Bad Bakhat by Arshi Noor NovelR50530 Bad Bakhat (Episode 23)
Rate this Novel
Bad Bakhat (Episode 23)
Bad Bakhat by Arshi Noor
ماچس کی تیلی رتابہ کے ہاتھ میں تھی۔۔۔۔
عضد نے لان کی کھڑکی سے کچن کے اندر چھلانگ لگائ۔۔۔
ماچس کی تیلی کپکپاتے ہاتھوں سے جیسے ہی جلاٸ اس نے عضد نے وہ جلتی ھوٸ تیلی اپنی مٹھی میں لے لی۔۔۔
پھر اسی ہاتھ سے رتابہ کو ایک تھپڑ رسید کیا اور گھسیٹ کر باہر لایا۔۔۔
کیا کر رہی تھی یہ تم اس نے بازوٶں سے پکڑ کر اسے جھنجھوڑا۔۔۔وہ ھوش میں کہا تھی۔۔۔
عضد کی چماٹ سے اسکے دانتوں سے خون بہنے لگا۔۔۔
کچرا کہا ھے نا تم نے تو وہی کچرا جلا رہی تھی تا کہ تمھیں اب بدبو نا آۓ میری۔۔۔
اور اپنے کردار کی طرح معطر اور پاک رھو تم۔۔۔وہ غصے میں آپ سے تم پر ا گئی تھی۔۔۔
جانتی ھو خود کشی حرام ھے وہ دانت پیس کر دھاڑا تھا۔۔۔
ہاں تو میں کونسا ہلالی ھوں ؟؟ حرام چیز ھوں نا حرام ہی مرونگی رتابہ کی آواز بھی بلند ھوئ۔۔۔
عضد نے غصے سے آنکھیں میچ لیں
پھر وہ اسے زبردستی کھینچ کر اندر کمرے میں لے کر آیا۔۔۔
چھوڑو مجھے مرنے دو میں اب نہيں جی سکتی ایسی زندگی اورررر اس نے خود کو چھڑانا چاہا۔۔۔۔
مرنے بھی نہيں دونگا اسطرح تمھیں میں عضد اسےزبردستی اٹھا کر واش روم میں لایا اور اسے پکڑے ھوۓ اس پر شاور کھولا۔۔۔
چھوڑو عضد مجھے وہ خود کو چھڑانے کیلئے مزاحمت کرنے لگی چھوڑ دو مجھے عضد چھوڑ دو وہ اس زور سے چیخی کہ اسکے پورے جسم کی رگیں بھی تنی ھوئ اسکے ساتھ چیخیں تھیں۔۔۔
عضد نے اتنی ہی مضبوطی سے اسے دیوار کیساتھ لگایا اسکے بازو عضد کے مضبوط شکنجوں میں تھے۔۔۔
شاور کے پانی سے دونوں بھگ چکے تھے اب شاور کا پانی عضد کے سر پر گر رہا تھا۔۔۔
بسسسس چپپپپپ وہ اسکے بہت قریب تھا اور ایسے جکڑے ھوۓ تھا اسے جیسے وہ اسکی دشمن جاں تھی۔۔۔
بس اب ایک لفظ بھی اور کہا نا تو۔۔۔۔ آگے وہ خاموش ھو گیا رتابہ بے جان سی ھو کر اسکے ہاتھوں کے سہارے کھڑی تھی۔۔۔
نہاٶ جلدی سے اور اتارو یہ کپڑے اتنا کہہ کر وہ اسے چھوڑ کر باہر آیا۔۔۔۔
وہ دیوار کے ساتھ پانی کیطرح پھسلتی ھوئ فرش پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔
کچھ دیر کا ہانپتی سانسیں لیکر پھر روتے روتے خود کو رگڑتی رہی اسی شاور تلے بیٹھے کافی دیر خود کو ایسے رگڑتی رہی جیسے کوٸ نوچ نوچ کر اپنی کھال اتار رہا ھو۔۔۔۔۔
اسکی آواز باہر تک آ رہی تھی رونے کی سسکنے کی کیسے کروں صاف یہ گندگی خود سے کیسے اس نے خود کو ایسا نوچا تھا جیسے کوئ کپڑے کا بخیہ ادھیڑتا ھے۔۔۔
مرد تو ایک غسل لے کر کے پاک ھو جاتا ھے اور عورت ساری زندگی خود کو پاکیزہ ثابت کرنے میں گزار دیتی ھے پھر بھی صاف نہيں رہ پاتی ایک بار وہ گر جاۓ کیچڑ میں تو اسکے دھبے ساری زندگی خود سے نہيں مٹا سکتی۔۔۔۔
اسکی دلسوز چیخیں عضد سے سنی نا گٸیں جو بہتے پانی کے شور سے زیادہ اونچی تھیں۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے اپنے بال نوچنے لگا پریشانی سے کیا کروں اسکا اگر اس نے دوبارہ کوٸ ایسی حرکت کی تو کیسے بچاٶنگا اسے وہ جلے پیر کی بلی کیطرح کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا بہت پریشان ھو گیا تھا وہ اسکے اس اقدام سے۔۔۔۔
اسے ھمیشہ کیلیۓ کھو دینے کا ڈر اسکی خود کشی کا خوف عضد کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
کافی دیر ھو گٸ وہ واش روم سے باہر نا آٸ اسکی سسکیوں کی آواز بھی یک دم رک گٸ تھی۔۔۔
وہ واش روم میں واپس آیا۔۔۔
وہ فرش پر بیٹھی کھلے شاور تلے دیوار سے ٹیک لگاۓ تھکے ہارے آنسو بہا رہی تھی اسکی مدھم مدھم تھکی ھوئ سسکیاں پانی کے شور تلے دب گٸ تھیں۔۔۔
تم نہا کر باہر آٶگی یا یہ کام بھی میں خود کروں اب۔۔۔
اس نے سر نہیں اٹھایا تھا بس نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
عضد کا دل دہل کر رہ گیا ایسے لگ رہا تھا آنسو نہيں خون بہہ رہا تھا اسکی آنکھوں سے۔۔۔۔
_________________
عضد بہت ڈرا ھوا تھا اسکی خود کو آگ لگانے والی حرکت سے وہ دو دن آفس بھی نا گیا۔۔۔
رتابہ کی مسلسل نگرانی کرتا رہا کہ وہ جذبات میں آکر پھر سے کوٸ غلط قدم نا اٹھا لے طبیعت بھی اسکی کافی خراب تھی اپنے ایک کولیگ کو فون کر کے اس نے فوری طور پر میڈ رکھی جو صبح سے عضد کی واپسی تک رتابہ کیساتھ ھوتی تھی۔۔۔
رتابہ کافی بہتر ھو چکی تھی لیکن عضد اب تک اسکی خود کشی کا منظر نہيں بھولا تھا۔۔۔۔
بانو نام تھا میڈ کا۔۔۔
بہت سمجھدار اور اچھی خاتون تھی وہ عضد کچھ ریلکس ھو گیا تھا بانو کی وجہ سے۔۔۔
رتابہ کا بھی دل لگ گیا تھا بانو کیساتھ بانو اکثر اپنی دو بیٹیوں کو بھی ساتھ لے آتی۔۔۔
وہ دن رتابہ کا بہت اچھا گزرتا تھا جس دن بانو کی بیٹیاں آتیں۔۔۔
عضد نے اسے کچھ بھی کہنا چھوڑ دیا تھا وہ بس کام کی بات کرتا اور اپنے کمرے تک محدود رہتا۔۔۔
اسے نہيں معلوم تھا کہ رتابہ اتنے بڑے گھر میں اسکی موجودگی میں بھی رات کیسے گزارتی ھے تنہا کمرے میں بڑی بڑی دیواریں رات کے اندھیرے میں اسے دیو کیطرح لگتی تھیں۔۔۔
وہ رات کو لاٸٹ جلا کر قرآن پاک اپنے سرہانے رکھ کر سوتی تھی لیکن سوتی بھی اسطرح تھی کہ پنکھے کی ھوا سے بھی ڈر کر اٹھ جاتی تھی۔۔۔۔
کتنی راتیں وہ جاگے سوۓ گزارتی تھی عضد کو معلوم نہيں تھا نرم ملاٸم بستر سے بھی اکثر وہ خوفزدہ ھو جاتی تھی اسکی گھٹی گھٹی ڈری سہمی سہمی سانسیں صبح کے سورج کو دیکھ کر بحال ھوتی تھیں۔۔۔
ایک دن رتابہ فون پر باتوں میں مگن تھی نمل کیساتھ آج بانو نہيں آٸ تھی۔۔۔۔
نمل رتابہ کو دیان کی شرارتیں سنا سنا کر ھنسا رہی تھی۔۔۔۔
رتابہ کا دل اداس ھو گیا کہ وہ اپنے بچے کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں اپنی آنکھوں سے نہيں دیکھ سکتی تھی کیونکہ عضد ایک منٹ دیان کو اپنے سامنے برداشت نہيں کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ نمل اور نرگس کیوجہ سے بے فکر تھی کیونکہ رتابہ سے زیاہ وہ دونوں دیان کو چاہتی تھیں
نرگس کا دن ہی دیان کو دیکھ کر شروع ھوتا تھا۔۔۔
ابھی بھی وہ دیان کی بات پر مسکرا رہی تھی کہ باہر بیل بجی اور مسلسل بجتی رہی۔۔۔
رتابہ فون کاٹ کر باہر آٸ کون ھے؟؟؟
میں ھوں بانو جلدی دروازہ کھولیں شام ھونے کو تھی رتابہ نے دروازہ کھولا توہ زرد چہرے کیساتھ اندر داخل ھوٸ وہ سانس نہيں لے پا رہی تھی۔۔۔
رتابہ اسے دیکھ کر گھبرا گٸ کیا ھوا ھے بانو خالا بولیں جلدی سے کیا ھوا ھے؟؟
بانو کے ھونٹ بلکل سفید ھو رھے تھے پاٶں میں اسکے جوتے بھی نہيں تھے۔۔۔۔
رتابہ کا دل ڈوبتا جا رہا تھا بانو خالا بتاٸیں کیا ھوا ھے آپکو؟؟
بانو اٹکتی ھوئ سانسوں میں بولی۔۔بی بی جلدی چلو میرے ساتھ میری مدد کرو۔۔۔
کہاں چلوں کچھ بتاٸیں تو سہی۔۔۔۔
وہ سینہ پیٹ پیٹ کر بولی بی بی جی میری بیٹی سادیہ کو لوٹ لیا ظالموں نے۔۔۔۔
کیا مطلب لوٹ لیا کیا کہہ رہی ھیں آپ؟؟؟
رتابہ بی بی میری سادیہ کی عزت لوٹ لی ان درندوں نے میں لٹ گئ برباد ھو گئ۔۔۔
خبر تھی یا دھماکہ رتابہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔۔۔۔
کس نے لوٹ لیا سادیہ کو بانو خالا بتاٸیں تو سہی کچھ اسکا دل پھٹنے لگا تھا۔۔۔
میری سادیہ کی عزت لوٹ لی بے غیرتوں نے بی بی جی ابھی پولیس والے نہيں چھوڑ رھے۔۔۔
میری تو بچی ھوش میں بھی نہيں آٸ بی بی جی عضد صاحب کو فون کریں میری مدد کریں۔۔۔۔
بانو کی بات سن کر رتابہ کے جسم سے سانس ہی نکل گیا تھا وہ بانو کیساتھ ہی زمین پر گری۔۔۔۔
بانو نے ہاتھ جوڑے بی بی جی جلدی سے عضد صاحب کو بلاٸیں۔۔۔
رتابہ اڑتے ھوش کیساتھ خود کو گھسیٹتی ھوئ اندر گٸ اور عضد کو بتایا کہ سادیہ کا ریپ ھوا ھے وہ جناح ھوسپٹل کی ایمرجنسی میں ھے آپ جلدی پہنچے وہاں۔۔۔
پھر وہ چادر پہن کر بانو کے ساتھ رکشے میں ھسپتال پہنچی چودہ سالہ کمزور سی معصوم سی سادیہ خون سے لت پت بستر پر پڑی تھی۔۔۔
رتابہ کے قدم وہیں رک گۓ سادیہ کو دیکھ کر جب وہ نیم بیہوشی کی حالت میں چلانے لگی۔۔۔
امی ۔۔۔ امی۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ بچاٶ مجھے کیا کر رھے ھیں انکل میرے ساتھ۔۔۔۔
آآآ۔۔۔۔ چھوڑ دو مجھے یہ کیا کر ھے ھیں آپ امی بچاؤ مجھے۔۔۔امی ۔۔۔ امی۔۔۔۔
سادیہ کی دلسوز چیخیں پوری ایمرجنسی میں گونج رہی تھیں۔۔۔
اسکے اچھلنے پر ڈاکٹرز نے جلدی سے اسے انجیکشن دیا۔۔۔
ابھی اسکی چیخیں بند نہيں ھوئ تھیں کہ رتابہ کی حالت غیر ھو گٸ۔۔۔۔
سادیہ جیسا دورہ اس پر بھی پڑا وہ اسکا نام لیکر اتنی زور سے چلاٸ کہ اسکی چیخ پر سبھی لوگ ڈر گۓ۔۔۔۔
چھوڑ کیوں نہيں دیتے اسے۔۔۔
چھوڑ دو چھوڑ دو۔۔۔
سادیہ کیساتھ ھوتی زیادتی کا ایک ایک لمحہ اسے اپنی آنکھوں کے پردوں پر دکھاٸ دینے لگا تھا۔۔۔
عضد بھی پہنچ چکا تھا ھوسپٹل وہ ایمرجنسی کی طرف آ رہا تھا۔۔۔
رتابہ کو ایک فیمیل ڈاکٹر نے پکڑا جو پاگلوں کیطرح آنکھیں پھاڑے چلائ تھی۔۔۔
کیا ھوا میڈم آپکو؟؟؟
اسکی حالت سے ایسے لگ رہا تھا جیسے سادیہ کیساتھ وہ خود بھی دوبارہ لٹی ھے۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ سادیہ ۔۔۔
وہ ڈاکٹر کو دھکا دے کر اسکی طرف بڑھی نرسوں نے اسے روکا وہ روکے نہيں رک رہی تھی۔۔۔۔
عضد ایمرجنسی میں سادیہ کے والد کے ساتھ آیا تو رتابہ کو دونوں ہاتھوں سے نرسوں نے پکڑا ھوا تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے اسکے پاس آیا کیا ھوا ھے؟؟ نرسوں کے ہاتھ سے عضد نے اسکے ہاتھ چھڑاۓ۔۔۔
عضد ۔۔۔ سادیہ ۔۔۔ وہ۔۔۔۔ سادیہ۔۔۔۔اسکے آنسو گالوں پر بہہ رھے تھے آنکھیں خوف کی شدت سے پھیلی ھوئ تھیں۔۔۔
کچھ نہيں ھوگا اسے تم تو ھوش سے کام لو عضد نے گرتی ھوئ رتابہ کو سنبھالا۔۔۔
ڈاکٹر کے اشارے پر عضد اسے اپنے ساتھ لگاۓ باہر آیا۔۔۔
تمھیں کیا ھوا ھے؟؟ وہ اسکی حالت دیکھ کر اور بھی زیادہ پریشان ھو گیا تھا۔۔۔
وہ اسکی شرٹ دونوں ہاتھوں سے پکڑے اسکے سینے پر سر رکھے روئ بچا لو اسے عضد بچا لو۔۔۔
اس نے آس پاس دیکھا سبھی لوگ انکو دیکھ رھے تھے۔۔۔
اچھا تم رونا تو بند کرو میں کرتا ھوں کچھ اس نے رتابہ کو بڑی مشکل سے بہلا کر گاڑی میں لا کر بٹھایا بانو بھی اسکے ساتھ تھی اب۔۔۔۔
عضد کیساتھ وہاں کے ڈی۔ایس۔پی آفیسر تھے عضد نے انکو بانو سے ملوایا۔۔۔
پھر عضد نے بانو کو تسلی دی کہ میں آپکے ساتھ ھوں آپ پریشان نا ھوں سادیہ کا مجرم بچ نہيں سکے گا۔۔۔
بانو دوپٹے میں منہ دیۓ رو رو کر بولی۔۔۔عضد صاحب سادیہ کا مجرم نہيں سادیہ کے مجرم۔۔۔تین درندوں نے میری بچی کو باری باری نوچ نوچ کر کھایا پھر اذیت کیلیۓ ادھ مرا چھوڑ گۓ۔۔۔
عضد کے پیروں تلے بھی زمین ہل کر رہ گٸ اس چودہ سالا بچی کیساتھ اجتماعی زیادتی وہ بھی اسی کے اپنے گھر میں۔۔۔عضد نے لڑکھڑا گیا خشک ھوتے حلق کیساتھ گاڑی کا سہارا لیا تھا۔۔۔
پولیس آفیسر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا عضد صاحب میرے ساتھ آئیں ذرا۔۔۔
عضد تھکے تھکے قدم اٹھاتا پولیس آفیسر کیساتھ ایمرجنسی گیا تو سادیہ کا نیل و نیل زخمی چہرہ اور بستر کی خون سے لال ھوتی چادر پھر مدھوشی میں بھی اسکا خوف سے سر کو جھٹکنا دیکھ کر اسکے رونگٹے کھڑے ھو گۓ وہ برداشت نا کر سکا۔۔۔
گھبرا کر بھاگتا ھوا وہ باہر آگیا۔۔۔
پولیس آفیسر اسکے پیچھے تھا۔۔۔
وہ پورے چہرے پر ہاتھ رکھ کر پریشانی سے بولا آپ نے جو بھی کرنا ھے کریں لیکن اس بچی سے آپ کوئ سوال نہیں کریں گے۔۔۔ عضد نے آنکھ سے بہتا آنسو پونچھا۔۔۔
اور اسکے مجرم کسی صورت بچنے نہیں چاہیے۔۔۔
گاڑی تک مشکل سے پہنچا پھر بانو کو تسلی دی وہ گاڑی میں رتابہ کیساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
گاڑی ڈرائيو کرتے ھوۓ اسکا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اسکا بس نہيں چل رہا تھا کہ وہ سادیہ کے مجرموں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا
گھر آکر وہ کار سے باہر نکلا رتابہ بیٹھی رہی گاڑی میں۔۔۔
باہر آٶ اندر نہيں جانا تم نے عضد کی آواز پر اس نے نا میں سر ہلایا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔؟؟
ڈر لگ رہا ھے مجھے اسکی آنکھوں میں وحشت کے آثار دیکھ کر عضد نے اسکے آگے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
آٶ میں ھوں ساتھ تمھارے ڈرو مت۔۔۔
وہ عضد کا ہاتھ تھام کر باہر آٸ تو گلی میں گاڑی کے ہارن کی آواز سے ڈر کر وہ عضد سے جا چپکی۔۔۔
کیا ھوا ھے یار تم کیوں اتنا ڈر رہی ھو تمھارے ساتھ تو کچھ نہيں ھوا نا چلو اندر۔۔۔
وہ عضد کو ٹکر ٹکر دیکھنے لگی میرے ساتھ بھی کھوئ کھوئ سی وہ بس چند الفاظ بول سکی اتنا کہہ کر وہ یک دم خاموش ھوگئ تھی عضد کو سمجھ نا آیا کہ اس نے کیا کہا ھے۔۔۔
دونوں نے کھانا نہيں کھایا انکا دل ہی نہيں چاہ رہا تھا۔۔۔
عضد پہلے تو لاٶنج میں بیٹھے T.v کیساتھ خود کو بہلانے لگا پھر اپنے کمرے میں گیا تو رتابہ اسکے پیچھے پیچھے آٸ۔۔۔
وہ اسکی قدموں کی چاپ سن کر پیچھے پلٹا کیا ھوا ھے؟؟
رتابہ اسے انگلیاں چٹخاتی خاموشی سے دیکھنے لگی۔۔۔
کچھ کہنا ھے تم نے ؟؟
اس نے کپکپاتی آوازمیں بولا عضد مجھے اکیلے نہيں سونا بہت ڈر لگتا ھے مجھے پلیز اپنے کمرے میں سونے دیں۔۔
اسکی حالت عضد کو ٹھیک نہيں لگ رہی تھی نا وہ مکمل طور پر ھوش میں تھی بلکل گم صم تھی۔۔۔
وہ اسکی حالت دیکھ کر نرمی سے بولا۔۔۔ھمممم آجاٶ۔۔۔۔
وہ بیڈ کے پاس نیچے فرش پر تکیہ لیۓ لیٹی نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔
سادیہ کا درد اب اسکے انگ انگ سے اٹھ رہا تھا وہ بہت بے چین تھی بار بار ادھر سے ادھر کروٹ بدلتی کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتی کبھی گھٹی گھٹی آواز میں رونے لگتی۔۔۔
عضد اسے نوٹ کرتے کرتے سو گیا تھا۔۔۔
رتابہ سناٹے کیطرح خاموش سی صبح کچن میں کھڑی چاۓ بنا رہی تھی عضد اسکے پیچھے آیا۔۔
چلو گی ساتھ بانو خالا کے گھر جانا ھے۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
اور جلدی سے چاۓ پی کر اسکے ساتھ گٸ بانو کے گھر کے باہر ٹینٹ لگا دیکھ کر وہ ٹھٹھر گئ۔۔۔
جاٶ اندر جاٶ عضد نے اسے اندر بھیجا۔۔۔
جیسے ہی وہ اندر آٸ تو سامنے ہی سادیہ کا زخموں بھرا جسم سفید کفن میں لپٹا ھوا تھا۔۔۔
بانو کی چھوٹی بیٹی نادیہ بھاگتی ھوئ رتابہ سے جا لپٹی باجی دیکھو نا کیا ھو گیا سادیہ کو یہ دو دن سے نہيں بول رہی۔۔۔
ناراض تھی ھم سب سے راضی ہی نہيں ھو رہی ھم منا منا کر تھک گۓ ھیں۔۔۔
رتابہ کو سادیہ کے چہرے میں اپنا چہرہ دکھاٸ دیا بلکل سفید کفن میں لپٹا ھوا مشترکہ درد تھا دونوں کا۔۔۔
وہ اسکی لاش پر گرتے ھوۓ ایسی روٸ جیسے وہ بانو کی نہيں اسکی بیٹی تھی سب سادیہ اور رتابہ دونوں کو دیکھ دیکھ کر رو رھے تھے۔۔۔۔
سادیہ کا اٹھتا جنازہ دیکھ کر اسکے دل سے آواز نکلی مجھے بھی ساتھ لے چلو یہ دنیا رہنے کی جگہ نہيں ھمارے لیۓ مجھے بھی لے چلو۔۔۔۔
عضد بھی اندر آیا تھا جنازے کو کندھا دینے رتابہ کو اتنی شدت سے روتا دیکھ کر اسکے جنازے کو اٹھاتے ہاتھ تھم گۓ وہ رتابہ سے کافی قریب تھا رتابہ نے جنازے کی چارپائی کو اپنے ہاتھوں سے جکڑ رکھا تھا عضد نے آرام سے کہا رتابہ چھوڑو اسے۔۔۔۔
اس نے نا میں سر ہلایا۔۔۔
رتابہ چھوڑو اسے عضد نے اپنی بات پھر سے دوہرائی وہ عضد کو گھورنے لگی وہ بہت نرمی سے اسکے ہاتھ ہٹانے لگا تو رتابہ کی گرفت اور مضبوط ھو گئ عضد نے اسکی آنکھوں میں جھانکا وہ دل چیر دینے والی آواز میں بولی عضد مجھے بھی لے جاؤ سادیہ کے ساتھ۔۔۔
عضد نے بڑی مشکل سے ضبط کیا اور رتابہ کے ہاتھ پیچھے ہٹاۓ پاس بیٹھی عورت نے رتابہ کو اپنے ساتھ بھینچ کر سنبھالا نادیہ بھی رتابہ سے لپٹ گئ بانو غش کھا کر نیم بیہوشی میں تھی وہ جنازہ اٹھاۓ آگے بڑھ گۓ۔۔۔۔
اسکے جنازے کے بعد سب لوگ کھانے کا انتظار کرنے کیلیۓ بیٹھے رھے کہ کب انکو سادیہ کے ماتم کے چاول نصیب ھونگے۔۔۔
پھر کھانے کی دیگیں صاف کر کے اپنا ثواب اور اپنے بھرے ھوۓ پیٹ ساتھ لیے وہ سب چلے گۓ گھر خالی ھو گیا۔۔۔۔
عضد کو سادیہ کا باپ گھر کے اندر لایا۔۔۔
اور وہ کمرہ دکھایا جہاں اسکی بیٹی کی بوٹی بوٹی شکاری کتوں نے نوچی تھی اور وہ زخموں کو برداشت نا کرتے ھوۓ اس ظالم دنیا سے چل بسی۔۔۔
بانو بلکل غم سے نڈھال ھوتی عضد کے سامنے آٸ عضد نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ بہت روٸ عضد کا ہاتھ پکڑ کر۔۔۔۔
عضد بھی اپنے آنسو روک نا سکا۔۔۔
وہ روتے روتے بولی صاحب جی ناراض ھو گٸ تھی وہ مجھ سے اس دن پہلی بار وہ مجھ سے الگ سوٸ تھی۔۔۔
میں نے غصہ بھی بہت کیا تھا اسے وہ ناراض ھو کر اس کمرے میں الگ سو گئی بچی تھی کھڑکی کھلی رہ گٸ اس سے وہ درندے کھڑکی کی جالی توڑ کر اندر آۓ۔۔۔
اور میں میری بچی کی آواز ایک دیوار سے دوسری دیوار کے پار نا سن سکی مجھ بد بخت ماں کو دیکھو بچی میری ذبح ھوتی رہی اپنے ہی گھر میں اور میں غافل نیند سوتی رہی کتنا تڑپی ھوگی میری بچی انکو ذرہ رحم نہيں آیا عضد بابو ذرا بھی رحم نہیں آیا اسکے ننھے سے ہاتھوں کی انگلیاں بھی ٹوٹ گئ تھیں۔۔۔
اور تینوں نے مل کر باری باری اسے نوچا اس نے کتنی آوازیں دی ھونگی مجھے کتنا تڑپ کر پکارا ھوگا مجھے کچھ سناٸ نہيں دیا دبوچ لیا تھا میری بچی کو ان ظالموں نے۔۔۔
کاش میں اسے منا لیتی نا سونے دیتی اسے خود سے الگ تو آج وہ اپنی تکلیفوں کیساتھ منو مٹی تلے نا ھوتی میری بچی کیساتھ اتنی زیادتی نا ھوتی نا لوٹتے وہ اسکی عزت کو بانو اب سینہ پیٹ پیٹ کر روئ۔۔۔عضد نے اسکے ہاتھ پکڑے کیا کر رہی ھیں خالا آپ۔۔۔
عضد بابو میری بچی چلی گئی۔۔۔
وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہيں رہی اسلیۓ ساری دنیا سے منہ موڑ گٸ ھمیشہ کیلیۓ۔۔۔۔
بانو کی آواز اب روتے روتے بند ھو رہی تھی۔۔۔ عضد کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھیگی ھوئ تھیں۔۔۔
عضد نے اسے بٹھایا اسکا سر عضد کے کندھے سے لگا ھوا تھا عضد نے پانی پلایا۔۔۔
روتے روتے وہ ایک دم عضد کو دیکھنے لگی صاحب جی ایک بات کہوں گی آپ سے برا مت ماننا۔۔۔
آپکا بہت بڑا گھر ھے بی بی جی اکیلے ڈرتی ھے بہت آپ بی بی جی کو منا لیں انھیں اکیلا نا سونے دیا کریں۔۔۔ان سے اسطرح روٹھ کر جدا نا ھوں روٹھنے والے میری بچی کیطرح ھمیشہ کیلیۓ روٹھ گۓ تو پلٹ کر نہيں آۓ گے واپس صاحب جی۔۔۔۔
بانو کی بات سے عضد خوف سے لرز اٹھا صاحب جی منا لو بی بی کو صاحب جی منا لیں۔۔۔
عضد تسلی کے دو لفظ بھی نا بول سکا ایک عجیب سے خوف نے اسکو آ گھیرا۔۔۔۔
یہ سب سن کر رتابہ کا دماغ بلکل مفلوج ھو کر رہ گیا تھا۔۔۔
اسوقت صحن میں نو افراد موجود تھے بلکل ویرانوں جیسی خاموشی میں بس بانو کی ہچکیوں کیساتھ اب رتابہ کی آواز گونجی تھی۔۔۔
اچھا ھوا وہ مر گٸ بانو خالا ورنہ لوگ اسے روز مارتے اپنے الفاظوں کی مار سے شک کی مار سے روز وہ اس لٹ جانے کی اذیت سے گزرتی۔۔۔
خالا اسکی عزت لوٹنے والے تو چھپ گۓ کہیں لیکن وہ نہیں چھپ سکتی اس دنیا سے یہاں اسکا استحصال بار بار ھوتا قدم قدم پر اسے زبان کی تیز دھار سے زخمی کیا جاتا روز اسکے زخم ہرے کیے جاتے۔۔۔
رتابہ اپنے ہی درد و غم میں کھوئ ھوئ تھی اسے خود بھی نا احساس ھوا وہ کیا کہہ رہی ھے بہت اچھا ھوا وہ لقمہ اجل بن گٸ لوگوں کے رویوں کا لقمہ نہيں بنی ورنہ لوگ روز اسے چکھنے آتے پھر تھوک کر بھی چلے جاتے لوگ کبھی بھی اسکے زخم بھرنے نا دیتے خالا کبھی بھی نہیں۔۔۔
عضد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دبایا کیا ھوا رتابہ یہ کیا کہہ رہی ھو تم؟؟
وہ زخمی نگاھوں سے عضد کیطرف دیکھ کر بولی ٹھیک کہہ رہی ھوں عضد میں وہ سب کی نظروں سے اوجھل ھو کر اللہ کی نگہبانی میں محفوظ ھو گٸ ھمیشہ کیلیۓ۔۔۔۔
بہت اچھا ھوا وہ ایک بار میں ہی مر گٸ لے گیا اسے جبراٸیل اور رہ گٸ میں۔۔۔
اس نے سر ایک طرف جھکا کر اپنی بات مکمل کی تو آنسو اسکی ناک کی سیدھ سے بہہ کر اسکے تھرتھراتے ھونٹوں پر ٹھہر گئے اسکے لہجے نے عضد کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔
اسکی باتوں سے بانو خالا اور بھی زیادہ رونے لگی ٹھیک کہا آپ نے بی بی جی وہ اپنی موت آپ مری لیکن بہت اذیت ناک موت مری ھے میری بچی وہ زار زار روئ۔۔۔
__________________
عضد رتابہ کو لیکر گھر آگیا۔۔۔
سنو رتابہ عضد نے اسے پھر آواز دی رتابہ وہ ذہنی طور پر اسے حاضر نا لگی رتابہ عضد نے اسے ہاتھ سے پکڑا تو وہ اچھل پڑی۔۔۔
کیا ھوا ھے کیوں اتنی اپ سیٹ ھو؟؟
کچھ نہيں اس نے غائب دماغی سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
چلو آٶ آرام کر لو تھوڑا۔۔۔
عضد اس نے عضد کا ہاتھ پکڑا آپکے کمرے میں سو سکتی ھوں؟؟
عضد نے اسکے چہرے کو بغور دیکھا اسکا سنہری رنگ پیلا پڑ رہا تھا ایک عجیب سا خوف کرب کی صورت اسکے چہرے کا احاطہ کیۓ ھوۓ تھا۔۔۔۔
ہاں سو سکتی ھو چلو آٶ عضد نے اسکا ہاتھ تھاما وہ اسکے پیچھے چلتی گئ۔۔۔۔
عضد نے اسے سلیپنگ پل دی تاکہ وہ سکون سے سو سکے کچھ ہی دیر میں وہ عضد کے قریب فرش پر چادر بچھاۓ سو گٸ۔۔۔۔
عضد کافی دیر تک جاگتا رہا رتابہ کی باتیں بانو خالا کے گھر کی اسکے کانوں میں گونجتی رہیں۔۔۔۔
ابھی اسکی آنکھ لگی ہی تھی کہ رتابہ ایک دم گہری نیند میں چلاٸ۔۔۔۔۔
عضد اٹھ گیا۔۔۔
چھوڑ دو۔۔۔ چھوڑ دو۔۔۔ یہ کیا کر رھے ھو عضد اسکے پاس نیچے فرش پر آ بیٹھا۔۔۔
رتابہ۔۔۔ رتابہ۔۔۔کیا ھوا وہ اسکا چہرہ تھپتھپانے لگا۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں چھوڑو مجھے خدا کیلیۓ چھوڑ دو مجھے وہ ہاتھ جوڑنے لگی۔۔۔
عضد نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا رتابہ میں ھوں عضد ھوش میں آٶ کیا ھوا ھے؟؟؟
عضد وہ وہ وہ بھی تین تھے ناں۔۔۔
عضد کو اسکی بات سمجھ نا آئی یا وہ سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا اسوقت رتابہ کی حالت کے پیش سبب اس جگ اٹھا کر پانی پلایا اسے۔۔۔
اٹھو یہاں اوپر بیڈ پر لیٹو اسکی یہ حالت عضد کی سمجھ سے باہر تھی۔۔۔
کیوں لیا تھا اس نے اتنا اثر سادیہ کیساتھ ھونے والے حادثے کا؟؟؟
رتابہ اسکا ہاتھ مظبوطی سے تھامے پھر سے سو گٸ۔۔۔
لیکن عضد کی نیند اڑگٸ تھی عضد کے کان میں اسکا جملہ گونجا۔۔۔
وہ بھی تین تھے نا کون تھے وہ تین؟؟؟ رتابہ کن تین لوگوں کی بات کر رھی تھی سوچ سوچ کر عضد کا دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔
کہیں یہ سچ تو نہيں کہ اسکا بھی ریپ ھوا۔۔۔اور تین لوگ۔۔۔
عضد نے جھرجھری سی کی پھر ایک دم سے اٹھ کر بیٹھا اسکا دل بند ھونے لگا تھا رتابہ کی بات پر کہ وہ بھی تین تھے نا۔۔۔
نہيں ایسا نہيں ھو سکتا اس نے اس خیال کو جھٹلایا صبح ھونے کو تھی۔۔۔
عضد نے آج بھی آفس سے چھٹی کر لی تھی رتابہ کا پرابلم اس نے اسود سے ڈسکس کیا۔۔۔۔
یار کچھ لوگ over sensitive ھوتے ھیں ایسے حادثات انکے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر چھوڑ جاتے ھیں کسی کے ساتھ ھونے والا اچانک کا حادثہ انہیں اپنے ساتھ ھوتا محسوس ھوتا ھے۔۔۔
کچھ دن میں ٹھیک ھو جاٸیگی تم اسے کچھ دن پلز دیتے رھو میں نام میسج کر دیتا ھوں سیٹ ھو جاۓ گی دو چار دن میں۔۔۔
_______________
ظہر کا وقت تھا رتابہ نماز سے فارغ ھو کر کچن کیطرف جانے لگی عضد نے لاؤنج میں اسے روکا لاھور جانا ھے تم نے کچھ دن کیلیۓ بھیج دوں؟؟؟
اس نے ناں میں سر ہلایا۔۔۔
واپس آجانا کچھ دن میں۔۔۔
نہيں جانا مجھے میں یہاں ٹھیک ھوں۔۔۔
اوکے امی کو بلوا لوں یہاں ؟؟؟
اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
عضد نے نرگس کو بلوا لیا کراچی۔۔۔
رتابہ نرگس کے آتے ہی ریلیکس ھو گٸ تھی کافی۔۔۔
عضد نے کچھ دن میں چوکیدار ارینج کیا اور اسکی فیملی کو بھی رکھ لیا ساتھ servant کواٹر میں۔۔۔۔
نرگس کچھ دن بعد واپس چلی گٸ تھی۔۔۔۔
رتابہ چوکیدار کی فیملی کیساتھ کافی گھل مل گئ تھی کہ رابعہ جو چوکیدار کہ بیوی تھی کم عمر تھی دونوں میں جلد ہی دوستی ھو گئ تھی۔۔۔
بہت مشکل سے سادیہ کا حادثہ اسکے دل و دماغ سے اترا تھا۔۔۔۔
__________________
ھمدانی صاحب کراچی آرھے تھے اپنی بیٹی مایا کیساتھ رتابہ نے پورا گھر صاف کروایا اور پھر ڈنر کی بھی ساری ارینجمنٹ خود کی۔۔۔۔
انکے آنے تک ہر چیز ریڈی تھی۔۔۔
مسز ھمدانی اور ھمدانی صاحب بہت پیار سے ملے رتابہ کیساتھ البتہ مایا کے مزاج ذرا تیکھے تھے۔۔۔
رتابہ نے سر سے پاٶں تک اسکا جاٸزہ لیا۔۔۔
دبلی پتلی دراز قد اس پر جینز اور شرٹ پہنے گلے میں دوپٹے کے نام پر چھوٹا سا اسکارف جو ایک طرف لٹک رہا تھا شولڈر تک آتے گلولڈن اور براؤن بال بے حد گورا رنگںکھڑی ناک اور اس پر اسکی اکڑ۔۔۔۔
رتابہ کو وہ بہت عجیب لگی۔۔۔
رابی کیساتھ اس نے کھانا لگایا سب نے کھانا بے حد شوق سے کھایا اور کچھ باتیں کرنے کے بعد اپنے اپنے کمروں میں چلے گۓ۔۔۔
رتابہ رات دیر تک رابی کیساتھ سب کچھ سنبھال کر عضد کے کمرے میں گٸ۔۔۔۔
عضد سو چکا تھا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اپنا بستر نیچے بچھاۓ سو گٸ۔۔۔
عضد کے موباٸل کی بیل بجی۔۔۔
وہ موباٸل اٹھانے کیلیۓ جیسے ہی نیند میں کروٹ بدل کر ہاتھ کو آگے بڑھاتے ھوۓ آگے کیطرف جھکا تو بیڈ سے نیچے سوئی ھوئ رتابہ پر جا گرا۔۔۔
وہ جیسے ہی بوکھلا کر چلانے لگی تو عضد نے فوراََ اسکے منہ پر ہاتھ رکھا جس سے آدھی چیخ رتابہ کی ہضم ھو گٸ۔۔۔
چلاٶ مت میں ھوں عضد۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی لاٸٹ لگاٸ۔۔۔۔۔
لیمپ کی پیلی پیلی روشنی رتابہ کے چہرے پر ایسے پھیلی جیسے صبح کا سورج اندھیری رات کی اوٹ سے ابھرتا ھے۔۔۔۔
عضد پل بھر اسکی کالی سیاہ آنکھوں میں کھو سا گیا۔۔۔
عضد کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ وہ ہل بھی نا سکی رتابہ نے مشکل سے اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی اٹھیں میرے اوپر سے۔۔۔۔
عضد کو جب احساس ھوا تو وہ فوراً اٹھ کر بیٹھا۔۔۔
وہ بھی بیٹھی اور دوپٹہ ڈھونڈنے لگی اپنا عضد بہت گہری نگاھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ دوپٹہ اسکا عضد کی ٹانگوں کے نیچے تھا۔۔۔
عضد نے دوپٹہ اسکے ہاتھ میں تھمایا وہ عضد کی نگاھوں سے گھبرا کر اٹھ کھڑی ھوٸ اور ناک پھلا کر سختی سے پوچھا کیا کرنا چاہ رھے تھے آپ میرے ساتھ ؟؟؟
میں نے کیا کرنا ھے نیند میں تھا کروٹ بدلی تو گر گیا وہ سر اٹھا کر اسے دیکھ رہا تھا اب۔۔۔
اسی طرف میرے اوپر گرنا تھا آپ نے ؟؟؟ رتابہ کا لہجہ کافی سخت تھا…
کیا مطلب ھے تمھارا عضد نے آنکھوں کی پتلیوں کو سکیڑا۔۔۔
یہی کہ مہمانوں کی آمد سے یا میری نیند سے فاٸدہ اٹھانا چاہ رھے تھے آپ ؟؟؟
اسکی بات سن کر عضد کو غصہ آ گیا اس نے بیڈ پر تکیہ رکھتی رتابہ کا ہاتھ پکڑ کر زور کھینچا تو وہ سیدھا عضد کی گود میں آ گری۔۔۔۔
اسکے لمبے بال جھٹکے سے کھلے اور آدھے عضد کے چہرے پر اور آدھے اسکے اپنے چہرے پر بکھر گۓ۔۔۔
عضد نے اسے چہرے سے پکڑا وہ پیچھے بھی نا ہٹ سکی اسکے گرد عضد کے مضبوط بازو کا گھیرا تھا۔۔۔
اگر مجھے کچھ کرنا ھوا نا تو اسکے لیۓ مجھے مہمانوں کی آمد کا یا تمھاری نیند کا فاٸدہ اٹھانے کی ضرورت ہرگز نہيں تمھارے پورے ھوش و حواس میں بھی کر سکتا ھوں سب کچھ تمھارے ساتھ۔۔۔
عضد نے اسے آنکھیں نکالتے ھوۓ دانت چباۓ سرگوشی میں کہا۔۔۔
وہ عضد کی بات پر حیرانی سے پوری آنکھیں کھولے اسے تکنے لگی لیمپ کی ہلکی ہلکی روشنی میں نیند سے جاگی سوئ آنکھیں عضد کی آنکھوں سے چار ھوئیں تو اسکا نیند سے بوجھل گھبرایا سا سراپا دیکھ کر عضد کو لینے کے دینے پڑ گئے۔۔۔۔
اسکی قربت سے اب عضد کے حواس اڑنے لگے تھے اسے اسوقت بانہوں میں سمیٹ کر غصہ کرنا عضد کو ہی مہنگا پڑا تھا۔۔۔
اور رتابہ کے ھوش اسکا غصہ دیکھ کر اڑے تھے۔۔۔
چھوڑیں مجھے پلیزززز رتابہ اسکی بدلتی آنکھوں کے تیور سے بری طرح ڈری جن میں اب غصے کی جگہ انتہا کی خماری تھی جسے عضد جبڑے بھینچے ضبط کیے ھوۓ تھا۔۔۔
چھوڑیں مجھے رتابہ اسکی گرفت میں کسمسائ۔۔۔۔
عضد نے اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ فوراً اٹھی لیکن پھر کھچتی ھوئ واپس جا بیٹھی اسکے بال عضد کی شرٹ کے بٹن سےالجھ گۓ تھے جنکے کھنچنے پر وہ جھکی تھی۔۔۔
عضد ھونٹوں کو آپس میں ملاۓ اپنی مسکراہٹ دباۓ اسکے بال چھڑانے لگا۔۔۔
عضد کے جسم سے اٹھتی پرفیوم کی خوشبو رتابہ کو جکڑنے لگی تھی اسکی گھنیری پلکیں عضد کو ایک نظر دیکھ کر جھک گٸیں۔۔۔
عضد کو اسکا پلکیں اٹھا کر جھکانا بہت اچھا لگا اسے شاعر کی اک غزل یاد آٸ۔۔۔
یہ مست مست بے مثال آنکھیں
نشے سے ہر دم نڈھال آنکھیں
اٹھیں تو ہوش و ہواس چھینیں
گریں تو کر دیں کمال آنکھیں
نہ یوں جلائیں نہ یوں ستائیں
کریں تو کچھ یہ خیال آنکھیں
دراز پلکیں غزال آنکھیں
مصوری کا کمال آنکھیں
شراب رب نے حرام کر دی
مگر رکھی ہیں حلال آنکھیں
ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں
خدا کی بندی سنبھال آنکھیں۔۔۔
عضد جان بوجھ کر اسکے بال چھڑانے میں دیر کر رہا تھا اسکی مدھم مدھم ھوتی دھڑکنوں کی سرگم پر اسکا دل بھی دھڑک رہا تھا نظریں رتابہ کی لرزتی ھوئ جھکی جھکی پلکوں پر تھیں۔۔۔
اچانک مایا دروازہ کھول کر اندر آٸ وہ دونوں گردن موڑے چونکے اس نے عضد کی بانہوں میں رتابہ کو دیکھ کر زبان دانتوں تلے دباۓ اووووووہ سوری کہا اور واپس پلٹی۔۔۔۔
رتابہ اپنے بال کھینچ کر جلدی سے اٹھی اسکے کچھ بال ٹوٹ کر شرٹ کے بٹن کیساتھ لگے رہ گۓ لیکن جلدی سے اٹھتے ھوۓ بال اب عضد کے کف کے بٹن میں پھنس چکے تھے۔۔۔۔
جس پر رتابہ اچھی خاصی جھنجھلا گئ اسکی جھنجھلاہٹ پر عضد بے ساختہ مسکرایا اور ہاتھ اٹھا کر اسے روکا بال مت توڑنا اپنے۔۔۔پجر اسے آنکھوں کے اشارے سے بیٹھنے کا شارہ کیا۔۔۔
وہ اسکے قریب بیٹھی کے بالوں کے کھنچنے سے اب اسے درد ھو رہا تھا۔۔۔
عضد اسکی جھنجھلاہٹ اور اپنی کیفیت سے محفوظ ھوتا اسکے بال چھڑانے لگا جو چند سیکنڈز میں چھوٹ گئے۔۔۔
وہ جیسے ہی کھڑی ھونے لگی کہ عضد کے ہاتھ پکڑنے پر واپس بیٹھی۔۔۔
پہلے اپنے بال سمیٹ لو کہیں بار بار تمھارے دل کیطرح مجھ سے پھر نا الجھ جائیں۔۔ پہلے والا خمار دھوئیں کی طرح اڑ چکانتاھ پل بھر میں اسکے لہجے اور چہرے پر اب بلا کی سنجیدگی تھی۔۔۔اسے دیکھ کر کوئ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ ابھی چند منٹ پہلے والا عضد تھا اپنے احساسات پر قابو پانا اسکے لیے پلک جھپک کر کھولنے کے مترادف تھا۔۔۔
رتابہ نے لمبے بالوں کا جوڑا بنایا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکلی کیونکہ عضد کی نظریں لمحہ بھر بھی اسکے چہرے سے نہیں ہٹیں تھیں پھر کچن میں آ کر رابی کیساتھ ناشتہ بنانے لگی۔۔۔
عضد نے دونوں بازو کندھے کے برابر کرتے ھوۓ کہنیاں بیڈ پر ٹکائیں اور سر پیچھے کیطرف کیا۔۔۔
آنکھیں اب چھت پر لگے پنکھے پر مرکوز تھیں اور رتابہ کا سراپا پھر سے اسکے سامنے موجود تھا اس نے گردن سیدھی کی پھر مسکرا کر جھٹ سے اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کر نیچے لاؤنج میں آیا۔۔۔
مایا اسے دیکھ کر مسکراٸ گڈ مارننگ ھینڈسم۔۔۔
گڈ مارننگ ڈیٸر وہ بھی لاٶنج میں آکر بیٹھا۔۔۔
تو مایا اسکے پاس آئ اور جھک کر اسکی شرٹ سے رتابہ کے بال ہٹاۓ ھینڈسم ھونے کے ساتھ ساتھ بڑے رومینٹک بھی ھیں جناب۔۔۔۔
عضد اسکی بات پر خجل سا ھو کر مسکرایا دیا۔۔۔
______________
نمل بیڈ پر لیٹے t.v دیکھتے جازب کے بازو پر سر رکھ کر لیٹی۔۔۔
اک بات کرنی ھے تم سے ہاں بولو وہ پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔
جازب میں کل حنا ڈاکٹر کے پاس گٸ تھی۔۔۔۔
کیوں؟؟
ویسے ہی روٹین چیک اپ کیلیۓ۔۔۔۔
سب ٹھیک تو ھے ناں۔۔۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ھے لیکن ۔۔۔۔
لیکن کیا؟؟
جازب مجھے بچے پسند ھیں نا تم جانتے ھو۔۔۔
ہاہاہا جازب اسکی بات سن کر ھنس پڑا۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولی کیوں ھنسی آٸ تمھیں۔۔۔۔
یار مجھے وہ مانگنے والی یاد آگٸ جسے تم نے کہا تھا کہ اس سے کر لو شادی کبھی بھی تمھارا پیٹ خالی نہيں چھوڑے گا آج پھر اس بات کو یاد کرکے وہ ھنسا۔۔۔
ھاھاھھاھا۔۔۔۔ وہ بیچاری بھوک سے خالی پیٹ کی بات کررہی تھی اور تم۔۔۔جازب کے منہ کھول کر ھنسنے پر نمل پاس پڑے تکیۓ سے اسے مارنے لگی۔۔۔
اس نے تکیۓ سمیت نمل کو بانہوں میں لیا یار ویسے تمھارا وہ جلا کٹا انداز بڑا مزیدار تھا۔۔۔
اچھا چھوڑو نا اس بات کو میری بات سنو۔۔۔
ہاں بولو میری جان۔۔۔
میں نے ویسے ہی حنا سے بچوں کا پوچھا اس نے میرا کمپلیٹ چیک اپ کیا ٹیسٹ بھی کرواۓ رپورٹس نارمل ھیں اور الٹراساٶنڈ بھی۔۔۔۔
جازب بھرپور رومانوی انداز سے اسے دیکھنے لگا کھل کر بولو نا کیا کہنا چاہتی ھو۔۔۔
وہ اسکی شرارت پر مسکراٸ تم جانتے ھو میں کیا کہنا چاہتی ھوں۔۔۔
تمھارے منہ سے سننا چاھتا ھوں میں۔۔۔
نمل نے پیچھے ہٹتے ھوۓ اسکی ناک دباٸ بس سمجھ جاٶ نا تم وہ شرماٸ۔۔۔
افففففففففف۔۔۔ تمھاری یہ ادا وللہ مار ڈالے گی مجھے۔۔۔وہ تکیے کو سینے کیساتھ دبوچ کر مسکرایا۔۔
زیادہ بنو مت اور میرے ساتھ کل تم بھی چلو ڈاکٹر حنا کے پاس۔۔۔۔
کیوں میرا کیا کام ھے؟؟ کیا وہ میرا بھی الٹراساٶنڈ کریگی کہ پیٹ خالی ھے یا بھرا ھوا ھاھاھاھا ھنستے ھوۓ جازب نے اسکی مذاق اڑاٸ۔۔۔۔
وہ ناراض ھونے لگی تنگ مت کرو نا بس مجھے نہيں پتہ تم کل چلو گے میرے ساتھ۔۔۔
اتنی جلدی ھے تمھیں بچوں کی یار ابھی تو میں خود بچہ ھوں وہ بانچھیں کھول کر مسکرایا۔۔۔
نمل کو ھنسی آگٸ۔۔۔
بڑے ھو جاٸیں اب آپ اور شرافت سے میرے ساتھ چلیں۔۔۔۔
ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جازب نے آنکھیں پھیلاٸیں تو کیا اب تک میں بدمعاش بن کر تمھارے ساتھ چل رہا تھا؟؟؟
میرا یہ مطلب تو نہيں تھا وہ جازب کو ناراض ھوتا دیکھ کر فوراً بولی۔۔۔۔
تو پھر کیا مطلب ھے تمھارا صاف صاف کہو۔۔۔انداز بلکل سنجیدہ اور سپاٹ ھو گیا۔۔۔
وہ اسکی ڈھٹاٸ دیکھ کر سینے پر ہاتھ باندھے بولی۔۔۔
زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں آئ سمجھ نمل نے انگلی کے اشارے سے اسے وارن کیا پھر ناک سکیڑ کر بولی مجھے بچے چاھیۓ۔۔۔
جازب نے ابرو اچکاۓ۔۔۔
یار ایک وقت میں بچے تو نہيں ایک ہی بچہ ھو سکتا ھے۔۔۔
وہ جھٹ سے بولی کیوں جڑوا بھی تو ھوتے ھیں نا۔۔۔۔
جازب بہت زور سے ھنسا اسکے برجستہ جواب پر مطلب تم نے خالی پیٹ نہیں رہنا۔۔۔۔
نمل نے ساٸیڈ ٹیبل پر پڑا شوپیس اسے دے مارا جسے وہ فوراً کینچ کر کے بولا۔۔۔
یار ابھی تو تین مہینے ھوۓ ھیں ھماری شادی کو اور دیان بھی تو ھے نا وہ بھی ھمارے بچوں کیطرح ھے۔۔۔۔
ہاں ھے تو۔۔۔ لیکن۔۔۔ آگے وہ جازب کی آنکھوں میں شوخی دیکھ کر چپ ھو گٸ۔۔۔۔
لیکن تمھیں جلد از جلد اماں بننا ھے اپنے بچے کی اوکے یار ناراض مت ھو چلا جاٶنگا کل تمھارے ساتھ بس خوش نمل خوش ھو گٸ۔۔۔۔
صبح ھوتے ہی وہ اسکے سر پر سوار تھی اسے زبردستی کے گئ ڈاکٹر کے پاس۔۔۔
حنا ڈاکٹر نے کچھ ضروری ٹیسٹ کرواۓ دونوں کے جو جازب کو نمل کی زبردستی پر کروانے پڑے۔۔۔
دو دن بعد وہ جاب سے آتے ھوۓ رپوٹس کلیکٹ کرنے گیا تو اسکی کچھ رپورٹس negetive تھیں۔۔۔
رپورٹس لے کر وہ حنا ڈاکٹر کے روم میں گیا۔۔۔
اس نے بڑی detail سے جازب کی رپورٹس چیک کیں پھر بڑی افسردگی سے بولی۔۔۔
مسٹر جازب سوری ٹو سے آپ باپ نہيں بن سکتے۔۔۔۔
جازب نے گردن کو ذرا آگے خم دیا ککک کیا کیا مطلب ھے آپکا؟؟
ڈاکٹر ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی۔۔۔
آپ باپ نہيں بن سکتے۔۔۔
جاری ھے۔۔۔
