Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 31)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 31)
Bad Bakhat by Arshi Noor
عضد اسے باہر لان میں دیکھ کر ہی کچن میں رتابہ کے پیچھے آیا تھا عضد کی نگاھیں اسکے مسکراتے لبوں پر جم سی گٸیں…
عضد کو خود میں کھویا دیکھ کر رتابہ نے جھینپ کر پھر کہا عضد نیچے اتاریں مجھے۔۔۔
عضد نے اسکی شرٹ اسٹول سے کھینچ کر نکالی پھر اسے آپ ساتھ لگاۓ کچھ قدم پیچھے ہٹ کر بڑے آرام سے نیچے اتارا۔۔۔
رتابہ عضد سے فوراً پیچھے ھوٸ۔۔
اب اگر میں نا ھوتا تو کیا حال ھوتا تمھارا اب؟؟
تم نیچے ھوتی اور اسٹول تمھارے اوپر اور پھر میں تمھیں گود میں لیۓ ھوسپٹل ھوتا۔۔۔
وہ نظریں جھکاۓ بولی سوری۔۔۔
وہ اسکے گھبراۓ ھوۓ شرماۓ ھوۓ سراپے سے لطف اندوز ھو کر بڑے انہماک سے کہنے لگا سوری سے کام نہيں چلے گا۔۔۔
اس نے چونک کر پلکیں اٹھا کر دیکھا عضد کیطرف جو اسکے بہت قریب کھڑا تھا وہ معصومیت سے بولی تو پھر کیا کروں میں؟؟؟
عضد آرام سے سینے سے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا منہ میٹھا کرنا ھوگا میرا۔۔۔
اس نے پھر سے پلکیں جھکا لیں اسکا پلکیں اٹھا کر پلکیں جھکانا بعض اوقات عضد کا کڑا امتحان لیتی تھیں۔۔
مایا کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہی تھی اب اسکی برداشت جواب دے گئ تو اس نے نیل پالش زمین پر زور سے پٹخی۔۔۔
اور بلند آواز میں بولتی اپنے کمرے میں گٸ جو کچن کے سامنے تھا بلکل لوگوں کو کسی کے سامنے بھی شرم نہيں آتی سر عام رومانس کرتے ھوۓ۔۔۔۔
عضد کو ھنسی آگٸ اسکے انداز پر رتابہ عضد سے پیچھے ھوکر کچن سے جانے لگی تو عضد نے ہاتھ پکڑ کر روکا اور اونچی آواز میں بولا اب کب چڑھو گی اسٹول پر دوبارہ؟؟
وہ ہاتھ چھڑا کر نکلی باہر کبھی نہیں۔۔۔ ________
مایا کو مسلسل تڑپا رہا تھا باربار عضد کا اسے تھامنا وہ کانٹوں پر لوٹ رہی تھی میں تو جب چھوتی ھوں اس کمینے انسان کو تو مجھ سے احتیاط کرتا ھے جیسے میں کوٸ موزی مرض ھوں اسکے لیۓ
اور اس بے حیا کو گلے سے لٹکاتے ھوۓ بھی اسے حیا نہيں آتی اور کتنے مزے سے کہہ رہا تھا کہ میرا منہ میٹھا کرو۔۔۔
میرا بس چلتا تو مٹھی بھر خاک ڈال دیتی منہ میں اتنا دوغلا شخص میں نے آج تک نہيں دیکھا۔۔۔
مایا کافی غصے میں تھی مجھے جلانےکے لیۓ اس کچرے کو سینے سے لگاۓ بیٹھا ھے یہ جانتا نہيں مایا نام ھے میرا اپنے قدموں پر لا کر ہی دم لونگی میں۔۔۔
ابھی تو سارا تمھارا ڈرمہ دیکھتی ھوں کب تک کرتے ھو ایسے تم میرے ساتھ۔۔۔
_______________
شام کو علی گھر آیا تو بہت خوش خوش تھا مایا اپنا دن کا غصہ جو اسے عضد اور رتابہ پر تھا وہ اس پر نکالنے لگی کہاں تھے تم سارا دن؟؟
کیوں یار تمھیں کیا ھوا ھے اتنے غصے سے کیوں پوچھ رہی ھو علی صوفے پر نیم دراز ھوا۔۔۔
مجھے بتاٶ کہاں سے اتنا لہک چہک کر آرھے ھو مایا سے بھائ کی خوشی بھی اسوقت عضد کیوجہ سے برداشت سے باہر تھی۔۔۔
یار میں نے کہاں جانا ھے یہیں گھوم پھر رہا تھا۔۔
دن بھر گھومنے پھرنے سے چہرہ اتنا ہشاش بشاش نہيں ھوتا۔۔۔
علی بیزاری سے بولا کیا ھے یار کیوں تم بال کی کھال اتارتی ھو کیوں اتنا شک کرنے لگی ھو مجھ پر۔۔۔
جیسی تمھاری حرکتیں ھیں نا شک بنتا ھے میرا۔۔۔
علی نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے معاف کر دے میری ماں مجھے اگلی بار گیا تو تمھیں بھی ساتھ لے چلونگا پھر یہ مت کہنا کہ یہاں کیوں لاۓ ھو۔۔
مایا کو جواب دیکر وہ سیدھا کچن میں آیا رتابہ عضد کیلیۓ روٹی پکا رہی تھی میرے لیۓ بھی ڈال دوگی اپنے ہاتھ کی بنی روٹی علی نے رتابہ سے کہا۔۔۔
اس نے بنا دیکھے جواب دیا جی۔۔۔
کچھ دیر میں سبھی کھانے کی میز پر موجود تھے سوا رتابہ کے عضد نے اسے آواز لگائ رتابہ۔۔۔
وہ کھیر کا باٶل ہاتھ میں لیۓ باہر آٸ کیا کر رہی ھو بیٹھو یہاں میرے ساتھ عضد نے اسے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
علی کھیر کو دیکھ کر کافی خوش ھوا واااہ مزہ آگیا کھیر بھی بناٸ ھے آپ نے یقیناً مزیدار ھوگی۔۔۔
عضد علی کو دیکھ کر پھر رتابہ کو بولا بیٹھو یہاں کھانا کھاٶ میرے ساتھ۔۔۔
وہ ان دونوں کے سامنے پزل ھو جاتی تھی عضد نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا۔۔۔
وہ روٹی کے دو تین نوالے کھا کر اٹھی تو عضد نے ابرو اٹھاۓ پوچھا کیا ھوا؟؟
بھوک نہيں مجھے اور وہ چلی گٸ کچن میں واپس۔۔۔
علی نے صرف کھیر کھاٸ اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
وہ برتن اٹھانے باہر آٸ تو عضد اور مایا میز پر ہی موجود تھے عضد نے رتابہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔
گلناز نہيں تھی تمھارے ساتھ اتنا کام تھا آج کچن کا پھر تم نے کھیر کیوں بناٸ ھے کل بنا لیتی عضد کے سوال پر وہ بولی۔۔۔
آپ نے ہی کہا تھا منہ میٹھا کرنا ھے اسلیۓ بنا دی۔۔۔
مایا ان دونوں کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی رتابہ کی اسقدر معصومیت پر عضد کو ھنسی آگٸ
اسکا دل چاہا وہ پکڑ کر گلے سے لگا لے اسے لیکن اسکی انا اسکے آڑے آٸ۔۔۔
وہ اپنی فیلنگس ھونٹوں کو سکیڑ کر دبانے لگا پھر بڑے پیار سے کہا منہ میٹھا کرنے کیلیۓ کھیر کی ضرورت نہيں تھی تم کافی تھی نا۔۔۔۔
وہ پھر بھی نا سمجھی البتہ مایا سمجھ چکی تھی میٹھی کھیر اسکے حلق سے نیم کیطرح اتری۔۔۔
عضد مسکراتی آنکھوں سے میز پر ہاتھ مار کر اٹھا اور رتابہ کو ہدایت کی یار جلدی سے سمیٹ کر اوپر آٶ۔۔۔۔
وہ ہاں میں سر ہلانے لگی۔۔
عضد اٹھ کر چلا گیا مایا عضد کے جانے کے بعد بولی سنو تمھیں شرم نہيں آتی۔۔۔
وہ پلیٹیں اٹھا رہی تھی اسکی ہاتھ رک گئے کس بات پر؟؟
صبح جو کچھ عضد نے کیا تمھارے ساتھ اس پر تمھیں شرم نہيں آٸ مایا سے اب تک ہضم نہیں ھو رہا تھا صبح والا منظر۔۔
میں نے تو نہيں کہا خود ہی اٹھا لیا تھا انہوں نے مجھے وہ اپنی صفاٸیاں دینے لگی۔۔۔۔
تم جان بوجھ کر گری تھی نا عضد کو اپنے قریب لانے کے کتنے اوچھے ہتھکنڈے آتے ھیں تمھیں اندر کی جلن مایا کے لہجے سے صاف محسوس ھو رہی تھی۔۔۔
رتابہ سیرٸیس ھو گٸ اس میں اوچھے ہتھکنڈوں کی کیا بات ھے شوہر ھے وہ میرا۔۔
مایا ڈائینگ ٹیبل پر پڑے سارے چمچ نیچے گرا کر بولی۔۔۔
تم اور بیوی وہ بھی عضد کی my foot…
رتابہ اسکے غصے پر حیران ھوٸ اسے کیا ھو گیا ھے؟؟
تمھارے جیسی بے شرم لڑکی میں نے پہلے کبھی نہيں دیکھی جس میں شرم اور حیا نام کی چیز نہيں۔۔۔
مطلب کیا ھے آپکے یہ سب کہنے کا رتابہ نے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
سمجھاٶنگی کسی دن ایک ہی بار پہلے تمھارے ڈرامے کی قسطیں تو پوری دیکھ لوں اینڈ پھر میں نے ہی کرنا ھے تمھارے اس سااااارے ڈرامے کا اتنا کہہ کر غصے پاؤں پٹختی وہ چلی گئ وہاں سے۔۔۔
رتابہ نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے پیچھے سے جاتا دیکھا اور اپنے شانے اچکاۓ کہ ناجانے وہ کن ڈراموں کی بات کر رہی تھی۔۔۔
____________
دیان کا پلاسٹر کھل چکاتھا اب وہ ٹھیک تھا نمل اسے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھانا کھلا رہی تھی
نرگس اسکے پاس آکر بیٹھی۔۔۔
امی۔۔۔
جی۔۔۔
آپ رتابہ کے پاس ایک چکر لگا آتیں دیان کو بھی وہ یاد کر رہی تھی کچھ دن کیلیۓ چلی جاٸیں نا آپ مایا سے بھی مل لیں اور وہاں رتابہ کو بھی کچھ سمجھا آٸیں وہ تو بلکل اندھی اور گونگی روح بنی پھرتی رہتی ھے۔۔۔
تم کیوں مایا کو لیکر اتنی ٹینس ھو بیٹا اچھا سوچا کرو ھو سکتا ھے مایا کے ان دونوں کی زندگی میں آنے کا بھی کوٸ نا کوٸ مقصد ضرور ھوگا۔۔۔
امی مقصد اسکا ایک ہی ھے رتابہ کو طلاق دلوا کر عضد سے شادی کرنا۔۔۔
بیٹا اتنا غلط نہيں سوچتے ھو سکتا ھے تمھارا اندازہ غلط ھو۔۔۔
امی آپ نے اسے دیکھا نہيں اسلیۓ آپکی نظر میں اسکے مقاصد نیک ھو سکتے ھیں لیکن میرے نہيں کیونکہ میں نے ان دونوں کو بہت قریب دیکھا ھے ایک دوسرے کے۔۔۔
ھمممم ٹھیک ھے چلی جاتی ھوں کچھ دن بعد لیکن تم اپنی ٹینشن کو ذرا کم کرو نرگس نے گلاسز اتار کر بیٹی کیطرف دیکھ کر کہا۔۔
میری جان ھونی کو کوٸ نہيں ٹال سکتا رب نے جو لکھا نصیب میں وہ سب ھو کر رہنا ھے چاھے اجڑنا ھو یا بسنا۔۔۔
لیکن امی وہ بیچاری تو ابھی تک بسی ہی نہيں کیا اسکی تقدیر میں اجڑنا ہی لکھا ھے بس نمل رتابہ کو لیکر اپنی پریشانی کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔
بیٹا دعا واحد تقدیر کے خلاف ایسا ہتھیار ھے جو اجڑی تقدیروں کو بھی سنوار دیتا ھے تم مایوس کیوں ھوتی ھو پریشان ھونے کے بجاۓ اسکے حق میں دعا کیا کرو نرگس نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔
امی ہر نماز میں دعا کرتی ھوں اس کیلیۓ نمل کا انداز دعا کے نام پر عجیب ہی تھا جیسے کوئی مایوس کھلاڑی میدان جنگ میں اترنے کی بس اپنی ریت رسم پوری کر رہا ھو۔۔۔
نرگس نے محسوس کرتے ھوۓ بڑے پیار سے کہا دعا کرتی ھو لیکن یقین کیساتھ نہيں کرتی۔۔
ماں کی بات پر نمل نے دیان سے نظریں ہٹا کر سوالیہ نظروں سے نرگس کیطرف دیکھا۔۔۔
بیٹا جب دعا مانگنے سے پہلے ہی دل میں اسکے قبول نا ھونے کا شک پالو گی تو وہ قبولیت کی منزل کیسے طے کریگی؟؟؟
نمل دیان کو گود میں لیکر اب ماں کی بات بغور سننے لگی۔۔۔
اپنے اور جازب کے رشتے کو دیکھو تمھیں جازب پر کتنا اعتماد ھے؟؟
امی اس پر اعتماد تو خود سے بھی زیاہ ھے۔۔۔
نرگس کے ھونٹوں پر نمل کا جواب سنکر مسکراہٹ پھیل گئ۔۔۔
یہ اعتماد ہی ھے نا جو تمھارے دل میں جازب کو لیکر کوٸ شک نہيں آنے دیتا۔۔۔
جی امی وہ دیان کو ٹانگ سے جھلا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
تو میری جان اللہ پر بھی تو ایسا اعتماد کر کے دیکھو سارے شکوک دھندلا جاٸیں گے۔۔۔
نمل کی تیزی سے ہلتی ٹانگیں یک دم ساکت ھوئیں۔۔۔
جانتی ھو میں نے آج تک رب سے کوٸ شکوہ نہيں کیا کبھی اسلیۓ میری ہر دعا وہ اپنی تمام مصلحتوں سے ماوری ھوکر دیر سے سہی لیکن قبول کر لیتا ھے۔۔۔
وہ کیسے امی نمل نے کھوۓ کھوۓ انداز میں پوچھا۔۔۔۔
میری جان صبر سے کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کیساتھ ھے اس پاک ذات کو جلد بازی پسند نہيں جلد باز انسان خسارہ اٹھاکر بہت جلد مایوسی کے اندھیروں میں بھٹک جاتا ھے۔۔۔
اور صابر انسان صبر کی منازل طے کرتا اعلی مرتبے پر فاٸز ھوتا رہتا ھے۔۔۔
نمل ایک ٹک ماں کو دیکھ رہی تھی اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین نرگس کے چہرے پر نور کی صورت بکھرا ھوا تھا۔۔۔
نرگس نے اپنی بات جاری رکھی یہ بلندی ضروری نہيں کہ دنیاوی ہی ھو یہ اخروی ھو تو زیاہ بہتر ھے۔۔
پھر نرگس نے اٹھ کر اسکا ماتھا چوما اور میری جان یاد رکھنا میری ایک اور بات صبر ایک ایسی سواری ھے جو حالتِ جنگ میں بھی اپنے شہسوار کو گرنے نہيں دیتی۔۔۔
________
آج وہ آفس سے لیٹ ھو گیا تھا۔۔۔
مایا ناشتہ کر کے نکل ہی رہی تھی کہ عضد کو رتابہ کیساتھ کچن میں دیکھ کر رک گٸ۔۔۔
وہ جلدی میں تھا رتابہ کے چاۓ کا کپ تھمانے پر اسے سائیڈ پر رکھے بغیر ناشتے کے ہی آفس جانے لگا۔۔
سنیں عضد رتابہ کی آواز پر اپنی ٹائ کی ناٹ درست کرتا چلتے ھوۓ پلٹا تو لان میں کھڑی کچن میں جھانکتی مایا کو دیکھ کر رک گیا
ہاں بولو۔۔۔
ناشتہ نہيں کریں گے آپ عضد گہری سانس لیکر اسکے قریب آیا کیا بنایا ھے تم نے ناشتے میں؟؟
وہ عضد کے بے حد قریب آ کر پوچھنے پر پیچھے ہٹتے ھوۓ سلپ کیساتھ جا لگی عضد نے اسے آھستہ سے کمر سے پکڑ کر اسے سلپ پر بٹھایا۔۔۔
اور جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پھر سے پوچھنے لگا کیا بنایا ھے ناشتے میں؟؟
رتابہ اسکے اتنا قریب آ کر پوچھنے پر ایسے گھبراٸ جیسے ماسٹر ڈنڈا لیکر کسی بھلکڑ طالبہ کے سر پر سبق سننے کھڑا ھو جاتا ھے۔۔۔
وہ ہچکچاتے ھوۓ بولی اااانڈہ اور آمممملیٹ۔۔۔۔
چچچچچ چاۓ اور tea…
اور۔۔ اور۔۔ اور۔۔۔
ڈببببل روٹی اور بببب بریڈ۔۔۔
عضد نےھنستے ھوۓ اسکے ڈبل ڈبل الفاظ اردو پلس انگلش سنے پھر بڑے پیار سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے کٹوروں میں لیا۔۔
پھر اسکی حیران آنکھوں میں جھانک کر اپنے مسکراتے لب اسکے ماتھے پر رکھے۔۔۔
یہ رہی چاۓ اور ٹی۔۔۔
پھر اسکے داٸیں گال پر بوسہ لیا یہ رہا انڈہ اور آملیٹ۔۔۔
پھر اسکے باٸیں گال پر بوسہ لیا یہ رہی میری ڈبل روٹی اور بریڈ۔۔۔
رتابہ ھونکوں کیطرح منہ کھولے عضد کو دیکھنے لگی۔۔۔
ھو گیا میرا ناشتہ بس اب خوش۔۔۔
وہ اب بھی جھکا اسکی سانسوں سے بھی زیادہ قریب تھا۔۔۔
رتابہ نے منہ کھولے نا میں سر ہلایا اور ہاں کا لفظ منہ سے نکالا انکار اور اقرار بیک وقت کیا اس نے۔۔۔
عضد اسکے انداز پر کھل کر مسکرایا اور پھر اسے حیران چھوڑ کر جانے لگا تو پھر جاتے جاتے پلٹ کر بولا
کھیر سے زیادہ میٹھی ھو تم۔۔۔
اسے اسوقت کچھ سمجھ نہيں آرہا تھا وہ بلکل پتھر کا بت بنی سلپ پر ہی بیٹھی رہی۔۔۔
مایا نے برداشت نا کرتے ھوۓ گاڑی کے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا مسلسل ہارن بجتا رہا۔۔۔
عضد چپ چاپ آکر گاڑی میں بیٹھا مایا سے کہا کچھ بھی نہيں۔۔۔
البتہ مایا کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ عضد کا خون کر دیتی لیکن اس نے خود کو فی الحال کنٹرول کیا۔۔۔
عضد کو اپنے ھونٹوں پر مسلسل اسکا لمس محسوس ھو رہا تھا اور ایک معنی خیز سی مسکراہٹ مسلسل اسکے ھونٹوں پر تھی
جو مایا کو اسوقت زہر لگ رہی تھی۔۔۔
وہ دونوں کب کے جا چکے تھے۔۔۔
گلناز کچن میں آٸ تو رتابہ اب بھی منہ کھولے سلپ پر ہی بیٹھی ھوٸ تھی جیسے اس نے کسی بھوت کو دیکھ لیا ھو۔۔۔
باجی باجی اس نے دو تین بار اسے پکارا پھر اسکا بازو پکڑ کر ہلایا۔۔
باجی۔۔۔
رتابہ بری طرح چونکی۔۔۔
کیا ھوا باجی کہاں کھو گٸ ھیں؟
اس نے گلناز کو دیکھ کر اپنے ماتھے کو چھوا پھر گالوں کو جہاں عضد نے اسے بوسہ لیا تھا۔۔۔
کیا ھواباجی طبیعت تو ٹھیک ھے نا آپکی؟؟
وہ گم صم سلپ سے ایسے اتری جیسے کوئ ھیپناٹائز ھوتا ھے۔۔۔
وہ کافی حیران تھی عضد کے بدلتے رویۓ پر کہ اسطرح تو اس نے کبھی نہيں چھوا تھا اسے یہ نفرت کی انتہا تھی یا محبت کی ابتدا یا کچھ اور رتابہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔
کوکنگ کرتے ھوۓ اس نے نمک کی جگہ چینی ڈال دی دن میں جب کھانا کھایا تو احساس ھوا کہ سالن میٹھا ھے کافی۔۔۔
اس نے پھر دوسری ہانڈی بنانا شروع کر دی عضد نے گھر کے نمبر پر کال کی۔۔۔
گلناز نے فون اٹھایا باجی آپکا فون ھے۔۔۔
اس نے آکر فون کان کو لگایا تو عضد کی آواز سن کر شرم سے اسکا چہرہ لال ھو گیا اور نظریں اپنے آپ جھک گٸیں۔۔۔
کیا کرہی ھو؟؟اسکی گھمبیر آواز کانوں میں گونجی۔۔۔
کچھ نہيں۔۔۔
اچھا کھانے میں کیا بنایا ھے؟؟
مٹر چکن بنایا تھا وہ خراب ھو گیا اب قیمہ فراٸ کر رہی ھوں۔۔۔
کیوں خراب کیوں ھوا مٹر چکن؟؟
وہ بے دھیانی میں چینی ڈال دی نمک کی جگہ۔۔۔ روانی سے وہ سچ بول گئی۔۔۔
عضد بہت زور سے ھنسا میں نے تمھیں ایک بار منہ میٹھا کرنے کا کیا کہہ دیا تم نے ہر چیز میٹھی بنانا شروع کر دی۔۔۔
رتابہ پریشانی سے ھونٹ دانتوں تلے چبا کر بولی بات سنیں۔۔۔
گھر آٶنگا پھر سنانا عضد نے اسکی بات نا سنی پر اپنی بات پوری سنائ۔۔۔
اور ہاں میٹھا بنانے کی ضرورت نہیں۔۔۔
رتابہ نے اسکی بات سن کر جھٹ سے فون کریڈل پر رکھا اور واپس کچن میں آگئ __________
عضد اور علی آفس سے جلدی گھر آگۓ مایا آفس میں ہی تھی۔۔۔
رتابہ ہال میں بیٹھے علی اور عضد کیلیۓ پانی لاٸ۔۔۔
عضد نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا کیا کہنا چاہ رہی تھی فون پر تم؟؟
وہ علی کو دیکھ کر بولی کچھ نہيں پھر گلاس لیۓ کچن میں واپس آٸ۔۔۔۔
عضد اسکے پیچھے آیا بولو کیا کہنا تھا؟؟؟
وہ نظریں جھکا کر اپنی انگلیاں چٹخانے لگی وہ۔۔۔ وہ۔۔۔جو آپ نے صبح کیا وہ اچھا نہيں کیا۔۔۔
وہ پھر اس کی طرف جھکا صبح کیا کیا تھا میں نے مجھے یاد نہيں۔۔۔۔
علی اپنے کمرے میں جاتا ھوا رک گیا جو کچن کیساتھ ہی تھا۔۔۔
آپ بھول گۓ آپ نے کیا کیا تھا؟؟ رتابہ نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔
وہ اپنا سر کھجا کر بولا ہاں یار سوری بھول گیا تھا بتاٶ کیا کیا تھا میں نے وہ جان بوجھ کر انجان بننے لگا۔۔
وہ عضد کی آنکھوں میں دیکھنے لگی آپکو واقعی یاد نہيں۔۔۔
نہيں یاد اسلیۓ پوچھ رہا ھوں۔۔۔
عضد کی سوالیہ آنکھیں دیکھ رتابہ سمجھی شاید وہ خواب تھا پھر جو اسے حقیقت لگا۔۔۔
بولو بھی۔۔۔
کچھ نہيں اس نے سر جھٹکا۔۔۔
ارے کیسے کچھ نہيں ابھی تو کہہ رہی تھی میں نے اچھا نہيں کیا اور اب کہہ رہی ھو کچھ نہيں کیا۔۔۔
اگر میں نے اچھا نہيں کیا تو یاد دلا دو کیا پتہ پھر کل غلطی دوہرا نا لوں عضد نچلا ھونٹ دانتوں تلے دباۓ اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
آپ نے وہ آگے چپ ھو گٸ۔۔۔
ہاں کیا میں نے؟؟
آپ نے مجھے رتابہ کی ہمت نہيں ھو رہی تھی آگے بولنے کی۔۔۔
کیا مارا تھا تمھیں میں نے یا غصہ کیا تھا؟؟
اس نے جھٹ سے نا میں سر ہلایا۔۔۔
تو پھر کیا کیا تھا میں نے؟؟
آپ نے پپپپپ پیار کیااااا تھا ممممم مجھے اب وہ ہکلانے لگی۔۔
عضد انجان بننے کا ناٹک کرنے لگا اور پوری آنکھیں کھول کر کہا میں نے تم سے پیار کیا تھا حیرانی عضد کے چہرے سے چھلکتی ھوئ رتابہ کو صاف دکھائی دی۔۔۔۔
اچھاااا کب اور کیسے؟؟ وہ بلکل انجان بنا۔۔۔
رتابہ کو پھر اس حقیقت پر خواب کا گمان ھوا آپ نے پیار نہيں کیا تھا مجھے صبح کچن میں جب ناشتے کے لیۓ میں نے آپ کو بلایا تھا۔۔۔
اچھااااا وہ سوچنے لگا ھممممم مجھے یاد نہيں۔۔۔
وہ سر جھٹک کر بولی پھر خواب ہی تھا وہ۔۔۔
کیا خواب تھا عضد نے بڑی دلچسپی سے پوچھا۔۔۔
آپکو کیوں بتاٶں اسکا بچکانہ انداز ھمیشہ کیطرح عضد کو بے چین کرنے لگا تھا۔۔۔
کیا خواب دیکھا تھا عضد اسے شرارت سے تنگ کرنے لگا۔۔۔
آپ نے نہيں دیکھا میں نے دیکھا ھے جانے دیں وہ کچن سے جانے لگی۔۔۔
عضد نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا اور بڑے والہانہ انداز میں کہا پتہ ھے تمھیں ایک خواب میں نے بھی دیکھا ھے۔۔۔
کونسا؟؟؟اس نے فوراً پوچھا۔۔۔
بتانے والا نہيں عضد نے بڑی مشکل سے اسکے چہرے کی اڑتی ھوائیاں دیکھ کر اپنی ھنسی روکی ھوئ تھی۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں سر ایک طرف جھکا کر بولی کیوں ؟؟
تم نے سنایا اپنا خواب مجھے نہيں نا پھر میں کیوں سناٶں عضد کندھے اچکاۓ نا کرنے لگا۔۔۔
پہلی بار عضد اسکے ساتھ اتنی لمبی بات وہ بھی اتنے تحمل اور پیار سے کر رہاتھا۔۔۔
میں نے بتایا تو ھے پیار کرتے دیکھا تھا نا اب رتابہ بہت کنفیوز ھو رہی تھی۔۔۔
کیسے پیار کیا تھا میں نے یہ بھی بتاؤ وہ بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا اسکی آنکھوں میں جگنو چمکنے لگے تھے۔۔۔
وہ اپنے دونوں گالوں پر ایک ساتھ انگلیاں رکھ کر بولی یہاں پیار کیا تھا آپ نے۔۔۔
عضد نے بڑی چاہ سے اسکا چہرہ پھر سے ہاتھوں میں لیا نہيں یہاں نہيں کیا تھا میں بتاتا ھوں کہاں کیا تھا۔۔۔
رتابہ نے پلکیں جھپکاٸیں آپ کو کیسے پتہ۔۔۔
میں نے جو خواب دیکھا تھا نا وہ بتا رہا ھوں عضد نے پہلے اسکا ماتھا چوما پھر اسکے دونوں گالوں پر بوسہ لیا تو وہ فوراً پیچھے ہٹی۔۔۔
آپ جھوٹ بول رھے ھیں آپ نے خواب نہيں دیکھا تھا آپ نے صبح سچی سچی میں مجھے ایسے ہی پیار کیا تھا۔۔۔
عضد بہت زور سے ھنسا اچھا لیکن تمھیں کیوں لگا خواب تھا وہ اور یہ کیوں کہا کہ اچھا نہيں کیا میں نے۔۔۔
آپ ھمیشہ نفرت کرتے ھیں مجھ سے آپ نے خود ہی کہا تھا کہ آپ کبھی بھی مجھے نہيں چاہ سکتے اسلیۓ خواب لگا۔۔۔
عضد نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے ھمممم اور برا کیوں لگا۔۔۔
آپ نے جیسے کچھ دن پہلے بھی مجھے بانہوں میں لیا تھا جب میں اسٹول سے گری تھی۔۔۔
ہاں لیا تھا اسمیں براٸ کیا ھے؟؟
برا تھا وہ سب بھی۔۔۔
وہ پھر اسکے قریب ھوا کس نے کہا برا تھا وہ بھی اور آج بھی۔۔۔
بس آپ دوبارہ مت کرنا ایسا لوگ سمجھتے ھیں بہت بے شرم ھوں میں اور آپکو قریب لانے کے لیے ایسی حرکتیں جان بوجھ کر کرتی ھوں۔۔۔
عضد سمجھ گیا وہ کیا کہنا چاہتی ھے اچھا تو اب یہ بھی بتا دو یہ سب تم سے کونسے لوگوں نے کہا ھے؟؟
رہنے دیں بس آپ آٸندہ ایسا مت کرنا۔۔۔
میں تو کرونگا۔۔۔
کیوں کریں گے آپ یہ سب اور کس حق سے۔۔۔
ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ مایا ہال میں داخل ھوٸ تو علی فوراً اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
وہ سیدھا پرس ٹیبل پر پھینک کر صوفے پرگرنے کے اندازمیں بیٹھی۔۔۔
رتابہ مایا کو دیکھ کر ڈری پلیز آپ باہر جاٸیں۔۔۔
عضد نے گردن گھما کر مایا کو دیکھا یہی وہ لوگ ھیں نا جو تمھیں بے شرم سمجھتے ھیں۔۔۔
اس نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔
جو لوگ سمجھتے ھیں انکو سمجھنے دو ھم نے لوگوں کا ٹھیکہ نہيں لے رکھا کہ سب کو اپنے میاں بیوی ھونے کا ثبوت دیتے پھریں۔۔۔
اور بیوی ھو تم میری جو چاھے جیسے چاھے میں کرسکتا ھوں تمھارے ساتھ آٸ سمجھ آٸندہ مجھے لوگوں کیوجہ سے روکنا یا ٹوکنا مت وہ اسے وارن کرتا باہر آیا۔۔۔
مایا سر صوفے کی بیک سے ٹکاۓ آنکھیں موندے لیٹی ھوٸ تھی عضد اسے نظرانداز کرتا ہال میں بیٹھ کر ٹی وی پر سونگ چلانے لگا گانا اسکا پسندیدہ چل رہا تھا۔۔۔
مایا نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا وہ کچھ فاصلے پر ہی بیٹھا ھوا تھا۔۔۔
عضد سنگر کیساتھ ساتھ اونچی آواز میں خود بھی گانے لگا۔۔۔
چاند سفارش جو کرتا ھماری دیتا وہ تمکو بتا۔۔۔
شرم و حیا کے پردے گرا کے کرنی ھے ھمکو خطا۔۔۔
ضد ھے اب تو خود کو مٹا کر ھونا ھے تجھ میں فنااااااا۔۔۔
تم اپنا لاٶڈ اسپیکر ہلکا نہيں کرسکتے دیکھ بھی رھے ھو میرے سر میں درد ھے۔۔۔
وہ بے فکری سے ریمونٹ ہاتھ میں گھماۓ بولا تمھارے سر میں درد ھے میرے نہيں۔۔۔
وہ غصے سے چلانے کے انداز میں بولی بند کرو اسے بھی اور اپنا اسپیکر بھی۔۔۔
دونوں بند نہيں ھو سکتے تم سے برداشت نہيں ھو رہا تو چلی جاٶ یہاں سے عضد نے دو ٹوک اسے جواب دیا۔۔۔
علی ٹی وی کی آواز سنکر باہر آیا تو مایا پاٶں پٹختی ھوٸ اپنے کمرے میں چلی گٸ۔۔۔
علی نے عضد سے بات کرنے کی کوشش کی آواز بڑی خوبصورت ھے تمھاری یار۔۔۔
عضد نے اسکا شکریہ ادا کیا اور پھر سے ٹی وی دیکھنے لگا۔۔۔
یار کب تک ایسے ناراض رھو گے اور کب تک اسطرح اگنور کروگے ھمیں سو بار تم سے معافی مانگ چکے ھیں کہو تو پاٶں پڑ کر معافی مانگیں۔۔۔
میں اس متعلق کچھ نہيں کہنا چاھتا عضد نے بنا دیکھے جواب دیا۔۔۔
لیکن کب تک؟؟ علی کی نظریں اسی پر تھیں۔۔۔
جب تک میرا دل نہيں چاھے گا تب تک۔۔۔
علی اور مایا ناواقف تھے اسکی ضد سے کہ وہ کس قدر ضدی اور گھمنڈی ھے اپنی انا کے معاملے میں۔۔۔
رتابہ کیساتھ اسے تین سال سے بھی اوپر کا عرصہ گزر چکا تھا ابھی تک وہ پوری طرح اپنی انا کے خول سےباہر نہيں آیا تھا اور یہاں ان دونوں نے تو اسکی انا کو اسکی عزت نفس کو بہت بڑی ٹھیس پہنچاٸ تھی انکو معافی ملنا مشکل تھی۔۔۔۔
________________
گوپال آج بھی جگہ جگہ بختی اور بندیا کو ڈھونڈتا تھا۔۔۔
جگہ جگہ راستوں کی ٹھوکریں کھاتا وہ پور پور زخمی روح اور تھکے ہارے وجود کیساتھ گھر آیا تو آگے دیوی اور پاٸل رو رہی تھیں۔۔۔
اسکے گھر داخل ھوتے ہی دیوی اسے جھولیاں بھر بھر بد دعاٸیں دینے لگی۔۔۔
بھگوان غارت کرے تیرے جیسے باپ کو جس نے اپنی رنگ رلیوں کی نذر ایک بیٹی کر دی اور اب دوسری کو بھی اسی آگ میں جھونک رہا ھے۔۔
وہ روز اسکے طعنے سن سن کر تھک گیا تھا لیکن آج اس نے دوسری بیٹی کا بھی نام لیا تو وہ تڑپ اٹھا۔۔۔
کیا کہہ رہی ھے یہ تو پاٸل کا نام کیوں لیا تونے۔۔۔
وہ محلے کو سناتی ھوٸ بولی آیا تھا تیری اس بد بخت معشوقہ کا یار۔۔۔
گوپال صحن میں بیٹھا تھا بابو کا نام سن کر بجلی کی سے تیزی سے اندر آیا۔۔۔
کیا کہا تونے بابو آیا تھا بندیا کا کچھ بتایا اس نے؟؟
وہ اپنا ماتھا پیٹ پیٹ کر بولی ہاں وہ آیا تھا بندیا کا تو نہیں بتایا البتہ اب اسکی نظر تیری سولہ برس کی بیٹی پاٸل پر ھے۔۔۔
اور وہ دھمکی دیکر گیا ھے کہ اب اگر تونے وہ بد بخت اسکے حوالے نا کی تو وہ پاٸل کو اٹھا کر لے جاۓ گا۔۔
گوپال کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ پاٸل کا نام سن کر شدید درد سے ٹیسیں اٹھیں اسکے دل میں اور وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر ڈھیر ھو گیا۔۔۔
دیوی کی بد دعاٸیں دیتی زبان یک دم رک گٸ گوپاااااال۔۔۔۔
وہ اسکے پاس آ بیٹھی گوپال کیا ھوا گوپال۔۔۔
پاٸل جلدی پانی لا پاٸل دیکھ آکر کیا ھوا ھے تیرے باپ کو؟؟
وہ روتے ھوۓ باہر آٸ فرش پر آڑھے ترچھے بے سدھ ھوتے گوپال کو دیکھ کر بولی مر جاۓ ایسا باپ تو بہتر ھے۔۔۔
دیوی نے پاس پڑی جوتی اسے دے ماری جس پر وہ دیوی پر بھی چلاٸ۔۔۔
ابھی تو گودیں بھر بھر اسے بددعاٸیں دے رہی تھی اب جب یہ مرنے لگا ھے تو پھر یہ پریشانی کا ڈرامہ رچا کر کیا جتانا چاھتی ھے ماں تو۔۔۔
دیوی نے پاٸل کو غور سے دیکھا اسکی آنکھوں میں بغاوت صاف دکھاٸ دے رہی تھی اسکو۔۔
وہ غم و غصے کی حالت میں کہنے لگی اپنے باپ کو ایسا بولتی ھے کم ذات مجھے تو شرم آرہی ھے تجھے اپنی اولاد کہتے ھوۓ بھی۔۔
وہ بھی ماں کے انداز میں بولی۔۔۔
تجھے تو اسکی پتنی ھونے پر بھی شرم آتی ھے نا اب تھوڑی اور شرم اسکی اور اپنی پرورش پر بھی کر لے۔۔۔۔ _____
رتابہ گہری نیند سے یک دم جاگی عضد بیڈ پر بیٹھا فائلز پر جھکا آفس کا کام کر رہا تھا۔۔۔
رتابہ کو ڈر کر جاگتا دیکھا تو پوچھا کیا ھوا؟؟
وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی پسینہ اسکے ماتھے پر چمک رہاتھا
عضد اسکے پاس آیا اور اسکے ہاتھ تھام کر بولا کیا ھوا ھے کوٸ ڈراٶنا خواب دیکھا ھے کیا؟؟
اسکے منہ سے ایک ہی لفظ نکلا ماما۔۔۔
پھر وہ عضد کے ہاتھوں پر سر رکھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
عضد نے آرام سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا آج تک اس نے ماں کا نام نہيں لیا تھا آج اسکے منہ سے ماں ماں کا لفظ دو بار سن کر وہ کافی حیران ھوا۔۔۔
وہ گوپال کو یاد کر رہی تھی بہت برا خواب دیکھا تھا اس نے۔۔۔
رتابہ عضد نے اسکا سر اونچا کیا کیا ھوا ھے؟؟
میرے ماما جی وہ بلند آواز میں رونے لگی۔۔۔
کون ماما جی عضد پریشان ھو گیا اسکا رونا دیکھ کر۔۔
وہ کیا بتاتی اسے میرے بابا میری ماں میری بہن میری زمین میرا آسمان میری نیند میری صبح میرا سکون میرا چین سارے رشتے تھے اس ایک صورت میں اس ایک نام میں۔۔۔
لیکن افسوس کہ وہ اسکا نام اپنے نام کیساتھ نہيں لے سکتی تھی وہ اپنے آنسو صاف کرتی اٹھی۔۔
عضد نے پھر پوچھا کیا ھوا بتاؤ تو کس کی بات کر رہی ھو تم؟؟؟
آپ نہیں جانتے اتنا کہہ کر وہ عضد سے ہاتھ چھڑا کر وضو بنا کر اپنے کمرے میں چلی گٸ اور اللہ سے رو رو کر گوپال کی خیریت کی اسکی زندگی کی دعاٸیں مانگنے لگی۔۔۔
ایک طرف اسکی اپنی اولاد تھی بندیا اور پاٸل۔۔۔
اور ایک طرف یہ کسی اور کا خون تھا جو گوپال کی تڑپ اپنی رگوں میں اترتی محسوس کر رہی تھی اس نے خواب میں بھی گوپال کو حالت مرگ میں دیکھا تھا۔۔۔
تڑپ اٹھی تھی وہ اسکو ایک نظر دیکھنے کیلیۓ لیکن اسے نہيں معلوم تھا کہ وہ کہاں ھے اب اسکی پہنچ سے اسکی زندگی کی سب سے پہلی چھاٶں اتنی دور تھی کہ اب اس چھاٶں تک جانے کیلیۓ اسے کڑی دھوپ سے ناجانے کتنا گزرنا پڑتا۔۔۔
وہ اس دوری پر بھی اس نام سے خود کو محروم نہيں کرنا چاھتی تھی جو نام اسکا تھا ہی نہيں لیکن اسکے بغیر اسکی ذات ناممکن سی نامکمل سی تھی۔۔۔
وہ اپنے ان ہاتھوں کو دیکھنے لگی جن میں کبھی گوپال کے ہاتھ تھے اب گوپال کے نام پر اسکے ہاتھوں میں صرف دعائيں تھیں۔۔۔
گوپال کو شدید دل کا دورہ پڑا تھا وہ بیہوشی کی حالت میں بھی بختی بختی کرتا رہا ڈاکٹر نے آکر دیوی سے پوچھا کہ بختی کون ھے۔۔۔
دیوی کو اپنا منہ سینا پڑا کیونکہ بیٹی وہ کہہ نہيں سکتی تھی اور سچ بولنے کی ھمت اس میں تھی نہيں۔۔۔
اور ایک رتابہ تھی یہاں رات کے پچھلے پہر تک اسکی درد بھری پکار پہنچ رہی تھی۔۔۔
جب جب گوپال کے لبوں سے بختی کا نام نکلتا ہر آواز پر بختی کا دل سسک اٹھتا اور وہ دعائيں کرتی ہی رہی۔۔۔۔
عضد سو چکا تھا علی نے رتابہ کو دوسرے کمرے میں جاتے ھوۓ دیکھا تھا وہ اسکے پیچھے آیا۔۔
لیکن اسے جاۓ نماز پر سسکتے دیکھ کر کچھ دیر کھڑا رہا پھر واپس لوٹ گیا۔۔۔
کیا رشتہ تھا اسکا رتابہ سے کیوں اسکا دل اسکی طرف کھنچا چلا جاتا تھا ایسی کون سی کشش تھی جو اسے رتابہ کیطرف کھینچ لاتی تھی کیا اسے محبت ھونے لگی تھی رتابہ سے؟؟؟ پھر اس خیال سے اس نے جھرجھری سی لی۔۔
علی رتابہ کو لیکر مسلسل پریشان تھا کون تھی یہ کہاں سے آٸ تھی کیوں رہ رہی ھے یہاں عضد کیساتھ کچن میں انکی ادھورری باتیں سن کر اسے یقین ھو گیا تھا کہ وہ عضد کی بیوی نہيں لیکن وہ تمام حقائق جانے بغیر عضد سے کوٸ بات نہيں کر سکتا تھا۔۔۔
وہ اپنے خیالات خود تک ہی محدود رکھے ھوۓ تھا لیکن اتنا تہیہ کر لیا تھا اس نے خود سے کہ وہ رتابہ کو اسطرح عضد کی زندگی میں نہیں رہنے دیگا وہ رتابہ کی کھوج لگا کر رھے گا اور پھر عضد کے چنگل سے اسے آزاد کریگا چاھے اسکے لیۓ اسے کسی بھی حد سے گزرنا پڑے۔۔۔
____________
کافی دن گزر گۓ تھے عضد کا رویہ ہنوز ویسا ہی تھا علی سے پھر وہ کچھ نا کچھ بول لیتا لیکن مایا تو جیسے اسکے سامنے غاٸبی مخلوق بن کر رہ گٸ تھی۔۔۔
مایا سے آفس میں گُڈز کی ڈیلیوری فاٸل میں غلطی ھو گٸ تھی جس پر اس نے اسے ڈانٹنا بھی مناسب نا سمجھا اور اسے مینیجر کے حوالے کر دیا۔۔۔
مایا جل بھن کر رہ گٸ لیکن آفس تھا اسے صبر کے گھونٹ پینے پڑے وہ گھر جانے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
ان سے کچھ دیر پہلے عضد گھر کیطرف نکل چکا تھا گھر آتے ہی صوفے پر لیٹ گیا اور رتابہ سے سر دبانے کا کہا۔۔۔
وہ نیچے قالین پر بیٹھ کر سر دبانے لگی تو عضد نے بند آنکھیں کھولیں نیچے نہيں اوپر بیٹھو۔۔۔
وہ اسکے سر کے پاس بیٹھ کر دبانے لگی آج پہلی بار عضد نے اسے اپنے درد پر اپنی تکلیف پر پکارا تھا۔۔۔
مایا اور علی کی گاڑی کی آواز سن کر عضد نے اپنا سر اسکی گود میں رکھ دیا۔۔۔۔
بختی کا دل چڑیا کیطرح پھڑپھڑانے لگا اسکی تیز ھوتی دھڑکنیں عضد با آسانی سن رہا تھا وہ کپکپاتے ہاتھوں سے عضد کا سر دبانے لگی۔۔۔
اسکے جسم سے اٹھتی خوشبو آھستہ آھستہ عضد کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی عین اسی وقت مایا اور علی ایک ساتھ باتیں کرتے اندر آۓ تو رتابہ کے ہاتھ رک گۓ۔۔۔
عضد کو رتابہ کی گود میں دیکھ کر مایا کے تن بدن میں آگ لگ گٸ۔۔۔
البتہ علی کی نظروں میں رتابہ کے کپکپاتے ہاتھ اور رنگ اڑا چہرہ تھا۔۔
مایا نے اندر آتے ساتھ عضد کا ہاتھ کھینچ کر اسے بٹھایا اسکی آنکھیں بند تھیں وہ مایا کے کھینچنے پر چلایا یہ کیا بدتمیزی ھے۔۔۔
اچھا میں جو کروں وہ بدتمیزی ھے اور جو تم نے گھر کو سرِ عام رومانس کا اڈا بنا رکھا ھے وہ بدتمیزی نہيں۔۔۔
میرے سامنے اسے بانہوں میں لےلے کر جو پیار جتا رھے ھو نا تم میں خوب جانتی ھوں پیار ویار کچھ نہيں تمھیں بس مجھے جلانے کا سامان بنا رکھا ھے تم نے اسے۔۔۔
بسسس بند کرو اپنی بکواس تمھاری بکواس بہت سن لی تھی اس دن بھی میں نے آج نہيں سنوں گا عضد کی آنکھیں لال سرخ ھو رہی تھیں۔۔۔۔
کیوں نہيں سنو گے تم اسکے ساتھ یہ بیہودگیاں۔۔۔
شیٹ اپ یو عضد دھاڑا اس پر میرے اور اسکے معاملے میں ایک لفظ مت بولنا ورنہ زبان حلق سے کھینچ لونگا تمھاری۔۔۔
عضد اتنی زور سے دھاڑا کہ مایا سہم کر رہ گٸ اسکی ھمت ہی نا ھوٸ کچھ اور بولنے کی۔۔۔
وہ رتابہ کا ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
مایا نے اپنے کمرے میں جاکر غصہ سارا اپنے کمرے کی چیزوں پر نکالا بیڈ شیٹ اتار پھینکی تکیۓ اٹھا اٹھا کر پھینکے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ہر چیز زمین پر پٹخی اور شیشہ بھی ڈریسنگ ٹیبل کا توڑ ڈالا۔۔۔
علی اسکا دروازہ بجاتا رہ گیا پھر وہ اپنے بال نوچ کر چلانے لگی۔۔۔
علی نے لاکر کی ناب گھما گھما کر لاک توڑا۔۔۔
اور اندر آکر غصے سے پاگل ھوتی مایا کو گلے سے لگایا۔۔۔
وہ اسے بھی پیچھ ہٹانے لگی لیکن علی کا گھیرا مضبوط تھا وہ اسے پیار سے سینے سے لگاۓ بہلاتا رہا __________
صبح بغیر ناشتے کے ہی عضد آفس چلا گیا مایا آفس بہت لیٹ آٸ تھی۔۔۔
اسکی حالت سے لگ رہا تھا کہ وہ بہت اپ سیٹ ھے علی نے عضد کے آگے ہاتھ جوڑے کہ وہ اسے کچھ نا کہے۔۔۔
یار کیوں نا کہوں کچھ غصہ اسی کو آسکتا ھے بات کس انداز سے کرتی ھے وہ تم نے دیکھا نہيں۔۔۔
یار اسکی طرف سے میں معافی مانگتا ھوں دوست ھے تمھاری پیار کرتی ھے تم سے یار تمھارا اتنا نظرانداز کرنا اس سے برداشت نہيں ھو رہا اور اسکےایسے رد عمل کے ذمہ دار بھی تم ھو۔۔۔
نا تم اسے اتنی اھمیت دیتے نا آج وہ اپنے نظرانداز ھونے پر اتنا Disheart ھوتی وہ تو جذباتی ھے عورت ذات ھے۔۔۔
یار تم تو مرد ھو تم ہی عقل کا مظاہرہ پیش کرو اور اس جنگ کو ختم بھی کرو۔۔۔
عضد غصے سے بولا مجھے سمجھانے کی ضرورت نہيں تم دونوں کا کوٸ حق نہيں بنتا کہ میری میرڈ لاٸف میں انٹرفیٸر کرو میں رتابہ کیساتھ جیسا بھی سلوک کروں محبت۔۔۔نفرت۔۔پیار یا کچھ اور اس سے تم دونوں کا کوٸ سروکار نہيں اسے بھی سمجھا دو اگر وہ سمجھ گٸ تو معاملات بہتر ھو سکتے ھیں ورنہ۔۔۔
______
عضد ہال میں بیٹھا کافی پی رہا تھا مایا اسکے سامنے آکر بیٹھی۔۔۔
تو وہ وہاں سے اٹھ کر جانے لگا مایا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا عضد نے اس سے ہاتھ چھڑایا تو وہ اسکے سامنے آ کھڑی ھوٸ۔۔۔
ہٹو میرے راستے سے۔۔۔
ناراض ھو مجھ سے۔۔۔
تمھاری ابھی وہ حیثیت نہيں رہی میری زندگی میں کہ تم سے ناراض ھوں میں۔۔۔
عضد تم انسلٹ کر رھے ھو میری۔۔۔
اچھا تو تمھیں بھی پتہ ھے کہ عزت اور ذلت کیا ھوتی ھے strange…….
وہ رو دینے کو تھی تم اچھا نہيں کر رھے میرے ساتھ۔۔۔
مجھ سے اچھے کی امید بھی نا لگانا کیونکہ میں تو گھٹیا ترین انسان ھوں نا تمھاری نظروں میں۔۔۔
وہ بھراٸ ھوٸ آنکھوں سے بولی۔۔۔
i am sorry for everything
عضد پہلی بار میں ہی اسے معاف کر دیتا لیکن وہ اسے ایک دو دن مذید احساس دلانا چاھتا تھا تاکہ آٸندہ وہ ایسی کوٸ بات نا کرے۔۔۔
یار ہٹو میرے راستے سے عضد نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا۔۔۔
وہ رو پڑی اگر تم نے اسی طرح کا سلوک میرے ساتھ رکھا تو میں۔۔۔
وہ اسکی بات سن کر رکا تو کیا؟؟
تو میں کچھ کر لونگی اپنے ساتھ۔۔
وہ اسکے قریب آیا اور اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا دوسروں کیساتھ تو بہت کچھ کر گزرتی ھو تم اپنے ساتھ بھی کچھ کر لو تو
i dont care……
علی آج پھر گھر میں نہيں تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گٸ کوٸ واویلا کوٸ شور شرابا نہيں کیا اس نے نا پلٹ کر عضد کو کوٸ جواب دیا آنسوٶں سے دھواں دھار ھو رہی تھیں اسکی آنکھیں۔۔۔
وہ کمرے میں کافی دیر غصہ اپنے اندر لیۓ ٹہلتی رہی۔۔۔
شام کا وقت تھا عضد اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔۔۔
رتابہ مغرب کی نماز پڑھ رہی تھی جب گلناز بھاگتی ھوٸ اسکے کمرے میں آٸ وہ سلام پھیر رہی تھی۔۔۔
بببببب باااااجی۔۔۔
وہ بوکھلاٸ ھوٸ گلناز کو دیکھ کر بولی کیا ھوا؟؟
باجی جلدی آٸیں میرے ساتھ وہ رتابہ کو لیۓ مایا کے کمرے کیطرف بھاگی۔۔۔
رتابہ نے دیکھا وہ اوندھے منہ بستر پر پڑی ھوٸ تھی اور خون سے بیڈ شیٹ بھری ھوٸ تھی۔۔۔
رتابہ نے اسے سیدھا کیا وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی رگیں کاٹ چکی تھی اسکا جسم بلکل ٹھنڈا اور بے جان ھو گیا تھا۔۔۔
جاری ھے۔۔۔
