Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
گاڑی آفندی ہاوس کے سامنے آ کر رکی تھی ۔۔
وہ چاروں ایک ایک کر کے گاڑی سے نیچے اترے ۔
فارس تو اندر نہیں آے گا ؟ فارس کو جاتا دیکھ کر آہل نے پوچھا !
نہیں کافی لیٹ ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں اور بھابھی بہت اچھے سے مرہم پٹی کیجیے گا میرے دوست کی بڑا کمزور دل کا ہے !! فارس نے مسکرا کر مرش کو چھیڑا تھا ۔ ۔۔
تو نہیں سدھرے گا !! آہل نے اپنی گھورتی نگاہوں سے فارس کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔
کیا کروں تیرا ہی دوست ہوں اچھا اب میں چلتا ہوں خدا حافظ ۔۔ فارس گاڑی میں بیٹھ کر زن سے گاڑی اڑا لے گیا اس کا ذہن بہت ڈسٹرب ہو گیا تھا ابھی اسے الجھی ہویی گھتھی بھی تو سلجھانی تھی کی آخر علی شہروز نےکس بارے میں کہا تھا۔۔
بریرہ بھی اپنے کمرے میں چلی گیی تھی چینج کرنے کے حوالے سے اور مریم بیگم جاوید صاحب اپنے کمرے میں تھے اتفاق سے ۔۔
تم بیٹھو میں تمہاری ڈریسنگ کر دیتی ہوں ۔۔مرش کی آواز یک لخت مدہم پڑ گیی تھی آنکھیں پھر سے جل تھل ہونے لگی تھی ۔۔ اپنا دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکے والے انداز میں رکھ کر وہ ایک ایک ڈراں کھول کر فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
اس کے برعکس آہل تکیے سے ٹیک لگاے مرش کو بڑی دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
کہاں پر ہے ؟؟ مل نہیں رہا !! مرش نے جھنجھلاتے ہوے کہا ۔
آرام سے ڈھونڈو مل جاے گا ! آہل نے مسکرا کر کہا ۔ ۔۔
تمہیں اس سے فایٹنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے تمہارا اپنے آپ کو تو نہ جانے کیا چیز سمجھتے ہو !!! مرش کی آنکھوں سے ایک لگاتار آنسوں جاری تھے پتہ نہیں کیوں یا پھر شاید آہل شاہ آفندی کے لیے تھے ۔۔
شکر ہے مل گیا ۔ ۔۔ لاسٹ ڈراں کھول کر دیکھا تو فرسٹ ایڈ باکس اس میں موجود تھا مرش نے شکر کا سانس لیا ۔۔
آہل کے مقابل بیڈ پر بیٹھ کر مرش گردن جھکاے فرسٹ اید باکس میں کچھ ڈوھنڈنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن بار بار اس کی سنہری زلفیں اسے تنگ کر رہی تھی ایک ہاتھ سے بار بار اپنی لٹوں کو کان کے پیچھے کر رہی تھی ۔۔
“”” تم نے مجھے جواب نہیں دیا تھا جس دن میں مر گیا اس دن کیا ہوگا “””
میں اب تمہیں مرنے کی بددعایں نہیں دے سکتی آہل شاہ آفندی کیونکی اب میری بھی مجبوری ہے ۔۔ مرش ایک ٹک آہل کی سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر رہی تھی ۔۔
میرے ان زخموں سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے ؟؟ آہل نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا تھا !!
ہاں ۔۔ مرش منھ سے بغیر بولے آیستہ سے گردن ہاں میں ہلا دی ۔۔
میں خود نہیں جانتی آہل شاہ آفندی تمہارے زخموں سے مجھے اتنی تقلیف کیوں ہو رہی ہے جب کی مجھے تو خوش ہونا چاہیے لیکن دیکھو میں خوش نہیں ہوں میں رو رہی ہوں ۔۔ مرش آہل کے زخموں کو دیکھ کر بنا پلک جھپکے ایک ٹک سوچ رہی تھی ۔۔
کہیں محبت تو نہیں ہو گیی مجھ سے ؟؟؟؟ آہل مرش کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لے کر پوچھ رہا تھا ۔۔
پلیز آہل ڈریسنگ کرنے دو ۔۔ مرش اپنا چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے مرش بے پناہ اسی دن سے جس دن میں نے کالج میں تمہاری انسلٹ کی تھی اور تم روتے ہوے میرے پاس آیی تھی میں بہت شرمندہ ہوں آج بھی لیکن میں نے فیصلہ کر لیا تھا اسی دن تمہیں ہر حال میں اپنا بنا کر رہوں گا چاہے وہ کسی بھی صورت میں ۔۔۔ آہل شاہ آفندی نے آج اپنی محبت کا اقرار کر ہی دیا تھا آج اس نے خود تسلیم کر لیا تھا وہ صرف مرش کا ہے صرف اپنی مرش کا ۔۔
مرش خاموشی سے ایک ایک لفظ سن رہی تھی آج اس ظالم انسان کے زخموں پر جھک کر مرہم لگا رہی تھی جس نے اسے بے تحاشہ تقلیف دی تھی جس کا انداہ شاید آہل شاہ آفندی بھی نہیں لگا سکتا تھا ۔۔
آہل شاہ آفندی کے لفظوں کو سن کر اس کر مرش کی آنکھیں آنسوں سے بھر گیی تھی لب کپکپا رہے تھے اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹنے لگا تھا ۔۔
آہل کے زخموں پر پٹی لگاتے ہوے مرش کب اس کے اتنے قریب آ چکی تھی اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوا تھا ۔۔ آہل شاہ آفندی کے آج وہ آہل کے اتنے قریب تھی کی اس دھڑکن کو با آسانی سن سکتی تھی بغیر دوپٹے کے اس کے جسم کے کچھ حصے کافی خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔۔ کھلے بالوں کی زلفیں آہل کے گال سے بار بر مس ہو رہی تھی ۔۔
جس دن میں اس دنیا میں نہیں رہوں گا اس دن تمہیں میری محبت کا اندازہ ہوگا میں تمہارا محافظ ہوں مرش تمہاری حفاظت کرنے والا ایک شوہر ہی اپنی بیوی کا محافظ ہوتا ہے لیکن ہمہاری سوچ بہت مختلف ہے آج ہم ایک ایسے راستے پر کھڑے ہیں جس کی کویی منزل نہیں ہے ۔۔ آہل شاہ آفندی کے ایک ایک لفظ میں سچایی تھی ۔۔
ہشش !! مرش نے اپنی شہادت کی انگلی بے ساختہ آہل کے لبوں پر رکھ دیا ۔۔۔
آہل شاہ آفندی اپنا ہوش اپنا آپ کھو چکا تھا آج اسے خود پر قابو رکھنا مشکل ہی نہ ممکن تھا اس نے دہکتے چہرے کو مرش کے قریب لے گیا اور اپنے سرخ ہونٹ مرش کے شربتی ہونٹوں پر رکھ دیا ۔۔۔
مرش نے سختی سے دونوں ہاتھوں سے بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھی میں دبوچ کر اپنی بھوری آنکھیں بند کر لی تھی جیسے ابھی ان آنکھوں کو کھول دے گی تو ایک معصوم سا خواب ٹوٹ جاے گا ۔۔
