Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 18)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 18)
Bad Bakhat by Arshi Noor
نمل کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ھوا وہ جیسے ہی پلٹی تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے ھوش اڑ گۓ۔۔۔۔
سامنے کھڑا شخص بھی نمل کو دیکھ کر اپنے حواسوں میں نا رہا۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر دونوں دم سادھے ایک دوسرے کو دیکھتے رھے۔۔۔۔
تممممم۔۔۔۔۔ خوف کے مارے نمل کی آواز لرز گئ اسکی لرزتی آواز نے دونوں کے بیچ چھایا سکوت توڑا۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو اک ٹک نمل کو سامنے پا کر پتھر کا بت بنا کھڑا تھا اسے اپنے سامنے دیکھ کر اسکی سانسیں تھم سی گئیں اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسے نمل اسطرح اپنے ہی گھر میں ملے گی۔۔۔۔
وہ دبی دبی آواز میں چلائ تم یہاں تک آگۓ میرا پیچھا کرتے کرتے۔۔۔۔
آواز میں اب غم و غصے کا تاثر زیادہ تھا ایک بار مجھے پورے جگ میں رسوا کرکے سکون نہيں ملا جو دوسری بار میری زندگی برباد کرنے چلے آۓ ھو۔۔۔۔
سامنے کھڑے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن جازب کے خاموش لب کھلے۔۔۔
میں تمھارے پیچھے نہيں آیا اس نے بے یقینی سے سر نفی میں ہلایا نا تمھیں برباد کرنے آیا ھوں میں تو اپنے۔۔۔۔۔
نمل نے اسکی پوری بات نا سنی اور ہاتھ جوڑ کر بولی خدا رسول کا واسطہ ھے تمھیں چلے جاؤ یہاں سے جینے دو مجھے پہلے ہی تمھاری وجہ سے مجھے اپنا گھر اپنا محلہ اپنا شہر تک چھوڑنا پڑا اب تم کیا چاھتے ھو دنیا چھوڑ دوں میں؟؟؟
میں نے ایسا کبببب۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پھر جازب کی بات کاٹی اور بھرائی ھوئ آواز میں بولی۔۔۔
چلے جاٶ یہاں سے اب میں مذید بدنامی کے لیبل اپنے ماتھے پر نہيں چپکا سکتی میں۔۔۔
دیان کی رونے کی آواز پر وہ پھر بولی۔۔۔۔
میرا بچہ رو رہا ھے چلے جاؤ یہاں سے میں تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاھتی مجھے جینے دو اب وہ اسکے آگے پھر سے ہاتھ جوڑنے لگی چکے جاؤ یہاں سے پلیززززز چلے جاٶ میرے گھر سے وہ رو دینے کو تھی۔۔۔
جازب اسکے منہ سے بچے کا نام سن کر شاکڈ سا ھو گیا اور بنا کچھ کہے الٹے قدموں پلٹا دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پھٹ جاۓ گا۔۔۔۔
نمل نے بھاگتے ھوۓ جلدی سے دروازہ بند کیا پھر روتے ھوۓ دیان کو گود میں لے کر خود بھی رو پڑی۔۔۔۔
اے میرے رب یہ کیسا امتحان ھے یہ یہاں کیسے پہنچا یہ۔۔۔۔
اگر ابھی نرگس انٹی آجاتی تو کیا ھوتا وہ اسے دیکھ کر کیا سوچتیں اس نے بدنامی کے خوف سے جھرجھری لی یہاں بھی میں ذلیل اور رسوا ھوتی اس ایک شخص کے ہاتھوں پریشانی سے اسکے ماتھے کے بل گہرے ھوۓ۔۔۔۔
گاڑی واپسی کے راستے پر ڈرائيو کرتے ھوۓ یہ سوچ سوچ کر جازب کا دماغ پھٹ رہا تھا کہ وہ اسکے گھر میں کیا کر رہی تھی؟؟؟؟
کیا وہ عضد کی بیوی تھی؟؟؟؟
اگر عضد کی شادی ھوٸ ھے تو امی نے مجھ سے ذکر کیوں نہيں کیا یا مجھے بتانا بھی مناسب نا سمجھا اگر یہ واقعی میں عضد کی بیوی ھے تو میں تو پھر ساری زندگی عضد کو منہ دکھانے کے قابل نہيں رھونگا۔۔۔۔
وہ مجھ سے مذید نفرت کریگا اللہ نا کرے ایسا ھو اگر امی کو بھنک بھی لگ گئی اس بات کی کہ میں نے اس لڑکی کو کڈنیپ کیا تھا یا میری قید میں اس نے پانچ دن گزارے تھے تو کیا سہہ پائیں گی امی ؟؟؟
اس نے ڈیش بورڈ پر پڑی سگریٹ اٹھائ اور لائٹر سے اسے جلاتا خود بھی شعلے کی جل رہا تھا۔۔۔
سگریٹ کے گہرے کش لگاتا اسکا دھواں پریشانی سے کبھی ناک کے نتھنوں سے خارج کرتا کبھی منہ سے مرغولے ھوا میں خارج کرتا ڈرائیو کرتا رہا۔۔۔
اففففففف اسکا دماغ کھولتے پانی کیطرح کھول رہا تھا وہ بہت بے چین اور بے قرار تھا کہ یہ کیا ھوگیا؟؟؟؟ کیا اسی کا نام قسمت ھے جو اسطرح منہ کے بل بھی انسان کو گرا سکتی ھے؟؟
کیا قسمت کے کھیل اتنے انوکھے ھوتے ھیں کہ وہ چاروں خانے انسان کو چت کر دیتی ھے؟؟؟ یہ سوچ کر ایک بار پھر مایوسی کی اتھا گہرائیوں میں وہ جا گرا تھا
__________
عضد کا رویہ دن بہ دن رتابہ سے سخت ھوتا چلاگیا۔۔۔
اسکی نظر میں رتی بھر بھی رتابہ کی کوٸ وقعت کوٸ حیثیت نا تھی۔۔۔۔
رتابہ سارا دن گھر میں بند رہتی اور در و دیوار سے باتیں کرتی رہتی یا کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھتی۔۔۔
وہ وہاں کی عورتوں کو ادھ ننگے لباس اور پینٹ شرٹ میں دیکھ کر بہت حیران ھوتی۔۔۔
چھوٹے چھوٹے کاٹیج کیطرح یہاں ایک جیسے گھر قطار درد قطار بنے ھوئے تھے کچھ بڑے اور کچھ چھوٹے۔۔۔
انکی کھڑکیاں ہریالی سے بھری ھوئ تھیں اور اسٹریٹ جو شیشے کیطرح صاف شفاف تھی اس پر کیاری نما جامنی اور سرخ رنگ کے پھول ھو اسے لہلہاتے رتابہ کی توجہ کا مرکز بنے رہتے۔۔۔
اسکا دل چاہتا کہ وہ گھر سے باہر نکلے اور ان پھولوں کو چھووے جو ھوا کی سرسراہٹ سے سر جوڑے جھومتے رہتے تھے۔۔۔
لیکن وہ صرف ایسا سوچ ہی سکتی تھی گھر سے باہر اسکا قدم نکالنا یہاں نا ممکن تھا اور یہاں نا کوٸ پڑوس تھا نا کوٸ بات کرنے یا سننے والا۔۔۔۔
عضد صبح بغیر ناشتے کے آفس جاتا اور رات کا کھانا کھا کر گھر آتا۔۔۔
جاتے ھوۓ وہ گھر لاک کر کے جاتا اور واپس آکر اپنے ہاتھوں سے کھولتا۔۔۔
رتابہ کے ہاتھ کی بنی کوٸ چیز وہ اپنے حلق سے اتارنی گوارا نہيں کرتا تھا اور نا ہی اسکے ساتھ کوٸ بات کرتا تھا۔۔۔
رتابہ اسکے لیۓ گھر میں پڑی کوٸ فضول سی بے جان شے تھی عضد آج گھر شام کو جلدی آیا تو اسکے ساتھ اسکا دوست اسود تھا۔۔۔۔
اسلام و علیکم بھابھی کیسی ھیں آپ اسود نے گرم جوشی سے مسکراتے ھوۓ رتابہ کا حال احوال دریافت کیا۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔ وہ ہلکی سی جواب میں مسکرا کر بولی اللہ کا احسان ھے آپ کیسے ھیں؟؟؟ نگاھوں میں ذرا حیرانگی تھی۔۔۔
آپ حیران ھو رہی ھیں مجھے یہاں دیکھ کر وہ رتابہ سے گلا کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
جی نہيں حیران نہيں ھوئ رتابہ نے تحمل سے ہلکا سا ماتھے پر بل دیکر جواب دیا۔۔۔
اسود مسکرایا ویسے بھابھی میں آپکو دیکھ کر یہاں بہت حیران ھوں۔۔۔
کیوں میری موجودگی آپکے لیۓ حیران کن کیوں ھے؟؟ بڑے پر سکون لہجے میں سوال پوچھا۔۔۔
وہ عضد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا کیونکہ میرا دوست پریشان بہت ھے۔۔۔۔۔
عضد نے اسے آنکھیں دکھاٸیں بکواس نا کر۔۔۔۔
مذاق کر رہا ھوں بھابھی معاف کیجیۓ گا وہ ھنس کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔۔
جواب میں رتابہ خاموش رہی اور اپنے کمرے میں جانے لگی۔۔۔۔
بھابھی چاۓ تو بنا دیں اچھی سی اسود نے اس سے چاۓ کی فرمائش کی۔۔۔۔
جی ابھی لاتی ھوں وہ کچن میں آٸ۔۔۔۔
عضد اس پر سوار ھوا یہ کیا تو اسکو بھابھی بھابھی کہہ رہا ھے تو اچھی طرح سے جانتا ھے ساری حقیقت۔۔۔
میں اسے بیوی نہیں مانتا پھر بھی تو نے اس سے فوراً رشتہ جوڑ لیا اپنا عضد کا انداز ذرا برھم سا اور خفگی لیے ھوۓ تھا۔۔۔۔
یار بھابھی ہی کہہ سکتا ھوں اب اسے نام سے پکارنا مناسب نہيں لگتا۔۔۔
تجھے ضرورت کیا ھے اسے پکارنے کی عضد سر جھٹک کر بولا۔۔۔۔
بس کر یار بس یہ میری اس سے پہلی ملاقات نہيں تین بار پاکستان میں تیرے گھر گیا تھا اچھی طرح جانتی ھے وہ مجھے اور یار مروت بھی کوٸ چیز ھوتی ھے میں ایسے کیسے تیرے گھر آ کر اس سے اجنبیت برت سکتا ھوں تیرے اندر اتنی بے رحمی ھے میرے اندر نہیں۔۔۔اس نے سختی سے جواب دیا۔۔۔
رتابہ سب کچھ سن رہی تھی۔۔۔
وہ آپس میں اسی طرح سوال جواب کرتے رھے ایک دوسرے سے انکی باتوں سے رتابہ کو اندازہ ھوگیا کہ اسود اسکے بارے میں ساری حقیقت جانتا ھے۔۔۔
چاۓ کیساتھ اسے اسود کے سامنے آتے ھوۓ پہلی بار شرمندگی ھوٸ کہ وہ مجھے دیکھ کر کیا سوچتا ھوگا؟؟؟
چاۓ انکو دے کر وہ کمرے چلی گٸ۔۔۔۔۔
عضد کچھ دیر بعد اندر آیا۔۔۔
وہ حسب معمول قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی۔۔۔۔
اسود یہیں کھانا کھاۓ گا کچھ منگوانا ھے بتا دو میں لسٹ بنا لیتا ھوں اسکے بمشکل بات کرنے کے انداز کو رتابہ جانچ گئ تھی کہ وہ نہایت مجبوری کے تحت اس سے بات کر رہا تھا۔۔۔
آپ جاٸیں میں کچھ دیر میں بتا دیتی ھوں تھوڑی دیر بعد ایک پیپر اس نے عضد کے سامنے رکھا۔۔۔
جس میں ہر ضرورت کی چیز انگلش میں لکھی دیکھ کر وہ کافی حیران ھوا اور بے ساختہ نگاہ وہاں سے پلٹی رتابہ کی پشت پر اٹھی کہ رتابہ پڑھی لکھی بھی ھے؟؟
دونوں دوست مارکیٹ سے سامان لاۓ۔۔۔
رتابہ نے دو گھنٹوں میں کباب، مٹن کڑاہی کھیر سلاد وغیرہ سب تیار کر کے ڈاٸینگ ٹیبل پر لگا کر عضد کے کمرے کا دروازہ بجایا۔۔۔
عضد نے اندر سے آواز لگائی کیا ھوا ھے؟؟؟
کھانا لگا دیا ھے میں نے کھالیں۔۔۔
وہ باہر آۓ اور دونوں اسکی پھرتی پر حیران ھوۓ۔۔۔۔
بھابی آپ نے تو کمال کردیا واؤ۔۔۔
اسود مزے سے کھانے سے بھری میز کو دیکھ کر ہاتھ رگڑ کر بولا اتنی جلدی اتنا کچھ اکیلے بنا لیا آپ نے۔۔۔۔۔۔
عضد نے آج پہلی بار اسکے ہاتھ کا کھانا کھایا بہت لذیذ کھانا تھا اسود کے منہ سے تو تعریف کے جملے ختم ھونے کا نام نہيں لے رھے تھے عضد نے بھی آج کافی دنوں بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا۔۔۔۔
___________
بابو کے دو جوے کے اڈوں پر چھاپا پڑا پولیس نا صرف اسکے بندے اٹھا کر لے گٸ بلکہ اسکے تینوں اڈے مستقل بند کر دیۓ لاکھوں کا اسےنقصان ھوا۔۔۔۔۔
اس نے ساری قصر بندیا پر نکالی۔۔۔
جب سے تو آٸ ھے نا منہوس میری زندگی میں تباھیوں نے مجھے تاڑ لیا ھے ہر روز کوٸ نا کوٸ نٸی پنچایت کھڑی ھوتی ھے میرے سامنے۔۔۔۔
وہ اسکی مار کھا کر روتے ھوۓ بولی۔۔۔
ہاں تو چھوڑ دونا مجھے کیوں باندی بنا کر رکھا ھوا ھے؟؟؟
وہ اپنے جوتے سے اسکا زمین پر رکھا ہاتھ کچل کر بولا اسوقت تک نہيں چھوڑونگا جب تک تیرا باپ بختی میرے حوالے نہيں کرتا۔۔۔۔۔
وہ اسکے جوتے کے نیچے سے اپنا ہاتھ کھینچ کر بولی تمھیں ہزار بار بتا چکی ھوں ھمیں نہيں پتہ بختی کہاں ھے؟؟؟ بھاگ گٸ ھے وہ اپنے کسی یار کے ساتھ ۔۔۔۔۔
نا۔۔نا۔۔۔نا ۔۔۔ وہ خباثت سے اونچی آواز میں ھنسا۔۔۔۔
بختی بھاگی نہيں تیرے باپ نے چھپاٸ ھوٸ ھے اپنے لیۓ۔۔۔انداز اب کافی چھبتا ھوا تھا۔۔۔۔
کیا مطلب ھے تمھارا وہ بابو کی بات سن کر اپنا درد بھول کر حیرانی سے آنکھیں پھاڑے اسے تکنے لگی۔۔۔۔۔
بختی کا کوٸ یار نہيں ہاں البتہ تیرا باپ اسکا دیوانہ ضرور ھے بابو کا لہجہ بہت زہریلا تھا۔۔۔۔
بندیا اپنا رونا بھول گٸ کیا کہنا چاھتے ھو صاف صاف کہو۔۔۔
دل تو نہيں چاہ رہا کہ تجھے بتاٶں اور تیرے باپ سے تیرا دل میلا ھو لیکن تو اسرار کرتی ھے تو پھر سن۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے ٹانگیں پھیلا کر بیٹھا۔۔۔
بختی کا عاشق ھے تیرا باپ ناجائز تعلق ھے تیرے باپ کا اسکے ساتھ میں چشم دید گواہ ھوں تیرے باپ کی عاشقی کا۔۔۔۔۔۔
بندیا کو ایسے لگا جیسے اسے کسی نے دہکتی ھوئ آگ میں ڈال دیا ھو وہ زور سے سر کو جنبش دیتی کہنے لگی بکواس کر رھے ھو تم جھوٹ بول رھے ھو میرے پاپا ایسے نہيں ۔۔۔۔
بابو کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا جھوٹ بولوں تو بھگوان مجھے کبھی معاف نا کرے۔۔۔
تیرا باپ اسلیۓ مجھ سے اتنی نفرت کرتا ھے کہ میں نے بختی کیساتھ اسے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا اسی سچ کیوجہ سے وہ تیرے ساتھ میرے بیاہ کیلیے تیار نا تھا کہ کہیں میں تجھے تیرے باپ کی حقیقت نا بتا دوں۔۔
بندیا ھونکوں کیطرح منہ کھولے حواس باختہ اسے تکنے لگی۔۔
بابو ماچس کی تیلی ھونٹوں میں گھمانے لگا بختی مجھے پسند ھے تیرے باپ کو میں نے سمجھایا کہ بختی میرے حوالے کر دے۔۔۔۔
لیکن اس نے بختی کو ہی غاٸب کردیا اب بختی کو واپس حاصل کرنے کیلیۓ مجھے تیرے ساتھ پیار کا اور بیاہ کا ناٹک کرنا پڑا اب یہ کھیل تب ختم ھوگا جب تیرا باپ بختی مجھے دیگا۔۔
باپ کی یہ حقیقت جان کر اسکی روح حلق میں آن پھنسی بندیا کو خود سے بھی گھن آنے لگی۔۔۔۔
تیرے باپ کو وہ اتنی عزیز ھے سب کچھ جان کر بھی اس نے تجھے میرے حوالے کردیا لیکن بختی نہيں کی۔۔۔
بندیا کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اسمیں سما جاۓ۔۔۔
بابو تو چلا گیا لیکن بندیا جھولیاں بھر بھر کر بختی کو بد دعائيں دینے لگی کم ذات۔۔ کم نسل۔۔۔ کسی ذلیل انسان کی ذلالت کا ہی بیج ھے تو ھماری آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی۔۔۔
اور میرے باپ کو بھی ہتھیا لیا جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا آآآخخخخخ تھو اس نے نفرت سے زمین پر تھوک پھینکا میری ماں میرے باپ کیساتھ ساتھ تو نے مجھے بھی برباد کر دیا۔۔۔
کم ذات کمینی گھٹیا لڑکی ایک بار بس ایک بار میں نکل جاٶں یہاں سے پھر دیکھ میں تجھے پاتال سے بھی نکال کر لےآٶنگی اور سنگسار کروں گی تجھے تیری وجہ سے میں اس قید میں ھوں۔۔۔
ایک ایک ظلم کا ایک ایک آنسو کا حساب لونگی میں تجھ سے اور پاپا آپکو بھی نہيں بخشوں گی میں اس کمینی بدبخت کیلیۓ آپ نے اپنی ہی اولاد کو اس نرگ میں دھکیل دیا کسی کو نہيں چھوڑونگی میں نا بابو تجھے نا بد بخت تجھے نا اپنے باپ کو۔۔۔
وہ یہ سب جان کر بختی کو رو رو کر کوسنے لگی اور انتقام کی آگ اسکے اندر بھڑکنے لگی جس میں وہ اپنا آپ مسلسل جلتا ھوا دیکھ رہی تھی بابو کی قید میں۔۔
____________________
جازب بہت پریشان تھا کہ وہ کیسے جاۓ نرگس کے پاس وہ پھر سے سامنے آگٸ اور مجھے دیکھ کر اس نے اپنے ساتھ کچھ کر لیا تو یا نرگس کو سب کچھ بتا دیا پھر کیا ھوگا؟؟
اس نے نرگس کو کال ملاٸ حال احوال کے بعد وہ بولا امی گھر میں اسوقت کوٸ ھے آپکے ساتھ؟؟
نہیں بیٹا کیوں؟؟ نرگس کی پیشانی پر بل ابھرے۔۔۔۔
اوکے مجھے آنا تھا اسلیۓ پوچھا۔۔۔
نرگس اسکے آنے کا سن کر خوش ھو گٸ۔۔۔
اس نے فوراً گاڑی نکالی اور نرگس کے پاس پہنچا۔۔۔
نمل عارف کے گھر میں ٹیرس پر کھڑی تھی جازب کو گاڑی سے اترتا دیکھ کر وہ بری طرح چونکی۔۔۔
بلیک جینز پر ڈھیلی سی گرے کلر کی شرٹ میں وہ کافی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ نمل کے دیکھنے سے بے خبر گاڑی سے نکل کر مین گیٹ سے اندر داخل ھوا نرگس نے اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔۔
کچھ سیکنڈز ہی گزرے تھے کسی کے فون آنے پر وہیں سے پلٹ گیا۔۔۔
نمل نرگس کیساتھ جازب کو دیکھ کر سوچ میں پڑگٸ کہ اسکا کیا رشتہ تھا نرگس انٹی کیساتھ ۔۔۔۔۔
جازب کے یہاں آنے پر وہ خود بھی بہت پریشان تھی کافی دن ھو گۓ اس نے نرگس کے گھر چکر نا لگایا اس خوف سے کہ کہیں جازب سے اسکا ٹکراٶ نا ھو جاۓ۔۔۔۔
وہ جس بات سے کترا رہی تھی وہی ھوا نرگس نے اسے گھر بلوایا۔۔۔
نمل کے کٸ بہانے بنانے پر بھی نرگس نا مانی اسے جانا پڑا۔۔۔
وہ لاٶنج میں دیان کے کپڑے بدل رہی تھی جب اسے باہر لان سے مردانہ آواز آٸ۔۔۔
اس نے جیسے ہی باہر جھانکا تو باہر جازب تھا سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔۔۔۔
اسکا دل زور زور سے دھڑکا۔۔۔۔
تم نے وعدہ کیا تھا مجھ سے میرے پاس آنے کا۔۔۔
دونوں کی آواز اسے صاف سناٸ دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ناراض تو نا ھوں یار آٶنگا ضرور۔۔۔
تم جھوٹے ھو بہت اب تو عضد بھی نہيں یہاں لیکن تمھیں میری فکر کہاں؟؟؟
کیسی باتیں کرتی ھیں یار فکر ھے اپنی جان سے بھی زیادہ۔۔۔
نمل نے باہر ہلکے سے جھانکا۔۔۔
جازب نے نرگس کو گلے سے لگایا ھوا تھا۔۔۔۔
ایک اور جھوٹ اب میں نے نا تم سے اسطرح ملنا ھے نا کوٸ بات کرنی ھے بس بہت ھو گیا اب تمھیں آنا ھوگا واپس میں اور نہيں سہہ سکتی۔۔۔
اب عضد کے یہاں ھونے کا بہانا بھی نہيں تمھارے پاس۔۔۔
سنا ھے میں نے عضد کی شادی ھو گٸ ھے اس نے خود سے بے حد قریب بیٹھی نرگس سے سوال پوچھا۔۔۔۔
نرگس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
اور مجھے بلانا تو دور کی بات آپ نے بتایا بھی نہيں ۔۔۔
کیسے بتاتی بہت مشکل حالات میں اسکی شادی ھوٸ تھی اور اگر تمھیں بلا لیتی تو اک نیا تماشا کھڑا کر دیتا وہ تمھیں یہاں دیکھ کر۔۔۔
اس سے پہلے کہ جازب کچھ اور پوچھتا اندر سے جھانکتی نمل پر اچانک اسکی نظر پڑی تو وہ فوراً قمیض جھاڑے کھڑا ھوا۔۔۔
مجھے اب اجازت دیں پھر آٶنگا۔۔۔۔
نرگس نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔
اب آۓ تو جانے نہيں دونگی۔۔۔۔
عضد کی شادی کی تصدیق نرگس کی زبانی سن کر جازب کو لگا وہ کچھ پل بھی مذید ٹھہرا تو اسکا دل بند ھو جاۓ گا۔۔۔۔
وہ نرگس کی بات پر صرف سر ہلا کر رہ گیا اور دل ہی دل میں خود سے وعدہ کیا کہ واپس نہيں لوٹے گا اب کبھی بھی دل پھٹنے جیسی کیفیت سے اس نے نرگس کا ماتھا چوما۔۔۔۔۔
نمل یہ منظر دیکھ کر اور بھی پریشان تھی کہ یہ کون تھا کیا رشتہ تھا نرگس کا اسکے ساتھ؟؟؟
اور نرگس انٹی کا بیٹا کیوں جازب کو یہاں دیکھ کر تماشا بناتا اور جازب کیوں عضد کی غیر موجودگی میں یہاں آتا ھے ایسے ہزاروں سوال اسکے دماغ میں چل رھے تھے جسکا اسے جواب ملنا ناممکن تھا۔۔۔
انٹی نے تو اسے بتایا تھا کہ انکے شوہر نے انکو چھوڑ دیا تھا پھر یہ جازب کون تھا؟؟؟جس سے نرگس اسطرح بیٹے سے چھپ چھپ کر ملتی ھے۔۔۔۔
بہت عجیب عجیب خیالات اسکے دل و دماغ میں جازب اور نرگس کو دیکھ کر پنپنے لگے لیکن وہ کچھ بھی جازب کے متعلق پوچھنے سے قاصر تھی کیونکہ جازب کیساتھ اسکا اپنا بہت بھیانک اور نا قابلِ قبول ماضی اٹیچ تھا۔۔۔۔
___________
عضد کو لندن میں آفس ورک سے London سے Manchester جانا پڑا رتابہ کو ساتھ لے گیا کہ اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔
واپسی کے سفر پر دونوں Manchester train station پر ایک ہی بنچ پر دو اجنبیوں کیطرح بیٹھے ھوۓ تھے۔۔۔
موسم ابر آلود تھا طوفانی بارش کا امکان تھا وکٹوریہ لائن ٹرین اسٹیشن پر آ چکی تھی سبھی مسافروں کر جلدی تھی سبھی باری باری ٹرین پر سوار ھونے لگے عضد نے رش دیکھ رک رتابہ کا ہاتھ پکڑا اور ٹرین پر چڑھا تو اپنا سوٹ کیس باہر بھول گیا جس میں اسکے آفس کے تمام پروجیکٹس کی فائلز تھیں۔۔۔
اسے وہاں بیٹھنے کی ہدایت کرتا وہ جلدی سے اترا لیکن اسکے واپس پلٹنے پر ٹرین کے الیکٹرک ڈور بند ھوۓ اور چل پڑی وہ باہر ہی رہ گیا۔۔۔
ٹرین کے چلنے پر اور عضد کی غیر موجودگی پر رتابہ ڈر گئ۔۔۔۔
اس نے تھوک حلق سے نگلا اس کیلیۓ وہ لوگ وہ شہر وہ ملک بلکل نیا تھا اسے تو اپنا ایڈریس بھی نہيں معلوم تھا نا عضد کا نمبر پاس تھا نا موبائل فون وہ رو پڑی۔۔۔
کیا عضد مجھے چھوڑ گیا یہاں لیکن کیسے چھوڑ سکتا ھے وہ تنہا مجھے؟؟ نہیں ھو سکتا ایسا وہ جان بوجھ کر مجھے دیار غیر میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا یا پھر وہ واقعی مجھے چھوڑ چکا ھے؟؟؟ ناجانے کتنے ہی خیال اسکے ذہن میں ابھر کر چھناکے سے ٹوٹے۔۔۔
پلیٹ فارم کی مینیجمینٹ کے ذریعے عضد نے ٹرین میں اناؤسمینٹ کروائی کہ مسز رتابہ عضد اس سے اگلے Birmingham station پر اتر جائیں…
ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ برمنگھم اسٹیشن پر اتر گٸ وہاں پچھلے اسٹيشن کیطرح بہت رش نا تھا رات کے بارہ بج رھے تھے رتابہ بوکھلاٸ بوکھلاٸ ادھر ادھر عضد کو ڈھونڈنے لگی۔۔۔
سانس تھی کہ تنہائی کے خوف سے رک رک کر آ رہی تھی۔۔۔
ایک گھنٹہ گزر چکا تھا وہ سانس روکے عضد کی منتظر تھی۔۔۔
وہاں کھڑے دو چھچھورے سے لڑکے کب سے اسے دیکھ رھے تھے اسے مسلسل اکیلا دیکھ کر وہ رتابہ کے پیچھے پڑ گۓ۔۔۔
رتابہ انکو اپنی طرف آتا دیکھ کر ٹھٹھکی کیونکہ وہ اسے دیکھ کر اشاروں سے باتیں کر رھے تھے۔۔۔
وہ جلدی سے دائیں طرف چلنے لگی وہ آھستہ آھستہ اسکے پیچھے آنے لگے۔۔۔
وہ بہت بری طرح سے ڈری اسکی ٹانگیں کپکپانےلگیں عضد کہاں ھیں آپ آجاٸیں جلدی پلیز وہ اسے دل ہی دل میں شدت سے پکارنے لگی
پھر رکے ھوۓ آنسو گالوں پر بے ساختہ بہنے لگے۔۔۔
اب وہ دو سے تین ھو گۓ۔۔۔
بلو کلر کی میکسی نما فراق پر اس نے بلو شال لپیٹی ھوٸ تھی اپنی فراق اٹھاۓ وہ تیزی سے قدم اٹھاتی گردن گھماۓ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کس کو پکارتی مدد کیلیے سبھی اس پر اچٹتی نگاہ ڈال کر اپنا راستہ چل رھے تھے۔۔۔
بارش بھی شروع ھو گئ اس نے راستے پر غور کیا وہ پلیٹ فارم سے باہر جا رہی تھی اس نے اپنے قدم واپس لیے وہ لڑکے اس سے اب قریب تھے۔۔۔
بد حواس ھوتی رتابہ کا حلق سوکھنے لگا کانٹے چھبنے جیسا احساس ھوا پھر اسکی نظر دور سے برق رفتاری سے آتی اور پھر رکتی ٹرین پر پڑی۔۔۔۔
اسکی نظر ٹرین سے اترنے والوں لوگوں پر جم گئ انہی میں عضد بھی موجود تھا عضد کو دیکھ کر وہ دور سے چلاٸ عضدددددد ۔۔۔
عضدددد وہ فراق اٹھاۓ بھاگتی ھوٸ اسکی طرف بڑھی۔۔۔
اسکی آواز عضد تک پہنچی تو سامنے اسے بھاگتا دیکھ کر وہ اسکی طرف بڑھا وہ بھاگ کر دیوانہ وار اسکے گلے سے جا لگی کہاں چلے گئے تھے آپ؟؟ آواز بمشکل حلق سے برآمد ھوئ۔۔۔
سانسیں تھی کہ رونے کے باعث سنبھل ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔
آپ نے مجھے اسطرح اکیلا کیوں چھوڑا عضد اسکی آواز جسم کی طرح لرز رہی تھی دم نکلنے جیسی حالت تھی اسکی عضد کی غیر موجودگی میں۔۔۔
عضد کی نظر اسکے پیچھے آتے لڑکوں پر تھی جو تیزی سے اسکے پیچھے آ رھے تھے عضد کو دیکھ کر انکے تیزی سے اٹھتے قدم رک گئے۔۔۔۔
انکو غصے سے دیکھتے ھوۓ خود سے لپٹی رتابہ کو اس نے پوری قوت سے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیا۔۔۔
وہ جتنی تیزی سے رتابہ کیطرف لپکے تھے عضد کی بانہوں میں اسے اور عضد کی آنکھوں میں اپنے لیۓ غصہ دیکھ کر وہ وہاں سے پلٹ گۓ۔۔۔
عضد کی بانہوں کا سہارا پا کر وہ بکھر سی گئ دھڑکتے دل اور پھولتی سانسوں کیساتھ کافی دیر عضد سے لپٹی رہی۔۔۔
وہ عضد کے اتنا قریب تھی کہ اسکے دھڑکتے دل کی دھڑکنوں کے ارتعاش نے عضد کو اسکی نزدیکی کا احساس دلایا اس نے جلدی سے رتابہ کو خود سے دور کیا۔۔۔
کہاں چلے گۓ تھے آپ مجھے چھوڑ کر اس نے ہتھیلی کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے۔۔۔۔
وہ اسکی خوفزدہ آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں جھانک کر زیر لب بڑبڑایا کااااش۔۔۔۔ چھوڑ سکتا میں تمھیں۔۔۔۔
پلیز عضد جو بھی سزا دینی ھے دے دیں زندہ زمین میں گاڑ دیں لیکن مجھے اسطرح سرِ راہ چھوڑنے کی سزا نا دیں پلیز۔۔۔
وہ عضد کے آگے ہاتھ جوڑ کر روٸ عضد کو ایسے محسوس ھوا جیسے اس نے اسکی خاموش لبوں کی جنبش بھی سن لی تھی۔۔۔
اسکی حالت دیکھ کر عضد کو اس پر رحم آ گیا وہ اسکا کپکپاتا ہاتھ تھام کر بولا بس رونا بند کرو سب دیکھ رھے ھیں۔۔۔
پھر وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اگلی ٹرین کے انتظار میں ایک طرف کھڑا ھو گیا کہ انہوں نے جہاں سے اب لندن واپس جانا تھا۔۔۔
وہ اسکا بازو زور سے پکڑ کر اسکے ساتھ کھڑی تھی اب بھی اسکے جسم پر ہلکی ہلکی لرزاں طاری تھی اور سانسوں میں بھی ہلکی سی ہچکیاں عضد کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔۔
وہ رتابہ کے اتنی زور سے بازو تھامنے پر اسکے سر پر نگاہ ڈالے بولا جو اب اسکے کندھے سے لگا ھوا تھا۔۔۔۔
تمھارے ساتھ ہی ھوں بھاگ نہيں سکتا میں اپنی بدقسمتی سے وہ اس پر طنز کا تیر چلاۓ بنا نا رہ سکا۔۔۔
_____________
بابو کے آخری جوے کادھندا بھی چوپٹ ھو گیا آھستہ آھستہ وہ قرضدار ھوتا گیا۔۔۔
بندیا نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔۔۔
بابو بیٹی کے جنم پر ہتھے سے اکھڑگیا یہ کیا پیدا کیا ھے تو نے میرے لیۓ۔۔۔۔
مجھے بیٹا چاھیۓ تھا بیٹی نہيں یہ بھی تیری طرح منہوس ھے پیدا ھوتے ہی باپ کو قرض کی دلدل میں پھنسا دیا وہ قرض کی وجہ سے گھر چھپ کر بیٹھا ھوا تھا فاقوں کی نوبت آچکی تھی ان پر۔۔۔۔
صبح شام بندیا اسکی گالیاں سنتی۔۔۔
دل چاھتا ھے مار ڈالوں تم دونوں کو جس دن سے آٸ ھو میری زندگی میں میرا تخت الٹ کر رکھ دیا۔۔۔
ابھی وہ اسی کو کوس رہا تھا کہ باہر دروازہ زور زور سے کسی نے پیٹا۔۔۔
شششششش کچھ مت بولنا چپ وہ اسے انگلی کے اشارے سے خاموش کروانے لگا جو رو رہی تھی۔۔۔۔
باہر سے بھاری بھر کم آواز آئ بابو ھم جانتے ھیں تو اندر ہی ھے باہر نکل ورنہ ھم دروازہ توڑ کر اندر آجاٸیں گے۔۔۔
رامو کی آواز پر بابو نے گھبرا کر جلدی سے گیٹ کھولا۔۔۔
وہ اسے دھکا دے کر اندر آۓ جس پر وہ سنبھل نا سکا اور پشت کے بل زمین پر گرا۔۔۔۔
کیا چوھے کیطرح بل میں چھپا بیٹھا ھے میرے دس لاکھ روپے لے کر اڑن چھو ھو گیا تو کیا سمجھتا تھا مجھ سے بھاگ جاۓ گا چل میری رقم واپس کر ابھی کے ابھی ورنہ وہ بابو کی کن پٹی پر گن رکھے اسکا گریبان پکڑے ھوۓ تھا۔۔۔۔۔
کمرے سے بچی کے رونے کی آواز آٸ یہ بچی کی آواز کہاں سے آرہی ھے کون ھے اندر؟؟ رامو کے کان کھٹکے۔۔۔
رامو اپنے دو بندوں کے ساتھ اندر گیا۔۔۔
بندیا جلدی سے روتی ھوئ بچی کو دودھ پلانے لگی رامو کو دھڑلے سے اندر آتا دیکھ کر اس نے جلدی سے اپنے آپ کو ڈھانپا۔۔۔
واہ بابو واہ کیا مال چھپا کر رکھا ھوا ھے تو نے یار اسکی پوری بتیسی بندیا کو دیکھ کر باہر نکلی۔۔۔۔
وہ سر جھکا کر غلاموں کیطرح جھکے بولا رامو سرکار پتنی ھے میری۔۔۔۔
رامو گن سے اپنی داڑھی کھجا کر آنکھوں کی پتلیوں کو سکیڑ کر بولا اوہ اچھا تیری پتنی ھے یہ ویسے ہے بڑی خوبصورت بلکل ہیرے جیسی ھے۔۔۔
وہ کم سِن براٶن آنکھوں والی بے حد گوری بندیا پر نظر ٹکاۓ بولا تیرا قرض معاف کرسکتا ھوں میں اک شرط پر۔۔۔نگاہ مسلسل بندیا کا احاطہ کیے ھوۓ تھی۔۔۔
بابو کی خوشی سے بانچھیں کھلیں۔۔۔۔
جی سرکار شرط نہيں آپ حکم کریں بندے کی جان بھی حاضر ھے وہ اسکے قدموں میں جھک کر اب ٹانگیں دبانے لگا۔۔۔
تیری جان لے کر میں نے کیا کرنا ھے تیری لُگاٸ چاھیۓ ایک رات کا ایک لاکھ ۔۔۔۔
رامو کی بات سن کر بندیا چکرا کر رہ گٸ۔۔۔
اور بابو تو اسکے حکم کا غلام تھا سرکار میں بھی آپکا یہ بھی آپکی۔۔۔
رامو اپنے بندوں سے بولا اٹھا کر لےآٶ اسے۔۔۔
اور سن اپنی بچی کو اپنے پاس رکھ صبح کا سورج ڈھلنے سے پہلے تیری پتنی تیرے پاس ھوگی۔۔۔۔
بندیا نے بچی سینے سے لگا لی۔۔۔
جو بابو نے کھینچ کر اس سے الگ کی۔۔۔
رامو کے بندے اسے چیختا چلاتا اٹھاکر لے گۓ بچی کا مسلسل رونا بابو سے برداشت نا ھو رہا تھا۔۔۔
اس نے پہلے تو خوب ڈٹ کر خود شراب پی پھر شراب کے نشے سے دھت روتی ھوٸ بچی کو فیڈر میں شراب ڈال کر زبردستی پلا دی۔۔
کچھ دیر بعد بچی کے رونے کی آواز بلکل بند ھو گٸ۔۔۔۔
شکر ھے بھگوان تونے اس مصیبت کو سلا دیا ورنہ تو یہ میرا بھیجا کھا جاتی۔۔۔
وہ خود بھی ھوش سے بیگانا ھو گیا۔۔۔
بندیا کو رامو کے آدمی صبح ھوتے ہی بابو کے پاس واپس چھوڑ گۓ۔۔۔۔
وہ زندہ لاش کیطرح مرتے ھوۓ قدموں کیساتھ اندر آٸ تو چارپاٸ پر اپنی بچی کو دیکھا جو بلکل نیلی پڑ چکی تھی اور منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اسکے اس نے مردہ بچی گود میں لے کر جھنجھوڑی۔۔۔
بابو بھی اٹھ گیا اسکی چیخوں کی آواز پر۔۔۔
مار ڈالا میری بچی کو تو نے وہ چلائ مار ڈالا تو نے میری بچی کو بھی بے غیرت انسان۔۔۔۔۔
وہ بابو پر زخمی شیرنی کی طرح جھپٹی اور اسے مارنے لگی بابو کا منہ اسکے لمبے ناخنوں سے زخمی ھو گیا اس نے بڑی مشکل سے بندیا کو قابو میں کر کے چارپاٸ کیساتھ باندھ دیا
وہ چارپاٸی سے سر ٹکرا ٹکرا کر روٸ ایک اپنی عزت نیلام ھونے پر دوسرا اپنی کوکھ اجڑنے پر۔۔۔۔
رامو کے آدمی روز آتے اور اسے لے جاتے۔۔۔
رامو نے اپنے بستر کی زینت اسے صرف تین رات بنایا۔۔۔
اگلی سات راتوں میں وہ بندیا کی آبرو کا سودا کسی اور کیساتھ کرتا ایک پل تو چاہا بندیا کا کہ وہ خود کشی کر لے۔۔۔
لیکن پھر بختی اور بابو سے انتقام لینے کی آگ اسکے اندر اتنی بھڑک اٹھی کہ اس آگ میں روز اپنا آپ جلاتے جلاتے وہ جمنا باٸ تک جا پہنچی۔۔۔۔۔
اور اسکے ساتھ جسم فروشی کے دھندے میں شامل ھو گٸ۔۔۔
اب پیسہ اسکے قدموں کی دھول بن چکا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اپنی بے انتہا خوبصورتی کی بنا پر وہ وہاں کی مہارانی کہلانے لگی۔۔۔
جمنا باٸ کے بنگلے نما کوٹھے پر بختی اور بندیا جیسی کٸ لڑکیاں تھیں جو اپنے پیٹ کو بھرنے کے لیۓ دوسروں کی ھوس کی بھوک کو اپنا جسم پیش کر کے بھرتی تھیں۔۔۔۔
جمنا باٸ کے بنگلے سے اس نے اپنے گھر کے پتے پر ماں کو پیغام بھیجا
جسمیں بختی اور گوپال کیساتھ ساتھ اپنی بھی ساری حقیقت سے آگاہ کیا اور یہ بھی کہا میں ان سب سے انتقام لے کر واپس آٶنگی جنکی وجہ سے وہ کوٹھے کی زینت بنی جسمیں اسکا باپ بھی شامل تھا آخر میں اس نے جمنا بائی کا نمبر لکھا کہ صرف اسکی ماں رابطہ کر سکتی ھے۔۔۔۔
بندیا کا یہ پیغام سن کر دیوی نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور جو حال اس نے گوپال کا کیا وہ ناقابل بیان تھا۔۔۔
گوپال اسکے پاٶں پڑ کر کہتا رہا کہ یہ سب بابو کی چال ھے بختی میری بیٹی تھی لیکن دیوی نے ایک نا سنی اور گوپال سے ایک ہی گھر میں رہ کر خود کو علیحدہ کر لیا۔۔۔۔
دیوی کیساتھ ساتھ پاٸل بھی باپ سے شدید نفرت کرنے لگی گوپال کا رونا کسی نے نا سنا دیوی کراچی والے گھر میں واپس آگٸ۔۔۔۔۔
گوپال نے بہت کوشش کی پھر سے بندیا اور بابو کو ڈھونڈنے کی پر دونوں ایسے لگتا تھا روح پوش ھو چکے ھیں گوپال ہر وقت سر پیٹ پیٹ کر روتا رہتا لگ گٸ بددعا ھمیں اس بختی کی۔۔۔
دیوی کے ہر ظلم کا حساب اسکی بیٹی بندیا کو چکانا پڑا تھا پر دیوی یہ بات ماننے کو تیار ہی نا تھی کہ اسکے آگے اسکا کیا مکافات کی صورت آیا ھے وہ بھی دن رات بختی کو بددعاٸیں دیتی۔۔۔
گوپال بندیا کا سن کر بلکل ٹوٹ گیا تھا اور بستر سے جا لگا اب تو اسکا پرسان حال کوٸ نا تھا نا بیوی پوچھتی نا بیٹی باپ کو منہ لگاتی اپنا آپ اسے خود سنبھالنا پڑا۔۔۔
_____________
جازب واپس کراچی آچکا تھا
شاہ جی اسے اتنا ڈسٹرب دیکھ کر خود بھی پریشان ھوگیا۔۔
نرگس باربار اسے فون کر کے بلاتی وہ بہانوں سے ٹالتا رہتا۔۔
شاہ جی نرگس سے بات کر کے اسکے پاس آیا جازب یہ کیا طریقہ ھے تم ماں جی کو کیوں ترسا رھے ھو ان سب حالات میں انکا کیا دوش تم نے اپنی سزا میں انکو بھی شامل کر رکھا ھے۔۔۔
یار میں نہيں کرسکتا سامنا اسکا کیسے کروں کیسے دیکھوں اسے اپنی بھابھی کے روپ میں اگر زرا سی بھی بھنک عضد کو لگ گٸ کہ وہ اسکے نکاح میں آنے سے پہلے میرے ساتھ تھی تو عضد اسے طلاق دے دیگا۔۔۔
ایک بار اسے اجاڑ چکا ھوں باربار نہيں اجاڑ سکتا۔۔۔۔
شاہ جی نے اسکی کمر تھپتپھا کر اسے تسلی دی یار تجھے تو نہیں معلوم تھا نا کہ وہ لڑکی جسے تو اٹھا کر لایا تھا وہی تیری بھابھی بھی بنے گی؟؟
اس میں تیرا تو کوئ قصور نہیں تو کیوں خود کو ہلکان کرتا ھے کافی سمجھدار ھے وہ نہیں کر سکتی تیرا ذکر گھر والوں سے تو پاگل نا بن۔۔۔
شاہ جی نے سگریٹ کو لائٹر سے شعلہ دیا جو جاز۔ نے اسکے ھونٹوں سے نکال کر اپنے ھونٹوں میں دبا لیا۔۔۔۔
شاہ جی مسکرایا یار بھول جا اسے یہ بات ٹھیک نہيں کہ تو ایک ہی لڑکی پر اپنے مستقبل کو وار دے کہیں اور بھی دیکھ ہزاروں لڑکیاں ھیں۔۔۔
یار جو بات اس میں ھے وہ ہزاروں میں کہاں؟؟ جازب مایوسی سے سر جھکائے تھکے ہارے لہجے میں کہنے لگا نگاھیں اب زمین پر گڑی ھوئی تھیں۔۔۔
اچھا چل ایک بار ماں جی سے مل لے شاہ جی اسے نرگس سے ملنے کی پیش کش کی۔۔۔۔
نہيں یار اب کی بار گیا تو وہ مجھے واپس نہيں آنے دیں گی اور وہاں رہ کر میں اسکے لیۓ یا اپنے لیۓ عذابِ جاں نہيں بننا چاہتا۔۔۔
اب وہ کسی غمزدہ دیوانے کیطرح کرسی کی بیک سے سر ٹکاۓ سگریٹ کے دھوئیں ھوا میں خارج کر رہا تھا۔۔۔
___________
نمل کھنچی کھنچی سی رہنے لگی تھی نرگس اور دیان دونوں سے
لیکن دیان نمل کیلیۓ روتا تھا۔۔۔
نرگس کچھ سمجھ نا پاٸ کہ وہ کیوں ایسا کر رہی ھے نرگس کے پوچھنے پر وہ بات کو ٹال جاتی۔۔۔۔۔۔۔
نمل مارکیٹ گئ ھوئ تھی مسز عارف کیساتھ واپس آئ تو ٹیکسی سے اترتے ہوئے شاہ جی کی گاڑی کو دیکھا جو نرگس کے گھر کے باہر کھڑی تھی وہ جلدی سے گھر میں داخل ھوئ اور ٹیرس کیطرف بھاگی۔۔۔۔
وہ تینوں لان میں بیٹھے ھوۓ تھے۔۔۔۔
جازب نے دیان کو پہلی بار دیکھا
امی یہ عضد کا بیٹا ھے؟؟؟
نرگس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
جازب اسے گود میں لے کر چومنے لگا۔۔۔
نرگس شاہ جی کا شکریہ ادا کرنے لگی کہ وہ جازب کو زبردستی یہاں لایا تھا۔۔۔
باتوں باتوں میں شاہ جی بولا۔۔۔
ماں جی بھابھی کہاں ھیں ان سے تو ملوا دیں…
وہ یہاں نہيں بیٹا۔۔۔
کیوں کہیں گٸ ھیں؟؟انداز بلکل اجنبی سا تھا۔۔۔
ہاں عضد کیساتھ ہی ھے لندن میں۔۔۔۔
جازب ایک دم سیدھا ھو کر بیٹھا۔۔۔
شاہ جی نے جھٹ سے پوچھا دونوں ایک ساتھ گۓ تھے لندن یا بھابھی ابھی گئ ھیں؟؟
دونوں ساتھ گۓ تھے…نرگس کچھ شک میں پڑی کہ وہ اتنے تجسس سے کیصں پوچھ رہا تھا رتابہ کا۔۔۔
نرگس کی بات سن کر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔
جازب جلدی سے کرسی سے کھسک کر آگے ھوا امی ابھی لاسٹ ٹاٸم گھر میں آیا تھا تو دیان کسی کی گود میں تھا وہ لڑکی کون تھی؟؟ عضد کی بیوی نہيں تھی کیا وہ؟؟ اسکا لفظ لفظ بے قرار تھا جیسے وہ کمرہ عدالت میں کھڑا تھا اور نرگس کا جواب اسکی زندگی اور موت کا فیصلہ لیے ھوۓ تھا۔۔۔
ارے نہیں بیٹا نرگس نے ہاتھ جھٹکا وہ کہاں سے آگٸ عضد کی بیوی وہ تو نمل تھی سامنے والے گھر میں رہتی ھے۔۔۔
نرگس کی بات سن کر جازب کے چہرے کے بدلتے تاثرات نرگس سے نا چھپ سکے اسکی روکی ھوئ سانس تیزی سے بحال ھوئ اور چہرے پر بے یقیں سی مسکراہٹ پھیلی۔۔۔
تمھیں کیا ھوا؟؟ اتنی معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر پھیل گٸ تمھارے خیر تو ھے؟؟نرگس نے اسکی چوری پکڑی۔۔۔
جازب کو ایسے لگا جیسے مرنے والے کو زندگی کی نوید مل گٸ ھو اسکے چہرے پر خوشی چھپاۓ نہيں چھپ رہی تھی۔۔۔۔
نرگس شاہ جی کو بھی خوش دیکھ کر تھوڑی پریشان ھو گٸ۔۔۔
جازب اس سے وعدہ کر کے گیا کہ اب ھمیشہ کے لیۓ لوٹ آۓ گا اور اس نے اپنا وعدہ پورا کیا وہ لوٹ آیا تھا ھمیشہ کیلیے۔۔۔۔
_______________
جازب کا فون مسلسل بج رہا تھا کلائینٹ سے بات کرتے ھوۓ اس نے فون اٹھایا فون ھوسپٹل سے تھا کہ نرگس کا ایکسیڈینٹ ھوگیا ھے۔۔۔
جازب کچھ ہی دیر ث ھوپسٹل تھا کاؤنٹر سے معلومات لیکر وہ بھاگتا ھوا سیڑھیاں پھلانگ رہا تھا۔۔۔
تھرڈ فلور پر تھی نرگس۔۔۔
وہ بھاگتا ھوا اوپر آیا تو سامنے کھڑی لڑکی سے جا ٹکرایا۔۔۔
وہ سنبھل نا سکی اور گھٹنوں کے بل زمین پر گری۔۔۔
جازب اپنے قدموں پر کھڑا رہا اس نے جلدی سے لڑکی کو سوری کہا۔۔۔
ماں کی خبر سن کر اسے اتنا بھی دکھاٸ نا دیا کہ ٹکرانے والی اس سے نمل تھی۔۔۔۔
نرگس کو سر کی چوٹ لگی تھی وہ بیہوش تھی۔۔۔۔
نرگس کا اندر CT Scan چل رہا تھا۔۔۔۔
یہاں کیوں آۓ ھو تم نمل کی آواز پر وہ چونک کر پلٹا۔۔۔۔
تمھارے پیچھے نہيں آیا یہاں؟؟ لہجہ کافی سخت تھا اسکا۔۔۔
نرگس انٹی کیلیۓ آۓ ھو؟؟ تو چلے جاٶ یہاں سے تمھاری ضرورت نہيں یہاں اس نے سینے پر ہاتھ باندھ کر چہرے کا رخ پھیر کر جواب دیا۔۔۔
وہ پہلے ہی بہت پریشان تھا کیا مطلب ھے تمھارا؟؟؟ میں انکو اکیلا چھوڑ کر چلا جاٶں صرف اس لیۓ کہ تم یہاں موجود ھو۔۔۔اس نے آنکھوں کو سکیڑ کر کہا۔۔۔
جی ہاں کیونکہ تمھارا وجود مجھ سے برداشت نہيں ھوتا جواب کافی تیکھے انداز میں تھا۔۔۔
تو نا کرو برداشت چلی جاٶ یہاں سے اس نے شان بے نیازی سے کندھے اچکاۓ۔۔۔۔
وہ طنز بھرے لہجے میں بولی واہ کیا خوب کہا ایک اکیلی عورت کو تمھارے آسرے چھوڑ جاٶں رشتہ ہی کیا ھے تمھارا ان سے؟؟؟ انداز اسکا لڑنے والا تھا۔۔۔
جازب نے اسکی آنکھوں میں جھانکا اسکی نظروں میں شک دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ نرگس سے اسکا رشتہ کچھ اور ہی سمجھی بیٹھی ھے۔۔۔۔
اس نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے پھر ماتھے پر بل ڈالے پوچھا مجھے چھوڑو اپنا بتاٶ تمھارا کیا رشتہ ھے ان سے؟؟؟
وہ جازب کے سوال پر کچھ گھبرا گئ پھر جھوٹ کا سہارا لیا۔۔۔
مممم میں۔۔۔ بہو ھوں انکی۔۔۔
اچھاااا وہ دلچسپی سے بولا کون سے بیٹے کی؟؟؟
نمل کو نام ہی نہيں معلوم تھا کیسے بتاتی۔۔۔
لیکن جازب کے سامنے ڈٹ کر بولی تمھیں اس سے کیا؟؟چلے جاٶ یہاں سے تو اچھا ھوگا ورنہ۔۔۔
ورنہ کیا؟؟ وہ اسکے قریب ھوا۔۔۔۔
وہ دو قدم پیچھے ہٹی میں یہاں سیکیورٹی سے تمھاری complain کر دونگی۔۔۔۔
جاٶ شوق سے کرو۔۔۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے بازو لمبا کرتے ھوئے کہا۔۔۔
نمل اسکی ڈھٹاٸ پر اسے گھورنے لگی۔۔۔
مجھے کیوں آنکھیں دکھا رہی ھو جاٶ کرو میری complain جاٶ نا۔۔۔۔
وہ انگلی اٹھا کر اسے warn کرنے لگی تمھاری بدمعاشی یہاں نہيں چلے گی۔۔ وہی انداز فل برھم۔۔۔
ڈاکٹر باہر آۓ تو وہ دونوں اسکی طرف بڑھے اور ایک ساتھ بولے۔۔۔
اب کیسی ھیں وہ؟؟
خطرے کی کوئ بات نہيں اسکین کلیٸر ھے انکا انٹرنلی بلیڈنگ نہيں ھوٸ۔۔۔۔
نمل فوراً بولی سر میں مل سکتی ھوں ان سے؟؟
جی نہيں ابھی تو وہ بیہوش ھیں انکے ٹانکے لگ رھے ھیں۔۔۔
جب وارڈ میں شفٹ ھوٸیں تو ان سے مل لینا آپ فی الحال یہ انجیکشن لا دیں۔۔۔
ڈاکٹر کے ہاتھ سے پرچی لینے کیلیۓ دونوں نے ایک ساتھ ہاتھ آگے بڑھاۓ نمل جازب سے پہلے بولی سر مجھے دیں میں لے آتی ھوں۔۔۔
جازب بھی بولا سر میں لاتا ھوں آپ مجھے دیں۔۔۔
ڈاکٹر دونوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
اور نمل سے پوچھا آپ انکی بیٹی ھیں نمل نے ہاں میں سر ہلایا جی بہو ھوں میں انکی ابرو اٹھا کر تیکھی نظر سے جازب کو دیکھ کر سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
وہ پھر جازب کیطرف پلٹا اور آپ؟؟
وہ نمل کے سفید جھوٹ پر اسے گھور کر ایک ایک لفظ چبا کر بولا ماں ھے وہ میری ۔۔۔
جازب کے منہ سے نرگس کیلیۓ ماں کا لفظ سن کر نمل کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ پل بھر وہ چکرا کر رہ گئ۔۔۔
ڈاکٹر پرچی جازب کے ہاتھ میں تھما کر چلا گیا۔۔۔
جازب حیرانی سے منہ کھولے نمل کی طرف دیکھنے لگا بہو ھو انکی ٹھیک کہا تھا تم نے خیر اپنا بونٹ تو بند کر لو۔۔۔۔اس نے ھونقوں کیطرح منہ کھولے کھڑی نمل سے کہا۔۔۔۔
اسے کچھ سمجھ نا آیا۔۔۔
جازب میڈیسن لینے چلا گیا۔۔۔
اور نمل خود کو دل ہی دل میں لعنت ملامت کرتی رہی کہ جازب اور نرگس کو لے کر وہ کیا کیا سوچتی رہی نمل کا دل چاہا وہ اپنا منہ نوچ لے شرمندگی کے باعث وہ وہاں رکی نہيں اور جازب کے آنے سے پہلے ہی وہاں سے نو دو گیارہ ھو گٸ۔۔۔
__________________
عضد کے آفس میں پارٹی تھی۔۔۔
وہ رتابہ کو صرف اتنا بتا گیا تھا کہ وہ آج لیٹ آۓ گا۔۔۔
پارٹی میں شرارت سے کسی نے عضد کو شراب پلا دی عضد کی حالت کافی خراب ھو گٸ شراب سے عضد کے آفس کے دو کولیگ اسے گھر ڈراپ کرنے آۓ۔۔۔
رات کے دو بج رھے تھے۔۔۔
رتابہ تنہاٸ اور رات کے خوف سے گھٹنوں پر سر رکھے جاگی ھوٸ تھی۔۔۔۔
بیل بجنے پر وہ ڈر کر اچھل پڑی۔۔۔
جلدی سے جا کر دروازہ کھولا تو باہر عضد کو کندھوں کا سہارا دیۓ دو آدمی اور تھے عضد کیساتھ ۔۔۔
ایک تو وہ پہلے ہی ڈری ھوٸ تھی اوپر سے عضد کو اسطرح دیکھ کر مذید ڈر گٸ۔۔۔
کیا ھوا ھے انکو؟؟؟؟
میم کسی نے انکو ڈرنک پلائ ھے ھم بڑی مشکل سے گھر لاٸیں ھیں انکو وہ وہیں دروازے پر ہی کھڑے تھے۔۔۔
بیڈ روم کہاں ھے آپ بتا دیں ھم انھیں لٹا دیتے ھیں۔۔۔
نننن نہیں آپ یہیں صوفے پر لٹا دیں انکو اور جاٸیں وہ صوفے پر عضد کو ڈال کر رکے نہيں چلے گۓ۔۔۔۔
رتابہ نے جلدی سے گیٹ لاک کیا اور عضد کے پاس آٸ عضد بلکل ھوش میں نہيں تھا۔۔۔
عجیب طرح سے وہ مسلسل بڑبڑا رہا تھا رتابہ اسکا کوٹ اتارنے لگی تو اس نے رتابہ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا۔۔۔۔
کیا کر رہی ھو ادھر میرے پاس آٶ اس نے رتابہ کو کھینچا اپنی طرف اسکے منہ سے شراب کی بو رتابہ کو کچھ سال پیچھے دھکیل کر لے گئ۔۔۔۔۔
اسکی روح حلق میں آن اٹکی پپپپپ۔۔۔ پلیز ہاتھ چھوڑیں میرا وہ گھبراٸ پر اسکے چھڑانے پر عضد کی گرفت اس پر اور مظبوط ھوتی گٸ۔۔۔۔
عضد اسطرح مت چھوٸیں مجھے آپ اپنے ھوش میں نہيں چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔
پر عضد اسے چھوڑنے کو تیار نا تھا عضد یہ کیا کر رھے ھیں آپ چھوڑیں مجھے عضدددد۔۔۔۔
بہت مشکل سے رتابہ نے خود کو چھڑایا او مر خود ہر جھکے عضد کو پیچھے دھکیلا۔۔۔۔
پھر بھاگ کر بیڈ روم میں خود کو لاک کر لیا وہ دوسری بار اپنی عزت پامال نہیں کر سکتی تھی عضد اسکا شوہر تھا۔۔۔۔
لیکن عضد کے نشے کی نذر وہ خود کو نہيں کر سکتی تھی اسکی دانست میں بیوی سے زبردستی کرنا بھی ریپ ہی تھا۔۔
وہ گھٹی گھٹی آواز میں منہ پر ہاتھ رکھے وہی دروازے پر ڈھیر ھو گئ آنسو جھرنے کی مانند رخساروں پر پھسل رھے تھے۔۔۔
عضد کچھ دیر بعد الٹیاں کرنے لگا اسکی قے کی آواز پر رتابہ نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔۔۔
وہ صوفے پر اٹھا ترچھا لیٹے ھوۓ سر نیچے جھکاۓ قے کر رہا تھا۔۔۔
رتابہ دبے قدموں اسکے پاس آئ پھر آہستہ سے اسکی جیب سے فون نکال کر اسود کا نمبر ڈاٸل کر کے اسے بلوایا۔۔۔
اسود آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا عضد کی حالت کافی خراب تھی اسود سرجیکل سرجن تھا۔۔۔
وہ انجیکشنز اپنے ساتھ لایا اور عضد کو لگاۓ پھر اسے اندر لے جا کر بیڈ پر لٹایا۔۔۔
بھابھی آپ پریشان نا ھوں صبح اٹھ کر یہ بلکل ٹھیک ھوگا۔۔۔
رتابہ منہ چھپاۓ رو رہی تھی۔۔۔
اگر کوٸ پریشانی ھوٸ تو آپ مجھے پھر کال کر لینا میں آجاٶنگا اول تو اسکی ضرورت نہيں پیش آۓ گی کیونکہ اب یہ سکون سے سویا رھے گا پھر بھی آپ کو پریشانی ھوٸ تو میں حاضر ھوں اسود رتابہ کو تسلی دیکر چلا گیا۔۔
رتابہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹی تو ایک پل اسے چین نا آیا جسم پر اسے سوئیاں چبھنے لگیں۔۔۔
دل و دماغ پر اسکی رات کی کربناک پرچھائیاں دوڑنے لگیں۔۔۔
آج سے دو سال پہلے کا حادثہ اور ابھی عضد کی زبردستی پر وہ پھوٹ پھوٹ کر روٸ حالانکہ عضد سے وہ خود کو بچا چکی تھی۔۔۔
اتنی خوفزدہ ھو گئ تھی وہ کہ اپنی ہی ہچکیوں کی بلند ھوتی آواز پر لرز کر دروازے کو دیکھنے لگتی۔۔۔۔
عضد صبح اٹھا تو اسکا سر چکرا رہا تھا اسے کچھ یاد نا تھا کہ رات کو کیا ھوا تھا نہا کر وہ باہر آیا تو رتابہ نہیں تھی۔۔۔
اسکے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر کہا جاگ رہی ھو تو کافی بنا دو ایک کپ۔۔۔
رتابہ نے اسکی نارمل ھوتی آواز سنی اور آرام سے ا کر دروازہ کھولا وہ اپنے کمرے مث جا چکا تھا۔۔۔
پانچ منٹ میں کافی بناکر اسکے کمرے ڈرتے ڈرتے داخل ھوئ ۔۔۔
ٹیبل پر مگ رکھے وہ پلٹی تو عضد نے اسکے ھونٹوں پر زخم دیکھ کر اسے روکا۔۔۔
رکو پھر وہ دو قدم چل کر اسکے قریب آیا۔۔۔
یہ تمھارے ھونٹوں پر زخم کیسا ھے؟؟؟
اسکی بات سن کر رتابہ نے بنا کچھ کہے سر سے سرکتا دوپٹہ جلدی سے درست کیا تو اس نے رتابہ کے ہاتھ پکڑ لیۓ۔۔۔۔۔۔
ایکککککک۔۔۔ ایک منٹ پھر اسکا دوپٹہ اسکے سر سے ہٹایا اسکے گالوں پر دانتوں کے نشان دیکھ کر وہ ششد رہ گیا۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں غصے سے خون اتر آیا۔۔۔
عضد کی آگ برساتی آنکھیں دیکھ کر رتابہ مذید سہم گٸ۔۔۔۔
کون آیا تھا یہاں؟؟؟؟
عضد کی گرفت اسکے ہاتھوں پر اتنی ٹاٸیٹ تھی کہ رتابہ کو لگا اسکے ہاتھ ٹوٹ جاٸیں گے۔۔۔
وہ خوف کے مارے کچھ بول ہی نا سکی۔۔۔۔
کون آیا تھا یہاں؟؟؟ اب کی بار عضد کی گرج دار آواز سے رتابہ کے ساتھ ساتھ کمرے کی دیواریں بھی لرز گئیں۔۔۔
عضد کی آنکھیں غصے اور شک کے لاوے سے ابل رہی تھیں کون آیا تھا یہاں میری غیر موجودگی میں بولو عضد نے اسے ہاتھوں سے ہی پکڑے زور سے جھنجھوڑ کر پوچھا۔۔۔۔
وہ عضد کے جھنجھوڑنے پر پوری ہلنکر رہ گئ اور سانسیں اسکے خوف سے حلق میں جا اٹکیں۔۔۔
عضد کے ایک ہاتھ میں رتابہ کے ہاتھ اور دوسرے ہاتھ میں پینٹ کا بیلٹ تھا جو کچھ دیر پہلے اس نے پہننے کیلیے ہاتھ میں لیا ھوا تھا۔۔۔
جاری ھے۔۔
