وہ بچی رو رو کر بلک بلک کر سوجاتی اور کبھی بھوک سے پانی پی پی کر پیٹ پھلا لیتی اور روتی رہتی۔۔۔

کبھی وہ اسکے غصے کا نشانا بنتی اور دیوی کے نفرت بھرے طمانچے اپنے ننھےسے معصوم سے چہرے پر کھاتی۔۔۔

اور اکثر پیشاب یا پخانہ کردینے پر دیوی اسے مار مار کر ادھ مرا کر دیتی یا اسے کڑی دھوپ میں بٹھا دیتی۔۔۔

گوپال اسے سمجھا سمجھا کہ تھک گیا تھا لیکن وہ ٹس سے مس نا ھوتی گوپال دیوی کے ظلم سے تنگ آکر اسے کام پر ساتھ لے جاتا تھا

بختی کے گھر میں آنے کے کچھ عرصے بعد دیوی کو امید لگ گٸ دیوی کیلیۓ یہ بہت بڑی خوشخبری تھی دیوی کے زمین پر پاٶں ہی نہيں ٹکتے تھے کیونکہ دس سال بعد اسے امید لگی تھی اور وہ روز بیٹا پیدا ھونے کے خواب دیکھ کر سوتی آخر نو ماہ بعد وہ دن آ بھی گیا لیکن اسکے خوابوں کا گھڑا چکنا چور ھو گیاجب اس نے مردہ بیٹے کو جنم دیا جسکا دکھ وہ برداشت نا کر سکی اور خود کو پیٹ پیٹ کر روتی رہتی اور بختی کو کوستی اور مارتی کہ اس جنم جلی نے کھا لیا اسکے بیٹے کو۔۔۔

ساتھ میں گوپال بھی اسکی لعن طعن خاموشی سے سنتا تھا دکھ گوپال کو خود بھی بہت تھا بیٹے کے مردہ پیدا ھونے پر لیکن وہ اظہار نا کرتا تھا کہ بھگوان نے دیوی کو سزا دی تھی بختی پر ظلم ڈھانے کی۔۔۔

بختی تین سال سے پانچ سال کی ھو گٸ تھی وہ اکیلی تنہا کبھی بھوکی اور کبھی آدھی روٹی کھا کر سوتی کھلے آسمان تلے نا بستر نا تکیہ بس اپنے بازو کو سرہانا بناۓ وہ سوتی اگر گوپال اسے اندر لاتا یا اس بچی کے ڈرنے پر اسے اٹھا لیتا تو وہ رات اسے بھی کھلے آسمان تلے بختی کے ساتھ گزارنی پڑتی اکثر وہ اپنے حصے کا کھانا بچا کر بختی کو دیتا تو دیوی ہتھے سے اکھڑ جاتی لیکن گوپال پراسکی کسی بات کا اثر نا ھوتا۔۔۔۔

بندیا اور پاٸل کے ساتھ جب دیوی کا پیار دیکھ کر معصوم سی بختی اسکے قریب جاتی تو وہ اسے دھکا دے کر پیچھے ہٹاتی جس پر اکثر وہ بہت زور کی گرتی اور پھر دیوی کے ڈر سے بے آواز روتی آنسو اسکے چھوٹے چھوٹے گالوں پر جم جاتے۔۔۔

پانچ سال کی عمر میں ہی اس نے بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھنا سیکھ لیا تھا اور اپنے آنسو چپ چاپ پینا بھی اس چھوٹی سی عمر میں ہی وہ درد سے اتنی آشنا ھو چکی تھی کہ موسم کی سردی گرمی بھی سہہ لیتی یا پھر قدرت نے اس پر اتنا رحم کیا تھا کہ گرمیوں میں اسکے لیۓ آسمان ٹھنڈا اور سردیوں میں زمیں گرم ھو جاتی تھی۔۔۔۔

گوپال کو اس سے بے پناہ محبت ھو گٸ تھی وہ جب بھی آتا گھر سب سے پہلے بختی کا حصہ اسے دیتا گوپال کا بڑھتا ھوا پیار دیکھ کر دیوی نے اب گوپال کو دھمکانا شروع کر دیا کہ اگر وہ بختی سے دور نا ھوا تووہ گھر چھوڑ کے چلی جاٸیگی گوپال مجبور اور لاچار تھا اب وہ بہت چھپ چھپ کر بختی سے پیار کرتا تھا کیونکہ وہ دو بیٹیوں کا باپ بن چکا تھا۔۔۔

دیوی ھمیشہ اسے یہی دھمکی دیتی کہ وہ اسکی دونوں بیٹیاں لے کر روح پوش ھو جاۓ گی۔۔۔

وقت گزرتا رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ نا صرف دیوی کے بلکہ اسکی دونوں بیٹیوں کے ظلم بھی بھڑتے گۓ ۔۔۔

ان سب مظالم کی بھٹی میں بھنتے بھنتے بختی کندن اور سونے جیسی مورت کے ساتھ جوان ھوٸ پل بھر کیلیۓ دیکھنے والے کی آنکھ اس پر ٹھہر سی جاتی تھی ایک عجیب سا سحر تھا اسکی آنکھوں میں جو دیکھنے والے کو گہری سوچ میں ڈال دیتا تھا۔۔۔۔

دیوی اسے مختلف ناموں سے بلاتی تھی منہوس ، بد بخت ، جنم جلی ، ڈاٸن۔۔۔۔

جبکہ بد بخت اسکا نام پک چکا تھا سب کی زبان پر لیکن گوپال ھمیشہ اسے بختی کہہ کر بلاتا تھا۔۔۔

نمل کے ساتھ بھی اسکی دوستی کام کاج کرواتے ھوۓ ھوٸ وہ اسکے گھر کام کیلیۓ آتی تھی وہ بھی صرف دنیا کو دکھانے کیلیۓ اور دیوی جیسی لالچی عورت کا پیٹ بھرنے کیلیۓ جبکہ حقیقت اسکے برعکس تھی بختی روز آتی نمل اسکے ساتھ بہت پیار اور محبت سے پیش آتی اسکے زخموں پر مرہم لگاتی اسے کھانا کھلاتی اپنے کپڑے دیتی اسے پڑھاتی بھی تھی اور حافظ صاحب بھی بختی سے بہت پیار کرتے تھے بختی اور نمل کی بیچ پیار آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتا گیا اور دونوں ایک دوسرے کی جانی دوست بن گٸیں ۔۔۔

______

ھفتے کا دن تھا بختی نے جلدی سے گھر کا کام ختم کیا اور دوڑتی ھوٸ نمل کے پاس پہنچی کیونکہ نمل کا دو دن میں نکاح تھا۔۔۔۔

نمل کے نکاح کا سوٹ اورتمام زیورات سسرال والے دے گۓ تھے اور بختی بہت بے چین تھی کہ وہ نمل کو اس سوٹ میں سب سے پہلے اور فوری طور پر دیکھے کیونکہ اسے دیوی کا معلوم تھا کہ وہ نکاح کی تقریب پر اسے نہيں آنے دیگی۔۔۔

بختی کی ضد پر وہ شرارہ پہننے کیلۓ ڈریسنگ روم چلی گٸ۔۔۔

حافظ صاحب اندر آۓ کمرے میں بختی بیٹا نمل کہاں ھے ؟؟

انکل وہ واش روم میں ھے۔۔۔

اچھا میں کسی کام سے بازار جا رہا ھوں کچھ منگوانا ھے تم دونوں نے تو بتا دو ابھی۔۔۔

بختی نا میں سر ہلاتے ھوۓ بولی نہيں۔۔۔

اور ساتھ میں نمل کی بھی آواز آٸ نہيں بابا جانی فی الحال کچھ نہيں چاھیۓ

وہ بختی کے سر پر ہاتھ رکھ کے بولے بیٹا دروازہ بند کر لینا۔۔۔

بختی اسکی چیزیں دیکھنے میں اتنی مگن تھی کے درواہ بند کرنا بھول گٸ۔۔۔

بختی کے ہاتھ میں نمل کے سونے کےکنگن تھے جسے دیکھنے میں وہ اتنی گم تھی کہ اسے کسی کے اندر داخل ھونے کا احساس ہی نا ھوا۔۔۔

عین اسی وقت سرخ رنگ کا بے انتہا قیمتی شرارہ پہن کر نمل باہر آٸ تو دو نۓ چہروں کو دیکھ کے گھبرا گٸ جو بختی کے پیچھے کھڑے تھے ۔۔۔

بختی بھی نمل کا حیرت سے جھکا منہ دیکھ کر اسکی نگاھوں کا تعاقب کئے پیچھے دیکھا تو فوراً اپنی جگہ سے کھڑی ھوٸ اور ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر جیسے ہی اس نے چیخ ماری تو گھر میں داخل ھونے والے دو مردوں نے انہیں قابو کر لیا بختی اس قدر ڈرپوک تھی ایک منٹ میں انکے قابو میں آگٸ۔۔۔۔۔۔

جبکہ نمل نے اپنی طرف بڑھنے والے کو روکنے کی کوشش کی جو تمھیں چاھیۓ وہ لے جاٶ لیکن آگے مت آنا وہ کہاں سننے والے تھے اسکی بات۔۔۔۔

انکے ہاتھ جیسے ہی نمل کیطرف تیزی سے بڑھے تو وہ انکو دھمکاتے ھوۓ چلائ۔۔۔۔

خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا تو ہاتھ توڑ دونگی میں۔۔۔۔

انکا تیسرا ساتھی جو ابھی اندر داخل ھوا تھا وہ بنا کسی خوف کے نمل کی اٹھتی انگلی دیکھ کر اسکے چلانے پر دانت پیستے ہوئے اسکی طرف تیزی سے بڑھا اور اسے پکڑنے کیلیے جیسے ہی ہاتھ آگے بڑھایا۔۔

تو نمل نے اپنے بے حد قریب آتے ھوۓ اسکے ہاتھ میں پستول کی پرواہ کیۓ بغیر اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا۔۔۔۔

تھپڑ جسکے گال پر پڑا اسکا نام جازب تھا پل بھر تو سبھی سکتے میں آگۓ۔۔۔

بختی کا تو سانس ہی رک گیا کہ وہ کیسے اسے سمجھاتی یا روکتی کہ ہر مرد اسکا تپھڑ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔

وہ بھی ایسی صورتحال میں جہاں تین تین مرد اصلحے سمیت انہی کے گھر میں انکے سر پر کھڑے تھے۔۔۔۔

اپنے منہ پر تپھڑ کھانے کی امید جازب کو بلکل بھی نا تھی وہ بھی اک لڑکی سے۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا غصے سے اس نے نمل کو بالوں سے پکڑ کر پستول اسکے ماتھے پر رکھی اور ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تمھاری اتنی ہمت کہ تم نے مجھے تھپڑ مارا۔۔۔۔

غصے سے اسکا چہرہ بھی لال ھو گیا۔۔۔۔

نمل ذرا بھی نہيں ڈری وہ اس سے بھی زیادہ اکڑ کر بولی کیا کرلو گے تم زیادہ سے زیادہ مجھے جان سے ماروگے نا تو مارو نا اور کر بھی کیا سکتے ھو تم۔۔۔۔

اسکا نڈر پن دیکھ کر جازب کا غصہ مذید بڑھ گیا۔۔۔۔

تم جو لینے آۓ ھو دفعہ ھو جاٶ یہاں سے لے کر اور مجھ سے دور ہٹو وہ نہایت حقارت بھرے لہجے میں زیورات کیطرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔

جازب کو اسکی ھٹ دھرمی اور بہادری پر غصہ بھی آیا لیکن اسکی بے خوفی پسند بھی آئ کہ گن پوائنٹ پر بھی اس نے اک صنف نازک ھو کر بھی اپنی دلیری دکھائ جہاں اچھے خاصے مرد کے حواس بھی اڑ جاتے ھیں۔۔۔

پل بھر وہ اپنے غصے کو دباتا ھوا اسکے مذید قریب ھوکر بولا۔۔۔۔

ویسے تمھارے آگے تو ان زیورات کی کوٸ اوقات نہيں مجھے تو ان سے زیادہ قیمتی تم لگ رہی ھو۔۔۔

اسکے اتنے قریب آنے پر نمل نے اسے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا اور پوری جذباتیت سے جوشیلے انداز میں ان کو سنانے لگی۔۔۔

مرد کہتے ھو خود کو تم؟؟؟

اصلحہ ہاتھ میں لے کر تو ہجڑا بھی مرد بن جاتا ھے تم تو ان ہجڑوں سے بھی بدتر ھو جو بھیس بدل کر اپنا ناچ دکھا کر پیسہ کماتے ھیں نمل کے ایک ایک نقش سے اسکی نفرت چھلک رہی تھی۔۔۔۔

اور تم لوگ اتنے بزدل ھو کہ اپنے زورِ بازوٶں پر بھی اعتماد نہيں کہ دو وقت کی روٹی کما کر کھا سکو دوسروں سے چھین کر کھانے والے بھیڑیۓ ھو تم تمھارے تو مرد ھونے پربھی لعنت ھے۔۔۔

نمل اس بات کی پرواہ کیئے بغیر غصے اور جذبات میں نان اسٹاپ بولے گئ کہ اسکے سامنے ھے کون؟؟؟؟

اسکے ان کو ہجڑا اور نامرد کہنے پر غصہ جازب کے ساتھ اسکے دو ساتھیوں کو بھی بہت آیا ان میں سے ایک بولا۔۔۔

یار دیکھ کیا رہا ھے منہ توڑ اس کا۔۔۔

جازب نے پسٹل ساٸیڈ پر رکھ کر نمل کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کھینچا تو ایک ہی جھٹکے سے وہ اسکے سینے سے آ لگی ۔۔۔

بسسسسس……وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔۔۔۔

اتنااااا سا دم خم تھا تم میں وہ اسے گھبراتا دیکھ کر بولا تھا۔۔۔

نمل بن پانی کے مچھلی کیطرح پھڑپھڑاٸ اسکی بانہوں میں لیکن وہ چٹان جیسے مظبوط جازب کی گرفت تھی جس سے نکلنا نمل جیسی نازک سی ڈالی کے بس سے باہر تھا۔۔۔

جازب کی گرفت اسکے بازؤں پر پہلے سے زیادہ ٹاٸیٹ ھوٸ تو بنا سوچے سمجھے اسکی نیت بھانپ کر نمل نے اسکے چہرے پر تھوک دیا۔۔۔

جازب نے اسے خونخوار نظروں سے ایسے گھورا جیسے ابھی وہ اسے نوچ کھاۓ گا۔۔۔

اس نے ایک جھٹکے سے نمل کو بیڈ پر پھینکا۔۔۔

بختی جو ایک طرف منہ اور ہاتھوں سے باندھی فرش پر بیٹھی ھوئ تھی یہ منظر دیکھ کر بےھوش ھو گٸ کہ اب نمل نہيں بچ پاۓ گی۔۔۔

نمل فوراً دوسرے ساٸیڈ سے بیڈ سے اتر کر واش روم میں بھاگنے لگی لیکن سامنے اسکے جازب شاہ تھا۔۔۔۔

جتنی تیزی سے وہ آگے بڑھی تھی اتنی ہی تیزی سے جازب کو سامنے آتا دیکھ کر اس نے اپنے قدموں کو بریک لگائ۔۔۔۔

اور جازب کے اپنی طرف بڑھتے قدم دیکھ کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔

دیکھو مجھے چھونا مت ورنہ ممممم میں وہ نم ھوتی آنکھوں سے اپنا ڈر چھپاتے ھوۓ بولی اور دیوار سے جا لگی۔۔۔۔

جازب اسکے بہت قریب آیا اور دونوں ہاتھ پورے زور سے دیوار پر مارے جو اسکے کندھوں سے قریب تھے دیوار پر ہاتھ مارنے کی آواز سے دیوار بھی نمل کیساتھ لرزی۔۔۔۔

نمل بری طرح ڈری اسکا رد عمل دیکھ کر ۔۔۔

وہ اسکی بڑی بڑی آنکھوں میں جھانک کر بولا یہ جو تھوک پھینکا ھے میرے منہ پر اسے صاف کرو۔۔۔

نمل بغیر پلک جھپکے بولی کککک کیوں ؟؟؟؟مممم میں کیوں کروں صاااف ؟؟؟

جازب کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ۔۔۔

وہ پھر بہادری کا مظاہرہ کرتی بنا رکے بولی صاف کرنے کیلیۓ نہيں پھینکا گندے ھو گندگی کا ڈھیر سمجھ کے پھینکا ھے۔۔۔

جازب نے اپنے غصے پر قابو پاتے ھوۓ گہری سانس باہر خارج کی اور اسکا دوپٹہ کھینچ کر اپنا منہ صاف کیا۔۔۔

شدید غصے کے عالم میں تھا وہ۔۔۔

نمل نے دونوں ہاتھوں سے اسے دھکا دیکر پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جو اب اسکے بیحد قریب آ چکا تھا۔۔۔۔

جازب دو قدم پیچھے ہٹا پھر یک دم اسکے ہاتھ پکڑے۔۔۔

وہ چلائ چھوڑو مجھے۔۔۔

نانانانانانا۔۔۔۔۔ میڈم جو حرکت تم نے میرے ساتھ کی ھے نا اب تو تمھیں چھوڑا نہیں جا سکتا۔۔۔

جازب کا انداز ایسا وحشیانہ تھا کہ نمل پسینے سے شرابور ھو گٸ۔۔۔

دددددیکھو ممممم میرے ساااااتھ کچھ غلط مممم مت کرنا وووورنہ اچھاااااا ننننن نہيں ھوگا۔۔۔

جازب کے سامنے اسکی آواز پہلی بار کپکپاٸ۔۔۔۔

وہ سر کو داٸیں باٸیں ناں میں ہلا کر بولا صحیح کہا تم نے اب اچھا تو ھو ہی نہيں سکتا جو بھی ھوگا برا ہی ھوگا لیکن۔۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں بے خوفی کے ساۓ خوف میں بدلتے دیکھ کر وہ کچھ توقف کے بعد لاوا اگلتی آنکھوں سے بولا۔۔۔۔۔

لیکن اااااب میری باری ھے۔۔۔۔۔

نمل نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جہاں غصے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ تھا۔۔۔۔

خوف کے مارے اسکے حلق سے تھوک نگلنا بھی مشکل تھا کککک کیا چاااااھتے ھوووو تمممم ؟؟؟

نمل کے سوال پر وہ نہایت کرخت لہجے میں بولا بہت کچھ۔۔۔۔

جازب کا انداز ایسا تھا کہ نمل کی روح تک کانپ گٸ۔۔۔

نمل اپنے جذباتی پن میں ھوش سے کام نا لے سکی اسکی دانست میں یہی تھا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والا عام سا مرد تھا جو اسکا طمانچہ کھا کر شرم کے مارے وہاں سے فرار ھونے میں اپنی عافیت سمجھتا۔۔۔۔

لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا۔۔۔۔

جازب سڑک چھاپ موالی یا غنڈہ نہیں تھا وہ اپنے گروپ کا کمانڈو تھا جسکی ٹریننگ کسی فوجی کمانڈو سے کم نا تھی۔۔۔۔

جس دنیا کا وہ مکیں تھا اسکا ایک نام ایک پہچان تھی۔۔۔۔۔

اپنے کام میں وہ سب سے بارعب ایماندار اور ذہین کھلاڑی تھا کوئ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ھمت نہیں کرتا تھا۔۔۔

اور یہاں نمل نے پہلے تو اسے طمانچہ رسید کیا اور پھر تھوک۔۔۔

اففففففف ایسا تو جازب نے کبھی خواب میں بھی نا سوچا تھا۔۔۔۔۔

نمل اسکے جواب پر بوکھلا کر بولی۔۔۔۔

ایسا کچھ نہيں کرررررر۔۔۔۔۔

ابھی الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے کہ جازب نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور چند سیکنڈز میں ہی وہ ھوش سے بیگانی ھوکر ٹوٹی ھوئ ڈال کیطرح اسکی بانہوں میں جھول گٸ۔۔۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *