Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 24)

Bad Bakhat by Arshi Noor

آپ باپ نہيں بن سکتے۔۔۔

لکین کیوں میم؟؟ جازب حیرانی آنکھوں میں سمیٹے بے یقین لہجے میں بولا۔۔۔

دیکھیں کیوں کاجواب آپکی رپورٹس میں ھے ابھی آپ نے بتایا تھا کہ آپکے ساتھ حادثہ ھوا تھا اور آپکا آپریشن بھی ریڑھ کی ہڈی کا ھو چکا ھے پلس آپکا ایک گردہ بھی مکمل طور پر ناکارہ ھے شاید اسی حادثے کیوجہ سے آپکے ساتھ یہ پرابلمز ھوٸی ھیں۔۔۔۔

لیکن میم کوٸ علاج کوٸ امید جازب بڑی آس سے کہنے لگا۔۔۔

نہيں مسٹر جازب میں آپکو جھوٹی تسلی یا کوٸ جھوٹی امید نہيں دونگی آپکا پیسہ بہت قیمتی ھے اور میرا وقت میں نہيں چاھتی کسی جھوٹی آس پر میں ضائع کروں یا آپکو کسی دھوکے میں رکھوں۔۔۔

جازب کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے دیکھیں آپکی واٸف میں کوٸ پرابلم نہيں پرابلم آپ میں ھے اور کوٸ علاج نہيں اسکا۔۔۔۔۔۔۔

البتہ آپ اللہ سے دعا مانگیں اسکی ذات تو نا ممکن کو بھی ممکن کر دینے والی ھے۔۔۔

جازب گھر آتے ھوۓ راستے میں ہی رک گیا کسطرح وہ اتنی اداسی لیکر نمل کے سامنے جاتا وہ گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکرا کر رونے لگا تھا۔۔۔

یہ کیا ھوگیا تھا اسکے ساتھ کہ وہ ساری زندگی باپ بننے سے محروم رھے گا اور نمل جو اتنی ایکساٸیٹڈ ھے اپنے بچے کیلیۓ اسکا کیا ھوگا؟؟

عورت کی سب سے بڑی خواہش ھوتی ھے ماں بننے کی اسے جب علم ھوا کہ وہ ماں بن ہی نہيں سکتی تو کیا گزرے گی اس پر؟؟

اللہ نے مجھے اتنی بڑی نعمت سے محروم کردیا ھے کیا اب میری محرومی کے ساۓ تلے نمل بھی ترستی رھے گی روتے ھوئے اس نے رپورٹس ساری پھاڑ دیں۔۔۔۔

بہت مشکل سے وہ خود کو سنبھال کر گھر گیا۔۔۔۔

نمل اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی کہاں رہ گۓ تھے تم کب سے ویٹ کر رہی ھوں میں جازب کے گھر آتے ہی وہ اسکی طرف لپکی۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے نظریں نہيں ملا پا رہا تھا کچھ دوست مل گۓ تھے انکے ساتھ تھا۔۔۔۔

نمل نے غور سے اسکے اترے اترے چہرے کیطرف دیکھا کیا ھوا جازب؟؟؟

کچھ نہيں یار تھک گیا ھوں سونا چاہتا ھوں وہ بنا اسے دیکھے تیزی سے چل کر اپنے کمرے میں آیا اور بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔۔۔

نمل اسے دیکھ کر پریشان ھو گٸ کہ اسطرح تو اس نے کبھی نہيں کیا تھا کہ منہ پھیر کر سو جاۓ وہ تو اسے دیکھ دیکھ کر جیتا تھا۔۔۔۔

نمل سمجھ گٸ کہ وہ ضرور کسی پریشانی میں مبتلا ھے اسوقت تو وہ کچھ نا بولی اور صبح کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔

___________

ھمدانی صاحب اور انکی مسز کچھ دن میں واپس چلے گۓ مایا کو کراچی چھوڑ کر۔۔۔۔

مایا کا انٹرسٹ بزنز کیساتھ ساتھ عضد میں بھی بڑھنے لگا تھا۔۔۔

عضد نے پھر رتابہ سے اپنا کمرہ الگ کر لیا تھا یہ کہہ کر کہ اب گھر میں کافی لوگ ھیں اور مایا بھی اکیلی ہی سوتی ھے تو تم بھی سو سکتی ھو۔۔۔

روم الگ ھونے کیساتھ ساتھ مایا کا عضد کیساتھ کلوز ھونا بھی رتابہ برداشت کر گٸ عضد کو مایا کیساتھ ھنستا بولتا دیکھ کر وہ حسرت یا حسد کرنے کے بجاۓ خوش ھوتی کہ عضد کی خوشی میں ہی اسکی خوشی تھی۔۔۔

رات کے بارہ بج رھے تھے مایا اور عضد ایک ساتھ لان میں بیٹھے ھوۓ تھے۔۔۔۔

مایا بڑی دلچسپی سے عضد کو دیکھتے ھوۓ بولی ایک بات پوچھوں تم سے۔۔۔

ہاں پوچھو۔۔۔

تمھارا رتابہ کیساتھ کیا رشتہ ھے؟؟

عضد خاموش رہا۔۔۔

بولو ناں چپ کیوں ھو گۓ؟؟

عضد نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا تمھارا سوال کچھ عجیب سا نہيں۔۔۔

نہيں اس نے کندھے اچکاۓ میرا سوال عجیب نہيں بلکہ تمھارا رشتہ بڑا عجیب لگا مجھے۔۔۔

کیوں ؟؟؟؟

مما نے بتایا تمھاری واٸف ھے وہ۔۔

جب معلوم ھے تو پوچھا کیوں؟؟؟اس نے ابرو اچکاۓ پوچھا۔۔۔

مجھے نہيں لگتا وہ تمھاری بیوی ھے مایا کی آواز میں ذرا بھی شک زبان نہیں تھا وہ بڑے وثوق سے بولی تھی۔۔۔

عضد گہری سانس لیکر آسمان کیطرف دیکھنے لگا ہاں شاید سہی کہہ رہی ھو تم۔۔۔۔۔

تو پھر کون ھے وہ ؟؟

میری مجبوری عضد نے سر جھٹکا۔۔۔۔

کیوں الجھا رھے ھو کھل کر بات کر سکتے ھو اچھے دوست ھیں ھم۔۔اس نے عضد کو بہترین دوست ھونے کی پیشکش کی۔۔۔

پلیز یار کوٸ اور بات کرو عضد اکتانے لگا تھا جبکہ مایا کیلیے اس وقت سب سے اھم ٹاپک یہی تھا۔۔۔

جب میں نے پہلی بار اسے دیکھا یہاں اور پھر تمھیں تو وہ تمھارے گھر کی نوکرانی لگی مجھے لیکن جب صبح تمھیں اسکے ساتھ دیکھا تو ماما سے پوچھا وہ بولیں تمھاری واٸف ھے یہ۔۔۔

مجھے تو حیرت کا دھچکا لگا کہ وہ عام سی لڑکی جسکا قد بھی تمھارے کندھوں تک مشکل سے پہنچتا ھے وہ عام سے حلیے میں عام سے لباس والی تمھاری واٸف کیسے ھو سکتی ھے؟؟ اور تمھارا behaviour بھی بہت عجیب سا ھے اسکے ساتھ۔۔۔

عضد نے اسے غور سے دیکھا بات کرتے ھوۓ اسکے لہجے سے غرور چھلک رہا تھا وہ اٹھ کھڑا ھوا۔۔۔

تم ٹاپک چینج کروگی یا میں جاٶں یہاں سے اس سے برداشت نہیں ھو رہا تھا کہ وہ رتابہ کو ڈسکس کرے۔۔۔۔

مایا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھایا اوکے بابا سوری۔۔۔۔

_________

مایا صبح اٹھ کر نیچے آٸ رتابہ کچن میں مصروف تھی سنو لڑکی اس نے رتابہ کو آواز دی۔۔۔

جی۔۔۔۔

میرے کپڑے پریس کردو جلدی سے اس نے اپنا جوڑا رتابہ کیطرف بڑھایا۔۔۔۔

رتابہ نٕے اسکے ہاتھ سے کپڑے لیکر رابی کو دیۓ اور خود وہ ناشتہ بنانے لگ گٸ۔۔۔

مایا اسکو دیکھتی رہ گئ پر کہا کچھ نہیں۔۔۔

عضد نیچے آ چکا تھا مایا نے عضد کیساتھ ناشتہ کیا۔۔۔

رتابہ کچن سمیٹنے لگی۔۔۔۔

مایا کو بہت حیرت ھوٸ کہ ایسا کیا رشتہ تھا عضد کیساتھ اسکا کہ وہ ایک چھت تلے اس کیساتھ اسکی غلام بنے رہ رہی تھی۔۔۔

جبکہ عضد اسے دیکھتا بھی نہيں تھا ایسی کونسی مجبوری تھی یا کونسی کمزوری جو عضد نے اسے اپنے ساتھ رکھا ھوا تھا۔۔۔۔

ھیلو عضد نے چٹکی بجا کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔

کہاں گم ھو میڈم۔۔۔۔

کہیں نہيں اس نے خیالوں سے باہر آکر سر جھٹکا۔۔

چلو لیٹ ھو رھے ھیں آفس سے عضد نے گاڑی کی چابی اٹھائ۔۔۔

پنسل ھیل کیساتھ پینٹ کوٹ پہنے وہ عضد کیساتھ قدم سے قدم ملاتی باہر گٸ ۔۔۔۔

دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر رتابہ کی آنکھیں بھر آٸیں آپ ایسی لڑکی deserve کرتے تھے عضد اور امی نے مجھے زبردستی آپکے سر پر تھوپ دیا۔۔۔

ناجانے کب تک ھمارے اس رشتے کا آپ بوجھ اٹھاۓ پھریں گے وہ خود سے باتیں کرتی اپنے خیالوں میں گم تھی۔۔۔

رتابہ جی رابی نے اسے آوز دی کال پر نمل بی بی ھیں آپکو بلا رہی ھیں۔۔۔

وہ ہاتھ ٹاول سے سکھاتی باہر آٸ اور نمل کیساتھ باتوں میں لگ گٸ۔۔۔

عضد کے رویۓ میں کچھ بدلاٶ آیا یا نہيں نمل کے سوال پر رتابہ نے گہری سانس لی۔۔۔

میں اس سے کوٸ ایسی امید نہيں رکھتی اب اور وہ جیتا جاگتا انسان ھے یار کوٸ موسم تو نہيں کہ خزاں کے فوراً بعد بہار میں بدل جاۓ گا۔۔۔۔۔

رتابہ انسان کی نفرت محبت میں بدلنے کا کوٸ موسم نہيں ھوتا محبت بے موسم بھی ھو تو اچھی لگتی ھے کیا تم نہيں چاہتی کہ وہ تمھیں چاھے؟؟

میں اسے چاھتی ھوں اتنا کافی ھے یہ ضروری تو نہيں کہ بدلے میں چاھے جانے کی خواہش رکھوں رتابہ کا لہجہ بلکل سادہ تھا۔۔۔۔

کیا تم نے کبھی اسکی چاہت پانے کی امید بھی نہیں لگائی کیا تمھاری کوئ خواہش نہیں نمل کو کافی حیرت ھوئ تھی۔۔۔

نمل محبت کو پانے کی خواہش کوٸ انہونی نہيں ھوتی خواہشوں کا ھمزاد ہر لمحے ھمارے ساتھ ھوتا ھے بس اسے حد میں رکھنے کا ہنر آنا چاھیۓ۔۔۔

نمل خاموشی سے اسکے لہجے کی گہرائی میں اتر رہی تھی۔۔۔

وہ چہرے پر آسادگی لیے بولتی جا رہی تھی۔۔۔

پتہ ھے نمل محبت کرنے کے بعد انسان کا دل بڑا خوش فہم ھو جاتا ھے نا ممکنات پر جی نہيں اٹکتا کبھی پھول بھی خار لگتے ھیں کبھی تیز کڑکتی دھوپ بھی ابر کا سایہ لگتی ھے اندھیری راتیں خوشنما سوچوں سے روشن ھو جاتی ھیں محبت میں امید سب سے بڑا ہتھیار محسوس ھوتی ھے لیکن میں سوچتی ھوں کب تلک؟؟

یہاں اس نے گہری سانس خارج کی آخر کب تک ھم امیدوں کا دامن تھامے حقیقت سے منہ موڑے رھیں آخر کب تک؟؟؟

نمل اسکے سوال کا کیا جواب دیتی وہ رتابہ کے دل آویز لب و لہجے میں ڈوب چکی تھی۔۔۔۔

خوابوں کا نگر آباد کر لینے سے حقیقت کو فریب جان لینے سے زندگی ھمارے حسب منشا تو نہيں ھو جاتی نا۔۔۔

نمل نے آہستہ سے لب کھولے تو کیا تم اسکی چاہت حاصل کرنے کی منتظر بھی نہیں ھو؟؟

نمل محبت بے ثبات موسم کیطرح ھے اور اس بے ثبات موسم کے انتظار میں بہار کی امید میں ایک وقت آتا ھے زندگی بھی تھکنے لگتی ھے۔۔۔ رتابہ کی نظر لان میں لگے سوکھ کر جھڑتے ھوۓ درخت پر تھی جو پھر سے کھلنے کی امید میں مکمل مرجھا چکا تھا۔۔۔۔

رتابہ تم کوئ ربوٹ نہیں ھو جو۔۔۔

رتابہ نے نمل کی بات کاٹی ہاں لیکن میں قیاس بھی نہیں ھوں۔۔

نا محبت اچانک سے ھو جانے والی بارش کے امکان کیطرح ھے جو مجھ پر بے موسم برس پڑے اور سب کچھ جل تھل کیے ہرا بھرا کر دے میری ویرانی کو۔۔۔

رتابہ کتنا عرصہ ھو گیا ھے تمھیں عضد کیساتھ کیا تم تھکی نہیں اسکی بے اعتنائی سے؟؟؟

نہیں نمل مجھے تھکنے کی عادت نہیں اور میری زندگی میں محبت کے سکون کے امکانات کہیں نہیں ھیں۔۔۔

تو پھر کیا ممکن ھے تمھاری زندگی میں نمل نے تھکے ہارے لہجے میں پوچھا۔۔۔

بس کوئ امید نہیں اب اور انسان کو امکانات سے ھٹ کر زندگی کی تھکن سے پہلے ہی اپنی طاقت اپنی تواناٸ محفوظ کر لینی چاھیےحقیقت کے ادراک سے اپنی مشکل ترین زندگی تھوڑی سہل بنا لینی چاہیے آخر کو زندگی اتنی طویل تو نہيں پھر کیا محبت اور نفرت کا سوگ لیۓ ھم روز جیتے یا مرتے رھیں رتابہ کا لہجہ اب بھیگنے لگا تھا اسکا آواز اب بھاری ھو رہی تھی۔۔۔

فون کٹ چکا تھا رتابہ کے لہجے کی بازگشت نمل کے کانوں میں مسلسل گونج رہی تھی۔۔۔

نمل اس سے بات کر کے بہت ادس تھی کیونکہ رتابہ کے لہجے میں چپھی اداسی وہ بنا اسے دیکھے محسوس کر لیتی تھی نمل نے رتابہ سے بات کر کے کچھ دیر عضد کو کال ملاٸ۔۔۔

حال احوال کے بعد وہ اپنی بات پر آٸ مجھے کچھ کہنا تھا تم سے۔۔۔

ہاں کہو عضد فائل پر نظریں گاڑے فون کندھے کے سہارے کان کیساتھ لگاۓ ھوۓ تھا۔۔۔

تم پہلے وعدہ کرو رتابہ سے کچھ نہيں کہو گے نمل نے عضد سے وعدہ لیا تو عضد نے فائنل بند کرتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لیکر اسکی بات غور سے سنی۔۔۔۔

عضد رتابہ تمھاری بیوی ھے وہ تمھاری توجہ کی تمھاری محبت کی اصل حقدار ھے لوگ تو اپنے حق کیلیۓ لڑنے مرنے کوتیار ھوجاتے ھیں لیکن اس نے اپنے حق کے لیے آج تک لب نہيں کھولے اسکے ساتھ جو بھی ھوا اسکی ذمہ دار وہ نہيں ھے اسکی قسمت ھے جس نے اس پر ناقابل برداشت ظلم ڈھاۓ ھیں۔۔۔

عضد بلکل خاموشی سے نمل کو سنتا رہا ایسی زندگی گزاری ھے اس نے جو اگر میری یا تمھاری ھوتی تو ھم سے کبھی بسر نا ھوتی اب اگر اسکی قسمت نے اسے تمھارے ساتھ منسوب کر دیا ھے تو اسے قبول کر لو تم۔۔۔

اور اک التجا ھے پلیز عضد اسکے دکھوں کو بڑھانے کی وجہ نا بنو جب تم اسے اسکی بیوی ھونے کا حق نہيں دے سکتے تو اس سے نفرت کرنے کا بھی تمھیں کوٸ حق حاصل نہيں۔۔۔

تم بیشک اس سے محبت نا کرو لیکن ایک اچھے انسان ھونے کے ناطے اسکے درد کا اسکی تکلیف کا مداوا کرنے کی کوشش تو کرسکتے ھو نا۔۔۔

عضد بڑی مشکل سے اسکی باتیں سن رہا تھا کیونکہ وہ رتابہ اور اپنے رشتے کو لیکر نرگس کے علاوہ کسی کی بات سننا پسند نہيں کرتا تھا وہ یہ بھی پسند نہيں کرتا تھا کہ اسے بار بار یہ احساس دلایا جاۓ کہ رتابہ اسکی بیوی ھے۔۔۔

نمل کی ساری بات سن کر وہ آخر میں صرف اتنا بولا ختم ھو گٸ تمھاری تقریر یا کچھ باقی رہتی ھے؟؟

نمل کو کافی تپ چڑھی اسکی باتوں کو تقریر کہنے پر اسے لمحہ نا لگا تھا پٹری سے اترتے ھوۓ وہ الٹ پٹی اس پر۔۔۔

کیا سمجھتے ھو تم خود کو؟؟

عضد اسکے غصیلے لہجے پر بڑے اطمینان سے بولا انسان۔۔۔

مجھے تو نہيں لگتا کہ تم انسان ھو نمل کے جواب پر وہ اس پر چوٹ کرتے ھوۓ کہنے لگا۔۔۔

تمھاری امی کا بھی یہی خیال ھے انہوں نے بھی مجھے انسان نہيں سمجھا۔۔۔

نمل کو کافی غصہ آیا اپنی ماں کے بارے میں سنتے ھوۓ وہ آگ بگولہ ھو گئ۔۔۔۔

اگر امی تمھیں انسان نا سمجھتیں تو آج رتابہ کے جیسی زندگی تم جی رھے ھوتے تم بھی بدبخت کہلاۓ جاتے جگہ جگہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ھوۓ زمانے کی ٹھوکروں پر ھوتے اور جس کرسی پر بیٹھ کر اتنی اکڑ دکھا رھے ھو نا آج وہ میری ماں کیوجہ سے ھے۔۔۔

ورنہ اسی آفس کے یا اس جیسے کسی دوسرے آفس کے چپڑاسی ھوتے تم نمل تڑتڑ بولتی گئ۔۔۔

اور جن آفیسرز کیساتھ تم قدم سے قدم ملا کر چل رھے ھو نا آج اگر میری ماں نا ھوتی تو کسی فٹ پاتھ پر بیٹھے انہی آفیسرز کے شوز پالش کر رھے ھوتے یا تلوے چاٹ رھے ھوتے تم۔۔۔۔۔

عضد سے اتنی بدتمیزی کیساتھ آج تک کسی نے بات نہيں کی تھی اور یہ نمل تھی جس نے اسے کپڑوں کیطرح دھو کر رکھ دیا تھا۔۔۔

وہ اپنی اتنی انسلٹ برداشت نا کر سکا اسکی کن پٹی کی رگیں تن گئیں وہ چلایا یووووو شیٹ اپ اتنی بدتمیز ھو تم مجھے نہيں معلوم تھا۔۔۔۔

غصے سے اس نے فون کاٹا اور اب خیر رتابہ کی نہيں تھی نمل نے تو اپنی بھڑاس نکال لی تھی لیکن اب اسکا بڑھکنا بیچاری رتابہ نے سہنا تھا۔۔۔۔

وہ گاڑی لیکر غصے سے فوراً گھر پہنچا رتابہ سیکنڈ فلور پر پھولوں کو پانی دے رہی تھی۔۔۔

رتابہ کہاں ھے؟؟ اس نے گھر آتے ہی رابی سے پوچھا۔۔۔

وہ سب سے اوپر والے چھت پر ھیں رابی کے بتانے پر وہ دندناتا ھوا سیڑھیاں چڑھا۔۔۔ اسکا سرخ ھوتا چہرہ دیکھ کر رابی نے خیر کی دعا کی۔۔۔

رتابہ نیچے آرہی تھی عضد کی تیزی سے سیڑھیاں چھڑنے پر دونوں کا زبردست ٹکراٶ ھوا اسکے ٹکرانے سے عضد ایک سیڑھی پیچھے کو اترا وہ اسکی بانہوں میں تھی عضد نے اسے بازوؤں سے دبوچ کر پیچھے کیا اور بنا سانس لیۓ اس پر چلایا۔۔۔۔

کیا کہا ھے تم نے نمل سے؟؟؟ غصے سے اسکی ابلتی آنکھوں کو وہ دیکھ کر ڈری۔۔۔

مممم میں نے۔۔ تو۔۔۔۔

چٹاخ کی آواز پوری سیڑھیوں پر گونجی۔۔۔۔

عضد کا زناٹے دار تھپڑ کھا کر وہ چکرا کر رہ گٸ پل بھر اسے کچھ دکھاٸ ہی نہيں دیا پھر اسکے کانوں میں عضد کی گرج دار آواز گونجی۔۔۔

ہر وقت اپنی مظلومیت کا ڈھول پیٹ کر کیوں ذلیل کرواتی ھو مجھے تم دوسرے سے۔۔۔۔

تپھڑ اتنے زور کا پڑا تھا اسے کہ وہ کچھ بولنے یا سمجھنے کے قابل ہی نا رہی۔۔۔

عضد نے زور سے اسکا جبڑا پکڑا اگر اب امی نے نمل نے یا کسی نے بھی تمھارے حوالے سے مجھ سے کوٸ بات کی یا مجھے سمجھانے کی کوشش کی تو اسکا خمیازہ تمھیں ہی بگھتنا ھوگا رتابہ کا چہرہ سرخ ھو گیا اسکا جبڑا چھوڑتے ھوۓ وہ اسے وارن کرتے ھوۓ بولا۔۔۔۔

اگر میں نے اپنے اندر کے وحشی مرد کو سلایا ھے نا تو اسے جگانے کی کوشش مت کرو آٸ سمجھ ۔۔۔پھر وہ اسے وہیں سیڑھیوں پر چھوڑ کر خود آفس چلاگیا۔۔۔

رابی نے وہ منظر اپنی آنکھوں سے تو نا دیکھا لیکن عضد کے جاتے ہی وہ اوپر آٸ اور رتابہ کا چہرہ دیکھ کر وہ ڈر گئ یہ۔۔۔ یہ۔۔۔۔ کیا ھوا آپکو۔۔۔۔

وہ کیا کہتی اس سے چپ چاپ دیوارکا سہارا لیۓ نیچے آنے لگی۔۔۔

رابی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا تو اس نے منع کردیا تم جاٶ رابی یہاں سے۔۔۔

آپکو ایسے چھوڑ کر میں نہيں جا سکتی صاحب جی نے کیوں مارا ھے آپکو؟؟ رابی کے سوال پر وہ آنسو روکے ھوۓ رُندھائ ھوٸ آواز میں بولی مجھے نہيں معلوم۔۔۔

رابی اسے کمرے تک لاٸ رتابہ نے اسے گھر سنبھالنے کیلیۓ واپس نیچے بھیج دیا۔۔۔۔

اس میں اتنی بھی ھمت نا رہی کہ وہ نمل سے اتنا پوچھتی کہ کیا بات کی تھی اس نے عضد سے۔۔۔۔

شام کو عضد کے آفس سے آنے سے پہلے ہی نمل کا فون پھر سے آیا تو رتابہ نے بات نا کی کیونکہ وہ روپڑتی فون پر اور پھر نمل نے عضد کو اور عضد نے اسے نہيں چھوڑنا تھا۔۔۔

______________

حسب معمول وہ رات کچن میں روٹیاں پکا رہی تھی۔۔۔۔

مایا جوس لینے کچن میں آٸ تو اسکی نظر رتابہ کے چہرے پر جا رکی۔۔۔

وہ اسکے پاس آٸ اوہ ماٸ گاڈ یہ کیا کس نے مارا تمھیں؟؟؟

وہ روٹی توے پر ڈالے بولی کسی نے نہيں۔۔۔

تو پھر یہ سوجھا ھوا گال اور ان پر انگلیوں کے اتنے گہرے نشان وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی بتاؤ کس نے اور کیوں مارا ھے تمھیں؟؟؟

عضد نے اندر آتے ھوۓ کہا مار یہ ھمیشہ اپنی حرکتوں پر کھاتی ھے۔۔۔۔لہجہ حقارت بھرا تھا۔۔۔

مایا عضد کے پاس آٸ کیا مطلب کیسی حرکتیں؟؟؟

عضد کو اب تک اس پر غصہ تھا وہ انگارے چباتا بولا اسی سے پوچھو۔۔

کیوں ایسے کونسی حرکتیں یا کام کرتی ھے یہ؟؟ مایا نے بڑے تجسس سے پوچھا۔۔۔۔

تم چھوڑو اسے عضد مایا کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لایا۔۔۔

تم اس کے بارے میں کچھ بتاتے کیوں نہيں مجھے کون ھے یہ کیسا رشتہ ھے تمھارا اس سے۔۔

تم جانتے ھو اسے یہاں دیکھ کر کوفت سی ھوتی ھے مجھے کون ھے یہ؟؟؟ مایا کے چہرے پر اب پریشانی تھی۔۔۔

عضد کی خاموشی پر مایا جھنجھلا کر بولی سب اسے تمھاری بیوی کیوں سمجھتے ھیں کیوں رہ رہی ھے یہ تمھارے ساتھ اور آج اسکی یہ حالت کس نے کی؟؟ وہ کافی حیران تھی۔۔۔

عضد نے اسموکنگ اسٹارٹ کر دی تھی۔۔۔۔

وہ لاٸٹر سے سگریٹ سلگانے لگا میں نے۔۔۔۔

واٹ؟؟؟ مایا کی آواز اچھی خاصی بلند ھوٸ۔۔۔

وہ سگریٹ کے کش لیتا لان میں باہر آگیا۔۔۔۔

مایا جلدی سے اسکے پیچھے آٸ تم نے اسموکنگ کب سے شروع کی آج سے پہلے تو میں نے سگریٹ کبھی تمھارے ہاتھ میں نہيں دیکھا۔۔۔

عضد سگریٹ کے دھوٸیں سے کھانسنے لگا تھا۔۔۔۔

مایا نے اسکے منہ سے سگریٹ چھینا تو اسکے لمبے ناخن نے اسکا ھونٹ زخمی کر دیا اوہ۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔ رٸیلی سوری۔۔۔

وہ اپنے ہاتھوں سے عضد کے ھونٹ چھونے لگی تو عضد نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور دوسرا سگریٹ نکالا سگریٹ کیس سے مایا نے وہ بھی چھین لیا۔۔۔۔

یہ کیا طریقہ ھے یار جب پینا نہيں آتا یا پیتے ہی نہیں ھو تو کیوں دھوٸیں کی نذر خود کو کرتے ھو؟؟ کیا ھوا ھے بتاٶ مجھے اتنے ڈپریشن کا شکار کیوں ھو؟؟

مایا نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما میں دوست ھوں تمھاری تم ٹرسٹ کر سکتے ھو مجھ پر۔۔۔

عضد نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر گہری سانس لی۔۔۔

ٹرسٹ۔۔۔ ٹرسٹ کا لفظ دوہراتے ھوۓ اس نے ایک نظر مایا پر ڈال کر کہا ٹرسٹ پہلے میں خود پر تو کر لوں۔۔۔۔

مایا نے بڑے پیار سے اسے ٹریٹ کیا اچھے دوست ایک دوسرے کا آٸینہ ھوتے ھیں مجھے اپنا عکس اپنا آپ سمجھ کر شیٸر کر سکتے ھو دوست ھونے کے ناطے میں تم سے الگ تو نہيں۔۔۔

بولو کون ھے یہ؟؟ وہ عضد کا ہاتھ تھامے سرسبز گھاس پر آ بیٹھی۔۔۔۔

عضد گھاس پر بیٹھا تو ایک ایک کر کے گھاس کے تنکے نوچنے

لگا۔۔۔۔

عضد اب کچھ بولو گے بھی؟؟؟ مایا کو اسکی خاموشی کاٹنے لگی تھی۔۔

جواب نادار تھا۔۔۔

عضد آخری بار پوچھ رہی ھوں اسکے بعد میں نے نظر بھی آنا تمھیں یہاں بتاؤ مجھے کیا رشتہ ھے تمھارا اس سے؟؟؟

عضد کی وہ بہت اچھی دوست تھی وہ جانتا تھا وہ بھی اسی کیطرح بہت ضدی ھے اور بنا سچ جانے وہ ٹلنے والی نہيں۔۔۔

اور آج پہلی بار کسی نے اسکا ہاتھ تھام کر اسکا درد بانٹنا چاہا تھا۔۔۔

آج پہلی بار عضد کے دل کی آواز کوئ سننا چاہتا تھا کچھ لمحہ آسمان کو گھورتے ھوۓ وہ گھمبیر آواز میں بولنے لگا۔۔۔۔

نکاح ھوا تھا اسکا اور میرا آج سے ڈھاٸ سال پہلے۔۔۔

کیسے اور کن حالات میں ھوا تھا مایانے اس سے پوچھا۔۔۔

وہ کیسے حقیقت بتاتا اسے جس سے وہ آج تک خود نہيں جان پایا تھا وہ بنا اسے دیکھے بتانے لگا۔۔۔

امی نے زبردستی اسکے ساتھ شادی کی تھی میری اور میں آج تک اس زبردستی کے رشتے کو قبول نہيں کر سکا۔۔۔

مایا کو کافی حیرت ھوئ اچھا کون ھے یہ شادی سے پہلے کیا رشتہ تھا تمھارا اس سے یا آنٹی کا؟؟

کون ھے یہ کہاں سے آٸ ھے مجھے کچھ نہيں پتہ بس اتنا جانتا ھوں لاوارث ھے یہ۔۔۔

عضد کے انکشاف پر مایا کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں کیااااااااا لاوارث لڑکی اور تمھاری بیوی۔۔۔

کم آن یار جھوٹ تو مت بولو مجھ سے تم اس نے ہاتھ جھٹکا اپنا۔۔۔۔

میں جھوٹ نہيں بولتا عضد کی آنکھیں اسوقت سرخ ھو رہی تھیں۔۔۔۔

کیسے کر دی تمھاری ماما نے شادی اک انجان سی لڑکی سے کیسے ممکن ھے یہ یار کیا سگی ماں ھے تمھاری وہ۔۔؟؟

ہاں سگی سمجھ لو۔۔۔

کیا مطلب سگی سمجھ لوں؟؟ وہ اسکی طرف پوری گھوم کر بیٹھی۔۔۔۔

پھپھو ھیں وہ میری انہوں نے پالا ھے مجھے۔۔۔۔

یار مجھے نہيں لگتا کہ وہ تمھیں اپنا ہی بیٹا سمجھتی ھیں کہیں نا کہیں کوٸ نا کوٸ بات ضرور ھے جسکا بدلہ انہوں نے تم سے لیا رتابہ جیسی لڑکی سے تمھاری شادی کر کے۔۔۔

نہيں یار وہ ایسی نہيں ھیں ھم دونوں بھاٸیوں کی وجہ سے انکا ھنستا بستا گھر خراب ھوا انکا شوہر انکو چھوڑ کر چلا گیا ھماری خاطر وہ اپنی ممتا سے بھی دستبردار ھو گٸیں بہت لاڈ پیار سے پالا ھے انہوں نے ھمیں کبھی ماں باپ کے نا ھونے کا احساس ھونے ہی نہيں دیا۔۔۔

جب ماں کی ضرورت محسوس ھوٸ تو وہ ماں بن کر جان لیۓ حاضر رہیں جب بابا کا نام آیا تو وہ شفقت کا روپ دھارے مظبوط چٹان کیطرح ھمارے سامنے تھیں۔۔۔

کتنا عرصہ ھو گیا انکو شوہر سے دور رہتے ھوۓ؟؟ مایا کا سوال فطری تھا۔۔۔۔

چوبيس سال لیکن اب وہ لوٹ آۓ ھیں اور انکی بیٹی میری بھابھی ھے۔۔۔

کب کی انہوں نے اپنی بیٹی سے تمھارے بھاٸ کی شادی؟؟

تین چار ماہ ھوۓ ھیں۔۔۔۔

اور تمھاری شادی کو ڈھاٸ سال مایا کسی گہری سوچ سے آنکھیں سکیڑ کر بولی یعنی انکے شوہر اور بیٹی کی واپسی سے پہلے انہوں نے تمھاری شادی کی رتابہ سے۔۔۔۔

عضد نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

مایا نے ابرو اچکاۓ افففف مجھے تو یقین ہی نہيں ھو رہا کہ کوٸ اپنے ہی خون سے اپنی محرومیوں کا بدلہ اسطرح بھی لے سکتا ھے؟؟؟

کیا مطلب ھے تمھارا؟؟؟

مطلب صاف ھے بھولے بھالے عضد جی پیار سے انہوں نے تم دونوں بھاٸیوں کو اسلیۓ پالا کہ انکے بڑھاپے کا کوٸ سہارا نا تھا تم دونوں کے علاوہ۔۔۔

شوہر نے طلاق نہيں دی تھی شادی بھی نہيں کر سکتی تھیں وہ دوسری اور کوٸ چانس ہی نہيں تھا انکے پاس اسلیۓ اپنی نفرت کی جڑیں انکے اندر پنپتی رھیں کہ کسطرح وہ اپنی محرومیوں کا اپنی تنہائی کا بدلہ لیں۔۔۔

چوبيس سال اپنے شوہر اور اپنی اولاد سے دور رہنا کسی عورت یا ماں کیلیۓ ممکن ہی نہيں۔۔۔

جانتے ھو انہوں نے تم سے بدلہ لیا ھے اپنے اندر کی جلتی آگ میں تمھارے جوان ھونے پر انہوں نے تمھیں جھونک دیا۔۔۔

صاف صاف بات کرو کہنا کیا چاہتی ھو؟؟ عضد کا لہجہ اب کافی کرخت تھا۔۔۔۔

ماٸ ڈیٸر یہی کہنا چاہتی ھوں کہ اپنی ساری زندگی کی قربانیوں کی بھینٹ انہوں نے تمھیں چڑھایا ھے اپنی زندگی تو انکی ضائع ھوٸ ساری اب انہوں نے تمھاری زندگی Spoil کی ھے ورنہ کوٸ اتنا پاگل نہيں کہ کسی بھی راہ چلتی لاوارث لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنا لے۔۔۔

تم اتنے گۓ گزرے تو نہيں تھے یا اتنے گرے ھوۓ کریکٹر کے کہ تمھارے لیۓ کوٸ عزت دار شریف گھرانے کی لاٸف پارٹنر نا ملتی انکو….

عضد کا چہرہ اسکی بات سن کر غصے سے سرخ ھو گیا وہ فوراً سے کھڑا ھوا۔۔۔

مایا ھمدانی پوری دنیا ایک جگہ اور میری ماں ایک جگہ اگر وہ اپنے منہ سے خود اس بات کا اقرار بھی کر دیں نا تو میں تب بھی یقین نہيں کرونگا کہ وہ مجھے اپنی محرومی کی نذر کریگی لہذا انکے بارے میں آٸندہ تمھارے منہ سے ایسے الفاظ نا سنوں میں۔۔۔

مایا ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ھوٸ اور رتابہ کے بارے میں کیا خیال ھے؟؟ وہ اپنے اوپر ھونے والے ظلم کا بدلہ نہيں لے سکتی تم سے؟؟؟

وہ عضد کی سوالوں سے الجھتی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر روانی سے بولی۔۔۔

یاد رکھنا عضد جب عورت ہر ظلم زیادتی خاموشی سے سہنا شروع کر دے نا تو ڈرو اسکی خاموشی سے کیونکہ اسکی خاموشی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ھو سکتی ھے تم تو اس سے نفرت کر رھے ھو آج لیکن کل وقت آنے پر اسکی نفرت کا مقابلہ تم مرد ھو کر نہيں کر سکو گے۔۔۔

کیوں اس میں مقابلہ کرنے والی کونسی بات ھے؟؟ عضد نے لاپرواہی سے شانے اچکاۓ۔۔۔

عضد کی بات سن کر وہ مسکرائ اور ہاتھ کمر پر باندھے ہلکا سا پیروں کے سہارے دائیں بائیں جھولنے لگی۔۔۔

مسٹر عضد عورت ایک بہت خوبصورت آٸینے کی مانند ھوتی ھے جسمیں ہرمرد خود کو دیکھنا چاھتا ھے لیکن یہی خوبصورت آئینہ ٹوٹ کر جب بکھرے تو اسکا ہر ٹکڑا خنجر کی حیثیت بھی اختیار کر سکتا ھے اور اسے چھونے والے کے ہاتھ کاٹ کر لہولہان بھی کر سکتا ھے۔۔۔۔

مایا اسے آنے والے وقت سے خبردار کر رہی تھی۔۔۔۔

وقت پر حفاظتی بند باندھ لو تو بہتر ھوگا ورنہ تباہ و برباد ھو جاٶ گے۔۔۔۔

عضد گھاس کو پیروں کے نیچے مسل کر پھیکا سا مسکرایا برباد وہ ھوتے ھیں جو آباد ھوں۔۔۔

کافی دیر بعد اسکی ساری باتوں کا عضد نے ایک ہی جواب دیا تھا جو بات مایا کے دل پر جا کت لگی تھی۔۔۔۔

عضد کب تک گزارو گے ایسی زندگی؟؟؟

جب تک زندگی ھے شاید تب تک لہجے اب صدیوں کی تھکان تھی۔۔۔۔۔۔

کیا تمھارا دل نہيں چاھتا تمھاری بھی ایک بھرپور پیار محبت والی زندگی ھو ایسی بیوی ھو جس سے تم پیار کرو وہ تم سے پیار کرے تمھارے بچے ھوں عام لوگوں کیطرح خوشحال رھو تم بھی۔۔۔

گزارنا چاھتا ھوں ایسی ہی زندگی لیکن شاید رتابہ کیساتھ ایسی زندگی نہيں گزار سکتا وہ اس کمزور لمحے میں بے دھیانی میں مایا کے ہاتھ اپنی کمزوری دے چکا تھا۔۔۔

اور اب مایا کو آرام سے اسکے دل سے اسکی زندگی میں آنے کا راستہ مل گیا تھا وہ آنکھوں میں ہزاروں خوابوں کی قندیلیں روشن کیۓ اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔

عضد ان باتوں سے تھک گیا تھا اکتاہٹ سے اس نے بات کا پہلو بدلہ اور مایا کہ اتنے والہانہ انداز سے دیکھنے پر مسکرایا۔۔۔۔

ایسی نظروں سے نا دیکھو یار کچھ کچھ ھوتا ھے اس نے آسودہ سے ماحول کو خوشگوار کرنا چاہا۔۔۔۔

مایا بہت زور سے ھنسی تو وہ بھی ھنس دیا۔۔۔

مایا نے اسکا گال پکڑ کر بڑے پیار سے کھینچا بہت اچھے لگتے ھو ھنستے ھوۓ۔۔۔

اپنا گال پکڑنا عضد کو ناگوار گزرا تھا لیکن وہ خاموش رہا۔۔۔۔۔

___________

صبح صبح نمل کی کال آٸ۔۔

عضد شوز پہن رہا تھا اس نے فون کندھے سے کان کیساتھ لگایا

ھیلو۔۔۔۔

نمل نے نا سلام کیا نا حال پوچھا عضد کی آواز سنتے ہی سیدھا اپنی بات کرنے لگی رتابہ مجھ سے بات کیوں نہيں کر رہی کہا ھےتم نے اس سے؟؟؟ لہجہ حد درجہ برھم تھا۔۔۔

پوچھ لینا اپنی دوست سے خود ہی وہ چڑ کر بولا۔۔۔

اسکو پوچھنے کیلیۓ ہی فون کیا تھا لیکن وہ بات ہی نہيں کر رہی اگر تم نے اس سے کچھ کہا نا تو یاد رکھنا ابھی پہنچ جاٶنگی کراچی اور تمھارا حشر بگاڑ دونگی میں۔۔۔۔

عضد نے غصے سے فون کاٹا صبح صبح بلا پڑ گئ پیچھے وہ غصے سے زیر لب بڑبڑانے لگا۔۔۔

نمل نے پھر کال ملاٸ عضد نے کاٹ دی۔۔۔

اسے نہيں معلوم تھا کہ نمل کس قدر ضدی ھے اس نے نرگس کے نمبر سے کال ملاٸ۔۔۔۔

عضد نے کال اٹھاٸ السلام و علیکم امی۔۔۔۔

امی کے بچے کال کیوں کاٹی میری تم نے۔۔۔

عضد نے بڑی مشکل سے اپنی آواز دھیمی رکھی یار تم انسان ھو یا چڑیل کیوں پیچھے پڑ گٸ ھو میرے۔۔۔۔

نمل کو اسکا چڑیل کہنا کافی ناگوار گزرا کیا کیا کیا۔۔۔ کیا کہا تم نے مجھے چڑیل۔۔۔

وہ اس پر برس پڑی شرم نہيں آتی تمھیں بہن کو اپنی چڑیل کہتے ھو تمھیں آٸینہ کیا دکھا دیا میں نے تممممم۔۔۔

عضد اس رویۓ کا عادی نہيں تھا اس نے کال کاٹ کر موبائل ہی آف کر دیا۔۔۔

اتنی منہ پھٹ لڑکی ھے یہ کہیں سے نہيں لگتا امی کی ہی بیٹی ھے صبح صبح سارا موڈ خراب کر کے رکھ دیا وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتا نیچے کچن میں آیا۔۔۔

رتابہ آملیٹ بنا رہی تھی وہ بلکل اسکے پیچھے دبے قدموں سے کھڑا ھوا اور جھک کر اسکے کان کے پاس منہ رکھے دانت چباتی سرگوشی کی کیونکہ رابی اور مایا کچن کے باہر ہی تھیں۔۔۔۔

اور کتنا ذلیل کرواؤ گی مجھے نمل سے؟؟؟ اس نے لفظوں کو گویا ایسے چبا چبا کر ادا کیا جیسے رتابہ کا کچا گوشت چبا رہا ھو۔۔۔۔

رتابہ نے جیسے ہی اسکی آواز پر گردن موڑ کر اسے دیکھا تو عضد کے لبوں سے اسکے لب جا ٹکراۓ جو اسکے کان سے ایک انچ کی دوری پر تھے۔۔۔

عضد پیچھے کیا ہٹتا سن سا ھو گیا تھا وہ۔۔۔

گھبرا کر رتابہ نے چہرے کا رخ پھیرا اور چمٹے کے بجاۓ گرم گرم آملیٹ ہاتھ سے اٹھا لیا۔۔

ہاتھ جلنے سے اسکی چیخ نکلی تو عضد کے کندھے سے اسکی پشت ٹکرائ عضد اس سے پیچھے ھوا اور اسے دیکھتا ھوا روبوٹ کیطرح الٹے قدم اٹھاتا کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔

رتابہ کافی شاکڈ ھوئ تھی اس غلطی پر اسکا دماغ کام نہیں کر رہا تھا کہ اب عضد کیا کرے گا اسکے ساتھ۔۔۔

اس کو کچھ سمجھ نا آیا وہ کیا کر رہی ھے چاۓ میں چینی کی جگہ اس نے نمک ڈال دیا۔۔۔

رابی کچن میں ابھی ابھی داخل ھوٸ کیا کر رہی ھیں یہ آپ چاۓ میں نمک ڈال دیا ھے آپ نے۔۔۔

رتابہ نے دیکھا ہاتھ میں نمک کا ڈبہ تھا۔۔۔۔

صاحب جی تو چلے گۓ مایا میڈم کیساتھ آپ کس کیلیۓ چاۓ بنا رہی ھیں؟؟

رتابہ رابی کو دیکھ کر بولی اوہ اچھا کب گۓ وہ اسکے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔۔۔۔۔

رابی نے اسکے ہاتھ سے چینی کی جگہ نمک کا ڈبہ دوبارہ لیتے ھوۓ واپس لیا۔۔۔

آپ کی طبیعت ٹھیک نہيں لگ رہی مجھے آپ جاٸیں آپکے لیۓ میں چاۓ بنا لاتی ھوں۔۔۔

______________

نرگس سے فون پر بات کرتے ھوۓ عضد گھر میں داخل ھوا میں نے کچھ نہيں کہا امی نمل سے۔۔۔

خوامخواہ رو رہی ھے وہ جو کچھ اس نے مجھ سے کہا ھے نا آپ نہيں جانتیں دو منٹ میں تیا پانچہ ایک کر دیا آپکی بیٹی نے میرا۔۔۔

جی جی امی جانتا ھوں بہن ھے وہ میری لیکن امی بدتمیزی آپکو پتہ ھے مجھ سے کسی کی برداشت نہيں ھوتی۔۔۔

ارے نہيں نہيں آپ کیوں معافی مانگ رہی ھیں اس چڑیل سے کہیں وہ سوری کرے مجھے۔۔۔

اوکے امی دے رہا ھوں فون رتابہ کو یہ لو بات کرو امی سے وہ اسکے کمرے سے گزرتا ھوا اندر داخل ھوا تھا وہ اپنے کپڑے ھینگ کر رہی تھی الماری میں۔۔۔

عضد کی آواز پر چونکی پر پلٹنے کی ھمت نا ھوئ اس میں۔۔۔

عضد نے اسکے پاس آ کر اسکی طرف فون بڑھایا رتابہ نے کپکپاتے ہاتھ سے فون لیا اور نرگس سے حال احوال دریافت کرنے لگی۔۔۔

عضد نیچے لاؤنج میں آ گیا نرگس سے فون نمل نے لے لیا تھا اب نمل کو جھوٹی قسم کھا کر مطمئن کرنا پڑا رتابہ کو کہ عضد نے اسے کچھ نہيں کہا۔۔۔۔

مایا کافی بنا کر لاٸ اور ایک کپ عضد کو دے کر اسکے ساتھ بیٹھی۔۔۔۔

کیا کہا تھا نمل نے تمھیں فون پر اور یہ تمھاری پھپھو کی بیٹی ھے نا اور تمھاری بھابھی بھی۔۔۔

ہاں اورمیری دودھ شریک بہن بھی عضد نے اسکے ہاتھ سے کافی لیتے ھوئے کہا۔۔۔

عضد مجھے حیرت ھوتی ھے تمھارے صبر اور تمھاری برداشت پر وہ اب اسکے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔

عضد کے فون پر دوسری کال آرہی تھی رتابہ فون لیۓ نیچے آٸ اور عضد کو تھمایا آپکی کال ھے عضد نے اس سے فون لیا تو رتابہ نے اسکے ھونٹوں کیطرف دیکھا ہلکا سا زخم تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے کاٹا ھو۔۔۔۔

زخم مایا کے ناخن کا تھا جو کل رات سگریٹ چھینتے ھوۓ عضد کو اسکا ناخن لگا تھا۔۔۔

پھر وہ اسکے بغل میں بیٹھی مایا کو دیکھنے لگی جو بڑی عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

پھر اچانک رتابہ کے دیکھنے پر بولی کیا میرا منہ دیکھ رہی ھو جاٶ یہاں سے وہ چپ چاپ چلی گٸ۔۔

_______________

جازب صوفے پر بیٹھے گم صم ریمونٹ ہاتھ میں لیے چینل بدل رہا تھا۔۔۔

دیان کو گود میں لیۓ نمل جازب کے پاس آٸ۔۔۔

تم مجھ سے دور دور رہنے لگے ھو اور کافی دنوں سے نظراندز کر رھے ھو وجہ جان سکتی ھوں کیوں؟؟

کچھ نہيں بس ویسے ہی پریشان ہوں بزنز میں نقصان کیوجہ سے دیان کو اس سے لیکر وہ پیار کرنے لگا۔۔۔۔

جازب بات بزنز کی نہيں کچھ اور ھے تم مجھ سے چھپا رھے ھو۔۔۔

وہ دیان کے ساتھ کھلیتے ھوۓ اسے بنا دیکھے جواب دیا ایسا کچھ نہيں ھے۔۔۔۔

اس نے جازب کا چہرہ اپنی طرف کیا جازب یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔۔۔

جازب اس سے آنکھیں نا ملا سکا۔۔

نمل کا دل زور سے دھڑکا جازب نظریں جھکاٶ مت نظریں ملا کر بات کرو کیا ھوا ھے؟؟؟

جازب کیسے ٹالتا اسے سمجھ نا آئ وہ دیان کو لیۓ اٹھ کھڑا ھوا یار کچھ نہيں ایسا کیوں نہیں سمجھ رہی میری بات تم۔۔۔۔

وہ اسکے سامنے تن گٸ کیونکہ تم سمجھانا کچھ اور ہی چاہ رھے ھو مجھے اور بات کچھ اور ھے جازب جھوٹ بول رھے ھو مجھ سے تم۔۔۔۔۔۔

مجھے کیا ضرورت ھے تم سے جھوٹ بولنے کی تم تو ہر بات کے پیچھے ہی پڑ جاتی ھو یار نہيں ھے تمھیں بتانے والی بات کاروباری معاملات ھیں اسکے سامنے کھڑے ھونے پر وہ اسے ہاتھ سے ہٹاتے ھوۓ بولا ہٹو آگے سے۔۔۔۔

نہيں ھٹونگی جب تک تم سچ نہیں بولو گے اور اگر کاروباری معاملات ھیں تو تم نظریں مجھ سے کیوں چرا رھے ھو۔۔۔

وہ رونے لگی جازب نظر انداز میں ھو رہی ھوں نا تو بات یقیناً میرے ہی متعلق ھے نمل نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔۔۔

ہاں ھے تمھارے متعلق لیکن میں نہيں بتانا چاھتا بس یہی سننا چاہتی تھی تم ھو گٸ تسلی تمھاری وہ سختی سے بول رہا تھا۔۔۔۔

نمل اسکا یہ رویہ برداشت نا کر سکی اور سر پکڑ کر رو دی وہ دیان کو نرگس کے حوالے کر کے واپس کمرے میں آیا۔۔۔

نمل بات سنو میری یار۔۔۔

نہيں سننا مجھے کچھ بھی اس نے اپنا رخ پھیر لیا۔۔۔۔

وہ اسکے پاس آیا نمل میری جان بات تو سنو۔۔۔

ہاتھ مت لگانا مجھے وہ اسکے قریب آ کر چھونے پر خود کو پیچھے ہٹانے لگی۔۔۔

کیوں ہاتھ لگانا منع ھے کیا؟؟

وہ اور بھی رو دی۔۔۔

حد ھوتی ھے یار میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا ھے کہ اب تمھارا رونا بند نہيں ھو رہا اسکی جان تھی نمل میں وہ اسے روتا ھوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔

تم کہہ ہی تو نہيں رھے جب تک بتاٶگے نہيں تو ایسے ہی روتی رھونگی۔۔۔۔

جازب کیا کرتا پریشان ھو گیا مذید اسے کچھ نا سوجھا تو بس اتنا کہا ٹھیک ھے پھر روتی رھو وہ اسے ایسے ہی چھوڑ کر لیٹ گیا۔۔۔۔

نمل اسے دیکھتی ہی رہ گٸ ایسا کیا ھوا تھا وہ تو اسکا ایک آنسو برداشت نہيں کر سکتا تھا اور اب اسے روتا دیکھ کر منہ ہی پھیر لیا تھا۔۔۔۔

وہ رات گۓ تک روتی رہی۔۔۔

جازب بھی ایک پل نہيں سویا تھا اسکی بے قراری نمل کے رونے سے بڑھتی چلی گئی اسے اب گھبراہٹ ھونے لگی تھی اسکا دل تنگ ھونے لگا تھا نمل کے مسلسل رونے پر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کر بیٹھا اور نمل کی طرف دیکھا۔۔۔

ادھر آٶ میرے پاس۔۔۔

وہ صوفے پر بیٹھی ھوٸ تھی نہيں آٶنگی اب تمھارے پاس بھی۔۔۔

جازب اٹھا بستر سے اور خود اسکے پاس آ کر بیٹھا پھر بے چینی سے اپنے ہاتھ کی انگلیاں رگڑنے لگا نمل بات بتانا چاھتا ھوں میں لیکن تم برداشت نہيں کر پاٶگی۔۔۔

تو کیا تم میرے آنسو میری ناراضگی برداشت کر لوگے؟؟؟ لہجہ بہت دکھی تھا اسکا۔۔۔

کبھی بھی نہيں جازب فوراً بولا۔۔۔

تو پھر بولو کیا بات ھے؟؟؟

جازب نے اسکے آنسوٶ سے تر چہرہ دیکھنے لگا اور دل میں بولے گیا کیسے بتاٶں ابھی تو ھماری شادی کو چار مہینے بھی نہيں ھوۓ کیسے سنا دوں تمھیں یہ خبر جو لوگوں کو کٸ سالوں بعد جا کر معلوم ھوتی ھے میں کیسے چھین لوں تم سے تمھاری خوشی کیسے چھین لوں تمھاری امیدیں تمھاری مسکراہٹ…

کیسے بنجر کر دوں پل بھر میں تمھاری خوشیاں۔۔۔

جازب اب منہ کیا دیکھ رھے ھو میرا بولو بھی وہ بے چین تھی بہت جازب سے سچ سننا چاہتی تھی کہ وہ کس بات کو لیکر اتنا پریشان ھے۔۔۔

بات کرنے سے پہلے ہی جازب کے آنسو اسکے گالوں پر بہہ نکلے

نمل تڑپ کر رہ گٸ اسکے آنسو دیکھ کر۔۔۔

جازب کیا ھوا؟؟ ادھر دیکھو میری طرف اس نے جازب کی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھا۔۔۔

تمھاری طرف دیکھا تو بول نہيں پاٶنگا یار اس نے آہستہ سے نمل کا ہاتھ ہٹایا۔۔۔

نمل مذید پریشان ھو گٸ کہ ایسی کونسی بات ھے؟؟ جازب جلدی بتاٶ میری جان مشکل میں نا ڈالو بولو کیا بات ھے؟؟؟ اسکا اب سانس رکنے لگا تھا۔۔۔

نمل میں تمھیں۔۔۔۔ آگے وہ رک گیا ایک پل سانس روکے اپنے پہلو میں بیٹھی نمل کو دیکھا۔۔۔

آنسوؤں میں روانی آگئ تھی اسکے وہ پھر سر جھکاۓ اپنے پیروں پر نظریں گاڑے ھوۓ تھا۔۔۔

ہاں آگے بولو جازب۔۔۔۔ اس نے مٹھی میں زور سے جازب کا بازو جکڑا۔۔۔

اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اتنا تو وہ جان چکی تھی کہ بات اسی کی ذات سے متعلق ھے۔۔۔

اسطرح تو روتا ھوا ٹوٹتا ھوا جازب اس نے اپنی جدائ پر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔

جازب میری جان نکل رہی ھے بتاؤ بھی کیا ھوا ھے؟؟؟؟ نمل کی روح اب جازب کے ھونٹوں کی جنبش میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *