Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bad Bakhat (Episode 05)

Bad Bakhat by Arshi Noor

دیوی نے دروازہ زور زور سے پیٹا پھر بندیا کے یاد دلانے پر چابی بغل میں دباۓ پرس سے نکالی اور لاک کھول کر گھر میں داخل ھوئ۔۔۔

گھر میں داخل ھوتے ہی بختی کو سامنے نا پا کر اسے پکارا اری او منہوس کہاں مر گئی ھے بد بخت اری او بد بخت۔۔۔۔

پھر صحن میں پڑی چارپائی پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھی جا بندیا دیکھ سو رہی ھوگی منہوس کو جگا میرا سر دبا کر دے دیوی نے بیٹی کو بختی کے پیچھے بھیجا۔۔۔

بندیا نے اسے پورے گھر میں ڈھونڈا وہ موجود نہيں تھی وہ آنکھیں پھاڑتی اماں اماں کرتی بھاگتی ھوٸ آٸ اماں ماں وہ نہيں ھے گھر میں۔۔۔۔

ارے رات کافی ھو رہی ڈر کے کہیں کسی کونے میں گھسی ھوگی جا دیکھ دیوی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کہا۔۔۔۔

اماں میں پورا گھر دیکھ آٸ ھوں وہ نہيں ھے مجھے لگتا ھے نمل کیطرح بھاگ گٸ ھے کسی کے ساتھ بندیا نے ایک ہی سانس میں تیزی سے کہا تو بھونچکا کر رہ گئی۔۔۔

وہ بیٹی کو پیچھے دھکا دے کر اٹھی بکواس نا کر فالتو میں نہيں جا سکتی وہ کہیں بھی۔۔۔۔

بختی او بد بخت وہ آوازیں لگاتی اسے ڈھونڈنے لگی پر بختی کا نام ونشان نہيں تھا۔۔۔۔

دیوی کافی پریشان اور بد حواسی کے عالم میں بندیا سے بولی۔۔۔۔

فون ملا اپنے باپ کو جلدی سے بتا اسے دھول جھونک گٸ ھماری آنکھوں میں کم نسل نے دکھا دی اپنی اصلیت بھاگ گٸ اپنے یار کے ساتھ اسکی آواز کافی بلند تھی۔۔۔۔

بندیا نے ماں کی بات پر سر ہلا کر آنکھیں پھیلاتے ھوۓ حیرت سے بولی اماں مجھے تو لگتا ھے یہ نمل اور بد بخت دونوں کا پلان تھا پہلے وہ بھاگی سارے زیور لے کر اب تین دن بعد یہ۔۔۔

بندیا کی بات پر اسکا دل دہل کر رہ گیا اس نے جلدی سے سینے پر ہاتھ رکھا ہاۓ بھگوان ۔۔۔

چیک کر ساری الماریاں کہیں وہ بھی نا سب ساتھ لے گٸ ھو….

____________________

جازب چابیاں انگلی میں گھماتا گاڑی کے پاس آیا تو اندر نمل کو نا پا کر اسکے ھوش اڑ گۓ یک دم اسکی ٹانگوں سے سانس نکلا تو وہ لڑکھڑا گیا۔۔۔۔

پھر آس پاس تیزی سے گردن گھمائ اسے نا پا کر اس کے پسینے چھوٹ گئے زمین اسکے پیروں تلے ایسے لرزی جیسے زور آور زلزلہ آیا ھو۔۔۔۔

پریشانی سے بالوں کو ایک ہاتھ سے جکڑتا وہ گاڑی کی چھت پر مکا مار کر خود سے ھمکلام ھوا اوہ ششششٹ یار۔۔۔۔۔

یہ کہاں چلی گئ اس نے جلدی سے گاڑی کے چاروں طرف ٹارچ گھما کر آس پاس دیکھا کسی کے جوتوں کے نشان نا تھے البتہ ننگے پیروں کے کچھ نشان نمل کے ہی تھے۔۔۔

جازب نے پیٹھ پر ہاتھ لے جا کر اپنی گن نکالی اور اسکے پیروں کے نشان دیکھ کر قدم بڑھانے لگا۔۔۔

وہ قدم اک پہاڑ کے پاس آ کر اب غائب ھو چکے تھے۔۔۔

اسکا نام بھی نہيں آتا تھا کس طرح اسے آواز دیتا پریشانی میں ادھر ادھر نظریں دوڑاۓ ھوۓ وہ اسے تلاشنے لگا۔۔۔

افففف خدایا یہ لڑکی کہاں چلی گئ کوئ آیا بھی نہیں یہاں اور وہ بھی نہیں جازب بہت زیادہ پریشان ھوا۔۔۔

پھر جلدی سے اللہ کا نام لے کر وہ پہاڑوں کیطرف ھو لیا۔۔۔

یہاں کسی کے ہاتھ چڑھ گئ تو کوئ اسکی بوٹیاں بھی نہیں چھوڑے گا یا پھر وہ خود کشی کے ارادے سے تو نہیں بھاگی پل بھر کے خدشات نے ایک ساتھ جازب کے دماغ پر دستک دی پریشانی سے اسکا دماغ ماؤف ھونے لگا تھا۔۔۔

یہاں نمل کو دو آدمیوں نے بڑی مشکل سے قابو کیا ایک نے اسے ٹانگوں سے پکڑا اور دوسرے نے بازوٶں سے وہ چلاٸ بہت لیکن اسکی آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر سمندر کی لہروں میں گم ھونے لگیں

نمل نے بہت ہاتھ پاٶں مارے پوری قوت سے وہ ان سے خود کو چھڑا رہی تھی۔۔۔

یار لڑکی ھے یا آفت سنبھالے نہيں سنبھل رہی اسکے پاٶں باندھ نکالتے ھیں ابھی اسکی اکڑ ساری۔۔۔۔

ان میں سے ایک بڑی بڑی مونچھوں والا اسکے پاٶں باندھنے لگا تو نمل کی لات اسکے منہ پر جا لگی وہ پیچھے کیطرف گرتے گرے بچا۔۔۔

اس نے غصے سے دو چماٹیں نمل کے منہ پر ماریں۔۔۔

چماٹیں اتنی زوردار تھیں کہ نمل کی کان کی لوٸیں جلنے لگیں پل بھر اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔۔۔

پھر ان دونوں نے اسے گھسیٹ کر بڑے سے پتھر پر لٹایا نمل کی روح بھی کانپ اٹھی کہ آج وہ نہيں بچنے والی وہ اس جازب سے اپنی عزت بچانے کیلئے بھاگی تھی لیکن یہ کیا جازب کیساتھ تو اب تک اسکی عزت اور مان سلامت تھا۔۔۔

پھر اسکے کانوں میں شاہ جی کی آواز گونجی تمھیں تو ان کھلونوں کی بھی ضرورت نہیں نمل اسی وقت سمجھ گئی تھی کہ وہ کھلونا بسی ہتھیار کو ہی کہہ رہا ھے۔۔۔

ایک پل نمل نے انکے مکروہ چہروں کو خوف زدہ آنکھوں سے دیکھا وہ اپنی جان بھی نہیں لے سکتی تھی ہاتھ پاؤں ان شیطانی ہاتھوں کے شکنجے میں تھے۔۔۔۔

بے بسی کی انتہا پر جہاں انسان کی روح حلق میں پھنس کر رہ جاتی ھے نمل خود کو اس مقام پر محسوس کر رہی تھی جیسے اسکے گلے پر کسی نے کھردری چھری رکھ کر اسے ذبح کرنے کی کوشش کر رہا ھو۔۔۔۔

نمل نے ان سے ایک بار بھی رحم کی بھیک نہیں مانگی وہ جانتی تھی سب بیکار تھا اب۔۔۔

تکلیف سے روتے ہوئے اللہ کو یاد کر کے اس نے پورے زور سے جازب کو آوازیں لگانا شروع کر دیں۔۔۔

جازب ۔۔۔ جازب ۔۔۔۔۔ جازب ۔۔۔۔۔

او چپ کر کس کو بلا رہی ھے اپنے یار کو آ جانے دے اسے بھی دیکھ لیں گے پہلے اس رات کو یادگار تو بنانے دے۔۔۔۔

وہ پھر چلاٸ جازب۔۔۔ جازب۔۔۔۔

جازب جو پہاڑوں پر اسے ڈھونڈتا ھوا اسی طرف آ رہا تھا کہ اسکے کان میں دور سے پہاڑوں سے ٹکراتی ھوئ نمل کی آواز آٸ اسکے کان کھٹکے اور قدم رک گئے ۔۔۔

جازب۔۔۔ جازب ۔۔۔۔۔ پھر اسکی آواز آنے پر وہ اسکی آواز کیطرف لپکا۔۔۔

جازب جازب مسلسل اسکی آواز قریب تر ھوتی گئ نمل نے ھمت نا ہاری وہ اسکا نام چلا چلا کر لیتی رہی کہ وہ ضرور اسکی مدد کو پہنچے گا اور ایسا ہی ھوا چند لمحوں میں وہ ان کے سر پر کھڑا تھا۔۔۔

چھوڑو اسے ۔۔۔

جازب کو سامنے دیکھ کر اسکی جان میں جان آٸ ان دونوں نے اسے چھوڑ کر جازب کو مڑ کر دیکھا جو نمل کے پاؤں باندھنے لگے تھے۔۔۔۔

وہ جلدی سے روتے ھوۓ رسی اپنے پیروں سے نکال کر کھڑی ھوٸ تھر تھر سوکھے پتے کیطرح اسکے پورے وجود پر لرزاں طاری تھا۔۔۔

جازب نے زرد ھوتی نمل کیطرف دیکھا خوف و ہراساں آنکھوں میں آنسو تھے اور اسکے منہ اور ناک سے بھی خون بہہ رہا تھا گالوں پر انگلیوں کے نشان بھی تھے۔۔۔

وہ جیسے ہی جازب کیطرف لپکی ایک نے اسکے ماتھے پر گن رکھ کے اسے ہاتھ سے پکڑا۔۔۔

جازب کی آنکھیں سرخ ھو رہی تھیں غصے سے وہ کڑک آواز میں بولا اس لڑکی کو چھوڑ دو ۔۔۔

ایک مونچھوں کو تاٶ دے کر بولا واہ ساٸیں واہ اتنی آسانی سے ہاتھ لگی جل پری تجھے دے دیں چل ایک کام کر صبح تک ھماری اسکے بعد تیری لے جانا اسے پھر۔۔۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی ورنہ جان سے ماردونگا میں جازب کی گرج دار آواز پہاڑوں کے چاروں اطراف گونجی۔۔۔۔

وہ دونوں زور سے ھنسے جازب پھر شیر کی طرح دھاڑا چھوڑ دو اسے۔۔۔۔۔

کیوں چھوڑ دیں جازب جی ایک نے مزے سے لڑکیوں کی آواز نکال کر کہا۔۔۔

امانت ھے یہ کسی کی اسکی آواز ایک پھر چاروں اطراف گونجی۔۔۔

ارے پیارے جازب وہ امانت ہی کیا جس میں خیانت نا ھو چل اب گن نیچے رکھ دے ورنہ تیری دلہنیا کو جان سے میں نے مار دینا ھے ھم نے۔۔۔

وہ پھر جازب کی بے خوف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا چل نیچے رکھ گن اپنی۔۔۔۔

نمل کا بس نہيں چل رہا تھا وہ اپنی جان خود لے لیتی زندگی میں پہلی بار اس نے خود کو اتنا بے بس محسوس کیا تھا جہاں اس نے ایک سانس میں سو بار مرنے کی تمنا کی تھی۔۔۔۔

جازب نے نمل کی آنکھوں میں جھانکا جہاں اپنے استحصال کا خوف بے بسی کا درد لاچارگی اور بے آبرو ھونے والے آنسو امڈ امڈ کر بہہ رھے تھے۔۔۔۔

جازب پرانا کھلاڑی تھا ان سب خطروں کا نمل کو ان سے بچانا اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا وہ بنا کسی خوف کے دو قدم ان سے پہلے قریب ھوا۔۔۔

اس آدمی نے جازب کو خبردار کرنے کیلیئے گن کے ٹرگل پر انگلی رکھی نمل نے خوف سے لرز کر آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔

جازب پھر بھی نا ڈرا۔۔۔۔۔

جس نے نمل پر گن تانی ھوئ تھی وہ چلا کر بولا گن نیچے رکھ ورنہ اسکا بھیجا اڑا دونگا۔۔۔۔۔

اسکی بات کا جازب پر کچھ اثر نا ھوا کان کھول کر سن لے ھمارے ہاتھ نا لگی تو تیرے لیۓ بھی نہیں بچے گی یہ گن رکھ نیچے اس نے گن سے نمل کے سر پر زور دے کر کہا۔۔۔

جازب نے ان دونوں کو ایک نظر دیکھا پھر اپنے ھونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔۔

نمل نے آنکھیں کھول کر اسکی آنکھوں میں اطمینان دیکھا تو مزید گھبرا گئ کہ وہ ایسی سچویشن میں بھی ذرا سا بھی خوف زدہ نا تھا۔۔۔۔

جازب نمل پر گن پکڑے ھوۓ آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زمین کیطرف جھکا تو جازب کو انکے آگے سلینڈر کرتا دیکھ کر نمل کی روح پرواز کرنے کو تھی اپنا آپ لٹ جانے کے خوف سے۔۔۔

وہ دونوں بھی مسکراۓ اور سمجھے جازب نے ہار مان لی نمل کا جسم بے جان ھونے لگا تھا وہ چکرا کر زمین بوس ھونے لگی تھی۔۔۔

جازب نے جھک کر زمین پر گن رکھتے ہی سیکنڈ کے دسویں حصے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا کر نمل کو اپنی طرف کھینچا اور دوسرے ہاتھ سے گولی ایک ہی پل میں اس بندے کے حلق سے پار کر دی جس نے نمل کو گن پوائنٹ پہ رکھا ھوا تھا۔۔۔

دوسرے نے جلدی سے گن اٹھاٸ اسے بھی جازب نے بڑی پھرتی سے گردن پر فائر کر کے اسی وقت دوسرے جہاں بھیج دیا یہ سب چند سیکنڈ کا گیم تھا۔۔۔۔

فاٸرنگ کی آواز سےنمل جازب کے سینے سے جا لپٹی وہ اس قدر بد حواس تھی کہ اسکا دل چڑیا کے پر کیطرح پھڑپھڑا رہا تھا۔۔۔۔

اس آدھے گھنٹے میں کیا کچھ اس نے دیکھ لیا تھا اپنی عزت داٶ پہ لگتی پھر موت کا منظر اسکے آنسو جازب کے سینے میں جذب ھونے لگے۔۔۔۔

جازب نے آھستہ سے اسے خود سے الگ کیا وہ کانپتے وجود کیساتھ اسکے قدموں میں گری میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ھوں تمھارے پاؤں پڑتی ھوں جازب۔۔۔

خدا کا واسطہ ھے مجھے میرے گھر میرے بابا کے پاس چھوڑ آؤ ۔۔۔

اسکے پیروں میں نمل سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر روٸ یہ وقت ایسا تھا کہ نمل کو اپنا بھی ھوش نہیں تھا اسکی اکڑ اسکی ھمت اسکا جنون سب ان تیز ھواؤں کی نذر ھو چکا تھا۔۔۔۔

جازب نے اسے بازو سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔۔۔

فی الحال چلو یہاں سے وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے پہاڑ سے اترنے لگا نمل اسکے ساتھ تیز قدم نہيں اٹھا پا رہی تھی تھک کر وہ گر پڑی کیونکہ اسکی جان آدھی تو نکل ہی چکی تھی۔۔۔

جازب نے گاڑی کیطرف دیکھا کافی دور تھی اٹھو ھمت کرو نکلنا ھے ھمیں فوراً یہاں سے خطرہ ھے یہاں اب۔۔۔

جازب کو اپنی پرواہ نا تھی اسے نمل کی فکر تھی اور غصہ بھی بہت تھا اسے نمل پر۔۔۔۔

بھاگتے ھوۓ نمل کی ھمت بلکل جواب دے گٸ اسکے پیر کے چھالوں میں جب ریت کے ذرات دھنسنے لگے تو وہ وہیں ریت پر بیٹھ گئ پیر کے چھالوں کا احساس اسے اب ھوا تھا۔۔۔

جازب دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔۔

گاڑی سے بھاگتے ھوۓ بڑی ھمت تھی تم میں اب دل تو چاہ رہا ھے یہی چھوڑ جاٶں تاکہ تمھیں اپنی غلطی کا احساس تو ھو۔۔۔

نمل پر ابھی تک خوف طاری تھا وہ چپ رہی۔۔۔

جازب نے گہری سانس لیکر آس پاس دیکھا پھر اسے گود میں اٹھایا اور گاڑی تک لایا پھر جلدی سے گاڑی میں بیٹھا گاڑی نے ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ انکو چاروں طرف سے بلیک ہائ لیکس گاڑیوں نے گھیر لیا جن میں مصلحہ افراد ان کی گاڑی پر گن تانے کھڑے ھوۓ تھے۔۔۔۔

جازب کو جس بات کا ڈر تھا وہی ھوا اس نے غصے سے دانت کچکچاۓ اور زور سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مار کر گاڑی کو بریک لگایا۔۔۔ _______________

بختی کو وہیل چئیر والی لڑکی ایک بوسیدہ سے کمرے میں چھوڑ گئ کہ یہاں سو جاۓ وہ۔۔۔۔

بختی چپ چاپ فرش پر بیٹھی جہاں اسکی قسمت کیطرح جگہ جگہ سے ٹوٹی ھوئ تار تار چٹائ بچھی ھوئ تھی اور ایک طرف نیلے رنگ کا چھوٹے چھوٹے رنگ برنگی پھولوں والا تکیہ اور چادر پڑی ھوئ تھی۔۔۔

بختی نے چرچراہٹ کی آواز سن کر چھت کیطرف دیکھا جہاں صدیوں پرانا پنکھا کسی لاش کیطرح جھول رہا تھا جسکی چرچراہٹ بختی کے کانوں میں اپنی داستان سنا رہی تھی۔۔۔۔

دیواروں پر جا بجا چونا لٹک لٹک کر اپنی الگ ہی کہانی سنا رہا تھا کہ وہ بھی کئ سالوں سے اسی دیوار کا ساتھ نبھا نبھا کر اب تھک چکا ھے۔۔۔۔

بختی کو گوپال اور نمل کی یاد آنے لگی وہ اپنے گرد اپنی ہی بانہوں کا گھیرا ڈالے سسکتی رہی ۔۔۔۔

ماما جی آ کر دیکھو نا ایک ہی دن میں اس کھنڈر جیسے گھر جیسی کھنڈر کر دی آپ نے اپنی بختی ماما اب مجھے کون پوچھے گا رات کو چپکے سے آ کر کہ مجھے بھوک تو نہیں لگی۔۔۔

کون صبح صبح سورج نکلنے سے پہلے میرے ماتھے کا بوسہ لیکر میرے چہرے کا دیدار کریگا۔۔۔۔

میں اب کس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھوں گی ماما جی بتائیں نا۔۔۔۔

اب مجھے ڈر لگا تو کون اپنے سینے سے لگاۓ گا ماما جی ماما جی آ جاؤ نا اپنی بختی کے پاس وہ ماما ماما کرتی روتی رہی پھر تھک کر تکیے کو اپنے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔۔

پھر دل ہی دل میں نمل کو پکارنے لگی۔۔۔

کہاں ھو تم نمل آجاٶ نا اپنی بختی کے پاس دیکھو میں کتنی اکیلی ھو گٸ ھوں کوٸ نہيں رہا میرا ماما جی بھی پراۓ ھو گۓ تو بھی کھو گٸ مجھ سے۔۔۔

کون ھے میرا ؟؟ کہاں جاٶنگی اب میں ؟؟

دیکھ نمل مجھے تیرا رب بھی نہيں بلاتا اپنے پاس اس نے بھی زمانے کی ٹھوکروں میں بلکل لاوارث اور تنہا پھینک دیا مجھے۔۔۔۔

نمل آ جا نا کہاں ھے تووو۔۔۔۔

یا اپنے رب کو بھیج دے اسے بول دیکھے مجھے آۓ میرے پاس میری ماں کے روپ میں ایک بار ہی آجاۓ لے جاۓ اپنے ساتھ مجھے نمل بول نا اپنے اللہ سے ۔۔۔۔

کہاں ھے وہ ؟؟؟ اور کہاں ھے تو نمل کہاں ؟؟؟

میں تیرے اللہ سے بار بار کہتی ھوں مجھے میرے اپنوں سے ملا دے کوئ تو ھو میرا اپنا کوئ ایک تو ھو…۔۔

ماں بابا بہن بھائ کوئ تو ھوگا میرا کسی بچھڑے ھوۓ سے ملانے کا انتظام کر دے نا اللہ جی کچھ تو رحم کر دے۔۔۔

نمل بوک نا اپنے اللہ سے تیرا اللہ ستر ماؤں جیسا نا سہی ایک ماں کے برابر ہی رحم کر دے مجھ پر ایک بار ملا دے میرے کسی اپنے سے بس ایک بار۔۔۔۔۔

بختی کئ گھنٹوں تک اپنی لاوارثی پر لاوارث آنسو بہاتی رہی۔۔۔

اسکے آس پاس سوا اسکی قسمت کیطرح سیاہ اندھیرے کے اور کچھ نہیں تھا۔۔۔

اسکے الفاظ اسکی آہ و بکا بین کرتی ھوئ بوسیدہ دیواروں سے ٹکرا کر اسے تھپتھانے لگی۔۔۔۔

__________

جازب اپنی لینڈ کروزر سے باہر نکلا تو بڑی بڑی بندوقیں ہاتھ میں لیۓ کچھ آدمی جازب کے قریب آۓ۔۔۔۔

ان میں سے ایک حیرت سے بولا جازب شاہ تم یہاں؟؟؟؟؟

جازب نے سینے پر ہاتھ باندھ کر ہاں میں سر ہلایا اسکا چہرہ بلکل چٹان کی مانند سخت اور سپاٹ تھا۔۔۔

فائرنگ سے بابر کے بندوں کو تم نے مارا ھے؟؟؟ وہ جازب سے پوچھنے لگے۔۔۔

جازب نے بڑے اسٹائل سے ناک پھلائ اور ہاں میں سر ہلا کر کہا وہ اسی قابل تھے۔۔۔۔

کیا کیا تھا انہوں نے؟؟؟ وہ آرام سے جازب سے پوچھنے لگے۔۔۔

جازب نے ایک پل ہلکی سی گردن موڑ کر نمل کیطرف دیکھا پھر لب بھینچ کر کہا تمھیں نہیں بتا سکتا۔۔۔

ٹھیک ھے ھمیں نا بتاؤ لیکن تمھیں ھمارے ساتھ چلنا ھوگا اب فیصلہ پنچایت میں ھوگا اب بابر کی اوطاق میں۔۔۔۔

بند گاڑی کے بند شیشوں میں اندر بیٹھی نمل انکے درمیان ھونے والی گفتگو نا سن سکی۔۔۔۔

نمل اور جازب کو بابر بلوچ کے آدمی بابر بلوچ کی حویلی میں لے آۓ ۔۔۔

راستے میں بھی کوئ بات نا کی انہوں نے جازب سے کہ انکے سامنے جازب شاہ تھا جو فی الوقت نمل کی وجہ سے انکے آگے جھکا تھا۔۔۔

وہ یہ بات جانتے تھے کہ معاملہ اس لڑکی کا ھے جو اسوقت جازب شاہ کیساتھ تھی جسکی وجہ سے وہ انکی تقلید میں انکے پیچھے چل پڑا تھا ورنہ جازب شاہ کو اسکی مرضی کے خلاف لے جانا نا ممکنات میں سے تھا کہ وہ شاہ جی کا خاص آدمی تھا اس شاہ جی کا جسکی دھاک پر یہ سب اسمگلرز دم بھرتے تھے۔۔۔۔

جازب اور نمل دونوں ایک ہی کمرے میں موجود تھے جازب کو یہ سوال بار بار تنگ کر رہا تھا تو وہ پوچھ بیٹھا۔۔۔۔

تم میری گاڑی سے بھاگی کیوں تھی؟؟؟ انداز غصیلہ تھا۔۔۔

نمل اب تک اس شاک سے باہر نہيں آٸ تھی کہ اسکے ساتھ کیا ھوا اور کیا ھونے والا تھا۔۔۔

تم سے کچھ پوچھ رہا ھوں کیوں بھاگی تھی مجھ سے جازب نے اسکے سر پر کھڑے ہوکر پوچھا۔۔۔۔

وہ ھونقوں کیطرح منہ کھولے جازب کو تکنے لگی پھر اپنے موٹے موٹے آنسو پونچھ کر کہنے لگی تم نے مجھے بیچ دیا۔۔۔۔

کیاااا ؟؟؟ جازب نے حیرت سے بھنویں اکھٹی کیں۔۔۔۔

کتنی رقم ملے گی اب تمھیں میری کتنے روپوں میں میرا سودا کیا ھے تم نے وہ یک ٹک اسکی آنکھوں میں جھانکے ٹرانس کی صورت بول رہی تھی۔۔۔۔

کیا بکواس کر رہی ھو جازب کو اسکی بات سمجھ نا آئ۔۔۔۔

نمل نے اسکا گریبان پکڑا بتاٶ مجھے کتنے نوٹوں میں تولی ھے میری آبرو تم نے۔۔۔۔

جازب اسے حیرانی سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہی ھے؟؟؟

کس کی امانت ھوں میں تمھارے شاہ جی کی ؟؟؟؟ نمل کی آنکھوں میں اب وحشت اتر آئے تھی ۔۔۔

اگر تمھارا شاہ جی مجھ سے بھی خوش نا ھوا تو پھر کل کو کسی اور کی بہن یا بیٹی اسکی خدمت میں پیش کروگے تم؟؟؟

جازب نے اپنے گریبان سے اسکے ہاتھ ہٹا کر اپنی مٹھی میں جکڑ کر زور سے اسے جھٹکا دیا۔۔۔

بہت دنوں سے تمھاری بکواس برداشت کر رہا ھوں میں اب ایک بھی لفظ نکالا تو منہ توڑ دونگا تمھارا جازب نے اسے وارن کیا۔۔۔۔

کیوں منہ توڑو گے میرا جب بات اپنی عزت پر آٸ تووو۔۔۔۔

بسسسسسس چپ جازب خونخوار نظروں سے اسےگھور کر غرایا۔۔۔

پہلے ہی تمھاری وجہ سے آج پہلی بار میں یرغمال بنا ھوں پہلی بار کسی کی اتنی جرات ھوئ ھے مجھے اس طرح پنچایت میں لانے کی۔۔۔

واہ واہ جازب صاحب واہ نمل نے حقارت سے تالیاں بجا کر کہا اتنی فکر ھے اپنے نام کی اپنی ناک کی۔۔۔۔

اور میری عزت کہاں گٸ جو تم سب کی ھوس کا لقمہ بن رہی ھوں۔۔۔۔

پہلے تمھاری پھر ان دو کی جن کو تم نے قتل کیا اور اسکے بعد تمھارے شاہ جی کی پھر پتہ نہيں کس کس کے ہاتھوں میرا استحصال ھوگا۔۔۔۔۔

آخری جملہ وہ بلند آواز میں بولی مسٹر جازب صرف صرف ایک تمھاری وجہ سے پھٹ پڑی تھی وہ۔۔۔۔۔

میں نے تمھاری عزت پامال نہيں کی نا اب تک ھونے دی بلکہ بچایا ھے تمھیں ان بھوکے کتوں سے جنکی بدولت تم پہلے لقمہ ھوس پھر لقمہ اجل بنتی۔۔۔۔

ہاں بچایا بھی اپنی خاطر ھے تم نے کیونکہ تمھیں پتہ تھا استعمال شدہ مال سے تمھیں گھاٹے کا سودا ھوگا نا اور اپنا گھاٹا تم چاھتے نہیں۔۔۔۔

مطلب کیا ھے تمھارا؟؟؟ وہ ناک پھلاۓ اسکے قریب ھوا۔۔۔

وہ بے خوفی سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی اتنے نادان تو نہيں تم کہ بنا کسی مطلب کے کیا یہ سب کچھ۔۔۔

جازب کو کچھ کچھ سمجھ آئ اسکی بات تو وہ دھڑلے سے بولا اچھا تو تم یہ سمجھ رہی ھو کہ میں تمھیں بیچنے کی نیت سے لایا ھوں یہاں۔۔۔۔

اسکے علاوہ کیا مقصد ھو سکتا ھے؟؟ نمل نے منہ پھیر لیا۔۔۔

وہ اس سے دو قدم پیچھے ہٹا پاگل ھو گٸ ھو تم میرا ایسا کوٸ ارادہ نہيں تھا اس نے سر جھٹک کر پینٹ کی جیب سے سگریٹ نکالا۔۔۔

نمل کی ھمت اب جواب دے گئ تھی کچھ لمحے پہلے ھونے والا منظر سوچ کر ایک بار پھر اسکی روح کانپ اٹھی اسے اندازہ ھو گیا تھا کہ اب اس جہنم سے اسے نجات ملنی نا ممکن ھے وہ خود کو چاہ کر بھی نہیں بچا سکتی۔۔۔

کچھ لمحہ سر ہاتھوں میں پکڑے وہ رونے لگی کہ شاہ جی کے حوالے ھونے سے بہتر ھے کہ وہ خود کو جازب کے سامنے پیش کر کے اپنی جان بچا لے اور ایک بار اپنے باباجانی سے جیتے جی مل لے پھر اسے موت کی بھی پرواہ نہیں بس وہ ایک بار اپنے قدموں پر چل کر اپنے باپ سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔۔

کچھ سوچ کر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور صوفے سے یک دم اٹھی جازب کے سامنے کھڑی ھوئ جو بیڈ پر ٹانگیں پسارے لیٹا ھوا سگریٹ کے لمبے لمبے کش کے رہا تھا۔۔۔۔

نمل کے پاس آنے پر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔

نمل لاچارگی سے ہچکیوں کے درمیان بولی بدلے کے جس ارادے سے لاۓ ھو پورا کر لو وہ ارادہ اور مجھے بخش دو۔۔۔

اس نے اپنا دوپٹہ جو سرخ جارجٹ کا سادہ سا تھا اپنے سر سے اتار کر جازب کے قدموں میں پھینکا لو کر دیا میں نے خود کو تمھارے حوالے ۔۔۔۔

___________________

حافظ صاحب گھر آ چکے تھے انکی حالت کے پیش سبب لوگوں کے منہ وقتی طور پر بند تھے۔۔۔

حافظ صاحب سارا سارا دن دیوانوں کیطرح روتے رھتے کیا جواب دونگا میں تیری ماں کو کہ میں اپنی بیٹی کی حفاظت تک نہيں کرسکا کیا منہ دکھاٶنگا میں اسے روزِمحشر اسوقت بھی مسجد میں وہ ماتھا زمین پر رگڑ رگڑ کر رو رھے تھے۔۔۔

ایک محلے دار انکو دیکھ کر ان نے پاس آیا حافظ صاحب گھر کو لاک تو کردیا کریں ایسے دروازے کھلے نا چھوڑا کریں کسی نے چوری کر لی پھر سے تو۔۔۔

حافظ صاحب نے آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا اور اپنے خالی ہاتھ اٹھا کر دیکھے میرا سب سے قیمتی سرمایہ تو چوری ھو گیا اب اور کیا چوری ھونا ھے یہ بے جان بے قیمت ساز وسامان ؟؟

نہيں چاھیۓ مجھے کچھ بھی بس کسی طرح میری زندگی میری جنت میری بچی لوٹ آۓ ۔۔۔۔

حافظ صاحب اللہ کے گھر میں ھیں آپ اسکے یہاں دیر ھے اندھیر نہيں وہ تسلی دینے لگا۔۔۔۔

ھماری بھی یہی دعا ھے اللہ ان ظالموں کے دل پر رحم کرے اور آپکی بچی صحیح سلامت گھر آجاۓ۔۔۔۔

مسجد پوری خالی ھو چکی تھی اور وہ سجدے میں گڑگڑا کر نمل کی حفاظت کی دعائيں مانگتے رھے رب سے ۔۔۔۔

________________

جازب نے سگریٹ ایش میں زور سے مسلا اور غصے سے اسکا دوپٹہ اپنے پیروں سے اٹھا کر اسکے سر پر ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

میں اس ارادے سے تمھیں ہرگز اٹھا کر نہیں لایا تھا اور نا اب یہاں بیچنے کے ارادے سے لایا ھوں۔۔۔۔

نمل بے یقینی سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

میں تمھیں تمھارے گھر چھوڑنے کیلئے لایا تھا ساتھ لیکن تم نے بھاگ کر سارا معاملہ خراب کر دیا اور جن بندوں کو میں نے مارا ھے نا تمھاری وجہ سے اب اسکا ہرجانہ بھرے بغیر نا میں یہاں سے جان چھڑا سکتا ھوں اپنی نا تمھاری ۔۔۔۔۔

نمل کو اسکی بات پر یقین نا آیا وہ بیڈ پر تھک ہار کر گرتے ھوۓ بیٹھی اور اپنا درد سے پھٹتا ھوا سر ہاتھوں میں لیکر رونے لگی۔۔۔۔۔

جھوٹ بولتے ھو تم تمھاری ساری باتیں میں فون پر سن چکی ھوں دھول کسی اور کی آنکھوں میں جھونکنا میں تمھاری باتوں میں نہیں آنے والی۔۔۔۔۔

جازب نے بے فکری سے کندھے اچکاۓ ٹھیک ھے نا کرو یقین اتنا کہہ کر وہ پاس پڑے صوفے پر پیر پسارے دراز ھوا جیسے کچھ ھوا ہی نا تھا۔۔۔۔

دروازے پر دستک دیکر جازب سے اجازت طلب کر کے ایک بندہ اندر آیا۔۔۔۔

جازب شاہ کچھ چاھیے آپکو کھانا چاۓ پانی یا کچھ بھی اور؟؟؟

جازب نے نمل کیطرف دیکھا تو وہ غصے سے منہ پھیر کر بولی مجھے چاھیے….

جی بولے بیگم صاب کیا چاھیے آپکو؟؟؟

زہر ر لا دو مجھے لہجہ کافی کڑوا تھا اسکا۔۔۔۔

نمل کا جواب سنکر وہ معصومیت سے جازب کو دیکھنے لگا کچھ نہیں چاھیے یار اب ڈسٹرب مت کرنا شاہ جی کے آنے تک۔۔۔

اس بندے کے جاتے ہی نمل تنفر سے بپھری ہوئی بولی۔۔۔۔

اتنا پروٹوکول اتنی امپورٹنس کسی قاتل کو نہیں دی جاتی بلکہ کسی خاص بندے کو دی جاتی ھے مسٹر جازب شاہ ۔۔۔۔

جازب نے زور سے اسکے آگے ہاتھ جوڑے تو ہاتھ جڑنے پر تالی کی آواز سے وہ تھوڑا سہم گئ کیونکہ آواز بہت زور سے آئ تھی۔۔۔

جو بھی سوچنا ھے نا سوچ لو لیکن منہ بند رکھنا اب وہ کرخت لہجے میں بولا۔۔۔۔

نمل موقع کی مناسبت سے خاموش ہی رہی۔۔۔۔

صبح ھوتے ہی وہاں بابر بلوچ اور شاہ جی دونوں موجود تھے

شاہ جی کو جازب کے ساتھ لڑکی دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔۔ لیکن اس نے ظاہر نا کیا اور خاموشی سے ایک کروڑ کی رقم دے کر ان دونوں کو بابر بلوچ کے چنگل سے چھڑوایا اور بلوچستان والی حویلی واپس لے آیا ۔۔۔۔

_______________

گوپال ساری رات باہر گزار کر گھر آیا گھر میں داخل ھوتے ہی دیوی اس پر برس پڑی ۔۔۔۔

کہاں اس بدبخت کے پیچھے مارے مارے پھرتے رہے تم ہاتھ نہيں آنے والی اب وہ کلموہی تمھارے۔۔۔۔

بڑا سینے سے لگا کے رکھتے تھے نا اسے تھوک گٸ ھے تم پر۔۔۔۔

گوپال نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے بس کردو بھگوان کا واسطہ ھے۔۔۔۔

ابھی تو مجھے چپ کروالو گے لیکن کان کھول کر سن لو اگر وہ منہ کالا کر کے اس گھر میں واپس آٸ اور تم نے اسے آنے دیا تو یاد رکھنا وہ تمھارا بھی آخری دن ھوگا اس گھر میں۔۔۔

گوپال نے بلند آواز میں روتے ھوۓ کہا نہيں آۓ گی اب وہ واپس کبھی بھی۔۔۔۔

تم توایسے دیوانوں کیطرح رو رھے جیسے وہ مر گٸ ھے اور تم اسکی چتا کو آگ دے کر آرھے ھو دیوی کسی ناگن کیطرح پھن مارتے ھوۓ ہاتھ ہلا ہلا کر بولی۔۔۔

گوپال سر جھکا کر دل ہی دل میں بولا ہاں مار ہی تو ڈالا ھے میں نے اسے کاش اسکی چتا بھی جلا دیتا ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ باہر دروازے پر بیل بجی۔۔۔

گوپال آنسو صاف کرتا باہر گیا تو بابو کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا

اس نے دروازے پر ہاتھ رکھے بانچھیں کھولیں اور چاچا کہاں ھے بختی لیکر آ اسے باہر۔۔۔۔

گوپال سختی سے مٹھیاں بھینچ کر اسے سائیڈ پر لے جا کر بولا بھاگ گٸ ھے وہ۔۔۔۔

کیااااااا؟؟ بابو حیرت سے چلایا بھاگ گٸ یا تو نے اسے کہیں اور ٹھکانا دے دیا ھے۔۔۔۔

میں سچ کہہ رہا ھوں جا کر دیوی سے پوچھ لے بھاگ گٸ ھے وہ کل رات ہی گوپال پھر سے رو دینے کو تھا۔۔۔۔

بابو اسکا بازو سختی سے پکڑا دیکھ چاچا میرے ساتھ غلط بیانی سے کام نا لے تو جانتا ھے مجھے اور میں تجھے۔۔۔۔

تیری آنکھوں میں چوری صاف نظر آرہی ھے۔۔۔۔

دیکھ بابو میں پریشان ھوں بہت تجھ سے الجھنا نہیں چاھتا گوپال نے ہاتھ جوڑے نہیں ھے بختی میرے پاس مجھے نہیں پتہ وہ کہاں ھے؟؟؟

بابو اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر بولا۔۔۔

یاد رکھ چاچا ڈھونڈ تو لونگا میں اسے لیکن اسکے مل جانے پر تیرا حال بہت برا ھوگا۔۔۔

ایک ایک پل کا ایک ایک دن کا بدلہ لونگا میں تجھ سے اب دیکھنا تو اپنا تماشا۔۔۔

بابو گوپال کو دھمکا کر چلا گیا گوپال وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور بختی کو یاد کر کے پھر سے رونے لگا مجھے معاف کر دے میری بچی مجھے معاف کر دے اس راؤنڈ سے تجھے بچانے کی خاطر خود سے دور کر دیا میں نے۔۔۔

تو پھر سے لاوارث ھو گئ میری بچی پھر سے۔۔۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔۔۔

_____________________

یہ کون ھے تمھارے ساتھ ؟؟؟

شاہ جی جیسے ہی حویلی پہنچا دلہن کے لباس میں نمل کو دیکھ کر شاک کی سی کیفیت سے پوچھا۔۔۔۔

شاہ جی کے سوال پر جازب نے سر جھکا لیا۔۔۔۔

وہ پھر اسد کیطرف پلٹا تم اسی سرپرائز کی بات کر رھے تھے؟؟؟ شاہ جی کا لہجہ اسوقت آسمان پر کڑکتی بجلی جیسا کڑک دار تھا۔۔۔

اسد بھی خاموش تھا کہ وہ بھی جازب کے جواب کا منتظر تھا۔۔۔

نمل نے شاہ جی کو بغور دیکھا گولڈن سلکی بال ہری کنچے جیسی آنکھیں گورے رنگ پر کاٹن کا بلیک سوٹ پہنے وہ کوٸ رٸیس زادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔

میں پوچھ رہا ہوں کون ھے یہ تمھارے ساتھ شاہ جی نے اب جازب کو بازوٶں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔۔۔

جازب کی خاموشی پر نمل کے زخمی لب کھلے آپکا مال۔۔۔۔

شاہ جی نے اسکی طرف دیکھا جو زخموں سے چور چور تھی میں نے تم سے نہيں پوچھا۔۔۔

آپکو جواب چاھیۓ تھا نا میں نے دے دیا نمل کا لہجہ بہت سخت تھا اب یہ بتادیں کیا قیمت دیں گے اسکو آپ میری ؟؟؟

کیا مطلب شاہ جی حیرت اور غصے سے اسکی طرف پلٹا۔۔۔۔

آپکا تحفہ ھوں میں جو جازب شاہ لاۓ ھیں اور اس تحفے پر منہ مانگا انعام حاصل کریں گے یہ آپ سے ۔۔۔۔

شاہ جی نے ایک سوالیہ نظر اسد عامر اور جازب تینوں پر ڈالی کہ کیا معاملہ ھے؟؟؟

نمل پھر سے بولی کیا دیکھ رھے ھیں انکو حیرت سے مجھے دیکھیں نا اب وہ اپنے زخموں کو دیکھ کر مذید بولی۔۔۔۔

آپکا تحفہ کچھ خراب ھو گیا ھے نمل کی آنکھوں میں آنسو تھے اور لہجہ آنسوؤں سے لبریز۔۔۔

قیمت تھوڑی کم ھوگی نا اب کیونکہ مال کافی خراب حالت میں ھے پہنچا ھے آپ تک۔۔۔۔

شاہ جی نے ہاتھ اسد کے کندھے پر رکھا تم اس تحفے کی بات کر رھے تھے اس دن مجھ سے؟؟؟

اسد نے کن اکھیوں سے شاہ جی کو دیکھا اس پل نمل کی باتوں سے شاہ جی آنکھیں انگاروں کی طرح دہکنے لگی تھیں۔۔۔

نننننن نہیں شاہ جی ھماری کیا مجال جو ھم یہ تحفہ پیش کریں وہ تو ھم چھوٹی سی ٹیٹی گن کا کہہ رھے تھے جو جازب نے نیو یارک سے منگوائی تھی خاص تمھارے لیے۔۔۔۔

جھوٹ بول رھے ھیں یہ سب نمل نے ہنکارا بھر کر بھرائی ھوئ آواز میں کہا آپکی خدمت میں پیش ھونے والا وہ مال ھوں میں جسے پہلے جازچ شاہ نے چیک کرنا تھا۔۔۔

نمل انہی کی باتیں دوہرا رہی تھی۔۔۔۔۔

شاہ جی نے جازب کیطرف بے حد غصے سے دیکھا کیا کہہ رہی یہ کوئ بتاۓ گا مجھے آواز اتنی بلند تھی کہ نمل بھی سہم کر رہ گئ کونسی قیمت کونسا مال؟؟؟؟

جازب اپنے لب کاٹتا اسے گھور کر بولا بکواس کر رہی ھے یہ سب۔۔۔

شاہ جی جازب کے آنکھ ملا کر بات نا کرنے پر اسکی چوری پکڑتے ھوۓ بولا۔۔۔۔

تم کچھ چھپا رھے ھو مجھ سے اسی تحفے کی بات کر رھے تھے نا تم؟؟؟

جازب نے جلدی سے شاہ جی کیطرف دیکھ کر انکار میں گردن ہلائی بس یار اب تم تو شروع مت ھو جاؤ ایسا کچھ نہیں ھے غلط فہمی ھوئ ھے اسد ٹھیک کہہ رہا ھے میں گن لایا تھا تمھارے لیے اس بارودی سرنگ کو نہیں۔۔۔۔

جاز کی بات پر شاہ جی نے ابرو اچکاۓ پھر صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ سلگایا۔۔۔۔

پھر اسے بھگا کر لاۓ ھو کیا؟؟

جازب نے نا میں سر ہلا کر کہاں نہیں ۔۔۔

تو پھررر؟؟؟ سگریٹ اب شاہ جی کے گلابی ھونٹوں میں قید تھا۔۔۔۔

اٹھا کر لایا ھوں جازب کا لہجہ بلکل سادہ لیکن سپاٹ تھا۔۔۔۔

کیوں ؟؟؟؟ شاہ جی نے پھر سوال پوچھا۔۔۔

جواب میں خاموشی تھی۔۔۔۔

شاہ جی سادہ لیکن غضبناک لہجے میں بولا جس پر نمل کانپ کر رھے گئ۔۔۔

اب لوگوں کی بہن بیٹیاں بھی اٹھا کر لاٶگے تم یہ گھٹیا اصول کب سے شامل کیا تم نے اپنے بزنز میں؟؟؟

وہ جو سگریٹ کیس سے سگریٹ نکال رہا تھا سگریٹ کو ہاتھوں میں مسل کر بولا غلطی ھو گٸ۔۔۔۔

غلطی ۔۔۔۔۔۔ شاہ جی نے ماتھے پر بل ڈال کر اسکی طرف دیکھا

مجھے تو نہيں لگتا یہ غلطی تھی جس کے پیچھے تم نے دو قتل کر دیۓ وہ بھی بابر کے علاقے میں رہ کر اسی کے بندوں کا۔۔۔۔

جازب کی آنکھوں میں اب بھی غصہ جھلک رہا تھا قتل کر دینے کے ہی قابل تھے وہ دیوار کی طرف منہ موڑ کر وہ بڑبڑایا خس کم جہاں پاک۔۔۔

تم نے قتل کیوں کیا انکا ؟؟؟؟

انہوں نے اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا جازب نے سر جھکا کر نمل کیطرف اشارہ کیا۔۔۔

شاہ جی نے گہری سانس اندر کھینچی اور فکرمند لہجے میں کہا تمھاری جان بھی جا سکتی تھی ناں۔۔۔۔

نہيں مار سکتے تھے وہ مجھے پہچان گۓ تھے جازب نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔۔۔

ہاں بھٸ بڑا نام ھے نا تمھارا کمانڈو جازززززب۔۔۔ شاہ جی بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کر کے بولا۔۔۔۔

جانتے ھو اب یہ خبر اپنے پورے سرکل میں پھیلے گی کہ شاہ جی جازب سے ملکر عورتوں کا بزنز بھی کرنے لگا ھے۔۔۔

جازب غصے سے کھڑا ھوا مجھے کسی کی پرواہ نہيں ۔۔۔

شاہ جی سارا معاملہ سمجھ چکا تھا وہ ھونٹوں پر ہاتھ پھیر کر نمل کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا اسکی بھی پرواہ نہيں۔۔۔۔

جازب نے کن اکھیوں سے نمل کو دیکھا اور پھر چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔

شاہ جی اٹھ کر نمل کے پاس آیا تو وہ تھوڑا پیچھے ہٹی۔۔۔

دیکھو لڑکی آج سے پہلے اس نے کبھی ایسی حرکت نہيں کی اسے کوٸ پسند آجاۓ تو یہ اسے نہيں چھوڑتا یا اسے جس چیز پر غصہ ھو اسے تو بلکل نہيں چھوڑتا اب تم پر اسے غصہ ھے یا ۔۔۔۔۔ آگے وہ خاموش ھو گیا خیر۔۔۔۔۔۔۔

شاہ جی نے اسے سر سے پاٶں تک دیکھا۔۔۔

تمھاری شادی ھو رہی تھی یا کسی کی شادی میں جا رہی تھی یا پھر شادی شدہ ھو ؟؟؟

نمل غصے سے تنک کر بولی آپکو کیوں بتاٶں؟؟؟

شادی شدہ تھی یا ھو رہی تھی یا شادی کے قابل چھوڑا نہيں آپ لوگوں نے۔۔۔۔۔

جو پوچھا ھے وہ بتاؤ شاہ جی نے آرام سے کہا۔۔۔

وہ شاہ جی کیطرف دیکھ کر بے خوفی سے بولی کیوں آپ نے کرنی ھے کیا ؟؟؟ انداز ایک دم برھم تھا۔۔۔۔۔۔

شاہ جی کو ھنسی آ گٸ اسکے جواب پر وہ زیر لب مسکرایا اور سر جھٹک کر کہا اب سمجھ آیا وہ تمھیں کیوں اٹھا کر لایا ھے۔۔۔۔

کب سے ھو اسکے پاس شاہ جی کی آنکھیں مسکراہٹ سے چمک رہی تھیں غصہ اور کڑک دار لب و لہجہ کچھ سیکنڈز پہلے والا غائب ھو چکا تھا۔۔۔۔۔

جبکہ نمل کی آنکھوں میں آنسو آگۓ وہ روہانسی ھو کر کہنے لگی چار دن سے۔۔۔۔

ھمممم شاہ جی نے سگریٹ بجھائ اور اسکے آنسو دیکھ کر نرمی سے کہا واپس جانا چاہتی ھو ؟؟

نمل نے بچوں کیطرح ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

کون کون ھے گھر میں تمھارے وہ قبول کر لیں گے اب تمھیں؟؟

نمل کا لہجہ اب کچھ نرم تھا گھر میں صرف میرے باباجانی ھیں اور باپ کیلیۓ بیٹی کا وجود ناسور بھی بن جاۓ تو وہ اسے خود سے جدا نہيں کرسکتا۔۔۔۔

تمھارے بابا اسوقت کہاں تھے جب جازب نے تمھیں اٹھایا۔۔۔۔

وہ اسوقت نہيں تھے ورنہ کسی کی جرات نہيں تھی کہ مجھے کوٸ ہاتھ بھی لگاتا۔۔۔۔

شاہ جی کو بڑا دلچسپ لگا اسکا نخریلا اور نڈر سا انداز۔۔۔

شاہ جی نے سگریٹ پھر سے سلگایا سامنا کر لوگی معاشرے کا؟؟

آپکے ان سب سوالات کا کوٸ مطلب نہيں اب یہ سب پہلے سوچنا تھا اور رہی بات معاشرے کی تو معاشرے کا سامنا کر ہی لونگی لیکن آپ جیسے درندوں کا نہيں کرنا چاہتی۔۔۔۔

شاہ جی سگریٹ ھونٹوں میں دبا کر اٹھا تمھیں تمھارے گھر پہنچادونگا جلد۔۔۔۔

زندہ یا مردہ ۔۔؟؟؟ نمل نے اٹھتے ھوۓ شاہ جی کو دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔۔

شاہ جی اسکے سوال پر ھنسا زندہ سلامت اور باعزت پہنچوگی۔۔۔۔۔

باعزت۔۔۔۔۔۔نمل نے شاہ جی کیطرف بڑی سخت نظروں سے دیکھا باعزت چھوڑا ھے مجھے ؟؟؟؟

کیوں جازب نے کوٸ غلط حرکت کی ھے تمھارے ساتھ؟؟؟

نمل ایک ایک لفظ چبا کر بولی ۔۔۔

آپکے نزدیک کپڑے اتارنا ہی عزت پر ہاتھ ڈالنا ھوتاھے ؟؟ کسی کی بیٹی کو بیاہتے لباس میں دیکھ کر اسے اپنی ھوس کا نشانا بنانے کیلیۓ اسکی چار دیواری سے اٹھا لانا پھر اسے واپس چھوڑ دینا عزت افزاٸ کا کام ھے ؟؟؟

شاہ جی نے سانس اندر کھینچی اور سگریٹ کو اب اپنی دودھیا انگلیوں میں گھمایا۔۔۔

دیکھو لڑکی نا جازب ایسا ھے نا ھم غلطی ھوگٸ اس سے میں معافی مانگتا ھوں تم سے اور وعدہ کرتا ھوں اسی طرح گھر پہنچوگی جیسے یہاں آٸ تھی۔۔۔۔

معافی مانگ کر خود کو شرمندہ مت کریں شاہ صاحب کیونکہ اب مجھے پلٹ کر کسی نے معاف نہيں کرنا لہذا مجھ سے بھی اپنی معافی کی امید نا رکھیں نمل نے ناک پھلا کر سینے پر ہاتھ باندھے۔۔۔

اور جہاں تک بات ھے غلطی کی تو اسکی غلطی کی سزا اب تاحیات مجھے بھگتنی ھے آپ لوگوں نے نہیں۔۔۔۔

اسکی باتیں سن کر شاہ جی اسکا گرویدہ ھو گیا اسے نمل کا بے خوف و خطر انداز اچھا لگا۔۔۔۔

شاہ جی نے سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں جھاڑی اور بڑے ہی آرام سے کہا پھر ایک طریقہ ھے جس سے تم سزا اور معاشرے کے اٹھتے سوال دونوں ں سے نجات پا سکتی ھو۔۔۔۔

نمل نے سوالیہ نظروں سے شاہ جی کو دیکھا۔۔۔

شاہ جی نے اپنی دائیں آنکھ کا ایک ابرو اٹھا کر بڑے تحمل اور پیار سے اسے پیشکش کی۔۔۔۔

میں تمھیں شادی کی آفر کرتا ھوں تم نکاح کرو گی ؟؟؟؟

جاری ھے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *