Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 30)

Bad Bakhat by Arshi Noor

ڈرو مت مارونگا نہيں میں تمھیں لیکن سزا تو ضرور دونگا میں تمھیں تمھاری اس ھمت اور گستاخی کی جسکی وجہ سے تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا وہ اسے دھمکا کر واش روم میں چلا گیا۔۔

رتابہ کی یہ حالت مایا اور علی کی باتوں سے اور عضد کی زبردستی کرنے پر ھوٸ تھی بہت برا دھچکا لگا تھا اسے عضد کے اس روپ سے جو اب وہ دھارنے کی کوشش کرہاتھا۔۔

رتابہ کے دل میں اپنے ماضی کا خوف ابھی بھی کسی ناگن کیطرح آسن مارے بیٹھا تھا وہ چاہ کر بھی اس رات کے خوف کو ان تین سالوں میں خود سے جدا نا کرسکی تھی

وہ درد وہ ڈر وہ خوف وقت گزرنے کیساتھ ساتھ رتابہ کو اپنے شکنجے میں لیتا رہا۔۔

اسکے ماضی کا کوٸ منظر بھی اسکی نظروں میں دھندلا نہيں ھوا تھا۔۔

ھمیشہ اپنا ماضی یاد آنے پر اسے ان لمحات کی تکلیف بلکل پہلے جیسی محسوس ھوتی تھی اور اسے اب تک اس خوف سے رہاٸ نصیب نا ھوٸ تھی۔۔

اب عضد کا رویہ ایسا دیکھ کر اسکے دل میں عضد کا بھی خوف بیٹھنے لگا تھا وہ اپنی دانست میں سمجھتی رہی کہ عضد نے بھی زبردستی کی تو ایک اور دیان پیدا ھوگ جسے نا دنیا قبول کریگی نا عضد قبول کریگا اور اسکی زندگی مذید عذاب ھوگی۔۔

وہ بہت سادہ دل اور معصوم تھی اس نے میاں بیوی کی محبت کبھی دیکھی ہی نہيں تھی کہ اسے معلوم ھوتا کہ دنیا کا سب سے خوبصورت اور مضبوط بندھن تھا یہ۔۔۔

عضد کی نفرت اور دوری دیکھ دیکھ کر اسکا ذھن اس بات پر پک چکا تھا کہ اگر وہ بدلے کی آڑ میں اسکے قریب آیا تو وہ ظلم اور زیادتی ھوگی کیونکہ عضد کیساتھ اسکی شادی بھی زبردستی کا ہی سودا تھی۔۔

اور زبردستی پر اسے اپنی زندگی کا ایک ہی سبق یاد تھا جس کا جیتا جاگتا نتیجہ دیان تھا وہ عضد کی یہ زیادتی کسی طور قبول کرنے کو تیار نا تھی کہ اب وہ اسکی حیا کی حدوں کو پار کرتا۔۔

اس نادان کو کون سمجھاتا کہ میاں بیوی کے درمیان کسی قسم کا ستر پردہ نہيں ھوتا عضد نے بھی تو اسکو کبھی پیار سے گاٸیڈ نہيں کیا تھا وہ ھمیشہ اسے دھتکارتا تھا۔۔

نا اس نے کبھی کسی کی پیار محبت بھری زندگی دیکھی تھی نا کسی سے کبھی پیار محبت کی رام کہانياں سنی تھیں۔۔

اس نے گوپال نمل اور نرگس کے علاوہ محبت کا کوٸ روپ دیکھا ہی نا تھا اور جن کی محبت دیکھی تھی انکی محبت کے تمام جذبات پاکیزگی سے لبریز تھے۔۔

اس نے شادی شدہ زندگی دیکھی تھی تو صرف گوپال اور دیوی کی جس میں ہر وقت انکی لڑاٸ اور دیوی کا سخت رویہ اور بلاوجہ کی نفرت تھی اور دیوی کی من مرضی کے آگے گوپال کی سر جکھاتی خاموشی۔۔

پھر اس کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی تھی گوپال کی جگہ اس نے خود کو دیکھا اور دیوی کے روپ میں عضد کو پایا تھا شاید۔۔

گوپال اسکی زندگی میں آنیوالا پہلا مرد تھا اور گوپال کے علاوہ اس نے ہر مرد کو خود پر گندی نگاہ ڈالتے ہی دیکھا تھا۔۔

بابو کی زبردستی پھر شہیر اور جمال کی نظریں انکے چھونے کا انداز پھر علی کی جانچتی ھوئ نظریں۔۔

اسکے ساتھ پارلر والی کے گھر میں ھونے والی زیادتی پھر اب کل عضد کی زبردستی اس نے سب کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جن میں عضد بھی شامل تھا اب۔۔

بابو کی زبردستی سے وہ آج اس حال تک پہنچی تھی اب نا جانے عضد کی زبردستی اسے کس حال تک پہنچاتی؟؟؟ عضد سے بھی اسکا دل خوف زدہ ھو گیا تھا۔۔

بڑا مان اور اعتبار تھا اسے عضد پر کیونکہ ایک وہی تو تھا جسے اس نے سب مردوں سے مختلف پایا تھا لیکن یہ کیا عضد بھی اسے بابو اور دوسرے مردوں کے رنگ میں رنگتا ھوا نظر آنے لگا اسکی آس اسکی امید اور اب تو اسکا اعتماد ہی ٹوٹنے کو تھا۔۔

جس جس کے ہاتھ لگتی وہ ہر کوٸ اسے اپنا حصہ سمجھ کر نوچنے کی کوشش کرتا جس کی وجہ سے اسکے دل میں مرد نام کا مطلب اب صرف خوف رہ گیا تھا۔۔

اور اب خود کو نوچنے والے ہاتھوں میں عضد کے ہاتھ بھی اسے شامل لگے وہ بہت بری طرح ٹوٹ رہی تھی اندر سے۔۔

اس سے عضد کا یہ روپ برداشت نا ھو سکا عضد تو اسے دھمکا کر منہ دھونے واش روم میں چلا گیا تھا۔۔

پر رتابہ کی روح بھی اب خوف سے کانپنے لگی تھی کہ ناجانے عضد باہر آکر کیا کرتا اسکے ساتھ ؟؟ ٹینشن میں اسے کچھ سمجھ نا آٸ تو اس نے ساٸیڈ ٹیبل سے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی۔۔

رابی نے اسے ایک بار نیند نا آنے پر نیند کی گولی تھی اور اسکی پوری اسٹرپ اب تک اسکے پاس تھی۔۔

وہ جلدی سے ڈھونڈنے لگی اسکے ہاتھ لگ گٸیں نیند کی گولیاں۔۔

اس نے پورا پتا ہتھیلی پر خالی کیا اور منہ میں ایک ساتھ ساری گولیاں ڈال لیں اور پانی سے گلاس بھرنے لگی۔۔

عضد واش روم سے تولیۓ سے منہ رگڑتا باہر نکلا پہلے تو اسے سمجھ نا آیا کہ وہ کر کیا رہی ھے۔۔

لیکن جیسے ہی زمین پر خالی گولیوں کی اسٹرپ دیکھی تو بھاگ کر وہ اسکے پاس آیا اور پانی کا گلاس اسکے ہاتھ سے چھینا گولیاں وہ منہ میں ڈال چکی تھی۔۔

عضد نے اسکا منہ زور سے پکڑا تھوکو ان کو باہر۔۔

گولیوں کی کڑواہٹ اسکے حلق میں گھلنے لگی عضد نے اسکے منہ میں انگلی ڈال کر گولیاں باہر نکالیں۔۔

عضد پھر اسکے حلق تک انگلی لے گیا اس نے الٹی کی تو گلے میں اترنے والی ایک دوگولیاں بھی باہر نکل آٸیں۔۔۔

عضد کو بے انتہا غصہ آیا اس پر کیا کر رہی تھی تم یہ ؟؟

اسکے دونوں ہاتھ عضد کے ہاتھ میں تھے اب کیوں کھاٸیں یہ گولیاں تم نے ؟؟

وہ بہت تھکے ہارے لہجے میں رو کر بولی نہيں جینا مجھے۔۔۔

عضد نے اپنی گرفت اسکے ہاتھوں پر سخت کی جینا پڑے گا تمھیں اتنی آسانی سے مرنے نہيں دونگا میں۔۔

جینا بھی میرا کونسا آسان ھے وہ رو پڑی۔۔۔۔

عضد اسے وارننگ دے کر بولا آج تو کی ھے یہ حرکت آٸندہ کی تو بہت برا حال کرونگا میں تمھارا۔۔

حال تو اچھا رہا ہی نہيں میرا کبھی نا ھو سکتا ھے اب اچھا وہ مایوسیوں کی اتھا گہراٸیوں میں گر کر بول رہی تھی۔۔

چھوڑ دیں عضد مجھے مر جانے دیں میں اب مذید ایسی زندگی نہيں گزار سکتی۔۔

جہاں کبھی مجھے گھٹیا عورت کبھی دو ٹکے کی لڑکی تو کبھی رکھیل کہا جاتا ھے میں تو رکھیل کا مطلب بھی میں نہيں جانتی تھی لیکن اب معلوم ھوا کہ اس معاشرے میں عورت کو سب سے گندی دی جانے والی گالی ھے یہ اور مایا نے بھی کہا جسم فروش عورت سے بھی گٸ گزری ھوں میں۔۔

اسکا ایک ایک آنسو عضد کو اپنے دل پر گرتا ھوا محسوس ھوا اسوقت۔۔۔

کبھی بدکردار کبھی لاوارث کبھی گندگی کا ڈھیر کبھی گھر سے بھاگی ھوٸ آوارہ لڑکی اتنی ذلت کا بوجھ اب میں مذید نہيں اٹھا سکتی عضد۔۔

اس نے ریت کے ذروں کیطرح بکھرتے ھوۓ لہجے میں عضد کو دیکھا جو اسکے ہاتھ تھامے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

پہلے تو مجھ پر صرف آپ کی انگلی اٹھتی تھی اب تو لوگ بھی آپکے دیکھا دیکھی کھڑے ھوکر مجھے سنگسار کرنے لگے ھیں اپنے لفظوں کے پتھر مار مار کر۔۔

میں بھی آخر انسان ھوں مجھے بھی درد ھوتا ھے مجھے بھی تکلیف ھوتی ھے عضد میرے سینے میں بھی وہی دل دھڑکتا ھے (وہ عضد کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولی) جو آپکے سینے میں دھڑکتا ھے۔۔

علی نے کیا سمجھا مجھے آپکی رکھیل اور مایا کے سامنے میں ذلت بھری داستان ھوں۔۔

کیا کروں میں ایسی زندگی جی کر جسمیں میں آپ کیلیۓ بھی بد چلن لڑکی ھوں اور آپ میرے لیۓ نکاح کے بعد بھی نامحرم۔۔

اسکا لفظ لفظ بین کرتا ھوا اسکے اندر کے درد کی دھاٸیاں دے رہا تھا۔۔۔

اتنا درد اتنی مایوسی تو عضد نے کبھی نا دیکھی تھی اسکے لہجے میں اسکی حالت پر عضد کو بہت رحم آیا۔۔

اسکی طبیعت بھی کافی خراب ھو رہی تھی وہ عضد کے دل پر ہاتھ رکھے مشکل سے کھڑی تھی عضد کے سامنے۔۔۔

رتابہ کے دل سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں جب سے اس نے رکھیل کا مطلب پوچھا تھا گلناز سے۔۔

اسے اب خود سے بھی شرم آنے لگی تھی کہ کن نظروں سے علی اسے دیکھتا تھا ان سب کے رویوں اور باتوں کے سبب وہ اتنی تکلیف میں تھی اور اسوقت بھی بخار سے تپ رہی تھی وہ۔۔

عضد اسکی آخری بات پر صرف اتنا بولا ابھی تو چلو میرے ساتھ نا محرم سے محرم کی کہانی بعد میں دیکھیں گے۔۔

وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بولی مجھے کہیں نہيں جانا۔۔

عضد نے اسے کھینچ کر زبردستی گاڑی میں لا کر بٹھایا وہ رو رہی تھی مسلسل۔۔

عضد روکیں گاڑی مجھے نہيں جانا آپکے ساتھ کہیں بھی۔۔

عضد نے اسے ڈانٹا چپ کر کے بیٹھو۔۔

نہيں رہنا مجھے چپ بھی اگر آپ نے گاڑی نا روکی تو میں چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا لونگی۔۔

عضد کی نظریں سامنے روڈ پر تھیں وہ کرخت لہجے میں بولا اتنی ھمت ھے تو لگا لو چھلانگ۔۔

وہ اسکی دلی کیفیت سے انجان تھا کہ وہ کس قدر بکھر گٸ تھی اپنا اعتبار ٹوٹنے پر زندگی کی آخری جنگ عضد سے لڑنے کی سکت نہيں رہی تھی اسمیں ہار گٸ تھی اب وہ اپنے نصیب سے لڑتے لڑتے اور زندگی سے ہارا ھوا بد بخت انسان کچھ بھی کر گزرتا ھے۔۔۔

اس نے ایک نظر عضد کو دیکھا گاڑی اسپیڈ میں تھی۔۔

اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر جیسے ہی باہر کودنے کی کوشش کی عضد نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا تو وہ پوری اسکی گود میں آگری۔۔

عضد نے بریک لگاٸ تو اسکا منہ اسٹیرنگ سے جا ٹکرایا عضد کے دانتوں سے خون آنے لگ گیا۔۔

اور انکا ایکسیڈینٹ بھی ھونے لگا تھا لیکن عضد کی بر وقت بریک لگانے سے بچے ھو گئی۔۔

عضد کا دل چاہا وہ اسے اٹھا کر بیچ روڈ کے پھینکے پر آس پاس لوگوں کو دیکھ کر اسے چپ رہنا پڑا۔۔

بھاٸ زیادہ چوٹ تو نہيں لگی آس پاس کے لوگ انکی گاڑی کے ارد گرد جمع ھو گۓ۔۔

عضد ٹشو سے اپنا خون صاف کر کے بولا جی نہيں۔۔

ان میں سے ایک بولا یار گاڑی ذرا دھیان سے چلاٸیں۔۔

عضد نے ہاں میں سر ہلا کر دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کی رتابہ اسکے ھونٹوں سے بہتا خون اور آنکھوں سے غصہ ٹپکتا دیکھ کر بلکل ہی خاموش ھو گئ تھی عضد نے گاڑی سیدھا ھسپتال جا کر روکی۔۔۔

