Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 02,03)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 02,03)
Bad Bakhat by Arshi Noor
حافظ صاحب کا رکشہ گھر کے سامنے رکا وہ سامان نکال کر دروازہ بجانے لگے تو وہ اپنے آپ کھل گیا وہ تھوڑا حیرت سے اندر آۓ ۔۔۔۔
نمل بیٹا دروازہ کیوں کھلاچھوڑ رکھا ھے وہ کرسی پر بیٹھ کر بولے جواب نادار۔۔۔
انہوں نے پھر آواز لگاٸ نمل بیٹا اب کی بار بھی جواب میں مکمل خاموشی تھی وہ گھبرا کر اٹھے اور تیز تیز قدموں سے چلتے ھوۓ کمرے میں داخل ھوۓ تو اندر کا منظر دیکھ کر انکے اوسان خطا ھو گئے پل بھر کیلئے آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا وہ بے یقینی کے عالم میں سر کو دائیں بائیں جھٹکتے وہیں دروازے پر گر گۓ ۔۔۔
کمرے میں زیورات کا باکس خالی زمین پر پھینکے ھوۓ تھے بختی رسیوں سے باندھی ایک طرف بے ھوش پڑی تھی اور نمل کا نام و نشان نہيں تھا۔۔۔
حافظ صاحب ٹرانس کی صورت آنکھیں پھاڑے کمرے میں جھانک رھے تھے کہ اسی دوران صحن میں دیوی کی آواز گونجی وہ بختی کو کوستی ھوٸ اندر داخل ھوٸ۔۔۔
ارے او منہوس کب سے تجھے بلا رہی ھوں گھر چل ذرا تیری خبر لیتی ھوں میں دوسروں کی ھمدردی میں۔۔۔۔
حافظ صاحب کو کمرے کے دروازے میں بے سدھ پڑا دیکھ کر اسکی زبان وہیں بند ھو گٸ۔۔۔
کیا ھو گیا آپکو ایسے کیوں گرے پڑے ھیں آپ۔۔۔
حافظ صاحب پر دیوی کی بلند آواز اثر نا کی اس نے زور زور سے نمل اور بختی کو آواز لگاٸ پر جواب میں کوٸ نا بولا تو اندر کمرے میں جھانکنے پر وہ ہکا بکا رہ گٸ۔۔۔
یہ کیا ھو گیا حافظ صاحب آپکی بیٹی بھاگ گٸ سارا زیور لے کر اسکےالفاظ تیر کیطرح حافظ صاحب کے دل پر جا کر لگے۔۔۔
دیوی کی بات سنکر دو تین سیکنڈز کے بعد وہ ایک دم دیوی کے سامنے کھڑے ھوۓ دیوی انکے اچانک کھڑا ھونے پر دو قدم پیچھے ہٹی اور ماتھے پر بل سجاۓ سپاٹ لہجے میں بولی حافظ صاحب ھوش کی دنیا میں آئیں واپس بھاگ گئی ھے آپکی نگوڑی بیٹی کسی کے ساتھ زیوار بھی لے اڑی ساتھ۔۔۔
حافظ صاحب اپنی سوچوں سے دائرے سے باہر نکلے اور زور سے دیوی کے آگے ہاتھ جوڑے جس پر دیوی کی پلکیں زور سے لرزیں۔۔۔۔
خدا کا واسطہ ھے میری معصوم سی بچی پر الزام نا لگاٸیں اب کی بار خوف کے مارے آنکھوں میں منجمد آنسو موم کیطرح پھگل کر آنکھوں کے بند توڑ کر انکے گالوں پر گرنے لگے۔۔۔
دیوی کا پہلے ہی ان باپ بیٹی سے بختی کیوجہ سے خدا واسطے کا بیر تھا اسے اپنے اندر کی بھڑاس باہر نکالنے کا موقع مل گیا وہ کسی ناگن کیطرح ناک کے نتھنے پھلا کربولی آپکی بیٹی کی ذمہ دار نہيں میں مجھے بتاٸیں بختی کہاں ھے؟؟ اس نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اونچی آواز میں پوچھا۔۔۔
حافظ صاحب کے تو ھوش ہی گم تھے دیوی کے منہ سے بختی کا نام سن کر وہ کمرے میں اسکی طرف لپکے دیوی بھی اندر آٸ اور بختی کو بے ھوش دیکھ کر اس نے باہر دروازے کی طرف دوڑ لگا دی
اور شور مچانا شروع کر دیا۔۔۔
ارے لوگو جلدی آٶ ۔۔۔
حافظ صاحب لٹ گۓ لے اڑی انکی بیٹی سب کچھ ساتھ میں میری بختی کو بھی ماردیا ہاۓ لٹ گٸ میں برباد ھوگٸ وہ ماتھا پیٹ پیٹ کر چلانے لگی۔۔۔
حافظ صاحب بختی کو ھوش میں لانے لگے بختی آٹھ میری بچی کیا ھوا ھے اٹھ بتا مجھے۔۔۔
دیوی کے شورشرابے نے دیکھتے ہی دیکھتے پورا محلہ جمع کر لیا۔۔۔
سبھی محلے والے تیزی سے گھروں سےنکل کر نمل کے گھر پہنچ گۓ۔۔۔
اور ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کمرے میں باری باری ایسے جھانکنے لگے جیسے اندر کوئ تماشا چل رہا ھو اور دیکھنے سے کوئ محروم نا جاۓ۔۔۔
اب سب کی زبان پر ہزار سوال تھے لیکن بختی کے ھوش میں آنے کا انتظار کر رھے تھے۔۔۔
بختی جیسے ہی ھوش میں آٸ تو اس نے چلا چلا کر رونا شروع کر دیا نننننمل۔۔۔۔ نمل کککک کہاں ھے ؟؟
حافظ صاحب کی رہی سہی ھمت بھی جواب دے گٸ وہ خوف سے لرزتے ھوۓ پوچھنے لگے بیٹا تم بتاٶ کیا ھوا تھا ؟؟؟ کون آیا تھا ؟؟؟ کہاں ھے نمل ؟؟؟
بختی خوف سے ہانپتی کانپتی صرف اتنا کہہ سکی انکل نمل کو وہ لے گئے پھر بلند آواز سے روتے ھوۓ بولی بابا وہ مار دیں گے نمل کو بچا لیں۔۔۔
حافظ صاحب کا دل پل بھر کیلئے رک سا گیا وہ زرد ھوتی رنگت کے ساتھ بولے کون مار دیگا نمل کو کون آیا تھا یہاں؟؟؟
وووووہ چچچ چور تھے۔۔۔۔۔نمل کے ماتھے پر گن رکھی بختی نے سن ھوتے اعصاب کیساتھ اپنے ماتھے پر شہادت کی انگلی رکھتے ھوۓ بتایا اس نے تپھڑ مارا تو ووووہ لے گئے غصے سے یا پھر ماااااارررر آگے بختی حافظ صاحب کے بازو پکڑے چلائ بچا لیں نمل کو بچا لیں بابا اپنی نمل کو۔۔۔۔
سبھی لوگ ایک ٹک بختی کو ایسے دیکھ رھے تھے جیسے کسی فلم کی لائیو شوٹنگ چل رہی تھی اور وہ ان سب نفوس کے بیچ اداکاری کے جوہر دکھا رہی تھی۔۔۔
بختی کی بات سن کر اسکے ساتھ ساتھ حافظ صاحب خود بھی زاروقطار رونے لگےکیا کہہ رہی تو بختی کیسے آئے چور کیسے لے گئے نمل کو وہ اسے کندھوں سے پکڑے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر باؤلے ھو رھے تھے۔۔۔
کچھ لوگوں نے حافظ صاحب بکی حالت دیکھ کر انکو حوصلہ دیا کچھ نے پولیس کا مشورہ دیا اور کچھ نے دبے دبے الفاظ میں اسکو عاشقی کا معاملہ قرار دیا تو کسی نے کانوں کو ہاتھ لگا کر فرار کا۔۔۔
بیک وقت چند منٹوں میں لوگوں نے انکو آسمان سے زمیں پر لا پٹخا دیوی بختی کو گھسیٹ کر لے جاتے ھوۓ بھی اپنا زہر اگلتی رہی توبہ توبہ اتنی پاک بی بی بنی پھرتی تھی لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ھوۓ ذرا شرم نہيں آتی بڑے مُلا بنتے تھے اپنی بیٹی سنبھالی نا گٸ نام بڑا اور درشن چھوٹے۔۔۔۔ وہ ناک سکیڑتی بختی کو گھسیٹتے ھوۓ گلی کے دروازے ہر پہنچی تو بختی کا کندھا زور سے دروازے کی منڈی سے ٹکرایا تو اسے یاد آیا کہ اس نے تو دروازہ بند ہی نہیں کیا تھا اور چند منٹوں میں یہاں صف ماتم بچھ چکا تھا۔۔۔
