122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

آہل ایک بات پوچھو ؟؟ مرش نے آہل چہرہ ایک ٹک دیکھتے ہوے پوچھا !
تمہیں مجھ سے اجازت لینے کی کویی ضرورت نہیں جو پوچھنا ہے پوچھو ۔۔ آہل نے ایک ٹھنڈی پرسکون سانس لیتے ہوے کہا ۔
تمہارا رویہ ڈیڈ کے ساتھ ایسا کیوں ہے ۔۔ ساری ہمت مجتمع کر کے ذین میں کب سے گج مج کرتے سوال کو مرش نے پوچھ لیا ۔
کیوں کی مجھے ان سے نفرت ہے ۔۔ آہل نے بے حد عام سے انداز میں جواب دیا۔
دیکھو آہل وہ بہت اچھے ہیں اب تم انہیں کچھ نہیں کہوں گے “” تمہیں جو کہنا ہے مجھے کہنا جو کرنا میرے ساتھ کر لینا “” لیکن پلیز اپنا رویہ ان کے ساتھ دروست رکھو ۔۔۔ انجانے میں ہی مرش نے بہت کچھ بول دیا تھا ۔
ایک بے خود خوبصورت مسکراہٹ آہل شاہ آفندی کے لبوں پر رقص کرنے لگی ۔۔
جو کرنا ہوگا تمہارے ساتھ کر لوں ۔۔ مرش کا ہاتھ پکڑ کر آہل نے اسے اپنی طرف کھینچا جس سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی آہل کے کسرتی سینے سے آ لگی ۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔ مرش نے اپنی لرزتی پلکیں اوپر کی جانب اٹھاتے ہوے کہا ۔۔
تو کیا مطلب تھا ! آہل کا پورا ارادہ اب مرش کو تنگ کرنا تھا ۔۔
آہل پلیز جانے دو ! مرش نے آہل شاہ آفندی کی باہوں میں کسمساتے ہوے کہا ۔
جانے دوں گا پہلے “مطلب “تو بتا دو۔ مرش کے گالوں پر رقص کرتی زلفوں کو آہل نے پیچھے کرتے ہوے کہا ۔۔
تم جیسا سوچ رہے ہو میرا وہ والا مطلب نہیں تھا ۔۔ مرش کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا اب کس طرح پیچھا چھڑواے ۔ اپنے بولے گیے الفاظ مرش کو ہی مہنگے پڑ گیے تھے ۔۔
ٹھیک ہے میں بتا دیتا ہوں مطلب ۔۔ مرش کو خود سے اور قریب کرتے ہوے آہل نے بے حد شرارتی انداز میں کہا ۔۔
کیا بتاوگے !! مرش نے پھٹی پھٹی نظروں سے آہل کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔
یے آہل شاہ آفندی نے اپنے سرخ لب مرش کے ڈمپل پڑتے گال پر رکھ دیا ۔۔
لمحہ بھر کو مرش کی سانس تھم سی گیی زندگی میں پہلی بار وہ کسی شخص کے اتنا قریب ہویی تھی لیکن آہل شاہ آفندی کویی نہیں اس کا شوہر تھا اس کا مجازی خدا تھا ۔۔۔
آہل !! مرش نے آہستہ آہل کو پکارا !
بولو جان آہل ۔۔ آہل کا خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھ کر ایسا لگتا تھا آج سے پہلے اسے اتنی خوشی محسوس ہی نہیں ہویی تھی ۔۔
یے کیا کر رپے ہو ؟ مرش کا سوال بے معنی تھا ۔
رومینس ! جواب حاضر تھا ۔
پلیز جانے دو مجھے ۔۔مرش نے جھجکتے ہوے کہا کیا تھا مرش کے چہرے پر شرم حیا محبت نفرت کچھ بھی تو نہیں وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی آہل شاہ آفندی سے دور کیوں نہیں ہو پا رہی ۔۔
آہستہ آہستہ اپنے سرخ لبوں کو آہل مرش کے لرزتے لبوں کے پاس لے گیا آج وہ آہل شاہ آفندی کہیں گم ہو گیا تھا کھڑوس سا خودسر سا لیکن یے آہل شاہ آفندی تو کویی اور ہی تھا ۔۔
چھوڑو مجھے مرش یکدم سے دور ہویی اپنے ارد گرد نظرویں دوڑایی تو ایک حیرت کا شدید جھٹکا لگا اس کا دوپٹہ تو تھا ہی نہیں اچانک اس کی نظر زمین پر رقص کرتے اپنے دوپٹے پر پڑی مرش نے فورن جھک کر اپنا دوپٹہ اٹھانا چاہا ۔۔
آرام سے ویسے تمہارے جسم کا باقی حصہ بھی خوبصورت ہے !! آہل کے زبان سے نکلے الفاظ مرش کے چہرہ کا رنگ اڑانے کے لیے کافی تھے ۔۔
بکواس بند کرو ۔۔ مرش فورن سیدھی ہویی لال لیکن شرم و حیا کی وجہ سے کان کی لویں تک سرخ ہو گیی تھی ۔۔
سویٹ ہارٹ ایسا کیا دیکھ رہی ہو تعریف کر رہا ہوں تمہاری کچھ غلط کہا کیا میں نے ۔۔ آہل نے معصوم بننے کی ساری حدیں پار کر دی تھی ۔۔
مرش کی نظر بے ساختہ آہل کے چہرہ پر اٹھی اس کی نگاہیں آہل شاہ آفندی کے چہرہ کا یوں طواف کر رہی تھی جیسے اس سے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا ۔۔
گھٹیا انسان میں جا رہی ہوں !! مرش صوفے سے اٹھ کر فورن کمرے سے نو دو گیارہ ہو گیی ۔۔
بات تو سنو ۔آہل نے اس کو روکنا چاہا ۔
لیکن مرش تو کب کی جا چکی تھی ۔۔
یا اللہ یے مجھے کیا ہو گیا ہے میں اس کے اتنے قریب کیسے جا سکتی ہوں اس شخص کے سامنے میں ہار کیوں جاتی ہوں ۔ ۔۔مرش نرم گزار گھاس پر ننگے پاوں آہستہ آپستہ چل رہی تھی دونوں بازوں سینے پر باندھے وہ مسلسل آہل شاہ آفندی کے بارے میں سوچے جا رہی تھی اس کی تپیش دیتی نگاہیں اس کا غصہ پھر ایک پل میں اس کا محبت بھرا لہجہ یے شخص تو بلکل دھوپ چھاو کی طرح ہے ۔۔۔
مرش تم اس وقت یہاں ؟ بریرہ فون ہاتھ میں لیے باہر لان میں ٹہلتی مرش کو دیکھ وہاں آ گیی ۔۔
ہاں وہ واک کرنے آیی تھی ۔۔ مرش نے مسکراتے ہوے بڑی صفایی سے جھوٹ بولا تھا ۔۔
چلو بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔۔بریرہ مرش کا ہاتھ پکڑے لان میں رکھی کرسیوں کے پاس لے آیی ۔۔۔
مرش بھایی کا غصہ اب کیسا ہے ؟ بریرہ نے تھوڑا خفیف سے انداز میں آہل کے متعلق پوچھا ۔۔
غصہ وصہ کچھ بھی نہیں وہ صرف ایکٹینگ کرتا ہے میرے سامنے تو بھیگی بلی بن کر بیٹھ جاتا ہے ۔۔ مرش نے اتراتے ایک ایک لفظ حرف زبانی بیان کر دیا جس کو وہ ذہن پر کب سے نقش کیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
سچی !!! بریرہ کا منھ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا ۔۔
ہاں تو کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں ابھی آج ہی کی بات ہے معافی مانگ رہا تھا مجھ سے ویسے تمہیں تو پتہ ہی ہے میں کہاں کسی کو اتنی اسانی سے معاف کرتی ہوں لیکن بے چارا ہاتھ جوڑ جوڑ کر اتنی منتیں کر رہا تھا میں نے کہا چلو ٹھیک ہے معاف کیا ۔۔ مرش نے آنکھ پٹپٹاتے ہوے آہل کا وہ اسکیچ کھینچا جس شاید خوابوں میں بھی نہیں سوچا جا سکتا تھا ۔۔
لیکن بھایی نے تو کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی !! بریرہ نے ایک بار پھر سے بے یقینی ظاہر کی ۔۔
مجھ سے مانگ لیا نہ دراصل تمہارا بھایی ایک نمبر کا ڈرپوک انسان ہے کہہ رہا تھا مرش مجھے معاف کر دو ورنہ میں پوری زندگی خود کو معاف نہیں کر پاوں گا ۔۔
مرش !! بریرہ نے مرش آہستہ سے پکارا لیکن مجال ہے جو مرش کو زبان کو بریک لگ جاے ۔۔
اور تمہیں ایک مزے کی بات بتاوں بے چارا زمین پر سوتا ہے کہتا ہے میں تمہارے لیے ہر تکلیف برداشت کر سکتا ہوں ۔۔ مرش اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کی کویی اس کے پیچھے کھڑا ہو کر بڑے مزے اس کی باتوں کو انجواے کر رہا تھا ۔۔
مرش بھایی !! بریرہ نے ڈرتے ڈرتے مرش کو پھر سے کچھ بتانا چاہا لیکن مرش جیسے ہوا میں اڑ رہی تھی آج اسے ایسا موقع ملا تھا جس کی تلاش اسے شدت سے تھی ۔۔
بریرہ ایک سکریٹ کی بات بتاوں تمہارے بھایی کا تو ہزاروں لڑکیوں سے افیر بھی ہے آدھی رات کو کالز پے کالز آتی رہتی ہے پوری رات لڑکیوں سے باتیں کرنے میں گزار دیتا ہے لیکن پلیز کسی سے مت کہنا یے سکریٹ میں نے صرف تمہیں ہی بتایا ہے ۔۔
اچھا ٹھیک ہے نہیں کہوں گی لیکن پلیز اب چپ ہو جاو ۔۔ بریرہ نے اب آواز میں تیزی لاتے ہوے کہا مرش کی چلتی زبان کو ایک لمحے میں بریک لگا تھا ۔۔
مرش پیچھے پیچھے بھایی !! بریرہ اس سے پہلے کچھ کہتی مرش نے فورن گردن گھما کر دیکھا جہاں آہل شاہ آفندی کا نام و نشان نہیں تھا ۔۔
تمہارا کہنا ہے تمہارا بھایی میرے پیچھے کھڑا تھا ۔۔ مرش نے ہنستے ہوے بریرہ کا مزاق اڑایا ۔۔
مرش میں جھوٹ نہیں بول رہی یار وہ تھے ابھی ابھی گیے ہے ۔۔بریرہ نے گھبراتے ہوے مرش کو یقین دلانا چاہا ۔۔
ہا ۔۔ہا۔ ۔ہا ۔۔مجھے لگتا ہے تمہیں نیند آ رہی ہے پتہ نہیں کیا کیا بولے جا ہی ہو چلو جا کر سو جاو میں بھی جا رہی ہوں سونے ۔۔ مرش نے اٹھتے ہوے کہا ۔۔
گڈ نایٹ مرش ۔۔ بریرہ بے چاری کے پاس الفاظ نہیں تھے وہ کیا بولے اس کے لیے سو جانا ہی بہتر تھا ۔۔۔
گڈنایٹ ۔۔مرش کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی چمک تھی انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی آج اس نے آہل شاہ آفندی کو دل کھول کی ذلیل کیا تھا دل کو تھوڑا سکون محسوس ہو رہا تھا ۔۔

آہل شاہ آفندی آینے کے سامنے کھڑے ہو کر شرٹ کے بٹن ایک ایک کر کھولنا شروع کیا لمحے میں اس کا چوڑے کسرتی جسم نمایاں ہو رہا تھا ۔۔ شرٹ کو اتار کر اس نے بیڈ پر اچھال دیا دوسری شرٹ لینے کے حوالے سے واڈروب کی طرف بڑھا لیکن اچانک اس کے دل میں نہ جانے کیا خیال آیا واڈروب بند کر کے پھر سے آینے کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔
مرش نے ہولے ہولے دروازہ کھول کمرے میں قدم رکھا اس کا خیال تھا کی آہل سو کب کا سو چکا ہوگا لیکن آہل کو اس طرح کھڑے دیکھ اس کے ہوش حواس کھونے لگے تھے ۔۔
مجھے لگا آج لان میں سونے کا ارادہ ہے تمہارا ۔۔ آہل کی مترنم آنکھیں شرارت سے جگمگا رہی تھی ۔۔
اتنی پاگل دیکھتی ہوں کیا تمہیں اور پلیز شرٹ پہنو یے کون سا طریقہ ہے تمہارا کچھ خیال ہے اس کمرے میں تم اکیلے نہیں رہتے ۔۔۔ مرش نے فورن اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی خوبصورت بھوری آنکھیں چھپا لی ۔۔
شرماتے ہوے بہت کیوٹ لگتی ہو تم ۔۔آہل اس کی باتوں کو نظرانداز کر کے اپنی ہی سر میں مگن تھا ۔۔۔
آہل میں کہہ رپی شرٹ پہنو ۔۔۔ مرش نے آنکھیں اسی طرح بند کی ہویی تھی ہاں البتتہ رخ دوسری طرف موڑ لیا تھا ۔۔۔
موڈ نہیں ہو رہا پہننے کا ۔۔ آہل دھیرے دھیرے چل مرش کے قریب بے قریب آ چکا تھا ۔۔
آہل کے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو مرش کے ہوش و حواس کو بیگانہ کرنے لیے کافی تھی ۔۔
میں آخری بار کہہ رہی شرٹ پہنو ۔۔ مرش نے دانت پر دانت سختی سے جماتے ہوے کہا ۔۔
ایک بار آنکھیں تو کھولو پھر خود کہو گی آہل کبھی شرٹ مت پہننا ۔۔۔ آہل اب مرش کی زلفوں سے کھلواڑ کرتے ہوے کہہ رہا تھا ۔۔
آہل پلیز شرٹ پہن لو ۔۔ مرش اب التجا پر اتر آیی تھی کیوں کی ابھی یے سب وہ قبول نہیں کی تھی کی باخوشی آہل شاہ آفندی کی ایک ایک حرکتوں کو پسند کرتی جاے ۔۔
نہیں یار شرٹ پہن کر وہ مزہ نہیں آیے گا جو بغیر شرٹ کے آیے گا مطلب سمجھ رہی ہو نہ ؟؟ آہل شاہ آفندی کا رومینس دن بدن بڑھتا ہی جا رہا تھا لیکن شاید یےنرومینس نہیں اسے مرش کو تنگ کرنا چھیڑنا کہہ سکتے ہیں ۔۔
ایک شرط پر شرٹ پہن سکتا ہوں اگر تمہیں میری شرط قبول ہو تو ورنہ کویی بات نہیں آج کی رات تم میری باہوں میں کروٹ لینا ۔۔ آہل تیر یکدم نیشانے پر مارا تھا ۔۔
کون سی شرط ؟ مرش نے ہار مانتے ہوے بلا آخر پوچھ ہی لیا ۔۔
ایک بار آنکھ کھولو !! شرط صاف تھی ۔۔
مرش نے آخر ہمت کر کے آنکھ کھول ہی دی تھی ۔۔ اس ڈر سے کی یے شخص جس چیز کی دھمکی دیتا ہے اسے حقیقت میں بھی کرتا ہے ۔۔
تم ۔۔تم نے شرٹ کب پہنی ؟؟ مرش بے یقینی سے آہل کو دیکھے جا رہی تھی جو نہ جانے کب شرٹ پہن چکا تھا ۔۔
جب تم شرمانے کی اداکاری کر رہی تھی ۔۔ آہل نے دور ہٹتے ہوے مرش کا مزاق اڑایا ۔۔
ویسے اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے تم ایک بہت اچھی بیوی ہو جو شوہر کے حکم کی پاسداری کرتی ہو ! آہل پھر پٹری سے اترنے لگا تھا !
تمہیں کتنی خوشفہمیاں ہے نہ میں نے صرف اس لیے آنکھ کھولی تو تاکی میری رات پرسکون گزرے !! مرش بیڈ پر بیٹھتے ہوے آہل کی خوشفہمی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش بھی کر رہی تھی ۔۔
پرسکون کیسے نہ گزرتی تمہارا شوہر جو تمہارے ساتھ تھا ۔۔ آہل ایک بات کے ہزاروں مطلب نکالنے میں پکا کھلاڑی تھا ۔۔
اللہ کرے تمہاری خوشفہمی دور ہو جاے میں دعا کروں گی ۔۔ مرش لایٹ آف کر کے جواب دینا نہ بھولی ۔۔
امیدوں پر ہی تو پوری کاینات زندہ ہے میری جان اور مجھے پوری امید ہے ایک دن میری اس خوشفہمی کو تم یقین میں بدلو گی ۔۔ آہل بیڈ پر دوسری سایڈ پر بیٹھتے ہوے کہا ۔۔
میں سونے جا رہی ہو اب مجھے تنگ مت کرنا ۔۔مرش کروٹ بدل کر آنکھ بند کر لی پتہ نہیں اسے نیند آ بھی رہی تھی یہ نہیں یہ پھر صرف سونے کی ایکٹینگ کر رہی تھی ۔۔
گڈ نایٹ ۔۔ آہل جواب دے کر سو چکا تھا تھکن کی وجہ سے اسے شدید نیند آ رہی تھی ۔۔ اور وہ واقعی میں سو چکا تھا ۔۔