Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 14)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 14)
Bad Bakhat by Arshi Noor
اچانک وہاں کچرا کنڈی کے دوسری طرف لگی ہلکی ہلکی آگ بھڑک اٹھی اور ھوا میں اسکا دھواں پھیلنے لگا۔۔۔۔۔
رتابہ تیز تیز قدموں سے واپسی کیطرف چل رہی تھی ھوا کے جھونکے سے جلنے کی بو اسکے نتھنوں سے ٹکرائ۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی پلٹ کر دیکھا کچرا کنڈی میں آگ لگی ھوٸ تھی۔۔۔۔
وہ آگ کو دیکھ کر خوف کے مارے بھاگتے ھوۓ پلٹی تو زمین پر منہ کے بل جا گری۔۔۔
آپریشن ھوا تھا اسکا تکلیف سے وہ اٹھ نا سکی بغیر سہارے کے اٹھنے کی کوشش میں اسکی نظر مسلسل آگ کے بھڑکتے شعلوں پر تھی۔۔۔۔۔ پھر اسکی نظر کچرا کنڈی میں آگ سے پھلانگتی ھوئ ایک کتیا پر پڑی جو آگ میں پھلانگ کر اپنے بچے منہ میں ڈالے انکو بچا رہی تھی اور آگ سے باہر لاکر انکو پیار سے چاٹ رہی تھی۔۔۔۔
رتابہ نے اللہ کا نام لیا ھمت کی اٹھنے کی اور کچرا کنڈی تک پہنچی۔۔۔
آگ کے شعلے دیان سے بہت قریب تھے دیان جس کپڑے میں لپیٹا ھوا تھا اسے آگ نے گھیر لیا لیکن آگ بچے تک پہنچنے سے پہلے ہی اس نے دیان کو اٹھا کر دل سے لگا لیا۔۔۔
ماں کے سینے سے لگتے ہی چیختا چلاتا دیان بالکل خاموش ہو گیا آگ کی تپش سے اسکا ننھا سا وجود کوئلے کیطرح دہک رہا تھا۔۔۔
رتابہ اپنے بچے کو چادر میں لپیٹ کر بہت مشکل سے گھر تک پہنچی آگے نرگس بہت بے چینی سے اسکی منتظر تھی۔۔۔۔
اسکے کپڑے مٹی سے بھرے ھوۓ تھے گرنے کی وجہ سے۔۔۔
کہاں گٸی تھی تم دیان کو لے کر اور یہ کیا حالت بنا رکھی ھے تم نے کیا ھوا ھے؟؟؟
وہ کرسی پر بیٹھ کر دیان کو دیکھنے لگی دیان نے دونوں ہاتھوں میں اسکی شرٹ پکڑی ھوٸ تھی۔۔۔۔۔۔
جیسے اس بچے کو بھی معلوم ھو گیا تھا کہ ماں مجھے دوبارہ چھوڑ نا دے ماں کے چھوڑنے کے ڈر سے اس نے ماں کے سینے میں منہ بھی چھپایا ھوا تھا۔۔۔۔
رتابہ نے برستی آنکھوں سے اسے دیکھا وہ اپنی بھوک بھی ماں کی جداٸ میں بھول گیا تھا۔۔۔۔
کچھ پوچھ رہی ھوں تم سے نرگس سختی سے بولی۔۔۔۔
اسے ٹانکوں میں بھی بہت درد ھو رہا تھا گرنے کیوجہ سے وہ سر جھکاۓ بولی۔۔۔
میں دیان کو چھوڑنے گٸ تھی۔۔۔۔۔
کہاں ؟؟؟ نرگس کا لہجہ آپ سخت اور حیران تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے دینا کو دیکھتی رہی۔۔۔
نرگس نے اسکا بازو جھنجھوڑا تم سے پوچھ رہی ھوں کہاں گئ تھی تم دیان کو چھوڑنے؟؟؟؟
رتابہ نے سانس حلق میں روک کر کہا کچرے کے ڈھیر میں۔۔۔۔۔
نرگس کو اسکی بات سن کر یقین نا آیا کیااااااا کیا کہا کچرے کے ڈھیر میں پھینکنے گٸ تھی؟؟؟؟
نرگس زمین پر آ بیٹھی افففف خدایا۔۔۔۔۔
جی وہ رو پڑی پھینک بھی آٸ تھی لیکن۔۔۔۔
تمھارے دل میں ذرا خوف خدا نہيں رہا تم اتنی پتھر دل کیسے ھو سکتی ھو؟؟ مجھے یقین نہيں آرہا نرگس کی حیرانی اسکے اک اک نقش سے چھلک رہی تھی۔۔۔۔
اپنا بچپن بھول گٸ ھو؟؟؟؟ اپنے ساتھ ھونے والی ساری زیادتیوں کا ساری محرومیوں کا بدلہ اس ننھی سی جان سے لینے چلی ھو اسکا کیا قصور ھے بتاٶ مجھے۔۔۔
ھوسپٹل میں تو تم اسے اپنا سہارا اپنا وارث کہہ رہی تھی اور اب اسی بچے سے اپنی ممتا کا حق بھی چھین رہی ھو۔۔۔
ارے ایسا ظلم اپنی ہی اولاد کیساتھ نرگس رو پڑی کیا تم بھی انکی طرح ظالم بننا چاہتی ھو جنھوں نے ھمیشہ تم پر ظلم کیا جانور بھی اپنے بچے کو نہيں چھوڑتا اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تڑپ کر بولی مجھ سےغلطی ھو گٸ میں جذبات میں آگٸ تھی۔۔۔۔۔
تم اسے وحشی انسان کا بچہ سمجھ کر اس سے دستبردار ھونا چاھتی ھو یعنی تم بھی اک وحشیا ماں بننا چاہتی ھو بلکل اسکی طرح جو اپنے گناہ کا بیج تمھارے اندر بو کر خود رو پوش ھو گیا اور تم ننھی سی کلی کو کچل کر فرار ھونا چاھتی ھو۔۔۔
نرگس بہت تاسف سے رندھی ھوئ آواز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
رتابہ نے نا میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
نرگس افسوس بھرے لہجے میں بولی میں چاھتی تو اسکو پیدا ھونے سے پہلے ہی تمھارا ابارشن کروا سکتی تھی اسے تمھاری کوکھ میں ہی ختم کر سکتی تھی لیکن میں کیسے قاتل بنتی اس معصوم سی جان کی ؟؟
میرے ضمیر نے گوارا نہيں کیا اور تم ماں ھوکر بے ضمیر ھو گٸ نو ماہ اسے اپنی کوکھ میں رکھا تم نے اپنی سانسوں سے اپنی دھڑکنوں سے بھی زیادہ قریب محسوس ھوا یہ تمھیں اپنے خون سے سینچ کر اپنی جان پر کھیل کر پیدا کیا ھے تم نے اسے۔۔۔۔
اب اتنی جلدی ہار مان لی وقت کے آگے رتابہ تم اتنی بزدل نہيں ھو نا ہی ظالم۔۔۔۔
رتابہ اسے سینے سے لگاۓ روۓ جا رہی تھی اور وہ بچہ ہچکیاں لیتا چپ چاپ ماں کے سینے سے لپٹا ھوا تھا۔۔۔
نرگس اسکی حالت دیکھ کر اب غصہ چھوڑ کر اسے پیار سے سمجھانے لگی اللہ کی آزماٸشیں اسکے محبوب بندوں پر ہی آتی ھیں۔۔۔۔
حضرت مریم بی بی بھی بہت کڑے امتحان سے گزری تھیں جب عیسی کو بغیر باپ کے انہوں نے جنم دیا۔۔۔۔
اللہ کے حکم پر سر خم کیا انہوں نے بدنامی کا یا زمانے کی پرواہ نہيں کی تھی انہوں نے بس اللہ کے حکم کو بجا لایا تھا ھم تو انکی دھول کے برابر بھی نہيں۔۔۔۔
رتابہ نے سرخ ھوتی آنکھوں سے نرگس کو دیکھا امی اللہ نے مجھے کیوں ایسی ماں بنایا یہ نا پیدا ھوتا تو میں نے تو سب کچھ سہہ لیا لیکن یہ کیسے سہے گا وہ سب کچھ جو لاورثی میں مجھے ملا اب تک۔۔۔۔۔۔ وہ آنیوالے وقت کا خدشہ ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔
یہ لاوارث نہیں ھے ماں ھو تم اسکی زندہ سلامت ھو۔۔۔۔
اس نے دیان کا ماتھا چوما جو دھوئیں سے ہلکا سا سیاہ پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ ہر کام میں اللہ کی مصلحت ھوتی ھے تمھارے ماں بننے میں کیا راز پوشیدہ ھے اللہ بہتر جانتا ھے۔۔۔۔۔
میری بچی اللہ نے کوٸ بھی چیز راٸیگاں یا بیکار نہيں بناٸ۔۔۔۔
آج زندگی اتنی مشکل ھے تو کل کو آسان بھی ھوگی اللہ پاک بعض لوگوں سے سب کچھ چھین کر انکو آزماتا ھے اور بعض اوقات سب کچھ عطا کر کے بھی آزماتا ھے ۔۔۔
اب یہ ھمارے اوپر ھیکہ ھم چھن جانے پر مایوس ھوتے ھیں یا صبر کرتے ھیں اور مل جانے پر اسے بھول جاتے ھیں یا شکر ادا کرتے ھیں۔۔۔۔
رتابہ دیان کو خود سے لپٹاۓ نرگس کی بات سنتی رہی۔۔۔۔
میرے رب کا انصاف دیکھو وہ چھیننے پر بھی صبر والوں کےساتھ ھے اور عطا کرنیوالوں پر بھی شکر کرنیوالوں کیساتھ ھے ۔۔۔۔
اور جس کے ساتھ رب ھو تو اسے کیا پرواہ اس فانی دنیا کی جہاں ھم چند دنوں کے مسافر ھیں۔۔۔۔
رتابہ کی رونے سے اب ہچکیاں بندھ گئی تھیں آگ میں دیان کے جلنے کے خوف سے ابھی بھی اسکے جسم پر لرزاں طاری تھا۔۔۔۔۔
نرگس نے اسکے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے زندگی کیا ھے بیٹا؟؟
پیدا ھوتے وقت اذان اور مرتے وقت نماز جنازہ کے درمیان کا وقفہ ہی تو ھے۔۔۔۔۔
اللہ کی نعمت کو ٹھکرانے والوں کے ہاتھ کچھ نہيں لگتا پھرررررر۔۔۔۔۔
نرگس کا ہر لفظ رتابہ کی روح میں تحلیل ھو رہا تھا قدرت کے قانون کو وہ خاموشی سے نرگس کی زبانی سنتی رہی۔۔۔۔
تم کل کہاں تھی ؟؟ اور آج کہاں ھو؟؟ اپنی زندگی پر غور کرو
کتنی رب کی اطاعت کی؟؟ کتنا صبر کیا ؟؟کتنے شکوے کیۓ؟؟ کتنا اس پر یقین کیا؟؟
سب کچھ اپنے حوالے سے مانگتے ھیں ھم کبھی خود کو رب کے حوالے کیا ھے؟؟
رتابہ نے نرگس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اسکے مضبوط ایمان کے چراغ نرگس کی آنکھوں میں جگنوؤں کی مانند روشن تھے۔۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
نہيں ناں ھم نے ھمیشہ خود کو اپنی خواہشات اور اپنے نفس کی قید میں رکھا ھے اسلیۓ تو ھمیں غموں سے رہاٸ نہيں ملتی۔۔۔۔
اپنی ذات کو رہا کرو نفس کے پنجرے سے یہ غم یہ درد ہزار بار ملنے پر بھی بے اثر ھو جاٸیں گے جب ھماری ذات رب کے آگے با اثر ھوگی۔۔۔
اور ایسا تب ھوگا جب ھم خود کو اللہ کے سپرد کر کے اسکی رضا میں راضی رہنا سیکھ لیں۔۔۔۔
رتابہ نے نرگس کیطرف بھیگی پلکوں سے دیکھا اور بچوں کیطرح سوال کیا۔۔۔
امی مجھے اللہ معاف کریگا جو مجھ سے غلطی ھوٸ۔۔۔۔۔
نرگس نے اسے بہت پیار سے دیکھا میری جان غلطی کرتے کرتے رک جانا اللہ کی رضا کی نشانیوں میں سے ھے اور اللہ تو ھم سے راضی رہتا ھے۔۔۔
بس ھم ھی اس سے راضی نہيں رہتے وہ ھماری چھوٹی سی نیکی پر بھی خوش ھوجاتا ھے اور ھم اسکی ہزار نعمتوں پر بھی نا خوش ہی رہتے ھیں۔۔۔۔
دیان بھوک سے رونے لگا تو رتابہ جلدی سے اسے دودھ پلانے لگی۔۔۔
دیان کو بھوک کیلیے روتا دیکھ کر نرگس نے گہری سانس لی وہ اب بھی زمین پر رتابہ کے گھٹنوں کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔
تمھیں پتہ ھے بچے میں بھی ایک ھنر ھوتا ھے ؟؟؟
بچے میں ھنر؟؟؟؟ رتابہ نرگس کی بات سن کر حیران ھوٸ۔۔۔۔
وہ دیان کے نازک سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولی ہاں بچے میں ایک ہی ہنر ھوتا ھے ایک ہی کام کرکے وہ اپنے ہر کام کروا لیتا ھے۔۔۔
کونسا کام؟؟؟ رتابہ نے کندھے اچکاۓ۔۔۔۔
بچے کو ایک ہی کام آتا ھے رتابہ رونے کا اور وہ رو کر نا صرف سب کو اپنی طرف متوجہ کرتا ھے بلکہ اپنی بات بھی منوا لیتا ھے۔۔۔
رتابہ بات کو نا سمجھی اور سوالیہ نظروں سے نرگس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
نرگس اسے پھر سے سمجھانے لگی جانتی ھو بچے کو اپنے رونے پر بڑا کامل یقین ھوتا ھے کہ اسکا رونا راٸیگاں نہيں جاۓ گا اس بچے کیطرح اپنا یقین کامل کرو اور رو کر منوا لو اپنی بات اپنے رب سے۔۔۔۔
وہ تو اپنے بندوں سے ستر ماٶں سے بڑھ کر پیار کرتا ھے رتابہ نرگس میں باتوں میں کھو کر اپنے تمام درد بھول گٸ۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________
جازب کی جان بچ گٸ تھی لیکن وہ ابھی تک ھوش میں نہيں آیا تھا۔۔۔۔
شاہ جی نے اس پر صدقے کے بکرے وار کر غریب بستيوں میں بانٹے۔۔۔۔۔
جازب 72 گھنٹوں بعد ھوش میں آیا تھا اسکے ھوش میں آتے ہی اسکے سب دوستوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیۓ۔۔۔۔۔۔
جازب 20 دن داخل رہا ھسپتال میں ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگنے کیوجہ سے وہ چل نہيں پا رہا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹرز نے چھ ماہ کا وقت دیا تھا شاہ جی اسے اپنے ساتھ کراچی والی حویلی لے گیا اور اسطرح اسکا خیال رکھا جیسے ماں بچے کا رکھتی ھے۔۔۔۔۔۔
________________
نرگس زیادہ تر وقت دیان کیساتھ گزارتی عضد سے وہ بلکل بے فکر ھو گٸ تھی۔۔۔۔۔
نرگس کی لاپرواہی عضد کی برداشت سے باہر ھوتی جا رہی تھی ابھی بھی وہ آفس سے تھک کر واپس آیا تو نرگس اسے دیان کو گود میں لیۓ ملی۔۔۔۔
امی اس کے علاو بھی اس گھر میں کوٸ انسان موجود ھے ہر وقت اسکی آٶ بھگت میں نا لگی رہا کریں اسکی ماں کو دیں جسکی یہ ذمہ داری ھے۔۔۔۔۔
نرگس اسے رتابہ کے حوالے کر کے آٸ تو وہ نرگس سے گلہ کرنے لگا امی آپ تو بلکل مجھے بھول ہی گٸ ھیں جیسے میں اس گھر کافرد ہی نہيں ھوں اب۔۔۔
نرگس نے اسے پاس بلایا اور اسکا سر اپنی گود میں رکھا تم نے بھی تو نظر اندز کر رکھا ھے مجھے نا بات کرتے ھو نا پاس آتے ھو بس آتے ساتھ خود کو کمرے میں بند کر لیتے ھو۔۔۔۔
آپ مجھے میری پہلے والی ماں جیسی ملیں تو میں پاس آٶں آپ کو ان دونوں کے علاوہ فرصت ہی نہيں اور ان ماں بیٹے کا وجود آپکے قریب مجھ سے بلکل برداشت نہيں ھوتا۔۔۔۔۔
کیوں برداشت نہيں ھوتا بچہ نا کرو قبول لیکن رتابہ تو تمھاری بیوی ھے نا۔۔۔۔
نہيں مانتا میں اسے اپنی بیوی۔۔۔۔۔
بیٹا سچاٸ اور حقیقتیں نا ماننے والوں کی محتاج نہيں ھوا کرتیں وہ تو بس اپنی ذات میں لازوال ھوتی ھیں اور ایک نا ایک دن اپنا آپ منوا کر رہتی ھیں۔۔۔
نرگس نے اسکی ٹھندی پیشانی پر بوسہ لیا خود کو تکلیف دینے سے بہتر ھے قسمت کا لکھا قبول کر لو۔۔۔۔
یہ قسمت کا لکھا نہيں امی آپکی زبردستی کا سودا ھے۔۔۔
میرے بچے یہ یاد رکھنا ہر جذبہ شدت پا کر الٹ جاتا ھے چاھے وہ محبت کا ھو یا نفرت کا۔۔۔
وہ ماں کی بات نا سمجھتے ھوۓ ٹکر ٹکر نرگس کو دیکھنے لگا۔۔۔
دیکھو میری جان ہر چیز اپنی انتہا پر پہنچ کر معدوم ھوجاتی ھے اپنی وقعت کھو بیٹھتی ھے اس لیۓ شدت نا نفرت میں اچھی نا محبت میں۔۔۔
عضد خود کو میانہ روی کے راستے پر ڈالو تاکہ آنیوالے وقت اور حالات میں خود کو اپنے قابو میں رکھ سکو۔۔۔۔
عضد ماں کی بات سن کر اٹھ بیٹھا۔۔۔۔
آپکا مطلب ھے میری شدید نفرت محبت میں بدل سکتی ھے؟؟
ہاں بلکل کیونکہ نفرتوں کی اپنی کوٸ زمین نہيں ھوتی یہ ھمیشہ محبت کی زمین پر وقتی قبضہ کرتی ھیں۔۔۔۔
وہ ابرو اچکا کر بولا یہ وقتی قبضہ نہيں ھے امی یہ موت کے اس شکنجے کیطرح ھے جس پر پڑتا ھے تو روح کھینچ کر ہی دم لیتا ھے۔۔۔۔
نرگس مسکراٸ۔۔۔۔
میرے بچے روح نکل کر ہی جسم سے ابدیت کاسفر طے کرتی ھے یہ عارضی موت تو محض دنیا کا دکھاوا ھے قدرت کا قانون ھے یہ کہ ہر جان ور۔۔۔۔ سدا جان ور نہيں رہتا۔۔۔۔۔
تغیرات آتے رہتے ھیں تبدیلی کاٸنات کا حصہ ھے اپنے اندر تبدیلی کی لچک پیدا کرو ورنہ ٹوٹ کر رہ جاٶ گے۔۔۔۔
وہ ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
امی ٹوٹا نہيں ھوں میں توڑ دیا گیا ھوں۔۔۔۔
نرگس سمجھ گٸ کہ وہ اسی پر چوٹ کر رہا ھے۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ میں نے کبھی نہيں سوچا تھا کہ زندگی مجھ سے میرے صبر کا ایسا کڑا امتحان بھی لے گی کہ میں ضبط بھی نہيں کر پاٶنگا اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں تھی۔۔۔
میرے بچے زندگی میں ضبط کبھی بھی صبر کے معیار تک نہيں پہنچ سکتا۔۔۔۔۔
وہ کیسے ؟؟؟ عضد نے سوال کیا۔۔۔
ضبط اور صبر میں بہت واضح فرق ھے ضبط بہت تکلیف دہ ھوتا ھے اور ضبط ھمیشہ خود پر جبر کر کے کیا جاتا ھے۔۔۔
اور صبر پر سکون ھوتا ھے صبر میں خود پر جبر نہيں کرنا پڑتا اور صبر اللہ کی ذات پر توکل کر کے کیا جاتا ھے۔۔۔۔۔
وہ نا سمجھتے ھوۓ نرگس کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
نرگس اسکے چہرے سے اسکی بات سمجھ لیتی تھی پھر آہستہ سے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی آسان الفاظ میں سمجھاتی ھوں۔۔۔۔
تم جب پیدا بھی نہيں ھوۓ تھے تو بھیا کا انتقال ھو گیا تھا اور بھابھی بھی ایک سال بعد ھم سب کو چھوڑ کر چلی گٸیں تھیں بہت مشکل ھو گیا تھا میرے لیۓ سب کچھ manage کرنا۔۔۔۔
میرا اپنا بھی گھر بار تھا اوپر سے تم دونوں بھاٸیوں کی ذمہ داری بھی مجھ پر تھی تھماری طرف میرا رحجان اتنا بڑھ گیا تھا کہ میں ایاز پر توجہ نا دے سکی اور وہ کب مجھ سے اتنی دور ھو گیا مجھے پتہ ہی نہيں چلا۔۔۔
اور اس نے نا صرف دوسری شادی کر لی بلکہ میری گود بھی خالی کر گیا میری بچی مجھ سے چھین کر لے گیا۔۔۔۔۔
میں صبر اور برداشت کے علاوہ کیا کر سکتی تھی تم دونوں سے نفرت کرتی کہ تمھاری ذمے داریوں میں میرا گھر خراب ھو گیا۔۔۔۔
یا میں اولاد کے ھوتے ھوۓ بھی بے اولاد ھو گئ تم دونوں کی وجہ سے کیا میں تم سے بدلہ لیتی؟؟؟؟
تم دونوں تو بلکل معصوم سے تھے چھوڑ بھی نہيں سکتی تھی۔۔۔۔
تم دونوں کو پالنے کی مجھے بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی اپنے بیوی ھونے کا حق کھو دیا میں نے اپنی کوکھ سی جنی پھول جیسی بچی کو بھلانا پڑا مجھے تم دونوں بچوں کو دیکھ کر اپنی کوکھ سے بے وفائی کر بیٹھی میں۔۔۔۔
عضد نے نرگس کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔
تو کیا میں تم جیسی ننھی سی معصوم سی جانوں سے دشمنی کرتی یا بدلے لیتی؟؟؟
اپنے شوہر کے چھوڑ کر چلے جانے کا یا پھر تم دونوں کی بدولت اپنی بیٹی چھن جانے کا؟؟؟
نرگس کے ساتھ ساتھ عضد کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔۔۔۔
بیٹا اپنی اولاد سے جیتے جی دستبردار ھونا کتنا تکلیف دہ مرحلہ ھوتا ھے تم سوچ بھی نہيں سکتے میں نے رب کی رضا پر یہاں بھی صبر کیا اور اپنی ممتا کو تم پر قربان کر دیا۔۔۔۔۔
سوچو اگر میں اپنا گھر بچاتی اور تم دونوں کو تمھارے حال پر چھوڑ دیتی تو تم آج کہاں ھوتے؟؟؟
تم بن ماں باپ کے بچے تھے زمانہ اپنی بربریت کے اتنے داغ داغتا تم پر کہ تم جینے کے قابل نا رھتے۔۔۔۔
عضد کی آنکھوں سے آنسو باہر نکل آۓ۔۔۔۔۔
لیکن امی آپ نے ھمیں پالا ھماری پرورش کی ایک عزت دار مقام ھے ھمارا معاشرے میں خاندان میں ھمیں اپنے والدین کا معلوم ھے ھم کس کی اولاد ھیں۔۔۔۔
لیکن جسے آپ نے میرے لیۓ متخب کیا بقول آپکے وہ تو اپنے ماں باپ تک کو نہيں جانتی۔۔۔۔
آج کے دور میں کون اپناتا ھے کسی کا چھوڑا ھوا گناہ؟؟؟
نرگس بولی تمھیں معلوم ھے کہ وہ کسی کا چھوڑا ھوا گناہ ھی ھے؟؟
جی معلوم نہيں یقین ھے نا جانے کہاں کہاں کیسے کیسے survive کر کے آٸ ھے مجھے تو لگتا ھے یہ گھر سے بھاگی ھوٸ لڑکی ھے واپسی کے تمام راستے خود پر بند دیکھ کر یہ جھوٹی کہانی بنا کر یہاں آن پہنچی۔۔۔۔
اور آپ نے بھی بنا کسی تصدیق کے کسی سچائی کہ مجھے قربانی کا بکرا سمجھ کر قربان کر دیا محض اپنی رحم دلی کی خاطر۔۔۔۔
امی آپ اسے کسی ٹرسٹ بھی بھجوا سکتی تھیں نا لیکن آپ نے میرے ساتھ بہت ظلم کیا بہت زیادتی کی وہ باقاعدہ طور پر رو پڑا۔۔۔۔
نرگس اسکی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی بولی میں نے زیادتی نہيں کی تم سے بلکہ تمھیں بچایا ھے بیٹا۔۔۔۔
امی اسے بچانا نہیں اجاڑنا کہتے ھیں آپ اسے میڈ بنا کر رکھ لیتیں۔۔۔۔
چلو مان لی تمھاری بات میں اسے میڈ بنا کر یا بیٹی بنا کر ہی رکھ لیتی۔۔۔۔
لیکن اسکے ماں بننے کے بعد تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نا رہتے سب کی انگلیاں چپکے چپکے تمھی پر اٹھتیں اور اگر کل کو تمھاری شادی ھوتی تو اسے تمھاری بیوی کبھی برداشت نا کرتی۔۔۔۔
اور میں اسے اسکی محبت میں خود سے جدا نا کر پاتی تو بتاٶ پھر اپنا گھر بچانے کی خاطر تم مجھے چھوڑ دیتے ؟؟؟؟
وہ نرگس کے گلے لگ گیا نہيں امی میں مر سکتا ھوں آپکو چھوڑ نہيں سکتا۔۔۔
وہ بھی اس پر اپنی ممتا نچھاور کر کے بولی بیٹا رتابہ کو چھوڑ کر میں بھی مر جاؤنگی میری زندگی کا حصہ بن گئ ھے وہ میرے دل میں ہی نہيں میری روح میں سما چکی ھے۔۔۔۔۔
عضد ماں سے الگ ھوا۔۔۔
نرگس نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا میرے لعل جسے چاہا جاۓ تو پھر اسکے عیب نہيں دیکھے جاتے اسلیۓ تمھیں اپنی جان کا واسطہ دے کر راضی کیا تھا۔۔۔۔۔
اور اب بیٹا تم بھی بدگمان ھونا چھوڑ دو بدگمانی اللہ کو بلکل پسند نہيں ۔۔۔۔۔
امی میں اسے اس گھر میں برداشت کر رہا ھوں میرے صبر کی انتہا ھے یہ۔۔۔۔
بیٹا یہ بھی ھو سکتا ھے تم غلطی پر ھو۔۔۔۔۔
میں غلطی پرررر۔۔۔۔ وہ اپنی طرف اشارہ کرکے بولا۔۔۔وہ کیسے؟؟؟
دیکھو بیٹا ہم چلتے جائیں تو سفر ختم نہیں ہوتا رک جائیں تو سانس نہیں رکتی ہم ہنسنے لگیں تو قہقہے جنم لیتے ہیں اور ہم رونے لگیں تو آنسو ختم نہیں ہوتے ۔۔۔
جسے چاہنے لگیں تو چاہت ختم نہیں ہوتی اور ٹوٹنے لگیں تو ذرے ختم نہیں ہوتے ہر شے کے ساتھ ایک ربط منسلک ہوتا ہے ہر انسان کے سہنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔۔۔۔
ہو سکتا ہے کہ کوئی سہہ رہا ہو اور ھم صرف کہہ رہے ہوں ….
نرگس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا دوسروں کی جگہ خود کو رکھ کر کسی کے دکھ درد کا اندازہ لگانا بہت کٹھن ہے۔۔۔۔
نرگس کی بات سن کر وہ خاموش ہو گیا مذید کچھ نا بولا کیونکہ وہ نرگس کو مزید دکھی نہیں کر سکتا تھا اسوقت اسے دلاسا دیتے ھوۓ وہ خود بھی رو پڑی تھی۔۔۔۔۔
_______________
جازب وھیل چیٸر پر بیٹھا اپنی بے بسی کو محتاجی کو خاموشی سے سہہ رہاتھا۔۔۔۔۔
شاہ جی نے آکر اسکا کندھا تھپتھپایا کیوں اداس ھے میرے یار۔۔۔۔
کچھ نہيں بس خود کو دیکھ کر پشیمان ھوں کہ کیا ھوا میرے ساتھ اور کیوں؟؟ کیا یہ بددعا تھی یا کسی کے بہتے ھوۓ آنسوؤں کا مکافات جو میں بھگت رہا ھوں یا میرے گناھوں کا بوجھ تھا جو آج میں اپنے قدموں پر کھڑے ھونے کے قابل ہی نہيں رہا۔۔۔
شاہ جی اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا دیکھ یارا اداس مت ھو اداسی ھمیشہ انسان کو مایوس انسان بنا دیتی ھے اور مایوس انسان حاصل کو بھی گنوا بیٹھتا ھے۔۔۔۔۔
حادثات انسانی زندگی کا حصہ ھیں کچھ حادثے ھمیشہ کیلیۓ دل و دماغ پر اپنااثر چھوڑ جاتے ھیں کچھ سبق سکھا کر ہدایت کی راہ پر ڈال جاتے ھیں اور کچھ گمراہی کیطرف لے جاتے ھیں۔۔۔
لیکن اپنے بیتے لمحوں یا کوتاٸیوں پر خود کو کوستے رہنا ٹھیک نہيں ۔۔۔
شاہ جی نے اپنے مضبوط ہاتھ اسکی ٹانگوں پر رکھے جازب بہت با ھمت ھوتے ھیں وہ لوگ جو اپنے اندر کٸ طوفانوں کا سامنا کرتے ھیں اور اس سے بھی زیادہ باہمت ہوتا ہے وہ انسان جو اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اس پر سر خم کر لیتا ہے اور اسے سدھارنے کیلیۓ کوشاں رہتا ھے ۔۔۔۔۔
پھر وہ جازب کے ساتھ بیٹھا سمجھ آٸ میں کہنا چاہ رہا ھوں؟؟؟
جازب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
آٸندہ تیرے منہ سے میں ایسی کوٸ بات نا سنوں شاہ جی انگلی سے اسکے چہرے کا احاطہ کر کے بولا اور نا اس تھوبڑے پر آٸندہ اداسی نظر آۓ مجھے۔۔۔۔۔
شاہ جی کیساتھ جازب بھی مسکرایا۔۔۔۔
گزر جاٸیگا یہ وقت بھی ھم ھیں نا تیرے ساتھ یار شاہ جی نے جھک کر اسے سینے سے لگایا۔۔۔۔
_________________
دن مہینوں میں اور مہینے سال میں بدل گۓ دیان ایک سال کا ھو چکا تھا۔۔۔۔
عضد کے دل پر رتی برابر اثر نہيں ھوا تھا وہ جیسا ضدی کل تھا ویسا ہی آج بھی تھا اب تک اس نے رتابہ کو قبول نہيں کیا تھا۔۔۔۔
بات کرنا یا حال احوال پوچھنا تو دور کی بات ان کے بیچ سلام دعا تک نا تھی۔۔۔
نرگس بھی سمجھا سمجھا کر تھک کر خاموش ھو گٸ تھی۔۔۔
نرگس کا بھاٸ اسلام آباد سے آیا ھوا تھا نرگس کے بھانجے کی شادی تھی وہ دعوت دینے آۓ تھے۔۔۔۔
نرگس کے اسرار پر دو دن ٹھہر گۓ۔۔۔۔
عضد سات ماہ سے لندن میں تھا ھفتے بعد اسکی واپسی تھی اسکی واپسی پر نرگس نے اسے بھانجے کی شادی کا بتایا۔۔۔
اور ساتھ ہی ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ وہ رتابہ کو ساتھ لے کر جاۓ گا اور دیان نرگس کے پاس ہی ھوگا۔۔۔۔
عضد کسی صورت تیار نا تھا اسے ساتھ لے جانے کیلیۓ پر نرگس بھی اسی کا خون تھا اس نے اپنی بات منوا کر چھوڑی۔۔۔۔۔
رتابہ بہت ڈری ھوٸ تھی کہ وہ کیسے جاۓ گی عضد کیساتھ نرگس نے اسے تسلی دی ۔۔۔۔
عضد کو باۓ روڈ جانے کا بہت شوق تھا اس نے باۓ روڈ جانے کا ہی فیصلہ کیا۔۔۔
نرگس اور رتابہ نے سارے سفر کی تیاری کی اور نرگس کی دعاٶں کے ساۓ میں وہ رخصت ھوۓ۔۔۔۔
عضد بلکل خاموشی سے ڈراٸیونگ کرتا رہا رتابہ باہر کی دنیا کے مناظر دیکھتی رہی ابھی وہ فیصل آباد کے ایک گاٶں کےقریب پہنچے تو عضد کی گاڑی خراب ھو گٸ۔۔۔۔
شام کا وقت تھا موسم کے آثار بھی کافی خراب تھے بادل تھے کہ ایسے لگ رہا تھا برسے تو تمھنے کا نام نہيں لیں گے۔۔۔
کوٸ ھوٹل بھی قریب نہيں تھا نا کوٸ آبادی تھی حد نظر چاروں طرف سبز کھیت ہی کھیت تھے۔۔۔۔
عضد گاڑی کا بونٹ کھول کر گاڑی چیک کرنے لگا رتابہ کار سے باہر نکلی اور اپنے چاروں طرف ھوا سے لہراتے سبز کھیتوں کا نظارہ تکتے تکتے کھیتوں کیطرف بڑھنے لگی۔۔۔۔
عضد گاڑی میں جھکا اتنا محو تھا کہ اسے پتہ ہی نہيں چلا رتابہ کب گاڑی سے دور کھیتوں کیطرف نکل گٸ ھے۔۔۔۔
اتنا خوبصورت نظارہ دیکھ کر رتابہ کو لگا وہ جنت میں آگٸ ھے وہ اونچے اونچے کھیتوں میں داخل ھو کر کھو سی گٸ۔۔۔
سبزے کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھتی اور مسکراتی ٹھنڈی ھوا کے جھونکے اور سبزے کی خوشبو اسے دیوانہ کر رہی تھی وہ گہری گہری سانس لیتی تازہ ھوا کو اپنے اندر اترا رہی تھی یہ سارا منظر اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔
عضد گاڑی سے کچھ سامان نکالنے آیا تو دیکھا رتابہ نہيں تھی اس نے اپنے ہاتھ کپڑے سے صاف کرتے آس پاس اسے دیکھا وہ نہيں تھی۔۔۔۔
عضد کا دل خوف سے دھڑکا کہاں گٸ یہ اس نے تیزی سے نظریں ادھر ادھر دوڑائیں۔۔۔۔
ابھی وہ اسے تلاش کر ہی رہا تھا کہ اسکی چیخیں اسے اپنے داٸیں طرف کھیتوں سے آتی سناٸ دیں۔۔۔ عضدددد۔۔۔۔ عضددددد۔۔۔۔۔
وہ بھاگتا ھوا اسکی آواز کیطرف لپکا اور کھیتوں کے قریب پہنچا تو اسے سامنے آتا دیکھ کر رتابہ بھاگتی ھوٸ اسکے سینے سے آ لگی۔۔۔
رتابہ کے سینے سے لگتے ہی عضد کو اپنی دھڑکن رکتی ھوٸ محسوس ھوٸ رتابہ کی قربت کا ایک عجیب سا احساس اسکی رگوں میں دوڑا۔۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔
