Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
آہل یہ کیا حرکت تھی تم نے مجھ سے یہ سب کیوں چھپایا ۔۔ فنکشن ختم ہونے کے بعد مرش کمرے میں ایک ہی پوزیشن میں غبارے کی طرح منھ پھلا کر ایک ہی سوال بار بار دہراے جا رہی تھی ۔۔
کیوں کی میں جانتا تھا تم سے کویی بات چھپتی نہیں ہے ؟ آہل بیڈ پر بیٹھ کر اسے مسکرا مسکرا کرچھیڑ رہا تھا ۔۔
کیا مطلب ہے تم مجھے بتا سکتے تھے ۔۔ لیکن نہیں میری کیا امپورٹینس ہے تمہارے نزدیک ؟ مرش رخ دوسری طرف پھیر گیی تھی ۔۔
اب اتنی دور سے امپورٹینس پوچھوگی تو کیسے بتاوگا پاس آو تب بتاتا ہوں ۔۔اس کا ہاتھ تھام کر آہل اسے لو دیتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
نہیں آوں گی میں پاس کیوں کی میں ناراض ہوں تم سے ۔۔ مرش تھوڑا اور اس سے دور ہویی تھی ۔۔
ٹھیک ہے میں آ جاتا ہوں پاس ۔میں تو ناراض نہیں ہوں ۔۔ آہل اس کمر میں اپنا بازوں حایل کر کے سینے سے لگا لیا تھا ۔۔
آہل اچھا بتاو تم نے یہ سب کیسے کیا ؟؟ مرش کو ابھی بات کی تحقیق کرنی تھی ۔۔
جس دن ڈیڈ نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا تھا تو میں نے ساری بات ڈیڈ کو بتا دی تھی اور مجھے اچھی طرح سے پتہ تھا بریرہ کے لیے فارس سے اچھا اور کویی لڑکا نہیں ہو سکتا ۔۔ ڈیڈ کو بھی فارس بہت پسند تھا سو بس ہو گیی بات ۔۔ اب ساری باتیں تمہیں بتا دی پلیز موڈ سہی کر لو ۔۔ آہل اسے بیڈ پر جھٹکے سے گرایا تھا جس سے وہ لیٹ گیی تھی اور آہل اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیوں پھنساے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ۔۔
آہل تم ۔۔ تم بہت اچھے ہو سچ میں ۔۔ مرش اس کی گردن میں دونوں ہاتھ ڈال کر مسکرا کر بولی تھی ۔۔
اور تم بہت زیادہ خوبصورت سچ بتاوں باہر تمہیں دیکھ کر دل کر رہا تھا فورن گود میں اٹھا کر بیڈروم میں لے آوں اور بہت زیادہ پیار کروں ۔۔ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لے جا کر آہل جوش سے بول رہا تھا ساری دوریاں مٹ گیی تھی ۔۔۔ قربت کی پیاس بجھ گیی تھی ۔۔
تو لے آتے میں کون سا انکار کرتی ۔۔ اس کا کالر اپنے ہاتھ ہاتھوں سے سہی کر کے مرش آہستہ سے بولی تھی ۔۔
انکار تو تم اب بھی نہیں کر سکتی۔۔ لے آتا سویٹ ہارٹ لیکن بہت زیادہ بےشرم شوہر نہیں کہلانے لگتا ۔۔
مجھے تو بہت بہت بہت زیادہ پسند ہے اپنا یہ بے شرم شوہر ۔۔ مرش آج ساری شرم و حیا ایک طرف رکھ کر ڈھیٹایی سے بول رہی تھی ۔۔
اور مجھے اپنی یہ خوبصورت بیوی بہت زیادہ پسند ہے ۔۔بس جلدی سے پاپا بننے کی بھی خواہش پوری کر دو ۔۔
تمہیں کچھ زیادہ ہی جلدی ہے پاپا بننے کی ابھی میں صرف تمہاری بی بی ہوں پاپا کی بی بی کچھ دنوں بعد آے گی جب تک اس بے بی کو خوب پیار کرو ۔۔ مرش منھ پھلا لی تھی ۔۔
ٹھیک ہے تو پاپا کی بے بی کو ساری باتیں ماننی ہونگی پاپا ہر رات کو اپنی بے بی کے ساتھ اسے طرح پیار کریں گے ۔۔ بے بی کو کویی اعتراض تو نہیں ہوگا نہ ۔۔ اس کی لٹوں کو کان کے پیچھے کر کے آہل نے ہلکے سے سرگوشی کی تھی ۔۔
بلکل نہیں ہوگا بے بی صرف آپ کی ہے ۔۔ مرش اس کی شرٹ پکڑ کر اور خود سے قریب کی تھی ۔۔۔
آہل مسکراتی ہویی نظروں سے اسے دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر اپنا ہونٹ رکھ کر بےتحاشہ پیار کیا تھا اس کے بعد اس کی گردن میں اپنا لب رکھ دیا تھا۔۔ آہستہ آہستہ اس نے ہاتھ اس کی نشت میں ڈال کر زپ کو نیچے کیا تھا ۔مرش سختی سے آنکھیں بھینچ گیی تھی ہلکی ہلکی گھبراہٹ بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن بے تحاشہ خوشی بھی ۔۔ آہل اس کے اوپر سے اٹھ کر اپنی شرٹ کو اتار کر دور کہیں زمین پر اچھال دیا تھا ۔۔ اور پھر سے اس کے اوپر جھکتا چلا گیا تھا جسم کے ایک ایک حصے پر آہل شاہ آفندی اپنے ہونٹوں کو رکھ کر مہر ثبت کرچکا تھا ۔۔ محبت کے سمندر دونوں شرابور ہو چکے تھے ۔۔ ان دونوں کی پیروں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنس گیی تھی اور پھنستی چلی گیی تھی ۔۔ محبت کی یہ رات ایک خوبصورت خواب کی طرح آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔۔
حجلہ عروسی میں بیٹھ کر بریرہ کی دل کی دھڑکن لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔۔ کمرے کی کویی خاص ڈیکوریشن نہیں تھی کیوں کی سب کچھ لا علمی میں ہوا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی ایک ایک چیز سلیقے سے رکھی گیی تھی صاف پتہ چل رہا تھا کسی امیر زادے کا کمرے تھا ۔۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہویی تھی ۔۔
بریرہ کو بے حد شرم آ رہی تھی مارے شرم کے نظریں زمین پر گڑھ سی گیی تھی ۔۔
اس طرح شرماوگی تو رات بہت بھاری پڑ جاے گی سویٹ ہارٹ ! فارس دروازہ بند کر کے بیڈ پر آ کر اس کے مقابل بیٹھ گیا تھا ۔۔
بریرہ حد سے زیادہ شرما رہی تھی جیسے آج سے پہلے کبھی اب دونوں کا سامنا ہی نہیں ہوا تھا ۔۔
بریرہ پلیز اب شرمانا بند کرو ! فارس اس کی حالت دیکھ کر محفوظ ہوا تھا ۔۔
فارس ! بس اتنا سا الفاظ ہی اس کی زبان سے ادا ہوا تھا ۔۔
جی جان فارس ! فارس تھوڑا اور اس کے قریب ہوا تھا ۔۔
تنگ نہ کرو ! بریرہ رو دینے کو تھی شرم سے بے حال چہرہ غلاب کی طرح کھل رہا تھا ۔۔
آج تو میں کچھ نہیں سننے والا تمہاری ۔۔ مہندی کے رنگوں سے رنگا ہاتھ تھام کر فارس اس کی آنکھوں میں محبت بھرے لہجے میں بول رہا تھا ۔۔ آج تو اس کے منھ سے پھول جھڑ رہے تھے آج وہ واقعی سہی معنوں میں خوش ہوا تھا ۔۔ خود کو دنیا کا سب سے لکی انسان تصور کر رہا تھا ۔۔
فارس !!!! بریرہ ہار گیی تھی ۔۔
ہشش !! فارس اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش کرا دیا تھا ۔۔
اس کے بعد کورٹ کی جیب سے ایک چھوٹا سے سایز کا ڈبہ باہر نکالا تھا ۔۔ اتنی افرا تفری میں سب کچھ ہوا تھا کی وہ کچھ خاص گفٹ نہیں لے پایا تھا لیکن پھر بھی ایک رنگ اپنے کسی ملازم کے توسط منگا لیا تھا ۔۔ اس نے تو سوچا تھا کی دوسرے دن کویی گفٹ دے گا لیکن آج کی رات بہت خاص تھی اور وہ بریرہ کو اس چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا ۔۔
ڈبے کے اندر ایک خوبصورت سی رنگ جگمگا رہی تھی ۔۔ جسے دیکھ کر بریرہ کے لبوں پر مسکراہٹ مچل گیی تھی ۔۔
اس کا ہاتھ تھام کی فارس نے ہاتھ کی تیسری انگلی میں رنگ پہنا دی تھی اور اس کا ہاتھ لبوں سے لگا گیا تھا ۔۔یہی محبوب کی سب سے دلکش ادا ہوتی ہے ۔۔
اس کی کمر میں اپنا بازو حایل کر کے فارس اسے اپنے سینے سے لگا کر اس کی پیشانی پر اپنے لبوں کو رکھ دیا تھا ۔۔
اور بریرہ کی حالت ایسی تھی کی اس کی شرٹ اپنی دونوں مٹھیوں میں جکڑ کر سختی سے آنکھ بھنچی ہویی تھی ۔۔ ایک خواب سا لگ رہا تھا سب کچھ جیسے ابھی آنکھ کھلے گی اور سب کچھ ختم ہو جاے گا ۔۔
فارس اسے بیڈ پر سیدھا لیٹا دیا تھا اور مزید اس چہرے پر جھکتا چلا گیا تھا ۔۔ اپنے ہونٹوں کی بہت آہستگی سے اس نے بریرہ کے لرزتے ہونٹوں پر رکھ کر چوما تھا اس کے بعد اس کی گردن کے تھوڑا نیچے اپنے ہونٹ رکھ کر پیار کیا تھا ۔۔ ایک بعد ایک گستخایی ہوتی چلی گیی تھی ۔۔۔ اور رات آہستہ آہستہ اندھیرے میں پوری طرح ڈوب گیی تھی ۔۔ آگے ایک ہنستی مسکراتی زندگی بے صبری سے ان کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
ختم شد !