ایک ایک کر سب اپنے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات اور شکوک کو ھمدردی کے سکوں میں لپیٹ کر حافظ صاحب کی گود میں ڈالتے گۓ۔۔۔
سب کی باتیں سن کر وہ انکے آگے ہاتھ جوڑ کر روۓ خدا کا واسطہ ھے میری بچی پر الزامات نا لگاٸیں اگر میرا درد سمجھ نہيں سکتے تو اسے بڑھاوا نا دیں میری بیٹی پر الزامات کیلیۓ انگلیاں بہت جلد اٹھا لیں آپ سب نے لیکن اسکی خیریت کی دعا کیلیۓ آپ کے ہاتھ نہيں اٹھے خدارا میری عزت کا جنازہ میرے جنازہ اٹھنے سے پہلے نا نکالیں۔۔۔
کچھ تو انکی بات سن کر شرمندگی سے چلے گۓ لیکن کچھ محلے والے رکے اور انکے کندھے پر ہاتھ رکھا اللہ سے اچھی امید رکھیں آپکی بیٹی ان ظالموں کے شر سے محفوظ رھے۔۔۔
آپ پوليس میں رپورٹ کر دیں تو بہتر ھے ھو سکتا ھے پولیس ان تک پہنچ جاۓ أور آپکو بچی مل جاۓ۔۔۔۔
ھم آپکے ساتھ ھیں آپکی بچی ھماری بھی بچی ھے اور آپکی شرافت سے پورا محلہ واقف ھے آپ حوصلہ رکھیں ھم آپکے ساتھ ھیں۔۔۔۔
ہر کوٸ اپنی راۓ اور مشورے دینے لگا وہ سب کی سن کر بس ہاں میں سر ہلاتے رھے کچھ دیر بعد وہ سب بھی چلے گۓ۔۔۔
سب کے جاتے ہی وہ نمل کے کمرے میں گۓ اور ان خالی زیورات کے باکس دیکھے پھر اسکا دوپٹہ سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑے پل بھر میں ہی قیامت ٹوٹ پڑی تھی ان پر انسان کو آنے والے وقت کا ذرا بھی اندازہ نہيں ھوتا کہ خوشیاں کیسے ماتم میں بدل جاتی ھیں خدا یہ وقت کسی ماں باپ پر نالاۓ جب انکے لخت جگر پر کوٸ اسطرح وار کرے کہ وہ ناجینے کے قابل رھیں نا مرنے کے۔۔۔
ہزاروں واقعات ھم روز سنتے ھیں چھوٹی چھوٹی معصوم سی بچیاں بھی ایسے بھوکے بھیڑیوں کا شکار ھو جاتی ھیں انکو ذرا ترس نہيں آتا کہ وہ کسطرح معصوم زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کر جاتے ھیں۔۔۔۔
ایک وقت تھا جب بیٹی پیدا ھونے پر انہیں زندہ دفنا دیا جاتا تھا اور ایک آج کادور ھے جہاں بیٹیوں کو دفنانے سے پہلے نوچا اور لوٹا جاتا ھے اپنی وحشت کا سامان معصوم سی بچیوں کوبنا کر انکی آبرو کو معصومیت کو پامال کیا جاتا ھے
پھر مار کر کسی جانور کی طرح یا تو کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ھے یا کسی گٹر نالے سے انکی لعش ملتی ھے کیسے جیتے ھونگے وہ ماں باپ جنکے لخت جگر اسطرح نوچ کر لوٹ لیۓ جاٸیں؟؟؟
حافظ صاحب کے دل میں بھی یہی خوف تھا کہ انکی بیٹی کس حال میں ھوگی ان وحشی درندوں کے ہاتھوں؟؟؟
میری بچی میری نمل کہاں تلاش کروں تجھے کہاں نا تو راستہ بھٹکی ھے نا گم ھوٸ ھے کہ میں تجھے تلاش کروں گلی گلی بھاگوں تیرے پیچھے وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ سر بیڈ کیساتھ پٹخ پٹخ کر روتے رھے۔۔۔
گوپال شام کو گھر آیا تو نمل کا سن کر وہ دوڑتا ھوا آیا حافظ صاحب کمرے کی چوکھٹ پر بلکل ویران بے بسی کی تصویر بنے دیکھ کر وہ خود بھی برداشت نا کر سکا۔۔۔
حافظ صاحب کی حالت نا قابل دید تھی وہ جلدی سے پانی لایا انکو پلانے کی کوشش کی لیکن انکے حلق سے ایک گھونٹ نیچے نا اترا۔۔۔
گوپال انکے منہ سے اسکا نام نکلا وہ زمین پر پنجوں کے بل بیٹھا ھوا تھا میری نمل۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ گوپال سے اسطرح لپٹ کر دھاڑے مار مار کر روۓ جیسے نمل زندہ لاش کی صورت انکے سامنے تھی اور جوان بیٹی کو زندہ زمین میں گڑتا دیکھ رھے تھے وہ۔۔۔
گوپال نے ناکام سی کوشش کی انکو سنبھالنے کی پھر کافی دیر بعد جب وہ رو رو کر تھکے تو انکو سہارا دیتے ھوئے صحن میں پڑی کرسی پر بٹھایا۔۔۔
دو دن میں نمل بیٹی کا نکاح ھے آپ نے اسکے سسرال اطلاع دی؟؟؟ گوپال فکر سے پوچھنے لگا۔۔۔
حافظ صاحب رو رو کر نڈھال ھو گۓ تھے کیا خبر دوں میں بیٹی کے سسرال میں؟؟؟
یہ کہ آپکے دیۓ ھوۓ تمام زیورات کے ساتھ ساتھ میری بیٹی کو بھی ڈاکو اٹھا کر لے گۓ؟؟ کون یقین کرے گا اس بات پر۔۔۔۔
گوپال بھی اداسی بھرے لہجے میں بولا کہہ تو آپ ٹھیک رھے ھیں لیکن انکو خبر کرنی بھی ضروری ھے ورنہ کل تک مذید بدنامی ھو جاۓ گی۔۔۔
گوپال کی بات پر وہ بوجھل اور بھاری آنکھوں کو جن ش دیکر بولے مجھے کسی بھی بدنامی کی پرواہ نہيں سوا اپنی بچی کی آبرو اور خیریت کہ خدا سلامت رکھے میری بچی کو۔۔۔
انکے آنسو بھی آنے والے وقت سے خوفزدہ ھو کر خشک ھو گۓ اب وہ سوکھی آنکھوں سے رونے لگے انکے سوکھتے ھوۓ پپڑی ھونٹوں ہر دعائیں جلتے بجھتے چراغ کی مانند لرز رہی تھیں۔۔۔۔
_____
جازب تم اس آفت کو ساتھ تو لے آۓ ھو اسے رکھو گے کہاں جازب کے ایک ساتھی اسد گاڑی چلاتے ھوۓ ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔۔۔
جازب اپنے مخصوص انداز میں ایک ابرو پر انگلی پھیرے سگریٹ کا دھواں ناک سے خارج کرتے ھوۓ کہا بلوچستان۔۔۔۔
کیااااااا۔۔۔۔ اسد نے یک دم بریک لگاٸ تیرا دماغ درست ھے ؟؟ وہاں شاہ جی بھی موجود ھے وہ آگیا تو جانتا ھے نا کیا ھوگا ؟؟
جازب بے فکری سے سگریٹ کی راکھ انگھوٹے کے جھٹکے سے گراتے ھوئے بولا وہ میرا مسٸلہ ھے میں ھینڈل کر لونگا تو گاڑی چلا ۔۔۔
اسد گاڑی دوبارہ چلانے لگا جازب تو اس لڑکی کو ساتھ لایا کیوں؟؟پہلے اس بات کا جواب دے۔۔۔
پتہ نہيں۔۔۔ جازب نے لاپرواٸ سے مسلسل کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔۔
دیکھ یار ھمارے گھر بھی بہن بیٹیاں ھیں اچھا نہيں کیا تو نے اسے اٹھا کر نا جانے اسکے گھر والوں کا کیا حال ھوگا۔۔۔
جازب نے اسے سنجیدہ نگاھوں سے گھورا زیادہ جذباتی نا ھو تیرا معاملہ نہیں یہ ۔۔۔
بات جذبات کی نہيں غلطی کی ھے ایک تو ھم نے پہلی بار چوری کی کسی کے گھر میں اوپر سے تونے اس لڑکی والا پنگا لے لیا اس سے پہلے تو ایسا دورہ تجھے کبھی نہيں پڑا کہ تو نے کسی لڑکی کی پرواہ بھی کی ھو۔۔۔۔
دوسرا ساتھی (عامر)بولا چھوڑ یاررررر آج کا دن بہت برا رہا۔۔۔
جازب اسکو بغل میں دبا کر بولا دن کو برا نا بول وہ نمل کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
عامر اسکی مضبوط گفت سے اپنی گردن چھڑا کر خالہ خیرن کی طرح بولا بیڑہ غرق ھو لالا کے بندوں کا نا وہ آتے نا یہ آتی ۔۔۔
اپنی بکواس بند رکھ وہ سگریٹ کا مرغولا ھوا میں اڑا کر غصیلی نگاھوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
عامر نے پھر اسے پیچھے دھکیلا بال بال بچے آج ھم ورنہ جیسے لالا کے آدمی پیچھے لگے تھے ھم تینوں میں سے کوٸ ایک تو ضرور اوپر جاتااور لوگوں کی نظر میں بھی آجاتے شکر کر جان بچ گٸ۔۔۔
اسد پھر بولا ان سے تو جان چھڑالی لیکن شاہ جی کو علم ھو گیا اگر ھماری چوری کا یا اس لڑکی کے اغوا کا تو نہيں بچیں گے ھم میری مان لے دیکھ اسے واپس چھوڑ دیتے ھیں۔۔۔اسد کو شاہ جی کا ڈر تھا۔۔۔
نہيں چھوڑ سکتا اسکو میں بحث مت کر مجھ سے جازب سختی سے بولا۔۔۔
اسد بھی اسکی ٹون میں بولا کیوں کرناکیا ھے تونے اسکا پسند آگٸ ھے کیا؟؟؟
عامر کے جلے کٹے انداز پر جازب قہقہہ لگا کر بولا تو نہيں سمجھے گا یار۔۔۔
اسد نے غور سے اسکے چہرے کو دیکھا جیسے کچھ تلاش کر رہا ھو۔۔۔۔
جازب نے سگریٹ باہر پھینکا اور اسد کا منہ جبڑوں سے پکڑ کر سامنے کیطرف کیا اوۓ روڈ ادھر ھے سامنے دیکھ کہیں ٹھوک مت دینا ۔۔۔
اور اب منہ بھی بند رکھ ورنہ تجھے بھی لمبی نیند سلا دونگا اس آفت کیطرح وہ نمل کیطرف اشارہ کر کے بولا ۔۔۔۔
اسد نے خاموشی سے سگریٹ کیس سے سگریٹ نکالی اور گاڑی کی اسپیڈ حب ریور روڈ کے آتے ہی بڑھا دی۔۔۔
_______________
حافظ صاحب باجماعت نماز پڑھتے تھے نا وہ عصر کی نماز میں مسجد آۓ نا مغرب کی کچھ پڑوسی انکے گھر گۓ توحافظ صاحب ھوش سے بیگانے زمین پر پڑے ھوۓ تھے وہ انکو ھوسپٹل لے کر پہنچے تو علم ھوا کہ انکو شدید دل کا دورہ پڑا ھے۔۔۔
انکے موباٸل سے کچھ نمبر تلاش کرنے پر انکی آخری کال پر کال کی گٸ جو انکے ھونے والے داماد ولی کی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر میں ولی اپنی والدہ کے ساتھ ھوسپٹل میں موجود تھا اور لوگوں کی زبانی کلامی باتیں سن کر وہ پریشان ھو گیا ولی کی والدہ سے بھی برداشت نا ھوا انکی طبیعت بگڑ گٸ کہ کل نکاح تھا وہ کیا منہ دکھاٸیں گی خاندان والوں کو کہ کیا ھوا کہاں گٸ انکی بہو؟؟؟ کیوں ھوا اچانک اٹیک ولی کے سسر کو؟؟؟ ایسے بہت سے سوالوں اور نظروں کا سامنا انکو بھی کرنا تھا ساتھ میں لاکھوں کے قیمتی زیورات کا دکھ الگ تھا۔۔۔
وہ بیٹے کو دیکھ کر بولی کیا ولی یہ سب کیا ھو گیا کیا کہیں گے ھم خاندان والوں کو ؟؟؟ کتنی بدنامی ھوگی ھماری وہ روپڑی ۔۔۔۔
پہلے تو مجھے یقین نہيں آرہا میں لوگوں کو کیسے یقین دلاٶنگی ؟؟ نمل نے تو کسی پر بھی رحم نہيں کیا۔۔۔
ولی انکو سنبھال کر بولا امی سب کچھ ٹھیک ھو جاۓ گا آپ حوصلہ کریں۔۔۔
کیسے حوصلہ کروں بیٹا یہ کوٸ معمولی بات نہيں پورا خاندان ھنسے گا ھم پر لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے کس کس کو جواب دوگے تم اور میں۔۔۔۔وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔۔۔
امی لوگ گۓ بھاڑ میں آپ دعا کریں حافظ انکل کو کچھ نا ھو اور نمل بھی خیریت سے واپس آجاۓ۔۔۔
وہ سر اٹھا کر بیٹے کو دیکھنے لگی ولی بیٹا وہ آ بھی گٸ واپس تو قابل قبول کہاں ھوگی ؟؟؟
ولی انکو چپ کروانے لگا بس کر دیں امی یہ وقت ان باتوں کا نہيں۔۔۔۔
وہ فکر مند لہجے میں بولی بیٹا تجھے نہيں معلوم اب آنے والا وقت صرف ایسی باتيں سننے کا ہی ھے
_________________
سرخ شرارے میں بکھرے بالوں کے ساتھ ھوش کی دنیا سے بے خبر نرم و گداز بیڈ پر لیٹی وہ جازب کے ھوش اڑا رہی تھی۔۔۔۔
لیکن اسے دیکھتے دیکھتے اچانک اسکا تھپڑ اور اسکا منہ پر تھوکنا یاد آیا تو جازب کے جذبات غصے میں بدلنے لگے لیکن اسکے غصے پر دلہن کے لباس میں موجود قیامت ڈھاتی نمل کا سراپا حاوی ھو رہا تھا۔۔۔
آسمان پر چھائ بادل کی بدلیوں کی اوٹ سے جھانکتے اور چھپتے سورج کی طرح جازب کے جذبات بدل رھے تھے کبھی غصہ کبھی پیار کبھی اسکی بہادری پر حیرانگی کے آثار ایک ساتھ اسکے چہرے پر طلوع و غروب ھو رھے تھے۔۔۔۔
وہ اپنے من سے گھبرایا اور اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کھولی تو تازہ ھواکے جھونکے نے اسے چھوا کچھ دیر وہ کھڑکی میں کھڑا رہا سگریٹ کیس سے سگریٹ نکالا اور جیب مث ہاتھ ڈال کر لائٹر نکالا ابھی سگریٹ جلایا نا تھا اسکو ھونٹوں میں پھنساۓ وہ نمل کے قریب آیا جیسے ہی نمل پر آہستہ سے جھکا تو اسے کچھ ھوش آیا پہلے تو وہ کچھ نا سمجھی اور ادھ کھلی آنکھوں سے خود پر جھکے شخص کو دیکھنے لگی پھر پوری آنکھیں کھولنے اور سب کچھ یاد آنے پر اس نے غور سے جازب کو دیکھا تو دھکا دے کر اسے خود سے پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن وہ جازب تھا اس نے فوراً اسکے ہاتھ پکڑے لائٹر اسکے ہاتھ سے نیچے گر گیا۔۔۔
نمل خوفزدہ ھو کر خود کو چھڑانے لگی پر ناکام جسطرح جازب اسے قابو کیا تھا وہ ہل بھی نہيں پا رہی تھی۔۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھ سختی سے اپنے ایک ہاتھ دبوچے پھر جھک فرش سے لائٹر اٹھایا اور اسکا شعلہ بھڑکا کر سگریٹ جلانے لگا آگ کا شعلہ اسکی آنکھوں میں بھی جل کر بجھا تھا۔۔۔
پھر ھونٹوں کو دائرے کی شکل دیکر دھوں خارج کیا اسی ہاتھ سے تھپڑ مارا تھا نا۔۔۔۔
پھر دوسرے ہاتھ سے اسکا منہ جبڑوں سے پکڑ کر بولا اور تھوک اسی منہ سے پھینکا تھا۔۔۔۔
اسکا چہرہ اسوقت اسکے لہجے کیطرح کڑک اور سختی لیے ھوۓ تھا۔۔۔۔
نمل کی سانسیں پل بھر تیز ھوئیں دل کی دھڑکن نے کچھ پل ساتھ چھوڑا تو وہ رو پڑی اور کپکپاتی آواز میں بولی مممم میں پپپپپ پاٶں پڑ کرررر ممم۔۔۔ معافی مانگتی۔۔۔ ھوں تم سے معاف کر دو۔۔۔۔
اسکی بڑی بڑی گولڈن آنکهوں سے ٹپکتے آنسو ایک ایک کر کے اسکے گالوں پر گرنے لگے جنہیں جازب بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ پھر گڑگڑا کر بولی خدا کا واسطہ ھے چھوڑ دو مجھے ساتھ ہی اس نے ہاتھ چھڑانے کی مزاحمت تیز کی۔۔۔
جازب نے اک نظر اسکی رحم کی بھیک مانگتی آنکھوں میں جھانکا پھر اس پر گرفت ڈھیلی کی تو وہ فوراً خود کو چھڑا کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔
ہاہاہا دھواں پھر قہقہے کیساتھ ھوا میں خارج ھوا وہ ایک ٹک اسے گھورتے ھوۓ بولا بس اتنی سی ھمت تھی تم میں ۔۔۔ اس نے سگریٹ کی راکھ زمین پر ہلکے سے جھٹکے سے جھاڑی جیسے وہ نمل کو بار آور کروا رہا تھا کہ تم اس راکھ کیطرح ھو جو پہلے شعلہ بن کر جلی پھر ایک ہی جھٹکے سے زمین پر جل کر ڈھیر ھو گئ۔۔۔
اگر مرد کا مقابلہ نہيں کر سکتی تو پھولن دیوی بننے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔
نمل کھسک کر اب بیڈ کے کنارے پر آن پہنچی تھی۔۔۔
اس نے پھر گہرا کش لیا اور اب کی بار دھواں اسکے ارادوں کیطرح اسکے نتھنوں سے نکلا جو اسوقت پھول کر اسکی ستواں ناک کو اور نمایاں کر رھے تھے۔۔۔
مرد کو تھپڑمارنے کا انجام جانتی ھو نا وہ پھر اٹھ کر اسکے قریب آ کر بیٹھا۔۔۔۔
خوف کے ساتھ ساتھ نمل کی آنکھوں میں نفرت اور غصہ بھی تھا۔۔۔۔ وہ فوراً چلا کر بولی دیکھو میرے پاس مت آٶ ورنہ۔۔۔۔۔
اسکے دھمکانے پر جازب زور زور سے ھنسا اور دل ہی دل میں بڑبڑایا رسی جل گٸ پر بل نہيں گیا۔۔۔
ورنہ کیا۔۔۔۔۔ کیا کروگی تم پھر سے تھپڑ ماروگی اور تھوکو گی۔۔۔ اس نے گردن جھکا کر نمل کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔
نمل نے گھبرا کر نا کے بجاۓ ہاں میں سرہلایا۔۔۔
تو جازب کو غصہ آگیا وہ تنتناتا ھوا ایک دم سے کھڑا ھوا اسکی بارعب آواز نمل کے کانوں میں ٹکرائ۔۔۔۔
اب کی بار یہ بات بھی ذھن میں رکھنا کہیں ایسا نا ھو اپنا ہی تھوکا چاٹنا پڑ جاۓ ۔۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے سگریٹ زمین پر پھینکا اور اسے جوتے سے مسل کر رکھ دیا۔۔۔
نمل اب کچھ نا بولتے ھوۓ باآواز رو پڑی۔۔۔
اتنے میں دروازے پر عامر دستک دےکر جھٹ سے اندر آیا اس نے چٹکی بجا کر غصے سے لال ھوتے جازب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ اوۓ مجنوں کی اولاد باہر شاہ جی آیا ھے۔۔۔
کر اسکا کوٸ بندوبست اب۔۔۔
جازب نے گردن پر ہاتھ پھیرا پھر نظریں دوڑائے ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے لگا۔۔۔
نمل نے پہلے تو اسے دیکھا وہ کچھ ڈھونڈنے میں محو تھا اسکی نگاہ خود سے ہٹتی دیکھ کر وہ آہستہ سے بیڈ سے اتری اور شراراہ سنبھال کر ادھ کھلے دروازے سے باہر بھاگ گٸ۔۔۔
قسط نمبر 3
نمل کو باہر بھاگتا دیکھ کر جازب بجلی کی پھرتی سے اسکی طرف لپکا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اس سے پہلے کہ وہ چلاتی وہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ اسے ساتھ لگاۓ گھسیٹتا ھوا اندر لایا اس نے خود کو چھڑانے کیلیۓ بہت ہاتھ پاٶں مارے لیکن جازب کی پکڑ بہت سخت تھی۔۔۔
جازب کا ایک ہاتھ بڑی سختی سے اسکے منہ پر تھا نمل کی پشت جازب کے سینے سے لگی ھوئ تھی دوسرے ہاتھ سے جازب نے اسکی دونوں کلائیاں دبوچی ھوئ تھیں وہ ٹانگیں مار مار کر جازب سے الگ ھونے کی کوشش میں تھی۔۔۔
جازب نے اسکی کلائیاں چھوڑ کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا رومال نکالا جس پر اس نے منہ پر رکھے ھوۓ ہاتھ کو پوری طرح زور لگا کر ہٹانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔
جازب نے رومال اسکے منہ میں ٹھونسا پھر اسکے جوڈو کراٹے کیطرح چلتے ہاتھ دوبارہ پکڑے اور بیڈ کے کراؤن پر لگے گول
لکڑی کے ڈیزائن کیساتھ باندھ دیئے وہ رومال کو منہ سے نکالنے کی بھرپور کوشش میں تھی جازب نے اسی رومال کو منہ سے نکال کر اسکا منہ باندھ دیا اور اس پر اک کڑی نگاہ ڈال کر تیزی باہر آیا۔۔۔۔
شاہ جی ہال کے دروازے سے اندر داخل ھو رہا تھا اس کے اندر آتے ہی سلام کر کے وہ شاہ جی کے بغل گیر ھوا۔۔۔
شاہ جی نے اسکی کمر زور سے تھپتھپائ کیسے ھو میرے ھیرو؟؟ اسکی بھاری اور بارعب آواز لمبے سے ہال میں گونجی۔۔۔
وہ سب باری باری صوفے پر بیٹھے شاہ جی نے صوفے پر کہنی ٹکاۓ عضد کیطرف دیکھا۔۔۔
تمھیں معلوم ھے وقاص لالا کے بندوں نے تم پر حملہ کیا تھا؟؟
جی جازب کا جواب مختصر تھا…
کوٸ نقصان تو نہيں ھوا خیر سے ھے نا سب ؟؟ شاہ جی نے بھنویں اچکائیں۔۔۔
جی شاہ جی باقی تو سب خیریت ھے لیکن یہاں خیر نہیں اسد نے سر کھجاتے ھوئے کن اکھیوں سے جازب کیطرف اشارہ کیا۔۔۔
وہ اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔
کیوں کیا ھوا ھے کیا چھپا رھے ھو تم لوگ مجھ سے؟؟؟
عامر نے بھی اپنا حصہ ڈالا شرارت میں شاہ جی چھپا تو یہ خود سے بھی رہا ھے کچھ۔۔۔ عامر کی معنی خیز مسکراہٹ پر شاہ جی کے کان کھٹکے۔۔۔
جازب فوراً بات سنبھال کر سخت نگاھوں سے دونوں کو گھور کر سنجیدگی سے شاہ جی کیطرف متوجہ ھوا کچھ نہیں یار بکواس کر رھے ھیں دونوں۔۔۔
اچھااااا شاہ جی بظاہر مطمئن ھو کر لائٹر کے شعلے سے سگریٹ جلا کر جازب کیطرف بڑھایا پھر خود دوسرا سگریٹ جلاتے ھوۓ بولا۔۔۔
لالا سے تو میں خود جاٶنگا اب ملنے مجھے ذرا تفصيل سے بتاٶ ھوا کیا تھا؟؟؟
جازب جانتا تھا وہ شاہ جی سے یہ معاملہ زیادہ دیر چھپا نہیں رہ سکتا شاہ جی کی سوچ وہاں پہلے پہنچ جاتی تھی جہاں وہ قدم رکھتے تھے۔۔۔۔
فی الوقت بات کو ٹالنا ضروری تھا جازب نے سگریٹ کا گہرا کش لگاتے ھوۓ شاہ جی کی نگاھوں کا تعاقب کرتے ھوۓ اسد کیطرف دیکھا جو اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرا رہا تھا جازب کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر جھٹ سے اسد کی مسکراہٹ غائب ھوئ اور وہ سنجیدہ ھو کر بلکل سیدھا بیٹھا کہ کہیں اب کی بار جازب کا گھونسہ نا پڑ جائے۔۔۔
جازب نے سگریٹ کا دھواں ھوا میں خارج کرتے ھوۓ شاہ جی کیطرف دیکھا انداز بلکل سنجیدہ اور سپاٹ تھا۔۔۔
گاڑی خراب ھو گٸ تھی بابو کے گیراج میں کھڑی کرکے ھوٹل پر چاۓ پی رھے تھے ھم مجھے کچھ کھٹکا سا محسوس ھوا تو میں نے ہاتھ کے اشارے سے انکو چاۓ چھوڑ کر اٹھنے کو کہا۔۔۔
میری پیٹھ پر عامر کی نگاھیں جمی دیکھ کر میں پلٹا تو وہ ھماری جانب بڑھ رھے تھے انکے انداز دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ یہ کچھ کریں گے ضرور وہ بھی تین بندے تھے اور تینوں کے پاس اصلحہ تھا۔۔۔
شاہ جی نچلا ھونٹ اپری ھونٹ کے نیچے دبا کر ٹھوڑی کو انگھوٹے سے رگڑتے ھوۓ غصے سے بولا تمھاری گنز کہاں تھیں ؟؟؟اب شاہ جی کے ابرو کمان کیطرح کھنچے ہوئے تھے۔۔۔
ان دونوں کی گنز گاڑی میں تھیں جازب نے آنکھوں سے دونوں کیطرف اشارہ کیا اور میری گن میرے پاس تھی لیکن گولیاں دو تھیں۔۔۔
شاہ جی نے سگریٹ کا دھواں ناک کے نتھنوں سے خارج کرتے ھوۓ کہا وہ پاس آکر حملہ ضرور کرتے تم پر
چھوڑا کیوں؟؟ ان خبیثوں کا مقابلہ کرتے تمھیں تو ان کھلونوں کی بھی ضرورت نہيں تھی شاہ جی گن کیطرف اشارہ کرکے بولا جو سامنے ٹیبل پر دھری ھوئ تھی۔۔۔
میں مقابلہ کر سکتا تھا لیکن جس جگہ ھم موجود تھے وہاں لائن سے سارے ھوٹل ہیں انڈسٹریل ایریا تھا لنچ بریک پر سارے مزدور باہر ہوٹلوں پر تھے انکی جوابی فاٸرنگ سے کسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا پھر پولیس بھی آجاتی ایسے میں اپنی گاڑی لے کر نکلنا ھمارے لیۓ ممکن نہيں تھا پھنس جاتا ھمارا مال ساری محنت سارا پیسہ ضائع جاتا۔۔۔۔
اسکی نظروں سے اوجھل کیسے ھوۓ تم؟؟؟ اب شاہ جی کے تاثر تجسس لیے ھوۓ تھے۔۔۔
ھم بلو کے گیراج میں پچھلے حصے سے داخل ھوۓ اور دوسری گاڑی لیکر آبادی کیطرف نکل آئے۔۔۔
شاہ جی مسکرایا تو جازب کے لب بھی مسکرائے وہ دائیں ابرو پر انگلیاں ٹکاۓ ھوۓ تھا۔۔شاہ جی کچھ جگہوں پر جوش سے نہيں ھوش سے کام لیا جاتا ھے۔۔۔۔
پھر گاڑی کیسے لاۓ اپنی واپس شاہ جی کی رعب دار آواز کچھ لمحے بعد ہال میں گونجی۔۔۔
وہیں علاقے کے اک چھوٹی سی مسجد میں داخل ھوۓ کچھ دیر میں عامر گاڑی اپنی لے آیا انکو شک بھی نہیں ھوا کہ ھم تھے کس گاڑی میں وہ ھمیں وہیں کار کے آس پاس پارکنگ میں ڈھونڈتے رہے۔۔۔
شاہ جی نے فخریہ انداز میں جازب کیطرف دیکھا اور چائے کیطرف ہاتھ بڑھا کر میز سے کپ اٹھایا جبکہ عامر اور اسد اسکے جھوٹ پر اسکا منہ تکنے لگے۔۔۔
اسد چاۓ کا سپ لے کر بولا شاہ جی اس دفعہ دوسرا مال بڑا ٹاٸیٹ ہاتھ لگا ھے دکھنے میں تو چھوٹی سی ھے لیکن ھے پوری توپ شے آپکو بہت پسند آۓ گی بڑی تیز ھے۔۔۔
اسکی بات پر جازب نے زور سے اسد کے پیر پر اپنا پاؤں رکھا اسکے چٹان جیسے مضبوط پیر کا وزن بمشکل پوری بانچھیں کھول کر اسد نے برداشت کیا۔۔۔
عامر کھسیانی ہنسی میں ھنستے ھوۓ آگے بولا بڑی ہی مہنگی پڑی گگگگگ۔۔۔ گی کہتے کہتے وہ رکا اور جازب کے تیور دیکھ کر ھے کہا اور ھے پر اچھا خاصا زور دیا۔۔۔
شاہ جی کچھ کچھ سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ضرور ھے وہ سوالیہ نظروں سے جازب کو دیکھنے لگا پھر کچھ لمحات بعد مسکراہٹ دباتے ھوۓ بولا کتنے کی ھے وہ توپ شے؟؟؟
یہی پچیس کے لگ بھگ ھوگی ابھی پیک ھے پہلے جازب دیکھ لے پھر آپکی طرف کچھ دن میں روانہ ھوگی اب کی بار بھی جواب عامر نے ہی دیا جبکہ جازب لب بھینچتا خاموش رہا۔۔۔۔
ٹھیک ھے میں چلتا ھوں کراچی جانا ھے مجھے کچھ دن بعد ملاقات ھوگی مجھے حویلی بھی چکر لگانا ھے شاہ جی سگریٹ کو گلابی ھونٹوں میں دباتے ہوئے کھڑا ھوا۔۔۔
وہ تینوں بھی اسکی تقلید میں کھڑے ھوۓ اور اسکے ساتھ ہال سے نکل کر باہر کیطرف آنے لگے۔۔۔
شاہ جی نے گاڑی میں بیٹھتے سمے جازب کیطرف دیکھا سن جانی تیرے تحفے کا انتظار رھے گا۔۔۔
پھر شاہ جی نے اسد کو دیکھ کر آنکھ ماری اور زیر لب مسکراہٹ سجاۓ سن گلاسز لگا کر گاڈز کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتا نکل گیا۔۔۔۔
نمل سب سن رہی تھی وہ انکی باتیں سن کر بری طرح ڈری
کون لوگ تھے یہ اور کس مال کی بات کر رھے تھے اور توپ شے کس کو کہہ رھے تھے؟؟؟
پچیس کی تو میں ہی ھوں اپنا سوچ کر وہ بوکھلائ اس نے خوف سے جھرجھری سی لی خوف و ہراس اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرنے لگا اس نے بمشکل تھوک حلق سے اتارا پھر نم آنکھوں سے رب کو یاد کرنے لگی اور اپنی حفاظت کی دعائيں مانگنے لگی۔۔۔
___
بختی نے رو رو کر اپنا برا حال کیا ھوا تھا وہ مسلسل خود کو کوس رہی تھی کہ یہ سب اسکی وجہ ھوا ھے وہ دروازہ اسی وقت بند کر دیتی تو آج یہ سب نا ھوتا وہ اس قدر ذہنی اذیت میں تھی کہ اپنے جسم پر پڑے نیل بھولی ھوٸ تھی جو دیوی نے اسے گھر آکر خوب پیٹا تھا۔۔۔
اسے ایک ایک سانس اپنے لیۓ نمل کے احساس سے پھانس کیطرح لگ رہی تھی رات کا ایک ایک پل اسکا کانٹوں پر لوٹتے ھوۓ گزر رہا تھا اسے دعا کرنی نہیں آتی تھی نا اس نے کبھی اسکی ضرورت محسوس کی تھی سوا اپنوں کے ملنے کے علاوہ۔۔۔۔
بس نمل کے دیکھا دیکھی وہ دعا مانگنے کا کچھ سلیقہ سیکھ چکی تھی وضو اسے مکمل طور پر بنانا نہیں آتا تھا لیکن اس پل وہ بے چینی سے برق رفتاری سے اٹھی اور وضو بنانے کی کوشش کی پھر درخت تلے آ کر بیٹھی مڑ مڑ کر خوف کے مارے وہ دیوی اور اسکی بیٹیوں کو بھی دیکھتی کہ وہ اسکے اٹھتے دعائیہ ہاتھ نا دیکھ لیں۔۔۔
اس نے بکل مار کر اپنے چہرے کا رخ آسمان کیطرف کیا دل وجان سے اللہ اللہ کرتی نمل کی خیریت کی دعا کرتی رہی۔۔۔۔
کہ اسے کچھ نا ھو اللہ جی وہ تو تیرے ماننے والوں میں سے ھے اسے مٹی میں مت رول اسکے لیے آسانی کر نمل کے رب ھم سب کے رب اسے اپنی حفاظت میں رکھ مجھے نہیں معلوم وہ کس حالت میں ھے۔۔۔
لیکن وہ کہتی ھے تو سب کی حالتوں سے واقف ھے تو بس پھر اپنی بندی کی حفاظت کرنا میری غلطی کی سزا اسے مت دینا وہ روتی رہی اور اسی طرح دعا کرتی رہی۔۔۔۔
____
حافظ صاحب کو ھوش آچکا تھا انکے لبوں پر ایک ہی دعا تھی نمل کو اپنی حفاظت میں رکھنا یا اللہ میری بچی کو انکے شر سے محفوظ رکھنا وہ ھوش میں آتے ہی گڑگڑا کر رونے لگے ڈاکٹرز نے ان کی حالت کے پیش سبب انہیں سلیپنگ ڈرگ دی کہ انکا رونا انکے لیے خطرے کا باعث تھا۔۔۔
______________
رات نے چاروں طرف اپنا اندھیرا پھیلا رکھا تھا جازب کھلے لان میں سوئمنگ پول کے پاس کرسی پر بیٹھا آسمان کیطرف دیکھ رہا تھا آسمان بلکل صاف شفاف تھا تارے آسمان پر ایسے چمک رھے تھے جیسے نیلے تھال میں ہیرے چمکتے ھیں۔۔۔
وہ گہری سوچوں میں خود سے مخاطب تھا کہ وہ لڑکی کو کیوں اٹھا لایا تھا کیا اس سے اپنی ذلت کا بدلہ لینا تھا یا اسکی بہادری میری مردانگی پر اٹھتا سوال تھی یا پھر میں اسے کسی اور مقصد کے تحت لایا ھوں؟؟؟ میں نے کیوں کسی کی عزت پر وار کیا کیا حال ھوگا اسکے پچھلوں کا؟؟؟ کیا میں محض اسے اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے لایا ھوں یا پھر کچھ اور ھے؟؟؟؟ اسکا ذہنی انتشار اسے بہت بے چین کرنے لگا۔۔۔
اس نے آنکھیں پھیلا کر گہرا سانس لیا پھر موبائل اٹھا کر کسی سرور نامی شخص کو کال کی جو کچھ دیر میں حاضر تھا اسکے ہاتھ میں ایک شاپر تھا وہ جازب کے حوالے کر کے واپس ھو گیا۔۔۔۔
جازب کافی دیر کہنیاں گھٹنوں پر ٹکاۓ ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنساۓ خود کے سوالوں کے جواب تلاشتا رہا پھر اس نے سانس اندر کھینچی اور شاپر سے کانچ کی بوتل نکالی ایک جھٹکے سے آنکھیں میچے بوتل منہ سے لگا کر خالی کر کے پول میں اچھالی پانی کی چھینٹوں نے اسکا چہرہ اور کپڑے ہلکے سے بھگو دیئے۔۔۔
اس بوتل میں شراب تھی جازب اٹھ کر اندر جانے لگا تو اسے دل پر بوجھ سا محسوس ھوا پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ اوندھے منہ الٹیاں کرنے لگا چوکیدار جازب کی آواز سن کر اسکے پاس آیا اور کمرے میں کے جاکر اسکے بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔
آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا اب شراب کا نشہ سر چڑھ کر بولنے لگا نمل اسکے سر پر کسی بھوت کی طرح سوار تھی اسوقت وہ لڑکھڑاتے قدموں کیساتھ اسکے کمرے کیطرف بڑھا۔۔۔۔
نمل دعاٸیں مانگتی مانگتی سو گٸ ۔۔۔
جازب نشے میں دھت کمرے میں داخل ھوا تو اسکی نظریں نمل کے چہرے پر جم گٸیں کھڑکی سے لان کے بلب کی روشنی اسکے بے داغ چہرے پر پھیلی ھوٸ تھی جازب لڑکھڑاتا ھوا اسکے قریب آیا تو سنبھل نا سکا سیدھا نمل کے اوپر جا گرا نمل ایک دم آنکھیں کھول کر بوکھلاہٹ میں چلاٸ پر منہ پر باندھے کپڑے کیوجہ سے اسکی چیخیں حلق میں ہی رہ گٸیں۔۔۔
جازب اٹھا اور اسکی آنکھوں میں جھانکا جہاں بہتے آنسوٶں میں رحم کی بھیک تھی وہ آنسو بہاتی سر دائیں سے بائیں ہلا رہی تھی کہ وہ اسکے ساتھ یہ ظلم نا کرے اسکی گھٹی گھٹی آواز اور لرزتے وجود کو جازب نے مدھوشی میں اک نظر دیکھا پھر نمل کے منہ سے کپڑا کھولا تو خوف سے اسکی آواز حلق سے نکل ہی نہيں رہی تھی وہ بمشکل آنسوٶں سے رندھے ھوۓ لہجے میں بولی ۔۔
خدا کاواسطہ ھے کچھ مت کرنا میرے ساتھ ہٹو میرے پاس سے ورنہ میں تمھیں بھی جان سے مار دونگی اور خود کو بھی۔۔۔
جازب کو ھنسی آگٸ اففففف تمھارا یہ بھرم یہ انداز۔۔۔
جازب کے منہ سے شراب کی بدبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائ تو اسکا دل بری طرح سے خراب ھوا۔۔۔
جاز ب کہنی بیڈ سے ٹکاۓ اسکے بہت قریب نیم دراز تھا اس نے آہستہ سے نمل کے آنسو پونچھے کی کوشش کی تو نمل نے اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف پھیرا اور حقارت سے چیختے ھوۓ بولی۔۔۔
مت چھوو مجھے اپنے ان گندے ہاتھوں سے جازب ھوش میں کہاں تھا لیکن اس نے اسکے چیخنے پر اپنا ہاتھ ھنستے ھوئے پیچھے کھینچا تھا۔۔۔
جازب نے پھر دو سیکنڈز بعد اسکے چہرے کیطرف ہاتھ بڑھا کر آنسو پونچھنے کی کوشش کی تو اس نے رخ پھیر لیا اور چلاٸ اسکے چلانے میں بھی خوف اور گڑگڑاہٹ تھی الفاظ اسکی ھمت کیطرح ٹوٹ رھے تھے۔۔۔
تم ھوش میں نہيں ھو نشے کی حالت میں میری عزت کو پامال مت کرو تم تھوک لو مجھ پر ہزار بار میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دو میں اف تک نہيں کرونگی لیکن خدارا میری عزت سے مت کھیلو۔۔۔
جازب کو اسکی التجا اسکا سسکنا سناٸ ہی نہيں دیا اسکی نظر اسکے چہرے سے ھوتی ھوٸ اسکی گوری گردن کے کالے سیاہ تل پر آ ٹکی۔۔۔
جازب کی اپنی گردن پر جھکی نگاہ دیکھ کر خوف ایک بار پھر اسکی ریڑھ کی ہڈی سے برق رفتاری سے گزرا اور پیر کے تلووں سے بھی خوف شعاعوں کی صورت نکلنے لگا۔۔۔۔
لرزتے ھونٹوں کیساتھ نمل نے روتے روتے قرآن کی آیات بلند آواز میں پڑھنا شروع کر دیں جازب نے ایک پل سر اٹھا کر اسے آیت الکرسی پڑھتے ھوۓ دیکھا۔۔۔۔
اسکا پور پور خوف میں لپٹا دیکھ کر ایک پل اس نے سر جھٹکا پھر وہیں اسکا سر اسکے کندھے پر جھول گیا اور وہ ھوش سے بیگانا ھو گیا۔۔۔
جازب کا سر اب نمل کی گود میں تھا وہ ایک ٹک اسکے سر پر نظریں جماۓ ھوۓ تھی کہ وہ اب ھوش میں کبھی نا آئے۔۔۔
اپنے بابا کو یاد کر کے بلک بلک کے روٸ کہ انکا کیا حال ھوگا وہ ٹھیک ھونگے بھی یا نہيں ۔۔۔
نمل کے آنسو جازب کے چہرے پر گرتے رھے وہ پوری رات اپنے بابا کو یاد کرتی رہی اور آیت الکرسی کا ورد کرتی رہی اپنی حفاظت کی اور بابا کی خیریت کی دعاٸیں مانگتے مانگتے کب اس پر نیند کی دیوی مہربان ھوٸ اسے پتہ ہی نہيں چلا اور سو گٸ۔۔۔
____
امی امی عضد کچن میں داخل ھوتے ہی صبح سویرے نرگس کو آوازیں لگانے لگا۔۔۔
وہ اسکی آواز سن کر جلدی سے کچن میں آٸ کیا ھو گیا خیریت تو ھے صبح صبح کیا ماں کے نام کی اذانیں دے رھے ھو۔۔۔۔
وہ چاۓ کا پین ماں کے آگے رکھ کر بولا یہ حال دیکھیں اسکا اور ذرا گلاس کو سونگھے کتنی گندی بدبو آرہی ھے۔۔۔
کونسی کام والی رکھی ھے آپ نے فارغ کریں اسکو اتنا گندا کام کرتی ھیں سب۔۔۔
نرگس سر پکڑ کربیٹھ گٸ لوگ ھفتے میں اتنے کپڑے نہيں بدلتے جتنی مجھے تمھاری وجہ سے ماصیاں بدلنی پڑتی ھیں۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص نخریلے انداز میں بولا پیسے لیتی ھیں وہ امی مفت کا کام نہيں کرتیں کہ ان سے یہ بھی نا کہا جاۓ کہ کام صفائی سے کرو۔۔۔
بیٹا جتنے تمھارے نخرے ھیں نا خود کر لیا کرو آکر آفس سے جھاڑو برتن نرگس نے سر جھٹکا۔۔۔
وہ گلاس دھوتے ھوۓ بولا واہ اماں واہ اب یہی کام رہ گیا تھا میرے کرنے کو ۔۔
وہ بیزاری سے بولی کام والی تو تجھے ماں جیسی ملنی نہيں گھر والی ڈھونڈ لے کوٸ ۔۔۔۔
امی اگر وہ بھی میری طرح صفائی پسند نا ھوٸ تو اس نے پانی کا گلاس بھر کر ماں کو دیکھا۔۔۔۔
نرگس اسکے لیۓ چاۓ بناتے ھوۓ بولی توووو کوٸ بات نہيں وہ بھی بدل لیں گے۔۔۔۔ نرگس کا لہجہ بہت سادہ سا تھا۔۔۔۔
عضد ھنس پڑا اب ایسا تو نا کہیں نا امی اس نے ماں کے کندھے سے سر ٹکایا۔۔۔
ایسا کیوں نا کہوں میں تم تو ٹھہرے نفسیاتی مریض نرگس پوری گھومی اسکی طرف۔۔۔
وہ ہونقوں کیطرح منہ کھولے ماں کو ناراضگی سے دیکھنے لگا۔۔۔
نرگس مسکرائ بدلو اپنی عادت کو کوٸ نہيں رہے گی اسطرح میرے بچے تمھارے ساتھ ۔۔۔
مجھے تو یہ پریشانی کھاۓ جاتی ھے کہ کیا ھوگا تمھارا؟ تم تو کسی کاجوٹھا پانی تک نہيں پیتے بیوی کیسے رکھوگے؟؟؟
وہ ماں کو پیار سے گلے لگا کر بولا ارے آپ ہلکان کیوں ھوتی ھیں بس رہنے دیں ان باتوں کو میں نے نہيں کرنی شادی۔۔۔
وہ پیار سے اسکا ماتھا چومنے لگی کیوں نہيں کرنی شادی اللہ پاک تمھارے نصیب اچھے کرے سدا تو تمھارے ساتھ نہيں میں وہ چاۓ میں دودھ ڈال رہی تھیں۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔ ایسی باتیں نا کیا کریں مجھ سے۔۔۔
بیٹا ماں ھوں نا فکر ھوتی ھے عضد کیطرف اسکی پیٹھ تھی۔۔۔
میری مان بدل خود کو اپنی عادتوں کو میرے بچے کوٸ پارسا پاک دامن لڑکی نہيں ملے گی تجھے۔۔۔
عضد نے انکو کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کیا امی جان کیوں سوچتی ھیں آپ اتنا میرے بارے میں؟؟؟
بیٹا مجھے ھمیشہ تمھاری فکر رہتی ھے ناجانے کیا ھوگا میرے بعد تمھارا تمھاری تنہائ کا سوچ کر ڈر لگا رہتا ھے۔۔۔
آپ کیا چاھتی ھیں اس نے محبت پاش نظروں سے جھک کر ماں کو دیکھا۔۔۔
نرگس نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا میری جان بس میں چاھتی ھوں تم حالات سے لوگوں سے سمجھوتا کرنا سیکھو ان کو قبول کرنا سیکھو اپنی زندگی کسی کو شامل کرنے کی کوشش کرو ورنہ کل کو بلکل تنہا رہ جاؤ گے۔۔۔
_____________
کھڑکی سے چھڑھتے سورج کی روشنی سیدھا نمل کے چہرے پر پڑی تو اسکی آنکھ کھلی جازب رات کی طرح ہی اسکی گود میں سر رکھے سویا ھوا تھا ۔۔۔
بھوک اور پیاس کی شدت سے وہ نڈھال ھو رہی تھی اوپر سے رات سے بندھے ہاتھوں سے وہ اکڑ کر رہ گٸ اوپر سے جازب کا بوجھ ۔۔۔۔
درد کی شدت سے اسکے آنسو نکل کر جازب کے چہرے پر گرے تو اس نے آنکھیں کھولیں یک دم سورج کی روشنی آنکھوں پر پڑنے سے اس نے آنکھیں میچ لیں پھر انکو رگڑ کر کھولا تو نمل کا چہرہ خود سے قریب دیکھ کر حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھا پھر خود کی حالت پر غور کیا تو سر اسکی گود میں تھا وہ فوراً تیر کیطرح سیدھا ھو کر کھڑا ھوا اسکا سر بہت بھاری ھو رہا تھا پل بھر اسے کچھ سمجھ نا آئ وہ یہاں کیسے آیا۔۔۔
مجھے کھول دو پلیز مجھ سے اب درد برداشت نہيں ھو رہا نمل کی رندھی ھوئ آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
جازب نے کچھ نا سمجھتے ھوۓ اسے بس دیکھنے لگا۔۔۔
پلیز کھول دو میرے ہاتھ بلکل سن ھو چکے ھیں کل سے تم نے باندھا ھوا ھے۔۔۔
اسے شاہ جی کا آنا یاد تو اس نے حیرت سے ماتھے پر بل ڈالے پھر ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بنا جلدی سے اسکے ہاتھ کھولے جو ہلکے سے نیلے ھو رھے تھے۔۔۔۔
وہ اسکے ہاتھ دبانے لگا تو نمل نے فوراً پیچھے کھینچ لیۓ ۔۔۔
ہاتھ نہيں گلا دبا دو اس اذیت اور ذلت سے چھٹکارا تو ملے گا مجھے اور تمھارے بدلے گی آگ بھی ٹھنڈی ھو جاۓ گی ۔۔۔۔
وہ اسکی نڈھال ھوتی حالت دیکھ کر کھڑا ھوا۔۔۔
اگر چھٹکارا ہی کرنا ھوتا تم سے یا بدلے کی خواہش ھوتی تو تمھیں یہاں اپنے ساتھ نا لاتا۔۔۔۔
وہیں تمھارے گھر میں تمھارا کام تمام کرتا جب تم نے مجھ پر تھوکا تھا جازب کا چہرہ بنا کسی تاثر کے بلکل سپاٹ تھا کوئ نرمی کوئ لچک نا تھی اسکے لہجے میں۔۔۔
وہ بوجھل آنکھوں سے بولی کیا چاہتے ھو تم۔۔۔۔
جازب خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اور چپ چاپ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد اسد اسکے کمرے میں ناشتہ لے کر داخل ھوا۔۔۔۔
نہيں کھانا مجھے لے جاٶ یہاں سے وہ اپنے بازو سہلاتی چلائ تھی۔۔۔
اگر نہيں کھاٶ گی تو مر جاٶ گی اسد نے آہستگی سے کہا۔۔۔
وہ گھٹنوں پر سر رکھ کہ بولی یہی چاہتی ھوں میں۔۔۔
اسد نے جازب کو آواز لگاٸ وہ تولیۓ سے منہ رگڑتا اندر آیا اسکے ریشمی بال اسکے ماتھے پر پنکھے کی ھوا سے جھول رھے تھے۔۔۔
خود ہی نبٹ اس سے اب۔۔۔۔ تو ہی اٹھا کر لایا تھا نا میڈم کے نخرے بھی اٹھا اب اسد نے ڈش ٹیبل پر پٹخی اور باہر چلا گیا۔۔۔
تولیہ کرسی پر پھینک کر وہ اسکے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھا کیوں نہيں کھا رہی تم۔۔۔۔
تمھاری حرام کی کماٸ کا زہر بھی نا کھاٶں میں یہ تو پھر روٹی ھے اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا۔۔۔۔
اچھااااا جازب کو غصہ آگیا تو کیا اب میں جا کر تمھارے لیۓ محنت مزدوری کر کے کھانا لاٶں ؟؟؟
وہ منہ پھیر کر خاموش رہی۔۔۔۔
دیکھو کھالو کھانا تھوڑی جان آۓ گی اس نازک سے وجود میں ورنہ یہاں سے بھاگو گی کیسے؟؟؟ جاز۔ نے لب بھینچے کہا۔۔۔۔
جازب کی بات سن کر وہ ناک پھلا کر بولی بے فکر رھو تمھاری جان لیۓ بنا نہيں بھاگوں گی یہاں سے ۔۔۔
جازب زور زور سے ھنسا میری جان لینے کیلیۓ بھی تو جان میں جان ھونی چاھیۓ نا جازب کا انداز تمسخرانا تھا۔۔۔
کھا لو وہ اسکی طرف ڈش بڑھانے لگا تو نمل اپنی جگہ سے کھڑی ھوٸ اور ڈش اٹھا کر فرش پر دے ماری ایک بار کہا نا نہيں کھانا مجھے کچھ بھی۔۔۔
نمل کی اس حرکت پر جازب کا پارہ سوا نیزے پر جا پہنچا پہلے ہی درد سے اسکا سر کافی بھاری تھا اس پر نمل کی یہ حرکت۔۔۔ وہ اسکی طرف دو قدم بڑھا اور اسکا منہ جبڑوں سے پکڑ کر بولا سمجھتی کیا ھو خود کو تم؟؟؟
وہ خود کو چھڑانے لگی چھوڑو مجھے۔۔۔۔
شرافت سے پیش آرہا ھوں تو سر مت چڑھو میرے جازب نے دانت پیسے۔۔۔
شرافت ۔۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔۔ دوسروں کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے شریف نہيں بے غیرت ھوتے ھیں تمھاری طرح وہ درد سے کراہتی جازب کے ہاتھ نوچنے لگی۔۔۔۔
بات تھی یا دھماکہ جازب نے ایک جھٹکے سے اسکا منہ چھوڑا اور تھپڑ دے مارا اسے جو اسکے گال رنگ گیا۔۔۔
وہ سیدھا بیڈ پر جا گری جازب کے تھپڑ سے اسکی ناک سے خون نھنے سے قطرے کی صورت بہنے لگا۔۔۔
وہ غصے سے لڑاکا بلی کی طرح جازب پر جھپٹی اسکے ناخنوں سے جازب کا منہ چھل گیا۔۔۔
جازب نے دونوں ہاتھ اسکی پیٹھ پر لے جاکر اسے قابو کیا ۔۔۔۔
وہ غصے سے روتے ھوۓ بلند آواز میں چلاٸ تمھاری ھمت کیسے ھوٸ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔
وہ بھی اسی کی ٹون میں دانت پیس کر بولا بلکل ایسے ہی ہمت ھوٸ جیسے تم نے کی تھی۔۔۔۔
وہ پھرچلاٸ جازب کو شور شرابا چیخنا بلکل پسند نہيں تھا وہ بلند آواز میں بولا چلاٶ مت۔۔۔
نمل پہلے سے بھی زیادہ اونچی آواز میں بولی چلاٶنگی میں اس سے بھی زیادہ چلاٶنگی تم میرے جسم کو قابو کر سکتے ھو میری زبان کو نہيں وہ رو رو کر چیخنے لگی۔۔۔
جازب کا دماغ گھوم گیا اسکی چیخوں سے وہ خاموش بھی نہيں ھو رہی تھی جازب کو غصے سے کچھ سمجھ نا آیا تو اس نے چلاتی ھوٸ نمل کا بوسہ لے لیا۔۔۔
یہ سب اتنا اچانک ھوا کہ نا جازب کو سمجھ آٸ نا اسے۔۔۔
پل بھر دونوں ایک دوسرے کو حیرانی سے گھورتے رھے نمل بلکل سُن ھو گٸ تھی جازب نے حیرت سے منہ کھولے اپنے سینے سے لپٹی نمل کو خود سے الگ کیا ۔۔۔
وہ ریت کے ذروں کیطرح اسکے ہاتھوں سے پھسل کر فرش پر بیٹھ گٸ۔۔۔
جازب کو غصے سے کمرے سے نکلتے دیکھ کر اسد خاموش ہی رہا جانتا تھا کوئ سوال کیا تو دوسرا تھپڑ اسے رسید ھوتا۔۔۔۔
جازب نے سرخ ھوتی آنکھوں سے اسد کو گھورا اور چپ چاپ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ کھانا لےکر نمل کے سر پر کھڑا تھا ۔۔۔
کھاٶ یہ کھانا ورنہ مجھے زبردستی اپنے ہاتھوں سے کھلانا پڑے گا۔۔۔
نہیں کھانا مجھے ۔۔۔
اسکے انکار پر جازب نے جھک کر رسی اٹھائ مل اسے دیکھنے لگی وہ اسکے قریب آیا اور اسکے ہاتھ پیچھے کمر پر لے جا کر باندھے۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔ کیا کر ھے ھو تم؟؟؟
خاموشی سے جاز نے نوالہ زبردستی اسں کے منہ میں ٹھونسا کچھ نوالے اس نے منہ سے گراۓ اور کچھ حلق سے اتارے کیونکہ جازب کی زبردستی کے آگے اسکی ضد بیکار تھی ۔۔۔۔
دوپہر کا کھانا اب خود کھا لینا ذرہ سی بھی چوں چاں کی تم نے یا زیادہ ہاتھ پیر مارے تو یاد رکھنا جہاں ھونٹ چھو کر تمھارا منہ بند کر سکتا ھوں وہاں سر سے پاااا۔۔۔
جازب نے اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔۔۔
پھر وہ اسکے بے حد قریب ھو کر اسکے ہاتھ کھول کر مذید بولا آگے تم خود سمجھدار ھو کیا کہنا چاہ رہا ھوں میں اور مجھ سے کسی رعایت کی امید مت رکھنا کیونکہ جو میں نے کرنا ھو وہ کر گزرتا ھوں بنا کسی کے ڈر اور خوف کے۔۔۔
اسکا لہجہ ہنوز سپاٹ تھا۔۔۔
____
بختی صحن میں بیٹھی دیوی کے سر پر تیل لگا رہی تھی جب دروازے پر بیل بجی تو دیوی کے کہنے پر اس نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
دروازہ بجانے والے کی بھانچھیں کھل گٸیں بختی کو دیکھ کر۔۔۔
میں صدقے میں قربان ھماری قسمت کا دروازہ کب کھولو گی ان خوبصورت ہاتھوں سے اس نے جیسے ہی بختی کی طرف ہاتھ بڑھاۓ وہ فوراً پیچھے ہٹی۔۔۔۔
انٹی جی بابو بھاٸ آۓ ھیں ۔۔۔۔
اسکے منہ سے بھاٸ کا لفظ سن کر بابو کا منہ ایسا بنا جیسے اسے کسی نے نیم کا شربت پلا دیا ھو۔۔۔
دیوی جلدی سے اسکی بلاٸیں لیتی آگے بڑھی میری دیوالی کا چاند میرا پتر آیا آ جا بیٹا آ ۔۔۔۔
دیوی اسے پیار سے اندر لاٸ اور بندیا کو آواز لگاٸ
بندیا اری او بندیا دیکھ تو کون آیا ھے ؟؟؟
بندیا اپنے لمبے گولڈن بال لپیٹتی باہر آٸ تو بابو کو دیکھ کر کھل کھلا اٹھی۔۔۔۔
بابو دیوی کا دور پرے کا بھانجا تھا جو اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تھا اور بچپن سے ب
