Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 11)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 11)
Bad Bakhat by Arshi Noor
ابھی بیوی کا لفظ اسکے منہ میں ہی تھا کہ عضد نے اسے تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔۔
اچانک چھ فٹ لمبے چوڑے عضد کا تپھڑ پڑتے ہی وہ چکرا کر رہ گٸ اسکا کان بھی بند ھو گیا جس گال پر اسے تھپڑ پڑا تھا۔۔۔۔
نکلو میرے کمرے سے باہر وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر گھسیٹتے ھوۓ باہر لایا۔۔۔۔
وہ چپ چاپ اپنی فراق سنبھالے اسکے کمرے سے باہر نکالنے پر رونے لگی۔۔۔
نرگس نیچے سامان سمیٹ رہی تھی اسے کمرے سے نکلتا دیکھ کر فوراً اسکے پاس آٸ۔۔۔۔
عضد دروازہ لاک کرچکا تھا۔۔۔
کھولو دروازہ ماں کی آواز سن کر عضد نے گیٹ کھولا۔۔۔۔۔
وہ رتابہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر آٸ۔۔۔۔۔
یہ کیا بیہودگی ھے باہر کیوں نکالا اسے تم نے نرگس نے غصے سے اسے گھورا۔۔۔۔۔
آپ نے مجھے اسکے ساتھ نکاح کا کہا تھا میں نے کر لیا اب اس سے آگے کی مجھ سے کوٸ امید مت رکھیۓ گا بڑی مشکل سے عضد نے اپنی آواز دھیمی رکھی۔۔۔۔۔۔
نکاح کیا ھے نا تو اب نباہ بھی کرنا ھوگا تمھیں بیوی ھے تمھاری یہ۔۔۔۔
نہيں مان سکتا میں اسے بیوی وہ تقریباً چلاتے ھوۓ بولا تھا۔۔۔
کیوں نہيں مانو گے تم اسے اپنی بیوی ؟؟؟؟
آپ اچھی طرح جانتی ھیں مجھے جوٹھا یا کسی اور کا چھوڑا ھوا کھانے کی عادت نہيں تو پھر یہ تو۔۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ غصے سے دندناتے ھوۓ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
نرگس اسے روکتی رہی لیکن وہ گھر سے ہی چلا گیا۔۔۔۔
نرگس نے سر تھامے بلکل خاموش کھڑی رتابہ کو دیکھا اسکے گال پر اب عضد کی انگلیوں کے نشان ابھر آۓ تھے۔۔۔۔
اس نے نظریں چرا کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا وہ تسلی کیلیے اسے دو لفظ بھی نا بول سکی کہ جانتی تھی وہ رو پڑے گی اور رتابہ کا رونا اب نرگس کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔
رتابہ جب سے اسکے گھر آٸ تھی اسے اکیلے سوتے ھوۓ ڈر لگتا تھا اب بہت وہ ھمیشہ نرگس کے ساتھ سوتی تھی۔۔۔۔
آج اسکا کمرہ بلکل خالی تھا اسے اپنے آپ سے بھی خوف آرہا تھا ایک طرف پھولوں سے سجا سیج دوسری طرف اسکی خاردار جھاڑیوں جیسی قسمت۔۔۔۔۔
وہ آٸینے میں کھڑی گم صم خود کو کافی دیر تک دیکھتی رہی اسکی سانسیں اسکے گلے کا پھندا بنی ھوئ تھیں وہ کھل کر سانس لینا چاھتی تھی۔۔۔
ایسے جیسے بس وہ آخری سانس ھو جس میں اسکی زندگی کے سارے کرب بہہ کر نکل جائیں اور انکا اختتام ھو یا زندگی تمام ھو
پھر اسکی آنکھوں میں رکے ھوۓ آنسوؤں کی باڑ ٹوٹی تو آنسو تیزی سے اسکے گالوں پر لڑھک آۓ۔۔۔۔
وہ اپنے اندر کے کرب سے اب عاجز آ چکی تھی نرگس کی صورت میں اسے اپنے سر پر ممتا جیسی چھاؤں ملی بھی تو پیروں تلے عضد جیسے ھمسفر کے نام پر کرچیاں اور کانٹے تھے جس پر اسکے قدم لہولہان ھونا باقی تھے۔۔۔۔
وہ اپنی داستاں کس کو سناتی کون تھا یہاں اسوقت اسکی تنہائ کے سوا اسکی التجائیں اسکے ہچکیوں میں دم توڑنے لگیں۔۔۔
سانس اٹک کر رہ گیا حلق میں کہ زندگی اس کیلیے بس ایک بھیانک خواب کے علاوہ کچھ نا تھی۔۔۔
لیکن وہ آج سارے آنسو بہانا چاھتی تھی اپنا کرب اپنا درد رب کو سونپنا چاھتی تھی بس وہ چاھتی تھی اب وہ ایک ہی بار میں روۓ کبھی نا رونے کیلیے۔۔۔
اسے اب انسان سے پتھر بننا تھا ایسا پتھر جو ٹھوکر مارنے پر آہ و زاریاں نا کرتا ھو جسے تکلیف نا ھوتی ھو بس اب اسے پتھر بننا تھا۔۔۔۔
بس ایک بار کراہنا چاھتی تھی جس میں اسکے رگوں میں خون کی مانند بہنے والے سارے درد غائب ھو جائیں۔۔۔۔
اس نے روتے ھوۓ آئینے میں پھر سے دیکھا خود کو اور اب کی بار اللہ کو پکارا کہ اسکے سوا اس بھری دنیا میں اسکا کوئ نا تھا۔۔۔۔
آنسو گالوں پر بہہ رھے تھے اب وہ اس دو جہاں کے مالک سے مخاطب تھی۔۔۔۔
رب۔۔۔۔۔۔رب۔۔۔
اے میرے رب۔۔۔۔
مجھے اک آہ بھرنی ھے ۔۔۔
ایک سسکی بس زیادہ نہيں۔۔۔
بس ایک سسکی۔۔۔۔۔
جس میں میرے اندر کے درد کا سارا سرطان نچڑ آۓ۔۔۔۔
بس ایک بار مجھے پوری قوت سے کراہنا ھے ۔۔۔
ہر اس درد پہ جسے میں چپ چاپ پی گٸ۔۔۔۔
اور ہر اس در پر جہاں سے میں ٹھکراٸ گٸ۔۔۔۔۔
مجھے اک آخری بار رونا ھے۔۔۔
پھر کبھی نا رونے کیلیۓ۔۔۔۔
اس زندگی کے اجڑے باغیچے کی زبوں حالی پہ۔۔۔۔
اپنی ذلت کے بدلتے رنگوں پہ۔۔۔۔
ان خشک آنکھوں کی حسرت پہ۔۔۔۔
ان پھٹی ایڑیوں سے رستے خون پہ۔۔۔
اور تیری اس عطا کردہ زندگی پہ۔۔۔۔
اور ہاں اس قسمت پہ۔۔۔۔
بس ایک آہ بھرنی ھے ۔۔۔
درد اور رسواٸ کے اس تماشے پہ۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے رب۔۔۔۔
بس ایک بار کراہنا ھے۔۔۔۔
اپنے اندر کے کربناک درد سے اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے جو اب اسکے گالوں کو جلاتے ھوۓ بہہ رھے تھے۔۔۔۔۔
___________
عضد صبح فجر کی نماز کے بعد گھر واپس آیا۔۔۔۔۔
بکھرے ھوۓ بال روٸ روٸ آنکھیں تھکا ہارا وجود۔۔۔۔۔
نرگس اسے اپنے کمرے میں لے گٸ ناراض ھے مجھ سے ۔۔۔۔
وہ خاموش رہا۔۔۔۔۔
کہنا چاھتے ھو کچھ بولو کیا کہنا ھے۔۔۔۔۔
وہ ماں کو دیکھنے لگا بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں درد کی سرخی صاف دکھاٸ دے رہی تھی۔۔۔۔
نرگس سمجھ گٸ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
میں جانتی ھوں تم دکھی ھو میرے اس فیصلے سے لیکن دل تم نے میرا بھی توڑا ھے۔۔۔۔
نرگس برسوں اپنے بے اولاد ھونے کا اپنے خالی پن کا درد اپنے لہجے میں سمو کر بولی۔۔۔۔
تم نے مجھے آج پہلی بار طعنہ دیا ھے کہ تم میرے اپنے بیٹے نہيں مانا میں نے تمھیں اپنی کوکھ سے جنم نہيں دیا لیکن خون تم میرا ہی ھو بھائ اور بھابھی کے انتقال کے بعد میں نے تمھیں ماں اور باپ بنکر پالا ھے۔۔۔۔۔
عضد تھکن بھرے لہجے میں بولا لفظ بھی اسکے تھکے تھکے روۓ روۓ تھے۔۔۔۔
اور آج آپ نے مجھ سے پالنے کا حق وصول کر لیا ھے امی۔۔۔۔۔
نرگس کو اپنے سینے میں چبھن سی محسوس ھونے لگی۔۔۔۔
آنسو اسکی پلکوں پر ٹھہر گئے بچپن سے آج تک ھزاروں جاٸز نا جاٸز خواہشات پوری کیں میں نے تمھاری اگر آج تم سے اپنی اک خواہش منوالی تو تم نے مجھے پل بھر میں پرایا کر دیا۔۔۔۔
میں نے کب کہا کہ آپ غیر ھیں امی لیکن آپ نے جو مجھے بے اعتمادی کی سولی پر لٹکایا ھے نا اسکی اذیت مجھ سے برداشت نہيں ھو رہی۔۔۔۔۔
مجھے تم پہ خود سے زیادہ اعتبار ھے عضد نرگس نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔۔
نہيں امی نہيں ھے اعتبار آپکو مجھ پر نا اپنی پرورش پر وہ سر جھٹک کر دیوار کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔
ایسے نا بول میرے بچے مجھے ناز ھے اپنی پرورش پر ۔۔۔۔۔
تو پھر آپ نے محض اک شک کی بنیاد پر کیوں میری زندگی داٶ پر لگا دی عضد کی آنکھوں میں اسوقت بھی آنسو تھے۔۔۔۔۔
کیا مجھے اتنا بھی حق نہيں کہ تمھاری زندگی کا فیصلہ کرتی۔۔۔۔
حق ھے آپکو آپ نے مجھے زندگی دی ھے آپ جان بھی مانگیں مجھے انکار نہيں لیکن۔۔۔۔۔
لیکن کیا؟؟؟؟؟
کچھ نہيں آپ نہيں سمجھ سکتیں نرگس کو اسوقت وہ بلکل معصوم سا روٹھے ھوۓ بچے کیطرح لگا۔۔۔
میں سمجھ نہيں سکتی یا یہ کہنا چاھتے ھو کہ میں نے غلط سمجھا اور غلط کیا تمھارے ساتھ۔۔۔۔۔۔
وہ چپ چاپ نرگس کو بس شکوہ کناں نگاھوں سے تکتا رہا اسکی بے چینی اور اداسی نرگس کو بھی اداس کر گٸ۔۔۔۔۔
عضد بیٹا رتابہ کے حوالے سے تمھیں صرف اتنا کہونگی کہ۔۔۔۔ کسی کو اتنا کمتر یا بدتر سمجھ کر کبھی مت چھوڑنا ایسا نا ھو کل کسی بدترین کا ساتھ ملنے پر تمھیں بدتر بھی بہترین لگنے لگے۔۔۔
عضد پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے خاموش رہا۔۔۔۔
میرے بچے جسے تم حقیر سمجھ کر ٹھکرا رھے ھو یہ بھی ممکن ھے نا کہ اللہ کی نظر میں وہ بندہ اسکا محبوب ترین ھو۔۔۔۔
__________
نرگس عضد کے کمرے میں آٸ۔۔۔۔
رتابہ فرش پر پڑی اسطرح سو رہی تھی جیسے کوٸ شیشہ ٹوٹ کر چکنا چور ھو جاتا ھے۔۔۔
نرگس اسکے پاس بیٹھی تو وہ اٹھ گٸ۔۔۔۔۔
نرگس نے بغور اسکا چہرہ دیکھا آنسو اور تھپڑ کے نشان جمے ھوۓ تھے اسکے گالوں پر۔۔۔۔
عضد کی جگہ میں تم سے معافی مانگتی ھوں اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔
انٹی آپ کیوں معافی مانگ رہی ھیں آپکی تو کوئ غلطی نہیں میرے بخت ہی ایسے ھیں میرے نصیبوں میں دھتکار اور مار ہی لکھی ھے یہ کوٸ نٸ بات نہيں ۔۔۔
نرگس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے وہ رتابہ سے نظریں چراۓ کہنے لگی۔۔۔۔
ابھی کچھ مہمان ھیں گھر میں تم تھوڑا تیار ھو کر باہر آنا اور میک اپ ذرا ڈارک کر لینا تاکہ یہ تپھڑ کا نشان چھپ جاۓ انہوں نے بہت نرمی سے اسکے گال پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔۔۔
انٹی مجھے میک اپ کرنا نہيں آتا رتابہ نے سادگی سے کہا۔۔۔
انٹی نہيں امی بولا کرو مجھے نرگس نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔۔۔
رتابہ نےحسرت سے دیکھا نرگس کی طرف جس ذات کو جس رشتے کو اس نےکبھی محسوس ہی نہيں کیا تھا وہ نام زبان پر کیسے لاتی۔۔۔۔۔
تم کپڑے بدل لو میں کچھ دیر میں آتی ھوں خود تیار کر لونگی میں تمھیں۔۔۔۔۔
_____________
جازب کو پریشان کھڑا دیکھ کر اسد اسکے پاس آیا۔۔۔۔
تم بھول کیوں نہيں جاتے اس حادثے کو۔۔۔۔
یار حادثہ نہيں میری غلطی تھی وہ بہت بڑی غلطی ۔۔۔
چلو غلطی ہی سہی پر جینے کیلیۓ سب کچھ بھولنا تو ھوگا نا اسطرح خود کو روگ لگانے سے تو کچھ حاصل نہيں ھوگا۔۔۔۔
انسان خطا کا پتلہ ھے خطاٸیں ھوتی ھیں لیکن ہر خطا پر انسان خود کو سزا دینا خود ہی شروع کر دے تو اسکا یہی مطلب نکلتا ھے کہ وہ رب کے غفور و رحیم ھونے سے مایوس ھے۔۔۔۔
جازب نے سگریٹ کا گہرا کش لگاتے ھوۓ کہا یار کچھ غلطیوں کی نا معافی ھوتی ھے نا تلافی بس آنے والے وقت میں اسکا خمیازہ بگھتنا پڑتا ھے۔۔۔۔۔
اسد بہت گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔
ایسی کوٸ خطا نہيں جسکی تلافی یامعافی نا ممکن ھو سوا شرک کے۔۔۔۔
اگر تجھے غلطی کرنے کا موقعہ ملا تو یاد رکھ پھر زندگی تجھے اسکی تلافی کا موقع بھی ضرور دے گی بس وہ موقع ہاتھ سے جانےمت دینا ۔۔۔۔
جازب نے سگریٹ کا دھواں ھوا میں خارج کیا ایسے جیسے یہ دھواں اسکے دل سے اٹھ رہا تھا پھر ندامت بھرے لہجے میں بولا یار ناقابل معافی گناہ ھی تو ھو گیا مجھ سے اسکی محبت میں۔۔۔۔
_______________
رتابہ سبز رنگ کے لباس سے تیز میک اپ کے ساتھ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
عضد کسی کام سے اندر آیا تو رتابہ اسے دیکھ کر فوراً کمرے سے باہر چلی گٸ کہ کہیں وہ پھر سے اس پر غصہ نا ھو۔۔۔۔۔
مہمان سارے شام ھوتے ہی چلے گۓ۔۔۔۔۔
نرگس نے عضد کو اپنے کمرے میں بلایا تم نے اس پر ہاتھ کیوں اٹھایا ؟؟
وہ سر جھکاۓ بیٹھا۔۔۔۔۔
نرگس اسکے سر پر آ کر کھڑی ھوئی نگاھیں اسکے بکھرے ہوئے بالوں پر تھیں ۔۔۔
عضد اپنے زعم کے بتوں سے باہر نکل کر خدا کی مخلوق پر رحم کرنا سیکھو کسی پر اختیار پا کر اسے ذلیل اور رسوا مت کرو ۔۔۔۔
پھر وہ اسکے ساتھ بیٹھی اور اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔۔۔۔
دیکھو میرے بچے رب کی ذات بہت بے نیاز ھے وہ ھمارے ہر عمل کا حساب رکھتا ھے۔۔۔
اسکی خلقت کو خلوص اور شفقت سے نوازو تاکہ اسکی رحمتوں سے تم بھی نوازے جاٶ۔۔۔۔۔
امی آپکے لیۓ یہ سب بہت آسان ھے میرے لیۓ نہيں اتنا کہہ کر وہ اٹھ کر جانے لگا۔۔۔۔۔
بیٹا وہ بے قصور ھے نرگس نے جاتے ھوئے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔۔
امی قصور وار میں بھی نہيں تھا جو گناہ کی پوٹلی آپ نے میرے سر لاد دی ھے نا اسکا بوجھ اٹھا کر میں نہیں چل سکتا میں اپنی زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔۔۔۔عضد کے لہجے میں سختی تھی۔۔۔۔
اسے ایک بار میری نظر سے دیکھو تو سہی بیٹا وہ ہیرا ھے وقتی سیاہی سے سیاہ ھے اسے پیار محبت سے تراش کر تو دیکھو وہ تمھارا جیون بھی انمول کر دیگی۔۔۔۔۔
وہ شکایتی نظروں سے ماں کیطرف پلٹا امی کوٸ مول نہيں ھوتا ایسے ہیرے کا جس ھیرے میں دراڑ پڑ جاۓ وہ ستاٸشی نظروں کا نہيں بلکہ طنز اور مزاح کا شکار بن جاتا ھے تراشنے والے کیلیۓ بھی ۔۔۔۔
_______________
انٹی انٹی کہاں ھیں آپ۔۔۔۔
اریج کسی کام سے انکے گھر آٸ۔۔۔۔
رتابہ کو دیکھ کر نرگس سے بولی۔۔۔۔۔
انٹی مجھے بوتیک جانا ھے رات 12 بجے کی میری فلاٸیٹ ھے پاپا اکیلے اس ٹاٸم نہيں جانے دے رھے آپ چلیں نا میرے ساتھ پلیززززززز۔۔۔۔۔
میں تھک گٸ ھوں بیٹا بہت تم رتابہ کو لے جاٶ۔۔۔۔۔
ھیں۔۔۔۔۔۔۔ نٸ نویلی دلہن کو لے جاٶں وہ بھی اسکے دلہا سے پوچھے بغیر اریج نے حیرت کا اظہار کیا۔۔۔۔
اسکی اجازت کی ضرورت نہیں تم لے جاٶ۔۔۔۔۔
وہ خوشی سے نرگس کے گلے سے لگی شکریہ انٹی لیکن اس سڑیل نے مجھے کچھ کہا تو؟؟؟
نرگس ھنس پڑی۔۔۔
کچھ نہيں کہتا میں ھوں نا نرگس نے اسے تسلی دیتی ھوے کہا۔۔۔۔
اریج خوشی خوشی اسے ساتھ لے گٸ۔۔۔۔۔
راستے میں اس نے کافی باتیں کیں رتابہ اسکے سوالوں پر صرف ہاں اور مسکرانے میں اکتفا کر سکی۔۔۔۔
بوتیک پہنچ کر اریج اپنی شاپنگ میں مصروف ھو گٸ اس نے ایک دو بار بختی کو بلایا لیکن اس نے منع کردیا اور ایک طرف صوفے پر بیٹھ گٸ۔۔۔۔۔
اتنی چمک دمک والی باہر کی دنیا بھی اسکے اندر کی اداسی کم نا کر سکی۔۔۔۔
وہ گہری سوچوں میں گم تھی جب کسی جانی پہچانی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا بختی تم یہاں؟؟؟
زارا کو سامنے دیکھ کر وہ بوکھلا کر کھڑی ھوٸ۔۔۔۔۔
کہاں چلی گٸ تھی تم سب کچھ اسطرح چھوڑ کر؟؟؟ جنتی ھو کتنا پریشان رہی میں کتنا ڈھونڈا تمھیں۔۔۔۔۔
آس پاس کے لوگ بھی زارا کا غصہ دیکھ کر انکی طرف متوجہ ھوۓ۔۔۔۔۔
بختی نے پاس آتی اریج کی طرف دیکھ کر ہاتھ جوڑے زارا کے آگے پلیز آپی میں۔۔۔
بات اسکی ادھوری رہ گئی جڑے ہاتھوں سے اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی جب اریج پاس آ کر کھڑی ھوئ۔۔۔۔۔
رتابہ یار تمھارے لیۓ کچھ لوں اریج شاپرز اٹھاۓ اسکے پاس تھی۔۔۔
نننن نہيں مجھے کچھ نہیں چاہیے وہ ہڑبڑا کر بولی۔۔۔۔
ہاں بھٸ اب تمھیں ھماری کہاں ضرورت اب تو عضد صاحب کا جیب ہی ھلکا کرو گی تم۔۔۔۔
رتابہ بمشکل مسکراٸ۔۔۔۔
چلو ٹھیک ھے مجھے آدھا گھنٹہ لگے گا پھر گھر چلتے ھیں اریج پھر سے شاپنگ میں مصروف ھو گٸ۔۔۔۔
زارا اسے سیکنڈ فلور پر لےگٸ ۔۔۔۔
بتاٶ مجھے اب یہ لڑکی کون تھی اور عضد کون ھے؟؟ اور یہ بختی سے رتابہ کا کیا چکر ھے؟؟؟
بختی اپنے ساتھ بیتے ھوۓ چند دنوں کے واقعے سے لرز کر رہ گٸ۔۔۔
پلیز بتاٶ مجھے کیا ھوا تھا کیوں بھاگی تم میرے گھر سے زارا نے اسے بازو سے سختی سے پکڑ کر پوچھا۔۔۔۔۔
اور خون سے بھرے کپڑے کس کے تھے؟؟جلدی بتاٶ ورنہ میں تمھیں پولیس کے حوالے کر دونگی۔۔۔۔۔
زارا کی دھمکی سن کر بختی رو پڑی۔۔۔
بختی رونا بعد میں پہلے مجھے سچ سچ بتاٶ کیا ھوا تھا اس رات کون تھا میرے گھر میں تمھارے ساتھ؟؟؟
بد بخت کے ساتھ اسکی بد بختی کے علاوہ کون ھو سکتا ھے؟؟؟ اس نے کپکپاتے لبوں سے کہا۔۔۔
بختی رونا بعد میں بتاؤ مجھے سچ سچ جھوٹ مت بولنا۔۔۔۔
رتابہ اسے اپنے اجڑنے کی داستان سنانے لگی۔۔۔
آپ نے جب مجھے گیٹ پر اتارا تو میں لاک کھول کر اندر گٸ لاٸٹ نہيں تھی ۔۔۔۔
وہ اپنی بے بسی کی کہانی لفظ بہ لفظ رو رو کر سنا رہی تھی۔۔۔۔
اففف اللہ لاٸٹ نہيں اتنا اندھیرا دیکھ کر بختی نے کینڈل اسٹینڈ ڈھونڈ کر روشنی کی اتنے گھپ اندھیرے میں کینڈل کی روشنی نا ھونے کے برابر تھی کہ اسٹینڈ پر ایک ہی کینڈل موجود تھی جسکی روشنی کچھ دیر کا ساتھ تھی۔۔۔
اس نے پھر کمرے میں جا کر جلدی سے پہلے اپنا بھاری فراق اتارا اور کپڑے بدل کر جیسے ہی بیڈ پر لیٹی اسے اپنے ساتھ کسی کی موجوگی کا احساس ھوا کلون کی خوشبو اسے خود سے قریب ھوتی محسوس ھوئ۔۔۔
وہ گھبرا کر یک دم اٹھنے ہی لگی تھی کہ کسی نے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔
شششششش۔۔۔۔۔ چپ شور مت کرنا۔۔۔۔۔
اندھیرے میں وہ دیکھ نا پاٸ کون ھے؟؟
اپنا بازو چھڑا کر وہ باہر کیطرف بھاگی تو کینڈل اسٹینڈ فرش پر جا گرا اور ایک ہی موم بتی جو جل رہی تھی وہ بھی بجھنے لگی۔۔۔۔۔
بھاگتے ھوۓ اندھیرے میں وہ صوفے سے ٹکراٸ تو منہ کے بل جا گری۔۔۔۔۔
گھٹنے پر چوٹ لگنے سے وہ اٹھ نا سکی اور بہت آرم سے شکار کرنے والے کے ہاتھ لگ گٸ۔۔۔۔۔
وہ کون تھا اور کیا کرنا چاہتاتھا بختی کو نہيں معلوم تھا۔۔۔۔
کککوووون ھو تم۔۔۔۔۔۔۔
اس شخص نے بجھتی ھوٸ موم بتی کی روشنی میں اک جھلک اسے دیکھا تو ھوش میں نا رہا وہ اسکی ساگر جیسی گہری آنکھوں میں ڈوب گیا۔۔۔۔۔
بختی اسے نا دیکھ سکی وہ اپنی طاقت اور شراب کے نشے میں کمزور سی بختی پر ٹوٹ پڑا۔۔۔۔۔
بختی بہت چلاٸ بہت واسطے دیۓ لیکن بادلوں کی دل دہلا دینے والی گرج چمک نے اسکی ساری گزارشیں اسکی التجاٸیں نگل لیں اس ظالم شخص کیطرح جو نشے میں دھت اپنی ھوس کی آگ میں اسے جھلسا رہا تھا۔۔۔۔
بختی ہاتھ پاٶں مار مار کر بھی تھک گئ تھی لیکن اس پر نا تقدیر کو رحم آیا نا اپنی ھوس کا نشانا بنانے والے کو۔۔۔۔
چند لمحوں میں ہی وہ اسکی حیا کے سارے پردے گرا کر اسکی معصومیت سے کھیل چکا تھا۔۔۔
باہر اور مردوں کی آواز سن کر وہ مذید دہشت زدہ ھوٸ اس نے جان چھڑانی چاہی پر اس انجان شخص کا دباٶ مذید بڑھا اس پر اس نے ایک ہاتھ بختی کے منہ پر رکھا ھوا تھا۔۔۔۔
بختی نے اپنی ھمت جمع کی اور اسے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس پر دوبارہ غلبہ پاتا بختی نے کینڈل اسٹینڈ اسکے سر پر دے مارا۔۔۔۔۔
بادلوں پر کڑکتی ھوئ بجلی کی چمک سے اسکے چہرے کے نقوش بختی پر واضح ھوۓ اسکے سر سے بہتا خون دیکھ کر بختی اپنے گرد چادر لپیٹ کر وہاں سے بھاگی۔۔۔۔
وہاں مذید مردوں کی موجودگی محسوس کر کے خوف کے مارے وہ اپنے درد بھول گٸ۔۔۔۔
اسے یاد رہا تو بس اتنا کہ اس نے دوسرے اندر آنے والے مردوں سے خود کو بچانا ھے ۔۔۔۔
لیکن مین گیٹ سے بھاگتے ھوۓ اسے دیکھ لیا انہوں نے وہ بھی بھاگے اسکے پیچھے۔۔۔۔
وہ تیز طوفانی بارش میں سر پٹ بھاگی زارا کو سارا قصہ سناتے ھوۓ اسکے آنسو اس وقت بھی اذیت سے لگاتار بہہ رھے تھے۔۔۔
زارا بھی نا روک سکی اپنے آنسو۔۔۔۔
اس نے بختی کو گلے سے لگا کر چپ کروایا آپی بہت تکلیف ھوئ تھی مجھے میری سانسیں بھی رکنے لگی تھیں اس پل مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہا ھے میرے ساتھ اور یہ سب کیوں کیا میرے ساتھ اس نے رتابہ زارا کے سینے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی؟؟؟
آپی میں نے بہت پکارا آپ کو بہت روئ چلائ ہاتھ جوڑے اسکے آگے لیکن اس شخص پر کچھ اثر نا ھوا نا میری تکلیف کا نا میری التجا کا۔۔۔۔۔
زارا نے اسکے گرد اپنی بانہوں کا حصار ٹائٹ کرتے ھوۓ کہا کاش میں تمھیں اسوقت ساتھ لے جاتی تمھیں گھر ڈراپ نا کرتی تو یہ سب نا ھوتا تمھارے ساتھ۔۔۔۔
پھر زارا نے اسے خود سے الگ کیا اور اسکا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کیا۔۔۔۔
تم پہچانتی ھو کون تھے وہ لوگ؟؟؟؟
نہیں بس اتنا جانتی ھوں انسان کے روپ میں حیوان تھے۔۔۔۔
زارا نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا پھر تم کہاں گٸ بھاگ کر؟؟؟
میں جب بھاگی گھر سے مجھے نہیں معلوم تھا میں کہاں جا رہی ھوں لیکن روڈ سامنے دیکھا تو وہیں پر بھاگی میں وہاں پر کچھ مرد آپس میں لڑ رھے تھے میں نے جلدی سے بھاگ کر اسوقت ایک گاڑی میں پناہ لی۔۔۔۔۔
کس کے پاس ھو اب تم زارا نے اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس دیا۔۔۔۔۔
جسکی گاڑی میں پناہ لی تھی اسکی پناہوں میں ھوں اب۔۔۔۔
کون ھے وہ؟؟
میرا شوہر عضد شاہ۔۔۔۔
کیاااااا؟؟؟ زارا کو حیرت کا دھچکا لگا۔۔۔
تم نے شادی کر لی کب اور کیسے؟؟
رتابہ نے پانی کے گھونٹ حلق سے اتارتے ھوۓ کہا اللہ تعالیٰ کو رحم آگیا مجھ پر اس نے مجھے ایسے گھرانے میں بھیجا جہاں مجھے ماں جیسی نرگس انٹی ملی عضد انہی کا بیٹا ھے۔۔۔
زارا بہت خوش ھوٸ تھی اسکی شادی کا سن کر لیکن وہ پریشان بھی بہت تھی کہ اسکے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ھوئ تھی اور وہ اسے کتنا غلط سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اور بختی کی شادی کا سن کر اس سے رہا نہیں جا رہا تھا کہ نا جانے کیسے لوگ تھے وہ جن کے پاس تھی وہ اسوقت۔۔۔۔
کیا میں مل سکتی ھوں تمھاری ساس اور تمھارے شوہر سے ؟؟
نہيں زارا آپی ابھی نہيں ۔۔۔۔
زارا نے بغور اسکے چہرے کیطرف دیکھا کیوں؟؟ کیا وہ تمھاری سچائ نہیں جانتے؟؟؟؟
جانتے ھیں سب کچھ زارا آپی میرے شوہر بھی اور میری ساس بھی ۔۔۔۔
تو پھر تم ڈر کیوں رہی ھو اتنا اور تمھارے ساتھ وہ لڑکی کون ھے؟؟؟
وہ پڑوسی ھے ھماری اسے کچھ نہیں معلوم کسی بھی بارے میں انٹی نے مجھے اپنے دور پرے کی رشتے دار کہا ھے۔۔۔
ھممممم اچھے ھیں تمھارے سسرال والے؟؟؟
نا جانے کیوں زارا کو دھڑکا سا لگا ھوا تھا اسکی شادی کا سن کر وہ خوش تھی لیکن مطمئن نہیں ھو پا رہی تھی۔۔۔۔۔
جی آپی بہت اچھے ھیں سب بس میری ساس ھے اور شوہر نرگس نام ھے انکا بلکل ماں جیسی ھیں وہ نا جانے میری کس نیکی کا صلہ ھے کہ مجھے وہ ملیں۔۔۔۔
زارا نے بختی کی ٹھوڑی ہاتھ سے اونچی کی یہاں دیکھو میری طرف سچ کہہ رہی ھو نا؟؟؟
جی آپی میں جھوٹ کیوں بولونگی آپ سے۔۔
زارا نے سکون کا سانس لیا چلو ٹھیک ھے تمھیں جب بھی میری ضرورت پڑے آجانا میرے پاس ۔۔۔
اسی بوتیک کے پیچھے میرا پارلر ھے۔۔۔۔
___________
عضد کے ساتھ نکاح ھوۓ اسے دو ماہ گزر گۓ تھے۔۔۔۔۔
عضد سے مکمل طور پر اسکی علیحدگی تھی وہ نرگس کے ساتھ سوتی تھی۔۔۔
اور عضد کو وہ ایک آنکھ نا بھاتی غلطی سے بھی وہ اسکے سامنے آجاتی تو عضد کے غیظ و غضب کا شکار ھوتی۔۔۔۔۔
ھمدانی انٹرپراٸز میں عضد کی جاب لگ چکی تھی وہ اس نٸ جاب کیوجہ سے بہت مصروف رہتاتھا۔۔۔
نرگس اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی پر وہ ٹس سے مس نہيں ھوتا تھا۔۔۔۔
ایک دن باس کیساتھ آفس سے کسی کام سے جاتے ھوۓ گاڑی خراب ھو گٸ راستے میں وہاں سے عضد کا گھر قریب تھا۔۔۔۔
گرمی بہت شدید تھی۔۔۔۔
وہ باس کو اپنے گھر لے گیا نرگس سے ملکر ھمدانی صاحب بہت خوش ھوۓ۔۔۔۔
اور عضد کی بہت تعریف کی۔۔۔۔
عضد انکی گاڑی مکینک کے پاس لے کر گیا ھوا تھا۔۔۔۔
ھمدانی صاحب باتوں میں مصروف تھے جب رتابہ چاۓ کی ٹرالی مختلف لوازمات سے بھر کر لاٸ اندر آتے ہی اس نے پہلے سلام کیا۔۔۔۔۔
ھمدانی نے سلام کا جواب دیا۔۔۔
یہ بیٹی ھیں آپکی؟؟؟
نرگس نے بہت پیار سے کہا۔۔۔
جی میری بیٹی جیسی بہو ھے۔۔۔۔
ھمدانی کو سن کر تھوڑا تعجب ھوا عضد میرڈ ھے ؟؟ اس نے کبھی بتایا نہيں مجھے۔۔۔۔۔
رتابہ نے انکو چاۓ پکڑاٸ۔۔۔۔
ایک عجیب سی کشش نے ھمدانی کو رتابہ کی طرف کھینچا۔۔۔۔
وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دینے لگے اور ساتھ ہی اپنے واٸلٹ سے ہزار ہزار کے نوٹ نکال کر اسکے سامنے رکھے۔۔۔۔
بیٹا یہ میری طرف سے شادی کا کوٸ تحفہ لے لینا۔۔۔۔۔
نرگس اور رتابہ کے انکار پر بھی انہوں نے زردستی پیسے دیۓ اگر آپ نے یہ نا لیے تو بیٹا میں ناراض ھو جاؤنگا۔۔۔۔
نرگس کے سر سے ہاں کا اشارہ کرنے پر رتابہ نے اٹھا لیے۔۔۔۔
یہ تو بہت کم ھیں آپکی اس پیاری سی بچی کیلیۓ ۔۔۔۔۔بارہ ہزار کی رقم تھی وہ۔۔۔۔
کچھ دیر میں عضد اپنی کار لے آیا۔۔۔۔
ھمدانی اسکی پیٹھ تھپتھپا کر بولے ماشاللہ بہت مہذب فیملی سے ھو بہت خوشی ھوٸ مجھے تمھاری امی اور بیوی سے ملکر۔۔۔۔
جاتے جاتے انہوں نے ایک بار پھر پلٹ کر رتابہ کو دیکھا اور اللہ حافظ کہہ کر عضد کیساتھ چلے گۓ۔۔۔۔۔
عضد ۔۔۔
جی سر۔۔۔۔۔
یار تمھارا گھر بہت دور ھے آفس سے کہیں قریب کسی سوسائٹی میں لو گھر۔۔۔۔
سر قریب کی سوسائٹیز میں گھر افورڈ نہيں کرسکتا میں اور فلیٹس میں رہنا امی کو پسند نہيں ۔۔۔۔
____________
عضد کی پروموشن ھو گٸ تھی وہ بہت خوش تھا پروموشن کیساتھ اسے آفس کیطرف سے نیا گھر بھی ملا جو اچھا خاصا خوبصورت اور بڑا تھا۔۔۔۔
ھمدانی سر نے اپنے گھر میں ایک پارٹی رکھی جس میں عضد کو اسکی فیملی کیساتھ آنے کا حکم ملا تھا۔۔۔۔
نرگس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہيں تھی اس نے جانے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔
اب مجبوراً رتابہ کو ہی ساتھ لے جانا پڑا اسے نرگس نے بڑی خوشی سے اسے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا۔۔۔۔۔
ہلکے سے میک اپ اور ڈارک پنک لپ اسٹک کے ساتھ فیروزی رنگ کا جوڑا اس پر بہت جچ رہا تھا۔۔۔۔
عضد گاڑی میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا وہ چلتی ھوٸ گاڑی کے قریب آٸ۔۔۔۔
تو عضد نے پیچھے والا گیٹ کھولا ۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ بٹھانے پر تیار نہيں تھا رتابہ چپ چاپ بیٹھ گٸ۔۔۔۔
عضد کی نظر ویومرر میں نظر آتی رتابہ پر پڑی تو پل بھر اسے دیکھنے سے خود کو روک نا سکا۔۔۔۔۔
پارٹی میں عضد کیوجہ سے اسے خاصی اہمیت دی گئ سبھی آفیسرز کی بیویوں نے رتابہ کو گھر لیا۔۔۔۔
وہ رتابہ کو کن اکھیوں سے بغور دیکھ رہا تھا وہ اتنے لوگوں میں اسے بہت پر اعتماد لگ رہی تھی۔۔۔۔
بہت طریقے اور سلیقے سے وہ سب سے بات کر رہی تھی عضد اسے دیکھ کر کافی حیران تھا کہ یہ وہی رتابہ ھے جو ہر وقت اس سے ڈری سہمی اور چھپ چھپ کر رہتی ھے۔۔۔۔۔
عضدددد۔۔۔۔ ایک مانوس سی آواز پر وہ پلٹا تو سامنے اسکا دوست اسود تھا ۔۔۔
اررررے یار تو۔۔۔۔۔۔
what a pleasant surprize…..
دنوں زور سے گلے لگے۔۔۔۔
تو یہاں کیسے یار؟؟؟
اسود بولا بس یار پاپا کے دوست ھیں ھمدانی انکل پاپا لے آۓ ساتھ۔۔۔۔۔
تو سنا کہاں غاٸب تھا۔۔۔۔
عضد سوفٹ ڈرنک کا سپ لے کر بولا میں نہيں تو غاٸب تھا۔۔۔۔۔
ہاں یار Final exams چل رھے تھے UK میں تھا دودن ھوۓ پاکستان آیا ھوں۔۔۔۔
انٹی کیسی ھیں۔۔۔۔
ٹھیک ھیں یار ۔۔۔۔
چل میں آتا ھوں گھر کل شام کو ۔۔۔۔
وہ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگے رھے۔۔۔۔
ھمدانی اور اسود کے پاپا ان کے پاس آۓ۔۔۔
عضد بڑے پرتپاک سے ان سے ملا۔۔۔
ھمدانی عضد کی تعریف کرنے لگے۔۔۔۔۔
اسود عضد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا انکل اس میں اور بھی بہت سی qualities ھیں جو آپ نہيں جانتے۔۔۔۔۔
ھمدانی سر ھنسے اچھااااا کچھ سے تو میں واقف ھوں کچھ تم بتا دو۔۔۔۔
انکل آپ نے پارٹی میں کوٸ میوزک وغیرہ کا انتظام نہيں کیا۔۔۔۔۔ اسود بڑے آرام سے پوچھنے لگا۔۔۔۔
نہيں بیٹا یہاں کسی میوزیشن یا سنگر کو نہيں جانتا میں۔۔۔
ارے انکل سنگر تو آپکے سامنے ھے اور آپکو معلوم ہی نہیں اسود عضد کو دیکھ کر بولا۔۔۔
عضد نے زور سے اسکے شوز پر شوز مارا۔۔۔۔
وہ کراہ کر رہ گیا پر انکے سامنے بانچھیں کھول کر مسکرایا۔۔۔
تم گا لیتے ھو اچھا ھمدانی اسود کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔
اررررے نہيں انکل میں نے گانا گایا تو سارے مہان آپکے بھاگ جاٸیں گے میں تو اس موصوف کی بات کر رہا ھوں جسکے گن آپ گا رھے ھیں۔۔۔
اسود نے پھر عضد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
عضد کے انکار کے باوجود ھمدانی نے تالی بجا کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
اور عضد سے گانے کو کہا۔۔۔۔
رتابہ لیڈیز کے ساتھ عضد سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی اس نے عضد کو دیکھا جو چاند کی روشنی میں چاند سے زیادہ روشن لگ رہا تھا۔۔۔۔ عضد کی نگاہ جب اس پر پڑی تو وہ نظریں چرا گئ۔۔۔۔
عضد کی آواز پوری محفل میں گونجی۔۔۔۔۔
رات کی ہتھیلی پرچاند جگمگاتا ھے۔۔۔۔۔۔
سب نے تالیاں بجا کر اسے ویلکم کیا۔۔۔
تالیاں تھمنے پر اسکی آواز پھر گونجی۔۔۔۔
رات کی ہتھیلی پر چاند جگمگاتا ھے ۔۔۔
اسکی نرم کرنوں میں تم کو دیکھتا ھوں تو دل دھڑک سا جاتا ھے ۔۔۔۔
تم کہاں سے آٸ ھو
کس نگر کو جاٶ گی
سوچتا ھوں میں حیراں۔۔۔
چاند جیسا یہ چہرہ
رات جیسی یہ زلفیں
ہیں جگاہیں سو ارماں
ایک نشہ سا آنکھوں میں
دھیرے دھیرے چھاتا ھے
رات کی ہتھیلی پر چاند جگمگاتا ہے
اس کی نرم کرنوں میں تم کو دیکھتا ہوں تو
دل دھڑک سا جاتا ہے۔۔۔
رتابہ ایک ٹک اسے مبہوت ھوکر دیکھتی رہی۔۔
جیسے ہی گانا ختم ھوا تالیوں کی زوردار گونج چاروں طرف گونجی
اس نے سر جھکا کر سب کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔
اسود کو ماما کی کال آٸ تو وہ انکی طبیعت کی خرابی سن کر عضد سے معذرت کرتا وہاں سے چل دیا۔۔۔۔
سب کھانا کھا کر جا چکے تھے۔۔۔۔
بس عضد اور کچھ سینیٸر آفیسرز رہ گۓ تھے عضد اپنے سینیٸر آفیسرز کی فیملی کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہاتھا جب اچانک رتابہ چکرا کر گرگٸ۔۔۔۔
اسکے ساتھ کھڑی مسز عزیز نے اسے سنبھالا تو وہ انکو دیکھ کر جلدی سے پاس آیا۔۔۔
اور پاس ٹیبل پر پڑا گلاس اٹھا کر اسکے منہ پر پانی پھینکا۔۔۔۔
وہ ھوش میں آٸ کچھ کچھ ۔۔۔
عضد اسے سہارا دینے کیلیۓ آگے بڑھا تو اسکے چھوتے ہی رتابہ کےجسم میں بجلی سی کوندی۔۔۔۔عضد نے اسے کرسی پر بٹھایا۔۔۔
مسز عزیز مسکرا کر بولی بیٹا اسے ھوسپٹل لے جاٶ۔۔۔
عضد انکے مسکرانے پر حیران ھوا۔۔۔
پریشان مت ھو ایسی حالت میں اکثر ھو جاتا ھے۔۔۔۔
عضد اور رتابہ دونوں کو سمجھ نا آٸ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھیں۔۔۔
وہ جانے کیلیۓ اٹھی تو اسکی ھمت نہيں ھو رہی تھی اٹھنے کی اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور چکر بھی مسلسل آ رھے تھے۔۔۔
عضد کو غصہ تو بہت آیا لیکن سب کو دیکھ کر اس نے مروتاً اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔
رتابہ نے اپنے کانپتا ھوا سرد ہاتھ عضد کے ہاتھ میں دیا۔۔۔
عضد نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر چند قدم چلی تو مسز ھمدانی اور مسز عزیز دونوں ایک ساتھ بولیں بیٹا اٹھا لو اسے نہيں چل پا رہی وہ گر جاۓ گی پھر سے۔۔۔۔۔
عضد نے گھور کر کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا پھر اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر گاڑی میں مجبوراً اسے آگے بٹھایا کیونکہ سب اسکے پاس موجود تھے پھر سیدھا ھوسپٹل آیا۔۔۔۔
وہاں بھی اسے رتابہ کو اٹھانا پڑا بڑے غصے سے اور سخت ہاتھوں سے اس نے رتابہ کو اٹھایا۔۔۔
دل چاہ رہا ھے ھوسپٹل کے بجاۓ سیدھا جہنم میں پھینک آؤں تمھیں وہ دانت کچکچا کر بولا کیا عذاب گلے پڑا ھے میرے۔۔۔۔
ایمرجنسی میں اسے ڈرپ لگی بی پی اور شوگر بہت کم تھا اسوقت۔۔۔
ڈاکٹرز نے کچھ فوری ٹیسٹ لیۓ۔۔۔۔
اور کچھ ہی دیر میں رپورٹس لے کر عضد کے پاس آٸ ایک لیڈی ڈاکٹر۔۔۔۔۔
مسٹر عضد مبارک ھو آپکو۔۔۔
عضد جو کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا ڈاکٹر کی آواز پر پلٹا۔۔۔۔
مبارک کس بات کی؟؟؟ اس نے بھنویں اکھٹی کر کے سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔۔۔۔
آپ باپ بننے والے ھیں آپکی wife pregnant ھے۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
