Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 40)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 40)
Bad Bakhat by Arshi Noor
تمھیں دیکھا اسکے ساتھ اچھے فیملی کے لگے سلجھے ھوۓ اسلیے تمھیں گاڑی کے بہانے سے بلوایا۔۔۔
عضد کا دل پریشانی سے زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔
اس نے عضد کو اپنا نمبر دیا۔۔۔۔
اسکے بارے میں جو بھی جاننا چاھتے ھو یہ کون ھے؟؟ کہاں سے آئ ھے؟؟؟ اسکا بیک گراؤنڈ کیا ھے؟؟؟ تم تک کیسے پہنچی؟؟؟؟
اس سے پہلے یہ کہاں تھی؟؟؟
اس کے بچپن سے لیکر اسکی جوانی تک سے جڑے بیس سالوں کے ایک ایک پل کا حساب ھے میرے پاس۔۔۔۔۔
بس مجھ سے ایک ملاقات کر لینا۔۔۔۔۔۔
عضد بہت حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ وہ کون ھے اور کیا کہہ رہی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
عضد اسکے ہاتھ سے نمبر لیکر گاڑی سے اترا۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور عضد کو باۓ باۓ کہتی نکل گئ۔۔۔۔۔
عضد کافی دیر اسکا نمبر ہاتھ میں لیے وہی قدم جماۓ کھڑا رہا۔۔۔۔۔
پھر اپنے ذہن کیطرح بھاری بھاری قدم اٹھاتا اپنی گاڑی کیطرف آیا جہاں رتابہ اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کہاں چلے گئے تھے آپ۔۔۔۔وہ فکریہ انداز میں بولی۔۔۔۔۔
کہیں نہیں۔۔۔
عضد نے سنجیدگی سے جواب دیا اور گاڑی چلانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہاتھ اسکا اسٹیرنگ پر تھا اور دوسرے بازو کی کہنی دروازے سے ٹکاۓ انگلیاں اپنی گردن پر رکھے وہ اس لڑکی کی باتوں میں گم تھا۔۔۔۔۔
کہیں بچہ وچہ گرانے تو نہیں آۓ اسکے ساتھ ھوسپٹل؟؟؟؟؟
بختی کے چکروں سے نکل آؤ تو بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
رتابہ اسے اتنا سنجیدہ اور کھویا کھویا دیکھ کر پوچھے بنا نا رہ سکی۔۔۔۔۔
کیا ھوا ھے آپ پریشان لگ رھے ھیں۔۔۔۔۔
عضد اپنی سوچوں سے باہر آیا ھمممممم نہیں کچھ نہیں بس ویسے ہی اس نے نارمل رہنے کی کوشش کی پریشان ھو گیا تھا وہ بہت زیادہ لیکن اس نے رتابہ سے کچھ نا کہا۔۔۔
گھر آۓ تو عضد نے رابی سے کھانا لگانے کو کہا رتابہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اسکا دل بہت متلی کر رہا تھا۔۔۔۔
عضد واش روم میں فریش ھونے گیا۔۔۔۔
تو منہ دھوتے سمے وہ لڑکی آئینے میں اسکے سامنے تھی۔۔۔۔
خیر یہ بتاؤ بچہ وچہ گرانے تو نہیں لاۓ اسے ھوسپٹل۔۔۔۔۔
شریف لگتے ھو شکل سے بختی کے چکر سے نکل آؤ تو بہتر ھوگا تمھارے لیے۔۔۔۔۔
بہت کوشش کی عضد نے اسے جھٹلانے کی لیکن اسکا لہجہ اسکی باتیں نا چاہتے ہوئے بھی عضد کے دل و دماغ پر سوار ھونے لگیں۔۔۔
ایسی کیا حقیقت تھی رتابہ کی جو نمل بھی نہیں جانتی تھی
اور رتابہ خود بھی بتانے سے قاصر تھی۔۔۔۔
رتابہ نے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔
تو وہ باہر آیا۔۔۔۔
رتابہ کو vomitings ھو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگتے ہوئے اندر گئ اور vomitings سے اسکی حالت دوہری ھونے لگی۔۔۔
عضد اسکے پاس ہی تھا وہ اسے تھام کر باہر لایا پھر اپنے ہاتھوں سے اسے tablet دی۔۔۔۔۔
اسکے سامنے وہ اپنا behave نارمل رکھے ھوۓ تھا۔۔۔۔۔۔
رابی دستک دیکر اندر آئ اور کھانے کی ڈش سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر باہر چلی گئی۔۔۔۔۔
رتابہ نے کھانا کھانے سے منع کر دیا۔۔۔۔۔۔
عضد اسکی فکر سے بولا پہلے ہی تمھیں اتنی weakness ھے کھانا نہیں کھاؤگی تو مذید ویک ھو جاؤگی۔۔۔
وہ تکیے میں منہ دیے لیٹ گئی۔۔۔۔
عضد نے اسے پکڑ کر بٹھایا چلو کھانا کھاؤ۔۔۔۔۔
نہیں نا مجھے پھر الٹی ھو جائے گی۔۔۔۔۔
عضد نے اسے غور سے دیکھا اترے اترے چہرے کیساتھ وہ اور بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
کوئ بات نہیں تم الٹی کر دینا میں سیدھی کر لوں نگا۔۔۔۔
عضد کا انداز ایسا تھا کہ رتابہ کو ھنسی آ گئی وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔۔
عضد نے پہلی بار اسے اسطرح اپنے سامنے ھنستے دیکھا تھا
عضد کو قوس قزح کے سارے رنگ اسکے گندمی چہرے پر بکھرتے نظر آۓ۔۔۔
وہ پھر سے لیٹ گئ۔۔۔۔
عضد نے پکڑ کر اسے بٹھایا اور خود اسکے پیچھے بیٹھا اور اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیۓ اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے لگا جیسے ماں بچے کو اپنی گود میں لیکر اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ھے۔۔۔۔
وہ اس وقت اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ عضد کچھ دیر پہلے ھونے والی ہر بات بھول گیا۔۔۔۔۔۔
کھانا کھا کر وہ اسے واک کیلئے باہر لان میں لے آیا۔۔۔
اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے واک کروائ۔۔۔
وہ تھک کر گھاس پر بیٹھ گئ بس اب اور نہیں چل سکتی۔۔۔۔
عضد اسکے سامنے بیٹھ گیا تاروں بھری رات کے اندھیرے میں بھی اسکا چہرہ چمک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
مایا یہ منظر دیکھ کر جل بھن کر رہ گئی کہ یہ کیا؟؟؟ بندیا سے ملاقات کے بعد بھی عضد اسکے ساتھ ھے؟؟؟؟؟
وہ ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر ٹینشن سے اندر پلٹی۔۔۔۔
اور بندیا کو فون ملایا۔۔۔
اس نے مایا کو تسلی دی کہ اسکا کام جلد ھو جاۓ گا بس وہ صبر اور تحمل سے کام لے۔۔۔۔
___________________
عضد آفس میں اپنے کام میں بزی تھا۔۔۔۔۔۔
جب کال آپریٹر نے عضد کو کال پر بتایا کہ باہر کوئ لڑکی آئ ھے جو آپ سے ملنے کا کہہ رہی ھے۔۔۔
عضد تھوڑا حیران ھوا کہ اس سے ملنے کون سی لڑکی آ سکتی ھے؟؟؟؟؟؟؟
عضد نے اسے اندر آفس میں بلوا لیا۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو عضد دیکھ کر اپنی سیٹ سے کھڑا ھو گیا۔۔
کہ یہ تو وہی لڑکی تھی جو اسے کچھ دن پہلے ھوسپٹل میں ملی تھی۔۔۔
لیکن یہ آفس تک کیسے پہنچی؟؟؟؟؟
عضد کی بغیر اجازت کے وہ اسکے سامنے چیئر پر بیٹھی۔۔۔۔
حیران ھو رھے ھو مجھے یہاں دیکھ کر۔۔۔۔۔
عضد کرسی پر واپس بیٹھ کر بولا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔
آج صبح تم مجھے خیابان سحر کے پاس نظر آۓ تو تمھارا پیچھا کرتے ھوئے آفس دیکھا۔۔۔
اور اب کچھ دیر میں تمھارے سامنے ھوں۔۔۔۔۔۔
عضد خاموش تھا بلکل۔۔۔۔
تم نے تو میرا نام تک نہیں پوچھا نا کال کی۔۔۔۔
عضد بڑی سنجیدگی سے بولا بتا دیں نام بھی اور بختی کے ساتھ آپکا رشتہ بھی۔۔۔۔۔۔
نام میرا بندیا ھے۔۔۔۔۔۔
اور بختی سے۔۔۔۔ وہ کچھ لمحہ عضد کے چہرے کے رنگ دیکھنے لگی پھر آگے بولی بختی سے کیا رشتہ ھے میرا یہ جاننے کیلیے تمھیں میرے ساتھ جانا ھوگا۔۔۔۔۔
لیکن کہاں؟؟؟؟
وہ عضد کی حیرت سے پھیلی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔
جہاں سے بختی بھاگی تھی۔۔۔۔۔
عضد نے بمشکل اپنا تھوک گلے سے نگلا کہ کیا حقیقت تھی بختی کی جو اس لڑکی کو معلوم تھی۔۔۔۔
کوئ چاۓ پانی ہی پوچھ لو مہمان ھوں تمھاری۔۔۔۔۔
عضد نے جلدی سے کافی آرڈر کی۔۔۔
بندیا کے نظریں مسلسل عضد پر تھیں۔۔۔۔
عضد کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا اتنے پر تجسس انداز سے اسکا دیکھنا۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے پڑی فائل پر نظریں جمائے بولا۔۔۔۔
آپ اتنا تو بتا سکتی ھیں کہ بختی کو اتنے سالوں سے کیسے جانتی ہیں؟؟؟؟
جتنا میں اسے جانتی ھوں اتنا وہ خود بھی خود کو نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔
عضد سے صبر نہیں ھو رہا تھا وہ بہت تذبذب کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔۔
لیکن اتنی گہرائی میں آپ جانتی کیسے ھیں اسے؟؟؟؟؟
بندیا مسکراتی آنکھوں سے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھے بولی۔۔۔۔
میرے ساتھ میرے سامنے ایک گھر میں بڑی ھوئ ھے وہ۔۔۔۔۔۔
کیاااااااااا؟؟؟؟
لیکن اسے تو اسکے ماما گوپال نے پالا تھا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔
مجھے بھی اسی گوپال نے پالا ھے۔۔۔۔۔
گوپال کے نام پر اسکے لہجے کی کڑواہٹ عضد کو بھی محسوس ھوئ۔۔۔۔۔
آپ کیا لگتی ھیں گوپال کی؟؟؟؟
یہ بھی بتا دونگی پہلے میرے ساتھ تو چلیں۔۔۔۔
وہ کافی ختم کر کے کھڑی ھوئی۔۔۔۔
عضد نے گاڑی کی چابی اٹھائ اور اسکے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔
بندیا اسے راستہ گائیڈ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات تو بتائیں آپ مجھے بختی کے بارے میں یہ سب کیوں بتانا چاہتی ہیں؟؟؟
کیونکہ میں نہیں چاھتی بختی اب اپنے جھوٹ سے مذید کسی کی زندگی برباد کرے۔۔۔۔
کیسا جھوٹ؟؟؟ عضد گاڑی کا گیئر بدلتے ہوئے بولا۔۔۔
اپنے عیبوں پر پردہ ڈال کر معصوم اور مظلوم بننے کا جھوٹ۔۔۔۔
عیب؟؟؟؟؟عضد ماتھے پر تیور چڑھا کر پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ھے تم بختی کو بلکل نہیں پہچان سکے جبھی تو اسے اپنی انگلی کے ساتھ لگاۓ پھر رھے ھو۔۔۔۔۔
عضد اسکے کہنے پر گاڑی کا موڑ کاٹتے ھوۓ بولا آپ نمل کو جانتی ھیں؟؟؟
جی جانتی ھوں حافظ صاحب کی بیٹی ھے نا۔۔۔۔۔
عضد نے ایک بار حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
اس بیچاری سیدھی سادی لڑکی کی زندگی بھی اس نے برباد کر دی۔۔۔۔۔۔
نمل کی زندگی برباد؟؟؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔۔۔
نمل آج سے چار سال پہلے کڈنیپ ھوئ تھی اسکی وجہ سے۔۔۔۔
عضد کے ہاتھ اسٹیرنگ چلاتے ھوۓ یک دم رک گۓ گاڑی کو بریک لگا کر وہ پورا بندیا کی طرف گھوما۔۔۔۔۔۔
نمل کڈنیپ ھوئ تھی؟؟؟بختی کی وجہ سے؟؟؟؟
ہاں۔۔۔۔
عضد کو یقین نہیں آرہا تھا یہ کیسے ممکن ھے؟؟
گاڑی چلاؤ بس ذرا سا آگے جانا ھے پھر وہاں جس سے مرضی ھے پوچھ لینا۔۔۔۔
بندیا کے کہنے پر اس نے گاڑی ایک گلی کر کارنر پر کھڑی کی۔۔۔۔
یہاں رہتی تھی بختی جاؤ کسی کا بھی دروازہ بجا کر پوچھو
بختی اور نمل کا۔۔۔۔
عضد گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔
اور غور سے اس گلی کے ایک ایک گھر کو دیکھنے لگا ہھر کچھ قدم آگے بڑھاۓ اسکو مناسب نا لگا کہ وہ کسی کا دروازہ بجاتا اور بختی یا نمل کا پوچھتا اسکی ھمت ہی نہیں ھو رہی تھی
ایک جگہ اسکے قدم ٹھہر گئے جو گوپال کے برابر میں تیسرا گھر تھا۔۔۔۔
اس گھر سے اچانک ہی ایک عورت بڑی سی چادر میں خود کو لپیٹے باہر نکلی تو عضد کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
جو بڑے غور سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ اس نۓ چہرے کو دیکھ کر اسکے پاس آئ کسی کا گھر تلاش رھے ھو کیا؟؟؟؟؟
عضد نے چونک کر اس عورت کو دیکھا جی ۔۔۔۔۔
کس کا گھر پوچھنا ھے نام بتاؤ میں بتاتی ھوں تمھیں۔۔۔۔
نمل اور بختی کا۔۔۔
اتنے عرصے بعد اس گلی میں کوئ نمل اور بختی کا پوچھنے آیا تھا وہ عورت حیرانی سے آنکھیں پھاڑے عضد کو دیکھنے لگی جیسے اس نے نمل اور بختی کا نہیں کسی دہشت گرد کا پوچھا تھا۔۔۔
وہ رازداری کے انداز میں عضد کے کچھ قریب ھوئ تم ھو کون؟؟؟؟؟
عضد اس عورت کے قریب آنے پر دو قدم اس سے پیچھے ہٹا
میں انکا دور پرے کا رشتے دار ھوں….
کس کا؟؟
بختی کا یا نمل کا۔۔۔۔۔
اب وہ کنفیوز ھو گیا کہ کس کا رشتے درا بنتا وہ سر کے پیچھے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا نمل کا۔۔۔۔
اچانک سے اس عورت کے چہرے پر حیرت کے آثار افسوس میں بدل گۓ۔۔۔
ہاۓ بہت برا ھوا بیچاری کیساتھ لگتا ھے بیٹا تمھیں کچھ نہیں پتہ ان پر کیا بیتی خیر یہ بتاؤ آۓ کہاں سے ھو۔۔۔۔۔۔
عضد کو کوفت ھونے لگی تھی اس عورت کے سوالوں سے۔۔۔۔
وہ عضد کی ٹپ ٹاپ دیکھ کر کافی متاثر ھوئ تھی کہاں سے آۓ ھو تم؟؟؟
وہ گہری سانس لیکر بمشکل بولا لاھور سے۔۔۔۔
ااااوووہ اتنی دور سے آۓ ھو تو باہر کیوں کھڑے ھو اندر آؤ نا
وہ زبردستی عضد کو اندر لے گئ۔۔۔۔
عضد کے دوبارہ نمل کا پوچھنے پر وہ رو دینے والے انداز میں بولی آنسو ایک بھی نہیں تھا اسکی آنکھوں میں۔۔۔
کیا بتاؤں بیٹا نمل کو کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے تھے اسکی شادی سے ٹھیک دو۔ تین دن پہلے۔۔۔۔۔
یہ بات سن کر عضد پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔۔۔۔۔
وہ اپنے خشک آنکھوں کو دوپٹے کے کونے سے رگڑتی آگے بولی حافظ صاحب یہ سب برداشت نا کرسکے مرتے مرتے بچے وہ
پھر کچھ دن بعد نمل بیٹی آگئ تھی واپس۔۔۔۔
لیکن یہاں کے ظالم لوگوں نے ان کو رہنے نا دیا نمل کی بدنامی کے قصے گھر گھر میں ھونے لگے تھے۔۔۔۔۔
سب کے گھروں میں بچیاں تھیںںکوئ بھی اس بدنامی کیساتھ ان کو اس محلے میں برداشت نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔
سب نے ملکر اس محلے سے باپ بیٹی کو نکال کر ہی دم لیا
پتہ نہیں اب کہاں مارے مارے پھر رھے ھونگے وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول رہی تھی۔۔۔
عضد تو دم بخود صوفے پر بیٹھا رہ گیا کہ اتنی بڑی حقیقت سے وہ نا وقف تھا نمل کی کیا ھوا تھا نمل کیساتھ؟؟؟؟
کون لوگ تھے وہ؟؟؟ کیوں کے گۓ تھے شادی سے پہلے نمل کو؟؟؟؟؟ عضد نے اٹکتے الفاظ میں پوچھا۔۔۔۔
پھر نمل کی شادی کا کیا ھوا ؟؟؟
بس بیٹا ایسی لڑکیوں کو کون قبول کرتا ھے موت کے علاوہ۔۔۔۔
عضد نے اگلا سوال ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔۔۔
اور بختی کہاں ھے؟؟؟؟
بختی کے نام پر تو اس عورت کا ایسے منہ بنا جیسے کسی نے نیم کا شربت پلا دیا ھو۔۔۔
ہاۓ ہاۓ اس بد بخت کا کیا پوچھتے ھو نمل کے اغوا ھوتے ہی وہ بھاگ گئ یہاں سے۔۔۔۔۔
کس کے ساتھ بھاگی وہ؟؟؟؟
یہ تو اسے ہی معلوم ھوگا بڑی معصوم اور مظلوم بنی پھرتی تھی لیکن اسکے لچھن بعد میں پتہ چلے سب کو۔۔۔۔
عضد کو یوں محسوس ھوا جیسے اسکا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ھو۔۔۔۔
اسکی ھمت ہی نا ھوئ کچھ اور پوچھنے کی۔۔۔۔
ھم نے تو یہی سنا ھے جس نے پالا تھا اسے بیٹی کیطرح اسی کے حق پر ڈاکا ڈالا ھے اس نے۔۔۔
اللہ معاف کرے وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر مذید بولی جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید۔۔۔۔۔۔
توبہ توبہ اللہ جھوٹ نا بلواۓ۔۔۔۔۔۔
ھم نے تو یہ بھی سنا ھے کہ دیوی جس نے اسے پالا تھا اسکی بیٹی کا گھر بھی اسی بختی نے اجاڑا ھے اور تو اور نمل کے اغوا میں بھی اسی کا ہاتھ لگتا ھے۔۔۔
کیونکہ جب نمل اغوا ھوئ تھی تو یہ بھی اسی کے ساتھ تھی۔۔۔۔
اب سوچنے والی بات ھے نا بیٹا کہ ان چوروں نے نمل کو اٹھا لیا اور اسے ہاتھ تک نہیں لگایا کیوں؟؟؟
آخر کو یہ بھی تو لڑکی کی تھی نا اور گوپال جسے ماما کہتی پھرتی تھی اندر کچھ اور ہی راز تھا انکے باپ بیٹی کا ڈرامہ رچایا ھوا تھا بس ورنہ معاملات کچھ اور ہی تھے پھر انکو بھی چھوڑ کر جانے کس کے ساتھ یاریاں لگا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اور بھی بہت کچھ بولتی رہی لیکن عضد میں مذید کچھ سننے کی ھمت نا رہی تھی۔۔۔۔
وہ ایک دم سرخ چہرے کیساتھ کھڑا ھوا اور اللہ حافظ کہتا وہاں سے باہر نکل کر کر گاڑی کیطرف آیا۔۔۔
بندیا گاڑی میں ہی موجود تھی عضد نے جلدی سے وہاں سے گاڑی نکالی اور ریش ڈرائیونگ کرتا اس علاقے سے باہر آیا۔۔۔
بندیا نے اسکے کپکپاتے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کیا ھوا اتنے غصے میں کیوں ھو؟؟؟
عضد کی آنکھیں انگاروں کیطرح دہک رہی تھیں اس نے بندیا کا ہاتھ پیچھے جھٹکا۔۔۔۔
آپ مجھے گوپال سے ملوا سکتی ھیں؟؟؟ عضد کے چہرے پر غم و غصہ دیکھ کر بندیا کے اندر تک سکون سا اترا۔۔۔
ہاں ملوا سکتی ھوں لیکن وہ اب ان بدنام گلیوں میں نہیں رھتے اپنی عزت بچانے کی خاطر کہیں اور شفٹ ھو گۓ ہیں وہ۔۔۔۔
کہاں؟؟؟؟؟
بندیا اسے گوپال کے نۓ گھر تک لے گئ۔۔۔۔
اور دور سے اسے گھر دکھا کر خود گاڑی سے اترتے ھوۓ کہنے لگی گوپال نا ملا تو دیوی سے مل لینا گوپال کی بیوی ھے وہ۔۔۔۔
عضد نے گاڑی گھر کے سامنے کھڑی کی اور دروازے پر آہستہ سے دستک دی۔۔۔۔۔
اندر سے بھاری زنانہ آواز آئ کون ھے؟؟؟؟؟
عضد نے گوپال کا پوچھا۔۔۔
تو اپنی آواز کیطرح بھاری بھرکم جسم کیساتھ ایک عورت دروازے سے نمودار ھوئ۔۔۔
جو عضد کو اور پھر اسکی لمبی چم چماتی گاڑی دیکھ کر کچھ ٹھٹھک سی گئ۔۔۔۔
گوپال سے ملنا ھے مجھے۔۔۔
وہ تو ابھی نہیں ھیں گھر میں۔۔۔۔۔
آپ کون ھو؟؟؟؟
عضد نے اپنا نام بتانے کے بجاۓ دیوی کا پوچھا۔۔۔۔
دیوی آنٹی ھیں گھر؟؟؟؟
وہ عضد کو سر سے پیر تک دیکھ کر بولی ہاں میں ھوں دیوی۔۔۔
میں اندر آ سکتا ھوں آپ سے کچھ کام ھے مجھے۔۔۔۔
پہلے تو وہ ایک پل خاموش رہی پھر دروازہ پورا کھول کر سائیڈ پر ھوئ۔۔۔۔۔
آ جاؤ اندر۔۔۔۔
عضد گھر کے دروازے سے سر جھکا کر داخل ھوا۔۔۔۔
وہ اس یقین کے ساتھ آیا تھا کہ یقیناً پڑوس والے سنا سنایا جھوٹ بول رھے ھونگے اسکی بختی ایسی نہیں ھو سکتی تھی۔۔۔۔
گھر میں داخل ھوتے ہی وہاں کی غربت منہ کھولے عضد کا منہ چڑا رہی تھی گھر بلکل ساز و سامان سے خالی تھا صرف ایک کمرے میں فرش پر چٹائ بچھی ہوئی تھی۔۔۔۔
دیوی نے عضد کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ ایک طرف دروازے کے پاس کونے پر بیٹھا۔۔۔۔
دیوی اس سے کچھ فاصلے پر آسن مارے بیٹھی۔۔۔۔
ہاں بولو کیا کام ھے تمھیں ھم سے کیا پوچھنا چاھتے ھو؟؟
عضد نے اسکو غور سے دیکھا۔۔۔۔
ہری ہری آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اور ڈھیلا ڈھالا تھکان سے بھرا جسم صاف بتا رہا تھا کہ وہ حالات اور بھوک سے لڑنے والے لوگ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عضد نے دیوی سے نظریں ہٹائیں اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر وائلٹ نکالا اور چپکے سے دروازے کے پیچھے رکھ دیا جس میں کچھ ہزار موجود تھے۔۔۔۔۔
پھر صحن میں جھانک کر اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتا ھوا بولا مجھے بختی کے بارے میں کچھ پوچھنا ھے۔۔۔۔۔
عضد کے سوال پر دیوی کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی۔۔۔۔
اس منہوس کا نام بھی اپنی زبان پر لانا میں پاپ(گناہ) سمجھتی ھوں۔۔۔۔۔۔۔
عضد انکی طرف دیکھنا نہیں چاھتا تھا۔۔۔
آنٹی پلیز مجھے جاننا ھے بختی کے بارے میں کون تھی وہ؟؟
کیسے ملی آپکو؟؟؟ کیا ھوا آپ کے ساتھ ؟؟؟
لیکن تم کیوں جاننا چاہتے ھو یہ سب؟؟؟؟ دیوی کا لہجہ بہت سخت تھا۔۔۔۔
یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤنگا پہلے آپ بتائیں مجھے پلیز۔۔۔۔۔۔
دیوی کچھ لمحہ ٹھہر کر جب بولی تو اسکا ایک ایک لفظ عضد کا دل چیرنے لگا۔۔۔
دیوی کی آواز آہستہ آہستہ سسکیوں میں بدل گئی۔۔۔۔
میرے ہی گھر میں اسے میں نے پناہہ دی اور اس نے میری ہی ناک تلے میرے شوہر کیساتھ آنکھ مچولی کھیلی اس کم ذات نے اپنے باپ جیسے شخص کو بھی نہیں بخشا۔۔۔۔
ناجائز سنمبدھ (تعلقات ) تھے اسکے اپنے ماما گوپال کیساتھ
ماما ماما کہتی تھی بد ذات ۔۔۔
سانپ کو اپنی آستین میں پالا میں نے اس نے نا میرا لحاظ کیا نا میری بچی کا اسکا گھر بھی برباد کر دیا دیوی اپنا ہر شک ہر الزام ایک ایک کر کے عضد کو بتاتی چلی گئ۔۔۔
پھر آخر میں وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی اس ظالم بابو نے میری بچی سے اس بد بخت کے بھاگ جانے کا بدلہ لیا بیچ دیا اس نے میری بیٹی کو۔۔۔۔
اسکے باپ کو بھی رحم نا آیا اسے چھپاتا پھر رہا تھا اسے بھی چھوڑ کر وہ بھاگ گئ۔۔۔۔
صرف اس بد بخت کیوجہ سے میری بچی کا باپ باپ نا بن سکا اور شوہر شوہر نا بنا اسکا سر پیٹ پیٹ کر رونا عضد سے برداشت نا ھوا۔۔۔۔
اس نے بڑی مشکل سے اٹھنے کی ھمت کی اور دیوی کو روکا
یہ کیا کر رہی ھیں آپ۔۔۔
دیوی جھولیاں بھر بھر بختی کو بد دعائیں دینے لگی۔۔۔
میں کبھی معاف نہیں کرونگی اسے کھا گئ وہ میرے گھر کو کھا گئی وہ ھمیں کیڑے پڑیں اس میں سسک سسک کے مرے وہ
دیوی سینہ پیٹ پیٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔
عضد سے بلکل برداشت نا ھوا یہ سب۔۔۔۔
وہ دھواں دھار ھوتی آنکھوں کے ساتھ اٹھا اور سنسان روڈ کیطرف نکل آیا ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا ھو گیا تھا پل بھر میں ابھی تو اسکی دنیا آباد بھی نہیں ھوئ تھی پوری طرح سے اور برباد ھونے چلی تھی یہ کیسی بھیانک حقیقت سامنے آئی تھی رتابہ کی وہ اپنے بال ہاتھوں میں لے کر جکڑنے لگا۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں یہ سچ نہیں ھو سکتا نہیں ھو سکتا یہ سچ۔۔۔۔
عضد نے شدت سے اپنا سر اسٹیرنگ سے مار مار کر رونے لگا۔۔۔۔۔
روتے روتے اسکے منہ سی رال ٹپکنے لگی کہ یہ یہ سب بختی کا ماضی کیسے ھو سکتا ھے۔۔۔۔۔
بندیا۔۔۔ اسکے محلے والی عورت اور دیوی ان تینوں کی آوازیں چیخیں مارتی عضد کو چاروں طرف سنائ دے رہی تھیں۔۔۔۔
اسکا دل چاہا وہ مار ڈالے اپنے آپ کو۔۔۔۔۔
کوئ نا تھا اسوقت اس کی حالت زار دیکھنے کو وہ آسمان کیطرف منہ پر ہاتھ رکھے چیخ چیخ کر رویا۔۔۔۔۔
رتابہ تم نے مجھے اندھیرے میں کیوں رکھا کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟
کیوں؟؟؟؟ اتنے جھوٹ بولے؟؟؟؟؟
عضد کی رگوں سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اسکا دل بند ھونے لگا وہ دل پر ہاتھ رکھے اسٹیرنگ سے سر ٹکاۓ پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا نا جانے کتنا وقت اسی طرح بیت گیا تھا۔۔۔
وہاں سے اکا دکا گزرتے ھوئے لوگوں نے نوٹ کیا تو وہ اسکی گاڑی کے پاس آۓ۔۔۔۔۔۔۔
اور شیشے پر دستک دی وہ اپنے ھوش و حواس میں نہیں تھا
زور زور سے باہر کھڑے دو آدمیوں نے پھر سے شیشے پر ہاتھ مارا۔۔۔
عضد نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔
اور شیشہ نیچے کیا اسکی ناک اور آنکھوں سے پانی جاری تھا۔۔۔۔
کیا ھوا صاحب جی سب خیریت تو ھے نا؟؟؟؟
عضد نے بازو سے اپنا چہرہ اور ناک صاف کیا۔۔۔۔
پھر ہاں میں سر ہلایا جی ٹھیک ھے سب۔۔۔
صاحب جی طبیعت ٹھیک نہیں تو پاس ہی ھمارا کچا مکان ھے آ جائیں یہاں آپ۔۔۔
عضد نے نا میں سر ہلایا۔۔۔
وہ اسکی حالت دیکھ چکے تھے کہ کافی خراب لگ رہی تھی۔۔۔۔
صاحب جی آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کہیں تو ھم چھوڑ آتے ھیں آپکو۔۔۔
عضد نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں ٹھیک ھوں پھر گاڑی اسٹارٹ کی اور انکو ہاتھ ہلاتا آگے نکل گیا اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جارہا ھے بس گاڑی چلاتا رہا وہ۔۔۔
فون بھی مسلسل بج رہا تھا عضد بلکل بہرہ سا ھو گیا تھا۔۔۔۔
اسکی گاڑی سنسان علاقے سے نکلتی ھوئ لوگوں کے رش میں جا پہنچی۔۔۔
وہ کراچی کے ساحل ہاکس بے پہنچ چکا تھا۔۔۔۔
اس نے وہاں سے بھی گاڑی آگے بگھائ اور بلکل خالی جگہ پر گاڑی روکی پھر گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔
سمندر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ھواؤں نے اسے خوش آمدید کیا۔۔۔
وہ ریت سے چلتا ھوا پانی میں آ کھڑا ھوا۔۔۔۔
سمندر کی موجیں اسکے قدموں کو چھو کر واپس پلٹنے لگیں
اسکا دل چاہ رہا تھا کاش اسکی سوچیں وہ سب باتیں بھی ان لہروں کیطرح پلٹ سکتیں۔۔۔۔
اپنی سوچوں میں گم وہ اتنا آگے بڑھتا گیا کہ لہریں اسکے سینے کو چھونے لگیں۔۔۔
بڑی بڑی موجوں نے اسے پورا اپنی لپیٹ میں لی اسکے قدم ڈگمگائے تو وہ ان لہروں سے الٹے قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔
وہ جتنا پیچھے پلٹ رہا تھا رتابہ کا معصوم سا چہرہ اسکے قریب آنے لگا رو رو کر بھی وہ تھک چکا تھا۔۔۔۔
نرگس کی باتیں اب اسکا پیچھا کرنے لگیں۔۔۔۔۔
میری جان محبت اور شک بیک وقت دل میں بسیرا نہیں کر سکتیں جہاں محبت ھو وہاں شک کی گنجائش نہیں ھوتی۔۔۔۔
پھر جو حالت اسکی زیادتی کرنے سے رتابہ کی ھوئ تھی وہ بھی اسکے سامنے تھی۔۔۔
عضد بیٹا اس معصوم کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میاں بیوی کے آپس میں کیا معاملات اور کیسے تعلقات ھوتے ھیں؟؟؟؟
وہ یہی سمجھ رہی ھے کہ تم نے بھی اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وہیں سمندر کے بیچ بیٹھ گیا اب مایا اسکے سامنے تھی شاہ جی اور علی پر ڈورے ڈال رہی ھے یہ۔۔۔۔۔
وہ ان سب آوازوں سے گھبرا کر اٹھا اور گھر کیطرف آنے لگا
علی مایا رتابہ سب بہت پریشان تھے کہ بنا بتاۓ وہ کہاں جا سکتا تھا۔۔۔۔۔
گھر کے قریب پہنچ کر اسکا بلکل من نہیں کر رہا تھا کہ وہ گھر میں داخل ھوتا یہی سوچ رہ رہ کر اسکو ستا رہی تھی کہ ان دونوں بھائیوں کے نصیب میں کیا لکھا تھا؟؟؟
نمل کی سچائ جازب جانتا ھے یا نہیں۔۔۔۔
نمل کیساتھ کیا ھوا تھا؟؟؟کس نے اغوا کیا تھا اسے؟؟؟
اور رتابہ پر لوگ اسکے اغواء ھونے کا الزام کیوں دھر رھے تھے
رتابہ کیا چاھتی تھی نمل سے؟؟؟؟ اور اس نے اتنا کچھ کیوں چھپایا؟؟؟؟؟ کیوں اسے ساری سچائ سے آگاہ نہیں کیا؟؟؟؟
اور یہ کس موڑ پر اسکی ھولناک سچائ سامنے آئ تھی جب وہ اس سے محبت کر بیٹھا تھا۔۔۔۔
لیکن یہ کیسی محبت تھی؟؟؟؟
شک تو نہیں کر رہا میں اس پر لیکن اسکی حقیقت بھی قابل تسلیم کہاں ھے؟؟؟؟؟ وہ کیوں نہیں بتاتی کہ اسکے بچے کا باپ کون ھے؟؟؟؟؟ پھر اسے اچانک خیال آیا کہ یہ بھی تو ھو سکتا ھے نا کہ بختی واقعی معصوم ھو اور گوپال نے اسے اپنے مطلب کیلیے پالا پوسا ھو یا اسکی معصومیت کا فایدہ اٹھایا ھو لیکن ایسا ھے تو بختی کی زبان پر ماں کیطرح کیوں گوپال کا ہی نام نکلتا ھے ؟؟؟؟؟
اپنے آپ سے سوال کرتا اپنے آپ سے الجھتا وہ کافی دیر گھر کے باہر گاڑی میں بیٹھا رہا رات ھو چکی تھی۔۔۔۔
علی اسے ڈھونڈتا ھوا گھر آیا تو اسکی گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی وہ جلدی سے باہر آیا تو عضد آنکھیں میچے سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا ھوا تھا۔۔۔۔
علی اسے اندر لایا تو مایا لان میں تھی۔۔۔
بھاگتی ھوئ وہ عضد کے پاس آئ کہاں تھے تم؟؟؟؟
عضد کچھ نا بولا اسکے کپڑوں پر سمندر کی مٹی صاف بتا رہی تھی کہ وہ کہاں تھا۔۔۔۔۔
وہ نظریں چراۓ بولا۔۔۔
کسی کام سے گیا ھوا تھا اتنا کہہ کر وہ رکا نہیں اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
رتابہ جاۓ نماز پر بیٹھی اس کے لیۓ رو رو کر با آواز دعائیں کر رہی تھی۔۔۔۔
عضد کو دیکھ کر وہ فوراً اٹھی اور اسکے سامنے آئ کہاں تھے آپ؟؟؟
وہ دانت پیستا ھوا اسکا چہرہ دیکھنے لگا جو اسوقت آنسوؤں سے تر تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے قریب ھوئ عضد کہاں تھے آپ؟؟؟؟
جہاں تم تھی پہلے عضد کے لہجے میں سرد مہری تھی۔۔۔۔
کیا مطلب؟؟؟اس نے گھبرا کر پوچھا۔۔۔۔۔
عضد نے اسے بازوؤں سے جکڑا تم گوپال کے گھر سے کیوں بھاگی تھی اور کس کے ساتھ؟؟؟؟؟
رتابہ اسے اچانک یہ سوال پوچھنے پر سٹپٹا گئ۔۔۔۔۔
مممم میں نے۔۔۔ میں آپ کو سچ بتا چکی ھوں۔۔۔۔
عضد نے زور سے اسے جھٹکا دیکر غراتے ھوۓ کہا ادھورا سچ بتایا ھے تم نے مجھے بتاؤ گوپال سے کیا تعلق تھا تمھارا؟؟
وہ عضد کی آنکھوں میں حیرت سے سمٹی دیکھتی رہی۔۔۔
تم سے پوچھ رہا ھوں گوپال سے کیسے تعلقات تھے تمھارے؟؟؟؟
بیٹی جججججےےے۔۔۔۔۔
ابھی اس نے جملا پورا ادا ہی نہیں کیا تھا کہ اک زناٹے دار تھپڑ عضد نے اسے مارا وہ فرش پر جا گری۔۔۔۔۔
وہ پنجوں کے بل اسکے قریب بیٹھا۔۔۔۔۔۔
اور کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور کر بولا یہ بابو کون ھے؟؟؟؟
اب رتابہ کو عضد کے غصے کی وجہ سمجھ آئ تھی کہ اسکی ملاقات بابو سے ھوئ تھی۔۔۔۔۔۔
عضد نے اسے جبڑوں سے پکڑا بتاؤ مجھے بابو کون ھے؟؟؟؟
مجھے نہیں معلوم رتابہ نے بھیگی پلکیں جھپکتے ھوۓ خفیف انداز میں کہا۔۔۔
جو عضد کو بمشکل سنائ دیا۔۔۔
اس نے ایک اور تھپڑ مارا رتابہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔
جو پوچھ رہا ھوں سچ بتا دو ورنہ جان سے مار دونگا میں تمھیں۔۔۔۔
عضد نے اس پر جھک کر اسکا گلہ زور سے دبایا۔۔۔
وہ خود کو چھڑانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگی اور مشکل سے بولی۔۔۔
وہ غلط آدمی تھا مجھھھھ پرررر بری ننننظرررر۔۔۔۔۔رتابہ کے الفاظ اسکی سانسوں کے ساتھ رکنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
عضد نے اسکا گلہ چھوڑا تو وہ کھانستے ہوئے زور زور سے سانس لینے لگی اسکا چہرہ سرخ ھو گیا تھا۔۔۔۔
کچھ سنبھلنے کے بعد وہ بولی۔۔۔۔
آپ کو بابو کا کس نے بتایا؟؟؟؟
مجھے وہ سب بتایا گیا ھے جس سے تم نے ھم سب کو اندھیرے میں رکھا ھوا تھا ۔۔۔۔۔
میں نے کچھ جھوٹ نہیں بولا آپ سے گوپال ماما نے مجھے بابو سے بچانے کیلئے ہی مسز جمال کے یہاں چھوڑا تھا۔۔۔۔۔
جھوٹ بول رہی ھو تم۔۔۔۔
میں کیوں جھوٹ بولونگی آپ سے۔۔۔۔۔۔۔
جن کی سن کر آ رھے ھو وہ بھی تو جھوٹ بول سکتے ہیں نا اب کی بار رتابہ بھی چلائی۔۔۔۔
عضد نے آج پھر اس پر ہاتھ اٹھایا تھا وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ اسکے بچے کی ماں بننے والی ھے۔۔۔۔
عضد بس کر دو اب بس تھک گئ ھوں میں تمھارا شک سہتے سہتے۔۔۔۔۔
اور کتنا یقین کرو گے لوگوں پر مار دو مجھے جان سے لیکن یہ بے یقینی کی مار نا مارو وہ اسکے قدموں میں سر رکھے رونے لگی۔۔۔۔۔۔
دل چاہ رہا ھے تمھارے ساتھ میں خود کو بھی مار ڈالوں عضد کی آنکھیں بپھر سے اشکبار ھونے لگیں اس نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور کمرے سے باہر نکالنے لگا نکلو میرے کمرے سے باہر۔۔۔
نہیں میں ایسے نہیں جاؤنگی پہلے بتائیں مجھے کون ملا تھا آپ سے؟؟؟؟؟
کس نے کیا کہا ھے آپ سے؟؟؟
عضد نے اسے دھکا دیکر کمرے سے باہر نکالا۔۔۔
وہ سیڑھیوں کے پاس آکر گری علی اسے دیکھ کر بھاگتا ھوا اوپر آیا کیا ھوا ھے رتابہ؟؟؟؟؟
وہ اٹھنے کے بھی قابل نہیں تھی۔۔۔۔
علی نے اسے اٹھانا چاہا تو اس نے منع کر دیا۔۔۔۔
اور اٹھنے کی کوشش کی پھر عضد کا دروازہ زور زور سے بجانے لگی عضد کھولو دروازہ میری بات سنو عضد پلیز۔۔۔۔
علی پریشانی سے بولا ھوا کیا ھے کچھ بتاؤ گی مجھے تم؟؟؟؟
وہ علی کو نظر انداز کرتے ھوۓ بولی چلے جاؤ یہاں سے چھوڑ دو مجھے میرے حال پر خدا کا واسطہ ھے چلے جاؤ۔۔۔۔
علی اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔۔۔۔۔
وہ وہیں دروازے سے سر ٹکاۓ زاروقطار رونے لگی۔۔۔
عضد میری بات سنو پلیز عضد اوپن دا ڈور۔۔۔۔۔
وہ دروازہ پیٹ پیٹ کر تھک گئ کس نے کیا کہا ھے بتاؤ تو سہی عضددددد۔۔۔۔۔
اس پر ہاتھ اٹھا کر عضد خود بھی بہت رویا تھا وہ اپنے ہاتھ کو ڈرسینگ ٹیبل پر مار مار کر رویا پاگل سا ھو رہا تھا وہ۔۔۔۔
اور رتابہ نے اسی دروازے پر بیٹھے پوری رات گزار دی۔۔۔۔
عضد پوری رات نا سویا اسے بستر سے بھی رتابہ کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر جاتا اس نے سارا بستر اٹھا کر فرش پر پھینکا اور فرش پر بیٹھے روتا رہا۔۔۔۔۔
مایا رتابہ کا یہ حال دیکھ کر بڑے سکون سے سوئ تھی۔۔۔۔
علی بھی رات کو بار بار دروازہ کھول کر جھانکتا رتابہ اسی دروازے پر بیٹھی ھوئ تھی۔۔۔۔۔
عضد صبح آفس جانے کیلیے اپنے کمرے سے باہر آیا تو رتابہ نے اسکا راستہ روکا۔۔۔
وہ اپنے بازو کے کف فولڈ کرتا سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔
وہ اسکے پیچھے آئ تیزی سے تو سیڑھیاں اترتے ھوۓ اسکا پاؤں سلپ ھوا۔۔۔۔
اسکی چیخ نما آواز سن کر عضد تیزی سے پیچھا مڑا اور بجلی کی سی تیزی سے اسے تھام لیا۔۔۔
وہ لپٹ گئی عضد سے عضد کی سانسیں پل بھر رک سی گئیں اس نے آہستہ سے رتابہ کو خود سے الگ کرنا چاہا پر وہ اور بھی زیادہ زور سے لپٹ گئی۔۔۔۔
عضد کی آنکھیں بھیگنے لگیں کتنا انتظار تھا اسکو اس پل کا آج وہ پل آیا بھی تو اسکے لیے ناقابل برداشت تھا۔۔۔۔
عضد نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اسے خود سے الگ کیا۔۔۔۔
لیکن وہ اسکے پیروں میں آ بیٹھی۔۔۔۔۔۔
عضد پلیز اسطرح مجھے خود سے جدا مت کرو۔۔۔۔
عضد نے جھک کر اس کے ہاتھ اپنی ٹانگوں سے ہٹاۓ تو اس کے آنسو رتابہ کے گالوں پر گرے۔۔۔۔۔
وہ اسے روتا بلکتا چھوڑ کر بغیر ناشتے کے ہی آفس چلا گیا۔۔۔۔
رابی نے نرگس کو فون کر کے یہاں بلوایا کہ رتابہ کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ یہاں کراچی آ جائیں۔۔۔۔
نرگس پریشان ھو گئ تھی۔۔۔
یہاں جازب کو ڈبل ٹائیفائڈ کا اٹیک ھوا تھا اور دیان بھی ٹھیک نہیں تھا اسے بھی بخار تھا۔۔۔۔۔
رابی نے دو تین بار کال کر کے نرگس کو یہاں آنے کا کہا۔۔۔
عضد اور رتابہ دونوں سے بات نہیں ھو پارہی تھی نرگس کی۔۔۔
نرگس کو عجیب وسوسوں نے آ گھیرا۔۔۔
وہ جازب اور نمل کو چھوڑ کر کراچی آنے لگی دیان کو اسے ساتھ لانا پڑا کہ نمل ایک ساتھ دیان اور جازب کی کیئر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
__________________
عضد بہت پریشان تھا۔۔۔
ایک طرف سارے ثبوت رتابہ کے خلاف تھے لیکن ایک طرف اسکا دل تھا جو عجیب ہی شش و پنج میں مبتلا تھا۔۔۔۔۔
عضد نے حافظ صاحب کو سعودیہ میں کال ملائ خیر خیریت کے بعد وہ اپنی بات پر آیا۔۔۔
انکل آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔۔۔۔
ہاں پوچھو بیٹا۔۔۔۔
انکل نمل کی شادی پہلے بھی کہیں طے ھوئ تھی؟؟؟؟
عضد کے اچانک اس سوال پر حافظ صاحب کا دل دہل کر رہ گیا کہ وہ یہ سب کیسے جانتا ھے؟؟؟
اس بات کا علم تو نرگس کو بھی نہیں تھا۔۔۔
پھر حافظ صاحب کا خیال رتابہ پر گیا کچھ لمحے بعد وہ سنبھل کر بولے۔۔۔۔۔
بیٹا جس نے یہ سب بتایا ھے اس سے پورا سچ بھی پوچھ ہی لیتے۔۔۔
وہ دو ٹوک لہجے میں بولا مجھے آپ سے جاننا ھے سچ۔۔۔۔
ہاں بیٹا جازب سے پہلے وہ کسی اور کے نام سے منسوب تھی۔۔۔
کیا ھوا تھا ایسا انکل کہ آپ وہاں نمل کی شادی نا کر سکے۔۔۔۔
بس بیٹا قسمت میں نہیں تھی۔۔۔۔
عضد پریشانی سے اپنے ھونٹ دانتوں تلے چبا کر بمشکل بولا۔۔۔
انکل یہ سچ ھے کہ نمل kidnapped ھوئ تھی شادی سے کچھ دن پہلے؟؟؟
اسکی بات سن کر حافظ صاحب کا سر جھک گیا۔۔۔
ہاں بیٹا سچ ھے یہ لیکن میری بچی محفوظ اور باعزت لوٹی تھی واپس اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا تھا اللہ کی حفاظت میں رہی وہ۔۔۔۔۔
انکل یہ بات جازب اور امی کے علم میں ھے؟؟؟؟؟
جازب جانتا ھے لیکن نرگس کو اس بات کا علم نہیں۔۔۔
لیکن یٹا میں ہاتھ جوڑ کر تم سے التجا کرتا ھوں یہ بات نرگس کو نا پتہ چلے وہ سہہ نہیں پاۓ گی کہ میں اسکی بیٹی کی حفاظت بھی نا کرسکا حافظ صاحب اپنی بیٹی کی پدرانہ محبت سے ہار کر التجا کر رھے تھے۔۔۔۔۔۔
اور رتابہ کو بھی منع کرنا کہ اس نے تم سے تو ذکر کیا ھے لیکن نرگس سے نا کرے۔۔
جی ٹھیک ھے۔۔۔
اس نے اللہ حافظ کہہ کر فون رکھا ہی تھا کہ اسکے سامنے اسکے آفس میں آج پھر بندیا موجود تھی۔۔۔۔
اسکی طرف بڑی شوخی سے بندیا نے ہاتھ بڑھا کر ھیلو کہا۔۔۔۔
عضد نے اسکی طرف ہاتھ نا بڑھایا۔۔۔۔۔۔
بندیا کو اسوقت سامنے دیکھ کر عضد کے سپاٹ چہرے پر کسی قسم کا کوئی تاثر نا تھا۔۔۔۔
اس نے ھنستے ھوۓ ہاتھ پیچھے کیا اور اسکے سامنے کرسی پر دھنس کر بیٹھی۔۔۔۔
کیا سوچا ھے تم نے؟؟ بختی سے ملوگے دوبارہ یا جان چھڑاؤ گے اس سے؟؟؟؟
یہ تمھارا مسئلہ نہیں میں ھینڈل کر لونگا اس معاملے کو وہ اپنے لہجے کی نرمی بالاۓ طاق رکھ کر بولا۔۔۔۔
اچھااااا بندیا نے اپنی ایک آنکھ کا ابرو اٹھا کر پوچھا کہیں اس سے شادی تو نہیں کر بیٹھے؟؟؟؟
عضد اسے بے چینی سے دیکھنے لگا لیکن بولا کچھ نہیں۔۔۔۔۔
اسکا چہرہ نظروں میں لیۓ بندیا بال پین گھماتی پھر سے بولی۔۔۔۔۔
اسکا ایک بچہ بھی ھے؟؟؟ اس بچے سے ملے کبھی تم؟؟؟ یا پھر اسکا بھی علم نہیں تمھیں وہ بچہ بھی کہیں چھپااااا۔۔۔۔۔
عضد بیزاری سے پہلو بدل کر اسکی بات کاٹتے ھوۓ بولا بچہ ھے اسکے پاس ھے۔۔۔۔
اوہ اچھاااا۔۔۔۔
اس نے کیا بتایا اس بچے کے بارے میں کہ مر گیا اسکا باپ؟؟؟
عضد نے اپنا جھکا سر اٹھا کر چونک کر اسے دیکھا اور صرف جی کہہ سکا۔۔۔۔۔
بندیا زور زور سے ھنسی میں جانتی تھی وہ یہی کہے گی۔۔۔۔
عضد کو اسوقت اسکی ھنسی بلکل نا بھائ۔۔۔۔۔
آپ جانتی ھیں اس بچے کے بارے میں کون ھے؟؟؟؟؟
بندیا نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
ہاں جانتی ھوں دو ہی بندے ھو سکتے ھیں۔۔۔
عضد نے سانس روک کر پوچھا کون؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بابو یا پھر گوپال۔۔۔۔
گوپال کا نام سن کر عضد کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئ۔۔۔
وہ عضد کو حیران چھوڑ کر مذید بولی۔۔۔۔
پتہ کروا دونگی تمھیں وہ گوپال کی تحویل سے بابو کیساتھ بھاگی تھی۔۔۔۔
اب یہ بابو ہی بتا سکتا ھے کہ وہ اسکے پاس آکر pregnant ھوئ یا پہلے سے تھی۔۔۔۔۔
عضد کا دل اسطرح دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آۓ گا۔۔۔۔۔
بندیا عضد کے صبر کا امتحان لیتی مذید بولی تم نے بتایا نہیں تمھارا بختی سے کیا رشتہ ھے؟؟؟؟
عضد نہیں بتانا چاھتا تھا اسے کچھ بھی۔۔۔۔
اتنا کچھ جانتی ھو تو یہ بات کیوں نہیں جانتی کہ بختی سے کیا تعلق ھے میرا؟؟؟ عضد صاف گوئی سے بولا۔۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر بولی۔۔۔
پہلے تو نہیں جانتی تھی لیکن آج تمھیں دیکھ کر اندازہ ھو رہا ھے کہ کوئ عام سا تعلق نہیں اسکے ساتھ تمھارا بلکہ بہت گہرا رشتہ ھے…..
عضد حیران تھا کہ وہ کیسے جانتی ھے سب کچھ۔۔۔
آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ گوپال کی کیا لگتی ھیں۔۔۔۔۔
بتا دونگی وقت آنے پر۔۔۔
آپ گوپال کی اس بیٹی کو جانتی ھیں جسکا شوہر بابو تھا۔۔۔۔۔
بندیا نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
عضد نے اسکے لئے چاۓ منگوائ۔۔۔۔
کچھ دیر وہ بیٹھی رہی پھر جاتے جاتے بولی۔۔۔۔۔
میں چلتی ھوں۔۔۔
لیکن بہت جلد اسکے بچے کا باپ تمھارے سامنے ھوگا۔۔۔
پھر فیصلہ کرنا کہ کیا کرنا ھے تم اپنے اور بختی کے رشتے کا
عضد اسے جاتا دیکھتا ہی رہ گیا جو اسکے ذہن کے سارے سوال پڑھ کر خود ہی جواب دیکر جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔
__________________
عضد گھر لوٹا تو نرگس کو گھر میں دیکھ ٹھٹھک گیا۔۔۔
نرگس اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر گلہ کرتے ھوئے بولی۔۔۔
کیا ھوا خوش نہیں ھوۓ مجھے دیکھ کر۔۔۔۔
نہیں امی ایسی بات نہیں۔۔۔
اس نے نرگس کو گلے سے لگایا بہت ضبط کرنا پڑا اسے کہ نرگس اسے سینے سے لگائے اسکے دل کا حال نا جان لے۔۔۔۔۔
وہ اسکا ماتھا چوم کر بولی۔۔۔۔
کیا حال بنایا ھوا ھے۔۔۔
آنکھوں کے پپوٹے ایسے کیوں سوجھ رھے ھیں تمھارے جیسے پوری رات سوۓ نہیں اور روتے رھے ھو۔۔۔۔۔۔۔
وہ فوری طور پر نرگس کو کچھ بتانا نہیں چاہ رہا تھا کہ پہلے ہی سے وہ بہت پریشان تھی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں امی بس طبیعت ٹھیک نہیں میری۔۔۔۔
کیا ھوا ھے تم دونوں کو رتابہ بھی ٹھیک نہیں تم بھی۔۔۔
اور دونوں کا چہرہ بھی بھجا بھجا سا ھے خیریت تو ھے نا۔۔۔
جی امی سب ٹھیک ھے۔۔۔
وہ جہاں بھر کی فکر لیۓ عضد کو دیکھ کر بولی لیکن مجھے نہیں لگ رہا سب ٹھیک ھے۔۔۔۔
عضد اسکا دھیان ادھر ادھر بٹانے لگا۔۔۔
امی چھوڑیں ان باتوں کو یہ بتائیں کہ جازب کیسا ھے اب۔۔۔۔
وہ ٹھیک نہیں بیٹا۔۔۔۔
تو آپ یہاں کیوں آئ ھیں اسے ایسے چھوڑ کر۔۔۔۔
رابی کا نام نرگس نہیں لے سکتی تھی کیونکہ رابی نے منع کیا تھا تو اس نے اپنا بہانا کر لیا مجھے یاد بہت آ رھے تھے تم دونوں مجھ سے رہا نا گیا تو آگئ۔۔۔۔۔
علی دیان کو گود میں لیۓ لاؤنج میں آیا۔۔۔۔۔
دیان کو دیکھ کر عضد کا خون کھولنے لگا تھا۔۔۔۔۔
لیکن نرگس کی موجودگی میں اسے زہر کے گھونٹ پینے پڑے
رتابہ رات کو اسکے کمرے میں آئ تو عضد اس پر پھر سے بگڑا
کیوں آئ ھو یہاں۔۔۔
میں تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاھتا نکلو یہاں سے باہر۔۔۔۔
کہاں جاؤں میں امی کے پاس؟؟؟ کیا بتاؤں گی انکو کیوں آئ ھوں یہاں۔۔۔۔
میں بتا دونگا۔۔۔۔۔
تم نکلو میرے کمرے سے باہر عضد نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا۔۔۔
کچھ دیر تو وہ وہاں کھڑی رہی پھر اپنے بوجھل دماغ اور بوجھل قدموں سے چل کر اپنے بستر تک آئ تو گرتے ھوۓ ایسے لیٹی جیسے بے جان سا وجود جان نکلنے پر ڈھیر ھو جاتا ھے۔۔۔۔
نرگس سو چکی تھی سفر کی تھکان سے۔۔۔۔
__________________
صبح سات بجے نرگس کی آنکھ نمل کے فون سے کھلی۔۔۔۔
رتابہ بھی اٹھ گئ۔۔۔۔
فون سن کر نرگس رونے لگ گئی رتابہ نیند سے آنکھیں ملتی انکے پاس آئ۔۔۔
کیا ھوا امی جان؟؟؟؟
بیٹا عضد کی ممانی کا انتقال ھو گیا ھے؟؟؟؟؟
نرگس جلدی سے اٹھ کر عضد کے کمرے میں چلی گئی وہ سو رہا تھا۔۔۔
نرگس نے اسے جگایا عضد اٹھ کر بیٹھا۔۔۔۔
امی آپ اتنی صبح صبح خیریت؟؟؟؟؟؟
نرگس کو روتا دیکھ کر وہ جلدی سے بیٹھا کیا ھوا امی؟؟؟؟
بیٹا تمھاری ممانی کی ڈیتھ ھو گئ ھے۔۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔
بیٹا جلدی سے میرے ٹکٹس کنفرم کرو۔۔۔
جی امی ابھی کرتا ھوں۔۔۔
اس نے بستر چھوڑا اور ائیرپورٹ کال کر کے ٹکٹس کنفرم کی۔۔۔۔
نو بجے کی فلائیٹ سے انکو اتفاق سے ٹکٹ مل گیا۔۔۔۔
لیکن ٹکٹ ایک ہی ملا عضد نے اپنا ٹکٹ اگلے دن کا کنفرم کیا۔۔۔۔
رتابہ نے جلدی سے نرگس کی پیکنگ کی۔۔۔۔
عضد کو ائیر پورٹ پہنچنا تھا۔۔۔۔
آٹھ بجنے والے تھ اس نے منہ ہاتھ بھی نا دھویا اور نرگس کو ائیر پورٹ لے گیا۔۔۔۔۔
انکے جہاز کے ٹیک آف کرنے تک وہ وہی تھا۔۔۔۔
گھر آ کر وہ پھر سے سو گیا۔۔۔۔۔
_______________
عضد نرگس کو سب کچھ بتانا چاھتا تھا کیونکہ اب وہ رتابہ کے ماضی کو اس سے چھپا کر نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔۔
کیونکہ نرگس کو اعتماد میں لے کر ہی وہ کوئ فیصلہ کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
رتابہ یہاں الگ پریشان تھی کہ نرگس سے وہ بھی بات کرنا چاھتی تھی کہ اب وہ عضد کے زندگی میں صرف بیوی کی حیثیت نہیں رکھتی تھی اسکے بچے کی ماں بھی بننے والی تھی۔۔۔۔
عضد کے دل سے ہر وھم ہر وسوسہ ہر شک وہ دور کرنا چاھتی تھی لیکن عضد اسکی بات سننے کو تیار ہی نا تھا۔۔۔۔
عضد کا دل صرف بندیا کی باتوں سے برا نہیں ھوا تھا رتابہ کے متعلق ہر ملنے والے انسان نے بہت برے طریقے سے اسکی کردار کشی کی تھی۔۔۔۔
رتابہ نے مغرب کی نماز پڑھ کر دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے تو رابی دیان کو گود میں لیۓ اس کے پاس آئ۔۔۔
بی بی جی دیان کو بہت بخار ھو رہا ھے رتابہ نے دعا چھوڑ کر دیان کو گود میں لیا بخار کافی تیز تھا۔۔۔۔
بی بی جی یہاں پچھلی گلی میں کلینک ھے اک وہ ڈاکٹر ھیں بھی چائلڈ اسپیشلسٹ ھے دیان کو وہاں لے چلتے ھیں۔۔۔۔
رتابہ جلدی سے اٹھی اور چادر پہن کر رابی کے ساتھ چلی گئ
عضد اور مایا جلدی گھر آ گۓ تھے آج۔۔۔
صبح عضد کی اسلام آباد کی فلائیٹ تھی۔۔۔
وہ گھر آیا تو رتابہ نہیں تھی آج سامنے۔۔۔۔
مایا تو اسے تھکا ھوا دیکھا تو کافی بنا کر لے آئ۔۔۔
عضد نے شکریہ ادا کرتے ھوئے اس سے کافی لی۔۔۔
وہ دونوں کافی پی ہی رھے تھے کہ رتابہ بد حواس ھوتی دیان کو گود میں لیۓ بھاگتی ھوئ اندر آئ تھی۔۔۔۔۔
عضد اور مایا دونوں چونک گۓ اس کے اسطرح اچانک بھاگ کر اندر آنے سے۔۔۔۔
رابی اسکے پیچھے ہی تھی اسکا سانس بھی پھول رہا تھا۔۔۔۔
عضد نے رابی سے پوچھا کیا ھوا ھے؟؟؟
رابی پھولتی سانسوں کے درمیان بولی صاحب جی وہ کتا ھمارے پیچھے لگ گیا تھا اسی سے ڈر کر بھگاتے ھوۓ آۓ ھم۔۔۔
رتابہ رابی کے سفید جھوٹ پر اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔۔۔
لیکن رتابہ کا اتنا سہما ھوا سراپا دیکھ کر عضد کو معاملہ کچھ اور ہی لگا۔۔۔۔
اسکا پورا جسم کپکپا رہا تھا۔۔۔۔
اور دیان کو بھی اسطرح اس نے اپنے ساتھ بھینچا ھوا تھا جیسے کوئی اس سے چھین لے گا۔۔۔۔
وہ جلدی سے دیان کو سینے سے لگائے سیڑھیاں پھلانگتی اپنے کمرے میں جانے لگی تو باہر گیٹ پر شور کی آواز سن کر رک گئ۔۔۔۔۔
باہر چوکیدار کے ساتھ کوئ جھکڑ رہا تھا میں کہتا ھوں مجھے اندر جانے دو ملنا ھے مجھے تمھارے صاحب سے باہر بلاؤ اسے
ورنہ میں پولیس کو بلا لونگا۔۔۔۔
عضد اور مایا نے بھی اسکی بلند آواز سنی۔۔۔۔
وہ دونوں باہر لان میں آۓ۔۔۔
عضد گیٹ سے باہر آیا کون ھو بھئ تم اور یہ کیا طریقہ ھے بات کرنے کا۔۔۔۔
وہ نہایت بدتمیزی سے چوکیدار کا گریبان پکڑے ھوۓ تھا عضد نے اسکے ہاتھ پیچھے کیۓ۔۔۔۔۔۔
وہ عضد کیطرف دیکھ کر غصے سے بولا۔۔۔
بختی کہاں ھے؟؟؟؟؟
اسکے منہ سے بختی کانام سن کر عضد ٹھٹھک گیا کہ یہ کون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پھر اپنا جملہ دوہرایا۔۔۔
بختی کہاں ھے؟؟؟؟؟
عضد نے اس سے پوچھا کون ھو تم؟؟؟
بابو نام ھے میرا جا کر بتاؤ اسے بابو آیا ھے۔۔۔
عضد اسکی بات سن کر صرف اتنا بولا کہ یہاں کوئ بختی نہیں رہتی۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو صاحب میں نے خود اسے اپنی آنکھوں سے اندر جاتے دیکھا ھے اگر آپ نے اسے میرے حوالے نا کیا تو میں اگلی بار پولیس کیساتھ آؤنگا۔۔۔۔۔۔
اسکی آواز کافی بلند تھی۔۔۔۔۔
عضد باہر گلی میں تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اسے اندر لے آیا۔۔۔۔
کیا چاھتے ھو تم؟؟؟؟؟
مجھے بختی چاھیے کسی بھی قیمت پر۔۔۔۔
عضد بڑی مشکل سے ضبط کیۓ ھوۓ تھا۔۔
بختی نہیں مل سکتی اب تمھیں۔۔۔۔
دیکھو صاحب تم بڑے لوگ ھو میں فضول کی کوئ بحث نہیں کرنا چاھتا۔۔۔
اسے میرے سامنے لاؤ میرا بچہ میرا وارث ھے اسکے پاس۔۔۔۔۔
مایا ایک کونے میں کھڑی یہ سب منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔
بابو کی آواز سن کر رتابہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔۔۔۔
تم کیسے یقین سے کہہ سکتے ھو کہ وہ تمھارا بچہ ھے؟؟؟
صاحب ثبوت بھی دے دونگا۔۔۔۔
فی الحال اسے میرے سامنے لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورنہ اگلی بار میں پولیس کو ساتھ لایا تو عدالت تک بات جا پہنچے گی کہ میری ھونے والی بیوی اور میرے بچے کو تم نے زبردستی اس گھر میں رکھا ھوا ھے۔۔۔۔۔۔
عضد اسکی بات سن کر کافی غصے میں آگیا۔۔۔
دھمکی دے رھے ھو مجھے….
نہیں دھمکی نہیں دے رہا سمجھا رہا ھوں شریف آدمی ھو بڑے نام والے یہاں پولیس کی گاڑی آئ تو کسی کو منہ نہیں دے سکو گے۔۔۔۔۔
اس بختی سے کہو مجھے میرا بچہ چاھیے واپس۔۔۔۔۔۔
عضد نے گہری سانس اندر کھینچی۔۔۔۔۔
اچھا تمھیں صرف اپنا بچہ چاھیے۔۔۔۔۔۔
ہاں صاحب اس نے میرا گھر میری زندگی تباہی کی ھے مجھے محبت کے سہانے خواب دکھا کر لوٹا۔۔۔ کھایا۔۔۔ اور پھر مجھے دھوکہ دیکر بھاگ گئ۔۔۔۔
اپنا سب کچھ لٹا چکا ھوں اس بختی پر کچھ نہیں۔ بچا میرے پاس اب لیکن ایسی مکار عورت کے پاس میں اپنی اولاد نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔
مجھے میرا بچہ میرا وارث چاھیۓ کسی بھی قیمت پر وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔۔
عضد اپنی سانس اندر کھینچ کر اوپر آیا بختی کا دروازہ بند تھا۔۔۔۔۔
عضد نے اسکا دروازہ بجایا۔۔۔۔
اس نے نا کھولا کیونکہ وہ بابو کی ساری باتیں سن چکی تھی۔۔۔۔
عضد نے اسے آواز لگائ۔۔۔
دروازہ کھولو رتابہ اور باہر آؤ بتاؤ مجھے کون ھے یہ؟؟؟؟
رتابہ نے دروازہ نا کھولا۔۔۔
عضد لاک توڑ کر اندر آیا۔۔۔۔
وہ سوۓ ھوۓ دیان کو اپنے ساتھ لگاۓ ایک کونے میں بیٹھی ھوئ تھی۔۔۔۔
عضد اسکے پاس آیا بابو سے ڈر کر تم ابھی گھر بھاگ کر آئ ھو نا ؟؟؟؟ رتابہ نے خوف سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
بابو کا بچہ ھے نا یہ؟؟؟؟
رتابہ نے نا میں سر ہلایا۔۔۔۔
عضد بے انتہا غصے میں تھا۔۔۔
وہ جھوٹ بول رہا ھے عضد یہ اسکا بچہ نہیں ھے۔۔۔۔۔
عضد اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور باہر لاتے ھوۓ بولا۔۔۔۔
اگر نہیں ھے اسکا بچہ تو پھر سامنا کرو اسکا بتاؤ اسے۔۔۔
وہ باہر آئ تو اسکی جان کا اسکی عزت کا دشمن اسکے سامنے ہی کھڑا ھوا تھا ۔۔۔۔۔۔
بابو کو دیکھ کر رتابہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئ۔۔۔۔
وہ نیچے سیڑھیوں کے پاس کھڑا اسے دیکھ کر کہنے لگا دیکھ بختی آرام سے کہہ رہا ھوں میرا بچہ دے دے مجھے۔۔۔
بندیا مجھے سب بتا چکی ھے اب تو اس کو مجھ سے مذید دور نہیں رکھ سکتی حوالے کر دے میرا بچہ مجھے۔۔۔۔
رتابہ چلا کر بولی نہیں ھے یہ تمھارا بچہ۔۔۔
جھوٹ مت بولو۔۔۔
جھوٹ میں نہیں بولتا تو بولتی ھے سب سے ھم سب کو تباہ کر کے بھی تجھے سکون نہیں
