Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 15)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 15)
Bad Bakhat by Arshi Noor
رتابہ کی قربت کا ایک عجیب سا احساس اسکی رگوں میں دوڑا۔۔۔
ایسا پہلی بار ھوا تھا جب وہ نکاح کے بعد اسکے اتنے قریب آئ تھی عضد نے اپنی کیفیت پر فوری قابو پایا اور سختی سے اسکے بازو پکڑ کر بولا کیا ھوا ھے؟؟
وہ گھبراٸ ھوٸ تھی بہت عضد نے اسے الگ کرنا چاہا تو اپنے پیچھے کتے کے بھونکنے کی آوا سن کر وہ مذید زور سے چپک گٸ۔۔۔
عضد کو اب اسکی حرکت پر غصہ آ رہا تھا کہ وہ کیسے اسکے اتنے قریب آئ تھی اسے اب الجھن سی ھونے لگی۔۔۔
وہ چہرے پر سختی جماۓ اسے ڈپٹتا ھوا بولا۔۔۔۔
تم اس کتے سے ڈر کر بھاگی ھو رتابہ سے سوال کرتا اس نے ایک ہاتھ سے رتابہ کو خود سے پیچھے ہٹایا اور دوسرے ہاتھ سے پتھر زمین سے اٹھا کر کتے کو مار بھگایا۔۔۔۔
اس نے عضد کا بازو زور سے پکڑ کر کانپتی ھوئ آواز میں جججج جی کہا۔۔۔۔۔
عضد کو اور بھی زیادہ غصہ آیا وہ رتابہ کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کیطرف بڑھا وہ اسکے بڑے بڑے قدموں سے قدم ملا کر نا چل سکی تو بھاگتی ھوٸ اسکے پیچھے آٸ۔۔۔۔۔
اسے گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بٹھا کر وہ خود غصے سے اسکے ساتھ بیٹھا۔۔۔۔
ایک تو اسکے گلے لگنے کا غصہ دوسری طرف اسکے گاڑی سے نکلنے کا اور پھر گاڑی خراب ھونے کا وہ اس پر برس پڑا۔۔۔
کس نے کہا تھا گاڑی سے نکل کر اتنی دور جانے کو آنکھیں نکالتا وہ اسے گھور رہا تھا وہ بھی شام کے وقت ابھی تو کتا پیچھے لگا تھا اگر کوٸ چڑیل۔۔۔ عضد اسے ڈرانے کیلیے چڑیل کا ڈراوا دے رہا تھا کہ وہ دوبارہ ایسا نا کرے ابھی چڑیل کا لفظ اسکے منہ میں ہی تھا کہ۔۔۔۔
کہ پاس سے گزرتے ٹرک کے بے ھنگم ہارن سے وہ ڈر کر چلا اٹھی اسکی چیخ ٹرک کے ہارن سے زیادہ خطرناک تھی جو سیدھا عضد کے کانوں کے پردوں کو چیرنے لگی کیونکہ وہ بلکل اسکے ساتھ بیٹھا تھا عضد کو لگا اسکےکان کے پردوں کا کام آج تمام ھو جاۓ گا اسے ڈرانے کے چکر میں وہ خود اسکے چلانے پر بوکھلا گیا۔۔۔
عضد نے چیختی ھوٸ رتابہ کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
بسسسسسسس چپ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دانت پیس کر بولا چڑیل نہيں ٹرک کا ہارن تھا وہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے ھوۓ رتابہ بہت قریب تھی اسکے ایک ہاتھ اسکے منہ پر جبکہ دوسرا اسکے سر کے پیچھے تھا اسکے کندھا عضد کے سینے سے لگا ھوا تھا۔۔۔
ایک بار پھر عضد کی سانسیں اتھل پتھل ھونے لگیں اک عجیب سی کشش نے اسکے دل پر دستک دی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً اسے چھوڑ کر گاڑی سے باہر نکلا اور خود کو گاڑی ٹھیک کرنے میں مصروف کیا وہ خود پر سوا غصے کے کسی بھی چیز کو حاوی نہيں ھونے دیتا تھا اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے میں اسے بڑی مہارت حاصل تھی اب وہ بلکل سنجیدہ اور سپاٹ تاثر لیے گاڑی کے بونٹ پر جھکا ھوا تھا۔۔۔۔
گاڑی ٹھیک ھونے کا نام نہيں لے رہی تھی عضد نے لفٹ کیلیۓ دو تین گاڑیوں کو ہاتھ دیا پر کوٸ نا رکی۔۔۔۔۔
غصے سے گاڑی میں سارا سامان واپس پھینکنے لگا۔۔۔
کیا ھوا گاڑی ٹھیک نہيں ھوٸ رتابہ کی آواز پر وہ جلے کٹے انداز میں بولا۔۔۔
ہزار بار باۓ روڈ گیا ھوں کبھی میرے ساتھ ایسا نہيں ھوا اس دفعہ تم مصیبت جو ساتھ ھو پتہ نہيں اور کیا کیا دیکھنا پڑے گا۔۔۔
اسکا انداز اتنا حقارت بھرا تھا کہ رتابہ کو رونا آگیا۔۔۔
وہ اسے روتا دیکھ کر بولا خبردار جو میرے سامنے ٹسوے بہاۓ تو وہ ایسے جھکا شیشے کیطرف جیسے ابھی رتابہ کو تھپڑ رسید کرتا اس نے جلدی سے آنکھیں میچ کر آنسو اندر دھکیلے۔۔۔۔
رونا تو مجھے چاھیۓ اپنی قسمت پر وہ گاڑی پر مکا مار کر باہر ہی کھڑا ھوا۔۔۔
وہاں سے کٸ گاڑیاں گزر گٸیں ۔۔۔
عشاء کاوقت ھو چکا تھا عضد بہت پریشان تھا کیونکہ وہ اکیلا نہيں تھا اسکے ساتھ رتابہ بھی تھی۔۔۔
ایک ٹرک ڈرائيور نے اپنی گاڑی عضد کو ہاتھ ہلاتا دیکھ کر روکی اور ٹرک ڈرائیور اتر کر نیچے آیا۔۔۔۔
عضد نے اسے سلام کیا میری گاڑی خراب ھو گٸ ھے کچھ مدد کر دیں گے۔۔۔۔
ٹرک ڈرائيور پٹھان تھا سرکھجا کر کہنے لگا مڑا ھم تمکو لے جا سکتا اے پر تمھارا گاڑی کا واسطے ھمارے پاس رسی وسی نہيں اے ۔۔۔۔
اوہ عضد نے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
کوٸ بات نہيں لالا گاڑی میں پولیس کے حوالے کروا دونگا آپ مجھے کسی ھوٹل پر چھوڑ دیں۔۔۔
آٶ مڑا آٶ سامان اٹھا لو اپنا وہ ٹرک کی طرف بڑھتے ھوۓ بولا۔۔۔
لالا میرے ساتھ لیڈیز بھی ھے عضد نے پیچھے سے ھونک لگائ۔۔۔
اوہ اچھا کوٸ بات نہیں اسکو بھی اٹھا لو میں اپنا بندہ آگے بٹھا لیتا ھوں تم اپنا بندی کیساتھ پیچھے بیٹھ جاوے گا۔۔۔۔
عضد مسکرا کر بولا جی لالا کوٸ مسٸلہ نہيں۔۔۔۔
مسٸلہ تو ھے مڑا ھمارا گاڑی چاول کا بوری سے پورا کچاکچ بھرا ھوا ھے تمکو بوری کے اوپر بیٹھنا ھوگا پھر۔۔۔۔
جی لالا بیٹھ جاٸیں گے ھم۔۔۔۔
ٹھیک ھے اپنا سامان مجھے دو میں اٹھاتا ھوں اور اپنا بندی خود اٹھاٶ اور ٹرک پر چڑھاٶ۔۔۔۔
عضد نے اسے باہر آنے کو کہا وہ اپنے گرد چادر لپیٹ کر باہر آٸ اور اتنے اونچے ٹرک کو دیکھ کر عضد سے بولی میں کیسے چڑھونگی اس پر؟؟ کیا ھم آگے نہيں بیٹھ سکتے؟؟؟
ٹرک ڈرائيور بولا دیکھو باجی تم عورت ذات ھے ھمارے ساتھ تین بندہ اے ھم کو ملا کر چار ھو گیا ھم جیسا تیسا آگے بیٹھ جاوے گا لیکن تمھارے ساتھ ھم خود یا ھمارا ایک بھی بندہ پیچھے یا آگے نہيں بیٹھے گا۔۔۔۔
ٹرک والے کی بات سن کر مجبوراً اسے اوپر چڑھنا تھا چھوٹی سی لوہے کی سیڑھی تھی۔۔۔
وہ گردن اوپر اٹھاۓ ماتھے پر بل ڈالے بولی کون ھیلپ کرے گا میری۔۔۔۔۔
عضد نے اسے بازو سے پکڑ کر آگے کیا اور اسکے کان میں سرگوشی کی کھیت والے کتے کو لاؤں یہاں وہ ھیلپ کر دیگا تمھاری۔۔۔
دبی دبی مسکراہٹ تھی عضد کے لبوں پر۔۔۔
رتابہ نے منہ کھولے اسے دیکھا کہ وہ مذاق کرنا بھی جانتا تھا۔۔۔
حیرت سے منہ بعد میں کھولنا چڑھو اوپر اندداز ایسا روکھا تھا جیسے گاڑی اسی نے خراب کی تھی۔۔۔
پلک جھپکنے کیطرح عضد کے تیور اور انداز بدلتے تھے۔۔۔
وہ سیڑھیاں دیکھ کر بولی میں گر گٸ تووو۔۔۔
باجی نہيں گرتا تم کوٸ بوڑھا عورت نہيں اے ڈرو مت بسم اللہ کرو۔۔۔۔
عضد اسے تسلی دے کر بولا میں ھوں تمھارے ساتھ ۔۔۔۔۔
رتابہ ڈرتے ڈرتے چڑھ گٸ عضد اسکے پیچھے ہی تھا۔۔۔
دونوں ایک طرف ٹیک لگا کر بیٹھ گۓ تھے رتابہ ڈری سہمی ھوئ تھی کہ شادی کے اکیس مہنیںوں میں آج پہلی بار وہ اسکے سامنے اتنا قریب بیٹھی تھی۔۔۔۔
اس نے اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا عضد نے ایک نظر اسکے چادر میں لپٹے سر کو دیکھا پھر گہری سانس اندر لیتا گردن کو ٹیک دیتا نیم دروازے ھوا۔۔۔۔
ابھی کچھ ہی سفر طے ھوا تھا کہ بوندہ باندی شروع ھو گٸ۔۔۔۔
ٹرک ڈرائيور نے ایک چھوٹے سے ڈھابے پر گاڑی روکی اور ٹرک سے اتر کر گردن اوپر اٹھاۓ عضد کو آواز لگائی یارا تم بھی نیچے اترو بارش تیز ھونیوالا اے جب رکے گا بارش ھم تب آگے جاوے گا۔۔۔
رتابہ نیچے اترتے ھوۓ چڑھنے سے زیادہ ڈر رہی تھی کیونکہ ہلکی ہلکی بارش سے لوہے کی سیڑھی گیلی ھو رہی تھی اور اسکے ہاتھ بھی۔۔۔۔
عضد اس سے پہلے اترنے لگا وہ تین چار سیڑھیاں ہی اتری تھی کہ پاٶں پھسلنے پر سیدھا نیچے اترتے عضد پر جا گری۔۔۔
عضد اچانک اسکے گرنے پر خود کو سنبھال نا سکا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں نیچے آ گرے۔۔۔۔۔
نیچے نرم مٹی تھی جو بارش سے تھوڑی گیلی بھی ھو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
چوٹ تو نہيں لگی انکو پر نیچے گرنے سے عضد کا پارہ کافی اوپر چڑھا لیکن اسے راستے میں برداشت کرنا پڑا۔۔۔۔۔
ٹرک ڈرائيور جلدی سے آگے آیا چھوڑو مڑا تم بھی کوٸ مرد اے۔۔۔
چھوٹا سا پانچ فٹی عورت نہيں سنبھال سکا۔۔۔۔
جان باڈی دیکھو اپنا اس نے زور سے عضد کے کندھے پر پنچ مارا اچھا خاصا چوڑا ھے تمھارا سینا پر لگتا ھے پلاسٹک کا ھے پھر وہ عضد کے کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ مار کر ھنسا۔۔۔۔
ڈرائيور کی بات سن کر رتابہ کو ھنسی آگٸ عضد کے گھورنے پر اس نے منہ چادر میں چھپا لیا۔۔۔
وہ ان دونوں کو ساتھ لیۓ لکڑی کے دھابے کیطرف آیا جہاں ایک لکڑی کا کمرہ تھا۔۔۔ اور ایک طرف لکڑی اور کجھور کے پتوں کا چھپرا سا تھا جس پر پلاسٹک کی شیٹ بچھی ھوئ تھی بارش اس پر برستے ھوۓ بہت خوبصورت منظر لیے ھوۓ تھی۔۔۔۔۔۔
ٹرک ڈرائیور کی آواز پر ان دونوں کی گردن ایک ساتھ مڑی۔۔۔۔
دیکھو مڑا یہ کمرہ ھے چھت کچا ھے پر اسکا نیچے تم محفوظ رھے گا۔۔۔
عضد نے دیکھا چاروں طرف مٹی کی دیواریں تھیں جن پر لکڑی کی ٹالوں کا چھاپڑا سا تھا اور ایک چھوٹا سا اندر جانے کا راستہ تھا جس پر صوت کی بوری کا پردہ ڈلا ھوا تھا۔۔۔
بارش بہت تیز شروع ھو گٸ وہ دونوں جلدی سے اندر گۓ۔۔۔
کچا فرش تھا اور ایک ہی چارپاٸ اور چھت کے درمیان لٹکی ایک لالٹین۔۔۔۔
جگہ جگہ سے پانی ٹپکنے لگا بارش کا عضد نے چارپاٸ درمیان میں کھسکاٸ جہاں لالٹین لٹکی ھوٸ تھی وہاں سے پانی نہيں ٹپک رہا تھا۔۔۔۔
عضد چارپاٸ پر لیٹ گیا وہ ڈرتے ڈرتے عضد سے کچھ فاصلے پر بیٹھی وہ بہت ڈری اور سہمی ھوٸ تھی بار بار ادھر ادھر ٹانگیں ہلاتی اور کروٹ بدلتی کہ چارپائی عضد کے لیٹنے سے اندر کیطرف دھنسی ھوئ تھی جسکی وجہ سے رتابہ سیدھی بیٹھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
اور عضد سے بات کرنا اپنی شامت لانے کے مترادف تھا۔۔۔۔
عضد اسکے بار بار کھسک کر آگے ھونے پر سمجھا شاید وہ تھک گٸ ھے سپاٹ لہجے میں صرف اتنا کہا لیٹ جاٶ۔۔۔
اس نے فوراً نا میں سر ہلایا۔۔۔
کھا نہيں جاٶونگا تمھیں لیٹ جاٶ اس نے گردن گھما کر اک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ بس اتنا بولی میں ٹھیک ھوں۔۔۔۔
بارش کیساتھ ساتھ بادلوں کی گرج چمک بڑھنے لگی تھی اور ایسی گرج کے دل دہل کر رہ جاتا تھا۔۔۔۔
آج سے دوسال پہلے ھوا حادثہ اس بارش سے اسکے سوچ کے دریچوں پر آ کھلا وہ بہت خوفزدہ ھو گئ تھی۔۔۔۔
نرگس کی بات اسکے کانوں میں گونجی رتابہ بیٹا عضد تمھارا محرم ھے اس سے تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں تمھاری ہر چیز کا وہ مالک اور حقدار ھے اس کے ساتھ ھونے سے کبھی مت جھجھکنا تمھارا شوہر ھے وہ اسے چھونا اسے دیکھنا اس سے محبت کرنا اسکے قریب آنا اسکی خدمت کرنا اسکی پرواہ کرنا تمھارا اولین فرض ھے۔۔۔۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ بادل ایک بار پھر سے گرجے اور ایسے کہ زمین بھی لرز کر رہ گئ بختی تو پھر نازک سی چڑیا کیطرح تھی وہ خوف کے مارے عضد کے پہلو میں ایسے چھپی جیسے بچہ ڈر کر ماں کی گود میں چھپتا ھے۔۔۔۔۔
عضد جو سر کے نیچے اپنے بازو پھیلاۓ آنکھیں موندیں لیٹا تھا اسکے پہلو میں آنے سے حیران ھوا۔۔۔۔
ایسے کیوں چپک رہی ھو میرے ساتھ سیدھے طریقے سے لیٹو وہ اس سے دور ھوا۔۔۔۔
رتابہ نے آنکھیں میچے زور سے اسکی شرٹ پکڑ لی اسے الجھن ھونے لگی اس نے بیزاری سے اسے ڈانٹتے ھوۓ آنکھیں کھولیں نظر چھت کیطرف پڑی جہاں سے چرچراہٹ کی آواز آ رہی تھی لکڑی کی ٹالیں گیلی ھو کر جھولنے لگی تھیں چھت انکے اوپر گرنے ہی والا تھا۔۔۔۔
عضد نے لمحہ نا لگایا رتابہ کو تھام کر جلدی سے کروٹ بدلی اور چارپاٸ سے نیچے اتر کر اسے ساتھ لیۓ چارپاٸ کے نیچے ھو گیا۔۔۔
چھت گیلی ھو کر بھاتی ھونے کیوجہ سے پوری کی پوری نیچے آگری لالٹین چارپاٸ کیساتھ لٹک کر جھولنے لگی رتابہ کو کچھ سمجھ نا آیا کہ ھوا کیا ھے۔۔۔۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ عضد کے اوپر تھی اس نے فوراً اٹھنا چاہا تو سر چارپاٸ کیساتھ جا لگا۔۔۔۔
جھولتی ھوئ لالٹین کی مدھم مدھم روشنی میں عضد نے اسے آج پہلی بار غور سے دیکھا تھا اسکا کھلتا ھوا گندمی رنگ لالٹین کی روشنی میں انگارے کی طرح دھک رہا تھا۔۔۔۔
عضد کو اپنا آپ اسکی کالی سیاہ حیرانی سے کھلی چمکدار آنکھوں میں ڈوبتا دکھاٸ دیا تو اگلے ہی پل اس نے فوراََ اپنے حواسوں پر قابو پایا اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔۔۔
وہاں موجود سبھی لوگ جمع ھو گۓ اور ان دونوں کے نکلنے میں مدد کی۔۔۔۔۔۔
کیچڑ سے عضد اور رتابہ کے کپڑے بھر چکے تھے۔۔۔۔۔
معاف کرنا مڑا ھم کو نہيں معلوم تھا کہ چھت بہت ہی کچا ھے گر جاوے گا تمکو کہیں زخم وخم تو نہيں آیا نا تمھارا عورت بھی ٹھیک ھے نا؟؟؟
جی لالا ٹھیک ھیں ھم عضد تیز بارش میں اپنی شرٹ اور پینٹ سے کیچڑ صاف کرنے لگا۔۔۔۔
رات ساری انکو تیز بارش میں گزارنی پڑی وہ پکے چھپرے نما چھت تلے ان چار پانچ مردوں سے ذرا فاصلے پر ایک طرف بیٹھ گئے۔۔۔۔
رتابہ اسکے ساتھ اسکا بازو پکڑے بیٹھی رہی نیند سے جھولتی اسکا سر عضد کے بازو پر لہرا گیا۔۔۔۔
عضد نے بڑی مشکل سے برداشت کیا ھوا تھا اسکا خود سے قریب آنا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے اس بارش میں کھڑا کر کے ساتھ آنے کی کڑی سزا دیتا۔۔۔۔
صبح فجر ھو چکی تھی بارش کچھ تھم گٸ تھی۔۔۔
ٹرک ڈرائيور چاۓ کے دو کپ لیکر انکے پاس آیا ھم تمھاری وجہ سے ادھر آیا ورنہ اپنا سفر جاری ھوتا خیر بارش اب دو تین دن نہيں رکے گا۔۔۔
ادھر ایک گاٶں ھے ھمارا دوست کا گھر ھے بہت بڑا تمکو ادھر بھیجتا ھے ابھی ھم اور اللہ خیر کرے یہ جب بارش رک گیا تم کو اسلام آباد بھی چھوڑ آوے گا وہ۔۔۔۔
پریشان مت ھونا تم وہ عضد کے پریشان چہرے کو دیکھ کر اسکی کمر پر ہاتھ رکھ کر بولا لالا تمھارا بندوبست کر کے جاوے گا۔۔۔۔۔
عضد نے چاۓ کا سپ لیتے ھوۓ ساتھ بیٹھی مصیبت کیطرف نقوہت سے دیکھا آنکھوں میں بیزاری صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
ٹرک ڈرائيور نے فون پر انکو پہلے ہی بلا لیا تھا کچھ ہی دیر میں ایک ادھیڑ عمر ساجد نامی آدمی اور ایک پندرہ سالہ لڑکا جیپ لیۓ حاضر تھے۔۔۔۔
عضد سے وہ بڑی گرمجوشی سے ملے ۔۔۔۔
عضد نے ٹرک ڈرائيور کا بہت شکریہ ادا کیا اور ساجد کیساتھ وہ دونوں جیپ میں بیٹھ کر چل دیۓ۔۔۔۔۔۔
________________
جازب اب مکمل طور پر ٹھیک ھو چکا تھا۔۔۔
اس نے بہت کوشش کی نمل کو ڈھونڈھنے کی پر نمل کا اسے کچھ پتہ نا چلا وہ اور شاہ جی لاھور آ گۓ۔۔۔۔
اریج بھی آج ہی آٸ تھی پاکستان نرگس اریج سے ملنے پرانے محلے آٸ۔۔۔۔
اریج کو گول مٹول سا گڈے جیسا دیان بہت پیارا لگا نرگس کو کسی کام سے مارکیٹ جانا تھا وہ دیان کو اریج کے پاس چھوڑ کر مارکیٹ آگٸ واپسی پر اسکا ٹکراٶ شاہ جی سے ھوا۔۔
السلام و علیکم ماں جی شاہ جی نے سر جھکایا ۔۔۔
نرگس اسے دیکھ کر پھولی نہيں سماٸ اور اسکا ماتھا چوما کیسے ھو تم اتنے عرصے بعد ملے ھو ایک بار بھی خبر تک نہیں لی میری۔۔۔
ماں جی بس کچھ مصروفیت بہت تھی۔۔۔۔
اتنی مصروفيت تھی کہ ماں بھی بھول گٸ۔۔۔۔
ارے نہيں نہیں آپکو کیسے بھول سکتے ھیں آپ تو ماں ھیں ھماری۔۔۔۔
دوسرا نالاٸک کہاں ھے نرگس نے جازب کا پوچھا۔۔۔۔
سب کچھ یہیں پوچھیں گی گھر چل کے بات کرتے ھیں نا شاہ جی نے پیار سے نرگس کیطرف دیکھا۔۔۔
نرگس شاہ جی کیساتھ گھر پہنچی تو جازب انکے پیچھے پیچھے دوسری گاڑی میں تھا نرگس گھر میں داخل ھوٸ شاہ جی کو اندر بلایا تو اسکے پیچھے کھڑے جازب کو دیکھ کر حیران ھوٸ۔۔۔۔
وہ اندر داخل ھوتے ہی نرگس سے لپٹ گیا نرگس نے روتے ھوۓ اس سے گلا لیا۔۔۔
آگٸ تجھے ماں کی یاد۔۔۔
وہ بھی برسوں کا تھکا ھوا تھا کٸ مہینوں سے رکے ھوۓ سارے آنسو ماں کے آنچل میں بہاۓ اس نے۔۔۔۔
نرگس اس پر واری قربان ھوتی رہی۔۔۔۔۔
عضد کیسا ھے امی آواز رونے سے زکام زدہ ھو رہی تھی۔۔۔۔
ٹھیک ھے بیٹا وہ۔۔۔
گھر کافی بڑا اور خوبصورت ھے امی جازب گھر کو دیکھ کر تعریف کیۓ بنا نا رہ سکا۔۔۔
ہاں گھر تو بڑا بھی ھے خوبصورت بھی ھے لیکن تیری کمی ھے تو آ جا بس۔۔۔۔۔
شاہ جی بولا ماں جی میں نے تو اسے کافی بار کہا ھے چھوڑ دے میرا کام چلا جا واپس لیکن یہ تیار ہی نہيں ۔۔۔۔
جب میں مر گٸ تب لوٹے گا واپس نرگس نے بظاہر منہ بسورے ھوۓ کہا۔۔۔۔
اللہ نا کرے ایسا ھو آٶنگا میں واپس ایک بہت بڑا قرض ھے مجھ پر اور جسے چکانا ھے وہ مل نہيں رہا بس اپنے اس قرض کی اداٸیگی کر لوں آجاٶنگا واپس ھمیشہ کیلیۓ جازب نے ماں کو تسلی دی۔۔۔
کون ھے وہ مجھے بھی بتاٶ نرگس کی بات سن کر نمل کا آنسوٶں بھرا چہرہ اسکی آنکھوں میں لہرایا کوٸ ھے بس آپ دعا کریں وہ جلد مل جاۓ اور میں بھی اپنے بوجھ سے آزاد ھو جاٶں۔۔۔۔۔
نرگس اسکا اترا چہرہ اور اسکی بھٹکتی سوچ کو دیکھ کر ٹاپک بدل گئ اچھا سنو بیٹا اریج آٸ ھوٸ ھے بلاٶں اسکو کچھ ہی دیر میں آجاۓ گی بہت خوش ھوگی تم سے ملکر۔۔۔۔
نہيں امی ابھی نہيں پھر کبھی سہی۔۔۔۔
نرگس ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی اور جازب کو رہ رہ کر نمل کی یاد ستانے لگی۔۔۔۔
________________
پوری رات کے جاگے ھوۓ تھے وہ دونوں ناشتے کے بعد عضد نیند سے جھولنے لگا اسے ساجد کمرے میں لے گیا۔۔۔
عضد تین چیزوں پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا تھا جوٹھی چیزکھانے پر صفائی پر چاھے وہ گھر کی ھو یا کردار کی اور تیسری نیند۔۔۔
صاف ستھرا بستر دیکھ کر عضد کو سکون سا محسوس ھوا لیٹتے ہی تھکا ہارا سارے گھوڑے بیچ کر سو گیا۔۔۔
رتابہ کیساتھ ایک ہی دن میں اسکی گھر کی بڑی بیٹی نازو اور دادی اماں گھل مل گٸیں۔۔۔
سفید سفید بالوں اور سفید روہی جیسے گالوں والی دادی رتابہ کے دل میں اتر گٸ۔۔۔۔
انکے گھر کی ایک ایک اینٹ پیار اور محبت کے گارے سے لیپی ھوٸ تھی بہت پیار محبت اور ملنسار تھے وہ لوگ۔۔۔۔
بارش وقفے وقفے سے پورا دن جاری رہی شام کو نازو نے رتابہ سے کہا جاٶ عضد بھاٸ کو جگاٶ رات کو نہيں سونا کیا انہوں نے اور کھانا بھی نہيں کھایا دوپہر کا۔۔۔۔
رتابہ اسکے غصے سے ڈر کر بولی نہيں میں نہيں جگا سکتی وہ خود اٹھ جاٸیں گے۔۔۔۔
لو بھلا یہ کیا بات ھوٸ جاٶ جگا کر انکو باہر لاٶ نازو نے ہانڈی کا چمچ ہاتھ میں پکڑے تیوری چڑھا کر کہا۔۔۔
پھر نازو نے زبردستی اسے کمرے میں بھیجا رتابہ آھستہ آھستہ چل کر اسکے پاس آٸی وہ اوندھے منہ سو رہا تھا۔۔۔
رتابہ نے اسے آھستہ سے آواز لگاٸ۔۔۔
عضد عضد اٹھ جاٸیں۔۔۔۔
عضد پر اسکی آوازوں کا کوٸ اثر نا ھوا تو اس نے ڈرتے ڈرتے پہلے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا پھر کندھے سے ہلایا۔۔۔
عضد پلٹا تو اسے سامنے دیکھ کر تقریباً چلایا تممممم۔۔۔۔۔
رتابہ نے جلدی سے اپنا نازک سا ہاتھ اسکے ھونٹوں پر رکھا اتنا اونچا نا بولیں پلیز ھم اپنے گھر میں نہيں ہاتھ اسکا عضد کے ھونٹوں پر کپکپا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
عضد نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور اپنی آواز نارمل کرتے ھوۓ سرد لہجے میں بولا کیوں اٹھایا مجھے؟؟
سب باہر بلا رھے ھیں آپکو اتنا کہہ کر وہ فوراً کمرے سے نو دو گیارہ ھوئ۔۔۔
عضد نے باہر آکر منہ ہاتھ دھویا ھینڈ پمپ کے ڈھنڈے تازے پانی سے اسے سکون سا ملا کافی فریش فیل کر رہا تھا اب وہ۔۔۔۔
پھر اس نے سب کیساتھ بیٹھ کر چاۓ پی عضد اور رتابہ کو پوری فیملی نے گھیرا ھوا تھا۔۔۔۔
عضد انکے بیچ باتیں کرتا ھوا ھنستا ھنساتا ھوا رتابہ کی روح میں سراٸیت کرتا رہا عضد کی موجودگی میں رتابہ نے خود کو بہت محفوظ پایا۔۔۔۔
وہ خود کو مخاطب کیے بولی کتنا خوبصورت ھوتا ھے یہ محرم کا رشتہ اتنا پرسکون اتنا دلکش اور اتنا مضبوط کہ دل و دماغ میں کسی ڈر کسی خوف کسی وسوسے کو آنے ہی نہيں دیتا۔۔۔۔
رتابہ کو ایسے لگا جیسے دنیا کی کڑی دھوپ سے اسے کسی نے چھپا لیا ھو رتابہ کے چہرے پر اپنی موجودگی کا اطمينان اور سکون عضد کو صاف دکھاٸ دیا۔۔۔۔
رات عضد دیر تک ان سب سے خوش گپیوں میں مگن رہا۔۔۔
رتابہ البتہ سو چکی تھی عضد رات کے ایک بجے کمرے میں آیا وہ بے انتہا خوبصورت پلنگ نما دو چارپاٸیوں میں سے ایک پر سو رہی تھی وہ دونوں چارپاٸیاں آپس میں جڑی ھوٸ تھیں ڈبل بیڈ کیطرح۔۔۔۔۔
عضد نے آہستہ سے ایک چارپاٸ تھوڑی دور کی اور لیٹ گیا نیند اس سے کوسوں دور تھی۔۔۔
یہ اسکی زندگی کی پہلی رات تھی جس میں رتابہ اور وہ ایک کمرے کی چھت تلے موجود تھے اور اسے پوری رات اس چھت تلے اسکے ساتھ گزارنی تھی۔۔۔۔
بارش سے سردی اچھی خاصی بڑھ گئ تھی عضد نے دیکھا کمبل ایک ہی تھا جو رتابہ اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔
عضد اب رتابہ سے کمبل اتار نہيں سکتا تھا وہ اسی طرح سردی سے جاگتے جاگتے رات کے پچھلے پہر سو گیا۔۔۔۔۔______________
نمل حیدر آباد میں جس محلے میں رہتی تھی وہاں کسی کا انتقال ھو گیا تھا کوٸ محلے سے آیا اور حافظ صاحب سے نماز جنازہ کا کہا۔۔۔
وہ فوراً چل دیۓ۔۔۔۔
نماز جنازہ سے فارغ ھو کر وہ سب کیساتھ قبرستان جانے لگے تو کسی نے انکو پکارا حافظ صاحب۔۔۔۔
انہوں نے پلٹ کر دیکھا ان کے آفس کے جونيئر ڈائریکٹر عارف صاحب تھے جو انکے دوست بھی تھے آپ یہاں حیدرآباد میں وہ حیرت کا اظہار کرنے لگے۔۔۔۔
بس یار قسمت ھے جہاں لے جاۓ وہ اس سے گلے ملے۔۔۔
آپ جیسا بندہ کراچی کیسے چھوڑ سکتا ھے یار جس نے کراچی کی مٹی دھول سے بھی محبت کی ھو عارف کی حیرت بجا تھی۔۔۔
بس یار کچھ پرسنل پرابلمز تھیں آنا پڑا یہاں خیر آپ یہاں کیسے؟؟؟
جسکا انتقال ھوا وہ میرے چچا ذات بھاٸ تھے۔۔۔
اوہ اچھا چلو پھر مل کر بیٹھتے ھیں قبرستان سے ھو آٸیں۔۔۔
قبرستان سے واپسی پر عارف حافظ صاحب کے گھر چلے گۓ عارف نے انکو اپنے گھر لاہور لے جانے کی پیشکش کی اور سعودیہ عرب میں اپنے کنسٹرکشن کے کام میں حافظ صاحب کو شامل کرنا چاہا۔۔۔۔
دیکھو بھٸ انکار میں نہيں سن سکتا میری بیوی میری ایک بیٹی میری امی بھی اسی گھر میں موجود ھیں وہاں نمل بیٹی بھی رہ لے گی اسکی بھی تنہاٸ دور ھو جاٸیگی۔۔۔
اور مجھے بھی تسلی ھوگی کہ اتنی سمجھدار بچی میرے گھر میں موجود ھے عارف نمل کو دیکھ کر اسکی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکے تم اسے اپنا ہی گھر سمجھو۔۔۔۔
حافظ صاحب نے بہت انکار کیا پر عارف نا مانے اور انکو راضی کرکے ہی چھوڑا۔۔۔۔
حافظ صاحب نے ان سے چند دن کا وقت مانگا
عارف بھی انکے ویزے کے انتظام میں لگ گۓ۔۔۔۔
__________________
عضد آفس سے دس دن کی چھٹیاں لے کر آیا تھا دو دن اسکو یہیں لگ گۓ اسلام آباد بھی نہيں پہنچ سکا۔۔۔۔۔
نازو کی منگنی تھی ساجد چاچا کے بے حد اسرار پر عضد کو دو دن مذید رکنا پڑگیا رتابہ نازو کیساتھ کھیتوں کی طرف نکل گٸ بارش رات سے رکی ھوئ تھی۔۔۔۔۔
انکا گھر چاروں طرف پہاڑوں کے بیچ اونچاٸ پر تھا چاروں طرف کھیت اتنے اونچے تھے کہ گھر سے نکلتے ہی بندہ کھیتوں میں گم ھو جاتا۔۔۔
رتابہ کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر چلتی رہی اسے سب کچھ اک خواب سا لگ رہا تھا۔۔۔۔
نازو ایک بات تو بتاٶ یہاں چڑیلیں ھوتی ھیں کیا؟؟؟ اسے عضد کی بات یاد ائ۔۔۔۔
نازو مزے سے بولی ہااااااں ھوتی ھیں شام کو اکثر لوگ گھروں سے کم ہی نکلتے ھیں ھمارے یہاں تو گھروں تک آتی ھیں۔۔۔۔
سرسوں کے کھیت سے گزرتے ھوۓ رتابہ کو لگا جیسے نازو اسے خبردار کر رہی ھے رتابہ اچھی خاصی ڈر گٸ۔۔۔۔
نازو چلو جلدی سے یہاں سے چلتے ھیں۔۔۔۔
نازو زور زور سے ھنسی تم اتنا ڈرتی ھو ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔
پھر اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر بولی نہيں میری پیاری سی شہری بہن دن میں یہاں کچھ نہيں ھوتا۔۔۔
رتابہ اسکا ہاتھ دبوچ کر بولی چلو یہاں سے نازو اسے گھر لے گٸ۔۔۔
راستے بہت اونچے نیچے تھے۔۔۔
گرتے سنبھلتے وہ نازو کیساتھ گھر پہنچ گٸ نازو نے اسکے کمرے میں جھانکا اور ایک چارپاٸ ساٸیڈ پر دیکھ کر حیران ھوٸ پر کہا کچھ نہيں۔۔۔۔
اور شام کو ان سے نظر بچا کر چپ چاپ دوسری چارپاٸ اٹھا کر اپنے کمرے میں لے گٸ۔۔۔۔۔
رات کو رتابہ کمرے میں گٸ تو ایک چارپاٸ غائب دیکھ کر نازو کے پاس آٸ۔۔۔
یہ کیا حرکت کی تم نے رتابہ کے ماتھے پر بل تھے۔۔۔۔۔
نازو انجان بنی کونسی حرکت۔۔۔۔
دوسری چارپاٸ کیوں اٹھاٸ تم نے رتابہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
مجھے ضرورت تھی اس نے پلکیں جھپکا کر جواب دیا۔۔۔
رتابہ بولی واپس لاٶ اندر ایک چارپاٸ پر کیسے لیٹیں گے ھم۔۔۔۔
جیسے اپنے گھر میں بیڈ پر سوتے ھو۔۔۔۔۔
رتابہ چڑ کر بولی وہ بیڈ بڑا ھوتا ھے پگلی۔۔۔
ہاں تو یہ بھی کونسا چھوٹی ھے آرام سے دو بندے سو سکتے ھیں۔۔۔۔
رتابہ اسکی حرکت پر اسے دیکھتی رہ گٸ۔۔۔۔
اچھا چلو کمبل دوسرا دے دو رات بھی کمبل میرے پاس تھا عضد سردی میں ایسے ہی سو گۓ۔۔۔۔
نازو شرارت سے اسکے گال پکڑکر بولی میری پیاری بہنا جب چارپاٸ ایک ھے تو بستر بھی ایک ہی ملے گا سمجھی۔۔۔۔
رتابہ اسکی شرارت پر مسکرا کر بولی یار سمجھا کرو نا تنگ مت کرو۔۔۔
سمجھنے کی ہی کوشش کر رہی ھوں کہیں تم دونوں لیلی مجنوں تو نہيں انداز جاسوسی والا تھا۔۔۔۔
رتابہ اسکے سوال پر سٹپٹا گٸ جی نہيں شوہر ھیں وہ میرے اور میرا بیٹا بھی ھے ایک اتنا فضول مت سوچا کرو۔۔۔۔
نازو نے ھنستے ھوۓ اسکی ناک پکڑی تم بھی اتنا فضول مت بولا کرو چلو جاٶ شرافت سے اپنے شوہر کیساتھ اپنے کمرے میں۔۔۔۔
رتابہ دانت پیستی پاؤں پٹخ کر وہاں سے چلی گٸ۔۔۔
کمرے میں عضد پہلے سے موجود تھا وہ اسے دیکھ کر کاٹ کھانے والی نظروں سے گھور کر بولا دوسری چارپاٸ کیوں اٹھواٸ تم نے۔۔۔۔
مممم میں نے نہيں اٹھاٸ نازو نے اٹھاٸ وہ جلدی میں ہڑبڑا کر اپنی صفائی میں بولی۔۔۔۔
وہ اسکے سر پر آ کھڑا ھوا تم کیا سمجھتی ھو ایسی اوچھی حرکتیں کر کے تم میرے قریب آ سکو گی سات جنم بھی لے لو تب بھی قبول نہيں کرنا میں نے تمھیں۔۔۔۔
تکیہ اٹھا کر اس نے فرش پر پھینکا مرو اب یہاں زمین پر۔۔۔۔۔
رتابہ توعادی تھی کانٹوں پر بھی سونے کی یہ تو پھر ٹھنڈا فرش تھا وہ تکیہ لیۓ عضد کے پیروں کیطرف فرش پر سو گٸ۔۔۔۔
عضد کو نیند نہيں آرہی تھی اس نے چارپاٸ سے جھانک کر اسے دیکھا وہ ٹھنڈ سے خودد میں سمٹی سو رہی تھی عضد نے تکیے کے پاس پڑی اپنی موٹی شال اس پر ڈالی۔۔۔۔۔
اپنے آپ میں سمٹی وہ ٹھنڈے اور سخت فرش پر بھی سکون سے سو رہی تھی اور عضد کی نیند مخمل جیسے بستر پر بھی اڑی ھوٸ تھی کہ اس سے رتابہ کا وجود ایک کمرے میں برداشت کرنا مشکل تھا۔۔۔
رتابہ کی آنکھ کھلی رات کو پیاس سے وہ دروازہ کھول کر دبے قدموں آرام سے باہر آٸ اور پانی کے مٹکے سے پانی نکال کر پینے ہی لگی تھی کہ۔۔۔۔
اسے اپنے پیچھے ایک سایہ سا محسوس ھوا پانی وہیں اسکےحلق میں اٹک گیا سایہ اب اسکے قریب آ کر کافی لمبا ھوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اسکے ہاتھ لرزنے لگے ھونٹ گلاس کے کناروں پر جم سے گئے۔۔۔۔
وہ ڈرتے ڈرتے کپکپاتی ھوٸ پیچھے پلٹی تو خوف کے مارے اسکی چیخ بھی نا نکلی اور وہ وہیں بیہوش ھو کر گر گٸ۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔
