Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 13)

Bad Bakhat by Arshi Noor

نرگس کا دل آج بہت بوجھل اور اداس تھا نا جانے کیوں اک عجیب سا دھڑکا اسکے دل کو لگا ھوا تھا اور وہ اس بات سے بھی بہت پریشان تھی کہ اب کیا ھوگا رتابہ کا؟؟؟

گھر جا کر عضد کیا سلوک کریگا بچے کو دیکھ کر اب تو ساری رشتے داری بھی مبارک بات دینے آۓ گی۔۔۔۔۔

عضد نے سب کے سامنے اس بچے سے انکار کر دیا تو وہ کیا کریگی؟؟ کیا کہے گی لوگوں سے؟؟؟

نرگس آنے والے وقت سے اور عضد کے ری ایکشن سے بہت خائف تھی۔۔۔۔

اسکی پریشانی رتابہ بھی دیکھ چکی تھی۔۔۔۔۔

آپکی پریشانی کی وجہ میں جانتی ھوں آپ بھی ڈر رہی ھیں نا عضد کے غصے سے ؟؟؟؟

امی وہ مجھ سے نفرت کر سکتا ھے لیکن اپنی اولاد سے زیادہ دن دور نہيں رہ سکے گا۔۔۔۔

نرگس اسے اسکی معصومیت کی انتہا پر دیکھتی رہ گٸ اس بھولی بھالی بیس سالہ رتابہ کو کیا معلوم تھا کہ شادی شوہر اور اولاد کیا ھوتی ھے؟؟؟؟

ساری دنیا داری سے سارے رسم و رواج سے سارے رشتوں سے دور اسکی پرورش ھوٸ تھی نا اس نے کبھی ٹی وی دیکھا تھا نا وہ کسی سے ملتی تھی نا کسی سے اسکی بات چیت تھی بلکل کورے کاغذ جیسا شفاف ذہن تھا اسکا۔۔۔۔

یہ تو اسکی قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ وہ جب رشتوں میں بندھنا شروع ھوٸ تو بیوی بنی عضد جیسے کٹھور اور پتھر دل شخص کی۔۔۔۔

اور ماں بنی تو ایک ایسے ناجائز بچے کی جسے ھمارا معاشرہ کسی صورت قبول نہیں کرتا اور ایسا بچہ ماں کیلیے ناسور اور گالی بن جاتا ھے۔۔۔۔

وہ اپنے بیٹے کے ہاتھ چوم کر بولی امی ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔۔

ہاں پوچھو۔۔۔۔

امی آپ بھی عضد کیطرح یہی سمجھتی ھیں کہ میں آپ سب کو دھوکہ دے رہی ھوں۔۔۔۔

نرگس نے تیوری چڑھاٸ یہ کیسا سوال ھے اور تمھارے ذہن میں آیا کیوں؟؟

عضد کو لگتا میں جھوٹی ھوں دھوکے باز ھوں اور آپکو بے وقوف بناتی رہتی ھوں۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں سچائ دئیاں دیتی نرگس کو محسوس ھوئ۔۔۔۔

نرگس نے حیرانی سے اسے دیکھا نہيں نہيں ایسی کوٸ بات نہيں تمھارا وھم ھے یہ اس نے فوراً رتابہ کی تردید کی۔۔۔۔

وھم نہيں حقیقت ھے امی جس دن عضد لندن جا رہے تھے اس دن اسکی ساری باتیں میں نے سن لی تھیں۔۔۔۔

نرگس کا سر جھک گیا۔۔۔

اسکی بات سن کر اک لمحے کو میرا دل چاہا کہ میں آپ سے کہوں کہ اگر میری نفرت میں عضد اپنے بچے کو بھی قبول نہيں کریگا تو میں اسے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم کر دوں۔۔۔

اور قاتل بن جاٶں ماں ھو کر اس ڈاٸن کیطرح جو بھوک لگنے پر اپنا بچہ خود نگل لیتی ھے۔۔۔

لیکن پتہ ھے امی اسکی دھڑکنیں اسکا سانس لیتا ننھا سا وجود مجھے اپنے اندر اسوقت دھاٸیاں دیتا سسکیاں لیتا اور چیختا ھوا سناٸ دیا۔۔۔۔

مجھے ایسے لگا اس معصوم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے روکا ھو کہ ماں یہ ظلم نا کرنا میرے ساتھ تجھے زمانے نے دھتکارا اپنی ٹھوکر پر رکھا لیکن تو مجھے نا ٹھکرا۔۔۔۔۔

رتابہ کے آنسو بچے کے روئ جیسے گالوں پر گرنے لگے۔۔۔۔

وہ آنکھیں کھولے ٹکر ٹکر ماں کیطرف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔

اسکے آنکھیں کھول کر دیکھنے پر رتابہ نے اسکا ہاتھ چوما۔۔۔

امی آپ کو پتہ ھے مجھے یہ جب بھی دیکھتا ھے نا تو اسکی نظر میں سوال نہيں ھوتا کوٸ بھی یہ مجھ سے نہيں پوچھتا لوگوں کیطرح میں کون ھوں؟؟۔۔۔

یہ مجھ سے یہ بھی نہيں پوچھتا کہ میں گنہگار ھوں یا گناھوں کی گٹھڑی ھوں اسکی آنکھوں میں بس اک خوف دکھاٸ دیتا ھے مجھے کہ میں اسے چھوڑ تو نہيں دونگی۔۔۔

نرگس چپ چاپ دل پر پتھر رکھے ساکت بنی اسے سنتی اور دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔

رتابہ کی نظریں اپنے بچے کے چہرے پر تھیں اور ہاتھ میں اسکا ننھا سا ہاتھ۔۔۔۔

امی گزرے ھوۓ وقت میں عضد کو آپ نے مجبور کر کے مجھ سے نکاح کروایا تھا نا اب آنے والے وقت میں وہ آپکو مجبور کر کے مجھے چھوڑ بھی سکتا ھے ۔۔۔۔۔

ایک پل کو اسکی بات سن کر نرگس کی دھڑکن رک سی گئ۔۔۔۔

لیکن امی اب مجھے پرواہ نہیں کسی کے چھوڑنے یا اپنانے کی اب میں ماں بن گئی ھوں ماں۔۔۔

اور اب میرا یہ بچہ میرا سہارا ھے اب میں بھی سب سے کہہ سکوں گی کہ میں لاوارث نہيں میرا وارث میرا بیٹا ھے۔۔۔

میں ماں ھوں اس بچے کی میرا بیٹا میرا بچہ ھے یہ میرا بچہ۔۔۔۔

کتنے ہی آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر بچے کا چہرہ بھگونے لگے۔۔۔

اس نے اپنے آنسو بچے کے نرم گالوں سے پونچھے جو آنکھیں جھپکا کر ایک تک ماں کو دیکھتا رہا۔۔۔۔

پھر وہ اس بچے کو گلے سے لگاۓ چومنے لگی۔۔۔

نرگس نے اس سے کچھ نا کہا بس اسے سنتی رہی کیا کہتی وہ اسے کہ وہ کیسے بچے کی ماں بنی ھے؟؟؟

وہ رتابہ سے اسوقت اسکی خوشی نہیں چھیننا چاہتی تھی اسکے ہر سوال پر نرگس نے اپنے لبوں پر خاموش مسکراہٹ چسپاں کر لی تھی۔۔۔۔

_____________

جازب خون سے لت پت جہاں پڑا تھا وہاں قریب ہی ایک ھوٹل تھا

ھوٹل کے مالک نے ھوٹل کھولا تو ایک بچہ بھاگتا ھوا اسکے پاس آیا چاچا جلدی آٶ روڈ پر کچھ لاشیں پڑی ھوٸ ھیں۔۔۔۔

وہ بچے کے ساتھ بھاگتا ھوا روڈ پر آیا اور دیکھتے ساتھ ہی جازب کو پہچان گیا۔۔۔

اس نے جلدی سے شاہ جی کو کال کی۔۔۔۔۔۔

شاہ جی ۔۔۔۔ اورماڑہ گورنمنٹ اسکول کے پچھلے کچے روڈ سے ھوٹل والا دینو بول رہا ھوں۔۔۔۔

جلدی آٸیں شاہ جی یہاں جازب کو کسی نے مار دیا ھے۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں سب وہاں موجود تھے۔۔۔۔

شاہ جی جازب کو دیکھ کر زمین پر گر پڑا۔۔۔

اسد نے جلدی سے اسکے سینے پر کان لگا کر اسکی دھڑکن سنی اور چلایا یہ زندہ ھے جلدی چلو ھوسپٹل۔۔۔۔۔

وہ اسے اپنی شال میں لپیٹ کر ھوسپٹل بھاگے۔۔۔۔۔

جازب کو چار گولیاں لگی تھیں جس سے اسکی پسلیاں بھی ٹوٹیں اور ایک گردہ مکمل طور پر ناکارہ ھو گیا تھا۔۔۔۔۔

جو گولی ریڑھ کی ہڈی میں لگی اس سے جازب کی جان بچنا نا ممکن نظر آرہی تھی۔۔۔۔

___________

ھوسپٹل سے رتابہ تین دن بعد گھر لوٹی تھی آج اسے گھر آۓ بھی ھفتہ ھو چکا تھا عضد نے آکر اسکا حال پوچھنا تک گوارہ نا کیا۔۔۔۔

نرگس کو وہ بچہ بہت پسند آیا وہ اسکی طرف ایسے کھنچی آتی جیسے وہ اسکا اپنا خون ھو۔۔۔۔۔

اسکا نام بھی نرگس نے ہی رکھا

محمد دیان شاہ۔۔۔۔

رتابہ دیان کو سلا رہی تھی نرگس اسکے پاس آکر بیٹھی رتابہ بیٹا۔

جی امی ۔۔۔۔

مجھے تم سے ضروری بات کرنی ھے کچھ سمجھانا تھا تمھیں۔۔۔۔

جی بولیں رتابہ دیان کو سلا چکی تھی۔۔۔۔

بیٹا میں کہنا تو نہيں چاہتی تھی لیکن بات بھی ضروری ھے نرگس کے ماتھے پر پسینہ دیکھ کر رتابہ پیار سے بولی۔۔۔۔

امی بولیں آپ جو بھی کہنا ھے بلا جھجھک کہیں۔۔۔

تم وعدہ کرو ناراض تو نہيں ھوگی مجھ سے ۔۔۔۔۔

امی خیر تو ھے نا ایسی کونسی بات ھے جو آپ وعدہ لے رہی ھیں مجھ سے رتابہ بلکل سنجیدہ ھو گئ۔۔۔

نرگس نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر اسکے الفاظ لرزنے لگے سر جھکا ھوا تھا میری بچی دیان عضد کا بیٹا نہيں ھے۔۔۔۔

رتابہ نے آنکھیں پھیلا کر حیرت پوچھا۔۔۔۔

لیکن آپ کیسے کہہ سکتی ھیں یہ اور کیسے ممکن ھے یہ امی آپکو بھی مجھ پر شک ھے ؟؟؟

نہیں میری جان مجھے کیوں ھوگا تم پر شک۔۔۔

تو پھر آپ نے یہ کیوں کہا کہ دیان عضد کا بیٹا نہیں ۔۔۔

ہاں بیٹا میں سچ کہہ رہی ھوں دیان عضد کا بیٹا نہیں ھے۔۔۔۔۔

تو پھر کس کا ھے؟؟؟ رتابہ نے کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔

اس حیوان کا جس نے تمھاری۔۔۔۔ آگے نرگس بول ہی نا پاٸ۔۔۔۔

رتابہ کی آنکھوں میں حیرت کے بجاۓ خوف و حراس پھیل گیا بلکل اسطرح جیسے سوکھی لکڑی کو آگ پکڑ لیتی ھے۔۔۔۔

دیکھو میری بچی بہت بھولی ھو تم تمھیں تو یہ بھی نہيں معلوم کہ عورت ماں کیسے بنتی ھے اس نے رتابہ کے چہرے پر بکھرے بال اسکے کان کے پیچھے اڑاۓ ماں بننے کیلیۓ شادی کرنا ضروری نہيں ھوتا۔۔۔۔

شادی سے پہلے بھی بچہ ھو سکتا ھے لڑکی کو پھر نرگس نے ڈھکے چھپے لیکن مناسب الفاظ میں ساری حقیقت سے آگاہ کیا رتابہ کو کہ اسکا دیان کیسے پیدا ھوا۔۔۔۔۔

رتابہ یہ سب کسی پتھرائی ھوئ مورت کیطرح سن رہی تھی اسکے جسم کی رگوں میں دوڑتا خون جمنے لگا تھا۔۔۔۔

جب بیٹی بن بیاہی ماں بن جاۓ نا تو وہ جینے کے قابل نہيں رہتی یہ معاشرہ کیا اسکے اپنے سگےخونی رشتے بھی اس سے تعلق توڑ لیتے ھیں۔۔۔۔

وہ بچہ جسکی ماں بنتی ھے عورت وہ بچہ ماں کیلیۓ زندگی بھر کی رسواٸ اور اپنے لیۓ گالی بن کر رہ جاتا ھے یہ معاشرہ اسے ناجائز اولاد کا لقب دیتا ھے۔۔۔۔

رتابہ نے نظریں جھکا کر دیان کیطرف دیکھا۔۔۔۔

رتابہ بیٹا ایسی عورت جو کسی کے ظلم کا شکار ھو کر ماں بنے یا اپنی محبت میں اندھی ھو کر ماں بنے لوگ اسے دونوں صورتوں میں سنگسار کرنے پر تلے رہتے ھیں جینے نہیں دیتے نا ایسی ماں کیلیے کوئ جینے کی راہ چھوڑتے ھیں۔۔۔

نرگس کی بات سن کر رتابہ کا دل دماغ بلکل بند ھو گیا وہ بلکل ساکت پتھر کے بت کی طرح بیٹھی رہی۔۔۔

نرگس مسلسل اسکی خاموشی سے گھبرائی رتابہ کچھ بولو بیٹا مجھے تمھاری ایسی خاموشی سے ڈر لگ رہا ھے۔۔۔۔

وہ ایک دم سے پاگلوں کیطرح اٹھی اور دیان کو گود میں لیا اسے کوٸ قبول نہيں کریگا نا۔۔۔

میرے لیۓ بھی یہ ناقابل قبول ھوگا؟؟ اپنی ماں کیلیۓ رسواٸ کا سبب بنے گا؟؟؟ ناجائز بچہ ھے یہ لوگوں کی زبان بولوں تو انکے الفاظ میں حرام کا جنا ھے یہ۔۔۔۔۔۔

اسی نام سے پکارا جاۓ گا نا یہ اب؟؟؟؟

رتابہ پاگلوں کیطرح سوال پر سوال کیے دیان کو بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔

نہيں بیٹا دنیا میں آنیوالا کوٸ بچہ بھی حرام کا جنا نہيں ھو سکتا کیونکہ ھم سب آدم کی اولاد ھیں تو جسکے ساتھ آدم کا نام لگے وہ حرام کیسے ھو سکتا ھے؟؟

معصوم سے بچے کو حرام کا جنا کہنا بھی بہت سخت گناہ ھے نرگس نے اسے پیار سے ٹوکا۔۔۔۔

گناہ تو یہ خود بھی بہت بڑا ھے میرے لیۓ بھی اپنے لیۓ بھی اسے مار دینا چاھیۓ تھا نا مجھے وہ اسطرح بچے کو دیکھنے لگی جیسے ابھی واقعی میں مار ڈالے گی اسکو۔۔۔۔

نرگس نے اس سے ڈر کر بچہ لے لیا۔۔۔

کیوں مار دینا چاھیۓ تھا اس میں اس معصوم سے فرشتے کا کیا قصور ؟؟

یہ۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ اس بھیڑیۓ کا بچہ ھے جس نے مجھے۔۔۔۔

وہ سارا واقع یاد آتے ہی رتابہ کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ۔۔۔۔

شدید ذہنی اذیت سے وہ اپنے بال نوچ کر دیوار سے سر ٹکرانے لگی امی یہ کیا غصب ھو گیا میرے ساتھ یہ کیا ہوگیا میں نے کیسے اسے جنم دے دیا کیسے؟؟؟

نرگس نے روتے ھوۓ دیان کو بیڈ پر ڈالا اور رتابہ کو سنبھالا۔۔۔۔

وہ اپنا سر پھاڑ چکی تھی۔۔۔۔

امی میں گندی ھوگٸ بہت گندی ناپاک ھو گٸ میں کس بے غیرت انسان کے بچے کو جنم دے دیا میں نے وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔۔۔۔۔

دیان بھی بلک بلک کر رونے میں ماں کا ساتھ دے رہاتھا۔۔۔۔

رتابہ سنبھالے نہيں سنبھل رہی تھی نرگس سے۔۔۔۔۔

عضد جو ابھی ابھی آفس سے آیا تھا رتابہ کی چیخ و پکار سن کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

یہ کیا ھوگیا مجھ سے وہ پھوٹ پھوٹ کر ایسے روٸ کہ اسکے منہ سے رال ٹپکنے لگی امی اس گندے انسان کا گندا خون میں اپنی کوکھ میں نو ماہ تک سنبھالتی رہی۔۔۔۔۔

نرگس اسے چھوڑتی تو وہ دوبارہ فرش پر سر مار مار کر خود کو مذید لہو لہان کر لیتی۔۔۔۔۔

اسکی حالت دیکھ کر نرگس پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی تھی جیسے۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر میں رتابہ چیختی چلاتی ہچکورے لیتی بلکل نڈھال ھو گئ۔۔۔۔۔۔

نرگس نے اسے کھینچ کر بیڈ پر ڈالا دوسری طرف دیان بھی رو رو کر نڈھال ھو چکا تھا۔۔۔۔

نرگس نے بچے کو اٹھایا وہ کسی طرح چپ نہيں ھو رہا تھا۔۔۔۔

عضد کافی ڈسٹرب ھوا نیچے اتر کر اس نے غصے سے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔

جہاں نرگس خود بھی سسکیوں سے روتے ھوۓ بچے کو بہلا رہی تھی دوسری طرف خون سے بھرے چہرے کیساتھ رتابہ ھوش کی دنیا سے بے خبر پڑی تھی۔۔۔۔۔

امی کیا ھو رہا ھے یہ سب؟؟؟ اس نے کمرے کی سچویشن دیکھ کر اپنا غصہ دباتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

تماشا ھو رہا ھے سچاٸ کا؟؟؟ نرگس نے روتے ھوئے کہا۔۔۔

کون سا تماشا کونسی سچاٸ؟؟؟ وہ ماں کو روتا دیکھ کر بے چین سا ھوگیا۔۔۔۔

تم نہيں سمجھ سکتے۔۔۔۔۔

ٹھیک ھے میں نہيں سمجھ سکتا لیکن آپ سمجھ لیں امی میں یہ شور شرابہ اپنے گھر میں برداشت نہيں کر سکتا۔۔۔۔

برداشت سے باہر تو اب میں بھی تمھارے لیںۓ ھوتی جا رہی ھوں نرگس نے مایوسی سے کہا۔۔۔

کہو تو میں بھی چلتی بنوں اس گھر سے نرگس کا رد عمل دیکھ کر وہ رکا نہیں خاموشی سے چلا گیا وہاں سے۔۔۔۔

دیان روتے روتے تھک کر سو گیا۔۔۔

نرگس نے جلدی سے رتابہ کا خون روکا اور بینڈیج کی پھر وضو بنا کر اللہ کے آگے بیٹھ گٸ۔۔۔۔

رتابہ کی سلامتی کی دعاٸیں مانگنے لگی اور اپنے لیۓ معافی بھی کہ وہ مجبور نا ھوتی عضد کے ہاتھوں تو کبھی رتابہ کو سچ نا بتاتی لیکن وہ چھپاتی بھی کب تلک۔۔۔۔۔

ایک نا ایک دن رتابہ پر یہ تلخ حقیقت آشکار ھونی تھی۔۔۔۔۔

_____________

جازب کی حالت مسلسل خطرے میں تھی آپریشن سے گولیاں نکال لی گئیں تھیں لیکن اسپائن پرابلم کی وجہ سے اسکی موت کا خطرہ ٹلا نہیں تھا۔۔۔۔

شاہ جی بڑی مشکل سے اجازت لے کر Icu میں گیا۔۔۔

جازب نلکیوں میں لپٹا بلکل بے جان پڑا ھوا تھا۔۔۔

شاہ جی کے قدم آہستہ آہستہ اسکی طرف بڑھے کیسے وہ دیکھ سکتا تھا جازب کو اس حالت میں۔۔۔۔

اسکے قریب آ کر اسکی پیشانی چومی۔۔۔۔

آنکھیں کھول میرے یار بس ایک بار اٹھ کر مجھے گلے سے لگا لے بس ایک بار۔۔۔۔۔

میں سب کچھ تجھ پر قربان کر دونگا بس ایک بار ایک بار تو آنکھیں کھول دے بہت دردناک انداز سے شاہ جی رو رہا تھا۔۔۔۔۔

دیکھ جس شاہ جی کے ھونٹوں سے مسکراہٹ کبھی جدا نہيں ھوتی تھی آج اس شاہ جی کے نا تھمتے ھوۓ آنسو دیکھ۔۔۔۔۔

تجھے ھماری یاری کی قسم اٹھ جا آنکھیں کھول دے میرے یار۔۔۔

آنکھیں کھول دے اٹھ جا نا یار اٹھ جا۔۔۔۔۔

شاہ جی نے خود کو خود بھی آج تلک روتے نہیں دیکھا تھا لیکن جازب کی حالت نے اسے آٹھ آٹھ آنسو رلایا۔۔۔۔۔

_____________

رتابہ بلکل خاموش ھو گٸ تھی۔۔۔

نا بال سنوارے نا کپڑے بدلے نا کھانا کھایا بھوکا گزار دیا اس نے پورا دن بلکل بکھر کر رہ گٸ تھی وہ۔۔۔۔

دیان کیطرف تو دیکھنا بھی گوارا نا کیا رتابہ نے۔۔۔۔

نرگس نے ہی سنبھالا دیان کو۔۔۔۔

بہت زیادہ ذہنی کرب میں مبتلا تھی وہ بچے کی حقیقت جان کر۔۔۔۔۔

نرگس کسی کام سے کچن میں مصروف تھی۔۔۔

جب دیان اچانک ڈر کر اٹھا اور رونے لگا۔۔۔۔۔

کمرے میں موجود رتابہ پہلے اسے روتا چلاتا دیکھتی رہی پھر اچانک اٹھی اور اس گیارہ دن کے بچے کو رونے پر طمانچے مارنے شروع کر دیۓ۔۔۔۔

میں بھی ایسے ہی روئ تھی چلائ تھی لیکن اس شخص نے میرا رونا نہیں سنا میں کیسے برداشت کر لوں اب تیرا رونا۔۔۔۔

نرگس دیان کی ہولناک رونے کی آواز سن کر اندر آٸ۔۔۔۔

رتابہ کو اسے پیٹتا دیکھ کر وہ بھاگی اور بازو سے پکڑ کر رتابہ کو پیچھے ہٹایا۔۔۔۔

دیان کا منہ اتنا سرخ ھو رہا تھا جیسے خون رس رہا ھو۔۔۔۔

وہ سانس بھی ٹھیک سے نہيں لے پا رہا تھا ہچکیوں سے اسقدر رویا کہ نرگس کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں اسکے رونے سے نرگس کو اپنا دل چیرتا ھوا محسوس ھوا۔۔۔۔

نرگس نے غصے سے رتابہ کو تپھڑ دے مارا شرم نہيں آتی تمھیں ماں ھو تم یا ڈاٸن ایسا کرتے ھیں بچے کیساتھ؟؟؟؟

کیوں اپنا بچپن اس پر دوہرا رہی ھو کیوں اسے بھی بختی بنانا چاہتی ھو؟؟؟

تمھاری تو ماں نہيں تھی لیکن تم تو ھونا اسکی ماں۔۔۔۔۔

وہ روتے ھوۓ چلاٸ امی میں اسے جب بھی دیکھتی ھوں نا تو اس وحشی انسان کی وحشت یاد آجاتی ھے مجھے۔۔۔

جسکی یہ گندی نشانی ھے نہيں بن سکتی میں اسکی ماں۔۔۔

نہیں ھوں میں اسکی ماں مجھے نہیں بننا اسکی ماں وہ نا قابل برداشت انداز سے نرگس کے قدموں میں سر رکھے روئ۔۔۔۔

آپ دے دیں کسی یتیم خانے میں اسکو یا پھینک دیں کسی کچرے کے ڈھیر میں اٹھا لےگا اسے بھی کوٸ۔۔۔۔۔

بس کرو رتابہ پاگل تو نہيں ھو گٸ تم نرگس نے اسے اپنے قدموں سے اٹھایا اور سسکیاں لیتے دیان کو باہر لے گٸ۔۔۔۔۔

___________

نرگس کی طبیعت رات بھر بچے کیساتھ جاگنے کی وجہ سے خراب ھو گٸ تھی۔۔۔

ایک پل بھی رتابہ نے اسے گود نا لیا تھا نا وہ اسے دودھ پلانے پر رضامند تھی۔۔۔۔

نرگس نے پوری رات اسے فیڈر سے دودھ پلانے کی کوشش کی جو وہ کسی صورت پینے کو تیار نا تھا اب دو گھونٹ فیڈر اس نے نرگس کے سینے سے لگ کر پیا تھا جسے پی کر وہ سو گیا۔۔۔

صبح ھو چکی تھی دیان کو سلا کر وہ قریبی کلینک چلی گٸ۔۔۔۔

دیان جاگ کر کچھ ہی دیر میں بھوک سے رونے لگا رتابہ اندر آٸ چادر پہن کر روتے ھوئے دیان کو اٹھایا اور گھر سے باہر چلی گٸ۔۔۔۔۔

وہ روتے روتے رتابہ کی چادر منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔۔

رتابہ تیز تیز قدم چلتی سوسائٹی سے باہر آٸ اسے اپنی سرجری کا بھی احساس نا ھوا بس ایک جنون سوار تھا اس پر۔۔۔۔

اسکے قدم گھر سے دور ایک ویران سی جگہ پر بہت بڑی کچرا کنڈی کے سامنے رک گۓ ۔۔۔

اس نے دیان کو وہاں کچرا کنڈی کہ ڈھیر پر ڈال دیا۔۔۔

دیان نے رو کر اسکی چادر اپنی مٹھی میں کس لی۔۔۔۔

وہ چادر چھڑانے لگی پھر خود بھی رو کر کہنے لگی غلیظ انسان کی اولاد ھے تو یہی غلاظت کا ڈھیر تیرا ٹھکانا ھے رتابہ نے تقریباً کھینچ کر اپنی چادر اسکے مٹھی سے چھڑائ۔۔۔۔

دیان ہاتھ پاٶں مار مار کر روتا رہا۔۔۔۔۔

وہ آس پاس سے جھانکتی وہاں سے فوراً واپس پلٹ گٸ۔۔۔۔

وہاں کچرا کنڈی کے دوسری طرف لگی ہلکی ہلکی آگ اب تیزی سے بھڑکنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری کچرا کنڈی میں پھلینے لگی اور ساتھ ساتھ ھوا میں اسکا دھواں بلند ھونے لگا۔۔۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *