Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 20)

Bad Bakhat by Arshi Noor

وہ یہ سوچ کر اپنے ھوش کھو بیٹھی کہ اگر نرگس اسکی ماں ھے تو کیا اسکی ذلت کا سبب بننے والاجازب اسکا بھاٸ ھے ؟؟؟

اسکے بابا نے اسے تھام کر اسکا چہرہ تھپتھایا۔۔۔

نمل ۔۔ نمل بیٹا۔۔۔ ھوش میں آٶ۔۔۔

نرگس نے جلدی سے پانی لاکر اس کے منہ پر چھڑکا۔۔۔۔

وہ اٹھتے ہی بابا سے لپٹ گٸ۔۔۔

بابا بابا۔۔ نہیں یہ میری ماں نہيں ھو سکتی بولیں نا یہ جھوٹ ھے بابا وہ اچانک اس خبر سے خود کو سنبھال نا سکی۔۔۔

نرگس نے گھبرا کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا میری بچی میری نمل یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔

مت ہاتھ لگاٸیں مجھے مت چھوٸیں آپ میری ماں نہيں ھو سکتیں وہ شاکڈ تھی بلکل۔۔۔۔

میرے بابا مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ نہيں بول سکتے وہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی پاگلوں کیطرح چلا چلا کر رونے لگی۔۔۔

نرگس کےچہرے میں اسے خود پر بہکتا ھوا خود کو چھوتا ھوا جازب نظرآنے لگا وہ بھاگ کر اوپر کمرے میں گٸ اور خود کو لاک کر لیا۔۔۔

مسز عارف بھی آچکی تھیں اس اچانک کی سچویشن سے وہ بھی پریشان ھو گٸیں۔۔۔

نمل کو چیختا چنگھاڑتا دیکھ کر دیان اور بھی زیادہ رونے لگا اسے مومل اپنے کمرے میں لے گٸ۔۔۔

سب نمل کا دروازہ بجانے لگے کھولو میری جان دروازہ میں مر جاٶنگا کھول دو دروازہ نمل کھول دو حافظ صاحب دروازہ پیٹتے پیٹتے وہیں دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ گۓ۔۔۔

نرگس بھاگتے ھوۓ اپنے گھر گٸی جازب جازب۔۔۔۔

جلدی آٶ لاک کھولو اسکا وہ کچھ کر نا لے اپنے ساتھ نرگس اسے بازو سے گھسیٹنے لگی۔۔۔

جازب نے حواس باختہ ھوتی نرگس کو حیرانی سے دیکھا کون کچھ کر نا لے بتاٸیں تو سہی امی۔۔۔۔

نرگس سانس لیے بنا بولی نمل نے خود کو لاک کر لیا ھے جلدی آٶ۔۔۔

لیکن کیوں امی وہ خود بھی پریشان ھو گیا۔۔۔

بعد میں پوچھنا ابھی چلو جلدی وہ بھاگتا ھوا نرگس کیساتھ عارف کے گھر نمل کے کمرے کے پاس آیا تو وہاں ایاز کو دیکھ کر اسکے بھی ھوش اڑگۓ۔۔۔

جازب دروازہ کھولو جلدی وہ اسے پہچان گۓ تھے میری بچی کچھ کر نا لے اپنے ساتھ حافظ صاحب نے جازب کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔

وہ چکرا کر رہ گیا کیاااا کیا کہا آپ نے نمل آپکی بیٹی ھے؟؟؟

ایاز نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

جازب پر تو یہ سن کر جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی اس نے سٹپٹا کر نرگس کو دیکھا جیسے تصدیق کرنا چاہ رہا ھو کہ یہ سچ ھے؟؟؟

بیٹا بعد میں کرنا سارے سوال پہلے دروازہ کھولو جلدی سے نرگس بہت بے قرار تھی۔۔۔

جازب کے ہاتھ پل بھر کپکپانے لگے اسوقت خود کو سنبھالنا اس کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔۔۔

اسکے اعصاب چٹخنے لگے تھے کہ کہیں دروازہ کھلتے ہی نمل اسکی سچائ کے سب دروازے ناکھول دے۔۔۔۔

کیا سوچ رھے ھو جازب اوپن دا ڈور نرگس نے اسے جھنجھوڑا۔۔۔

وہ اپنے خشک ھوتے حلق کو تھوک نگل کر تر کرنے لگا پھر اپنے فولادی ہاتھوں سے ایک ہی جھٹکے میں اس نے لاک توڑ ڈالا۔۔۔

سب ایک ساتھ اندر آۓ۔۔۔

وہ پاگلوں کیطرح چلاٸ کوٸ بھی میرے قریب نا آۓ۔۔۔

ایاز نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے معاف کر دو میری جان مجھے۔۔۔

بابا کیسے بول سکتے ھیں آپ مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ کیسے دے سکتے ھیں آپ مجھے اتنا بڑا دھوکہ بابا میں تو آپکو معاف کردوں لیکن میرے ساتھ جو ھوا اسکی تلافی کون کرے گا؟؟؟ چلا چلا کر اسکی رگیں پھٹنے کو تھیں۔۔۔۔

نرگس اور ایاز ایک ساتھ نمل کی طرف بڑھے۔۔۔

اس نے ساٸیڈ ٹیبل پر پڑی چھری اٹھا لی ممم میں میں اپنی جان لے لونگی کوئ نا بڑھے میری طرف خدا کا واسطہ ھے چھوڑ دیں مجھے اکیلا چکے جاؤ یہاں سے سب۔۔۔۔

وہ پور پور زخمی ھو گئ تھی جازب کو سامنے دیکھ کر اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنا آپ کاٹ کر رکھ دیتی۔۔۔۔

نمل بیٹا نیچے پھینکو اسے وہ چھری کی طرف اشارہ کر کے بولے میری بات سنو میری بچی۔۔۔۔

نہیں بابا نہیں اب مجھے کچھ نہیں سننا بابا جانی آپ نے تو میرا مان ہی توڑ دیا وہ بکھرے بکھرے لہجے میں زمین پر گرتے ھوۓ کہنے لگی۔۔۔

بابا آپ نے میری ذات کو پل بھر میں مسمار کر کہ رکھ دیا ھے توڑ پھوڑ دیا ھے آپ نے اپنی گڑیا کو بابا توڑ دیا ھے وہ سر کو ہاتھوں سے پیٹ پیٹ کر رو رہی تھی۔۔۔۔

ایاز کی طبیعت بیٹی کو اسطرح دیکھ کر خراب ھونے لگی۔۔۔

جازب نے سب کو باہر نکالا اور کمرہ لاک کر دیا۔۔۔

نمل نے قدموں کی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا اور بیڈ کا سہارا لیکر کھڑی ھوئ چھری پھر سے اٹھائ اور اپنی کلاٸ پر رکھی تم تو میرے پاس آنا بھی مت۔۔۔

کیوں؟؟؟

تمھیں یہ سن کر ذرا بھی شرم نہيں آٸ کہ نرگس میری بھی ماں ھے اک اک لفظ جان توڑ کر ادا کیا۔۔۔

وہ نا میں سر ہلا کر بولا نہيں مجھے بلکل بھی شرم نہيں آٸ جازب اسکے شاکڈ ھونے کی وجہ سمجھ گیا تھا وہ اسکی طرف آہستہ سے بڑھا۔۔

اس نے جیسے ہی جازب کو اپنی طرف آتا دیکھا تو اس نے اپنی کلاٸ پر چھری پھیر دی جازب نے اسے پھرتی سے ایک ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔

چپ۔۔۔ بلکل چپ۔۔۔ خاموشی سے میری بات سنو وہ اسکے کان میں بڑبڑایا۔۔۔

وہ تڑپنے لگی اسکی بانہوں میں چھری اسکے ہاتھ سے گر چکی تھی کلاہی کچھ زخمی ھوئ تھی چند قطرے خون کے زمین پر گرے۔۔۔

جازب کے اسے خود سے اتنے قریب کرنے پر اسکا دل ایسے دھڑکا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جاۓ گا وہ خود کو سنبھال کر وہ آرام سے بولا۔۔۔

تم اس لیے شاکڈ ھو کہ میں تمھارا بھائ ھوں؟؟؟؟؟؟

وہ کیسے بولتی جازب کا ہاتھ اسکے منہ پر تھا۔۔۔

اسکے آنسو جازب کی ہتھیلیوں کی پشت کو بھگو رھے تھے۔۔۔

وہ مسلسل خود کو چھڑانے کی مزاحمت میں تھی۔۔۔

میری بات سنو نمل بھاٸ نہيں ھوں میں تمھارا۔۔۔

نمل کے مزاحمت کرتے ہاتھ یک دم رکے۔۔۔

نرگس کا خون ھوں میں لیکن انکا بیٹا نہیں ھوں پھپھو ھیں وہ میری تمھارے ماموں کا بیٹا ھوں میں۔۔۔

نمل اسکی گرفت میں جتنا اچھل رہی تھی ایک دم اسکی بات سن کر ٹھنڈی پڑ گٸ۔۔۔۔

جازب نے اسے چھوڑا تو وہ فرش پر آ بیٹھی۔۔۔

پسینہ جازب کے ماتھے پر چمک رہا تھا وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر آسن مارے بیٹھا۔۔۔

دیکھو نمل قسمت اسطرح مجھے لا کر تمھارے سامنے کھڑا کریگی میں سوچ بھی نہيں سکتا تھا جو بھی ھوا تمھارے میرے بیچ اسے ھمارے بیچ ہی رہنے دینا۔۔۔

اگر امی کو اس بات کا علم ھوا کہ انکے اپنے ہی خون نے اپنی ہی گھر کی عزت خراب کی ھے تو وہ مر جاٸیں گی ہاتھ جوڑتا ھوں تمھارے آگے۔۔۔

نمل بہت بری طرح ٹوٹی تھی وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر زار زار رونے لگی۔۔۔۔

جازب نے اسکی سوچ کا پہلو بدلہ نمل بس کرو رونا اب چلو اٹھو ملو اپنی ماں سے جو برسوں تڑپی ھے تمھارے لیۓ۔۔۔

وہ اپنا سر گھٹنوں میں دیئے روتی رہی۔۔۔

تم نے تو یہ سن کر صبر کر لیا تھا کہ تمھاری ماں زندہ نہیں ھے۔۔۔

لیکن مجھ سے پوچھو کہ وہ کیسے زندہ ھے کس امید پر زندہ ھے۔۔۔

نمل نے سر اوپر اٹھایا جازب کیطرف دیکھا جو اسکے قریب ہی بیٹھا تھا نہیں ملنا مجھے ان سے۔۔۔

مانا نمل تم نے ماں کی ممتا کی نرماہٹ کبھی محسوس نہیں کی تم محروم رہی انکے وجود سے۔۔۔

لیکن ماں ھے وہ تمھاری اس ماں نے تمھیں نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا تمھیں پل پل محسوس کیا اپنی دھڑکن اپنی سانسوں میں تمھیں سانس لیتا محسوس کیا۔۔۔

تم بھی تڑپی ھوگی انکے لیے لیکن انکو زندہ نا سمجھ کر۔۔۔

مجھ سے پوچھو انکے تڑپنے کا عالم جس نے جیتے جی اپنے لخت جگر پر اسکی جدائ میں موت جیسا سفر کاٹا ھے۔۔۔

میں نے پل پل لمحہ لمحہ چھپ چھپ کر انکو تڑپتے ھوۓ مچلتے ھوۓ دیکھا ھے تمھارے لیۓ ۔۔۔۔

اب جازب کا لہجہ نمکین تھا گلے میں آنسو اترنے کا شدت سے احساس ھوا۔۔۔

نمل خاموشی سے جازب کی باتیں سن کر روتی رہی۔۔۔۔

پانچ وقت کی نماز میں وہ پانچ سو بار تمھیں مانگتی تھیں کہ ایک بار تم انکو مل جاٶ۔۔۔

آج چوبیس سال بعد وہ وقت آیا ھے تو مذید اسکی ممتا کا امتحان نا لو۔۔۔۔

بابا نے کیا کیا میرے ساتھ وہ چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کہنے لگی میری زندہ ماں کو مردہ کہتے رھے۔۔۔۔

جازب کو اس پل وہ ننھی سی بچی لگی جس نے رو رو کر برا حال کر کیا تھا۔۔۔

دیکھو نمل وہ بابا ھیں تمھارے دشمن نہيں کوٸ وجہ ضرور ھوگی جس نے انکو مجبوری کی بیڑیوں میں اتنا عرصہ جکڑی رکھا۔۔۔

جازب کو اس وقت اس پر ٹوٹ کر پیار آ رہا تھا اسکا دل چاہا وہ بکھری ہوئی نمل کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لے لیکن ایسا کرنے سے اس نے خود کو بعض رکھا کہ یہ سب مناسب نہیں تھا۔۔۔۔

وہ اپنی کیفیت کو رد کرتا اسکی طرف دیکھ کر کہنے لگا تم تو جیتی رہی ماں کے بغیر لیکن مجھے لگتا ھے تمھارے بابا نہيں جی سکتے تمھارے بغیر چلو اٹھو جازب نے کھڑے ھو کر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔

میں اٹھ سکتی ھوں خود تمھاری ضرورت نہيں آنسو پونچھ کر وہ اٹھی اسکے ضدی سے انداز پر جازب کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔۔۔

وہ اس سے پہلے باہر آٸ تو ایک طرف برسوں کی ترسی ھوٸ ممتا بانہیں پھیلاۓ کھڑی تھی۔۔۔

دوسری طرف باپ کی آہیں بھرتی سانسیں روکی ھوئ مجبوری اور معافی کیلیۓ جڑے ہاتھ۔۔۔

اس نے پلٹ کر جازب کیطرف دیکھا جو اسکی پشت پر کھڑا تھا جاؤ شاباش جازب نے اسے ماں کیطرف جانے کو کہا تو وہ بھاگ کر پہلے اپنے بابا کے گلے لگی جن کی سانسوں کی ڈور اسکے ہاتھ میں تھی۔۔۔۔

بابا آپ نے کیوں کیا ایسا بابا کیوں کیا کیوں؟؟؟ آواز آنسوؤں کی یلغار تلے دبی دبی سی تھی۔۔۔

معاف کردے اپنے بابا کو وہ بھی سسک سسک کر رو رھے تھے وہ الگ ھوٸ بابا سے اور جب نرگس کے گلے لگی تو ہر آنکھ ہر منظر اشکبار ھو گیا۔۔۔

در و دیوار کیا وہاں موجود ہر شے سے آنسو لہو کی مانند ٹپک رھے تھے۔۔۔۔

نرگس دیوانوں کیطرح برستے نینوں کیساتھ اسکا انگ انگ چومنے لگی۔۔۔۔

____________

عضد آفس کے کام میں بہت مصروف تھا رات کو دیر سے آنے لگا وہ۔۔

دو دن تو رتابہ نے بڑی مشکل سے برداشت کیا دن وہ گزار لیتی تھی لیکن شام کی پھیلتی سیاہی تن تنہا اسکو اپنے خوف و حراس میں جکڑ لیتی۔۔۔

عضد آج رات بارہ بجے گھر آیا اور آتے ساتھ اپنے کمرے میں چل دیا وہ اسکے پیچھے آٸ۔۔۔

بات سنیں۔۔۔۔

صبح سنا دینا ابھی میں بہت تھک گیا ھوں سونے دو وہ جن قدموں سے آٸ تھی انہی پر واپس پلٹ گٸ۔۔۔

صبح عضد کی آنکھ دیر سے کھلی گھڑی کو دیکھ کر وہ فوراً اٹھا گیارہ بج رھے تھے حسب معمول یہ قصور بھی رتابہ کا تھا۔۔۔۔

وہ کمرے سے دندناتا ھوا باہر آیا اور اس پر برس پڑا اٹھایا کیوں نہيں تم نے مجھے۔۔۔۔

آپ کہہ دیتے رات کو اس نے نرمی سے جواب دیا۔۔۔

اچھا تو اب ایک ایک بات میں تمھیں سمجھاٶں تم بچی تو نہيں ھو میرے آفس جانے کا وقت تمھیں معلوم ھے نا نو بجے مجھے جانا ھوتا ھے عجیب جاہل اور پھوہڑ لڑکی ھو تم وہ اسے جلی کٹی سناتا ھوا کمرے میں واپس گیا اور جلدی سے آفس کی تیاری کرنے لگا۔۔۔

وہ گرما گرم بھاپ اڑاتی چاۓ لیکر جیسے ہی اسکے کمرے کیطرف بڑھی تو وہ تیزی سے باہر آتے ھوۓ رتابہ سے ٹکرا گیا۔۔۔

ساری چاۓ رتابہ کے ہاتھ پر اور کچھ عضد کے کپڑوں پر گری۔۔۔۔

عضد غصے سے اسے چماٹ مارتے مارتے رکا کیونکہ اسکے ہاتھ اوپر ھوا میں اٹھاتے ہی رتابہ کا چہرہ زرد ھوا تھا۔۔۔

اپنا ہاتھ نیچے کرتا وہ پھر بلند آواز میں دھاڑا اندھی ھو کیا دیکھ کر نہيں چل سکتی پہلے ہی لیٹ ھو رہا تھا میں اب مذید لیٹ ھو جاؤنگا تمھاری وجہ سے۔۔۔۔

عضد پینٹ کوٹ اور پیروں میں شوز کیوجہ سے بچ گیا پر رتابہ کے پورے ہاتھ جل گۓ وہ جلتے ہاتھوں سے کانچ اٹھانے لگی آنسو گرم سیال کیطرح گالوں پر لڑھک آۓ۔۔۔

عضد کپڑے بدل کر آفس بھاگا۔۔۔

وہ اپنے جلتے ہاتھ بار بار پانی میں ڈال کر ٹھنڈے کرتی رہی پانی سے ہاتھ کے چھالے مذید ابھر گۓ۔۔۔۔

عضد آج بھی لیٹ آیا تو آتے ساتھ سو گیا۔۔۔

صبح آٹھ بجے اسے رتابہ نے جگایا وہ آنکھیں رگڑتا اسے ناشتے کا حکم صادر کرتا نہانے چلا گیا ۔۔۔

ٹاول چوڑے کندھوں پر ڈالے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر آیا۔۔۔

رتابہ نے ٹیبل پر اسکے سامنے چاۓ رکھی تو عضد نے اسکا جلا ھوا ہاتھ دیکھا۔۔۔

رکو ہاتھ دکھاٶ اس نے رتابہ کا بازو پکڑا اوہ شٹ یہ کیا یہ کیسے جلا اتنا زیادہ؟؟؟ اس نے پلکیں اٹھا کر رتابہ سے پوچھا۔۔۔

کل جب آپ سے ٹکراٸ تھی تو چاۓ سے جلا۔۔۔

بتایا کیوں نہيں تم نے اسوقت۔۔۔۔

آپ پہلے ہی غصے سے جلے بھنے ھوۓ تھے اوپر سے میں اپنا بتاتی کہ میں بھی جل گٸ ھوں تاکہ مار کھاتی آپ سے۔۔۔

عضد کو اس پر رحم بھی آیا لیکن اسکا جواب سن کر دانت پیس کر بولا۔۔۔

ویسے تو تم بولتی ہی نہيں ھو لیکن بولتی ھو تو بڑے کھرے جواب دیتی ھو۔۔۔۔

وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولی یہ کھرا پن مجھ جیسےکھوٹے سکے میں دنیا والوں کی عنایت سے آیا ھے۔۔۔

عضد نے اسے گہری نظر سے دیکھا پھر کہا چلو ھوسپٹل ۔۔۔

نہیں جانا مجھے اس نے عضد کے ہاتھ سے اپنا بازو کھینچا۔۔۔۔

کیوں نہيں جانا تم نے زخم دیکھا ھے اپنا کتنا خراب ھو گیا ھے۔۔۔

آپ نے تو میری کھال بھی اتاری تھی بھر گۓ وہ زخم بھی یہ تو صرف جلا ھے ٹھیک ھو جاٸیگا خود ہی۔۔۔

عضد اسکی بات سن کر نظریں چرا گیا کیسے بتاتا اسے کہ تمھارے جسم کے وہ زخم خود ٹھیک نہيں ھوۓ میں نے ٹھیک کیۓ ھیں۔۔۔۔

چپ چاپ چلو میرے ساتھ لہجے میں اب نرماہٹ غائب تھی۔۔۔

عضد اسکا ہاتھ پکڑے لے گیا ھوسپٹل دو انگلیاں اسکی زیادہ جل گٸ تھیں پورے ہاتھ پر بینڈیج کی ڈاکٹر نے اور واپسی میں گھر ڈراپ کر گیا۔۔۔۔

آج شام وہ جلدی گھر آگیا۔۔۔

رتابہ الٹے ہاتھ سے بڑی مشکل سے کھانا کھا رہی تھی کیونکہ تھوڑا سا الٹا ہاتھ بھی جلا ھوا تھا۔۔۔

عضد نے کوٹ اتارا اور سیدھا اسکے پاس آ کر بیٹھا تو وہ اٹھ کھڑی ھوٸ۔۔۔

بیٹھو عضد نے اسے انگلی کے اشارے سے واپس بیٹھنے کو کہا۔۔۔

اور پھر اسکی چیٸر کھسکا کر خود سے قریب کی۔۔۔

اس کے اس رد عمل پر رتابہ کچھ گھبرا سی گئ۔۔۔۔

نوالہ اپنے ہاتھوں سے بنا کر اسکے منہ کیطرف بڑھایا کھولو منہ۔۔۔

وہ حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے عضد کو تکنے لگی کیسا ھے یہ شخص کبھی بہار کی برستی بارش جیسا اور کبھی گرمی کی کڑکتی دھوپ جیسا۔۔۔۔

رتابہ کے آنسو بہنے لگے۔۔۔

لو جی میں نے منہ کھولنے کو کہا تھا آنسوٶں کا نلکا نہيں۔۔۔

رتابہ کو وہ وقت بھی یاد آنے لگا جب دیوی اسکے ہاتھ سے نوالہ چھین لیتی تھی اور گوپال کے شفقت بھرے ہاتھ جن سے نوالے توڑ کر وہ اپنے ہاتھوں سے اسکے منہ میں ڈالا کرتا تھا۔۔۔

رونا بعد میں ابھی کھانا کھالو عضد نے ہاتھ میں پکڑے نوالے کیطرف نظریں دوڑائیں۔۔۔

آدھی سے زیادہ روٹی عضد اسے کھلا چکا تھا اسکی بس بس پر اسکا دوپٹہ کندھے سے سرکا تو عضد کی نظر اسکی گردن پر پڑی وہاں بھی چھالے تھے۔۔۔۔

عضد نے ہاتھ بڑھا کر اسکا دوپٹہ کندھے سے پورا ہٹایا تو اس نے فوراََ عضد کے ہاتھ پکڑ لیے۔۔۔

عضد نے اسکے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھیں تو مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔۔

عزت نہيں لوٹ رہا تمھاری یہ دیکھ رہاھوں یہاں سے بھی جلی ھو تم وہ اسکے ہاتھ پکڑنے پر آرام سے بولا چلو آٶ ٹیوب لگا دوں تمھیں۔۔۔

ننننن نہيں مممم میں خود لگا لونگی وہ یک دم اتنے مہربان ھوتے عضد سے ڈری۔۔۔۔

ڈرو نہيں کھا نہيں جاٶنگا تمھیں وہ اسکی جھجھک دیکھ کر آنکھیں نکال کر بولا۔۔۔۔

پھر اسے زبردستی بازو سے پکڑے اندر لے گیا اور بیڈ پر بٹھا کر اپنی الماری سے شرٹ نکالی۔۔۔

لو یہ شرٹ پہنو۔۔۔

کیوں؟؟؟ اس نے معصوم سی صورت بنائی۔۔۔

کیونکہ یہ شرٹ ھے زخم پر ٹیوب لگانے میں آسانی ھوگی اسکے بٹن کھل جاتے ھیں آسانی سے قمیض کی طرح اتارنی نہيں پڑے گی۔۔۔

وہ شرٹ لیۓ واش روم چلی گٸ اور جب پہن کر باہر آٸ تو عضد نے بمشکل اپنے لب بھینچے ھنسی روکی۔۔۔

شرٹ کے بازو لٹک کر نیچے تک آ رھے تھے اور کالر اسکی گردن سے کافی بڑا تھا بٹن بھی اس نے اوپر نیچے بند کیے ھوۓ تھے جس سے ایک طرف سے شرٹ ہینگر میں لٹکی ھوئ اور دوسری طرف سے کھنچی ھوئ تھی اوپر سے کھلی اتنی تھی کہ دوسری رتابہ بھی اسمیں سما جاتی۔۔۔۔

وہ عضد کے ھونٹوں پر دبی دبی ھنسی دیکھ کر شرما گئ اور ایسے بھاگی کمرے سے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔

عضد نے ھنستے ھوۓ پیچھے سے آواز لگاٸ ٹیوب تو لگانے دیتی۔۔۔

میں خود لگا لونگی اس نے کمرے سے دوڑ لگاتے ھوۓ عضد کو جواب دیا۔۔۔

پھر عضد کا قہقہہ اسے اپنے پیچھے سنائ دیا وہ فوراً سے پلٹی جیسے عضد اسکے بہت قریب تھا پھر سر جھٹک کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔۔۔

___________

بابا کی گود میں سر رکھے نمل لیٹی ھوٸ تھی۔۔۔

بابا آپ نے کیوں مجھے ماما سے دور رکھا تھا کیوں مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت پڑی آپکو۔۔۔

ایاز اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا بیٹا کچھ گزرے وقت کی تلخیاں بہت ناقابل برداشت ھوتی ھیں۔۔۔

جسے ھم دل و جان سے چاہیں جو پل پل ھمارے ساتھ رھے اگر اچانک وہ دور ھونے لگے تو انسان سہہ نہیں پاتا۔۔۔

تمھاری ماما بھی اچانک بہت دور ھو گٸ تھی مجھ سے تم سے اتنی دور کہ اس تک میری رسائی نا ممکن ھوتی جارہی تھی۔۔۔

کیوں بابا جانی ؟؟؟ اس نے معصوم سا سوال کیا۔۔۔

جازب اورعضد کیوجہ سے میں نے ھمیشہ خود کو تمھاری ماں کیلۓ سب سے خاص پایا تھا ایسے میں مجھ سے ہٹ کر اسکی توجہ اسکا پیار ان دو بچوں میں بٹتا میں نہيں دیکھ سکا۔۔۔

عضد جب اپنی ماں کیلیۓ روتا تھا تو کبھی کبھار وہ تمھیں بھی بھول جاتی تھی۔۔۔

مجھے بھی ٹاٸم نہيں دے سکتی تھی پہلے جیسا۔۔۔

میں حالات سے سمجھوتا کرنے کے بجاۓ بکھرتا گیا تمھاری ماں کی والہانہ محبت مجھ سے روٹھتی گٸ اور میں جذبات کی رو میں بہہ کر کسی اور سمت جا نکلا۔۔۔

کیا مطلب بابا جانی اس نے پلکیں جھپکا کر بابا کو دیکھا۔۔۔

میں نے دوسری شادی کر لی تھی تمھاری ماں کو جب پتہ چلا تو وہ میرے ساتھ ایک دن بھی رہنے کو تیار نا تھی۔۔۔

مجھے گھر چھوڑنا پڑا کچھ دن بعد میں تم سے ملنے آیا تو وہ عضد کے رونے پر اسکی طرف لپکی اور تم صوفے سے نیچے آ گری۔۔۔

اسوقت تمھارے دو دانت نکلے تھے جو مسکراتے مجھے نظر آتے تو میں جی اٹھتا تھا وہ دانت تمھارے گرنے سے ٹوٹ گئے تمھارا خون دیکھ کر ھم دونوں بھاگے تمھاری طرف۔۔۔

لیکن میں نے تمھیں پہلے اٹھا لیا اور اپنے ساتھ لے گیا وہ مجھے روکتی رہی۔۔۔

لیکن میں اسوقت بلکل اندھا ھو چکا تھا تمھاری تکلیف اور نرگس کی تم پر کم توجہی مجھ سے ایک پل برداشت نا ھوئ تمھیں سینے سے لگاۓ میں نے اسکی ایک نا سنی اور تمھیں اپنے ساتھ لے آیا۔۔۔

بابا ماں ملنے نہیں آئ تھی کبھی مجھ سے؟؟

تم سے ملنے آٸ تھی کئ بار تمھاری ماں لیکن میں نے نہیں ملنے دیا تھا۔۔۔

اسوقت میری دوسری بیوی بھی مجھے چھوڑ کر دوسرے جہاں چلی گٸ تھی۔۔۔

میرے پاس جینے کی وجہ صرف تم تھی اسوقت میں نے تمھاری ماں کو دروازے سے لوٹا دیا تھا یہ کہہ کر کہ اگر وہ دوبارہ آٸ تم سے ملنے تو میں یہ شہر چھوڑ کر چلا جاٶنگا۔۔۔

لیکن وہ ماں تھی کہاں اسکے قدم رکنے تھے اور میرا کل سرمایا کل کائنات تھی صرف تم۔۔۔

تم سے جداٸ ایک پل نہيں سہہ سکتا تھا تمھاری ماں کے بار بار آنے کے ڈر سے اسلام آباد چھوڑ کر میں کراچی آگیا تم اسوقت دو سال کی بھی نہيں تھی۔۔۔

بچوں کو گھر میں قرآن اور ٹیوشن پڑھانے لگ گیا اور قرآن پڑھاتے پڑھاتے خود قرآن حفظ کر لیا۔۔۔

پھر وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھوما کہ پتہ ہی نا چلا اور تم بڑی ھو گٸ۔۔۔

ایک پل میرا دل چاہا تمھیں لے کر جاٶں تمھاری ماں کے پاس لیکن پھر اس خوف نے مجھے جکڑ لیا کہ کہیں تم مجھ سے نفرت نا کرنے لگ جاٶ یا مجھے چھوڑ نا جاٶ تمھاری سانسوں سے میرا دل دھڑکتا تھا تمھیں دیکھ دیکھ کر میں جیتا تھا میرے جینے کا سامان ھو تم ۔۔۔

پھر میں نے سوچ لیا تھا کہ جب تمھاری شادی ھوگی تب تمھیں تمھاری ماں کا بتاٶں گا تاکہ ایک ہی بار تمھاری جداٸ سے مروں۔۔۔۔

بابا آپ امی سے ملنے کبھی نہیں آئے تھے؟؟؟

ایاز کی آنکھوں میں اب آنسو تھے آیا تھا کچھ سال پہلے تمھاری ماں سے ملنے لیکن پھر اس سے ملے بغیر لوٹ آیا کہ کیا منہ لےکر جاتا بے وفاٸ کی تھی میں نے تمھاری ماں سے۔۔۔

وہ باپ کے آنسو صاف کرتے بولی بابا اگر مجھے اب بھی ماں نا ملتی تو آپ سچ میں مجھے بتاتے میری شادی کے بعد کہ میری ماں زندہ ھے؟؟؟

ہاں میری جان میں نے اپنے رب سے وعدہ کیا تھا اسکے گھر جا کر کہ تمھاری جلد از جلد شادی ھو تاکہ تمھیں تمھاری ماں سے ملوا سکوں میں۔۔۔

لیکن دیکھو اللہ کے فیصلے ھمارے فیصلوں سے کٸ زیادہ خوبصورت ھوتے ھیں اس نے اپنے فیصلے کے مطابق تمھاری ماں کی عرضی مجھ سے پہلے سن لی۔۔۔

ماما ۔۔۔ دیان چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا نمل کے پاس آیا تو اس نے دیان کو گود میں لے کر چوما۔۔۔

کتنا پیار کرتی ھو تم دیان سے؟؟

ایاز کے پوچھنے پر وہ پیار سے بولی بہت زیادہ پیار کرتی ھو بابا میری جان ھے یہ۔۔۔

ایاز اسکی طرف دیکھنے لگے تم نا اسکی ماں ھو نا اس سے تمھارا کوٸ بہت قریبی رشتہ ھے اگر اسکی ماں لے جاۓ اسے تم سے دووور تو رہ سکو گی اسکے بغیر؟؟؟؟

نمل نے دیان کو اپنے سینے سے دبوچ لیا نہیں بابا نہیں رہ سکتی میں اسکے بغیر۔۔۔

بیٹا پھر تم تو میری اولاد ھو میں کیسے رہتا تمھارے بغیر؟؟؟

اسے تو تمھاری گود میں آۓ چند دن ھوۓ ھیں اور تم تو میرے جگر کا ٹکڑا ھو میرے وجود کا حصہ ھو میں تم سے کیسے جدا ھو سکتا ھوں۔۔۔

وہ بابا کے سینے سے لگی میں بھی آپ کے بنا نہیں رہ سکتی بابا آپ جان ھیں میری۔۔۔۔

جانتی ھو تمھاری ماں کو چھوڑ کر جس کے ساتھ میں نے زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے نا وہ مجھے چھوڑ گٸ بلکل ایسے جیسے تمھاری ماں کو میں نے جیتے جی چھوڑا تھا۔۔۔

اور ایسے میں تم بھی ماں کیطرف لوٹ جاتی تو میں مر جاتا تمھارے بغیر۔۔۔۔

وہ اپنے بابا کے ہاتھ چومنے لگی ایسے تو نا کہیں بابا جانی۔۔۔

نرگس نے اندر آتے ھوۓ کہا ہاں اک میں ہی ڈھیٹ ھوں نا جو سب کے بغیر رہ سکتی ھوں۔۔۔

نہيں نرگس ایسی بات نہیں ایاز نے دیان کو نمل سے لیا۔۔۔

ڈھیٹ نہيں ھو تم ھم سب سے زیادہ مضبوط ھو جس نے ھمیشہ ٹوٹے رشتوں کو جوڑا ھے تم تو اللہ پاک کا عطا کیا ھوا انعام ھو ھم سب کیلیے۔۔۔۔۔

نرگس سر جھکاۓ بولی۔۔۔۔

میں کیا میری اوقات کیا سب رب کی دین ھے میں تو اسکی گنہگار سی عام سی بندی ھوں۔۔۔

تم عام نہيں ھو سکتی نرگس تم جیسا حوصلہ تم جیسی ھمت کسی عام انسان میں ھو ھی نہيں سکتی۔۔۔

نرگس نے سوالیہ نظروں سے ایاز کو دیکھا جیسے پوچھ رہی ھو وہ کیسے۔۔۔۔

مجھ جیسے بے وفا شوہر کو معاف کرنے کا حوصلہ بھی صرف تمھی میں ھے تم چاہتی تو دوسری عورتوں کیطرح اب بھی میری بیٹی کو اپنی طرف ماٸل کر کے میرے خلاف بھڑکا سکتی تھی اسے گمراہ کر سکتی تھی مجھ سے چھین سکتی تھی یا اپنی چوبیس سالہ بھڑاس نکال سکتی تھی۔۔۔

لیکن تم نے ایسا کچھ بھی نہيں کیا ھمیشہ تقدیر کے لکھے پر تم نے بڑی فرمانبرداری سے رب کے حضور سر خم کیا ھے اپنا۔۔۔

ایاز بڑے فخریہ انداز سے بول رھے تھے۔۔۔۔۔

اور جو سر رب کے فیصلوں پر جھکے وہ عام نہيں ھو سکتا جس نے ھمیشہ دوسروں کی بڑی بڑی خطاٶں کو معاف کیا ھو وہ خود کیسے گنہگار ھو سکتا ھے؟؟؟

پھر وہ نمل کی طرف پلٹے تمھاری بیٹی بھی میں شکر ادا کرتا ھوں تم پر گٸ ھے اس نے بھی مجھے معاف کیا۔۔۔

نرگس نے اپنے گالوں پر بہتے آنسو پونچھے تو نمل ماں سے لپٹ گئی۔۔۔۔۔۔

جانتی ھو اسے دیکھ دیکھ کر میں کیوں جیتا ھوں؟؟ کیونکہ اسمیں تمھارا عکس تمھارا کردار نظر آتا ھے مجھے۔۔۔

نرگس مسکراٸ۔۔۔

میں کبھی بھی رب سے مایوس نہيں ھوٸ ایاز اسلیۓ آج یہ دن مجھے نصیب ھوا۔۔

میں نے رب کی اس بات کو ھمیشہ اپنے پلو سے باندھ کر رکھا کہ اسکے یہاں دیر ھے اندھیر نہيں۔۔۔۔

اور اپنی ہی بچی کو میں تم سے کیسے چھین لیتی یا کیسے گمراہ کرتی اسکی دھڑکنوں میں بستے ھو تم اور میری دھڑکن میں اسکا بسیرا ھے اسے تم سے جدا کر کے میں اسکے دھڑکتے دل سے دھڑکنیں کیسے چھین لیتی۔۔۔۔

کڑی سے جڑی کڑی کیطرح کئی زندگیوں کا سوال تھا اس لیۓ میں نے ان تین دلوں کی دھڑکن کو ایک کڑی میں جوڑ کر یک جان کرنا زیادہ بہتر سمجھا۔۔۔۔

________________

اریج پاکستان آ چکی تھی اس بار وہ نرگس کے گھر ہی ٹھہری۔۔۔

نمل سے ملکر وہ نا صرف خوش ھوٸ بلکہ اسکی کلوز فرینڈ بھی بن گٸ۔۔۔

باتوں باتوں میں وہ اریج کی جازب سے شدید محبت کو بھانپ گٸ جازب بھی بہت کلوز تھا اریج سے۔۔۔

اریج جان گئ تھی جازب کی زبانی کہ وہ نمل کو چاھتا ھے لیکن اسوقت وہ عضد کی طرف سے فجر مند تھی صوفے پر بیٹھی ناخن دانتوں سے چباتی گہری سوچوں مث گم تھی۔۔۔

نرگس کی آواز پر چونک کر سیدھی ھوئ۔۔۔

کہاں گم ھو تم؟؟؟؟

انٹی عضد کو آپ نے جازب اور ایاز انکل کا بتایا؟؟

نہيں ابھی نہيں بتایا۔۔۔

آپ اسکی فطرت سے واقف ھیں انٹی اور غصے سے بھی اس نے اک ھنگامہ برپا کر دینا ھے۔۔۔

ایک جازب اور پھر دوسرا ایاز انکل کو دیکھ کر آپ جانتی ھیں وہ دونوں کے نام لینے سے بھی چڑتا ھے پھر انکو اچانک یہاں دیکھ کر برداشت کیسے کریگا؟؟ اریج نے آنے والے وقت کے خدشے سے نرگس کو آگاہ کیا۔۔۔۔

میں ابھی نہيں بتا سکتی کچھ بھی اسے کیونکہ اگر اسے میں نے بتا دیا تو وہ واپس ہی نہيں آۓ گا اور وہ جب یہاں میرے پاس ھوگا میں گاٸیڈ کر لونگی اسے۔۔۔۔

ھمممم انٹی آپ جازب کی شادی کیوں نہيں کر دیتیں۔۔۔

وہ مانے تب نا نرگس نے بناوٹی مایوسی سے کہا۔۔۔۔

لیکن اب اسکی نہيں چلنی اب کرنی ھوگی اسے شادی بیوی کے کھونٹے سے بندھے گا تو عقل آۓ گی اسے اریج دادای اماں والے انداز میں آستینیں چڑھا کہہ رہی تھی۔۔۔۔

وہ پاپ کارن کھاتا اندر آیا اور پیچھے سے اسکی چٹیا کھینچ کر بولا کیا پٹیاں پڑھا رہی ھو میری معصوم سی ماں کو اور یہ کس کے بیل کو کھونٹے سے باندھنے کی بات ھو رہی ھے؟؟ اس نے اریج کی پوری بات نہیں سنی تھی۔۔۔۔

جازب کی بات پر نرگس اریج اور زور سے ھنسنے لگیں۔۔۔

نمل بھی اب ان میں موجود تھی۔۔۔۔۔۔

بیل کی نہيں تمھیں کھونٹے سے باندھنے کی بات کر رہی ھوں نرگس نے اسکا کان پکڑا جو انکے پہلو میں آ کر بیٹھا تھا۔۔۔

ارے میری پاگل اماں جازب کو روکے رکھنے والا اتنا مضبوط کھونٹا ابھی تک بنا ہی نہيں وہ نرگس کو کندھوں سے بازوؤں کے گھیرے میں لیکر جھولتے ہوئے بولا۔۔۔۔

بیٹا جس کھونٹے کی میں بات کر رہی ھوں نا اس سے اچھے اچھے قابو میں آجاتے ھیں کیونکہ اس کھونٹے کی رسی بیوی کے ہاتھ میں ھوتی ھے۔۔۔

اوہ اچھا تو آپ میری شادی کی بات کر رہی ھیں وہ جلدی سے سارے پاپ کارن ایک ساتھ منہ ڈالنے لگا تو اریج نے اسکے ہاتھ سے چھین لیۓ اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔۔

ہاں جی اریج اور نرگس ایک ساتھ بولیں۔۔۔

وہ اریج کے پاپ کارن اسکے منہ سے چھیننے پر اسے گھورتا ھوا نمل کو دیکھنے لگا جو چپ تھی۔۔۔۔

دیکھتے ھیں اماں کون کس کو اپنے قابو میں کرتا ھے نگاھیں نمل پر تھیں۔۔۔۔

_______________

ایاز سعودی عرب واپس جا چکے تھے۔۔۔

اریج شاپنگ پر نرگس انٹی کو ساتھ لے گٸ۔۔۔۔

جازب جاب پر تھا لیکن آج وہ جلدی گھر آگیا تھا۔۔۔

امی امی۔۔۔ اریج۔۔۔ نمل۔۔۔ کہاں ھیں سب؟؟

نمل اسکے چلانے پر اپنے کمرے سے باہر آٸ اور چڑ کر بولی کیا جاہلوں کیطرح پورے گھر میں چلا رھے ھو۔۔۔

اس نے نمل کو گرین کلر کے سوٹ میں غصے سے بھرا دیکھ کر گہری سانس لی۔۔۔۔

کسی نے مینرز نہیں سکھاۓ تمھیں بندہ آفس سے تھکا ہارا آۓ تو اسے پہلے چاۓ پانی کا پوچھتے ھیں صلاواتیں نہيں سناتے۔۔۔

اس نے ناک اور بھنویں ایک ساتھ سکیڑیں مینرز آتے ھیں مجھے اچھے سے لیکن میں تمھاری نوکر نہيں ۔۔۔

وہ مسکراتے ھوئے صوفے پر بیٹھا افففف اللہ اتنا جلا کٹا ہری مرچوں والا وہ اسکے پورے سبز رنگ کے جوڑے چوٹ کرتے بولا تھا۔۔۔

پھر شرارت سے اپنے بالوں میں انگلیاں گھماتا بڑے خوبصورت انداز سے بولا صرف نوکر ہی تو نہيں کرتے یہ کام بیویاں بھی کرتی ھیں۔۔۔

خیر چلو نوکرانی نا سہی اپنے شوہر کی رانی ہی سمجھ کر چاۓ پلا دو۔۔۔۔

ککککک کیا کہا تم نے اس نے کمر پر ہاتھ رکھا بیوی اور تمھاری وہ بھی میں۔۔۔ اس نے اپنی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔

ہاں۔۔۔ جازب نے اسکی طرح منہ کھولے ھونقوں کیطرح ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

تم کب سے دیکھنے لگے میری شادی کے خواب وہ بھی اپنے ساتھ اسکا لہجہ کافی دلبرداشتہ تھا۔۔۔

وہ سر کے پیچھے ہاتھ لے جا کر ٹانگوں پر ٹانگ رکھے بولا یار سچ سن ہی لو تم آج۔۔۔

تمھیں پتہ ھے مجھے بارودی مواد اور دھڑا دھڑ گولیاں برساتی چھوٹی چھوٹی پستولیں بڑی پسند ھیں۔۔۔

اور میں نے تمھیں جب پہلی بار دیکھا تھا گن پوائنٹ پر توپ کیطرح گولے برساتے ھوۓ بسسسسس وہ ہاتھ پر زور سے ہاتھ مار کر بولا اچانک زور سے تالی کے بجنے کی آواز پر نمل چونکی۔۔۔

بس تبھی تم پسند آ گئ مجھے اسی لیۓ اٹھا کر لے گیا تھا کہ پورا اصلحے کا ڈپو ھو تم۔۔۔

وہ اسکے بارودی مواد اور اصلحے کے ڈپو سے تشبیہ دینے پر تن گئ اور بلند آواز میں چیخی بکواس بند کرو اپنی اور خبردار جو مجھے دوبارہ بیوی سمجھا یا اصلحے کا ڈپو اس نے منہ بنا کر جازب کی نقل اتاری تو وہ ھنس پڑا۔۔۔۔

وہ اسکی ھنسی کو اگنور کر کے نخریلے انداز سے بولی وقت پر ہی نکال دو یہ خیال دل سے تو اچھا ھے تمھارے لیے۔۔۔

جازب نے کمرے میں جاتے ھوۓ تیزی سے آگے بڑھ کر اسکا راستہ روکا اگر میں نا نکالوں تو؟؟؟

وہ اکڑ کر اسکے سامنے کھڑی تھی تم اچھے سے جانتے ھو مجھے پھر اس گھر سے ہی نکلوا دونگی میں تمھیں۔۔۔۔

وہ دو قدم اسکے قریب ھوا دھمکی دے رہی ھو مجھے۔۔۔

وہ اسکے اتنا قریب آنے سے ذرا بھی نا ڈری سمجھا رہی ھوں میں تمھیں اب اسے دھمکی سمجھو یا نصیحت تمھاری مرضی ھے کہنے میں ذرا بھی خوف کی لہر نا تھی۔۔۔

اسکا یہی فل برھم والا انداز جازب کا دل لے ڈوبا تھا۔۔۔۔

____________

رتابہ کا دل بہت اداس تھا۔۔۔

وہ چاردیواری میں بلکل تنہا رہ رہ کر عاجز آچکی تھی۔۔۔۔

آج باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی ھو رہی تھی رتابہ کا دل مچل سا گیا

ہلکی ہلکی بارش دیکھ کر وہ باہر آٸ اور سیدھی اسٹریٹ میں چلتے ھوۓ وہ ان پھولوں تک آئ جنکو دیکھ کر اسے چھونے کو دل چاھتا تھا۔۔۔

پھولوں کو چھوتے ھوۓ کچھ دور باغ میں بارش کو انجواۓ کرتی فیملی اور انکے بچے دیکھ کر وہ انکے پاس چلی آئ اسے دیان بڑی شدت سے یاد آیا۔۔۔۔

عضد گھر آگیا تھا جلدی اسکی طبیعت ٹھیک نہيں تھی۔۔۔

گھر آیا تو رتابہ نہيں تھی وہ پریشان ھو گیا رتابہ رتابہ وہ پورے گھر میں آوازیں لگانے لگا۔۔۔

کہاں گٸ یہ گھبرا کر وہ گھر سے باہر آیا۔۔۔

آس پاس دیکھا وہ موجود نہیں تھی پل بھر میں عضد کی جان نکل گئی وہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بڑبڑایا یا خدا یہ کہاں چلی گئ بنا بتاۓ۔۔۔

اس نے پھر سے آس پاس نظر دوڑائ اور اپنے دائیں جانب قدم بڑھاۓ تیزی سے چلتے ھوۓ باغ کے پاس پہنچا تو وہ بچوں کیساتھ بیٹھی ھوٸ تھی۔۔۔۔

اسکی رکی ھوئ سانسیں اسے دیکھ کر بحال ھوئیں اور وہ اسکے پاس آیا کیا کر رہی ھو یہاں۔۔۔

کچھ نہيں دل گھبرا رہا تھا اسلیۓ یہاں آگٸ۔۔۔۔ اس نے سر اٹھا کر پریشان ھوتے عضد کو دیکھا۔۔۔

چلو گھر۔۔۔

آپ جاٸیں میں آتی ھوں۔۔۔

نہيں میرے ساتھ چلو وہ اٹھی اور اسکے ساتھ چلنے لگی بارش کے پانی سے صاف شفاف روڈ پر اسکا جوتا بار بار سلپ کر رہا تھا۔۔۔

عضد نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔

بھیگے چہرے پر بکھرے بالوں میں بھیگی بھیگی سی وہ خوبصورت بلا لگ رہی تھی۔۔۔

وہ پھر سلپ ھوٸ تو عضد نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اپنے ساتھ چلانے لگا۔۔۔

عضد کے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامنے پر اک سکون کی لہر اسکی روح تک سرائیت کرنے لگی اس نے آنکھیں میچے پل بھر سکون سے گہری سانس لی عضد اسکے چہرے پر اپنے ساتھ کا سکون اور خوشی دیکھ کر مسکرایا۔۔۔

رتابہ کا دل چاہا یہ وقت ھمیشہ کیلئے یہیں تھم جاۓ۔۔۔۔۔

_____________

نرگس لان میں پودوں کو پانی دے رہی تھی امی نمل اسکے پاس آٸ۔۔۔

امی آپ جازب کی شادی اریج سے کیوں نہيں کر دیتیں نمل کے ایک دم اسطرح آکر بلا جھجھک بولنے پر نرگس اسے دیکھتی رہ گئ۔۔

پھر اسکے جواب کے انتظار پر کہنے لگی بیٹا میں نے اسے کہا کافی بار لیکن وہ کسی اور کو پسند کرتا ھے۔۔۔

تو کیا ھوا وہ بہت اچھی لڑکی ھے امی بس آپ اسکی شادی کر دیں جلدی سے اریج کیساتھ وہ پسند کرتی ھے جازب کو بہت۔۔۔۔

نرگس نے جانچتی ھوٸ نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھا اور الٹا اسی سے سوال کیا اور تم؟؟؟

ماں کے اچانک سوال داغنے پر وہ سٹپٹا گٸ۔۔۔

کیا میں ؟؟؟

تم پسند نہيں کرتی جازب کو؟؟

یہ کیسا سوال ھے امی۔۔۔

نرگس نے اسکا ہاتھ پکڑا جو پوچھا ھے وہ بتاٶ۔۔۔

نمل نے نظریں جھکا لیں۔۔

نہيں امی وہ مجھے As a life partner بلکل پسند نہيں۔۔۔

کیوں کیا کمی ھے اسمیں؟؟؟ نرگس نے اسکا جھکا سر دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

امی بات کمی کی نہيں ھے۔۔۔

تو پھر؟؟؟

بس چھوڑیں آپ اس بات کو اس نے نظریں ادھر ادھر دوڑائیں اریج کی بات کرتے ھیں۔۔۔

نرگس نے اسکا ہاتھ تھاما نمل وہ جس لڑکی کو پسند کرتا ھے وہ تم ھو اور میں اور تمھارے بابا بھی یہی چاھتے ھیں نرگس نے اس پر جازب کی پسندیدگی کا اور اپنی پسند کا انکشاف کیا۔۔۔۔۔۔

لیکن میں نہيں چاہتی امی وہ بنا سوچے سمجھے فوراً جواب میں بولی تو لان میں داخل ھوتے جازب نے اسکی بات سن لی۔۔۔

کیوں تم کیوں نہيں چاہتی؟؟ نرگس نے اسے کریدنا چاہا۔۔۔۔

بس نہيں بتا سکتی میں وہ بے چینی سے ناخن منہ میں چبانے لگی۔۔۔۔

تمھیں بتانا ھوگا ورنہ ھمارا فیصلہ ماننا ھوگا نرگس نے اسکا ہاتھ منہ سے کھینچا۔۔۔۔

جازب نرگس کے پیچھے آن کھڑا ھوا۔۔۔

امی کہاں گیا وہ رواج وہ وقت جب بیٹیاں ماں باپ کی مرضی میں راضی ھو جاتی تھیں۔۔۔

نمل اسے دیکھ کر جل کر بولی۔۔

تم کون ھوتے ھو ماں بیٹی کے بیچ بولنے والے؟؟؟؟

جازب نے نرگس کو کندھوں سے پکڑ کر پوری بانچھیں کھولیں اس ماں کی بیٹی کا ھونے والا شوہر اور آپکی اماں جی کا داماد ۔۔۔۔

کان کھول کر سن لو نہيں کرنی میں نے تم سے شادی وہ چڑ کر چلدی وہاں سے۔۔۔

________________

جازب کمرے میں سونگ سن رہا تھا۔۔۔

وہ اسکے سر پر آن کھڑی ھوٸ یہ کیا نیا شوشا چھوڑا ھے تم نے۔۔۔

وہ اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر خوشی سے اچھلا۔۔۔

زھے نصیب زھے نصیب۔۔۔۔

بند کرو اپنی بکواس کچھ پوچھا ھے میں نے تم سے اسکا جواب دو وہ تھانیدار کی طرح اسکے سر پر کھڑی تھی۔۔۔

یہ کیا ہر وقت جنگلی بلیوں کیطرح لڑتی رہتی ھو مجھ سے۔۔۔

کیونکہ تم اسی قابل ھو وہ تن کر بولی۔۔۔۔

ھممممم مطلب پہلے غصہ دکھاٶگی پھررر جازب کو اسے تنگ کرنے میں مزہ آتا تھا وہ آگے گنگنانے لگا۔۔۔

ھولے ھولے ھو جاۓ گا پیار بلیۓ ھولے ھولے۔۔۔۔۔

آآآ۔۔۔۔ وہ چیخی شیٹ اپ۔۔۔۔۔

میں تمھیں صاف صاف الفاظ میں آخری بار سمجھانے آٸ ھوں اپنے یہ مذاق اور اپنے ادھورے خواب خود تک محدود رکھو میں مر جاٶنگی پر تم سے شادی نہيں کرونگی۔۔۔۔

جازب نے اسکی آنکھوں میں جھانکا وہ بلکل سیریٸس تھی۔۔۔۔

تم نے مجھے ابھی تک معاف نہيں کیا اب جازب بھی سنجیدہ ھو گیا لہجہ بلکل سپاٹ تھا۔۔۔

کبھی بھی معاف نہیں کرونگی وہ ذلت کے ہار جو تمھاری وجہ سے میرے گلے کا طوق بنے تھے انکی پھانس جب بھی مجھے محسوس ھوتی ھے نا تو میرا دم گھٹنے لگتا ھے اور تمھیں دیکھ کر بھی۔۔۔۔

اریج انکی ساری باتیں سن چکی تھی۔۔۔

وہ اسکی آمد سے بے خبر تھے۔۔۔

کونسی ذلت اور کونسے پھندے؟؟؟ اریج کی آواز پر دونوں ایک ساتھ چونکے جو کمرے کے دروازے سے ٹیک لگاۓ کھڑی تھی۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *