Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 39)

Bad Bakhat by Arshi Noor

ھوگا میرے باپ گوپال کا یا میرے شوہر بابو کا۔۔۔۔۔۔

اسکی بات سن کر مایا نے ایک دم گاڑی کو بریک لگائی تو بندیا کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا کیا کر رہی ھیں آپ دھیان سے چلائیں۔۔۔۔

سوری مایا کھسیانی سی مسکراہٹ سے مسکرائ۔۔۔۔۔

مایا کا فون بجنے لگا اس نے ھونٹوں پر انگلی رکھ بندیا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا فون عضد کا تھا۔۔۔۔۔

کہاں ھو تم؟؟

ویسے ہی گاڑی لیکر ڈرائیو پہ نکلی ھوں آتی ھوں کچھ دیر میں۔۔۔۔۔

آفس نہیں جانا تم نے۔۔۔۔

جانا ھے لیکن کچھ دیر ھو جائیگی تم اور علی چلے جاؤ۔۔۔۔

اوکے ۔۔۔۔۔

اس نے فون کاٹا۔۔۔۔

بندیا نے اس سے پوچھا۔۔۔۔

مجھ سے تو سب جان لیا لیکن آپ نے نہیں بتایا کہ بختی کو آپ کیسے جانتی ھیں؟؟

مایا گاڑی کا موڑ کاٹتے ھوۓ بولی یہی سمجھ لو کہ اس نے میرے حق پر بھی ڈاکہ ڈال رکھا ھے۔۔۔۔۔

اوہ اچھا تو آپ بھی اس سے بدلہ لینا چاھتی ھیں۔۔

ہاں۔۔۔

کیا آپکے شوہر کے ساتھ attached ھے وہ؟؟

نہیں میری محبت پر قابض ھے۔۔۔

بندیا نے نا سمجتے ھوۓ مایا کیطرف دیکھا۔۔

سمجھا دونگی سب یہ بتاؤ تم اس تک پہنچی کیسے؟؟؟

کل دیکھا تھا اسکو ایک گاڑی میں پیچھا تو نہیں کر سکی لیکن گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔۔۔۔

ھمممممم گڈ گاڑی میں جسکے ساتھ دیکھا تھا جانتی ھو وہ کون ھے؟؟؟؟

نہیں۔۔۔

وہ اسکا شوہر ھے۔۔۔

بندیا کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا کہ یہ کیا سن رہی تھی وہ بختی اتنے امیر اور خوبصورت آدمی کی بیوی کیسے ھو سکتی ھے؟؟؟

پھر اس نے حیرت اپنی آنکھوں میں سمیٹ کر سوال کیا تو جس بچے کا آپ پوچھ رہی ھیں وہ اسکا اس شوہر سے نہیں؟؟؟؟

نہیں۔۔۔

تو کیا وہ بچہ پہلے سے اسکی گود میں تھا بچے سمیت اس نے قبول کیا ھے بختی کو؟؟؟؟

ہاں وہ کہتی ھے کہ اسکی شادی پہلے بھی ھوئ تھی کسی سے بیوہ ھے وہ۔۔۔۔۔

بندیا حقارت سے بولی ہونہہ جھوٹ بولتی ھے وہ سب بکواس کرتی ھے کوئ بیوہ نہیں وہ اب تو میں یقین سے کہہ سکتی ھوں کہ بچہ میرے باپ یا بابو کا ھوگا بندیا کے چہرے سے ناگواری سمندر سے اٹھتی موجوں کی طرح چھلک رہی تھی۔۔۔

پھر وہ ناگن کیطرح تیز تیز سانسوں سے پھن مارتی کہنے لگی لیکن جیسا اسکا شوہر دیکھا ھے میں نے اسے دیکھ کر یقین نہیں ھو رہا کہ وہ بختی سے شادی کر سکتا ھے وہ بھی ایک بچے کیساتھ۔۔۔۔۔

زبردستی ھوئ ھے اسکی شادی وہ بلکل پسند نہیں کرتا بختی کو نا اسے بیوی سمجھتا ھے۔۔۔۔

کیوں بندیا پر تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رھے تھے؟؟؟

کیونکہ وہ مجھے چاھتا ھے لیکن اس بختی جسکا نام اب رتابہ ھے اسکے ھوتے ھوئے وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔

بندیا کو ھنسی آ گئ ہاہاہاہا اب سمجھی میں ویسے ھے بہت ہی ڈھیٹ قسم کی لڑکی جانے کیسے کیسے گیم کھیل کر مردوں کو پھانسی لیتی ھے افففففف بندیا نے جھرجھری سی لی۔۔۔۔

مایا نے اسکے کہنے پر گاڑی دائیں طرف کالونی میں داخل کرتے ھوے کہا سمجھ گئ ھو گی تم میری بات کو۔۔۔۔

جی میڈم آپکو آپکا پیار چاھیے اور مجھے بختی۔۔۔۔۔

مایا نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

وعدہ ھے اس بندیا کا آپ سے آپ کو آپکی محبت مل کر رھے گی۔۔۔۔

وہ ساتھ ساتھ اسے گھر کا راستہ گائیڈ کر رہی تھی یہاں سے لیفٹ بس بس یہ سامنے والا ہی گھر ھے۔۔۔

مایا نے گاڑی روکی۔۔۔۔

بندیا نے اس سے ہاتھ ملایا بندیا نام ھے میرا۔۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ خوشی سے تھام کر بولی انعم نام ھے میرا مایا اپنا اصلی نام ہضم کر گئ پھر اسے اپنا نمبر دیکر وہ چلی گئی۔۔۔۔

بندیا خوشی خوشی گھر کے اندر داخل ھوئ۔۔۔۔۔

مایا واپسی کا راستہ پوچھتے ھوۓ کلفٹن تک پہنچی راستے میں وہ سوچتی رہی کہ کس قدر معصوم بنی پھرتی ھے رتابہ اور اسکی اصلیت ھے کیا مایا کے تو جیسے ھوش ٹھکانے لگے تھے بندیا کے منہ سے اسکی سچائ سن کر۔۔۔۔

تو یہ ھے تمھارا اصلی روپ رتابہ میڈم کتنا بے وقوف بنا رکھا ھے تم نے عضد کو بھی اور اسکے گھر والوں کو بھی اب تمھارا یہ معصومیت کا نقاب میں اتارونگی تمھارا اصلی چہرہ جلد سب کے سامنے لاؤنگی۔۔۔۔

آخر کو اس تھپڑ کا جواب بھی تو تمھیں دینا ھے نا جو تم نے میرے منہ پر مارا تھا اب دیکھو تمھیں کتنے طمانچے پڑتے ھیں بہت حیران تھی وہ رتابہ کی اصلیت بندیا سے جان کر وہ انہی سوچوں کو سوچتی گھر پہنچی اسکے پاؤں زمین پر ٹک ہی نہیں رھے تھے بندیا سے ملکر وہ ھواؤں میں اڑنے لگی تھی۔۔۔

__________________

نرگس نے فون پر آج رتابہ کی اچھی خاصی خبر لی۔۔۔۔۔

مجھے بڑا گلہ ھے بیٹا تم سے۔۔۔۔

کیوں امی ایسا کیا ھوگیا؟؟؟

مجھے یہ بتاؤ تم عقل کے ناخن کب لوگی۔۔۔۔

ھوا کیا ھے امی۔۔۔۔

میں نے کتنا سمجھایا لیکن تم نہیں سمجھتی ھو کیوں اپنی زندگی برباد کرنے پر تلی ھوئ ھو۔۔۔۔۔

آپ کچھ بتائیں گی یا ڈانٹتی رھیں گی مجھے وہ منہ بسور کر کہنے لگی۔۔۔۔

رتابہ مجھے سمجھ نہیں آتا تمھیں کسطرح سمجھاؤں عضد کو اپنی طرف مائل کیوں نہیں کرتی ھو تم میں بتا چکی ھوں تمھیں وہ پسند کرنے لگا ھے پھر بھی تم کیوں اس سے اب تک بدگمان ھو؟؟؟

امی نہیں ھوں میں بدگمان یہ سب آپ سے کس نے کہا ھے اور وہ تو مجھے اب چاھنے لگا ھے نا میں تو اسے اسی دن سے چاھتی ھوں جس دن میرے نام سے اسکا نام پہلی بار جڑا تھا۔۔۔۔

تو پھر میری جان اقرار کیوں نہیں کر پاتی ھو اپنی محبت کا اسے یقین کیوں نہیں دلاتی ھو اپنے ھونے کا۔۔۔

کیسے کروں اقرار آپ بتائیں نا رتابہ کے اس قدر بھولے پن پر نرگس سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔۔۔۔

یہ سب بھی تمھیں میں سکھاؤنگی اب؟؟؟؟

اچھا آپ ناراض نا ھوں میں کوشش کرتی ھوں۔۔۔۔

بیٹا کب تک اس طرح دوسروں کی انگلی تھام کر زندگی گزاروگی بچی نہیں رہی اب تم ایک بچے کی ماں ھو کچھ تو عقل سے کام لو اور یہ مایا کا کیا چکر ھے؟؟؟

کونسا چکر؟؟؟

شاہ جی کے متعلق اس نے کیا کہا ھے تم سے؟؟؟؟

رتابہ حیران ھو رہی تھی کہ یہ ساری باتیں نرگس کو کس نے بتائ ھیں۔۔۔۔

اس نے کیا کہنا ھے کچھ نہیں کہا امی۔۔۔

جھوٹ مت بولو مجھ سے۔۔

مجھے شاہ جی نے سب بتا دیا ھے رتابہ فون کا کریڈل دوسرے کان سے لگا کر بولی۔۔۔

اوہ اچھا تو شاہ جی نے شکایت کی ھے آپکو؟؟؟

ہاں کیونکہ اسے میں نے بھیجا تھا تمھارے پاس آج اسکی ٹھیک ٹھاک کلاس لی تھی نرگس نے۔۔۔۔۔

یہ بتاؤ تم ڈرتی کیوں ھو مایا سے کیوں اسکی ہر جائز ناجائز بات برداشت کرتی ھو کیوں اپنے دفاع میں اپنے حق میں نہیں بولتی کس بات کا ڈر ھے تمھیں؟؟؟

وہ نظریں جھکاۓ بولی کسی بات کا نہیں ھے امی۔۔۔۔

رتابہ اب تک میں نے ہر ممکن کوشش کی ھے کہ تمھارا گھر بسا رھے لیکن میری کوشش سے یہ سب ٹھیک نہیں ھو سکتا جب تک تم خود سے کوشش نہیں کروگی کیوں عضد کو اپنے اعتماد میں نہیں لیتی تم؟؟

جیون ساتھی ھے وہ تمھارا اب تو وہ تمھیں چاھنے لگا ھے میری جان اسکی چاھت کو کھلے دل سے قبول کرو اسکی محبت کی اسکی توجہ کی اسکی ہر اونچ نیچ کی ساتھی ھو تم۔۔۔۔

اور وہ بھی تمھارا ھے صرف تمھارا کیوں اس سے فاصلہ رکھے ھوۓ ھو؟؟؟

مایا کو دیکھا ھے اسکے ساتھ؟؟؟؟

وہ بیوی لگتی ھے اسکی تمھاری حرکتیں یہی رہیں نا تو اس نے اپنا یہ خواب بہت جلد حقیقت میں بدل لینا ھے۔۔۔۔

امی کہہ تو رہی ھوں کوشش کرونگی اب…..

دیکھو رتابہ میں ہر وقت ہر بات میں تمھارا ساتھ نہیں دے سکتی۔۔۔

مانا تمھارے اندر بہت صبر ھے تم ہر طرح کا ظلم زیادتی برداشت کر سکتی ھو لیکن اپنے حق پر تو ڈٹ کر کھڑی ھونا سیکھو۔۔۔۔

بیٹا اتنی خاموشی بھی نہیں اچھی کہ کوئ تمھارے ہاتھوں سے تمھاری زندگی چھین کر لے جارہا ھو اور تم اسے روک بھی نا سکو کیا عضد کو کسی اور کا ھوتا دیکھ سکتی ھو تم؟؟؟

رتابہ کا دل اچھل کر اسکے حلق میں دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔۔

نہیں امی ایسا نہیں ھوگا نا میں ھونے دونگی۔۔۔۔۔

تو پھر عضد سے اپنا آپ شئیر کرو عضد سے اپنا تعلق مضبوط کرو۔۔۔۔

اپنی پریشانی اپنے دل کی باتیں اپنی محبت حتی کہ اپنا ماضی بھی شئیر کرو اور بلا جھجھک کرو۔۔

یہ جو اپنے اندر خاموشی کا سمندر لیۓ بیٹھی ھو نا تو یاد رکھنا اسی میں ڈوب کر تم نے پہلے برباد اور پھر ایک دن جاں بحق ہونا ھے۔۔

نرگس کا لہجہ آج سخت تھا۔۔۔۔۔

دیکھو رتابہ بہت سی باتیں ھماری روز مرہ کی زندگی میں معنی خیز یا کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں ھوتیں لیکن کچھ باتیں بہت خاص اور اھم ھوتی ھیں جو دو فریقین کے متعلق ھوں تو انکو خود ایک دوسرے سے شئیر کرنی چاھئے۔۔۔۔

جب تیسرا فریق اسی بات کو لیکر تمھارے بیچ آتا ھے تو یاد رکھنا بات تو ھو سکتا ھے وہی کرے وہ لیکن لہجہ اس تیسرے فریق کا ھوگا تمھارا نہیں۔۔۔۔

اور جتنا دل پر انسان کا لب و لہجہ اثر کرتا ھے اتنی نصیحت بھی اثر نہیں کرتی اور نا تجربہ سمجھ رہی ھو میری بات میں کیا کہنا چاہ رہی ھوں۔۔۔۔

جی امی سمجھ رہی ھوں۔۔۔

اپنے پلو سے باندھ لو میری باتیں۔۔۔۔

جی امی عمل بھی کرونگی اب ان پر۔۔۔۔

اپنا حق آج کل دنیا چھین کر لیتی ھے اور ایک تم ھو کہ اپنے لب سیۓ بیٹھی ھو۔۔۔۔۔

میری جان یہ دنیا ھے نفسا نفسی کا عالم ھے یہاں کوئ کسی کا نہیں۔۔۔

اگر تمھیں کوئ اپنا سمجھ رہا ھے تو اسکی بن کر رھو اپنا آپ کس کس کے ہاتھوں میں سونپ کر خاموش تماشائی بنی رھوگی۔۔۔۔۔

دینا کے رنگ ڈھنگ سمجھو اسی میں جینا ھے تم نے خاموش رہ کر تم اس زندگی سے یا اس دنیا سے فرار نہیں ھو سکتی۔۔۔۔

جہاں جاؤ گی یہ تمھارے ساتھ ساتھ بھاگے گی اپنے آپ کو کھلونا نا بناؤ اور نا عضد کو کھلونا بننے دو۔۔۔

جی ٹھیک ھے امی ۔۔۔

ایسا نہیں ھوتا میری جان کہ دوسرے تم دونوں کی زندگی سے کھیلتے رھیں بہلتے رھیں اور تم چپ چاپ تماشائ بنی دیکھتی رھو جانتی ھو میں اب تک عضد سے مایوس نہیں ھوئ تھی لیکن تم نے مجھے مایوس کردیا ھے خود سے۔۔۔۔۔۔

رتابہ رونے لگ گئ ایسا تو نا کہیں امی۔۔۔

بیٹا تم نہیں جانتی جھوٹ اور بہکاوا اتنا خطرناک ھوتا ھے کہ وہ سچ کے سامنے آنے تک بہت سی زندگیاں نگل چکا ھوتا ھے پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔۔۔

انسان سسکتا تڑپتا رہ جاتا ھے کہ اس نے وقت پر اپنا دفاع کیوں نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

اپنی آگ میں انسان خود جل لے تو بہتر ھے دوسروں کی لگائی ھوئ آگ میں خود کو جلنے دینا کہاں کی عقل مندی ھے؟؟؟؟

رتابہ نرگس کی باتوں پر اپنی ہر غلطی کا محاسبہ خود کرتی رہی۔۔۔

راستے کا پتھر نا بنو جو سب تمھیں ٹھکوریں مار مار کر گزریں مضبوط چٹان کیطرح بنو جسے بڑے سے بڑا طوفان بھی اپنی جگہ سے اکھاڑ نہيں سکتا۔۔۔۔۔۔

نرگس فون کاٹ چکی تھی لیکن اسکی باتیں ایک ایک کر کے رتابہ کے ذہن کے بند دریچوں پر دستک دینے لگیں۔۔۔۔

انسان کو اتنا کڑوا بھی نہیں ھونا چاھئے کی کوئ تھوک جاۓ اور نا اتنا میٹھا کہ کوئ چاٹ جاۓ۔۔۔

اپنی زندگی کی ہر جنگ اپنے کندھوں پر لڑو بوجھ نا بنو دوسروں کیلیۓ اپنی قدر خود کرنا سیکھو ورنہ لوگ تمھیں اپنے پیروں تلے روند کر آگے بڑھتے رھیں گے۔۔۔

_________________

علی شام کو آفس سے جلدی چھٹی لیکر گھر جانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔

عضد نے اس سے پوچھا کہاں جارھے ھو؟؟؟

یار طبیعت کچھ ٹھیک نہیں میری گھر جا رہا ھوں۔۔۔۔۔

عضد نے غور سے اسکی طرف دیکھا چلو میں بھی ساتھ ہی چلتا ھوں تمھارے میں بھی تھک گیا ھوں کافی۔۔۔

علی تھوڑا گھبرا گیا یار میں کسی کام سے مارکیٹ بھی جا رہا ہوں تم تھکے ہوئے کیسے جاؤ گے میرے ساتھ۔۔۔

کوئ بات نہیں یارا چلتے ہیں ساتھ ساتھ عضد اپنا کوٹ اٹھا کر علی کیساتھ چل پڑا۔۔۔۔۔

علی کو اپنی تائ سے ملنے جانا تھا پچھلے ویک اینڈ پر بھی وہ نہیں جا سکا تھا کافی دن ھو گۓ تھے تائ نے فون کر کے اسے بلوایا تھا آج۔۔۔۔۔۔

علی بلکل خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اس نے گاڑی گھر کیطرف لی۔۔۔۔

یہ کیا تم تو بازار جانے کا کہہ رھے تھے۔۔۔۔

ہاں لیکن دل نہیں چاہ رہا میرا اب۔۔۔۔

کیوں ؟؟؟؟

بس ویسے ہی۔۔۔۔۔

ھمممم میں جانتا ھوں کہیں اور جانے کا دل تھا تمھارا۔۔۔۔

علی نے اسکی طرف دیکھا کہاں؟؟؟؟

اپنی تائ کے پاس۔۔۔۔

علی نے گاڑی کی اسپیڈ آھستہ کی تمھیں بتا دیا مایا نے سب۔۔۔

ہاں جانتا ھوں میں سب کچھ۔۔۔۔

یار اس نے جو بتایا وہ 100٪ سچ نہیں۔۔۔۔۔

تو پھر تم بتا دو اگر اس نے سب سچ نہیں بتایا تو۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اتنی detail میں نہیں جانتی سب کہ تائ امی کے بھائی نے قتل نہیں کیا تھا میرے تاۓ کا۔۔۔

تو پھر کس نے کیا تھا؟؟؟

یار وہ لڑنے آۓ تھے تایا ابو سے اسی لڑائ کے دوران تایا ابو نے پسٹل نکال لی تھی۔۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو مار دیتے لیکن ماموں کے تایا ابو کے ہاتھ سے پسٹل چھینتے ھوۓ ان سے خود ہی پسٹل چل گئی۔۔۔۔

اور گولی انکے سینے سے آر پار ھوئ تھی۔۔۔۔۔

دونوں کے گاڈز بھی ساتھ ساتھ تھے ان میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ھوا تھا۔۔۔۔۔

اور تائ کے بھائ بھی بری طرح زخمی ھوۓ تھے لیکن تایا ابو چل بسے اور ماموں کی جان بچ گئی۔۔۔

اگر ایسا ھے تو پھر انہوں نے تمھارے پاپا پر حملہ کیوں کیا۔۔۔

کیونکہ انکے کسی اور دشمن نے چھوٹے بھائ کا قتل کر کے الزام پاپا پر لگا دیا تھا۔۔۔

ھمممم یہ سب تو ٹھیک ھے لیکن اسکے بعد تمھارے پاپا سب کچھ چھوڑ کر چلے گیۓ تھے ان سے کوئ رابطہ کوئ تعلق نہیں رکھا نا وہ رکھنا چاھتے ہیں تو پھر تم کیوں جاتے انکے پاس؟؟؟

یار میری مجبوری ھے جانا۔۔۔

لیکن کیوں؟؟؟؟؟

علی نے گہری سانس لیکر سامنے دیکھا رہنے دو اسکو بات کو۔۔۔۔

بات کی ھے اب تو پوری کرو اور بتاؤ مجھے ایسی کیا بات ھے جو تمھیں ان کی دشمنی سے بھی ڈر نہیں لگتا اور تم چلے جاتے ھو وہاں۔۔۔۔

یار وہ دشمن نہیں ھیں ھمارے ختم کر دیۓ ہیں انہوں نے یہ سارے سلسلے۔۔۔۔

تم یقین سے کیسے کہہ سکتے ھو؟؟؟؟؟عضد بڑی گہری نظر سے دیکھ رہا تھا علی کو۔۔۔

یار میری تائ کے دوبیٹے تھے۔۔۔۔

عضد نے ہاں میں سر ہلایا ہاں جانتا ھوں بتایا تھا مایا نے۔۔۔۔

انکا ایک بیٹا میں ھوں۔۔۔۔

کیااااااا عضد گردن گھمانے کیساتھ ساتھ اسکی بات سن کر پورا اسکی طرف گھوما۔۔۔۔

جی۔۔۔۔

پاپا نے تائ امی سے منت کر کے مجھے گود لیا تھا کہ انکے بھائی کا ایک بچہ انکے پاس بھی ھو وہ بھی ھمارے وارث اور حقدار ہیں اور یہ بات مایا نہیں جانتی۔۔۔۔

تو پھر تمھیں کیسے پتہ یہ سب۔۔۔۔۔۔

یار میرے برتھ سرٹیفکیٹ پر پاپا کا نام نہیں تھا وہ میرے ہاتھ لگا تو میں نے پاپا سے پوچھا انہوں نے سب بتا دیا مجھے۔۔۔۔

اور میری ضد پر انکا ایڈریس دیا کہ میں ایک بار اپنی ماں سے ملنا چاھتا تھا بس۔۔۔

اب ان سے ملکر دل نہیں مانتا تو ہر ویک اینڈ پر میں اپنی ماں سے ملنے جاتا ھوں اور جسے میری بہن قاتل بنا کر بیٹھی ھے اسی شخص کو اب میں اسکی جان سے بھی زیادہ عزیز ھوں۔۔۔۔

جانتے ھو یار میں جب پہلی بار گیا تھا ان سے ملنے تو انہوں نے بنا پوچھے اور بنا میرے بتاۓ مجھے فوراً پہچان لیا تھا۔۔۔

کہ میں انکا چھوٹا بھانجا حبان علی ھوں۔۔

عضد نے حیرت سے ابرو اچکاۓ اور تمھارا بڑا بھائی؟؟؟؟

اسکا نام سبحان علی ھے اس سے نہیں ملا میں اب تک؟؟؟

کیوں؟؟؟

کیونکہ وہ یہاں نہیں ھوتا۔۔۔

کہاں ھوتا ھے وہ؟؟؟؟

اسکی الگ ہی اپنی دنیا ھے وہ ماں سے ملنے آتا ھے کبھی کبھار بس۔۔۔۔۔

ھمممممم اوکے ۔۔۔

تم نے ملنا ھے اپنی ماں سے۔۔۔

ہاں یار وہ منتظر ھے میری۔۔۔۔

ٹھیک ھے مجھے گھر ڈراپ کر دو چلے جاؤ پھر۔۔۔۔۔

نہیں تم بھی ساتھ ہی چلو۔۔۔۔

عضد اسکے ساتھ ہی چلا گیا۔۔۔

تمھیں مایا کو یہ سب بتا دینا چاھیے۔۔

یار بتا دونگا لیکن پاپا کچھ بہتر ھو جائیں تب اسکی عادت سے واقف تو ھو پورا گھر سر پر اٹھا لیگی کہ اسے ھم سب نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔

ھمممم تم کہو تو میں اس سے بات کر سکتا ھوں بہت پریشان ھے وہ تمھارے لیے۔۔۔۔

ہاں تم کر لو بات لیکن پڑے گی وہ پھر بھی میرے ہی گلے۔۔۔

تو خیر ھے نا یار تم بھی ڈھول سمجھ کر بجا لینا تھوڑا اسے۔۔۔۔

علی ھنس پڑا عضد کی بات پر۔۔۔

یار ڈھول نہیں وہ توپ ہے پوری دیکھتی سنتی نہیں بس جو کام اسکے خلاف ھو گولے برسانا شروع کر دیتی ھے۔۔۔۔۔

عضد بھی ھنسا۔۔۔۔

دونوں کی ھنسی سے ٹینشن کا ماحول ختم ھوا تھا علی بھی ریلیکس تھا اب کہ اسے عضد کی سپورٹ مل گئ تھی اور مایا عضد کی کوئ بات نہیں ٹال سکتی تھی۔۔۔۔

__________________

مایا گھر آئ تو علی اور عضد دونوں غائب تھے رتابہ گاڑی کی آواز سن کر نیچے آئ کہ عضد آیا ھوگا۔۔۔

لیکن مایا کو دیکھ کر وہ واپس اوپر جانے لگی مایا نے اسے حکمانہ لہجے میں اسے روکا۔۔۔۔۔

رکو۔۔۔۔

مایا کی آواز پر وہ رکی۔۔۔۔۔

جی۔۔۔۔

وہ چمکتی آنکھوں کیساتھ اپنے ھونٹوں پر زبان پھیرتی اسکے پاس آئ۔۔۔۔

اور اسکا بکل مارا ھوا دوپٹہ کھولا تم پر یہ روپ نہیں ججتا۔۔۔

کیا مطلب؟؟؟ رتابہ نے اسکے ہاتھ سے اپنا دوپٹہ لیا جو وہ پورا اتار چکی تھی۔۔۔۔

مطلب یہ کہ جو تم ھو نہیں وہ بننے کی کوشش کیوں کرتی ھو۔۔۔

رتابہ دو ٹوک لہجے میں بولی میں آپ سے کوئ بات نہیں کرنا چاھتی مجھ سے اور میرے معاملات سے دور رہا کریں۔۔۔۔۔

نہیں رہ سکتی دور کیونکہ مجھ سے تمھارا یہ دوغلا پن اور یہ دوہرا روپ بلکل برداشت نہیں ھوتا۔۔۔۔

تو کس نے کہا ھے مجھے برداشت کریں آپ میرا آپ سے کوئ تعلق نہیں اور پلیز اگر میں خاموش ھوں تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں اندھی بھی ھوں سب سمجھتی ھوں میں آپ کیا چاھتی ھیں۔۔۔۔

مایا اکڑ کر بولی کیا سمجھتی ھو تم اور کیا جانتی ھو؟؟؟

مایا آپکا ان باتوں سے کوئ تعلق نہیں رتابہ اتنا کہہ کر ایک سیڑھی اوپر چڑھی تو مایا نے اسکا راستہ روک لیا۔۔۔۔

جانتی تو میں بھی بہت کچھ ھوں تمھارے بارے میں لیکن خاموش ھوں فی الحال اور رہی بات تعلق کی تو تعلق میں تم جیسے نیچ لوگوں سے رکھنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔۔

رتابہ کو غصہ آنے لگا تھا اب۔۔۔

آپ آج پھر حد سے بڑھ رہی ھیں لگتا ھے اس دن والا تھپڑ بھول گئ ھیں آپ۔۔۔۔

رتابہ کی بات پر وہ زہریلے ناگ کی طرح پھن مارتی ھوئ بولی اس دن کے تھپڑ کا جواب تو تمھیں اب بہت جلد ملے گا اور ایسا ملے گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گی۔۔۔۔

آپ مجھے ویسے بھی نہیں بھول سکتیں ہر وقت آپکی ہدایت کی دعا جو مانگتی ھوں۔۔۔۔

کیونکہ آپ جیسی اونچی شان والی لڑکیاں ھمیشہ ھم جیسی نیچ لڑکیوں کے شوہروں کو دل میں بساۓ اونچے اونچے خواب دیکھنے لگتی ھیں پھر کچھ نا پا کر جب منہ کے بل نیچے گرتی ھیں تو عقل ٹھکانے آتی ھے انکی۔۔۔

مایا کو اسکا جواب سن کر آگ لگ گئی تھی اس نے غصے سے بے قابو ھو کر رتابہ کو سیڑھیوں سے نیچے دھکا دیا۔۔۔۔

تو وہ سیدھا منہ کے بل قریب آتے علی کے قدموں میں گری۔۔۔

عضد بھی اسکے ساتھ ہی اس سے دو قدم پیچھے تھا مایا کو دھکا دیتے ھوئے وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔

علی نے جلدی سے رتابہ کو اٹھایا۔۔۔

عضد سے برداشت نہیں ھوا تھا وہ مایا کیطرف خونخوار نظروں سے بڑھا یہ کیا بد تمیزی ھے مایا ۔۔۔۔۔۔

وہ پوری قوت سے چلا کر بولی۔۔۔۔

اپنی لاڈلی سے نہیں پوچھو گے کیا بکواس کی ھے اس نے میرے اور تمھارے بارے میں۔۔۔۔۔

رتابہ کو پیٹ میں شدید درد ھونے لگا تھا کہ وہ مایا کے دھکا دینے سے دو چار سیڑھیوں سے ہی نیچے گری تھی لیکن گری زور سے تھی۔۔۔

شیٹ اپ یو عضد بھی چلایا اس پر ۔۔۔

اور علی بھی حد ھوتی ھے مایا بدتمیزی کی بھی کیوں اسطرح دھکا دیا ھے تم نے اسے۔۔۔۔

رتابہ پیٹ پر ہاتھ رکھے جھکی تو عضد نے اسے اپنی گود میں لیا آ کر نمٹتا ھوں میں تم سے۔۔۔۔

علی نے اسے بازو سے پکڑ کر نیچے کھینچا کیا کیا ھے تم نے اسکے ساتھ۔۔۔

تمھیں میری فکر ھونی چاھیے نا کہ اسکی تمھاری بیوی نہیں وہ اسکی۔۔۔۔۔

ابھی مایا بول ہی رہی تھی کہ آج علی سے تھپڑ کھا بیٹھی بند کردو اپنی بکواس۔۔۔۔

تھپڑ کھاتے ہی وہ چلا چلا کر علی کو جلی کٹی سنانے لگی پتہ نہیں کونسا جادو ھے اس ذلیل لڑکی کے پاس کہ سب مردوں کو اپنا حمایتی بنا لیتی ھے۔۔۔۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔

وہ گھسیٹتا ھوا اسے اسی کے کمرے میں لیکر گیا اور زور سے اسے بیڈ پر پٹخا۔۔۔۔

پاپا سے بات کرتا ھوں میں تم لندن میں ہی اچھی ھو یہاں رہنے کے قابل نہیں ھو تم۔۔۔۔۔۔

تم جس قابل ھو میں بھی جانتی ھوں کیا چکر چل رہا ھے تمھارا بھی میں اچھے سے جانتی ھوں سب۔۔۔

تم کیا بتاؤ گے پاپا کو میں بتاتی ھوں سب اس گھٹیا ذات کی لڑکی کی وجہ سے تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ھے۔۔۔۔

عضد بھی کمرے میں آ چکا تھا کسے کہا ھے تم نے گھٹیا۔۔۔

وہ اسکے بے حد قریب کھڑا ھوا۔۔۔

علی نے اسے پیچھے کیا تو وہ علی کو وارن کرنے لگا خبردار جو تم بیچ میں آۓ تو۔۔۔

عضد نے اسے جبڑوں سے پکڑا۔۔۔

کیا بکواس کرتی رہتی ھو میری غیر موجودگی میں اسکے ساتھ تم۔۔۔

علی نے عضد کو پیچھے کیا لیکن اس نے علی کو بھی پیچھے دھکیلا۔۔۔۔

بولو کیا گھٹیا پن دیکھا ھے اسمیں تم نے۔۔۔

مایا نے اسے دھکا دے کر خود سے پیچھے کیا میں وہ سب دیکھ رہی ھوں جو تمھیں نظر نہیں آرہا اسکی معصوم صورت پر تم مرد ہی مر مٹ سکتے ھو اسکا چہرہ کتنا گھناؤنا ھے تم نہیں جانتے۔۔۔۔۔

ایک طرف تم اسے بیوی بنانے کے چکروں میں ھو اور وہ کسی اور ہی چکروں میں ھے کبھی شاہ جی پر اور کبھی میرے بھائ علی پر ڈورے ڈال رہی ھے۔۔۔۔۔

اس بات پر ایک نہیں دو تین زوردار چماٹیں اس نے عضد سے کھائیں۔۔۔۔۔

علی نے عضد کو کھینچ کر اس سے پیچھے ہٹایا۔۔۔۔۔

وہ خود کے بال نوچ نوچ کر چلانے لگی ہاں ہاں مارو تم سب مجھے ملکر مارو۔۔۔۔

وہ بلکل پاگلوں کی طرح react کر رہی تھی یہ جو طمانچے تم نے میرے منہ پر مارے ھیں نا آنے والے وقت نے یہ طمانچے تمھارے منہ پر مارنے ھیں۔۔۔

پھر تمھاری آنکھیں کھلیں گی۔۔۔۔۔

علی نے بڑی مشکل سے اسکے ہاتھ پکڑے۔۔۔

وہ علی کو بھی مارنے لگی تھی چھوڑ دو مجھے تم بھی اسی کی زبان بولتے ھو۔۔۔۔۔

تمھیں بھی اس نے اپنے قابو میں کر لیا ھے عضد کے تھپڑ کھا کر بھی وہ بعض نا آئ۔۔۔۔۔

بس مایا بس شیٹ اپ یو عضد شیر کیطرح دھاڑا اس پر۔۔۔۔۔

میں لے جاؤنگا یہاں سے اسے لیکن تمھاری وجہ سے اگر اسے یا میرے بچے کو کچھ ھوا تو یاد رکھنا تمھیں جان سے مار دونگا میں۔۔۔۔

وہ مسلسل چلاتے ھوۓ بولی عضد کے تھپڑوں سے اسکے ھونٹ سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔۔۔۔

کونسا بچہ جو تمھارا ھے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔

عضد دانت پیس کر بولا۔۔۔

میں اس بچے کی بات کرہا ھوں جو اسوقت اسکی کوکھ میں ھے ماں بننے والی ھے وہ میرے بچے کی خبردار جو تم نے آج کے بعد اس پر نگاہ بھی ڈالی تو۔۔۔۔۔۔

مایا جتنے جنون سے اسوقت چلا رہی تھی عضد کی بات سن کر یک دم وہ ٹھنڈی پڑ گئی۔۔۔۔۔

کیا کیا کہا کہا تم نے وہ ماں بننے والی ھے تمھارے بچے کی لیکن تم تو۔۔۔۔

عضد ہاں میں سر ہلا کر بولا۔۔۔۔

ہاں she is pregnant for me…..

وہ اپنا سارا غصہ سارا جنون پل بھر میں بھول گئ۔۔۔

اور ھونکوں کیطرح منہ کھولے حیرت سے آنکھیں پھیلاۓ عضد سے پوچھنے لگی لیکن کب اور کیسے؟؟؟؟؟؟؟ وہ کیسے ھو سکتی ھے pregnant…..

مایا کا دماغ سن ھو رہا تھا۔۔۔۔

علی بھی سن کر کچھ حیران سا ھوا تھا۔۔۔

عضد تو چلا گیا وہاں سے لیکن اپنے جملے اسکے کمرے میں گونجتے ھوۓ چھوڑ گیا۔۔۔۔

علی کو مایا نے دھکے دے کر کمرے سے باہر نکالا تھا۔۔۔

اور پھر سارے کمرے کی چیزیں اس نے زمین پر غصے سے پٹخنا شروع کر دیں۔۔۔۔

عضد کی آواز اسے اب بھی صاف صاف سنائی دے رہی تھی۔۔۔

She is pregnant for me…

She is pregnant for me….

وہ اپنے بال نوچ نوچ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیسے ھو گیا اور کیوں ھوااااااااااااا اسکی چیخیں علی باہر کھڑا سن رہا تھا۔۔۔

البتہ عضد اپنے کمرے میں جا چکا تھا وہ غم و غصے سے پاگل ھو رہی تھی۔۔

کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ رتابہ عضد کیلیے pregnant تھی۔۔۔۔

نہیں۔۔نہیں۔۔یہ نہیں ھو سکتا مجھے جلد کچھ کرنا ھوگا وہ ادھر ادھر موبائل ڈھونڈنے لگی پھر دروازہ کھول کر باہر آئ۔۔۔

علی اسکے پیچھے بھاگا سنو مایا ۔۔۔مایا میری بات سنو۔۔

مایا فرش سے اپنا پرس اٹھاتی دوبارہ کمرے میں لاک ھو گئ۔۔۔

علی اسے پکارتا ہی رہ گیا۔۔۔

اس ڈر سے کہ ناجانے اب وہ کیا کرے گی علی نے دو چار دھکوں سے دروازے کا لاک توڑا وہ اندر فرش پر بیٹھی موبائل گود میں لیۓ رو رہی تھی۔۔۔۔

علی کی بہن تھی وہ بہت نازو میں پلی اسے اسطرح دیکھ کر اس سے برداشت نہیں ھو رہا تھا لیکن وہ کیا کرتا عادت کی بھی وہ ایسی تھی بلکل جنونی پاگل۔۔۔

علی اسکے سامنے بیٹھا اسکا منہ تکنے لگا اب کیا دیکھنے آۓ ھو کہ تم دونوں کے طمانچوں نے میرا منہ توڑا یا نہیں۔۔۔

وہ اسکے قریب ھوا سوری یار۔۔۔

چلے جاؤ یہاں سے تماشا ختم ھو چکا ھے اب۔۔۔۔

علی نے بہت کوشش کی اسے بہلانے کی۔۔۔

بے فکر رھو مارنے نہیں لگی میں خود کو تم دونوں اسکے لیۓ کافی ھو اسکے آنسو لگاتار بہہ رھے تھے۔۔۔۔

علی کی آنکھیں بھی بھیگ سی گئیں کہ بہن ھوکر اس نے اسکی ذات پر کیچڑ اچھالا تھا لیکن وہ اسکی حالت دیکھ کر گلہ بھی نا کرسکا۔۔۔۔

لیکن عضد اور رتابہ کی نظروں میں اس نے گرا دیا تھا آج پھر اپنے بھائ کو کیسے سامنا کرونگا اب میں عضد کا کیا سوچے گا وہ میرے بارے میں کہ میں اسکی بیوی پر نظر رکھے ھوا تھا۔۔۔

علی کو بہت شرمندگی ھو رہی تھی یہ سوچ کر ہی مایا نے اسے بار بار ایک ہی بات بولی۔۔۔۔

چلے جاؤ یہاں سے وہ اٹھ کر سر جھکاۓ اپنے کمرے میں آ گیا۔۔

_____________________

رتابہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی عضد رابی کو اسپیشلی اسکا خیال رکھنے کو کہہ کر گیا تھا۔۔۔۔

اور کچھ میڈیسن دے گیا کہ یہ اسے جوس کے ساتھ دے دینا رابی نے زبردستی رتابہ کو جوس پلایا تو اس نے کچھ دیر بعد الٹی کر دی۔۔۔۔۔۔

رابی کافی سمجھدار خاتون تھی اور تین بچوں کی ماں بھی۔۔۔۔

وہ رتابہ کی حالت سے فوراً سمجھ گئ۔۔۔

رتابہ منہ دھو کر واش روم سے باہر آئ تو رابی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

تم کیوں مسکرا رہی ھو اتنا خیریت ھے۔۔۔۔

وہ رتابہ کے گلے سے لگ گئ۔۔۔۔

ارےےےے کیا ھوا ھے مجھے بھی بتاؤ نا۔۔۔۔

رابی نے چھلکتی آنکھوں سے اسکا ماتھا چوما بی بی جی مجھے لگتا ھے آپ pregnant ھیں۔۔۔

رتابہ کی تو ایک پل زمین ہل گئ جی نہیں ایسا نہیں ھو سکتا۔۔۔۔

کیوں نہیں ھو سکتا رابی نے کمر پر ہاتھ رکھے پوچھا۔۔۔

بس میں نے کہہ دیا نا وہ بیڈ پر لیٹتے ھوۓ بولی۔۔۔

بی بی جی آپ صاحب جی سے پوچھ لینا میری بات سو فیصد درست ہے۔۔۔۔۔۔

رتابہ سن کر تھوڑی گھبرائ کہ یہ کیسے اور کب ھوگیا۔۔۔۔۔

وہ تو عضد کے اتنا قریب نہیں آئ تھی اور عضد نے جو اسکے ساتھ زبردستی کی تھی اس بات کو بھی دو تین ماہ گزر چکے تھے یہ کیسے ممکن تھا پھر۔۔۔۔۔

عضد شام کو گھر آیا تو وہ سو رہی تھی عضد تھکا ہارا پاؤں پسارے اس سے کچھ فاصلے پر لیٹا تو وہ جاگ گئ۔۔۔۔۔۔

اس نے عضد کو سلام کیا۔۔۔

اس نے آنکھوں پر بازو رکھے اسکے سلام کا جواب دیا۔۔۔۔

رتابہ اس کے قریب ھوئ اور آنکھوں سے اسکا بازو ہٹایا اس نے رتابہ کو دیکھا پھر تکیہ سے اپنا سر اونچا کیا طبیعت کیسی ھے تمھاری؟؟؟

ٹھیک ھوں۔۔۔

درد تو نہیں اب پیٹ میں۔۔۔

اس نے نا میں سر ہلایا تو اسکی لٹیں اسکے چہرے پر پھیل گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عضد نے اسے بڑے پیار سے دیکھا کچھ پوچھنا چاہتی ھو۔۔۔۔۔

اس نے بچوں کیطرح ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔

تو پوچھو نا چپ کیوں ھو۔۔۔۔

رتابہ نے دراز سے ٹیبلیٹس نکال کر عضد کے سامنے رکھیں یہ کس چیز کی ھیں؟؟؟؟

سلیپنگ پلز ھیں……

یہ آپ نے کیوں لا کر رکھی ہیں ؟؟؟؟

مجھے کھانی پڑتی ھیں اکثر اسلیۓ۔۔۔۔۔۔

پہلے تو نہیں کھاتے تھے آپ۔۔۔

عضد اس پر نظریں جمائے نیم دراز تھا اب مجھے نیند نہیں آتی۔۔۔۔

کیوں؟؟؟؟

عضد کو کیوں کیا کب یہ لفظ پسند نہیں تھے لیکن اسوقت رتابہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ وہ اسے ٹوک نا سکا۔۔۔۔۔

کیونکہ تم پاس ھوتی ھو اسلئے وہ صاف گوئی سے بولا۔۔۔

میرے پاس ھونے سے کیا مطلب ھے آپکا میں نے کبھی تنگ تو نہیں کیا آپکو۔۔۔۔۔

عضد اپنا نچلا ھونٹ دانتوں تلے چبا کر بڑے والہانہ انداز سے بولا اب کرتی ھو نا تنگ اسلیۓ کھانی پڑتی ھیں مجھے یہ پلز۔۔۔۔

رتابہ نے پلکیں جھکا لیں۔۔۔

عضد کا صبر جواب دینے لگا تھا بڑی مشکل سے وہ اسے چھونے سے خود کو روکے ھوا تھا۔۔۔

رتابہ اپنے دوپٹے کے پلو کو بار بار انگلیوں پر لپیٹ کر کھول رہی تھی۔۔۔۔۔

عضد اسکی بے چینی بھانپ گیا تھا کچھ اور بھی کہنا ھے تم نے۔۔۔۔

جی۔۔۔

اسکی جھکی ہوئی پلکوں کے ساۓ اسکے گالوں پر پڑ رھے تھے رابی کچھ کہہ رہی تھی آج مجھ سے۔۔۔۔

کیا؟؟؟؟

وہ کہہ رہی تھی کہ میں آگے وہ رک گئ۔۔۔۔

عضد اسکے چہرے پر حیا کے آتے جاتے رنگوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔

کیا میں؟؟؟؟

وہ۔۔۔ رتابہ جھجھک رہی تھی۔۔۔

آگے بولو بھی اب۔۔۔۔۔

وہ کہہ رہی تھی میں pregnant ھوں۔۔۔۔

عضد اسکی بات سن کر تکیہ گود میں لیکر بیٹھ گیا ہاں ٹھیک کہہ رہی ھے وہ۔۔۔۔۔۔

رتابہ نے بے یقینی سے نگاھیں اٹھا کر عضد کو دیکھا۔۔۔

اففففففف اللہ مار ڈالا عضد اسکے دیکھنے سے گاہل ھوتا ھوا تکیہ منہ پر رکھے واپس لیٹا۔۔۔۔

رتابہ نے تکیہ اسکے منہ سے ہٹایا کب سے ھوں میں pregnant۔۔۔۔۔۔

یار 35 days ھوۓ ھیں۔۔۔

وہ عضد کیطرف خاموشی سے دیکھنے لگی۔۔۔

عضد اپنی صفائی میں فوراً بولا مجھے غلط مت سمجھو میں ان مردوں میں سے ہرگز نہیں جو اپنا یہ جائز حق ناجائز طریقے سے منوائیں میرے لیۓ اب تمھاری مرضی بہت important ھے۔۔۔۔

اس نے عضد کی طرف بنا دیکھے پوچھا تو پھر میں پریگننٹ کیسے ھوئ۔۔۔۔

مایا جی کی بدولت۔۔۔۔

کیا مطلب ؟؟

تمھیں یاد ھے لندن کی وہ بارش جب تمھیں وہ ساتھ لے کر گئ تھی اور ٹھنڈ نا سہتے ھوۓ بارش میں بھیگ کر تم بیہوش ھوئ تھی گھر کے پاس۔۔۔۔

(ان دونوں کو اب تک اس بات کا علم نہیں ھوا تھا کہ وہ بیہوش نہیں ھوئ تھی بلکہ مایا نے رتابہ کو نشہ آور ڈرگ دی تھی۔۔۔)

تمھاری حالت دیکھ کر تمھیں خود سے الگ نا کر سکا میں۔۔۔

لیکن تمھاری پریگنینسی کا مجھے بھی پتہ نہیں چلا یہاں آکر معلوم ھوا کہ تم پریگننٹ ھو۔۔۔۔۔

آپ نے مجھ سے کیوں چھپائ یہ بات۔۔۔۔

وہ اسکی جھکی آنکھوں پر اپنا چہرہ جھکا کر اسے دیکھنے لگا بہت قریب تھا وہ رتابہ کے۔۔۔۔۔

تمھاری ناراضگی کے ڈر سے نہیں بتا سکا۔۔۔۔

ناراض تو میں اب بھی ھو سکتی ھوں۔۔۔

پھر منانے کی اجازت دیکر روٹھ سکتی ھو۔۔۔۔۔

رتابہ نے عضد کے بدلتے تیور دیکھ کر فوراً اپنی بات کا پینترا بدلا۔۔۔۔۔

آپ کو بھوک لگی ھے؟؟؟

عضد نے نا میں سر ہلایا کیوں تمھیں لگ رہی ھے؟؟؟

جی۔۔۔

تو چلو آؤ ساتھ کھاتے ہیں کھانا وہ اٹھا بیڈ سے رتابہ اٹھنے لگی تو اس نے روک دیا۔۔۔

نانانا۔۔۔ تم بیٹھی رھو میں کھانا رابی سے اندر ہی منگوا لیتا ھوں۔۔۔۔

وہ رابی کو کھانے کا کہنے نیچے آیا۔۔۔۔

تو ایک پل مایا کے کمرے کے باہر اسکے قدم رک گۓ۔۔۔۔۔

وہ آج آفس بھی نہیں آئ تھی۔۔۔۔۔

کل جو بھی ھوا اسے افسوس بہت تھا کہ اسے مایا پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاھیۓ تھا لیکن اس نے بات ہی ایسی کی تھی کہ اس سے برداشت نا ھوا۔۔۔۔

عضد نے وہ ہاتھ اپنا غور سے دیکھا جس سے اس نے مایا کو چانٹے مارے تھے پھر افسوس سے اپنی مٹھی بھینچ کر اوپر آیا۔۔۔۔

عضد۔۔۔

ھمممممم۔۔۔

ایک بات پوچھوں آپ سے؟؟؟؟؟

ایک کیوں ساری باتیں پوچھ لو آج ہی وہ اسکے ربرو ھو کر بیٹھا۔۔۔۔

آپ خوش ھیں؟؟؟

کس بات سے؟؟؟؟

رتابہ اپنے دانتوں تلے اپنے نچلے ھونٹ کا کونا چبا کر بولی اسی بات سے۔۔۔

کس بات سے یار بات تو بتاؤں پہلے۔۔۔۔

جو ابھی آپ نے بولی۔۔۔۔۔

میں نے تو بہت سی باتیں بولی ھیں عضد اسے تنگ کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔

اس نے دوبارہ پوچھا ہی نہیں تو عضد اسکی کیفیت پر ھنسنے لگا۔۔۔۔۔

یار تم تو ایسے شرما رہی ھو بولتے ھوئے بھی جیسے میں کوئ غیر ھوں میرے بچے کے بارے میں پوچھنا چاہتی ھو نا کہ میں خوش ھوں؟؟؟

رتابہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

بہہہہتتتتتتتت زیادہ خوش ھوں عضد کا چمکتا چہرہ اسکی خوشی کی مکمل عکاسی کر رہا تھا۔۔۔۔

رتابہ کو اچانک سے دیان کا خیال آیا کہ عضد نے کیا کیا تھا اسکے ساتھ۔۔۔

عضد کو اتنا خوش دیکھ کر خوش تو وہ بھی تھی لیکن اسکی خوشی ادھوری سی تھی گزرے ہوئے وقت کے آثار اب بھی اسکے دل میں موجود تھے اسے دیان بہت یاد آیا۔۔۔

کتنا بد بخت ھے میرا وہ بچہ بھی میری طرح جسکی پیدائش پر اسکی اپنی ماں بھی خوش نا تھی۔۔۔

اک بوجھ کی اک داغ کی صورت اس نے اپنی کوکھ میں پالا تھا اسے اسکی امید لگنے سے اسکے پیدا ھونے تک سب کے چہروں پر اداسی تھی۔۔۔۔۔

اور وہ خود کس قدر تکلیف اور عذاب سے گزری تھی سارے لمحات لمحہ لمحہ اسکی آنکھوں کی پتلیوں پر لہرانے لگے تو وہ اپنے آنسو عضد کے سامنے اپنے حلق میں اتارنے لگی۔۔۔

جو اسکا حلق چیرتے ھوۓ اسکے اندر قطرہ قطرہ لہو کیطرح بہہ رھے تھے۔۔۔۔

کیا ھوا؟؟؟؟

عضد کو اسکے لہجے کی نمی محسوس ھونے لگی۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔

اسکی کچھ نہیں میں بہت کچھ تھا۔۔۔۔

بیتے وقت کی ذلت۔۔۔ کربناک درد۔۔۔۔۔شکوے۔۔۔ آنسو۔۔۔۔ رسوائیاں۔۔دوھائیاں۔۔۔۔

رتابہ کی آنکھیں دھواں دھواں ھونے لگیں۔۔۔۔

عضد نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔

کیا تم خوش نہیں ھو؟؟؟

وہ عضد سے ہاتھ چھڑا کر کھڑکی کے پاس آگئ۔۔۔۔

عضد اسکے پشت پر کھڑا ھوا رتابہ۔۔۔۔

وہ پلٹنا نہیں چاھتی تھی کہ عضد اسے روتے ہوئے دیکھے۔۔۔۔

عضد نے کندھوں سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا پریشان ھو گزرے ھوۓ وقت سے؟؟؟

اس نے پلکیں اٹھا کر عضد کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔

تو آنسو موتی کی طرح اسکے گال پر بہنے لگے عضد اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر اسکے آنسو پونچھنے لگا۔۔۔۔۔

جو گزر گیا جو سو گزر گیا اسکا غم مت کرو وہ سب اب کبھی نہیں ھوگا۔۔…

__________________

آج بھی مایا آفس نہیں آئ تھی علی بھی عضد کے سامنے نہیں آیا تھا آج دو دن ھو گۓ تھے عضد آفس کی چئیر پر بیٹھا سوچوں میں گم تھا۔۔۔۔

کہ اچانک مایا کی باتیں اسے یاد آنے لگیں پتہ نہیں کونسا جادو ھے اس ذلیل لڑکی کے پاس کہ سب مردوں کو حمایتی بنا لیتی ھے۔۔۔۔۔

میں وہ سب دیکھ رہی ھوں جو تمھیں نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔

اسکا چہرہ کتنا گھناؤنا ھے تم نہیں جانتے۔۔۔ایک تم ھو کہ اسے بیوی بنانے کے چکروں میں ھو اور وہ کسی اور ہی چکر میں ھے۔۔۔۔۔

پہلے شاہ جی اور اب میرا بھائ علی۔۔۔۔۔

ایک دم چونک کر عضد نے آنکھیں کھول لیں۔۔۔۔۔

آج یہ طمانچے جو تم نے میرے منہ پر مارے ھیں نا آنے والے وقت نے یہ طمانچے تمھارے منہ پر مارنے ھیں پھر تمھاری آنکھیں کھلیں گی۔۔۔۔

عضد کا حلق خشک ھو رہا تھا۔۔۔

اس نے منرل واٹر کی بوتل اٹھائ اور غٹاغٹ بغیر سانس لیے پانی پینے لگا۔۔۔۔۔

علی آج دوسری فیکٹری سے اسکے آفس میں آیا تھا ناک دیکر وہ اندر آیا۔۔۔۔

عضد سیدھا ھو کر بیٹھا۔۔۔۔۔

علی کا سر جھکا ھوا تھا عضد تم سے معافی چاھتا ھوں جو بھی ھوا اس دن اچھا نہیں ھوا۔۔۔۔۔

تم کیوں مانگ رھے ھو معافی تم نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔۔

یار مایا نے جو کہا پلیز اسکی کسی بات کو دل پر مت لینا وہ ویسے ہی منہ پھٹ ھے غصے میں الٹا سیدھا بول جاتی ھے اس نے جو میرے بارے میں کہا اس میں کوئ سچائ نہیں۔۔۔

عضد سیٹ پر جھولتا بڑی غور سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔

پھر اسکی بات سن کر بولا۔۔۔۔

تم سے اس متعلق میں نے کوئ سوال نہیں کیا تو پھر تم اپنی صفائی کیوں پیش کر رھے ھو۔۔۔۔

یار بہت غلط کہا اس نے میری ھمدردی کو نا جانے کیوں اس نے شک کے ترازو میں تولا۔۔۔۔

عضد نے گہری سانس خارج کرتے ھوۓ اسے جواب دیا۔۔۔۔

مایا اتنی پاگل بھی نہیں اب کہ بلا وجہ الزام لگاۓ وہ بھی اپنے بھائ پر۔۔۔۔۔

علی نے سر اٹھا کر عضد کو دیکھا جسکے چہرے پر ملال اور شک کے ملے جلے اثرات تھے۔۔۔

تمھیں کیا لگتا ھے؟؟ میں اتنی گھٹیا سوچ رکھ سکتا ھوں ؟؟؟؟

عضد خاموشی سے دانت پیسنے لگا۔۔۔۔۔۔

علی نے شرمندگی سے عضد کے آگے ہاتھ جوڑے خدا کا واسطہ ھے یار مجھے یا رتابہ کو لیکر دل میں کوئی شک مت پالنا بڑی مشکل سے تمھاری زندگی settle ھوئ ھے ۔۔۔۔

مایا کی باتوں میں آکر اسے شک کی نذر مت کرو۔۔۔

میں تلاش کر رہا ھوں دوسرا گھر چلے جائیں گے ھم دونوں بہن بھائ جیسے ہی کچھ بہتر انتظام ھو گیا۔۔۔۔۔

عضد نے کافی آرڈر کی پھر اسکی طرف مڑا۔۔۔۔

میں نے تمھیں گھر چھوڑنے کیلیے تو نہیں کہا۔۔۔۔۔

علی ٹیبل پر نظریں جمائے افسوس سے کہنے لگا لیکن مایا نے رہنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔۔

چلو ٹھیک ھے جیسے تمھاری مرضی۔۔۔۔

لیکن مجھے نا پہلے کوئ اعتراض تھا تمھارے گھر میں رہنے پر اور نا اب کوئ اعتراض ھے تمھارے گھر چھوڑنے پر۔۔۔۔

گھر تمھارے پاپا کا ھے جو مجھے اس جاب کی وجہ سے ملا ھوا ھے جب تک چاھو رہ سکتے ھو۔۔۔۔۔۔

علی کی نظریں ملا کر نا دیکھنے پر عضد کچھ کچھ شش و پنج میں مبتلا ھوا تھا لیکن اس نے اظہار نا کیا اور اس معاملے کو رفع دفع کیا۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ رتابہ پر کسی قسم کا ذہنی دباؤ نہیں ڈالنا چاھتا تھا نا اس پر شک کرنا چاھتا تھا وہ جانتا تھا کہ رتابہ بہت بھولی اور معصوم ھے لیکن علی مایا کی بدولت اسکے کچھ کچھ شک کا شکار ھو چکا تھا۔۔۔

_____________________

رابی بہت خوش تھی رتابہ کی پریگنینسی سے اس سے صبر نا ھوا اس نے نرگس کو فون کر کے یہ خوشخبری سنائی تو نرگس پل بھر سکتے میں آگئ۔۔۔۔

نمل نے نرگس کو دیکھ کر پکارا امی۔۔۔ امی۔۔۔۔۔

کیا ھوا۔۔۔۔

نرگس نے بے یقینی سے نمل کیطرف دیکھا خوشی سے اسکے آنسو بہنے لگے۔۔۔

نمل ڈر گئ امی کیا ھوا۔۔۔۔

نرگس نے نمل کو گلے سے لگا لیا امی خیریت تو ھے بتائیں کیا ھوا ھے؟؟؟

نرگس نے مسکراتے ھوۓ آنسو پونچھے نمل عضد باپ بننے والا ھے۔۔۔۔۔

خبر تھی یا دھماکا۔۔۔۔

نمل کی آنکھیں حیرت سے پورے چہرے پر پھیل گئیں۔۔۔۔کیا۔۔۔ امی آپ سچ کہہ رہی ھیں۔۔۔۔۔

نرگس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

نمل ماں کو لیۓ خوشی سے جھوم اٹھی۔۔۔۔۔

وہ اس قدر خوش تھی کہ جیسے رتابہ نہیں وہ خود ماں بننے والی تھی۔۔۔۔۔۔

دونوں ماں بیٹیوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔۔۔۔

یا اللہ میں کسطرح تیرا شکر ادا کروں تو بہت رحیم ھے کریم ھے۔۔۔۔

دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا جازب بھی گھر میں تھا اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔

یہ خبر سن کر وہ بھی بہت خوش تھا۔۔۔

لیکن اپنے باپ نا بننے کی چھبن اسکے دل میں گہری ھونے لگی کاش وہ ایک بار ہی سہی باپ بن سکتا۔۔۔۔

نمل مچل رہی تھی رتابہ سے ملنے کو لیکن جازب کی حالت کے پیش سبب وہ جا نا سکی۔۔۔۔۔

لاھور کی سیٹ ایک ہی کنفرم ھوئ صبح یہاں رابی نے خبر دی تھی اگلی صبح نرگس کراچی میں تھی۔۔

وہ دیان کو بھی ساتھ ہی لے آئ تا کہ نمل پوری طرح جازب کا خیال رکھ سکے۔۔۔۔

شاہ جی کو اس نے فون کیا وہ انکو ریسیو کرنے آیا وہ عضد اور رتابہ کو سرپرائز دینا چاھتی تھی۔۔۔۔

عضد سو رہا تھا جب نرگس گھر پہنچی۔۔۔

رتابہ جاگ رہی تھی لیکن اپنے کمرے میں تھی دیان کو رابی نے شاہ جی سے لے لیا وہ واپس چلا گیا۔۔۔۔

نرگس نے انکا دروازہ بجایا۔۔۔

رتابہ نے واش روم سے آواز لگائی آجاؤ رابی دروازہ کھلا ھے۔۔۔۔

نرگس اندر آئ اور عضد کے پاس بیٹھی اسکا چہرے پر ہاتھ پھیر کر اسے چوما تو وہ جاگ گیا۔۔۔

ایک دم سے سامنے نرگس کو دیکھ کر پہلے تو حیران ھوا پھر خوشی سے لپٹ گیا نرگس سے امی جان آپ۔۔۔۔۔۔

نرگس نے اسے چھوٹے سے بچے کیطرح بار بار چوما تم نے اتنی بڑی خوشخبری مجھ سے چھپائ۔۔۔۔

امی بتانے لگا تھا آپ کو آج۔۔۔

رتابہ نرگس کی آواز سن کر جلدی سے باہر آئ میری جان میری بچی نرگس نے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا۔۔۔۔۔

تو اس نے چھم چھم برستی آنکھوں سے عضد کیطرف دیکھا جسکی خوشی ماں کو دیکھ کر دوبالا ہو گئ تھی۔۔۔۔۔

___________________

علی دیان کے آنے سے بہت خوش تھا وہ جب آفس سے واپس آتا ہر وقت اسے اپنے ساتھ رکھتا۔۔۔۔

دیان بھی اسکی گود سے اترنے کا نام نا لیتا عضد دیان سے علی کا اتنا پیار دیکھ کر مشکل سے برداشت کر رہا تھا کہ وہ کیوں رتابہ کے اس پہلے بچے میں اتنا انٹرسٹ لیتا ھے؟؟؟

مایا عضد سے معافی مانگ چکی تھی۔۔۔۔

نرگس کے آنے سے گھر کا ماحول کچھ بہتر ھو گیا تھا مایا زیادہ تر اپنے کمرے تک ہی محدود رہتی۔۔۔۔۔

نرگس نے خدا کا شکر ادا کیا تھا یہ سب دیکھ کر وہ کافی مطمئن اور خوش تھی لیکن وہ زیادہ دن رتابہ کے پاس ٹھہر نا سکی۔۔۔۔۔

جازب کی طبیعت زیادہ خراب ھونے کی وجہ سے اسے واپس جانا پڑا رتابہ نے دیان کو اپنے پاس رکھنا چاہا کچھ دن۔۔۔۔

امی میں نے اپنے بچے کا بچپن بلکل نہیں دیکھا نا اسکی شرارتیں دیکھ سکی نا اسے اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھا سکی نا اسکے گرنے پر بھاگ کر اسے تھام سکی۔۔۔۔

اب جب پھر سے ماں بننے لگی ھوں تو اسکا احساس مجھے سونے نہیں دیتا امی کچھ دن کیلئے اسے چھوڑ جائیں میرے پاس۔۔۔۔

دیکھو رتابہ اپنے اور عضد کے رشتے کے درمیان دیان کو مت لاؤ۔۔۔۔

کئ سالوں کی دعاؤں اور تکلیفوں کے بعد آج تمھیں یہ خوشیوں بھرے دن ملے ھیں کیوں اپنی خوشیوں کو گرہن لگاتی ھو۔۔۔۔

امی میرا بچہ ھے یہ میری کوئ جائیداد نہیں کہ میں اسے اپنی ممتا سے دوسرا بچہ ملنے پر عاق یا محروم کر دوں۔۔۔۔۔

تمھیں کون کہہ رہا ھے اسے اپنی ممتا سے محروم رکھو میں آئ ھوں یہاں بنا تمھارے کہے اسے ساتھ لائ ھوں۔۔۔۔

پھر لے آؤنگی ساتھ لیکن اپنی یا نمل کی غیر موجودگی میں اسے تمھارے اور عضد کے درمیان نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔۔

رتابہ رونے لگی امی بس کچھ دن کی بات ھے پھر آپ اسے لے جانا۔۔۔۔

رتابہ سمجھنے کی کوشش کرو میری جان اچھا چلو میں کچھ دن اور ٹھہر جاتی ھوں بس خوش۔۔۔۔۔۔۔

لیکن امی نمل پریشان ھے آپکے بغیر اور جازب کا سن کر آپ بھی اپ سیٹ ھیں آپ جائیں ناجانے کون سی بات تھی کہ رتابہ دیان کو چھوڑنے کیلئے تیار نا تھی۔۔۔۔۔

نرگس اسے پیار سے بہلا کر دیان کو ساتھ لے گئ اور جازب کے ٹھیک ھونے تک دیان کیساتھ ہی واپس آنے کا وعدہ کر کے گئ۔۔۔

____________________

نرگس کے جانے کا مایا شدت سے انتظار کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی رتابہ اور عضد کے رشتے کو مضبوطی سے جکڑ کر باندھنے والی زنجیر تھی وہ۔۔۔۔

جس کی موجودگی میں وہ عضد اور رتابہ کو جدا نہیں کر سکتی تھی اور نا ہی عضد پر رتابہ کا ماضی کھول سکتی تھی۔۔۔۔۔

عضد کے سامنے اب اس نے رتابہ کا ذکر کرنا بلکل چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔

وہ عضد کی خوشی میں خوش تھی عضد روٹین چیک اپ کیلئے اسے ھوسپٹل لیکر گیا ھوا تھا۔۔۔۔۔

مایا نے وہاں بندیا کو انکے پیچھے بھیجا عضد واپسی میں کارپارکنگ سے اپنی گاڑی نکال رہا تھا رتابہ بھی اسکے ساتھ ہی تھی۔۔۔

وہاں کسی آدمی نے عضد کو روکا۔۔۔

اسلام و علیکم صاحب جی۔۔۔

عضد نے جواب دیا وعلیکم السلام۔۔۔

صاحب جی آپکی مدد چاھیے تھی۔۔۔

جی بولو۔۔۔۔

وہ مجھ سے گاڑی نہیں نکل رہی میم صاحبہ بھی نہیں نکال پا رہیں آپ گاڑی پارکنگ سے نکال دیں گے۔۔۔۔۔۔

عضد اپنی گاڑی سے باہر آیا۔۔۔۔

کیسے ڈرائیور ھو تم کہ گاڑی نہیں نکل رہی تم سے۔۔۔۔۔

صاحب جی ڈرائیور نہیں ھوں میں چوکیدار ھوں پارکنگ کا۔۔۔۔

اوہ اچھا عضد اسکے ساتھ چلنے لگا گاڑی کچھ دور تھی۔۔۔۔

عضد گاڑی کے پاس پہنچا تو اک نازک سی دوشیزہ نے عضد کے ہاتھ میں چابی تھمائ اور عضد کیساتھ ہی گاڑی میں بیٹھی۔۔۔۔

عضد گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تو اس نے عضد کیطرف دیکھا۔۔۔۔

بختی سے کیا رشتہ ھے آپکا؟؟؟؟

عضد کے ہاتھ جہاں تھے وہیں رک گۓ اسکے منہ سے بختی نام سن کر۔۔۔۔۔۔

عضد نے بہت حیرانی سے اسے دیکھا آپ کیسے جانتی ہیں اسے۔۔۔۔

وہ بڑے ناز و انداز سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولی اسے کون نہیں جانتا۔۔۔۔

عضد نے دو ٹوک لہجے میں کہا یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔۔۔۔۔۔

وہ مسکرا کر بولی۔۔۔۔۔

ھمممممممم بختی سے جڑے بیس سالوں کے سارے سوال جواب آپکو مجھ سے مل سکتے ہیں۔۔۔۔۔

آپ ھیں کون؟؟؟؟؟

جو بھی ھوں بتا دونگی اتنی بے صبری اچھی نہیں پھر وہ گاڑی سے باہر جھانک کر بولی خیر یہ بتاؤ بچہ وچہ گرانے تو نہیں لاۓ اسے ھوسپٹل۔۔۔۔۔

عضد کے تو ھوش اڑنے لگے تھے اس لڑکی کی بات سن کر۔۔۔۔۔۔

اسے حیران اور پریشان کر کے پھر بولی مجھے بعد میں گھور لینا گاڑی تو نکالو باہر۔۔۔۔۔۔

عضد نے گاڑی پارکنگ سے نکال کر روڈ تک لائ۔۔۔۔

شریف لگتے ھو شکل سے کافی بختی کے چکر سے نکل آؤ تو بہتر ھوگا تمھارے لیے۔۔۔۔

آپ کہنا کیا چاھتی ھیں؟؟؟؟؟

وہ عضد کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولی میں تو کچھ نہیں چاھتی سوا تمھاری بھلائی کے۔۔۔۔

تمھیں دیکھا اسکے ساتھ اچھے فیملی کے لگے سلجھے ھوۓ اسلیے تمھیں گاڑی کے بہانے سے بلوایا۔۔۔

عضد کا دل پریشانی سے زور زور سے دھڑکنے لگا اور پسینہ اسکے ماتھے پر چمکنے لگا۔۔۔۔۔

اس نے عضد کو اپنا نمبر دیا۔۔۔۔

بختی کے بارے میں جو بھی جاننا چاھتے ھو یہ کون ھے؟؟ کہاں سے آئ ھے؟؟؟ اسکا بیک گراؤنڈ کیا ھے؟؟؟ تم تک کیسے پہنچی؟؟؟؟

اس سے پہلے یہ کہاں تھی؟؟؟

اس کے بچپن سے لیکر اسکی جوانی تک سے جڑے ایک ایک پل کا حساب ھے میرے پاس بس مجھ سے ایک ملاقات کر لینا۔۔۔

جاری ھے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *