Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 08)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 08)
Bad Bakhat by Arshi Noor
عضد نے کتے کو پیچھے ہٹایا اور جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا تو چادر میں لپٹی ہوئی لڑکی اس کے قدموں میں آ گری۔۔۔
عضد دو قدم پیچھے ہٹا نرگس اور وہ دونوں لڑکی کو دیکھ کر حیرت میں ایک دوسرے کیطرف دیکھنے لگے۔۔۔۔
کتے کے مسلسل بھونکنے پر لڑکی بری طرح سے ڈری اور بمشکل اٹھ کر نرگس کے پیچھے جا چھپی۔۔۔۔
عضد نے کتے کو گیلری میں جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ دم دبا کر چلا گیا۔۔۔۔
نرگس نے بازو سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا اور پوچھا کون ہو تم؟؟؟؟؟
عضد نے بھی حیرانی سے اسے دیکھا اور پوچھا کون ہو تم؟؟ اور کیا کر رہی ہو میری گاڑی میں؟؟
آٸ کیسے تم میری گاڑی میں ؟؟؟
اتنے میں موسلا دھار بارش ایک دم سے دوبارہ شروع ھو گٸ۔۔۔
نرگس نے لڑکی کی طرف غور سے دیکھا اس کی حالت بہت ہی ناساز تھی اور وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی اور روۓ جا رہی تھی۔۔۔۔
نرگس اسے اندر لے گئی وہ ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہی تھی نرگس نے اسے بٹھایا ۔۔۔۔
وہ اس قدر ڈری اور سہمی ہوئی تھی کہ اس نے نرگس کے ہاتھ پوری مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔
عضد بھی اسے دیکھ کر حیران تھا بہت لیکن خاموش تھا۔۔۔۔
وہ چادر میں لپٹی ھوئ کیچڑ سے بھری ھوئ تھی بیٹا بتاؤ کون ھو تم اور تمھاری یہ حالت کیا ھوا ھے کہاں سے آئ ھو؟؟؟
عضد کافی پریشان ھو گیا اس لڑکی کو دیکھ کر امی کیا کون ھو کون ھو کی بحث کر رہی ھیں آپ نکالیں اسے گھر سے پتہ نہیں کہاں سے آئ ھے۔۔۔۔
نرگس نے عضد کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر اپنا ہاتھ چھڑا کر اسکے لیے دوپٹہ لائ پہنو اسے اور یہ چادر کافی گندی ھے اتار دو اسے۔۔۔۔
نرگس نے اسکا کانپتا اور خود میں سمٹتا وجود دیکھ کر خود ہی اسکی چادر اتاری اور جب اسے دیکھا تو وہ پھٹے ہوئے کپڑوں میں بہت بری حالت میں تھی چہرے پر بھی زخموں کے نشان تھے اور گردن پر بھی یہ دیکھ کر نرگس کے ہوش اڑ گئے…
نرگس نے بے یقینی سے گردن گھما کر عضد کیطرف دیکھا۔۔
نرگس کے اسطرح دیکھنے پر وہ اپنی جگہ پر بھونچکا کر رہ گیا اور نرگس سے پہلے ہی فوراً بول پڑا۔۔۔۔
مممممم مجھے کککک کیوں آپ ایسے ددددیکھ رہی ہیں مممم میں نہیں جانتا اس لڑکی کو ککککک کون ہے یہ پوچھیں اس سے قسم سے میں نہیں جانتا۔۔۔۔
وہ نرگس کے اسطرح دیکھنے پر اچھا خاصا بوکھلا گیا۔۔۔
نرگس اس لڑکی کی حالت اور پھر عضدکی حالت دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہو گئ کہ کیا ہوا ہے ایسا ان دونوں کے بیچ؟؟؟ اسکے ماتھے پر بل گہرے ھونے لگے۔۔۔
عضد بھی زخمی ہے اور اس لڑکی کی بھی حالت ٹھیک نہیں۔۔۔۔
نرگس کی نظروں میں مسلسل حیرانی اور شک دیکھ کر وہ لڑکی کی طرف بڑھا اور بازوٶں سے اسے جھنجھوڑ کر کھڑا کیا بتاؤ کون ہو تم اور کیسے آئ میری گاڑی میں؟؟
وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس نے عضد کو پیچھے دھکا دیا اور چلانے لگی خدا کا واسطہ ھے مت چھوو مجھے مجھ سے دور رہو خدا کا واسطہ ھے پلیز رحم کرو مجھ پر اس نے عضد کے آگے بلکتے ھوۓ ہاتھ جوڑے۔۔۔
نرگس بہت بری طرح سے پریشان ہوگئی اس لڑکی کا رد عمل دیکھ کر۔۔۔۔۔
عضد ماں کا انداز دیکھ کر انکے سمجھانے لگا امی مجھے نہیں پتا کون ہے یہ میں نے کچھ نہیں کیا اسکے ساتھ کہاں سے آئ یہ میری گاڑی میں میں نہیں جانتا کچھ بھی۔۔۔۔
نرگس غصے سے بولی اگر تم نے کچھ نہیں کیا تو تم تھوڑی دیر خاموش نہیں رہ سکتے۔۔۔۔۔
نرگس نے پہلے اس لڑکی کو پانی پلایا لیکن وہ پانی نہيں پی رہی تھی اور مسلسل ہچکیوں سے روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
نرگس نے پریشانی سے پوچھا بیٹا کون ہو تم کیا نام ہے تمہارا کہاں سے آئی ہو اور کس نے کی ہے یہ تمہاری حالت کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ کچھ بتاؤں گی؟؟؟
وہ کیا بتاتی اتنی تکلیف میں رونے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔
اس نے بمشکل صرف اتنا کہا آنٹی اس وقت میں بہت تکلیف میں ہوں خدا کا واسطہ ہے مجھے بچالیں میری مدد کر دیں وہ ہاتھ جوڑ کر سسکنے لگی…۔۔
عضد پریشانی سے ہڑبڑا کر بولا امی اس کی باتوں میں نہیں آنا پتہ نہیں کون ہے؟
کہاں سے اٹھ کر آئی ہے؟ ایسا نا ھو ہمارے گھر کا صفایا کر دے کہیں اس نے پولیس بلوا لی یا کسی گینگ سے اسکا تعلق ھوا تو کیا کریں گے ہم؟؟؟
اسے گھر سے نکالیں اسی وقت میں کسی کی دشمنی مول نہیں لے سکتا۔۔۔۔
عضد کی بات سن کر وہ نرگس کے پاؤں پڑ گئی خدا کا واسطہ ہے آپ کی بھی تو بیٹی ہو گی مجھے گھر سے اسوقت نا نکالیں میں کسی چوری کے ارادے سے نہیں آٸ۔۔۔۔
نرگس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہتی اور کیا کرتی اس کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔۔۔۔
امی اسکی بات کیوں سن رہی ھیں آپ نکککک ۔۔۔۔
تم چپ رہو پوچھ لوں گی میں کون ہے یہ تم جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔۔۔۔
عضد کے ڈھیٹ بنے کھڑے رہنے پر نرگس پھر سے بولی چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔۔
امی یہ جھوٹ بولے گی آپ سے میری بات۔۔۔۔
نرگس نے اسکی بات کاٹی تمھیں کیسے پتہ یہ جھوٹ بولے گی یا سچ؟؟؟
نرگس نے اسے جانتی نظروں سے گھورا پھر آرام سے اس لڑکی سے پوچھا تمہاری اس حالت کا ذمہ دار یہ ھے کیا؟؟؟
نرگس کی انگلی کا اشارہ عضد کیطرف تھا ماں کا اشارہ اپنی طرف دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئ وہ سکتے کے عالم میں ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے آنکھوں میں خوف و ہراس لیۓ ایک نظر عضد کو دیکھا وہ اسے ہی خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔
پھر وہ خوف سے لرزتی نرگس سے لپٹ گٸ کہا کچھ بھی نہیں اسکی خاموشی میں نرگس کو اپنے سارے سوالوں کا جواب مل گیا۔۔۔
امی میری بات سنیں آپ ایسے شکککککک۔۔۔۔۔
نرگس بلند آواز میں چلاٸ دفعہ ھو جاٶ یہاں سے آواز بہت بلند تھی۔۔۔
عضد ماں کو حیرانی سے دیکھ کر بولا امی یہ جھوٹ بول رہی ہے اس کو چھوڑوں گا نہیں میں جان سے ماردونگا۔۔۔
وہ غصے سے اس لڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔۔
خبردار اس کو ہاتھ بھی لگایا تو چلے جاؤ یہاں سے ورنہ۔۔۔۔۔
امی آپ اچھا نہیں کر رہی ھیں میں اسے ایسے نہیں چھوڑ سکتا اپنے گھر میں نکالیں اسے ابھی باہر۔۔۔
عضد نے ہاتھ بڑھا کر اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اس نے مدد کیلیے نرگس کیطرف ہاتھ بڑھایا آنٹی پلیز بچا لیں مجھے انٹی۔۔۔۔۔
عضد یہ کیا کر رھے ھو تم چھوڑو اسے نرگس نے اسکا ہاتھ چھڑا کر عضد کو پیچھے دھکیلا ۔۔۔۔۔
نرگس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے دفع ھو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔
عضد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے امی آپ۔۔۔۔
چلے جاؤ عضد یہاں سے چلے جاؤ نرگس اب روتے ھوۓ بولی۔۔۔
عضد غم و غصے کی حالت میں پہلے ماں کو بے یقینی سے گھورتا رہا پھر اس لڑکی کو دیکھ کر کہا چھوڑوں گا نہیں میں تمھیں وہ بختی کو دھمکاتا دھواں دھار ھوتی آنکھوں سے پاٶں پٹختا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
نرگس اسے کمرے میں لے گٸ ڈرو مت بیٹا تم محفوظ ہو یہاں تمھارے ساتھ ھوں میں۔۔۔۔
کچھ لمحے بعد نرگس نے اس سے سوال پوچھا ۔۔۔
نام کیا ھے تمھارا؟؟؟
رُتابہ۔۔۔۔۔
کہاں سے آٸ ھو؟؟؟
وہ خاموش ہو گئ کیا بتاتی کہاں سے آئے ھے کوٸ ایک ٹھکانہ ہوتا اس کا تو بتاتی۔۔۔
نرگس نے اسکی طرف دیکھا اور بہت پیار سے بولی بولو بیٹا کہاں سے آٸ ھو ؟؟
وہ سر جھکاۓ بولی ۔۔۔
نہيں معلوم اسکے آنسو اسکی گود میں گر رھے تھے۔۔۔
کپڑوں پر اسکے خون دیکھ کر نرگس کا دل دہل کر رہ گیا۔۔۔۔
نرگس نے اسے اپنے کپڑے دیۓ۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر چل رہی تھی اس کی حالت دیکھ کر نرگس نے اس سے کہا تم سو جاؤ بیٹا صبح اٹھ کے بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ درد سے کراہتی ھوٸ لیٹی اسکے پاٶں بھی زخمی تھے روتے روتے اسے الٹیاں لگ گٸیں۔۔۔
نرگس نے اسے نیند کی گولی دی وہ نرگس کا ہاتھ پکڑ کر نیند میں بڑبڑاتی کچھ دیر میں روتے روتے سو گٸ۔۔۔۔۔
البتہ نرگس اور عضد دونوں کی نیند حرام ھوگٸ ۔۔۔
ہزاروں وسوسوں اور خیالوں کے درد نے ان دونوں کو سونے نہ دیا۔۔۔۔
ایسی کونسی لڑاٸ تھی جس پر عضد کے ہاتھوں پر چاک اور ناخن کے نشان تھے اور کپڑوں پر خون بھی لگا ھوا تھا۔۔۔
اور اس لڑکی کے چہرے پر بھی ھوس کے بربریت کے نشانات چیخ چیخ کر بتا رھے تھے کہ وہ مرد کی حیوانیت کا شکار ھوٸ ھے۔۔۔۔
سوچ سوچ کر نرگس کا دماغ پھٹ رہا تھا کہ عضد کسی لڑکی کے ساتھ اس طرح کیسے کر سکتا ہے؟؟؟ نرگس کا دل نہيں مان رہا تھا اسی کشمکش میں پوری رات گزر گٸ۔۔۔۔
دوسری طرف عضد کی حالت غیر ھو رہی تھی کہ اسکی ماں کیا سوچ رہی تھی وہ اتنا کیسے گر سکتا ھے سوچ بھی کیسے لیا تھا نرگس نے
ایک ایک لمحہ ناقابل برداشت ھوتا جا رہا تھا اس کیلیۓ بھی۔۔۔۔
___________
نمل رات کو سوتے ہوئے نیند میں بے چینی سے ادھر ادھر کروٹیں بدل رہی تھی کہ اچانک چلا کر اٹھی۔۔۔۔۔
حافظ صاحب اس کے برابر والے بیڈ پر سو رہے تھے نمل کے چلانے پر وہ بھی اٹھ گئے۔۔۔۔
کیا ھوا نمل بیٹا وہ اسکے پاس آۓ۔۔۔۔۔
نمل گھبراٸ ھوٸ تھی بابا ببببب بختی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ھے وہ کسی مشکل میں ھے بابا نمل گھبرا کر رونے لگی ۔۔۔
حافظ نے نمل کو تسلی دی اور کہا بیٹا ہم کیا کہہ سکتے ہیں وہ بچی تو ھے ہی بد بخت اللہ اسے اپنی امان میں رکھے ۔۔۔۔
اٹھو فجر کی اذان ہو چکی ہے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ھیں اللہ سب کو سلامت رکھے۔۔۔
صبح کا سورج کب کا چڑھ چکا تھا نمل بہت اداس اور بے چین تھی
دروازے کی بیل بجی حافظ صاحب کو گلی کے کچھ مردوں نے باہر بلایا۔۔۔۔۔
نمل بھی پردے کی پیچھے دروازے کے پاس کھڑی ھوٸ۔۔۔۔
حافظ صاحب سے سلام کرکے عظمت نامی شخص بولا حافظ صاحب آپ ہمیں معاف کیجیے گا لیکن یہ بات کرنا ضروری ہے
آپ کی بیٹی کیسے اغوا ھوٸ کون لے کر گیا کیسے وہ واپس آئ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔۔۔۔
جو بھی ہوا آپکے ساتھ ہمیں اس کا افسوس ہے لیکن۔۔۔۔
حافظ صاحب یہ شریفوں کا محلّہ ہے اور اس سے پہلے ایسا واقعہ کسی کے ساتھ یہاں نہیں پیش آیا
آپ کی وجہ سے یہ کہانی گھر گھر ہر محلے میں دہرائی جا رہی ھے
اور ہمارے گھر بھی بچیوں پر اثر پڑ رہا ہے آپ سے گزارش ہے کہ آپ یہ گھر یہ محلہ چھوڑ جائیں کیونکہ اب یہ گلی آپکی بیٹی کے نام سے بدنام ھوتی جا رہی ھے کل کو ھماری بیٹیوں کو بیاہنے کیلیے کوئ اس محلے کا رخ نہیں کریگا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے عظمت کو دیکھتے رہے جس کی اپنی چار بیٹیاں تھیں ۔۔۔۔
حافظ صاحب بڑے آرام سے بولے عظمت صاحب آپ کے منہ سے یہ الفاظ سن کر بڑا افسوس ہوا مجھے کیونکہ آپ خود بھی چار بیٹیوں کے باپ ہیں میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا کیا نہیں یہ سب میرا مسئلہ ہے آپ سب کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔۔
اور رہی بات آپ کی گزارش کی تو جلد پوری ہو جائیگی یہ گلی یہ محلہ یہ شہر ہی چھوڑ جائیں گے ھم۔۔۔۔
نمل انکی ساری باتیں سن کر زہر کے گھونٹ پی کر رہ گٸی۔۔۔۔۔
_____________
صبح ھوچکی تھی ۔۔۔۔
نرگس رتابہ کے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی لیکن کافی ٹائم گزرنے پر بھی وہ نا اٹھی۔۔۔۔
نرگس اس کے قریب آٸ تو دیکھا وہ تیز بخار سے بے سدھ پڑی تھی۔۔۔
نرگس اس کی حالت دیکھ کر مزید پریشان ہوگٸی کہ وہ اس حالت میں اسے ہسپتال نہیں لے کر جا سکتی تھی ورنہ اس پر ریپ کا کیس بن جاتا۔۔۔۔۔
وہ عضد کےکمرے میں گٸ وہ موجود نہيں تھا وہاں۔۔۔۔
کام والی ماصی بھی آگٸ نرگس نے اسے تین چار دن کی چھٹی دے دی کہ اگر اس نے رتابہ کو اس حال میں دیکھ لیا تو بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔۔۔۔
کیونکہ ابھی تک وہ خود اسے نہيں جانتی تھی۔۔۔۔۔
نرگس نے اسکے زخموں پر مرہم لگایا اور اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں۔۔۔۔
بخار اترنے پر وہ کچھ ھوش میں آٸ۔۔۔۔۔
تو نرگس کو سامنے دیکھ کر ایک دم سے اٹھی کککووون ھیں آپ۔۔۔۔۔ ککککک کہاں ھوں میں ۔۔۔ وہ اتنی شاکڈ تھی کہ رات کا واقعہ بھولی ھوٸ تھی۔۔۔۔
کیا ھوا رتابہ نرگس نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
کککک کون ررررررتاااااا۔۔۔۔ رتابہ وہ بوکھلائ ھوئ تھی۔۔۔
تم نے ہی اپنا نام رتابہ بتایا تھا نرگس نے بڑے پیار سے کہا۔۔۔
میں رتابہ نہیں بھوں اس نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
پھر کون ھو تم ؟؟؟ نرگس نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔سب کچھ یاد آنے پر وہ پاگلوں کیطرح سر پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔۔۔۔
میں۔۔۔ میں۔۔۔ میں بد بخت ھوں بد بخت۔۔۔۔۔۔۔
اسکے لہجے میں اسوقت اتنا درد تھا کہ نرگس کو اپنا دل اسکے درد میں ڈوبتا ھوا محسوس ھوا۔۔۔۔
بختی خود کو دونوں ہاتھوں سے پیٹنے لگی۔۔۔
نرگس نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیۓ کیا کر رہی ھو تم۔۔۔
مجھے مرجانا چاھیۓ تھا کیوں زندہ ھوں میں کیوں وہ اس قدر درد سے چلا کر روٸ کہ نرگس بھی خود کو روک نا سکی اسکا درد اسکی تکلیف نرگس کو اپنے انگ انگ میں اترتی محسوس ھونے لگی۔۔۔
اس بلکتی ھوٸ بختی کو جب اس نے گلے سے لگایا تو وہ وہ معصوم سے بچے کیطرح لپٹ گٸ نرگس کے دل سے ٹیسیں اٹھیں جو بختی کے دل سے نکل رہی تھیں۔۔۔۔
نرگس اسے پیار سے سہلانے لگی بس بیٹا بس۔۔۔۔
ماما جی ماما جی کہاں ھیں آپ ماما جی وہ چلاتی رہی۔۔۔۔
کیا ھو گیا آپکی بختی کیساتھ ماما جی کیا کیا آپ نے مجھے مار دیتے نا ایسا نا کرتے تنہا نا چھوڑتے مجھے۔۔۔۔۔۔
نرگس خود بھی روتے ھوۓ اسکا رونا سنتی رہی۔۔۔۔۔
جب وہ کچھ سنبھل گٸ تو نرگس اس کیلیۓ ناشتہ لاٸ کچھ کھا لو رتابہ بیٹا۔۔۔۔
وہ آنسو پونچھتی بولی رتابہ نام نہيں ھے میرا۔۔۔
کیا ھے نام پھر تمھارا؟؟؟نرگس کا لہجہ بہت نرم تھا۔۔۔
میرا نام۔۔۔ اس نے بھاری بوجھل پلکیں اٹھا کر نرگس کے پر نور چہرے کو دیکھا جیسے وہ یاد کر رہی ھو کہ وہ ھے کون؟؟؟؟
پھر سر جھکا لیا بدبخت ھے میرا نام۔۔۔۔۔
اسکے رونے پر نرگس کو اس پر بہت ترس آیا نرگس نے اسے ڈھارس دی۔۔۔۔
اچھا چھوڑو ان باتوں کو کچھ کھا لو وہ کچھ بھی کھانے کو تیار نا تھی۔۔۔
نرگس نے اپنے ہاتھوں سے نوالہ اسکے منہ میں ڈالا تو وہ اور بھی زیادہ رونے لگ گٸ۔۔۔۔۔
اب کیوں رو رہی ھو کھانا تو کھا لو۔۔۔۔
وہ سسکیوں کے درمیان بولی۔۔۔۔۔
مجھے دوسروں کے ہاتھوں سے مار کھانے کی عادت ھے کھانا کھانے کی نہيں ۔۔۔
اس کی بات سن کر نرگس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔۔
نرگس نے اسے اسوقت اکیلا چھوڑ دینا مناسب سمجھا کہ وہ تنہائ میں رو کر دل کا بوجھ کچھ ہلکا کر لے ۔۔۔۔۔ ______________
حافظ صاحب نے پڑوسیوں کی وجہ سے وہ محلہ ہی کیا بلکہ وہ شہر ہی چھوڑ دیا جہاں انہوں نےساری زندگی گزاری تھی۔۔۔۔
یہاں کا مکان بیچ کر فی الحال انہوں نے حیدرآباد میں کرائے کا مکان دیکھ لیا اور نمل کو لے کر وہاں شفٹ ہو گئے۔۔۔۔۔
نمل یہاں آکر بہت بے چین اور بے قرار تھی اسے بختی کی یاد پل پل ستاتی تھی لیکن وہ اسے ملنے سے قاصر تھی اسے نہیں معلوم تھا بختی کہاں ہے اور کس حال میں ھے۔۔۔۔
دوسری طرف بختی نمل کو اور اپنی حالت کو لے کر بہت پریشان تھی اسے بھی نہیں پتہ تھا کہ نمل کہاں ہے اور کس حال میں ہے زندہ بھی ھے یا نہيں ۔۔۔۔۔۔
میرا حال یہ ھوا تو نمل کا اتنے دنوں میں کیا حال ھوا ھوگا؟؟؟؟
مجھے نمل کی سزا ملی ھے نا جانے کس حال میں ھوگی وہ آج میری وجہ سے۔۔۔۔۔
______________
عضد پورا دن گھر سے باہر تھا وہ موبائل بھی اپنا گھر چھوڑ گیا تھا شام ہونے کو تھی۔۔۔۔۔
نرگس بولائی بولاٸ پورے گھر میں پھرتی رہی کہ اسکا بیٹا کہاں چلا گیا ۔۔۔۔
دوسری طرف بختی نے خود کو اپنے آپ تک محدود کیا ہوا تھا وہ بالکل چپ چاپ گم صم بیٹھی رہی کیا ھوگیا تھا اسکے ساتھ گوپال کے گھر سے نکل کر وہ راستے کا پتھر بن گٸ تھی۔۔۔۔۔
مغرب کی اذان ھونے لگی اسکے ہاتھ اپنے آپ دعا کیلیۓ اٹھے۔۔۔۔
اسکے منہ سے صرف اللہ اللہ نکلتا رہا اور آنسو ہتھیلی پر گرتے گۓ اسے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا اسکے ساتھ ھوا کیا ھے اور کیوں ھوا ھے۔۔۔۔۔
ان آنسوٶں میں ناکوٸ شکوہ تھا نا کوٸ شکایت بس اپنے اندر بے پناہ درد لیۓ خاموش آنسو تھے۔۔۔۔
ایسے خاموش جیسے چارپائی پر کفن میں لپٹی خاموش لاش ھوتی ھے۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی اسکے آنسو رب کی بارگاہ میں قبولیت کے درجے کو پہنچنے والے تھے۔۔۔۔
نرگس اندر آٸ اور زبردستی اسے جوس پلایا۔۔
کچھ پوچھ سکتی ھوں تم سے تمھارے بارے میں وہ اسکے پاس کرسی کھسکا کر بیٹھی۔۔۔۔
کیا پوچھیں گی آپ اسکی نظر اپنے پیروں پر تھی۔۔۔
میرا نام۔۔۔۔
میرا گھر بار۔۔۔۔
میرے ماں باپ ۔۔۔
میرے رشتے درا۔۔۔
کہاں سے آٸ ھوں میں۔۔۔۔
یا میری اس حالت کے ذمہ دار کا نام۔۔۔۔۔۔
نرگس چپ ھوگٸ۔۔۔۔
بختی خود ہی اپنے سارے سوالوں کا جواب بڑے دردناک انداز میں دینے لگی۔۔۔۔۔
نام میرا بد بخت ھے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپک کر گود میں گرا۔۔۔۔
گھربار میرا کوٸ نہيں پھر دوسری آنکھ سے آنسو تارے کیطرح ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔
ماں باپ کون ھیں کہاں ھیں زندہ ھیں یا مر گۓ میں نہيں جانتی اب آنسو لڑی کی مانند بہنے لگے۔۔۔۔
رشتےدار میرا کوٸ نہيں سوا اک ماما جی کے جس نے مجھے پالا اسکا بھی مجھ سے کوٸ رشتہ نہيں اب۔۔۔
یہاں اک زارا نامی عورت کے پاس مجھے کراچی سے بھیجا گیا جس کے پاس میں صرف سات دن رہی
اور اب اس حالت میں آپ کے پاس ھوں۔۔۔۔
اور میری اس حالت کا ذمہ دارکون ھے میں نہيں جانتی۔۔۔
میں یہ بھی نہیں جانتی کہ زارا آپی کہاں رہتی ھے۔۔۔
نرگس تحمل سے اسکی بات سن کر بڑے نفیس انداز میں بولی۔۔۔۔۔
تم نے پھر اپنا نام رتابہ کیوں بتایا تھا کل مجھے۔۔۔۔
میرے ماما جی مجھے بختی کہتے تھے لیکن اس نام سے میں جہاں جہاں متعارف ھوٸ وہاں وہاں میری بد بختی میرے ساتھ آٸ اسلیۓ آپکو اس وقت یہ نام بتایا ھوگا۔۔۔۔
نرگس بولی اب کہاں جانا ھے تم نے بتا دو میں لے جاٶنگی تمھیں۔۔۔۔
وہ آگ کی بھٹی کیطرح سلگتی ھوئ آنکھوں سے نرگس کیطرف دیکھنے لگی پھر کچھ دیر بعد اپنے سوکھی لکڑیوں کی مانند لب کھولے۔۔۔۔
میں لاوارث ھوں آنٹی ایسے لاورثوں کی نا زمیں واقف بنتی ھے نا فلک سایہ دیتا ھے بالاۓ زمیں پر تو میرا کوٸ ٹھکانا نظر نہيں اب۔۔۔ آپکے یہاں سے جانے پر زیرِ زمیں ہی میرا گھر میرا منتظر ھوگا پھررررررر۔۔۔۔
اسکے ارادے جان کر نرگس سوچ میں پڑ گٸ کہ کیا جاۓ اسکا اگر میں نے اسے گھر سے نکالا تو بے آسرا بچی ھے خود کشی نا کر لے یا پھر سے کسی درندے کے ہاتھ نا لگ جاۓ۔۔۔۔
نرگس نے اسے بغور دیکھا تیکھے تیکھے گندمی نین نقوش میں انتہا کی معصومیت اور بے بسی تھی اسکے اک اک نقش سے اسکے اندر کا کرب چھلک رہا تھا۔۔۔
نرگس نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ وہ اسے اپنے پاس اپنی بیٹی بنا کر رکھ لے گی ۔۔۔۔۔
_______________
عضد رات گۓ گھر آیا وہ بنا ماں سے ملے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
نرگس اسکے پیچھےآٸ ۔۔۔۔
کہاں تھے تم میں کتنی پریشان تھی جانتے ھو۔۔۔۔
وہ خاموش رہا ۔۔۔۔
یہاں دیکھو میری طرف نرگس نے سختی سے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔۔۔
مجھے آپ نے میرے خود کیطرف دیکھنے کے بھی قابل نہيں چھوڑا۔۔۔۔۔
معاف کر دو مجھے بیٹا میں نے تم پر شک کیا۔۔۔۔
عضد کی آنکھوں میں آنسو تھے
امی آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ آپکا بیٹا اتنی گھناٶنی حرکت کریگا۔۔۔۔
بیٹا قصور میرا نہيں حالات سب تمھارے خلاف تھے۔۔۔۔
وہ انگارہ ھوتی آنکھوں سے ماں کو دیکھنے لگا امی میرے ہاتھ پر زخم کے چند نشانات نے میرے زانی ھونے کا ثبوت دے دیا آپکو۔۔۔۔۔
نرگس رو پڑی نا میرے بچے نا ایسی بات نہيں میری جگہ کوٸ اور ھوتا تو وہ بھی یہی سوچتا اسوقت۔۔۔۔
وہ باقاعدہ تکلیف کی شدت سے روپڑا۔۔۔
امی آپکی جگہ کوٸ بھی ھوتا مجھے پراہ نہيں تھی لیکن اوروں کی جگہ آپ نے لے لی اس بات کا دکھ ھے مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔
میری طرف نہيں دیکھو گے نرگس نے اسے پیٹھ پیچھے سے پکارا۔۔۔۔
وہ یونہی رخ پھیرے کہنے لگا دیکھنے کے قابل نہيں چھوڑا آپ نے مجھے۔۔۔۔۔۔
________________
گوپال لاڑکانہ میں اپنے لیۓ گھر ڈھونڈ رہاتھا کہ وہ بابو سے چھٹکارا حاصل کر سکے ۔۔۔۔۔
لیکن اسکی بیٹی بندیا بابو سے رابطے میں تھی یہاں کی ہر خبر وہ اسے دیتی۔۔۔۔
گوپال کو جب علم ھوا تو اس نے بہت سمجھایا اپنی بیٹی کو پر وہ نا سمجھی اور باپ کے بار بار ٹوکنے پر ماں سے شکایت کر دی ۔۔۔۔
دیوی نے خوب لتاڑہ گوپال کو ۔۔۔
وہ ھمیشہ کیطرح خاموش تماشاٸ بن گیا۔۔۔۔۔
_________________
عضد کو انتہا کی نفرت تھی رتابہ(بختی) سے اسکا بس نہيں چلتا تھا کہ وہ اسے زندہ زمین میں گاڑ دیتا۔۔۔
نرگس کے اسے اپنے گھر میں رکھنے پر وہ اب تک ناراض تھا ماں سے۔۔۔۔
نرگس اسے اگنور کرتی رہی کہ کچھ دن میں ٹھیک ھوجاۓ گا۔۔۔۔۔
رتابہ دن بدن نرگس کے دل میں اترتی گٸ۔۔۔۔
وہ معصوم سی بے ضرر سی لڑکی دل و جان سے عزیز ھونے لگی اسے۔۔۔۔
رتابہ (بختی) نے بھی خود کو بہلا لیا تھا کچھ کچھ۔۔۔۔
عضد کسی کام سے کچن میں آیا تو باہر آتی رتابہ اس سے ٹکراٸ۔۔۔۔۔
رتابہ کو خود سے ٹکراتا دیکھ کر اسکا خون کھول اٹھا۔۔۔
وہ اسے کندھوں سے دبوچ کر دھاڑا۔۔۔۔۔
اگر دوبارہ میرے سامنے بھی آٸ نا تو جان سے مار دونگا تمھیں ۔۔۔۔
وہ ڈری سہمی پیچھے کو ہٹی وہ دو قدم اسکی طرف بڑھا ۔۔۔۔
دفع ھو جاٶ یہاں سے اور جتنی جلدی ھو سکے کوٸ اور ٹھکانا ڈھونڈ لو اپنا زیادہ دن میں تمھیں اس گھر میں برداشت نہيں کرسکتا
وہ عضد اور اسکے غصے سے بہت خوفزدہ ھو گٸ تھی۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی گھر آتا رتابہ خود کو کمرے میں قید کر لیتی ۔۔۔۔
______________
چار دن گزر گۓ تھے عضد ماں سے صرف ضروری بات کرتا لیکن آج شام کو گھر وہ بہت خوشی سے لوٹا اور آتے ساتھ ماں کو گلے سے لگا لیا۔۔۔
نرگس تڑپ اٹھی اسے اپنے سینے سے لگا کر۔۔۔۔
امی میں بہت خوش ھوں آج ماں صدقے جاۓ میرے بچے تجھ پر۔۔۔۔
وجہ نہيں پوچھیں گی وہ نرگس کی گود میں سر رکھ کر بولا۔۔۔۔
بتاؤ میری جان۔۔۔۔
امی جو انٹرویو میں نے ھمدانی انٹر پراٸز کمپنی میں دیا تھا نا وہاں سے مجھے کال آٸ آج صبح ۔۔۔۔۔
نرگس نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا انہوں نے تو منع کر دیا تھا نا تجھے۔۔۔۔۔
جی امی لیکن دوبارہ بلایا ھے انہوں نے کل آپ دعا کیجیۓ گا اس دفعہ کامیاب ھو جاٶں۔۔۔
وہ اسکا ماتھا چوم کر بولیں تو اس بار کامیاب ھوگا میری جان۔۔۔۔
ماں بیٹے کا یہ پیار دیکھ رتابہ کی آنکھیں اشک بار ھو گٸیں۔۔۔۔
اسکا دل چاہا کاش میری بھی ماں ھوتی میں بھی کسی کی گود میں سر رکھتی ۔۔۔۔۔
ماں کا وجود ماں کا پیار ماں کی گود کیسی ھوتی ھے اسے کچھ نہيں معلوم تھا۔۔۔۔
______________
جازب کی بڑھتی بے چینی دیکھ کر شاہ جی سے رہا نا گیا وہ اسد کے ساتھ نمل کے گھر جا پہنچا۔۔۔۔
گیٹ پر تالا تھا ۔۔۔۔
گلی میں کسی کو روک کر اس نے پوچھا یہ گھر والے کہاں ھیں۔۔۔۔
رکنے والا عظمت تھا۔۔۔
اتنی بڑی گاڑی میں اتنے خوبرو جوان کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔۔۔۔
گھر چھوڑ کر چلے گۓ ھیں حافظ صاحب یہاں سے۔۔۔۔
کہاں چلے گۓ ھیں کچھ پتہ ھے آپکو ۔۔۔۔
نہیں جی کہاں گۓ ھیں یہ تو نہيں معلوم لیکن کیوں گۓ ھیں یہ معلوم ھے ۔۔۔۔۔
شاہ جی نے گلاسز اتارے کیوں گۓ ھیں ۔۔۔۔
بس جی کیا بتاٸیں انکی بیٹی کا چال چلن اچھا نہيں تھا عین شادی سے دو دن پہلے غاٸب ھوٸ تھی۔۔۔۔
شاہ جی بولا لیکن میں نے تو سنا تھا وہ اغوا ھوٸ تھی ۔۔۔۔
عظمت بولا رہنے دیں صاحب جی۔۔۔۔
اغوا کرنے والے کو دوسری بچی نظر نہيں آٸ تھی صرف اسی کو اٹھانا تھا۔۔۔۔۔
کونسی دوسری بچی شاہ جی نے سوال کیا۔۔۔
عظمت چاچا نے سامنے والے گھر کیطرف اشارہ کیا اسکے ساتھ یہ برابر والے گھر کی بچی یہ بھی اس دن نمل کیساتھ تھی جب یہ سارا معاملہ ھوا ۔۔۔۔
شاہ جی نے برابر والا گھر دیکھا وہاں بھی تالا لگا ھواتھا۔۔۔
یہ لوگ کہاں ھیں ؟؟؟
یہ بھی لگتا ھے گھر چھوڑ گۓ ھیں مہینہ ھو گیا گھر بند پڑا ھے۔۔۔۔
عظمت چاچا کی بات سنکر شاہ جی نے اسکا شکریہ ادا کیا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے چلا گیا۔۔۔۔۔
_______________
عضد آج شام کو جلدی گھر آگیا تھا نرگس نہيں تھی گھر میں۔۔۔۔
دروازہ رتابہ نے کھولا۔۔۔
اسے گیٹ پر دیکھ کر وہ آگ بگولہ ھو گیا اور نہایت حقارت سے پوچھا تم نے گیٹ کیوں کھولا ھے امی کہاں ھیں ۔۔۔۔
اسکی بلند آواز سے وہ کانپ گٸ گھر نہيں ھیں وہ بازار گٸیں ھیں ۔۔۔۔
اسے نرگس کا بتا کر وہ تیز تیز قوں سے چلتی اپنے کمرے میں چلی گٸ ۔۔۔۔۔
عضد کچھ دیر بعد اسکے پیچھے اسکے کمرے میں دبے قدموں سے داخل ھوا۔۔۔۔
رتابہ کپڑے طے کر رہی تھی جب اس نے پیچھے سے بختی کو اپنی بانہوں میں گھیرا خوف کے مارے سانس روکے وہ پلٹی سارے کپڑے اسکے ہاتھ سے زمین پر آ گرے۔۔۔۔
عضد کو خود سے اتنا قریب دیکھ کر وہ بد حواسی میں چلائی یہ کیا کر رھے ھیں آپ۔۔۔۔
عضد نفرت سے پھنکارتا ھوا کہنے لگا وہی کر رہا ھوں جو کچھ دن پہلے کیا تھا۔۔۔۔
کککک کیا مطلب ھے آپکا چھوڑیں مجھے اس نے خود کو چھڑانا چاہا۔۔۔۔۔
عضد نے اسکے چھڑانے پر مذید بازوؤں سے دبوچا اسے۔۔۔۔
کیوں چھوڑوں تم نے مجھے چھوڑا تھا اس رات۔۔۔۔۔
وہ رو پڑی خدا کاواسطہ ھے عضد رحم کھاٸیں مجھ پر۔۔۔۔
نرگس واپس آ چکی تھی اسپیئر چابی سے گیٹ کھول کر وہ گھر میں داخل ھوئ تو بختی کی رندھی ھوئ آواز سن کر سامان وہیں زمین پر پھینکا اور لاؤنج میں سیڑھیوں کیطرف بڑھنے لگی۔۔۔۔
عضد پلیز رحم کریں مجھ پر یہ کیا کر رھے آپ ۔۔۔۔
وہ ڈھٹائی سے بولا نہيں آسکتا مجھے تم پر رحم میری ماں کے سامنے تم نے مجھے رسوا کیا۔۔۔۔
رتابہ نے خود کو چھڑانے کی ناکام کوششش کی لیکن وہ عضد تھا جسکے ہاتھ میں لوہا بھی موم بن سکتا تھا یہ تو نازک سی کلی تھی۔۔۔۔
وہ با آواز رونے لگی پلیز مت کریں میرے ساتھ اسطرح چھوڑ دیں مجھے وہ عضد کی بانہوں میں بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپی۔۔۔۔
ایک بار تو ھو گیا نا ھمارے بیچ یہ سب اب دوبارہ ھونے میں کیسا ہرج کیسی شرم؟؟؟
عضد نے اسے بیڈ پر پٹخا۔۔۔۔
بلکہ اب تو مجھے جب جب موقع ملا میں یہی سب کرونگا تمھارے ساتھ ۔۔۔۔
جاری ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
