Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 04)

Bad Bakhat by Arshi Noor

بختی نے بوکھلا کر دھکا دینے والے کو دیکھا وہ بندیا نہيں تھی بابو تھا۔۔۔۔

اس نے حیرت سے بابو کو دیکھا جسکی آنکھوں اور چہرے سے اسکی خباثت چھلک رہی تھی۔۔

ابھی وہ خود کو سنبھال ہی نہيں پاٸ تھی کہ بابو اس پر بھوکے شکاری کیطرح لپکا اس نے خود کو بچا کر اندر بھاگنا چاہا پر بابو نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا تو وہ لڑکھڑا کر دوبارہ فرش پر گھٹنوں کے بل گری۔۔۔

بابو نے اسے بری طرح زدوکوب کیا وہ دکھیاری خوف کے مارے چلا بھی نا سکی۔۔۔

کیا کر رھے ھیں آپ چھوڑیں مجھے۔۔۔

وہ اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ وہ خود کو اس سے چھڑانے میں مکمل مزاحمت کر رہی تھی۔۔۔

اسے دونوں بازو سے جکڑ کر اب وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پوری طرح جکڑ کر بولا۔۔۔

ارے میری رانی دو سال میں تڑپتا رہا میرے ارمان مچلتے رھے آج یہ موقع ہاتھ لگا کیسے چھوڑ دوں تجھے وہ اپنے پیلے دانت پورے باہر نکال کر بولا۔۔۔

خود کو چھڑا کر وہ پھر سے بھاگی لیکن اب کی بار بابو کے پکڑنے سے اسکی قمیض بازو سے پھٹ گٸ اس نے پھر بھی خود کو بچانے کیلیےبابو کو زور دار دھکا دیا اور اندر کیطرف دوڑ لگائی بھاگنا چاہا اندر لیکن بابو نے دوبارہ اسے اپنے شکنجے میں لیا۔۔۔۔۔۔۔

بھاگتی کیوں ھے مجھ سے پیار کرتا ھوں تجھ سے میری جان ایسے نا تڑپا وہ اپنے ھوش کھوتے ھوۓ بولا۔۔۔

اور اسے گھسیٹتے ھوۓ گھر کے اندرونی دروازے سے چھوٹے سے ٹی وی لاؤنج نما کمرے میں داخل ھوا اور اسے دیوار کے ساتھ لگے تخت پر پٹخا۔۔۔۔

بختی چاھتے ھوۓ بھی خود کو اسکے شکنجے سے اب بچا نا سکی وہ اسکی عزت کی دھجیاں اڑادیتا آج اس لاوارث بچی کی عزت بابو جیسے کتے کے ہاتھ تار تار ھونے والی تھی۔۔۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا گوپال اپنا واٸلٹ گھر بھول گیا تھا وہ گھر کیطرف واپس آیا اور لاک کھول کر اندر داخل ھوا تو بختی کی سسکیوں بھری آواز سنی چھوڑ دو مجھے کیا کر رھے ھو۔۔۔

گوپال بھاگتا ھوا لاٶنج میں آیا جہاں بختی کو بابو کے شکنجے میں دیکھ کر تلملا اٹھا وہ اسے تخت پر لٹاۓ بازوؤں سے جکڑے ھوۓ تھا۔۔۔

گوپال سکینڈ کے دسویں حصے میں اسکی طرف لپکا اور اسے پیچھے سے گریبان سے پکڑ کر کھینچا تو بابو سٹپٹا گیا۔۔۔

گوپال نے چماٹوں کی برسات کر دی اس پر بے غیرت بے شرم انسان تیری اتنی ھمت کہ تو نے میری بختی پر ہاتھ ڈالا۔۔۔

بختی نے جلدی سے خود کو تخت پر بچھی چادر سے لپیٹا۔۔۔۔

وہ خود پر بے قابو ھوتے گوپال کو دھکا دے کر بولا بس کر چاچا مجھے کیوں مارتا ھے پہلے اپنے گریبان میں جھانک۔۔۔۔

تیرا کیا رشتہ ھے بختی سے میں اچھی طرح جانتا ھوں میں۔۔۔

گوپال نے اسکا گریبان پکڑا کیا رشتہ ھے بتا ذرا کیا خناس بھرا ھوا ھے تیرے دماغ میں گوپال کے ارادے دیکھ کر لگ رہا تھا آج وہ اسے جان سے مار دیگا ۔۔۔۔

بابو نے گوپال کو دھکا دے کر صوفے پر پٹخا جس پر گوپال نے دوبارہ اس پر اچک کر حملہ کیا اور اس سے پہلے کہ گوپال اسے پاس پڑی کرسی اٹھا کر مارتا بابو نے خود کو سنبھالا اور گوپال کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑ کر اسے صوفے پر دھکا دیا۔۔۔

خناس میرے دماغ میں نہيں تیرے دل میں بھی ھے تیری بیٹی نہيں ھے یہ بس دکھاوا ھے دنیا کے سامنے کا اور یہ جو تو بیٹی بیٹی کا ڈھول پیٹتا ھے نا اس سے تو دنیا کو بے وقوف بنا سکتا ھے مجھے نہیں میں اچھے سے جانتا ھوں بیٹی کی آڑ میں تو کیا کھیل کھیلتا ھے اسکے ساتھ یہ تیری رکھیل۔۔۔۔۔

گوپال چلا کر اٹھا اور بابو کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا بابو کی گردن طمانچہ کھا کر جھٹکے سے دائیں طرف مڑی اور رکھیل کا جملہ اسکے منہ میں ہی رہ گیا۔۔۔

بکواس بند کر اپنی اور دفع ھو جا یہاں سے ورنہ میں تجھے جان سے مار دونگا گوپال کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔۔

بابو اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر غرایا چاچا بس کر بس زیاہ چلا مت ورنہ ابھی ایک منٹ میں پورا محلہ جمع کر کے تیری اصلیت کھول دونگا۔۔۔۔

گوپال نے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

اس نے ماتھے پر بکھرے بال درست کیے اور اپنی شرٹ کے بٹن بند کر کے بولا چاچا اس مار پیٹ کا تجھ پر ادھار رہا یاد رکھ وقت آنے پر تیرا منہ بھی ایسے ہی توڑے گا یہ بابو وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کر رہا تھا۔۔۔

نکل میرے گھر سے بے غیرت انسان گوپال نے اسے دھکے دیکر لاؤنج سے باہر نکالا۔۔۔۔

جار رہا ھوں ابھی لیکن کل تک بختی میرے حوالے نا کی تو یاد رکھنا تجھے تیری بیٹیوں کے قابل بھی نہيں چھوڑونگا اس نے اپنی قمیض جھاڑی۔۔۔۔

بابو کی دھمکی سن کر گوپال کے ھوش اڑ گۓ اور قدم وہی جم گئے لاٶنج کے گیٹ سے نکلتے ھوۓ وہ پھر پلٹا ۔۔۔

بس بہت کر لیۓ عیش تونے اب بختی میری ھے صرف چوبيس گھنٹے کا وقت ھے تیرے پاس لے آنا اسے کل میرے پاس۔۔۔

ورنہ مجھے جانتا ھے پھر بختی تو میں لے جاٶنگا لیکن تو خود کشی کرنے پر مجبور ھو جاۓ گا اور پھر تیری بیوی اور بیٹیوں کو بختی بننے میں ذرا دیر نہيں لگنی۔۔۔۔

_________

جی شاہ جی ابھی ابھی پہنچا ھوں تمھاری امانت میرے پاس ہی ھے ۔۔۔

ھاھاھاھاھاھا تم بے فکر رھو آج رات تک پہنچ جاۓ گی۔۔۔

پسند تو تمھیں بہت آۓ گی کیونکہ وہ چیز ہی ایسی ھے۔۔۔

ھاھاھاھا ہاں تمھارے لیۓ ہی اسپیشل لایا ھوں یار پسند آ گٸ تو منہ مانگی قیمت لونگا پھرررر۔۔۔۔

آج دو دن بعد جازب کی آواز سن کر وہ دروازے کیطرف بڑھی اور دروازے سے کان لگاۓ اسکی باتیں سننے لگی جو فون پر شاہ جی سے مخاطب تھا۔۔۔

یار بس شام تک انتظار کر لو۔۔۔۔

فون کاٹ کر وہ نمل کے کمرے کیطرف بڑھا نمل ابھی تک دروازے سے کان لگاۓ کھڑی تھی کیونکہ باہر کا منظر اسکی آنکھوں سے اوجھل تھا۔۔۔

جازب نے جیسے ہی باہر سے لاک کھولا تو دروازے سے لگی نمل اسکے پیروں میں آگری ۔۔۔۔

نمل کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اسکے کمرے کیطرف آ رہا ھے۔۔۔۔۔

اسے اپنے قدموں میں پڑا دیکھ کر جازب مسکرایا نکل گٸ ساری اکڑ آگیا دماغ ٹھکانے جازب نے نچلا ھونٹ دانتوں تلے دباۓ اسے مسکرا کر دیکھا جو اسکے قدموں میں ڈھیر تھی۔۔۔۔

وہ دروازہ پکڑ کر کھڑی ھوٸ کیونکہ اتنے بھاری شرارے میں خود کو سنبھال سنبھال کر تھک گٸ تھی وہ ۔۔۔۔

شکر کرو دماغ ابھی تک ٹھکانے ہی ھے ورنہ قدموں میں میرے تم ھوتے وہ دانت پیستے ھوۓ ناک چڑھا کر ہاتھ جھاڑتی بولی۔۔۔۔۔

جازب کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجا پھر ایک دم سنجیدہ ھو کر کہنے لگا قدموں میں کون پڑا کس کے یہ منظر تو دیکھ لیا میں نے خیر اپنا حلیہ درست کرو منہ ہاتھ دھو لو جانا ھے تم نے میرے ساتھ۔۔۔

وہ اسکی باتیں سن چکی تھی اپنے اندر کا خوف چھپا کر بولی کیوں کہاں لے کر جاٶ گے مجھے تم اب۔۔۔

وہ اسکے قریب ھوا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا جہاں میرا دل چاھے گا۔۔۔

نہيں جانا مجھے کہیں بھی وہ رخ پھیر کر جواب میں بولی۔۔۔۔

جازب نے ابرو پر انگشت پھیر کہا سخت لہجے کہنے لگا میں نے کیا کہا ھے تم سے چلنا ھے تو بس پھر چلنا ھے تم نے میرے ساتھ نگاھیں اب زمین پر اپنے جوتوں پر تھیں۔۔۔

اپنی چھوڑو میری سنو وہ پوری ھمت جمع کر کے اپنی شہادت کی انگلی اسکی طرف اٹھا کر اسے دھمکانے کے انداز میں بولی اگر تم نے مجھے کچھ دیر میں میرے گھر روانہ نا کیا تو میں یہاں سے بھاگ جاٶنگی یا اپنی جان دے دونگی۔۔۔

جازب ابرو اچکا ظاہری حیرت سے بولا اچھاااااااا چلو دیکھتے ھیں کتنی ھمت ھے تم میں آنکھوں میں اسکے عجیب سی چمک تھی۔۔۔۔

پہلے اپنا منہ تو دھو لو ایسے لگ رہا جیسے بلیوں نے چاٹا ھے جازب کی معنی خیز مسکراہٹ پر وہ جل بھن کر رہ گئ۔۔۔۔۔

___________________________

گوپال اسی وقت بختی کو لے کر کسی احمد نامی شخص کے گھر پہنچا۔۔۔

بختی نے گھر کو چاروں طرف سے دیکھا کافی پرانا اور خستہ حال گھر تھا بلاکوں کی دیواریں تھیں جن پر پلستر بھی نہیں ھوا تھا ان سے مٹی نکل نکل کر فرش کے کونوں پر پڑی ھوئ تھی جس میں چیونٹیوں نے اپنا گھروندا بسا رکھا تھا ۔۔۔

فرش بھی جگہ جگہ سے ٹوٹا ھوا تھا دروازے پر ایک موٹا سا بوری نما پردہ لٹک رہا تھا اور دیوار کے دائیں جانب ایک کونا تھا جہاں پیپل کا گھنا درخت تھا اسکے نیچے لکڑی کی بوسیدہ سی چارپائی کے پاس ایک بتیس سالہ عورت وھیل چیٸر پر بیٹھی اسے گھور رہی تھی۔۔۔

احمد نامی شخص گوپال کو اس چارپائی تک لایا بختی وہیں صحن کے درمیان میں کھڑی ھوئ تھی۔۔۔

احمد بھاٸ گوپال کی رندھی ھوئ آواز نے بختی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔

میری امانت ھے یہ میری بچی اسے کچھ دن اپنے پاس رکھ لو اور ھو سکے تو تم کام پر کسی کے گھر لگوا دو اسے فی الحال۔۔۔

گوپال کے جھکے سر کو بختی غور سے شاکڈ نگاھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

اور یہ کچھ رقم بھی رکھ لو گوپال نے کچھ ہزار کے نوٹ احمد کے ہاتھ پر رکھے۔۔۔۔

بختی کو وھیل چئیر پر بیٹھی عورت نے اپنے پاس بلایا بختی گوپال کی بات سن کر بھرائی ھوئ آنکھوں سے اپنے بھاری قدموں کیساتھ گوپال کے سامنے آ کر کھڑی ھوئ۔۔۔

گوپال نے سر اٹھا کر بختی کو دیکھا اور بمشکل حلق سے اپنے الفاظ نکالے احمد میری بچی کا خیال رکھنا۔۔۔۔

بختی نے بے یقینی سے گوپال کی آنکھوں میں جھانکا جہاں ضبط اپنے حصے کی آخری ہچکیاں لے رہا تھا۔۔۔

بختی کے خاموش آنسو اسکے گالوں پر تیزی سے بہنے لگے گوپال نے اسکے آنسو پونچھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

میں نے بچپن سے اب تک تیری حفاظت کی تجھے پالا پوسا بڑا کیا۔۔۔

لیکن اب تیرا دانہ پانی میرے گھر سے اٹھ گیا ھے میری بچی تونے میرے گھر میں بڑی اذیت ناک زندگی گزاری ھے ایسی زندگی جو کسی سے ناگزاری جاۓ۔۔۔

تو نے جیسے تیسے اپنا جیون گزار ہی لیا لیکن اب ۔۔۔۔

گوپال کے مجرموں کیطرح جھکے سر کو دیکھ کر بختی کی سانسیں رکنے لگیں تھیں۔۔۔۔

لیکن اب میں تیری حفاظت نہيں کرسکتا تجھے اس ناپاک انسان سے بچانے کیلیۓ یہاں لایا ھوں۔۔۔

بختی اپنے سائبان سے محروم ھو رہی تھی آج وہ سایہ جو بچپن سے اسکے ساتھ رہا تھا اس جدائ پر وہ ہچکیوں سے روپڑی۔۔۔۔

نا رو میری بچی میں آتا رھونگا تجھ سے ملنے ۔۔۔۔ بختی بے اختیار گوپال کے سینے سے لپٹ گٸ ۔۔۔۔

گوپال نے اپنے آنسو روک کر خود سے الگ کیا تو بختی نے اسکو واسکٹ سے پکڑ لیا۔۔۔

ماما جی ایسے نا چھوڑیں مجھے آپکے ساۓ تلے جیتی رھی ھوں اب تک آپ سے جدا نہيں ھو سکتی میری ماں میرا باپ میری دھوپ میری چھاٶں میرا درد میری دوا سب کچھ آپ ہی تو ھیں۔۔۔

وہ بچوں کیطرح بلک بلک رو رہی تھی۔۔۔۔

چھوڑ دے بختی مجھے تو نہیں جانتی بابو کتنا کمینہ انسان ھے۔۔۔

ماما جی آپ اتنی جلدی ڈر گۓ بابو سے بختی نے برستے آنسوؤں اور بہتی ناک سے سر کو دائیں کندھے پر جھکا کر گوپال سے سوال کیا۔۔۔

گوپال اس سے نظریں چرانے لگا نہیں میں اُس سے نہيں ڈرتا تیری عزت سے ڈر رہا ھوں میری بچی سمجھ میں مجبور ھوں بہت۔۔۔۔

نہیں ماما جی مجبور نہیں ھیں بلکہ بہت کمزور ھیں میرے نام سے اپنا دامن بچا رھے ھیں آپ بھی۔۔۔

گوپال کا سانس لینا اب محال ھونے لگا تھا۔۔۔

بن گۓ آپ بھی دنیا والے۔۔۔

بختی کے گلے میں آنسو پھنس کر رہ گۓ وہ اپنا معصوم سا چہرہ ایک طرف جھکا کر بولی۔۔۔

ماما جی میں آپکی اپنی بیٹی ھوتی تب بھی آپ ایسا کرتے مجھے چھوڑ دیتے لوگوں کے آسرے۔۔۔۔

اسکا سوال سن کر گوپال کے سارے ضبط ٹوٹ گۓ اسنے بختی کو سینے سے لگایا بختی تو مجھے دنیا میں سب سے پیاری ھے۔۔۔۔

لیکن میری اپنی بیٹی نہيں یہ دنیا جانتی ھے بس اسی خوف نے مجھے کمزور اور بزدل بنایا ھے

گوپال نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا تو نہیں جانتی تجھے سنگسار کر دیں گے لوگ میرے ساتھ۔۔۔۔

وہ معصومیت سے گوپال کے سینے سے سر اٹھا کر بولی ماما جی سنگسار کرنا کیا ھوتا ھے مجھے نہيں معلوم لیکن آپکے سنگ میری دنیا ھے بس یہ جانتی ھے آپکی بختی۔۔۔۔

وہ اس سے نظریں نہيں ملا پا رھے تھے تجھے وقت سمجھا دیگا سب کچھ ۔۔۔۔۔

نہيں ماما جی وقت کو تو شاید بہت وقت لگتا سمجھانے میں لیکن آپ نے خود پر وقت آتے ہی سمجھا دیا کہ بختی آپکو بس اتنی سی عزیز ھے کہ آپ نہيں چاہتے کہ کوٸ اور بختی جیسی بد بخت بنے۔۔۔۔

ہاں ٹھیک کہا تونے بلکل ٹھیک کہا گوپال نے مٹھیاں بھینچ کر سخت لہجہ اختیار کیا۔۔۔

بس اپنا خیال رکھنا میں جا رہا ھوں جلد آٶنگا تجھ سے ملنے گوپال نے آگے کیطرف قدم اٹھاۓ ۔۔۔

ماما جی ۔۔۔ بختی کی دل چیرنے والی درد بھری آواز پر اسکے اٹھتے قدم رک گۓ ۔۔

مجھے پتہ ھے اب آپ کبھی نہيں آٸیں گے مجھ سے ملنے یہ ھماری الوداعی ملاقات ھے اسکی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ھوئ۔۔۔

گوپال کو اپنا سانس رکتا ھوا محسوس ھوا دل کی دھڑکن بھی ساتھ چھوڑنے کو تھی اس سے پہلے کہ بختی کے سوال اسکی جان لے لیتے وہ وہاں سے تیز قدموں سے چل پڑا۔۔۔

بختی اس بچے کیطرح بھاگی گوپال کے پیچھے جیسے کوٸ بچہ بلکتا ھوا ماں کے پیچھے بھاگتا ھے وہ گوپال کی ٹانگوں سے چپک گٸ اسکے آنسو گوپال کے پیروں پر گرنے لگے۔۔۔

سانس کے ساتھ اب گوپال کی دھڑکنیں بھی تھمنے لگیں تھیں اسی دل کیساتھ لگا کر اس نے پالا تھا اسے کیسے جدا کر رہا تھا وہ اسے آج۔۔۔۔۔

چھوڑ بختی مجھے گوپال نے خود کو چھڑایا اس سے اور پھر اسکی لاوارث سسکیاں نظر انداز کرتا تقریباً دوڑتا ھوا اس گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔

اور واپسی میں اک سنسان سی گلی کے کونے میں خالی پلاٹ دیکھ کر بیٹھا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اسکے دل سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں میری بچی میرا لخت جگر میری بختی بختی بختی وی ماتھا پیٹ پیٹ کر آہ و زاریاں کر رہا تھا۔۔۔

خالی پلاٹ میں ایک کتا منہ مارتا ھوا وہاں آیا تو گوپال کو روتا دیکھ خاموشی سے اسکے پاس آکر بیٹھ گیا جیسے اسے سننے کی کوشش کر رہا ھو۔۔۔

اتنا رویا گوپال کے اسکی رال ٹپکنے لگی اور خالی پلاٹ میں کچرے کے ڈھیر سے کچھ فاصلے پر مٹی میں بیٹھا وہ روتا ھوا مٹی مٹی ھو گیا۔۔۔

وہ کتا بھی گوپال کیساتھ آنکھیں نم کیے زمین پر چہرہ رکھے اسے کون اکھیوں سے بار بار روتا دیکھ کر خود بھی رو رہا تھا جیسے وہ اسکا درد سمجھ رہا تھا سن رہا تھا۔۔۔۔

________________

نمل بہت پریشان تھی کون تھا یہ شاہ جی اور جازب اسے کہاں لے جانا چاہ رہا تھا؟؟؟

کیا واقعی وہ اسے شاہ جی کیلیۓ اٹھا کر لایا تھا اور اب اسے بیچ کر منہ مانگے پیسے وصول کریگا۔۔۔۔

نہیں نمل نہیں تیری غیرت یہ گوارا کیسے کریگی کہ تیری قیمت لگاۓ کوٸ کمرے میں ٹہلتے ھوۓ وہ سر پکڑ کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھی پھر کچھ لمحے گزرنے کے بعد ھمت کر کے اپنی کمر کسی اور بکھرے ھوۓ بالوں کا کس کر جوڑا بنا کر اٹھی۔۔۔

کمرے کا دروازہ لاک نہيں تھا اس نے جیسے ہی لاک کی ناب گھمائ تو وہ کھل گیا وہ دبے قدموں باہر نکلی آس پاس جھانکا اسے کوٸ بھی نظر نا آیا اسکی نظر لمبے سے ہال سے گھومتی ھوئ بلکل سامنے نظر آتے ہال کے گیٹ پر اٹکی اس نے آرام سے شراراہ اٹھایا اور دروازے کیطرف دبے قدموں چل دی۔۔۔

ایک دم پیچھے سے کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا تو وہ ڈری سانس یک دم اپنی جگہ قدموں کیطرح رک گیا اور اچھل کر پیچھے مڑی ۔۔۔۔

اسکا ہاتھ پکڑنے والا اسد تھا کہاں بھاگ رہی ھو۔۔۔۔

ہاتھ چھوڑو میرا وہ سختی سے چلائ۔۔۔

یہاں سے بھاگنے کا کوٸ راستہ نہيں اسد نے اسکی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔

راستہ میں نکال لونگی تم چھوڑو مجھے وہ اپنی کلائی چھڑانے لگی۔۔۔۔۔

یہاں سے سارے راستے موت کیطرف جاتے ھیں آٸ سمجھ ٹک کر بیٹھو وہ اسے ہاتھ سے گھسیٹ کر اندر لے جانے لگا۔۔۔

نمل بھاگنے کا یہ موقعہ گنوانا نہيں چاہتی تھی اسکی نظر ٹیبل پر پڑے کانچ کے جگ پر پڑی ۔۔۔

اسد کے ہاتھ پر چاک کاٹ کر اس نے ہاتھ چھڑایا اور دوسرے ہی پل کانچ کا جگ اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا۔۔۔۔

اسد کے سر سے پانی کیطرح خون بہنے لگا اس نے خوف سے آنکھیں پھاڑے اک نظر اسد کے بہتے خون کو دیکھا پھر تیزی سے سامنے کیطرف دوڑ لگائی اور ایک نظر پھر سے اسد کو پیچھے مڑ کر دیکھا پھر آگے سے بے خبر تیزی سے بھاگتے ھوۓ وہ کسی سے اتنی بری طرح ٹکراٸ کہ اسکا سر چکرا کر رہ گیا وہ پیچھے کو بہت برے طریقے سے گرتی لیکن اندر اتے جازب کی بانہوں نے اسے تھام لیا ۔۔۔۔

__________________

عامر کا غصہ قابو سے باہر تھا

یار سمجھتی کیا ھے یہ خود کو خون دیکھ اسکا میرا بس نہيں چل رہا جی چاھ رہا ھے خون پی جاٶں اسکا میں ۔۔۔۔

جازب نے بڑی مشکل سے اسے روکا چھوڑ دے یار جا رہی ھے وہ یہاں سے آج ۔۔۔

لے جا اسکو جتنی جلدی ھو سکے ورنہ میں قسم سے جان سے مار دونگا اسکو اب۔۔۔۔۔

نمل ڈری سہمی انکی باتیں سن رہی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اب انکے ہاتھوں اسکی خیر نہيں وہ اپنی خیر کی دعاٸیں مانگنے لگی۔۔۔۔

یااللہ اب تک تونے مجھے ان سے محفوظ رکھا آگے بھی میری لاج رکھنا اے میرے رب میں خود کو تیرے سپرد کرتی ھوں میری حفاظت کرنا ۔۔۔۔۔

جازب شام ڈھلتے ہی اسکے کمرے میں آیا اور اسکے سر پر کھڑے بلند آواز میں بولا اٹھو۔۔۔۔

کیوں ؟؟ وہ ڈھیٹوں کیطرح اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی ۔۔۔۔

جازب دانت پیستے ھوۓ بولا زیادہ آنکھیں مت دکھاٶ مجھے اسکا چہرہ سختی سے تنا ھوا تھا۔۔۔

کیوں نا دکھاٶں نکال دوگے تم؟؟؟انداز برھم تھا سامنے والے کیطرح۔۔۔۔

جازب نے دانست پیستے ھوۓ اسے گھور کر دیکھا پھر آرام سے بولا

نہیں نکالوں گا نہيں کچھ پل وہ رکا اور اسکے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر پھر بڑے والہانہ انداز میں مسکراتے ھوۓ بولا۔۔۔۔۔ چووووم لونگا۔۔۔

نمل کی پلکیں یک دم ڈر اور شرم کے ملے جلے احسس سے جھک گٸیں اور گال غصے سے اسکے تپ کر لال ھونے لگے تھے۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں شرارت لیۓ اسکی طرف جھک کر بڑی سریلی آواز میں گنگنایا۔۔۔

جھکی جھکی نظر تیری کمال کر گٸ ۔۔۔۔

نمل نے پلکیں اٹھا کر بے انتہا حقارت سے اسے دیکھا جیسے ابھی وہ اسکی جان لے لے گی۔۔۔

اٹھی جو ایک بار تو بے حال کر گٸ ۔۔۔۔

نمل اسکے شاعرانہ انداز پر تلملا اٹھی۔۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی اور کان کھول کے سن لو میں یہاں سے اپنے گھر کے علاوہ کہیں نہيں جاٶنگی۔۔۔۔

نا نا میری جان غصہ نہیں وہ انگلی کے اشارے سے ماتھے پر بل ڈالے اسے تنبیہہ کرتے ھوۓ کہنے لگا۔۔۔۔

جان نہيں میں تم جیسے گھٹیا انسان کی جازب کی بات بڑی مشکل سے اسے ہضم ھوئ۔۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا منہ بند کرو اور چلو میرے ساتھ۔۔۔۔

وہ نیچے فرش پر بیٹھ گٸ نہيں جانا مجھے تم جیسے وحشی آوارہ کے ساتھ ۔۔۔۔

جازب گہری سانس لے کر اپنا غصہ دبا کر بولا۔۔۔

مجھے نا سننے کی عادت نہيں یہ تم ھو جسکو بخشا ھوا میں نے تمھاری جگہ کوٸ اور ھوتا تو زمین میں گاڑ دیتا اسے میں اب آنکھوںمیں بے پناہ سختی تھی۔۔۔۔

تو گاڑ دو مجھے بھی وہ بلند آواز میں بولی ۔۔۔۔

دیکھو آخری بار کہہ رہا ھوں۔۔۔

تم آخری بار بولو یا پہلی بار لیکن میں بار بار کہونگی نہيں ۔۔۔ نہيں ۔۔۔نہيں ۔۔۔۔

جازب کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی وہ جازب نے غصے سے پہلے اسے گھورا پھر جھک کر اسے اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔۔۔

یہ کیا کر رھے ھو تم اتارو نیچے مجھے وہ اسکی کمر پر مکے کر رہی تھی۔۔۔

جازب پر کسی بات کا اثر نا ھوا اور سیدھا اسے گاڑی کی سیٹ پر جا پٹخا۔۔۔۔

اب جتنی بک بک کرنی ھے کرتی رہنا۔۔۔

جازب نے سیٹ بیلٹ کے ساتھ اسے باندھ دیا ساتھ میں اسکے ہاتھ بھی اب وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔

لیکن چلائ پوری قوت سے کہاں لے جارھے ھو تم مجھے۔۔۔۔

جازب نے اسے سراسر نظر انداز کیا اور اونچی آواز میں گانے چلا کرخود گاڑی ڈراٸیو کرنے لگا۔۔۔۔

نمل کے شور سے اسکے کان پر جوں تک نا رینگی اسکی فریاد اورالتجا میوزک کی نذر ھوتا رہا۔۔۔

جازب کی گاڑی کچھ گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد رات کے پہر بلکل کسی سنسان پہاڑی علاقے میں رکی۔۔۔

وہ نمل کے منہ پر ٹیپ لگا کر گاڑی سے باہر نکلا آتا ھوں میں کچھ دیر میں۔۔۔۔

نمل اسے ایک بیگ اٹھاۓ دور تک جاتا دیکھتی رہی جازب اسکی نظروں سے اوجھل ھوا تو اس نے جلدی سے خود کو کھولنے کی کوشش کی اور کچھ محنت کے بعد کھول لیا منہ سے ٹیپ اتار کر وہ آہستہ سے گاڑی سے اتری۔۔۔۔۔

وہ سمندر کا کنارہ تھا دور دور تک کسی کا نام و نشان تک نا تھا سوا ریت اور سمندر کے شور کے ۔۔۔۔

وہ چاروں طرف گردن گھماۓ دیکھنے لگی اپنی فرار کی راہ پر اونچے پہاڑوں میں وہ کہاں جاتی لیکن جازب کی قید سے اس نے نکلنا بھی تھا اب تک تو وہ انکے ہاتھوں میں محفوظ تھی لیکن جازب جہاں اسے لے جانا چاہ رہا تھا وہ اس بات سے بہت خائف تھی کہ وہاں وہ بلکل محفوظ نہیں ھوگی اور نا جانے کس حال میں ھوگی۔۔۔۔

جازب چاھتا کیا تھا اس سے سوچ سوچ کر اسکا دماغ سن ھونے لگا وہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سامنے دیکھنے لگی سمندر کی ٹھنڈی ھواؤں میں بھی اسکے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا۔۔۔۔ اس نے بنا سوچے سمجھے پہاڑوں کیطرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔

گرتے سنبھلتے وہ کافی دور جا چکی تھی پہاڑوں پر چڑھتے چڑھتے اسکے ہاتھ پاٶں زخمی ھو گۓ۔۔۔۔

وہاں موجود ایک اونچے پہاڑ پر چڑھتے ھوۓ اسے باٸیں طرف کچی پکی آبادی نظر آٸ وہ خوشی سے پھولی نہيں سماٸ اور ھمت کرتے ھوۓ جلدی سے پہاڑ کے باٸیں طرف سے نیچے اترنے لگی۔۔۔

تھک کر چور ھو گئ تھی وہ ایک تو پتھریلا راستہ اوپر سے اتنا بھاری شراراہ اب اسکی سانس بہت زیادہ پھول رہی تھی ھونٹ خشک ھوکر پپڑی زدہ ھو گئے۔۔۔

ہانپتی کانپتی سانسوں کے ساتھ پل بھر کیلئے وہ وہیں پر بیٹھی اور ماتھے پر اس ٹھندی ھوا میں بھی بہتا پسینہ صاف کرنے لگی پیر مٹی اور چھالوں سے بھر گۓ تھے اسکے۔۔۔

اسے اس بات کا ہرگز علم نہيں تھا کہ جازکے شکنجے سے تو وہ بچ کر نکلی ھے لیکن یہاں کوٸ دوسرا شکاری کب سے اسکی تاک لگاۓ اس سے کچھ فاصلے پر چھپا بیٹھا تھا۔۔۔

اس نے آنکھیں موند کر منہ کھولے سانس لیا تھوک اسکے خشک حلق سے کانٹوں کیطرح اترا ابھی اسکی پھولتی سانسیں پوری طرح بحال نہیں ھوئ تھیں کہ ایک سایہ سا اسکی طرف بڑھا آنکھوں پر اندھیرا سا محسوس کر کے جیسے ہی اس نے خوف سے آنکھیں کھولیں کسی کے سخت ہاتھوں نے اسے گھیر لیا۔۔

جاری ھے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *