Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 33)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 33)
Bad Bakhat by Arshi Noor
تو تم لوگوں کے گھروں میں کام بھی کرتی تھی۔۔۔
نہيں کام نہيں کرتی تھی بس دو چار دن کیلیۓ گٸ تھی انکے گھر۔۔
آگے عضد بولا اور دو چار دن میں ہی آنکھیں بھی چار کر لیں تم نے اس سے۔۔
رتابہ عضد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بنا کسی ہچکچاہٹ کو بولی
آپ نے اسکا جملہ نہيں سنا تھا کہ میں اسکا دیکھنا بھی گوارا نہيں کرتی تھی۔۔
عضد نے کافی کڑے تیور سے اسے گھورا۔۔۔
آپ نے مارنا ھے مجھے ہاتھ اٹھانا ھے نا تو مار لیں آپ۔۔وہ دو قدم عضد کے قریب ھوئ۔۔۔
بلکہ ایسا کریں مار ہی ڈالیں۔۔۔
عضد اسکا منہ اپنی انگلیوں میں پکڑے بولا اور کون سے راز چھپا رکھے ہیں تم نے؟؟؟
آپ یہی سننا چاھتے ھیں نا کہ میں گوپال ماما کے گھر سے بھاگی تھی کسی کے ساتھ؟؟؟ اس راز سے چاہتے ہیں آپ کہ میں پردہ اٹھاؤں تو کیا آپ یقین کریں گے مجھ پر؟؟؟؟
عضد نے اپنی انگلیوں کی گرفت اسکے جبڑے پر ڈھیلی کی کیونکہ وہ غصے سے بپھری ھوئ لگ رہی تھی۔۔۔۔
آپ جو سوچ رھے ھیں ایسا نہيں ھے عضد۔۔
نمل آپکو بتا چکی ھے سب اسکے سامنے تھی میری زندگی میں چاہتی تو جھوٹ بول سکتی ناں۔۔۔
آپ سے بھی امی سے بھی لیکن میری بولی ھوٸ ہر بات پر سچاٸ کی مہر نمل کی صورت لگ کر بھی آپکو یقین نہيں آتا تو اب کیا کروں میں؟؟ وہ گھٹتی ھوئ آواز کیساتھ چلا رہی تھی۔۔۔
رتابہ کی آواز کافی بلند تھی اور رد عمل بہت شدید تھا۔۔۔
میں نے کبھی لوگوں کے گھروں میں کام نہيں کیا تھا کچھ دن مسز جمال کے یہاں گٸ تھی وہاں سے انہوں نے مجھے لاہور زارا آپی کے پاس بھیجا۔۔۔
جہاں سے میں آپ تک پہنچی میں بھاگی ضرور تھی لیکن کسی مرد کیساتھ نہيں۔۔۔۔
بلکہ ان مردوں سے بچنے کیلیۓ بھاگی تھی جو مجھے باری باری نوچ کر کھانا چاھتے تھے ایک تو میری حیا سے کھیل چکا تھا باقیوں سے مجھے بچنا تھا اسلیے بھاگ کر آپکی گاڑی میں پناہ لی تھی۔۔
عضد سانس روکے اسے دیکھے گیا۔۔
عضد میرے ساتھ جو کچھ اس رات ھوا مجھے اسکا کچھ علم نہيں کون تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟؟
مجھے تو یہ بھی نہيں معلوم تھا کہ وہ میرے ساتھ کیا کر رہا ھے اور کیوں کر رہا ھے؟؟؟ اس بات پر اسکے رونگٹے کھڑے ھو گئے کرب کی لہریں اسکے چہرے پر پھیل گئی تھیں۔۔۔
وہ روتے روتے عضد کے بہت قریب آگٸ تھی۔۔۔
مجھے نہيں معلوم دیان کیسے پیدا ھوا اور کیوں ھوا؟؟یہاں اسکا لہجہ بکھرے ھوۓ ذروں کیطرح تھا۔۔۔
ساری زندگی میں نے بس دیوی انٹی اور گوپال ماما کے چھت تلے گزاری ھے گوپال ماما کو میں کب کہاں کیسے ملی مجھے کچھ پتہ نہيں
اور مجھے اپنی پوری دنیا صرف گوپال ماما میں نظر آتی تھی۔۔
انکی شفقت انکی محبت میں میری زندگی سارا وقت گزرا اور انکے گھر سے باہر نکلی تو صرف نمل کے گھر تک اٹھے میرے قدم۔۔۔
باہر کی دنیا۔۔۔
رشتوں کی حقیقت۔۔۔
دنیاداری۔۔۔
کونسا رشتہ کتنا اٹوٹ اور کتنا کچے دھاگے جیسا ھے مجھے کچھ علم نہيں ان سب باتوں کا۔۔
بس اتنی سی حقیقت ھے میری
گزرے وقت کی کڑواہٹ اب اسکے لہجے میں گھل رہی تھی۔۔۔
اگر آپکا دل قبول نہيں کرتا تو کہیں مر کر دکھا دوں؟؟؟ آنسو روانی سے اسکے گالوں پر بہہ رھے تھے۔۔۔
عضد نے اسکا چہرہ اب کی بار نرمی سے ہاتھوں میں لیا۔۔۔
تمھارے ماما نے تمھیں مسز جمال کے یہاں کیوں بھیجا تھا؟؟
اس نے اپنے آنسو صاف کیے پھر گلوگیر لہجے میں بولی یوی انٹی کی دوبیٹیاں تھیں۔۔۔
انکے رشتے کیلیۓ جو بھی گھر آتا مجھے پسند کر کے جاتا تھا۔۔۔۔۔۔
دیوی انٹی اور انکی بیٹیاں بہت ھنگامہ برپا کرتی تھیں۔
اور وہ مجھے مذید کسی صورت گھر میں رکھنے کو تیار نا تھیں
اسلیۓ ماما جی مجھے لے گۓ تھے گھر سے۔۔۔
نمل سے تم نے شادی کا جھوٹ کیوں بولا؟؟؟
کیونکہ جس حقیقت کے کرب سے میں اور میری بدولت آپ گزر رھے ھیں میں نہيں چاھتی میرے اس درد کی وہ بھی ساتھی بنے میں اسے اتنی تکلیف نہيں دے سکتی نا وہ برداشت کر پاٸیگی اسلیۓ نہيں بتایا۔۔
پھر اس نے شکوہ کناں آنکھوں سے عضد کو دیکھا اور آپ کیا چاھتے ھیں میں اپنی اس شرمناک حقیقت کا لیبل لگا کر گھوموں کہ میرے ساتھ ریپ ھوا تھا میری عزت لوٹی گٸ تھی یا یہ بتاٶں بقول آپکے
کہ میں کسی کے ساتھ بھاگ گٸ تھی اور دیان میری ناکام محبت کی نشانی ھے؟؟
عضد بلکل خاموشی سے اسے دیکھتا رہا جسکی آنکھوں سے بہنے والا ایک ایک آنسو خود بھی اپنے اندر رو رہا تھا۔۔
اسکا لہجہ اتنا درد ناک تھا کہ عضد کی آنکھوں میں بھی آنسو چمکنے لگے۔۔۔
پھر یک دم وہ ہاتھ جوڑ کر بولی عضد مجھے اتنا گھٹیا نا سمجھیں
جو الزام مجھ پر لگاتے ھیں میں تو اس الزام کے مطلب سے بھی انجان ھوں۔۔۔
وہ ایک قدم مذید عضد سے قریب ھوئ اب اسکی سسکیاں عضد کو اپنے اندر اترتی محسوس ھوئیں۔۔
عضد میں نے محبت جتنی سمجھی یا دیکھی وہ صرف ماما جی پھر نمل اور پھر آپکی امی تک سمجھی میرے نزدیک محبت کا کوٸ دوسرا روپ نہيں۔۔۔
کوٸ دوسرا رنگ نہيں سوا ان تین پاکیزہ رشتوں کے۔۔۔
اسکا چہرہ اب بھی عضد کے ہاتھوں میں تھا اسکے آنسو مسلسل عضد کی ہتھیلیاں بھگو رھے تھے۔۔۔
میں بے بس لاوارث اور بے گھر ضرور ھوں لیکن میں بدکردار نہيں اسکے الفاظ اب عضد کا دل چیرنے لگے تھے۔۔۔
میں نے آج تک آپ سے کسی بات کا تقاضا نہيں کیا
کوٸ گلہ نہيں کیا
نا کبھی کوٸ حق جتایا ھے
نا آپ سے آپکی توجہ مانگی ھے
اور نا کبھی محبت
میں نے تو آپکی نفرت کی بھی قدر کرتی ھوں کہ کسی قابل تو ھوں نا آپکے لیۓ چاھے نفرت ہی سہی۔۔۔
اسکے الفاظ بھی اب اسکی آھوں میں بدل گۓ تھے وہ رک رک کر بولنے لگی ایسے جیسے سانس رک رہا ھو۔۔۔
میں آپکو منع نہيں کرتی آپ نفرت کریں مجھ سے ہر انتہا سے گزر کر
لیکن مجھے میرے کردار کی انتہا سے ناگرایا کریں بار بار۔۔۔
میں تھک گٸ ھوں عضد
میں تھک گٸ ھوں اب
عضد کا دل چاہا وہ اسے گلے سے لگا لے لیکن یہاں بھی اسکی انا اسکے آڑے آئ۔۔۔
لیکن اسکا چہرہ خود سے بہت قریب کرتے ھوۓ کہا نفرت نہيں کرتا میں تم سے بس اس حقیقت سے نفرت ھے مجھے جو تمھارے ساتھ جڑی ھے۔۔۔
_______________
رتابہ اپنے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی مایا بڑے آرام سے اسکے کمرے میں آٸ اور اسکے پیچھے صوفے پر بیٹھی۔۔۔
رتابہ نے سلام پھیر کر حیرت سے اسے دیکھا کہ وہ آج کیسے اسکے کمرے میں آگٸ؟؟
حیران ھو رہی ھو مجھے کمرے میں دیکھ کر وہ اسکے گھورنے پر بولی۔۔۔۔
نہيں۔۔ رتابہ اٹھ کر جاۓ نماز طے کرنے لگی۔۔۔
تم سے کچھ پوچھنے آٸ ھوں۔۔۔
جی بولیں رتابہ کا لہجہ بلکل سادہ تھا لیکن وہ من ہی من میں ڈر رہی تھی کہ نا جانے مایا کیا کہنے آئ ھے؟؟؟
جو ھمیں شاپنگ مال میں ملا تھا وہ ماضی تھا تمممم؟؟
پلیز مایا رتابہ نے اسے ٹوکا کچھ اور پوچھنا ھے تو پوچھیں۔۔۔
برا لگ رہا ھے میرا سوال اسکے ماتھے پر بل ابھرے کبھی سوچا ھے عضد کو کتنا برا لگا ھوگا؟؟؟
اسے جواب دے دیا تھا میں نے رتابہ نے بڑی مشکل سے لہجہ نارمل رکھا تھا اسکی بات سن کر۔۔۔
یار ویسے ھو تم بڑی ہی ڈھیٹ قسم کی لڑکی عزت نفس نام کی تمھارے نام کی کوٸ چیز ہی نہيں۔۔۔
رتابہ خاموش رہی۔۔۔۔
اتنا ذلیل کرتا ھے وہ تمھیں مارتا بھی ھے شک بھی کرتا ھے تم پر اور تمھیں بیوی کے روپ میں قبول بھی نہيں کرتا اور ایک تم ھو کہ زبردستی اسکی بیوی بن کر اس پر مسلط ھو۔۔۔۔اسکے لفظ لفظ سے زہر ٹپک رہا تھا۔۔۔
جانتی ھو انسان کی جہاں جگہ نا ھو تو اسے زبردستی جگہ نہيں بنانی چاھیۓ اب وہ رتابہ کی طرف دیکھ کر بولی تھی۔۔۔
جانتی ھوں رتابہ کا جواب مختصر تھا۔۔۔
تو پھر تم کیوں اسکی گود میں زبردستی بیٹھنے کی کوشش کرتی ھو وہ نفرت کرتا ھے تم سے۔۔
تمھارے وجود سے۔۔۔
تمھارے نام سے۔۔۔
کیوں رہتی ھو ایسے شخص کیساتھ جو تمھیں صرف ایک فضول اور ناکارہ سی چیز سمجھتا ھے۔۔
وہ مجھ سے نفرت کرے یا محبت
مجھے فرق نہيں پڑتا کیونکہ محبت کی صورت میں اسکے دل میں رھونگی اور نفرت کی صورت اسکے دماغ میں دونوں صورتوں میں اسکی زندگی کا حصہ ھوں میں۔۔۔
مایا کچھ پل اسکے طمانیت بھرے چہرے کو دیکھتی رہی۔۔۔
اسے خاموش دیکھ کر رتابہ نے سوال پوچھا آپ نے یہی سب کہنا تھا یا کچھ اور باقی ھے؟؟
مایا کی آنکھیں سکڑ گئیں تم اپنی قید سے اسے رہا کیوں نہيں کر دیتی اسکا دم گھٹتا ھوا میں نے دیکھا ھے
وہ خوش نہيں تمھارے ساتھ کب تک اسکے سر پر بوجھ بنی رھو گی۔۔۔۔
اگر واقعی اس نے تم سے کسی مجبوری کے تحت یا کسی کے دباٶ میں آکر شادی کر ہی لی ھے تو کب تک اسے سزا کی سولی پر لٹکاۓ رکھو گی؟؟طلاق کیوں نہيں لے لیتی تم اس سے۔۔۔
رتابہ نے سینے پر ہاتھ باندھ کر گہری سانس لی بیوی ھوں میں عضد کی اس سے علیحدگی کا اختیار میرے ہاتھ میں نہيں۔۔۔۔
کیوں نہيں ھے اختیار تمھارے پاس تم خلا کا دعوی کرسکتی ھو حق بنتا ھے تمھارا۔۔۔
حقوق تو میرے اور بھی بہت ھیں
پہلے وہ وصول کر لوں۔۔ ایک مسکراتی نظر اس نے اندر ہی اندر سلگتی ھوئ مایا پر ڈالی اور اپنی بات جاری رکھی اور رہی بات عضد سے طلاق لینے کی تو عضد جو چیز چاھتا ھے وہ مجھے دے دیتا ھے اب اسکا دل نہيں مانتا مجھے چھوڑنے کا تو میں زبردستی کیسے کروں۔۔۔
اسکی ملکیت میں ھوں میں۔۔
اسکے نام کیطرح اس سے الگ میں نہيں ھو سکتی۔۔
مایا اسکا جواب سن کر غصے میں آگٸ جبکہ رتابہ کا لہجہ بہت دھیمہ اور تحمل سے لبریز تھا۔۔۔
ابھی آپ نے کہا کہ جہاں جگہ نا ھو وہاں زبردستی نہيں بیٹھنا چاھیۓ لیکن میرا ماننا ھے کہ کسی اور کی جگہ زبردستی دوسرے انسان کو لینی بھی نہيں چاھیۓ۔۔۔
مایا غصے سے اٹھی تم عضد کی جان اتنی آسانی سے نہيں چھوڑو گی اسی طرح اپنے ساتھ اسے برباد رکھو گی۔۔۔
عضد بھی تو نہيں چھوڑتا میری جان ایک ہی سفر کے ھمسفر ھیں ھم رتابہ کا اعتماد سے دمکتا چہرہ دیکھ کر وہ رکی نہيں چلی گٸ اسکے کمرے سے۔۔۔
اسکے جاتے ہی رتابہ نے شکر ادا کیا کہ اس نے میری کسی بات پر ھنگامہ نہيں کیا۔۔
________________
عضد شام کو گھر آیا علی باہر ہی لان میں بیٹھا ھوا تھا۔۔۔
عضد کیساتھ ایک عورت اور چھوٹا سا بچہ تھا جو اس عورت کی گود میں تھا۔۔۔
عضد علی کو دیکھ کر رک گیا علی نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔۔
امی یہ علی ھے ھمدانی سر کا بیٹا علی انکے ساتھ ہی اندر آیا۔۔
رتابہ ڈراٸنگ روم کی سیٹنگ چینج کر رہی تھی گلناز کیساتھ عضد کی آواز پر پلٹی تو سامنے نرگس کو دیکھ شاکڈ ھو گٸ پھر بھاگ کر نرگس کے گلے لگی۔۔۔
کیسی ھو میری جان نرگس نے اسکا ماتھا چوما۔۔۔
نرگس کا دامن تھامے دیان پر اسکی نظر بعد میں پڑی دیان کو سینے سے بھینچ کر وہ دیوانوں کیطرح چومنے لگی۔۔۔
میرا بچہ میری جان میرا دیان۔۔۔
عضد سے رتابہ کا دیان سے پیار کرنا برداشت نہيں ھو رہا تھا۔۔
علی عضد کے تاثرات دیکھ کر حیران ھوا تھا۔۔۔
امی آپ نے بتایا بھی نہيں اور اچانک اتنا بڑا سرپراٸز دیا مجھے رتابہ نے خوشی سے کہا۔۔۔
اتنی دور سے آٸ ھوں کچھ تو ساتھ لانا تھا سوچا سرپراٸز ہی لے چلوں۔۔۔
رتابہ مسکراٸ وہ سب ہال میں بیٹھے مایا اپنے کمرے میں تھی باہر سب کی آواز سن کر آٸ اس نے بھی نرگس کو سلام کیا۔۔۔
نرگس نے آج اسے دیکھا تھا بے انتہا خوبصورت اونچی لمبی اور ماڈرن لڑکی تھی وہ۔۔۔
امی یہ مایا ھے عضد نے اسے متعارف کیا۔۔۔
جانتی ھوں میں نرگس نے سر ہلا کر کہا مایا مسکرا کر بیٹھی۔۔۔
آپ پہلے سے جانتی ھیں مجھے یقیناً رتابہ نے بتایا ھوگا میرے بارے میں آپکو۔۔۔
نہيں اس نے تو کبھی ذکر بھی نہيں کیا نمل نے بتایا تھا نرگس پیار بھرے لہجے سے بولی۔۔۔
جی جی نمل آپکی بیٹی ھے مل چکی ھوں اس سے میں اچھی ھے لیکن تیز بہت ھے۔۔۔
عضد کو کافی برا لگا مایا کا بے تکا جواب۔۔۔
بیٹا آج کے زمانے میں حق اور سچ پر بولنے والے اکثر لوگوں کو تیز ہی لگتے ھیں اور مجھے اسکی اس تیزی پر کبھی اعتراض نہيں ھوا کیونکہ میری بیٹی کی اس تیزی میں منافقت نہيں نرگس نے بڑے دھیمے لہجے میں نمل کا دفاع کیا۔۔۔
جس پر مایا صرف مسکرانے پر اکتفا کر سکی۔۔
رات کو عضد کو کمرے میں اکیلا پا کر فوراً اسکے کمرے میں گٸ وہ بیڈ پر نیم دروازے تھا اسے دیکھ کر سیدھا بیٹھا۔۔۔
یہ بچہ کس کا ھے عضد؟؟
کیوں تم نے کیا کرنا ھے اس بچے کا؟؟ عضد نے آرام سے کہا۔۔
وہ نخرے سے بولی میں جو پوچھ رہی ھوں اسکا جواب دو۔۔۔
یار میں تمھیں جواب دینے کا پابند نہيں۔۔۔
تم مجھے بتاٶ گے یا نہيں۔۔۔
عضد اسی کی ضد میں بولا نہيں۔۔
کیوں شرم آرہی ھے بتانے میں کہ تمھارے کسی کمزور لمحے کی مضبوط نشانی ھے یہ ؟؟؟
یار بحث کیوں کرتی ھو تم اتنا ہی شوق ھے پوچھنے کا تو جاٶ اسی سے پوچھ لو۔۔۔
وہ عضد کا چہرہ جانچ کر بولی اسکا مطلب ھے تمھارا بچہ نہيں وہ
اسکا باپ کوٸ اور ھے؟؟
عضد غصے میں آگیا ہاں نہيں ھوں میں اسکا باپ بس خوش مل گیا جواب اب جاٶ یہاں سے۔۔۔
تم اتنا روڈ behave کیوں کر رھے ھو میرے ساتھ؟؟
اچھا بابا سوری عضد نے جان چھڑانا چاہی رات کافی ھو رہی جاٶ سو جاٶ۔۔۔
وہ عضد کے بیڈ پر بیٹھ گٸ مجھے نیند نہيں آرہی۔۔۔
لیکن مجھے آرہی ھے یار پلیز جاؤ عضد نے تکیہ درست کیا۔۔۔
کیوں تمھیں اپنی پھپھو سے ڈر لگ رہا ھے کہ وہ کیا سوچیں گی؟؟
میری پھپھو نہيں میری ماں ھے وہ اور یہاں پوری رات بھی گزار دو تم تو وہ غلط نہيں سوچ سکتیں۔۔۔
پھر تو اچھی بات ھے گزارنے دو نا رات یہاں مایا نے شرارت سے کہا۔۔۔
یار تم پاگل تو نہيں ھو گٸ عضد کو غصہ آنے لگا۔۔۔
غصہ کیوں کرتے ھو مذاق کررہی تھی۔۔۔
مذاق کی بھی کوٸ حد ھوتی ھے یار۔۔۔
لیکن میری کوٸ حد نہيں جانتے ھو تم۔۔۔
ہاں لیکن مجھے حدود میں رہنا پسند ھے۔۔۔۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے ھنسی ہاں بلکل جیسے تم رتابہ کیساتھ حدود میں رہتے ھو نا۔۔۔
وہ جماٸ لیکر بولا جاٶ نا یار اب سونے بھی دو۔۔۔۔
وہ اٹھ گئ پھر دروازے تک جا کر پلٹی ویسے تمھیں حد میں رکھنے والی موصوفہ ھے کہاں آج؟؟
امی کے ساتھ ھے وہ۔۔۔۔
اوہ سہی یعنی اپنی ساس اور اپنے بیٹے کیساتھ انداز جی کو جلانے والا تھا۔۔۔
عضد چپ رہا اسکے جاتے ہی اس نے روم لاک کیا اففففففف بزنز وومین نہيں جاسوس ھونا چاھیۓ تھا اسے۔۔۔۔
_____________
عضد رات کو کسی کام سے اسکے کمرے میں آیا تو وہ دیان کو سینے سے لگاۓ سو رہی تھی وہ واپس چلاگیا۔۔۔
صبح صبح اسکی آنکھ کھلی اسے پیاس لگ رہی تھی وہ پانی لینے نیچے آیا تو رتابہ اسے کچن میں ملی۔۔۔
دیان کیلیۓ دودھ گرم کر رہی تھی وہ عضد کو اندر آتا دیکھ چکی تھی۔۔۔
وہ اس کے پاس آیا سنو۔۔
جی۔۔۔
دیان کو تم نے بلوایا ھے یہاں؟؟
جی۔۔۔
کیوں؟؟
بیٹا ھے میرا یاد آرہا تھا مجھے
اسلیۓ امی سے کہا تھا کہ اسے بھی ساتھ لاٸیں۔۔
مجھ سے بدلہ لینے کا اچھا طریقہ ھے تمھارا عضد نے اسے گھورا تھا۔۔
کونسا بدلہ؟؟ رتابہ نے چولہا بند کیا۔۔۔
آٸندہ میں تمھیں دیان کیساتھ اسطرح پیار کرتے ھوۓ نا دیکھوں آٸ سمجھ۔۔۔
کیا ھو گیا ھے آپکو میرا بیٹا ھے وہ ماں ھوں میں اسکی۔۔۔
لیکن جیسے ماں تم بنی ھو نا اسکی اس زاویۓ سے دیکھو تو تمھیں اس سے محبت ھونی ہی نہيں چاھیۓ۔۔۔
رتابہ کو کافی حیرت ھوٸ اور غصہ بھی آیا عضد کی بات کا۔۔۔
اس سب میں اس بچے کا کیا قصور ھے؟؟
بچہ بھی باپ کیطرح قصوروار ھے خون کھولنے لگتا ھے میرا جب میں اسے دیکھتا ھوں تمھارے ساتھ۔۔
رتابہ اسکا چہرہ بغور دیکھنے لگی جو غصے سے لال ھو رہا تھا۔۔۔
تم نے تو کہا تھا کہ ریپ ھوا تھا تمھارا تمھیں اسے دیکھ کر وہ اذیت وہ ذلت یاد نہيں آتی؟؟
اس بچے پر تمھاری محبت اسطرح نچھاور ھوتی دیکھتا ھوں تو یقین ھونے لگتا ھے مجھے کہ تم بھی اس گناہ میں شامل تھی شرم آنی چاھیۓ تمھیں اس بچے کو دیکھ کر۔۔۔
رتابہ کافی ہرٹ ھوٸ عضد کی بات سے۔۔۔
ماں اگر اپنی اولاد سے شرمانے لگ جاۓ تو پھر کوٸ بچہ بھی پروان نہيں چڑھ سکتا۔۔۔
لیکن تم جیسی ماٸیں بننے لگ گئیں نا معاشرے میں تو پھر ماں کا نام صرف گالی بن کر رہ جاٸیگا۔۔۔
رتابہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے آپ مجھے تو یہ سب سنا سکتے ھیں کیا ان مردوں کو بھی کچھ کہہ سکتے ھیں جو اپنی ھوس اور
چند لمحوں کے لطف کی خاطر اپنی گندگی کا بیج ھمارے اندر بو کر خود رو پوش ھو جاتے ھیں۔۔۔
اور پھر قسمت ھمیں آپ جیسے مردوں کے حوالے کر دیتی ھے جو روز اس ناکردہ گناہ کی سیاہی ملتے رھتے ھیں ھمارے چہرے پر ھمیں بھولنے نہيں دیتے ھمارا ماضی۔۔۔
عضد کو پل بھر کو لاجواب کر دیا تھا اس نے۔۔۔
جو بھی ھے میں نہيں جانتا لیکن اچھا نہيں ھوگا تمھارے لیۓ اگر دوبارہ میں نے اسکے ساتھ تمھیں اپنی ممتا لٹاتے دیکھا تو۔۔۔
لیکن عضدددد۔۔۔
عضد نے آگے بڑھ کر زور سے اسکے ھونٹوں پر انگلی رکھی بس چپ کچھ نہيں سننا مجھے مذید جو کہا ھے وہ ذہن میں رکھنا ورنہ مجھے جانتی ھو بدلے میں کیا ھو سکتا ھے تمھارے ساتھ؟؟ اسکی آنکھوں میں نفرت سے جھانک کر اس نے ھونٹوں سے انگلی ہٹائ اور پانی کی دوسری بوتل لیۓ کچن سے چلا گیا۔۔۔
رتابہ رونے لگی کہ اسکا اپنا بچپن کس قدر ظلم و زیادتی کیساتھ گزرا تھا ماں باپ کی محرومی کا احساس اسکی رگ رگ میں خون کیطرح بہتا تھا وہ کیسے اپنا بچپن اپنے ہی بچے پر دوہراتی دیان تو بلکل معصوم سا فرشتہ تھا۔۔۔
______________
دیان لان میں کھیل رہا تھا نرگس رتابہ سے باتیں کرتی ھوٸ عضد کا پوچھنے لگی۔۔۔
کیسا رویہ ھے عضد کا تمھارے ساتھ وہ کچھ بدلہ یا نہيں؟؟
نہيں امی بس اتنا ہی بدلہ ھے کہ اپنی کسی بات کا بدلہ لینا نہيں بھولتا۔۔۔
نرگس پریشانی سے بولی اب تک اسکا رویہ اتنا ہی سخت ھے تمھارے ساتھ ؟؟
سخت تو نہيں ھے امی لیکن اپنے حاسدین کو خوش کرنے کیلیۓ اب وہ مجھے کسی چیز کی طرح استعمال کرنے لگا ھے۔۔۔
کیا مطلب ھے تمھارا؟؟
آپ نہيں سمجھ سکتیں امی رہنے دیں۔۔۔
تم کھل کر بتاٶگی یا میں عضد سے خود پوچھوں؟؟
نہيں امی نہيں آپ اس سے کچھ نہيں کہیں گی وہ گھبرا گئ۔۔۔
کیوں نا کہوں میں بیٹا کب تک وہ کریگا یہ سب اگر اس نے نہيں کرنا تمھیں قبول تو ٹھیک ھے میں لے جاتی ھوں تمھیں اپنے ساتھ۔۔۔
عضد شام کو جلدی گھر آگیا تھا مایا بھی اسکے ساتھ تھی دونوں کسی بات پر ھنستے ھوۓ گاڑی سے اترے ۔۔۔
نرگس نے نوٹ کیا کہ عضد کے قدم مایا کے قدموں کیساتھ ساتھ اٹھ رھے تھے۔۔
________________
مایا آج آفس نا گٸ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہيں تھی۔۔۔
نرگس ہال میں بیٹھی ھوٸ تھی مایا اسکے ساتھ آکر بیٹھی۔۔۔
انٹی آپ سے کچھ بات کرنی ھے مجھے۔۔۔۔
ہاں بولو بیٹا۔۔۔
آپ میرے کمرے میں آٸیں گی پلیز۔۔
ہاں کیوں نہيں۔۔
نرگس دیان کو اٹھاۓ اسکے کمرے میں گٸ۔۔۔
انٹی پہلے آپ مجھ سے اک وعدہ کریں آپ عضد سے کچھ نہيں کہیں گی۔۔۔۔
ھمممم ٹھیک ھے بولو تم۔۔۔۔
آپ نے عضد کیساتھ رتابہ کی شادی کیوں کی تھی؟؟
نرگس اسکا چہرہ دیکھنے لگی تم کیوں پوچھ رہی ھو؟؟
مجھے عضد نے سب کچھ بتایا ھوا ھے بہت قریبی دوست ھوں میں اسکی مجھ سے کوٸ بات نہيں چھپاتا وہ۔۔۔
اگر سب کچھ معلوم ھے تو پھر مجھ سے کیا جانتی ھو تم؟؟
انٹی مجھے نہيں لگتا رتابہ عضد کی بیوی ھے…
کیوں؟؟
جو کچھ میں نے دیکھا ھے یہاں اب تک انکے بیچ تو آپ یقین کریں ایک لمحہ بھی کبھی محسوس نہيں ھوا کہ رتابہ اسکی بیوی ھے۔۔۔
کیسے آٸ یہ عضد کی زندگی میں عضد کا نکاح نامہ دیکھا ھے آپ نے؟؟؟
مایا بیٹا کسی کے بارے میں محض شک کی بنا پر اتنی بدگمانی نہيں پالتے۔۔۔
رتابہ عضد کی بیوی ہی ھے انکا نکاح میں نے کروایا تھا۔۔۔
مایا کو اب جا کر یقین ھوا تھا اوہ اچھا انٹی رتابہ جیسی لڑکی عضد کے قابل تو نہيں تھی۔۔۔
کیا مطلب ھے تمھارا نرگس کا چہرہ سپاٹ ھو گیا۔۔۔
انکا آپس میں ریلیشن دیکھ کر کہہ یقین سے کہہ سکتی ھوں کہ آپ نے زبردستی اسے اس آگ میں جھونکا ھے جسمیں اب مسلسل عضد اپنی زندگی جلا کر راکھ کر رہا ھے۔۔۔
نرگس پوری توجہ کیساتھ مایا کو سنتی رہی۔۔
انٹی اسکو خوشحال زندگی کیلیۓ ترستے ھوۓ روتے ھوۓ دیکھا ھے میں نے آپ اسکی سگی ماں نہيں شاید اس بات کا احساس نہيں ھو سکتا آپکو کبھی بھی کہ رتابہ کیساتھ وہ کس قدر اذیت کی زندگی گزار رہا ھے۔۔۔
آپکی دی ھوٸ قسم وہ توڑ بھی نہيں سکتا اور نباہ بھی نہيں سکتا۔۔
اسکے منہ سے ماں نا ھونے کا انکشاف سن کر نرگس کو دھچکا لگا پر وہ سنبھل گئی اور آرام سے بولی بیٹا رتابہ اسکے قابل نا سہی لیکن وہ رتابہ کے ہی قابل ھے۔۔۔
اسلیۓ میں نے یہ فیصلہ کیا تھا اور میرے فیصلے کبھی غلط نہيں ھوتے۔۔
اگر تمھیں لگتا ھے بیٹا کہ وہ اس زندگی سے نا خوش ھے تو میری کسی قَسم کی قید میں نہيں وہ آزاد ھے جو چاھے کر سکتا ھے۔۔۔
انٹی اگر دوسری شادی وہ کرنا چاھے تو کیا آپ اسکا یہ فیصلہ قبول کریں گی؟؟؟
ہاں بلکل قبول کرونگی لیکن وہ سہی فیصلہ کر پاۓ تب لیکن یہ بات بھی طے ھے کہ وہ موت کے علاوہ کوٸ فیصلہ میری مرضی کے خلاف نہيں کر سکتا۔۔۔
انٹی ایک آخری سوال پوچھوں آپ سے؟؟ مایا کے چہرے پر اب خوشی اور اداسی ایک ساتھ چھلکی تھی۔۔
جی بولو۔۔۔۔
دیان کس کا بچہ ھے؟؟
نرگس نے دیان کو چوما جو اسکی گود میں سو چکا تھا میری بیٹی کا۔۔
کیا مطلب یہ عضد اور رتابہ کا بچہ نہيں؟؟؟ حیرت سے مایا کی آواز کچھ بلند ھوئ۔۔۔
عضد کا نہيں تو کیا نمل کا بچہ ھے؟؟؟
نہيں۔۔۔۔
مایا کا تجسس بڑھنے لگا وہ بے چینی سے پوچھنے لگی پھر کس کا ھے ؟؟
عضد نے تمھیں اتنا کچھ بتایا ھے تو کیا یہ نہيں بتایا کہ دیان کس کا بچہ ھے؟؟
نہيں انٹی اس نے مجھے اس بچے کے بارے میں کچھ نہيں بتایا۔۔
رتابہ کا بچہ ھے یہ ۔۔
لیکن انٹی عضد کہہ رہا تھا کہ وہ اسکا باپ نہيں۔۔
ہاں وہ سچ کہہ رہا ھے۔۔۔
تو پھر یہ رتابہ کا بچہ کہاں سے آگیا؟؟؟
رتابہ کے پہلے شوہر سے ھے یہ بچہ۔۔
مایا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں کہاں ھے رتابہ کا پہلا شوہر؟؟
وہ اس دنیا میں نہيں۔۔۔
اوہ نو تو کیا رتابہ بیوہ تھی؟؟
جی۔۔۔۔
آپ نے بیوہ اور ایک بچے کی ماں سے عضد کی شادی کردی؟؟
اسکے ماتھے پر بل دیکھ کر نرگس آرام سے بولی مایا بیٹا یہ معاملے ھمارے گھر کے ھیں تم عضد کی دوست ھو دوست بن کر رھو۔۔۔
عضد اور رتابہ کو لیکر اتنی گہراٸ میں جانے کی ضرورت نہيں بیٹا
انسان کی زندگی کے سارے حقائق تو صرف رب ہی جانتا ھے نا۔۔۔
دوست ھو تو اسکو سمجھاٶ اسکی زندگی میں آسانی پیدا کرو سارے سچ جاننے کی کوشش میں نا خود الجھو نا اسے الجھاٶ اسکا اعتماد بنو اسکے لیۓ حوصلہ شکن مت بنو۔۔۔
مایا نے حیرت سے منہ کھولے نرگس کی طرف دیکھا۔۔۔
اسے اپنی سینے سے لگا کر تیس سال پالا ھے میں نے اسکی سانسوں کی رفتار بھی جانتی ھوں کہ کب مدھم ھوتی ھیں اور کب تیز اسلیۓ سمجھا رہی ھوں۔۔۔
مایا نے سر جھکا لیا تو نرگس نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا میں جانتی ھوں تم بھی اسے چاھتی ھو۔۔۔
لیکن بیٹا جانتی ھو ھمارے پسندیدہ خواب وہی ھوتے ھیں جو لاحاصل ھوںنجنکی تعبیر ھمیں اپنی مٹھی میں نظر آتی ھے لیکن حقیقت میں انکی تعبیر قطعی ناممکن ھوتی ھے۔۔۔
انسان کے بس کی بات نہيں یہ فطری عمل ھے لیکن ان لاحاصل خوابوں کیلیۓ اپنے اصل حاصل اور حقیقت کو نظرانداز کر دینا اختیاری عمل ھے۔۔۔
سراب دیکھ کر رک جانا اور اپنا راستہ بدل لینا ہی انسان کی کامیابی کا راز اور وقت کی ضرورت ھے۔۔۔
نرگس کے اتنے خوبصورت انداز پر مایا اسے نہایت دلچسپی سے دیکھتی رہی۔۔۔
تم بھی میرے بچوں جیسی ھو اسلیۓ سمجھایا ھے میری کوٸ بات بری لگے تو معذرت چاھونگی۔۔۔
ارے نہيں نہیں آپ کیسی باتیں کر رہی ھیں اچھا کیا آپ نے مجھے سمجھایا۔۔۔
مایا کو نرگس اچھی لگی تھی۔۔۔
_________________
کھانا کھاتے ھوۓ آج ٹیبل سے رتابہ غاٸب تھی عضد نے نرگس سے پوچھا امی رتابہ کہاں ھے؟؟
بیٹا وہ دیان کو سلا رہی ھے۔۔۔۔
کھانا نہيں کھانا اس نے؟؟؟
کھا لے گی۔۔۔
عضد نے بڑی مشکل سے کھانا کھایا۔۔۔۔۔
نرگس اسکا چہرہ پڑھ چکی تھی
تھوڑا سا کھانا کھا کر وہ کمرے میں جانے لگا تو نرگس نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
بیٹا مجھے کچھ میڈیسن چاھیۓ۔۔۔
بتا دیں امی لا دیتا ھوں۔۔۔
سلپ نہيں میرے پاس ساتھ چلتے ھیں دونوں۔۔۔
نرگس اسے گھر سے باہر لے گٸ۔۔۔
میڈیکل پر تو جانا نہيں آپ نے
بولیں کہاں لے چلوں؟؟ عضد نے گاڑی گھر سے باہر لاتے ھوۓ کہا
وہ بھی خوب جانتا تھا ماں تھی اسکی۔۔۔
کہیں بھی لے چلو۔۔۔
عضد ساحل سمندر پر آیا وہ اسکے ایریۓ سے قریب تھا۔۔۔
نرگس نے اسکا ہاتھ ہاتھوں میں لیا۔۔۔
امی آپ پھر مجھے کچھ سمجھانا چاھتی ھیں رتابہ کے متعلق تو میں اس متعلق کچھ نہيں سننا چاہتا۔۔۔
نرگس اسے بڑے پیار سے دیکھنے لگی کچھ اور کہنا ھے مجھے تم سے۔۔۔
جی بولیں۔۔۔۔
عضد تمھیں کبھی احساس ھوا اپنی ماں نا ھونے کا۔۔۔
وہ یک دم رک کر نرگس کو دیکھنے لگا یہ کیسا سوال ھے؟؟
نرگس اپنے آنسو چھپاتی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔
وہ اسکے سامنے آکھڑا ھوا یہاں دیکھیں میری آنکھوں میں اور پھر پوچھیں یہ سوال۔۔۔
نرگس نا دیکھ پاٸ مایا کے طعنہ دیتے وقت کے رکے آنسو نرگس کے گالوں پر بہنے لگے۔۔۔
عضد نے تڑپ کر نرگس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا کیا ھوا آپکو کیوں رو رہی ھے آپ؟ کسی نے کچھ کہا ھے آپ سے؟؟؟
نرگس نے نا میں سر ہلایا۔۔۔
کچھ تو ھے امی جو آپ مجھ سے چھپا رہی ھیں۔۔۔
مایا نے یا رتابہ نے کچھ کہا ھے آپ سے؟؟؟
نہیں بیٹا انہوں نے کیا کہنا ھے بس ویسے ہی مجھے یہ خیال آیا تو پوچھ لیا تم سے۔۔۔
آج سے پہلے تو کبھی یہ خیال نہيں آیا آپکو۔۔۔
مجھے تو نہيں آیا لیکن تمھیں آیا تھا ایک بار۔۔۔
جی یاد ھے مجھے میرے نکاح کے وقت میں نے آپ سے کہاتھا کہ میں آپکا اپنا بیٹا ھوتا تو۔۔ آگے عضد نرگس کا چہرہ دیکھ کر چپ ھوگیا جہاں صرف دکھ اور ملال تھا۔۔
عضد مجھے کیوں احساس ھو رہا ھے کہ میں نے تمھاری زندگی رتابہ کیساتھ جوڑ کر اجیرن کردی ھے۔۔۔
یہ سب آپ کیوں کہہ رہی ھیں آج
رتابہ نے میری شکایت کی ھے نا آپ سے؟؟
نہيں بیٹا وہ تو خود اپنی زندگی کا سب سے بڑا شکوہ ھے اس نے کیا کرنا ھے شکوے اور شکایت کرکے۔۔۔
اچھا چھوڑو ان باتوں کو یہ بتاٶ مایا کیسی لڑکی ھے؟؟
نرگس کے فوراً ٹاپک بدلنے پر وہ سمجھ گیا کہ رتابہ نے کچھ کہا ھے نرگس کی آنکھوں میں اب بھی آنسو تھے۔۔۔
نرگس کے بہتے ایک ایک آنسو پر عضد زہر کے گھونٹ پیتا رہا کہ نرگس اسے جان سے بھی پیاری تھی آج تک اس نے اسطرح انکی آنکھوں میں اپنے لیۓ آنسو اور ملال نہيں دیکھا تھا۔۔۔
بتاٶ نا مایا کیسی لڑکی ھے؟؟؟
نرگس کے پھر سے پوچھنے پر وہ چونکا اچھی ھے لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ھیں؟؟
تمھیں اسکے ساتھ کافی خوش دیکھا میں نے اسلیۓ پوچھ رہی ھوں۔۔۔
لیکن آپ کہنا کچھ اور چاہتی ھیں کھل کر بات کریں امی الجھاٸیں مت مجھے۔۔۔
تم اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار سکتے ھو میرے فیصلے کی پاسداری کیلیۓ اپنی جوانی کے یہ قیمتی لمحات ضائع مت کرو تم شادی کر لو مایا سے۔۔۔
عضد نرگس کی بات سن کر بونچھکا کر رہ گیا۔۔۔
کیاااا کیا کہا آپ نے میں شادی کر لوں مایا سے؟ وہ سر پکڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا امی ایک لڑکی کو میرے ساتھ روتے دیکھ کر آپ نے شادی کر دی میری۔۔۔۔
اور اب دوسری لڑکی کیساتھ ھنستے ھوۓ دیکھ کر کہہ رہی ھیں میں اس سے بھی شادی کر لوں آپکو ھو کیا گیا ھے امی؟؟
اسطرح میرے کردار پر آپ لوگوں کے رونے اور ھنسنے کا شک کیوں کرنے لگ گٸ ھیں؟؟
شک نہيں کر رہی میرے بچے بس تمھیں خوش دیکھا اسکے ساتھ تو کہہ دیا۔۔۔
اففففففف امی اسکا مطلب میں کسی کے ساتھ ھنس کر اب بات بھی نہيں کرسکتا یار دوست ھے وہ میری بس اس سے بڑھ کر کچھ نہيں۔۔۔
امی میں ہاتھ جوڑتا ھوں آپکے آگے پہلے ہی آپکے ایک فیصلے کو میں اب تک بھگت رہا ھوں دوسرا فیصلہ نہيں مان سکتا۔۔۔۔
میں فیصلہ نہيں سنا رہی تمھیں مشورہ دے رہی ھوں۔۔۔
امی میرا کوٸ ایسا ارادہ نہيں نا حال میں نا مستقبل میں جس حال میں ھوں خوش ھوں میں مجھے کسی کے ساتھ کی ضرورت نہيں سوا آپکے پیار اور محبت کے۔۔۔
میری تو جان بھی قربان ھے تم پر نرگس نے پیار سے اسکے چہرے کو چوما۔۔۔
آپکو میری قسم ھے آپ آج کے بعد کوٸ ایسی بات نہيں سوچیں گی
وہ نرگس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر بولا۔۔۔
ٹھیک ھے میری جان لیکن تمھیں اسطرح دیکھ بھی نہيں سکتی میں۔۔۔
میں ٹھیک ھوں بلکل اور مطمئن اور خوش بھی۔۔
اللہ تمھیں سدا خوش رکھے میری جان۔۔
اس نے نرگس کے ہاتھ چومے دونوں نے ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیوں سے مطمئن کیا لیکن عارضی تھایہ سب دونوں جانتے تھے۔۔۔
نرگس کو مایا نے شدت سے احساس دلایا تھا کہ وہ اسکی ماں نہيں ھے اور رتابہ کیساتھ اسکا فیصلہ سراسر غلط ھے۔۔۔
اور یہاں عضد سے نرگس کے آنسو برداشت نہيں ھو رھے تھے کہ وہ رتابہ کی وجہ سے روٸ اور ایک بار پھر اس نے شک کی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔
_______________
علی مایا کے کمرے میں بیٹھا سونگ سن رہا تھا۔۔۔
وہ نہا کر باہر نکلی اسے دیکھ کر کہا تم کب آۓ؟؟
کب کا آچکا میڈم اس نے گانے بند کیۓ پھ کاہ یار تم سے کچھ بات کرنی ھے۔۔۔
وہ بال ڈراٸیر سے سکھانے لگی ہاں بولو۔۔
یار ھم دونوں کا اندازہ تو غلط نکلا۔۔۔
کونسا اندازہ؟؟
یہی کہ رتابہ عضد کی بیوی نہيں ھے۔۔۔
ہاں یہ تو ھے وہ اسکے سامنے آکر بیٹھی۔۔۔
یہ بچہ دیکھا ھے تم نے
ہاں دیکھا ھے
یہ عضد کا بچہ نہيں ھے
ہاں شک تو مجھے بھی ھوا لیکن پھر کس کا ھے؟؟
انٹی سے میں نے پوچھا تھا وہ کہہ رہی تھیں کہ بچہ رتابہ کا ھے اور رتابہ بیوہ تھی پہلے اور یہ بچہ اسکے پہلے شوہر سے ھے۔۔۔
اوہ شٹ یار کیا واقعی رتابہ بیوہ تھی پہلے؟؟
نہيں وہ نا بیوہ ھے نا طلاق یافتہ مایا نے آرام سے کہا۔۔۔
علی نےحیرت سے ابرو اچکاۓ کیا مطلب؟؟
یار اگر وہ بیوہ یا طلاق یافتہ ھوتی تو عضد اس سے اتنی نفرت نا کرتا اس دن تم نے دیکھا تھا نا اسکا رویہ جب ھم مال سے آۓ تھے کیسے وہ چلا چلا کر پوچھ رہا تھا کہ وہ آدمی کون تھا؟؟عضد جیسا سلجھا ھوا انسان بلاوجہ رتابہ پر اسطرح شک نہيں کر سکتا کوٸ تو وجہ ھے اور وہ وجہ یہ بچہ بھی ھو سکتا ھے۔۔۔
علی کندھے اچکا کر بولا لیکن عضد کی نفرت اور شک کا بچے سے کیا تعلق؟؟
ھو سکتا ھے وہ بچہ رتابہ کی ناجائز اولاد ھو۔۔۔
علی کے تو ھوش اڑ گۓ نہیں یار یہ کیسے ممکن ھے ایسی لڑکی نہيں وہ تم اتنا غلط مت سوچو۔۔۔
میرے بھاٸ بات غلط سوچنے کی نہيں انٹی نے کہا وہ بیوہ تھی اور عضد نے مجھے کہا تھا کہ اسکا آگے پیچھے کوٸ نہيں لاوارث ھے وہ
اگر وہ واقعی بیوہ ھوتی تو سوچو ذرا کسطرح اسکی پہلی شادی ھوٸ کس کیساتھ ھوٸ کس نے کی؟؟
کوٸ تو ھوتا اسکے پیچھے اسکے سسرال سے یا میکے سے۔۔.
اور یار اپنی مرحوم اولاد کی نشانی کونسے والدین گھر سے باہر پھینکتے ھیں کوٸ تو آتا اس بچے کا وارث کوٸ دادا دادی پھپھو چاچا کوٸ بھی نہيں تو کیا مطلب ھے اسکا پھر؟؟ بچہ ناجائز ہی ھوا نا مایا کی سوچ بہت دور تک گٸ تھی۔۔۔
علی نے تو یہ سب سوچا ہی نہيں تھا اسکا منہ بونگوں کیطرح کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔
مایا ھنسی منہ تو بند کرلو اپنا۔۔۔
علی کچھ نا بول سکا مایا کے آگے مذید کیونکہ وہ جانتا تھا اگر رتابہ کی صفائی میں وہ ایک لفظ بھی بولا تو مایا کے ہاتھوں اسکی خیر نہيں تھی۔۔۔
______________
عضد لان میں بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا مایا اسے اکیلا دیکھ کر اسکے پاس چلی آ ئ کیا کر رہے ہو؟؟
کچھ نہیں۔۔۔
پریشان ہو رتابہ اور دیان کو لیکر؟؟
نہیں۔۔۔
تو پھر اتنا منہ کیوں لٹکا رکھا ھے؟؟؟
کوئ خاص وجہ نہیں۔۔۔
مجھ سے بھی چھپاؤ گے سب مایا نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔
وہ جواب میں خاموش رہا۔۔
ایک بات پوچھوں۔۔۔
ہاں پوچھو۔۔۔
دیان تمھاری شادی کے بعد پیدا ھوا تھا؟؟؟
یار تم کیوں ان معاملات میں اتنی دلچسپی لیتی ھو تمھارا کیا واسطہ ھے ان سب باتوں سے؟؟
واسطہ ان باتوں سے نہیں لیکن تم سے دوستی کا ناطہ ضرور ھے تمھیں اس طرح پریشان نہیں دیکھ سکتی۔۔۔
اگر نہیں دیکھ سکتی مجھے پریشان تو ایسے الٹے سیدھے سوال پوچھ کر مجھے مذید پریشان مت کیا کرو الجھن ھوتی ھے مجھے ان سوالوں سے۔۔۔
وہ عضد کا اکتانا دیکھ کر اپنے اصل مدعے پر آ ئ اتنا اکتاۓ ھوۓ ھو تم تو رتابہ کو طلاق کیوں نہیں دے دیتے۔۔۔
کیاااا کیا کہا تم نے عضد نے ابرو سکیڑے۔۔۔
میں نے کوئی انہونی بات نہیں کی طلاق کا ہی کہا ھے کب تک اس بے جان رشتے کو اسی طرح گھسیٹتے رھو گے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے میں آ زاد ھو تم کیوں مجبوری کے نام پر اپنی زندگی عذاب بنا رکھی ھے تم نے یار اپنی زندگی بھی سہل کرو اور اسے بھی اس بے نام رشتے سے آزاد کرو۔۔
عضد گہری سانس لیکر تھکے ہوئے اعصاب کیساتھ مایا کو دیکھ کر بولا میں اسے طلاق نہیں دے سکتا۔۔۔
کیوں نہیں دے سکتے؟؟
اسکا حق مہر ادا نہیں کر سکتا۔۔۔
ایسا کیا لکھا ھے اسکے حق مہر میں کہ تم ادا نہیں کر سکتے؟؟؟
میری جان لکھی ہے اسکے مہر میں۔۔۔۔۔
عضد کے جواب پر مایا اسکا منہ دیکھتی رہ گئ۔۔۔
_____________
عضد اپنی کیفیت پر خود بھی کافی پریشان تھا کہ رتابہ کو لیکر اسے کیا ھوتا جا رہا تھا کیوں وہ خود بھی اسکے ماضی سے اتنا خاٸف تھا اگر وہ پسند بھی کرنے لگ گیا تھا رتابہ کو تو کس حد تک؟؟
کیوں وہ اسے لیکر کسی بھی تیسرے کو برداشت نہيں کر پارہا تھا اور یہ رتابہ کیا کر رہی تھی اس کے ساتھ اس نے کتنی بار منع کیا تھا کہ وہ اسےکسی کے ساتھ ڈسکس نا کیا کرے تو پھر میری ہر بات وہ کیوں امی اور نمل سے کہہ دیتی ھے؟؟
مایا کیساتھ اس نے مجھے کیوں جوڑا مایا تو صرف میری دوست ھے۔۔۔
امی سے کیوں کہا اس نے کہ میں مایا سے شادی کر لوں کیا وہ شک کرتی ھے مایا کے اور میرے ریلیشن پر ؟؟
امی بھی پریشان تھیں بہت مایا کو اور مجھے لیکر ایسا کیا کہا رتابہ نے امی سے کہ وہ رو رہی تھیں کتنے آنسو بہاۓ تھے امی نے وہ بہت دکھی ھو رہا تھا۔۔
اگر رتابہ کو شک تھا مجھ پر تو ایک بار بات کر کے کلیٸر کر لیتی معاملہ امی سے کیوں شکایت کی اسے یہ سوال بار بار تنگ کر رہا تھا وہ پھر دراز سے سگریٹ نکال کر پیتا رہا
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ڈھیر لگا دیا۔۔
پھر کچھ نا سمجھ آیا تو اسکے کمرے میں گیا رتابہ اور نرگس دونوں ہی جاگ رہی تھیں۔۔
کیا ھوا بیٹا تم سوۓ نہيں ابھی تک؟؟
رتابہ کو بلانے آیا تھا امی پھر وہ اسے دیکھ کر بولا میرے کمرے میں آٶ ذرا۔۔۔
وہ نرگس کیطرف دیکھنے لگی۔۔
جاٶ بیٹا بلا رہا ھے وہ۔۔۔
رتابہ ڈر رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اسکی خوب خبر لیگا اب وہ اس نے آھستہ سے نا میں سر ہلایا۔۔
جاٶ بیٹا اسے کچھ کام ھوگا۔۔
عضد دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا۔۔
نرگس اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی کچھ نہيں کہے گا وہ تمھیں میں ھوں نا یہاں چلو شاباش جاٶ۔۔
جاتے ھوۓ وہ مڑ مڑ کر نرگس کو دیکھنے لگی۔۔
بلکل اسطرح جیسے چھوٹا سا بچہ اندھیرے میں جانے سے ڈر رہاھو
عضد نے روم لاک کیا۔۔۔۔
وہ اندر آکر صوفے پر بیٹھی تو وہ پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا
امی سے کیا کہا ھے تم نے؟؟
رتابہ اپنی انگلیاں چٹخاتی عضد کو دیکھنے لگی جو سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس بے انتہا خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
عضد نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیۓ بولو امی سے کیا کہا ھے تم نے؟؟؟
وہ دھیمے لہجے میں بولی کس بارے میں؟؟
میرے بارے میں عضد نے آرام سے کہا۔۔۔
میں نے کچھ نہيں کہا۔۔۔
جھوٹ مت بولو۔۔
میں کیوں جھوٹ بولونگی آپ سے۔۔
میں تمھیں پہلے بھی کافی بار منع کر چکا ھوں نا کہ مجھے کسی کیساتھ بھی ڈسکس مت کیا کرو
میری باتوں کا تم پر اثر کیوں نہيں ھوتا؟؟
میں سچ کہہ رہی ھوں میں نے امی سے کوٸ بات نہيں کی۔۔۔
تو کیا میں جھوٹ بول رہا ھوں اب لہجے میں سختی عود آئ تھی
ایک بار پھر تمھاری وجہ سے انہوں نے مجھے شک کی نظروں سے دیکھا ھے۔۔۔
میں نے آپکے متعلق کوٸ ایسی بات نہيں کی امی سے جس سے آپکا کردار مشکوک ھو اگر پھر بھی آپکو یقین نہيں تو پھر ٹھیک ھے مان لیں ہاں کی ھے میں نے بات اب کیا کریں گے آپ؟؟
رتابہ بھی پل بھر غصے میں آگٸ ماریں گے مجھے تو ٹھیک ھے مار لیں آپکے سامنے ھوں۔۔۔
مجھے مار کر ہی آپ کو تسکین ملنی ھے نا۔۔
عضد کو پہلے ہی اس پر غصہ تھا اوپر سے اسکا اقرار عضد کے غصے کو مذید بھڑکانے لگا اس نے جبڑے بھینچے تسکین کے راستے تو مار پیٹ کے علاوہ اور بھی بہت سے ھیں۔۔۔
کچھ سیکنڈ دونوں کے بیچ خاموشی رہی پھر وہ اٹھ کھڑی ھوٸ۔۔۔
برخاست ھو گٸ آپکی عدالت جا سکتی ھوں میں اب؟؟
سزا کے بغیر تو نہيں جا سکتی تم اس نے دانت پیسے۔۔۔
امی کی طبیعت ٹھیک نہيں دیان اکیلا ھے تنگ کرتا ھے وہ رات کو جانے دیں مجھے سزاٸیں دیتے رہنا بعد میں۔۔۔۔
عضد نے اس ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اکیلا تو میں بھی ھوں میری فکر تو تمھیں کبھی نہيں ھوٸ۔۔۔
آپ بچے نہيں ھیں کہ آپکو سنبھالنا پڑے مجھے۔۔۔
کیوں جسے سنبهالنے جا رہی ھو جانتی ھو نا وہ کس کا بچہ ھے۔۔
میرا بچہ ھے وہ عضد میں اس بات سے انکار نہيں کر سکتی۔۔۔
تو پھر میں کون ھوں میرے رشتے سے کیوں تمھیں انکار ھے؟؟
میں نے کوٸ انکار نہيں کیا کسی بات سے فی الحال چھوڑیں مجھے جانے دیں۔۔۔۔
عضد نے اسے بانہوں میں لیا برا لگتا ھے میرا چھونا تمھیں شرم آجاتی ھے تمھیں مجھ سے عضد کے ارادے آج کچھ اور ہی لگ رھے تھے رتابہ کو۔۔۔
عضد پلیز چھوڑیں مجھے اس نے خود کو چھڑانا چاہا۔۔۔
عضد اسے اپنے ساتھ لیۓ بیڈ پر لیٹا تو وہ بری طرح ڈری یہ کسی کر رھے ھیں آپ؟؟
جو میرا جی چاہ رہا ھے وہی کرونگا عضد نے اس پر اپنی گرفت ٹاٸٹ کی۔۔۔
عضد پلیز leave me پلیز۔۔۔
عضد نے کروٹ بدلی تو اس نے جھٹ سے ہاتھ جوڑے۔۔۔
عضد نے اسکے جڑے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑے کیا پلیز۔۔۔
رتابہ کے آنسو بہنے لگے جو بھی سزا دینی ھے دے دو لیکن یہ سب ناکرو میرےساتھ۔۔۔
کیوں اتنا برا لگتا ھے میرا قریب آنا تمھیں؟؟؟
آپ نفرت کی جس آڑ میں قریب آتے ھیں نا وہ کسی صورت گوارا نہیں مجھے۔۔۔
رتابہ بری طرح مچلی اسکی پہلو میں کیا کر رھے ھو عضد ناکرو ایسا پلیز عضد پلیز نہيں۔۔۔۔
عضد پر اسکی قربت کا عجیب سا نشہ طاری ھوا اسوقت کہ اسے اپنا غصہ بھول گیا وہ چاہ کر بھی خود کو اس سے جدا نا کر پایا۔۔۔
عضد نہيں کریں یہ سب۔۔۔۔۔
اپنی انا کے شور میں اسے رتابہ کی التجا سناٸ نا دی وہ اپنے ھوش سے بیگانہ ھونے لگا تھا۔۔
باہر دروازے پر ناک ھوٸ۔۔۔
عضد چھوڑو کوٸ ھے دروازے پر عضددددد میری بات سنو۔۔۔
میں نے کچھ نہيں کہا کسی سے بھی عضدددددد پلیز۔۔۔
ناک پھر دوبارہ ھوٸ اور اب کی بار مسلسل ھونے لگی تو عضد کی توجہ رتابہ سے ہٹی۔۔۔
ایک دم ھوش میں آنے پر اس نے خود کو رتابہ میں گم ھوتے دیکھا تو فوراً پیچھے ہٹا دروازے پر ھونے والی دستک اسکے بھٹکتے ھوۓ جذبات پر ھوٸ تھی وہ لمحہ بھر کچھ سمجھ نا پایا۔۔۔
پھر رتابہ کیطرف دیکھا جو اپنے آپ میں سمٹی ھوٸ تھی۔۔
دستک پھر ھوٸ عضد نے دروازہ کھولا تو سامنے علی تھا۔۔
علی نے اسکے اڑتے رنگ دیکھ کر پوچھا کیا ھوا تم اتنے بدحواس کیوں ھو رھے ھو طبیعت تو ٹھیک ھے نا؟؟
ہاں ٹھیک ھے تم بولو کیوں آۓ ھو اتنی رات گۓ۔۔۔
یار وہ بینک اسٹیٹمنٹ چیک کر رہا تھا اسمیں مجھے کچھ پرابلم لگ رہی ھے اسی سلسلے میں آیا ھوں علی نے پیپرز اسکے سامنے کیے۔۔۔
ٹھیک ھے میں دیکھ لونگا۔۔۔
یار دونوں دیکھ لیتے ھیں نا ساتھ علی کی پیشکش پر وہ گڑبڑا گیا
نہيں میں دیکھ لونگا تم جاٶ۔۔۔
علی نے اسکے روم میں جھانکنے کی کوشش کی روم میں کوٸ نہيں تھا۔۔۔
عضد نے علی کی نظروں کو دیکھ کر پیچھے دیکھا رتابہ بیڈ پر نہيں تھی۔۔۔
وہ چلا گیا تو عضد واپس اندر آیا وہ واش روم میں تھی باہر نکلو۔۔
وہ کچھ نا بولی۔۔۔
سناٸ دے رہا ھے یا نہيں باہر آٶ کچھ نہيں کرونگا۔۔
وہ بہت رو رہی تھی اسے اپنا آپ ایک بار پھر لٹتے دکھاٸ دیا تھا
وہ اذیت وہ تکلیف کیسے بھول سکتی تھی جو اسکے دامن سے کانٹوں کیطرح چمٹ گٸ تھی
جسکی چبھن اب بھی اسے پہلے جیسی محسوس ھوتی تو اسکے رونگٹے کھڑے ھو جاتے تھے۔۔۔
عضد چابی سے لاک کھول کر اندر آیا وہ پیچھے کو ہٹی تو باتھ ٹب میں جا گری۔۔۔
کچھ نہيں کر رہا باہر آٶ عضد نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
خوف کی کیوجہ سے اسکا جسم بھی کانپ رہا تھا۔۔۔۔
عضد نے زبردستی اسے اٹھایا اور واش روم سے باہر لایا۔۔۔
رونا بند کرو اپنا ذس نے بیڈ پر بٹھا کر اسے پانی پلایا۔۔۔
اسکی اتنی سہمی ھوٸ حالت دیکھ کر عضد شرمندگی سے بولا سوری۔۔۔
مجھے امی کے پاس جانے دیں اس نے جھٹ سے کہا۔۔۔
نہيں ایسی حالت میں روتی ھوٸ جاٶگی۔۔۔
اس نے جلدی سے آنسو دوپٹے سے پونچھے نننن نہيں روٶگی بس آپ جانے دیں۔۔۔
پہلے تھوڑا سنبھال لو خود کو پھر چلی جانا عضد بیڈ پر دوسری طرف لیٹا تو وہ صوفے پر جا بیٹھی۔۔
پھر عضد کے سوتے ہی اپنے کمرے میں چلی گٸ۔۔
نرگس دیان کو بازو پر لٹاۓ سو رہی تھی وہ بھی ساتھ ہی لیٹ گٸ۔۔۔
________________
بھولا بھالا سا دیان علی کو بہت پیارا لگنے لگا تھا دو چار دن میں ہی وہ بچے کیساتھ اچھا خاصا گھل مل گیا تھا علی جیسے ہی گھر آتا دیان اسے دیکھ کر بھاگتے ھوۓ اسکے پاس آتا علی اسے گود میں لیکر خوب پیار کرتا۔۔۔۔
رتابہ کو علی کا دیان کیساتھ اتنا پیار دیکھ کر بہت عجیب سا لگتا البتہ مایا کے سامنے وہ دیان سے تھوڑا دور ہی رہتا تھا۔۔
عضد بھی دیکھ رہا تھا علی کا بے تحاشا پیار لیکن وہ خاموش تھا
دیان کا ننھا سا وجود اسے اپنے سامنے برداشت نہيں ھوتا تھا
اسے ایک ہی بات ستاتی تھی کہ رتابہ کسی اور کے بچے کی ماں کیوں بنی تھی۔۔۔
وہ خود تو دیان سے پیار نہيں کرتا تھا لیکن علی کو روک بھی نہيں سکتا تھا۔۔۔
نرگس کیساتھ بھی علی جلد ہی کلوز ھو گیا تھا نرگس کو ماں جیسی عزت دیتا تھا وہ نرگس بھی عضد کے ساتھ اسکا ماتھا چومتی تھی کیونکہ وہ سیدھا آفس سے آکر نرگس کو سلام کرتا انکا ہاتھ چومتا تھا اور آفس جاتے ھوۓ بھی۔۔
نرگس کیلیۓ علی بھی جازب اور عضد جیسا ہی تھا۔۔
_______________
سارے کام سے فارغ ھو کر رتابہ نرگس کے پاس آ کر بیٹھی
شام ھونے کو تھی۔۔۔
آج تو تم کافی مصروف رہی ایک منٹ بھی میرے پاس نہيں آٸ نرگس نے پیار سے گلا کیا۔۔
بس امی کچھ نہیں کام زیادہ تھا آج۔۔
نرگس نے اسکا جھکا جھکا سر دیکھا تو پوچھا کیا ھوا ھے عضد نے کچھ کہا تو نہیں رات کو؟؟
اس نے سر جھکاۓ نا میں سر ہلایا تو نرگس نے ٹھوڑی سے اسکا چہرہ اونچا کیا یہاں دیکھو میری طرف۔۔
رتابہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
کیا ھوا ھے تمھیں؟؟
کچھ نہيں امی اس نے کچھ آنسو حلق میں اتارے پھر بڑی مشکل سے حلق سے آواز نکالی میری اک بات مانیں گی آپ؟؟؟
ہاں بولو۔۔۔۔
امی مجھے آپ ساتھ لے جاٸیں اپنے پلیز مجھے یہاں نہيں رہنا۔۔۔
کیوں کیا ھوا ھے بیٹا نرگس پریشان ھو گئ اسے دیکھ کر۔۔۔
کچھ نہيں بس کچھ دن کیلیۓ لے جاٸیں آپ یہاں اکیلے رہ رہ کر میرا دل تنگ آگیا ھے نمل سے بھی مل لونگی۔۔۔۔
لے جاٶنگی ساتھ میں لیکن وجہ سہی بتاٶ گی تب۔۔۔
امی کوٸ وجہ نہيں ھے اسکا سر اب بھی جھکا ھوا تھا۔۔۔
مایا اور عضد کو لیکر پریشان ھو تم؟؟؟
نہيں امی بلکل بھی نہيں۔۔۔
تو پھر؟؟
امی آپ سے میں نے کبھی عضد کی شکایت کی ھے؟؟
نہيں۔۔۔۔
کبھی انکی کردار کشی کی ھے؟؟
نہیں میری جان۔۔۔۔
میں نے جو بات کل کی تھی آپ سے وہ آپ نے عضد سے شیٸر کی تھی؟؟؟
نرگس اسکے قریب ھو کر بیٹھی نہيں تو مجھے پاگل سمجھ رکھا ھے تم نے میری تو عادت ھے میں اسے ھمیشہ سمجھاتی ھوں کہ تمھارے ساتھ اچھا رویہ رکھے۔۔۔
امی آپ مت کہا کریں کچھ بھی عضد سے میرا نام بھی مت لیا کریں اسکے سامنے۔۔۔۔
اس نے تم سے کچھ برا بھلا کہا ھے کیا؟؟
نہيں امی۔۔۔۔
دیان کھلیتے ھوۓ رتابہ کا دوپٹہ پکڑ کر بیڈ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا رتابہ نے دوپٹہ نماز کیطرح بکل مار کر پہنا ھوا تھا اسکا دوپٹہ کھل کر دیان کے ہاتھ میں آگیا۔۔
نرگس کی نظر سیدھا رتابہ کی گردن پر پڑی۔۔۔۔
جہاں عضد کی بربریت کے نشان واضح تھے۔۔۔
رتابہ نے فوراً دوپٹہ اوڑھا۔۔
ٕعضد نے زبردستی کی ھے تمھارے ساتھ؟؟ نرگس شاکڈ ھوئ تھی۔۔
رتابہ اب روک نا پاٸ خود کو وہ با آواز رو پڑی۔۔۔۔
نرگس نے اسے گلے سے لگا لیا مجھے بلکل اندازہ نہيں تھا کہ وہ تمھیں اسطرح بھی اذیت دیتا ھے۔۔۔
جاری ھے۔۔۔