اسے ڈاکٹر کو دکھا کر واپس گھر آنے لگا سارے راستے وہ خاموش رہا۔۔

عضد کو چوٹ لگنے پر رتابہ کو بہت دکھ ھوا اسکے ھونٹ ہلکے سے سوجھ گۓ تھے۔۔

گھر لا کر اسے وہ اس پر ھمیشہ کی طرح برس پڑا۔۔

آج جو تماشا تم نے گھر میں اور باہر گاڑی میں کیا ھے نا دل چاہ رہا ھے تمھارا گلہ دبا دوں میں میری زندگی عذاب کر کے رکھ دی ھے تم نے تھک گیا ھوں میں تمھیں ھوسپٹل لا لے جا کر۔۔

کبھی گر جاتی ھو تم کبھی ہاتھ پاٶں زخمی کر بیٹھتی ھو کبھی ڈر کر بیہوش ھو جاتی ھو اور ابھی خود کشی کی کوشش کر کے رہا سہا سکون بھی میرا برباد کرنا چاھتی ھو آخر کیوں یار؟؟؟ وہ پھٹ پڑا تھا اس پر۔۔

آپ بھی مجھے ہر بار بچانے کی کوشش کیوں کرتے ھیں کیوں مجھے مرنے نہيں دیتے؟؟

وہ دانت پیس کر بولا اتنی آسانی سے تو میں تمھیں مرنے نہيں دونگا جو آگ تمھارے نام کی میری زندگی میں لگی ھے نا اس میں تمھیں بھی جلنا ھوگا ساری عمر میرے ساتھ۔۔

اسکے بہتے آنسو دیکھ کر وہ اٹھا یہ ٹسوے بہانا بند کر دو انکا کوئ اثر نہیں ھوتا مجھ پر اور ایک بات میری کان کھول کر سن لو عضد نے جھک کر دو انگلیوں سے اسکی ٹھوڑی اونچی کی۔۔

اگر تم نے دوبارہ خود کشی کی کوشش کی تو یاد رکھنا میں بچا تو لونگا تمھیں کسی بھی قیمت پر لیکن پھرررر وہ ایک پل اسکی آنکھوں میں جھانک کر رکا۔۔

اور اپنا ادھورا جملا مکمل کیا پھر میں ہر اس حد سے گزر جاٶنگا تمھارے ساتھ جن حدوں سے دور میں نے خود کو اب تک حد میں رکھا ھوا ھے۔۔

پھر تمھیں سمجھ آٸیگا نامحرم سے محرم بننا کسے کہتے ھیں اور اسمیں بھی تمھارے لیۓ ہی اذیت ھے۔۔

رتابہ کو اسکی بات سمجھ نا آٸ وہ پلکیں جھپکاتی معصومیت سے عضد کو ایسے دیکھنے لگی جیسے کوٸ طالب علم کام نا سمجھنے پر اپنے استاد کو دیکھتا ھے۔۔

عضد سے اسکا آنکھوں میں سوال لیۓ اسطرح دیکھنا برداشت نا ھوا اسکے اس انداز پر عضد کے صبر کی رگیں چٹخنے لگیں۔۔

وہ اپنا ہاتھ اسکی ٹھوڑی سے پیچھے ہٹاتا سر جھٹک کر جانے لگا لیکن جاتے جاتے پلٹا۔۔

تمھارا تھپڑ نہيں بھولا میں اسکا حساب باقی ھے۔۔

_________________

نمل نرگس سے باتوں باتوں میں مایا کا ذکر کرنے لگی اور عضد کیساتھ اسکے کلوز ھونے کی کہانی بھی سناٸ۔۔

نرگس کچھ پریشان ھوٸ لیکن پھر بولی مجھے عضد پر یقین ھے وہ کبھی غلط قدم نہيں اٹھاۓ گا۔۔

امی بات غلط ھونے کی نہيں ھے مایا بہت شاطر لڑکی ھے اس نے عضد کو اپنی طرف ماٸل کر کے رتابہ کو طلاق دلوا دی تو؟؟

نمل کی بات پر نرگس کا دل زور سے دھڑکا اللہ نا کرے کیسی باتیں کر رہی ھو۔۔

امی میں جب سے وہاں سے ھوکر آٸ ھوں نا تو مجھے ایک ہی خوف کھاۓ جا رہا ھے کیا ھوگا رتابہ کا وہ اپنا سر پکڑے بیٹھی تھی۔۔

عضد اسے کوٸ اھمیت نہيں دیتا زیادتی میں اسکے ساتھ وہ ہر حد سے گزر جاتا ھے اسکے لیۓ رتابہ کا ھونا نا ھونا ایک برابر ھے پھر اس نے شکوہ کناں آنکھوں سے نرگس کیطرف دیکھا۔۔

امی آپ نے اچھا فیصلہ نہيں کیا نا رتابہ خوش ھے عضد سے نکاح کر کے نا عضد کو کوٸ دلچسپی ھے اس رشتے میں ایک چھت کے نیچے وہ دونوں بلکل اجنبیوں کیطرح رہتے ھیں۔۔

نرگس اسے پریشان دیکھ کر بولی تم پریشان مت ھو بیٹا میں نے یہ فیصلہ اللہ پر توکل کر کے کیا ھے اور اللہ کبھی بھی مجھے مایوس نہيں لوٹا سکتا۔۔

وہ ہر چیز پر قادر ھے اس نے جب چاھا وہ عضد کا دل موڑ دیگا رتابہ کیطرف۔۔

امی کب تک اس تسلی اس آسرے میں رہیں گی آپ؟؟ تین سال سے زیادہ وقت گزر چکا ھے اب تک تو عضد نہيں بدلہ آگے کیسے بدلے گا؟؟؟

اپنی زندگی کے کتنے قیمتی لمحات اس نے ضائع کیۓ ھیں مجھے نہيں لگتا کہ اب مایا کے آنے کے بعد انکا رشتہ زیادہ دیر چل سکے گا۔۔

نرگس اسکی بات کا تحمل سے جواب دینے لگی۔۔

نمل بیٹا یہ بات تو تم اپنے ذھن سے نکال دو کہ عضد رتابہ کو چھوڑ سکتا ھے وہ کبھی بھی ایسا نہيں کریگا اس نے اگر چھوڑنا ھوتا تو بہت پہلے چھوڑ چکا ھوتا۔۔

چلیں مان لیا کہ وہ اسے نہيں چھوڑے گا لیکن دوسری شادی تو کر سکتا ھے نا اس حق سے تو ھم اسے نہيں روک سکتے آخر کو کب تک وہ اسطرح زندگی گزارے گا؟؟

جوان ھے امی وہ اور جذباتی بھی کب تک صبر کے کڑوے گھونٹ پیۓ گا نمل ٹینشن سے اپنے ناخن چبانے لگی۔۔

نرگس نمل کی بات سن کر خاموش ھو گٸ۔۔

امی آپ اسے بیٹی بنا کر رکھ لیتیں کہیں اور بیاہ دیتیں لیکن عضد کے سپرد نا کرتیں اسکو وہ اسے ساتھ لیکر نہيں چل سکتا وہ کبھی بھی رتابہ کو قبول نہيں کریگا۔۔

نرگس نے نمل کے سر پر ہاتھ رکھا

میری بچی تم ٹھیک کہہ رہی ھو عضد جوان ھے جذباتی ھے جوشیلا بھی ھے لیکن وہ صابر بھی بہت ھے۔۔

میں جانتی ھوں اسکو اس سے بھی زیادہ میری سپردگی سے وہ غافل تو ضرور ھے لیکن دستبردار کبھی نہيں ھو سکتا۔۔

مجھے رب کریم پر پڑا بھروسہ ھے اس نے ان دونوں کا نصیب ایک ساتھ لکھا ھے تو ان دونوں کو بھی ایک ضرور کریگا اور جب عضد کے دل سے بدگمانی کے بادل چھٹے تو رتابہ اسکی روح میں تحلیل ھو چکی ھوگی۔۔

امی لیکن کب؟؟؟ ایسا نا ھو عضد کی روح میں تحلیل ھونے تک رتابہ کی اپنی روح ہی نکل جاۓ۔۔

_______________

علی رتابہ اور عضد کو لیکر بہت پریشان تھا کیا رشتہ تھا ان دونوں کے بیچ؟؟

عضد سے اسکی اتنی دوری دیکھ کر علی کاذہن یہ قبول کرنے کو تیار نا تھا کہ وہ عضد کی بیوی ھے کچھ نا کچھ راز چھپا ھے انکے رشتے میں یا کسی جھوٹ کی بنیاد پر یا کسی مجبوری کی بناہ پر یہ رشتہ بنارکھا ھے ان دونوں نے۔۔

عضد سے سوال کرنے کی ھمت نہيں تھی اسمیں اور رتابہ تو اس دن کے بعد سے اسکے سامنے ہی نہيں آٸ تھی نا وہ اس سے کچھ پوچھ سکتا تھا۔۔

آج سنڈے تھا انکی چھٹی تھی عضد سو رہاتھا مایا اٹھی اور مارننگ واک کے لیۓ جانے لگی علی بھی اسکے ساتھ چلا گیا مایا کا موڈ آج کچھ بہتر تھا۔۔

تم سے کچھ ڈسکس کرنا ھے یار علی نے چلتے ھوۓ اسے دیکھا تھا۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔

بیٹھ کر بات کرتے ھیں علی کی پیشکش پر وہ دونوں بینچ پر بیٹھے۔۔

یار پتہ نہيں یہ بات مجھے کرنی چاھیۓ یا نہيں لیکن ایک سوال نے مجھے بہت پریشان کر رکھا ھے۔۔

مایا اسکے منہ کیطرف دیکھ کر بولی رتابہ اور عضد کو لیکر اپ سیٹ ھو نا؟؟؟

ہاں یار مجھے نہيں لگتا رتابہ اسکی بیوی ھے۔۔

مایا نے حیرت سے پوچھا کیوں؟؟؟

یار جس دن بارش بہت تیز تھی عضد اسے گود میں لیۓ کہیں باہر سے آرہا تھا آدھی رات کا وقت تھا وہ اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا صبح جب تم آئ تھی تم سے پہلے ھم دونوں کی منہ ماری ھوٸ تھی۔۔۔۔

تم دونوں بھی لڑے تھے لیکن کیوں؟؟ مایا کا لہجہ پر تجسس تھا۔۔۔

یار میں جب صبح اٹھا تو رتابہ کی رونے کی آواز آرہی تھی اسکے کمرے سے وہ چلا رہی تھی کہ چھوڑ دو مجھے خدا کیلیۓ چھوڑ دو مجھے

اور عضد کی مجھے صرف ایک بات سناٸ دی کہ میں نفرت اور بدلے کی انتہا پر بھی تمھیں اس قابل نہيں سمجھتا کہ تمھیں اپنا ھم جسم کروں۔۔

مایا کے بوتل سے پانی پیتے ہاتھ رک گۓ وہ بے یقینی سے علی کو دیکھنے لگی۔۔

پھر عضد غصے سے باہر نکلا تو اسکے منہ پر تھپڑ کا نشان تھا جو یقیناً رتابہ نے مارا تھا میں نے کمرے میں جھانکا تو رتابہ کے تن پر رات والا لباس نہيں تھا عضد کے کپڑوں میں تھی وہ اور بہت بری طرح رو رہی تھی۔۔

مایا حیرت سے بولی ایسا کیسے ھو سکتا ھے یار کہ رتابہ اسے تھپڑ ماریگی اس ڈرپوک سی لڑکی میں اتنی ھمت کہاں وہ تپھڑ کھا سکتی ھے مار نہيں سکتی۔۔

یار ان سب باتوں کو چھوڑو مجھے نہيں لگتا کہ یہ اسکی بیوی ھے علی پورے یقین سے کہنے لگا۔۔

مایا سر ہلا کر بولی مجھے بھی یہی شک ھے کوٸ تو ایسا راز ھے ان دونوں کے بیچ میں جس نے ان دونوں کو اتنی نفرت کے باوجود ساتھ رہنے پر مجبور کیا ھوا ھے۔۔

علی مایا کو دیکھ کر بولا کیسی نفرت؟؟

یار وہ اسے نہيں پسند یہ کہتا ھے کہ اسکی ماں نے زبردستی شادی کی ھے اسکی۔۔

یار ضروری تو نہيں کہ اس نے تم سے سچ بولا ھو علی نے بینچ پر ہاتھ جماۓ اپنے شک کا اظہار کیا۔۔

مایا نے اسے مختصر لفظوں میں سارا قصہ سنایا۔۔

نہيں یار یہ کیسے ممکن ھے عضد اتنا ھینڈسم اور اتنا ھاٸیلی ایجوکيڈٹ ھو کر کسطرح اک لاوارث لڑکی سے شادی کر سکتا ھے؟؟؟ نا ممکن ھے یہ علی کو سب سن کر حیرت کا دھچکا لگا۔۔

اسکے ساتھ زیادہ وقت تو میرا نہيں گزرا لیکن میں نے observe کیا ھے کہ وہ بزنس کی چھوٹی چھوٹی باریکیوں میں بھی جا کر چیک اینڈ بیلنس رکھتا ھے ہر چیز کو سرچ کرتا ھے نظر میں رکھتا ھے جو شخص کاروباری لین دین میں مکمل چھان بین کر کے سوچ بچار کے بعد فیصلہ لیتا ھے تو یہ کیسے ممکن ھے کہ اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ وہ کسی کے کہنے میں آکر کر لے میں نہيں مانتا سچاٸ کچھ اور ہی ھے انکے رشتے کی۔۔

ھمممم مجھے بھی یہی لگتا ھے لیکن محض شک کی بنا پر یہ سب سوچنا بھی بیکار ھے لیکن ان دونوں کے آپس میں تعلقات اور معاملات دیکھیں جاٸیں تو یقین واقعی نہيں ھوتا۔۔

مایا کی بات سن کر علی کے چہرے پر ابھی تک حیرت کے آثار تھے یار اگر وہ واقعی بے سہارا یا مجبور ھے تو ھمیں اسکی مدد کرنی چاھیۓ نا۔۔..

مایا ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ھوٸ نا بابا نا تمہی کر لو اسکی مدد مجھے تو وہ اپنی حرکتوں سے ایک آنکھ نہيں بھاتی۔۔

علی بھی اٹھ کر اسکے ساتھ خاموشی سےچلنے لگا۔۔

مایا علی کی خاموشی پر بولی ویسے مجھے عضد کیساتھ ساتھ تم پر بھی حیرت ھو رہی ھے کہ اتنی ھمدردی تمھیں کیوں ھونے لگی اس سے ؟؟؟

یار بات ھمدردی کی نہيں تم نے کبھی اسے غور سے دیکھا ھے کچھ ایسی خاصیت ھے اسمیں کہ بندہ نا چاھتے ھوۓ بھی اسکی طرف متوجہ ھو جاتا ھے۔۔

مایا کے واک کرتے قدم رکے اس نے گردن موڑ کر علی کیطرف دیکھ کر کہا۔۔

اسے تو میں نے کبھی غور سے نہيں دیکھا لیکن تم پر اب مجھے غور کرنا پڑے گا کیونکہ تمھارے ارادے مجھے کچھ اور ہی لگ رھے ھیں۔۔

علی اسکے گھورنے پر پزل ھو گیا ککک کیا مطلب ھے تمھارا؟؟

یہی کہ کہیں اس نے تم پر کوٸ جادو ٹونہ تو نہيں کر دیا۔۔

نہيں ایسی کوٸ بات نہيں علی نے اپنے قدموں کی اسپیڈ تیز کی۔۔

کہیں اسے تم پسند تو نہيں کرنے لگے مایا اب باقاعدہ اس پر شک کرنے لگی۔۔۔

علی فوراً سٹپٹا گیا جی نہيں ایسی کوٸ بات نہيں۔۔۔

مایا کو ھنسی آگئ کمال کی چیٹر لڑکی ھے یار وہ عضد قابو میں نہيں آیا تو اب تم پر ڈورے ڈالنے لگی ھے اور تم بے وقوفوں کیطرح اسے مظلوم سمجھ کر اسکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔۔۔

یار پلیز اتنا چیپ نہيں میں علی نے خفگی سے کہا۔۔

تمھیں میں نے پہلے بھی وارن کیا تھا کہ بچ کر رہنا اس سے اکثر سادہ اور معصوم صورت والے بہت بڑے دھوکے باز نکلتے ھیں۔۔

مایا نے اسے آنیوالے وقت سے خبردار کیا۔۔

_____________

علی کی نظریں مسلسل رتابہ کی متظر تھی لیکن وہ چار دن ھوگۓ اس واقعے کے بعد ان دونوں کے سامنے نا آٸ۔۔

صبح بھی وہ عضد کا ناشتہ بنا کر اوپر چلی جاتی رات کو بھی ٹیبل پر کھانا لگا ھوا ملتا انکو لیکن رتابہ نظر نا آتی۔۔

عضد اب تک ان دونوں سے ناراض تھا مایا نوٹ کر رہی تھی عضد کو لیکن فی الحال خاموش تھی۔۔

عضد نے گلناز کو آواز دی جاٶ رتابہ کو بلا کر لاٶ۔۔

کچھ دیر میں رتابہ اسکے سامنے تھی علی کی نظریں اسکے چہرے پر جم گٸیں اور مایا کی عضد پر۔۔

ناشتہ کیا ھے تم نے؟؟ عضد کے پوچھنے پر رتابہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔

کل سے یہاں میرے ساتھ بیٹھ کر کروگی ناشتہ تم عضد کا لہجہ حتمی تھا۔۔۔

اس نے سر اٹھا کر عضد کو دیکھا وہ اسے آنکھوں کے اشارے سے کہہ رہا تھا کہ مجھے دوبارہ نا کہنا پڑے۔۔

علی رتابہ کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا ابھی بھی عضد نے چیئر کھینچ کر اسے اپنے ساتھ بٹھایا مایا اسے ناشتے کی ٹیبل پر عضد کے ساتھ دیکھ کر بڑی مشکل سے برداشت کر رہی تھی۔۔

علی پوری کوشش میں تھا کہ کسی طرح وہ رتابہ سے بات کرے لیکن رتابہ اسکی طرف دیکھتی تک نا تھی اس نے کبھی عضد کیساتھ بھی اسے بات کرتے ھوۓ نا دیکھا تھا۔۔

_______________

علی اور مایا ہال میں بیٹھے ھورر مووی انجواۓ کر رھے تھے۔۔

عضد گاڑی کی چابی ہاتھ میں گھماتا اندر آیا علی نے اسے سلام کیا۔۔۔

وہ دل میں ہی جواب دیتا سیدھا رتابہ کے کمرے میں گیا۔۔

وہ نماز پڑھ رہی تھی وہ وہیں اسکے بستر پر لیٹ گیا۔۔

سلام پھیر کر اس نے عضد کوآواز لگاٸ کچھ کام ھے آپکو؟؟؟

ہاں نماز پڑھ لو پوری تم۔۔۔

جی ابھی نفل ہی رہتے ھیں میں پڑھ لونگی آپ بولیں۔۔

نہيں تم پڑھ لو نفل مجھے جلدی نہيں۔۔

رتابہ نے نفل پڑھے اور نماز مکمل کر کے اٹھی جی بولیں۔۔

ڈریس چینج کر کے آٶ نیچے۔۔

کیوں خیریت؟؟؟ اس نے حیرت سے عضد سے سوال کیا۔۔

تمھیں پہلے بھی منع کیا ھے میں نے کہ کیوں ۔۔۔کیا۔۔کب۔۔۔ کہاں والے سوال مت کیا کرو مجھ سے جو کہا ھے وہ کرو۔۔

رتابہ نے اسکے حکم کی تعمیل کی۔۔

عضد فریش ھو کر اپنے کمرے سے نکلا تو رتابہ سامنے ہی کھڑی تھی

وہ اسکا ہاتھ تھامے سیڑھیاں اترا اور ہال سے باہر نکل گیا۔۔

علی مایا کیطرف دیکھ کر بولا یہ کہاں جا رہا ھے اسوقت؟؟

مجھے کیا پتہ مایا نے بظاہر لاپرواہی سے شانے اچکاۓ لیکن وہ دونوں کو ساتھ دیکھ کر پریشان کافی ھوئ۔۔

وہ گاڑی لے کر نکل گیا۔۔

علی اٹھ کر اسکے پیچھے جانے لگا تم کہاں جارھے ھو مایا نے اسے آواز دیکر روکا۔۔۔

اسکے پیچھے جا رہا ھوں یار اتنی رات کو یہ رتابہ کو لیکر کہاں جا رہا ھے؟؟؟

تمھیں اس سے کیا وہ جہاں بھی جاۓ اور تم کچھ زیادہ انٹرسٹ نہيں لینے لگ گۓ رتابہ میں؟؟؟

ایسی بات نہيں یار مجھے اسکی مجبوری پر ترس آتا ھے اللہ جانے کونسی وجہ ھیکہ یہ سب اسے زبردستی کرنا پڑ رہا ھے۔۔۔

عضد کو ذرا بھی بھنک لگ گٸ نا تمھاری سوچ کی تو اس نے تم پر رتی برابر ترس نہيں کھانا اسکا غصہ تم already دیکھ چکے ھو غصے میں وہ اپنے علاوہ کسی کو انسان نہيں سمجھتا۔۔

اور یہ بھی نوٹ کر لو بیٹا جی آج پانچ دن ھوگۓ اس نے پلٹ کر ھمیں دیکھنا بھی گوارا نہيں کیا بہتر ھوگا کہ تم انکے معاملے میں ٹانگ مت اڑاٶ۔۔۔

علی مایا کے سمجھانے پر صوفے پر واپس بیٹھ گیا۔۔

_________________

عضد اسے sea side لے گیا۔۔

گاڑی سے اترتے ھوۓ اس نے خود بھی جوتے اتارے اور رتابہ سے بھی اترواۓ۔۔

سردیاں تھی رات کے دس بج رھے تھے گنے چنے لوگ تھے ساحل پر

رتابہ کو وہ پہلی بار یہاں لایا تھا اتنا بڑا سمندر دیکھ کر رتابہ حیران تھی۔۔۔

برف کیطرح ٹھنڈی چمکیلی ریت پر اس نے آھستہ آھستہ قدم رکھے۔۔۔

آج پہلی بار عضد کے قدموں سے وہ قدم ملا کر چل رہی تھی عضد پانی کے پاس پہنچا۔۔۔

تو خود کیطرف آتی لہروں کو دیکھ کر وہ کنارے پر ہی رک گٸ پہلی بار اس نے سمندر کا یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔

سمندر کا ایک سرا اسکے قدموں میں تھا اور دوسرا آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔

اسکا دل چاہا وہ سمندر کے اس پار چلی جاۓ جہاں وہ آسمان کے ساتھ ملا ھوا تھا لیکن اونچی اونچی موجوں کو دیکھ کر وہ آگے جانے سے ڈری۔۔۔

عضد نے اسکی طرف دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا اسکے چہرے پر بکھرتی لٹیں اور سمندر کی ٹھنڈی ھوا میں آس پاس کا سارا خوبصورت نظارا اسے اپنے سمیت رتابہ کیطرف کھنچتا ھوا محسوس ھوا۔۔

عضد کے مسلسل خاموشی سے اسطرح گھورنے پر رتابہ پزل ھونے لگی۔۔۔

وہ ایک نظر عضد پر ڈال کر پھر نظریں جھکا لیتی پر عضد نے پلک بھی نا جھپکی۔۔

اسکی اسقدر خاموشی اب رتابہ کو کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ جلد ہی عضد کی یہ صلہ رحمی اب بے رحمی میں بدلے گی رتابہ نے کچھ گھبرا کر اپنے درمیان حاٸل خاموشی توڑی۔۔

گھر چلیں۔۔

عضد کو اسے دیکھتے دیکھتے پھر سے تھپڑ یاد آیا وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس سے پوچھے وجہ لیکن رتابہ کے سوال پر صرف ہاں بول کر چل پڑا۔۔

گاڑی عضد واپسی پر بلکل سنسان اور ویران راستے کیطرف لے گیا جہاں نا کوٸ بندہ تھا نا بندے کی ذات رتابہ راستے کو دیکھ کر پریشان ھوٸ کہ یہ راستہ گھر کا نہیں تھا۔۔

عضد نے اس ویرانے میں ایک دم گاڑی کو بریک لگاٸ پھر اسکی طرف رخ موڑا اترو گاڑی سے نیچے اسکی آنکھیں سرخ ھو رہی تھیں۔۔

رتابہ نے باہر سنسان سڑک کو جھانک کر دیکھا پھر بولی کیوں؟؟؟

اترو گاڑی سے نیچے عضد نے اپنا جملہ دوہرایا۔۔

اس نے نا میں سر ہلایا میں نہيں اترونگی یہاں وہ ڈر گئ تھی جانتی تھی عضد کچھ نا کچھ ضرور کریگا اسکے ساتھ۔۔۔۔

عضد گاڑی سے نکل کر اسکی طرف آیا اور اسے کھینچ کر باہر نکالا۔۔

پھر دروازہ بند کرکے اسے دروازے کیساتھ لگایا رتابہ کے شانے عضد ہاتھوں میں تھے۔۔۔

وہ غصے سے اسے گھور کر بولا تم نے مجھے تھپڑ کیوں مارا تھا؟؟؟

رتابہ کے پاس کوٸ جواب نہيں تھا وہ دل ہی دل میں اپنی خیر مانگنے لگی یاخدایا خیر کرنا اسے تھپڑ کہاں سے یاد آگیا۔۔

عضد نے اسے کندھوں سے پکڑے جھٹکا دیا میرے چھونے پر تم نے مجھے تھپڑ کیوں مارا تھا؟؟؟

عضد کی آواز رات کی سنسان تاریکی کو چیرتی ھوٸ رتابہ کے ھوش اڑانے لگی۔۔

مجھے نہيں معلوم وہ رو دینے کو تھی اب عضد کے کیا ارداے تھے اس وقت وہ جاننے سے قاصر تھی لیکن اسکے چہرے کے بگڑتے تیور کسی بڑے خطرے کی علامت ظاہر کر رھے تھے۔۔۔

پھر وہ اپنے الفاظ چبا چبا کر بولا تمھیں نہيں معلوم لیکن مجھے معلوم ھے۔۔۔۔

رتابہ نے عضد کے چہرے کے چڑھتے تیور دیکھ کر جھٹ سے ہاتھ جوڑے۔۔۔

پلیز مجھے معاف کر دیں مجھے خود نہيں معلوم کہ کیوں اور کیسے میرا ہاتھ اٹھا۔۔

آس پاس ویرانا دیکھ کر اسکے ھونٹ خشک ھونے لگے آپ یہاں کیوں لائیں ھیں مجھے پلیز یہاں سے واپس چلیں گھر مجھے ڈر لگ رہا ھے عضد پلیززززز۔۔۔۔

عضد نے اسکے کندھوں سے ہاتھ ہٹاۓ۔۔

اچھا مجھ پر ہاتھ اٹھاتے ھوۓ ڈر نہيں لگا تھا اور نا خود کشی کرتے ھوۓ لگا رتابہ نے اسکو اک نظر دیکھ کر نظریں جھکا لیں وہ اتنا کہہ کر گاڑی میں جا کر بیٹھا۔۔۔

رتابہ نے گاڑی میں بیٹھنے کیلیۓ دروازہ کھولا تو گاڑی لاک تھی۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی عضد نے گاڑی اسٹارٹ کی اور رتابہ کو وہاں چھوڑ کر ھوا کے گھوڑے کیطرح گاڑی بھگانے لگا۔۔۔

رتابہ کی تو جان ہی نکل گٸ وہ پاگلوں کیطرح عضد کی گاڑی کے پیچھے بھاگی۔۔

رکو عضد رک جاٶ وہ دوووور تک اسکی گاڑی کے پیچھے بھاگی۔۔۔

عضدددددد رک جاٶ۔۔۔

چیختی چلاتی وہ بھاگتے ھوۓ منہ کے بل گری روڈ پر عضد رک جاؤ عضدددددد۔۔۔

خوف سے اسکے ھونٹ سفید ھو گۓ اس نے آخری نگاہ عضد کی گاڑی پر ڈالی جو اب اسکی نظروں سے اوجھل ھونے لگی تھی وہ اوندھے منہ ہی گری ھوٸ تھی۔۔۔

چاروں طرف کانٹے دار جھاڑیاں تھیں اور بلکل خالی سنسان بیابان روڈ تھا جہاں کسی جانور کی موجودگی بھی نا تھی۔۔

اس نے اپنے چاروں اطراف خوف سے نظریں دوڑائیں اسکا سانس حلق میں اٹکنے لگا وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکی دم سادھے یونہی اوندھے منہ روڈ پر پڑی رہی اسے اپنے جسم کا ایک ایک حصہ بے جان ھوتا ھوا محسوس ھو رہا تھا اتنا ویران منظر اب اسے اندھیری قبر جیسا لگا۔۔۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی تو اس نے موت جیسی اذیت کاٹی تھی جب عضد اسے طوفانی بارش میں آفس بھول آیا تھا لیکن یہاں یہاں تو آفس نا تھا نا آفس کی دیواریں یہاں تو چٹیل میدان تھا جہاں اسے کوئ درندہ زندہ بھی نگل لیتا تو کسی کو کان و کان خبر نا ھوتی۔۔

خوف کے مارے بے جان ھوتے وجود سے اس نے روتے ھوۓ آسمان کیطرف دیکھا یا اللہ اس نے بلند آواز میں چیختے ھوۓ اللہ کو پکارا۔۔۔

یا رب۔۔ کے لفظ اسکے منہ میں ہی تھے کہ عضد کی گاڑی واپس اپنی طرف آتی دیکھی وہ فل اسپیڈ میں تھا۔۔۔

رتابہ کو لگا عضد کی گاڑی اسکے اوپر سے گزرے گی لیکن ایک دم اسکے بہت پاس پہنچ کر گاڑی کو بریک لگی اور گاڑی کے ٹاٸروں کی چرچراہٹ چاروں طرف گونجی۔۔

مٹی اڑ کر رتابہ کو گرد آلود کر چکی تھی۔۔۔

عضد باہر نکل کر اسکے پاس آیا اور پنجوں کے بل بیٹھا کیسا محسوس ھوا ان چند منٹوں میں؟؟؟

وہ اٹھ کر بمشکل بیٹھی اسکی سانس ابھی تک رکی ھوئ تھی۔۔

عضد اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا درد ھو رہا ھے نا بس نہيں چل رہا کہ پھر سے مجھے تھپڑ مارو۔۔

وہ اسکی کیفیت پر ھنسا تھا پھر آرام سے سر ہلا کر بولا۔۔

ایسے ہی تکلیف مجھے بھی ھوٸ تھی جب تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا میرا بھی بس نہيں چل رہا تھا کہ میں کیا کر جاتا تمھارے ساتھ۔۔۔

وہ اپنی سست رفتار دھڑکنوں کو سنبھالتی حیرت سے آنکھیں پھاڑے عضد کو دیکھ رہی تھی۔۔

اور میرے چھوڑ کر اسطرح اس ویرانے میں جانے سے تمھیں اپنی جان نکلتی ھوٸ محسوس ھوٸ نا اب نظریں رتابہ کے لٹھے جیسے سفید ھوتے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔۔۔

بلکل ایسے ہی مجھے بھی اپنی جان نکلتی ھوٸ محسوس ھوٸ تھی جب تم نے اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی۔۔۔

رتابہ کی رکتی سانسیں اب تیز ھونے لگیں لمبے لمبے سانس لیکر سسکیوں سے رو رہی تھی وہ۔۔۔

عضد نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اٹھایا وہ چپ چاپ عضد کے ہاتھ پکڑنے پر مرتے قدموں کیساتھ گاڑی میں بیٹھی پھر شیشے سے باہر جھانک کر دونوں ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھنے لگی۔۔۔

اسے اب تک یقین نہيں آرہا تھا کہ عضد لوٹ کر آیا ھے اور اسکے ساتھ ھے۔۔۔

عضد بہت ریش ڈرائيونگ کر رہا تھا اتنی کہ اسکے ٹاٸروں کی چرچراہٹ کار کے بند شیشوں میں بھی سناٸ دے رہی تھی۔۔۔

عضد نے ایک نظر اس پر ڈالی جو خوف سے کانپتے ھوۓ اب بھی سسک رہی تھی۔۔۔

آٸندہ کسی مرد پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی مت کرنا اور نا ہی خود کشی کی کوشش کرنا جتنی اذیت تمھاری ان حرکتوں سے مجھے ھوگی تمھیں بھی اتنی ہی اذیت سے دوچار ھونا پڑیگا۔۔۔

عضد اسے بارآور کرانا چاھتا تھا کہ اسکی جداٸ عضد کے لیۓ جان لیوا تھی اب اور وہ دوبارہ اپنی جان لینے کی غلطی نا کرے۔۔

گھر آکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

رتابہ بے جان قدموں کیساتھ گاڑی سے باہر نکلی علی جاگا ھوا تھا۔۔

عضد کی گاڑی کی آواز سن کر اپنے روم سے باہر آیا۔۔

رتابہ کا دوپٹہ ایک طرف لٹک رہا تھا ننگے پیروں کیساتھ وہ خود کو گھسیٹتی ھوٸ سیڑھیاں چھڑھنے لگی چہرہ اور کپڑے مٹی دھول سے بھرے ھوۓ تھے۔۔۔

علی اسکے پیچھے آیا۔۔۔

وہ چڑھتے چڑھتے سیڑھیوں سے لڑکھڑاٸ تو علی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا کیا ھوا ھے تمھیں؟؟؟ رو کیوں رہی ھو اور یہ ہاتھ تمھارے برف کیطرح ٹھنڈے کیوں ھو رھے ھیں؟؟؟

اسکی خاموشی پر علی فکر سے بولا عضد کہاں ھے؟؟

رتابہ کیا جواب دیتی اسکے ایک ہی سانس میں پوچھے گۓ سوالوں کا اس نے علی سے اپنا ہاتھ کھینچ کر چھڑایا اور اپنے کمرے میں چلی گٸ۔۔۔

علی وہیں کھڑا سوچتا رہ گیا کہ کیا ھوا تھا آج پھر انکے بیچ رتابہ کیوں سسک سسک کر پھر رو رہی تھی۔۔

کہاں لیکر گیا تھا وہ اسکو اور کیا کیا تھا اس نے اس لڑکی کیساتھ ؟؟

علی کا دل چاہا وہ رتابہ کے بہتے ھوۓ ایک ایک آنسو سے اسکے بہنے کی وجہ پوچھے کہ کیوں اور کیسے وہ عضد کی زندگی میں آٸ عضد کیساتھ کیسا رشتہ ھے اسکا کوٸ رشتہ ھے بھی یا نہيں؟؟؟

ایسی کونسی کمزوری ھے عضد کے پاس اسکی جس پر وہ اسے اتنی اذیت دیتا ھے اور وہ اسکا ہر درد ہر اذیت چپ چاپ جھیلتی رہتی ھے۔۔

وہ وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر گھنٹوں سوچتا رہا بہت بے چین ھو گیا تھا وہ رتابہ کو اس حالت میں دیکھ کر۔۔۔

________________

رتابہ صبح عضد کے سامنے بھی نا آٸ وہ خود اسکے کمرے میں گیا۔۔

وہ سو رہی تھی یا عضد کو دیکھ کر سونے کا ناٹک کر رہی تھی۔۔

عضد نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو ڈر کر جھٹ سے اس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔

عضد کی نظریں اسکے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔۔

رتابہ سوالیہ نظروں سے عضد کو دیکھنے لگی کہ اسکے جیسا پتھر دل شخص اب کس بات کے بدلے اسے پھر ستانے آیا تھا۔۔۔

آٸ ایم سوری۔۔

عضد کے منہ سے سوری کا لفظ سنکر وہ تو جیسے سکتے میں آ گئ تھی۔۔۔

رات کو جو میں نے کیا اسکے لیۓ سوری۔۔۔

عضد کا یہ رویہ اسکے لیے بلکل نیا تھا وہ آنکھیں پھاڑے خشک حلق سے اسے تکے گئی۔۔

کبھی اسکے لہجے میں شہد جیسی مٹھاس تھی اور کبھی وہ نیم اور حنظل کیطرح کڑوا تھا۔۔۔

کبھی ابر کے ساۓ جیسا پرسکون

اور کبھی لاوے کیطرح ابلتا ھوا اسے جلاتا ھوا۔۔۔

وہ عضد کے کونسے روپ کا پوری طرح یقین کرتی پل میں ماشا پل میں تولہ والا حساب تھا اسکا۔۔

_______________

عضد کا رتابہ کیطرف بڑھتا رحجان دیکھ کر مایا بڑی مشکل سے برداشت کر رہی تھی یہ سب اپنے نظرانداز ھونے سے بھی زیادہ تکلیف اسے رتابہ کو اھمیت دینے پر ھو رہی تھی۔۔

عضد کے ساتھ اسکا ناشتہ اور رات کا کھانا پھر اب عضد کا رتابہ کو رات میں اپنے کمرے میں لے جانا اسکے صبر کا پیمانہ لبریز کر رہا تھا وہ ہال سے اٹھ کر دندناتی ھوٸ اپنے کمرے میں گٸ۔۔

عضد رتابہ کے روم میں تھا سنو۔۔۔

جی۔۔۔۔

میرے کمرے میں آکر سویا کرو اب یہاں سونے کی ضرورت نہيں تمھیں۔۔

وہ انکار نا کر سکی جانتی تھی اسکے بگڑنے میں دیر نہيں لگے گی چپ چاپ اسکے پیچھے چل پڑی

عضد نے اسے بیڈ کے ایک طرف لیٹنے کا اشارہ کیا تو وہ ہونقوں کیطرح اسکا منہ دیکھنے لگی۔۔

تم سے کہہ رہا ھوں دیواروں سے نہيں اوپر لیٹو سردی ھے نیچے لیٹو گی تو بیمار ھو جاٶ گی۔۔

اب عضد کی موجودگی پر رتابہ کے چہرے پر کوٸ اطمینان کوٸ سکون نہيں تھا بلکہ خوف و ہراس تھا۔۔۔

اسکی ھوائیاں اڑتی دیکھ کر عضد نے لب بھینچے اپنی مسکراہٹ روکی ڈرو مت کچھ نہيں کرونگا تمھارے ساتھ۔۔۔

وہ تکیہ لے کر لیٹ تو گٸ عضد سے کچھ فاصلے پر لیکن وہ پوری رات سو نا سکی۔۔

کیسی بے سکونی بھر دی تھی اس نے رتابہ کے دل میں کہ وہ ھمیشہ اسکی موجودگی میں پرسکون سوتی تھی کہ وہ عضد کی پناہوں میں ھے۔۔۔

لیکن آج کیوں اسکا دل عضد کی پناہ نہيں بلکہ عضد سے پناہ مانگ رہا تھا کہ اچانک اٹھ کر وہ پھر سے اس سے تھپڑ کا یا خود کشی کا بدلہ نا لے عضد دن بھر کا تھکا ہارا سو گیا تھا۔۔۔

رتابہ بار بار سر اٹھا کر عضد کو ایک نظر دیکھتی کہ کہیں وہ نیند سے بیدار تو نہیں ھوا۔۔۔

عضد تو نا جاگا لیکن رتابہ کی پوری رات اپنی نگہبانی میں جاگتے ھوۓ گزر گٸ۔۔

________________

رتابہ کچن کی صفائی ستھراٸ میں مصروف تھی گلناز کپڑے دھو رہی تھی۔۔۔

عضد کسی کام سے کچن میں آیا تو رتابہ اسٹول پر کھڑی کچن کی دیواریں کپڑے سے رگڑنے میں گم تھی۔۔۔

عضد نے اسے پکارا کیا کر رہی ھو تم گلناز کہاں ھے؟؟؟

وہ ایک دم عضد کی آواز پر ڈری پھر آہستہ سے گردن موڑ کر کہا کپڑے دھو رہی ھے رتابہ کی طرف سے جواب مختصر آیا۔۔۔

تم کیوں کر رہی ھو یہ صفائ ستھرائی تمھارا کام تو نہیں یہ عضد کا لہجہ ملائم تھا۔۔۔

وہ اسٹول پر نہيں چڑھتی اسے ڈر لگتا ھے رتابہ نے نیچے کھڑے عضد کو آرام سے جواب دیا۔۔۔

تمھیں ڈر نہيں لگتا گر گٸ تو ہڈی پسلی ایک ھوجانی ھے تمھاری اترو نیچے جلدی سے اب اسے ڈپٹ کر کہا۔۔۔

تو کون کریگا؟؟؟ جواب معصومیت سے آیا۔۔۔

میں کیا کہہ رہا ھوں تم نیچے ارترو جلدی سے۔۔

عضد کا حکمانہ رویہ دیکھ کر وہ اسٹول پر بیٹھ گٸ اترنے کیلیۓ۔۔

عضد نے آگے بڑھ کر اسے ہاتھ دیا آرام سے اترنا اب۔۔۔

اتر جاٶنگی میں آپ رہنے دیں عضد نیچے اسکے پاس ہی کھڑا تھا آٹھ فٹ لمبے اسٹول پر چڑھی ھوٸ تھی عضد کو ڈر تھا وہ گر نا جاۓ اور وہی ھوا اترتے ھوۓ اسکی شرٹ اسٹول کی لکڑی سے پھنسی تو وہ اپنا بیلنس برقرار نا رکھ سکی۔۔

اور سیدھا فرش پر ڈھیر ھوتی لیکن عضد نے اسے پکڑ لیا اتنی اونچائی سے عضد کے سامنے گرنے کے ڈر سے اس نے آنکھیں بند کر لیں اور کچھ لمحوں بعد بند آنکھیں کھولیں تو خود کو عضد کی بانہوں میں پایا۔۔

رتابہ کی پھولتی سانسیں عضد کی سانسوں سے ٹکرانے لگیں اور پھڑپھڑاتے دل کی دھڑکنیں عضد کی دھڑکنوں کیساتھ ساتھ دھڑکنے لگیں۔۔۔

عضد کی بانہیں اسکی کمر کو گھیرے ھوۓ تھیں وہ زیادہ دیر عضد کی آنکھوں میں جھانک نا سکی۔۔۔

اپنی گھنیری پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا پھر جھکا کر بولی چھوڑیں مجھے۔۔۔

چھوڑنے کیلیۓ تو تمھیں نہيں تھاما عضد اسکی جھکی نگاھوں کو دیکھ کر بولا۔۔۔

تو کیا ایسے ہی مجھے پکڑے کھڑے رھیں گے چھوڑیں مجھے رتابہ عضد کے انداز پر پزل ھو رہی تھی۔۔۔

میرے چھوڑنے پر دوبارہ گر گٸ تووووو عضد نے دبی دبی مسکراہٹ میں پوچھا۔۔۔

نہيں گرونگی آپ چھوڑیں۔۔۔

اسکے کہنے پر عضد نے آھستہ سے اپنی بانہوں کی گرفت ڈھیلی کی تو وہ پھر سے نیچے گرنے کے ڈر سے عضد سے لپٹی۔۔۔۔

کیونکہ اسے عضد نے اپنی بانہوں کا سہارا دے رکھا تھا اسکے قدم زمین پر نہيں تھے۔۔۔

عضد اسکے لپٹنے پر ھنس پڑا چھوڑوں پھر سے؟؟؟ آہستہ سے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔

اس نے جلدی سے نا میں سر ہلایا پھر عضد کا کھلکھلا کر مسکراتا چہرہ اسکی آنکھوں میں اتر کر مسکرانے لگا۔۔۔

اسکے ھونٹوں پر بھی اپنے آپ مسکراہٹ پھیل گٸ عضد اسکی مسکراہٹ میں کھو سا گیا۔۔۔

لان میں بیٹھی نیل پالش لگاتی مایا انکا یہ منظر دیکھ رہی تھی عضد اسے باہر لان میں دیکھ کر ہی کچن میں رتابہ کے پیچھے آیا تھا۔۔۔

جاری ھے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *